تحریر

الحشر

آیات ۶ تا ۱۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

6-7

مالِ فے کا حکم

ویڈیو

وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ مِنۡہُمۡ فَمَاۤ اَوۡجَفۡتُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ خَیۡلٍ وَّ لَا رِکَابٍ وَّ لٰکِنَّ اللّٰہَ یُسَلِّطُ رُسُلَہٗ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۶﴾ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ مِنۡ اَہۡلِ الۡقُرٰی فَلِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوۡلِ وَ لِذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ ابۡنِ السَّبِیۡلِ ۙ کَیۡ لَا یَکُوۡنَ دُوۡلَۃًۢ بَیۡنَ الۡاَغۡنِیَآءِ مِنۡکُمۡ ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ٭ وَ مَا نَہٰىکُمۡ عَنۡہُ فَانۡتَہُوۡا ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ۘ﴿۷﴾

آیت 6

وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ مِنۡہُمۡ

’’اور جو مال کہ ہاتھ لگا دیا ہے اللہ نے اپنے رسولؐ کے ان (بنونضیر) سے‘‘

فَمَاۤ اَوۡجَفۡتُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ خَیۡلٍ وَّ لَا رِکَابٍ

’’تو (اے مسلمانو!) تم نے اس پر نہیں دوڑائے گھوڑے اور نہ اونٹ‘‘

وَّ لٰکِنَّ اللّٰہَ یُسَلِّطُ رُسُلَہٗ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ ؕ

’’لیکن مسلط کر دیتا ہے اللہ اپنے رسولوں ؑکو جس پر چاہتا ہے۔‘‘

وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۶﴾

’’اوراللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت اور قدرت سے بنونضیر کے حوصلے پست کر دیے اور انہوں نے تم لوگوں کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ اس مہم میں ان کے خلاف تمہیں جنگ تو لڑنا ہی نہیں پڑی۔ لہٰذا تم پر واضح ہونا چاہیے کہ بنونضیر کی جلاوطنی کے نتیجے میں جو مال تمہارے ہاتھ لگا ہے وہ مالِ غنیمت نہیں ہے۔ اب اگلی آیت میں اس مال کے مصارف کے بارے میں حکم دیاجا رہا ہے۔

آیت 7

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ مِنۡ اَہۡلِ الۡقُرٰی

’’جو مال بھی ہاتھ لگا دے اللہ اپنے رسولؐ کے بستیوں والوں سے‘‘

فَلِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوۡلِ وَ لِذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ ابۡنِ السَّبِیۡلِ ۙ

’’تو وہ ہے اللہ کے لیے‘ رسول ؐکے لیے ‘ قرابت داروں‘ یتیموں‘ مسکینوں اور مسافروں کے لیے‘‘

واضح رہے کہ اللہ اور رسولؐ سے مراد یہاں اسلامی ریاست ہے ۔ پھر چونکہ رسول اللہﷺ کا اپنا ذاتی ذریعہ معاش تو کوئی تھا نہیں ‘اس لیے یہ مال آپؐ کے ذاتی اخراجات مثلاً ازواجِ مطہرات ؓ کے نان نفقہ اور دوسری معاشرتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے بھی تھا۔ اس کے علاوہ اس میں حضورﷺ کے قرابت داروں کی مد بھی رکھی گئی تاکہ آپؐ اپنے قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کے تقاضے پورے کر سکیں ۔ اسی طرح اس مال میں ان تمام اقسام کے ناداروں اور محتاجوں کا بھی حق رکھا گیا جن کا ذکر اس آیت میں آیا ہے ۔

کَیۡ لَا یَکُوۡنَ دُوۡلَۃًۢ بَیۡنَ الۡاَغۡنِیَآءِ مِنۡکُمۡ ؕ

’’تاکہ وہ تم میں سے مال داروں ہی کے درمیان گردش میں نہ رہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ معاشرے میں دولت کی تقسیم منصفانہ ہو اور اس کی گردش کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچیں۔یہ اسلامی معیشت کا بہت اہم اور بنیادی اصول ہے۔ اسی اصول کے تحت اللہ تعالیٰ نے مالِ فے زیادہ تر ناداروں اور محتاجوں کی محرومیوں کے ازالے کے لیے مختص فرما دیا۔مالِ فے بھی اگر مالِ غنیمت کی طرح تقسیم کیا جاتا تو یہاں بھی سواروں کو دوہرا حصہ ملتا اور ظاہر ہے جس شخص کے پاس گھوڑا یا اونٹ ہے وہ تو پہلے ہی سے کچھ خوشحال ہے۔ تو اس تقسیم سے مالِ فے کا بھی زیادہ تر حصہ خوشحال لوگوں کو ہی ملتا۔

واضح رہے کہ اسلام کے نظامِ عدل و قسط میں تمام انسانوں کو معاشی طور پر برابر کر دینے کا تصور نہیں پایا جاتا۔ ایسا ہونا عملی طور پر ممکن بھی نہیں ۔ ظاہر ہے ایک سپاہی اور سپہ سالار کسی طرح بھی برابر نہیں ہو سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ کمیونزم اپنے تمام تردعووں اور انقلابی نعروں کے باوجود ایسی ’’معاشی مساوات‘‘ کی کوئی ہلکی سی جھلک بھی دنیا کو نہیں دکھا سکا۔ اس کے برعکس اسلام کا نظامِ معیشت معاشرے سے معاشی ناہمواریوں کو ختم کرنے اور امیر و غریب کے درمیان فرق و تفاوت کو کم سے کم کرنے پر زور دیتا ہے۔ اس کے لیے اسلام ہر وہ دروازہ بند کر دینے کا حکم دیتا ہے جس کی وجہ سے چند ہاتھوں میں ارتکازِ دولت کا خدشہ ہواور ہر وہ راستہ کھولنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جس سے گردشِ دولت کا رُخ امراء سے غرباء کی طرف پھرنے اور معاشی محرومیوں کے ازالے کا امکان ہو۔ آج معاشی پیچیدگیوں کی وجہ سے جدید معاشرے میں جو گھمبیر صورتحال جنم لے رہی ہے اس کا ادراک سب سے پہلے جس عالم دین کو ہوا وہ شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ علیہ تھے۔شاہ ولی اللہ ؒایسی صورت حال کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جس ملک یا معاشرے میں تقسیم دولت کا نظام غیر منصفانہ ہوگا وہاں کچھ لوگ دولت کے انبار جمع کرکے مسرفانہ عیاشیوں اور بدمعاشیوں میں مبتلا ہو جائیں گے ‘جبکہ محروم طبقے کے لوگ باربرداری کے جانور بن کر رہ جائیں گے۔ ایسی ہی صورت حال کے بارے میں حضورﷺ کا فرمان ہے : حدیث((کَادَ الْفَقْرُ اَنْ یَّـکُوْنَ کُفْرًا))۱ کہ محرومی اور احتیاج انسان کو کفر تک پہنچا دیتی ہے۔ گویا تقسیم دولت کا غیر منصفانہ نظام ایسی دودھاری تلوار ہے جس کی دو طرفہ کاٹ سے مذکورہ دونوں طبقوں کے افراد مذہبی و انسانی اقدار سے بیگانہ و بے نیاز ہو کر عملی طور پر معاشرے کے لیے ناسور بن جاتے ہیں۔ اُمراء کو تو اپنے اللوں تللوں سے ہی فرصت نہیں ملتی جبکہ غریب و نادار عوام دنیا و مافیہا سے بے خبر صبح سے شام تک کمرتوڑ مشقت میں مصروف رہتے ہیں ۔ اس صورتِ حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شیطان اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے آگے بڑھتا ہے اور محروم طبقے کے افراد کے دلوں میں ظالم استحصالی طبقے کے خلاف بغض و عداوت کی آگ سلگانا شروع کر دیتا ہے: {اِنَّمَا یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّوۡقِعَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ } (المائدۃ:۹۱) ’’شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کر دے ‘‘۔تصور کریں اگر ایک سیٹھ صاحب کی بیٹی کی شادی کے موقع پر کروڑوں روپے کا اسراف صرف بے جا نمود و نمائش کی مد میں ہو رہا ہو گا تو یہ سب کچھ دیکھ کر اس کے اس غریب ملازم کے دل میں نفرت و عداوت کے کیسے کیسے جذبات پیدا ہوں گے جس کی بیٹی گھر میں بیٹھی صرف اس لیے بوڑھی ہو رہی ہے کہ وہ اس کے ہاتھ پیلے کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ پھر ہمارے معاشرے میں جب ایک کروڑ پتی کی بیٹی لاکھوں کا جہیز لے کر دوسرے کروڑ پتی کی بہو بن جاتی ہے تو دولت مال داروں ہی کے مابین گردش میں رہتی ہے۔

وَ مَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ٭ وَ مَا نَہٰىکُمۡ عَنۡہُ فَانۡتَہُوۡا ۚ

’’اور جو کچھ رسولؐ تم لوگوں کو دے دیں وہ لے لو اور جس چیز سے روک دیںاس سے رک جاؤ۔‘‘

ان الفاظ میں گویا اہل ایمان کو ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ مالِ فے سے متعلق نئے قانون کے تحت رسول اللہﷺ کے فیصلوں کو بخوشی قبول کریں۔ ظاہر ہے لشکر اسلام میں شامل لوگ تو بنونضیر کے علاقے سے حاصل ہونے والے مال و اسباب کو مالِ غنیمت سمجھتے ہوئے اس میں سے حصے کی توقع کر رہے تھے۔ اب جب مذکورہ حکم کے تحت اس مال کو مالِ فے قرار دے کر اس کی تقسیم کا نیا قانون بنا دیا گیا تو لشکر کے شرکاء کو طبع بشری کے تحت ایک دھچکا تو ضرور لگا ہو گا۔چنانچہ اس حکم کے تحت بنونضیر کے محاصرے میں شامل اہل ایمان کو بالخصوص اور تمام اہل ایمان کو بالعموم دین کا بنیادی اصول بتا دیا گیا کہ تمہارے لیے اللہ کے رسولﷺ کا ہر فیصلہ آخری حکم کا درجہ رکھتا ہے۔ معاملہ چاہے کوئی بھی ہو ‘اللہ کے رسولﷺ تم لوگوں کو جو دے دیں وہ لے لیا کرو اور جس چیز سے آپؐ منع کر دیں اس سے منع ہو جایا کرو۔

وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ۘ﴿۷﴾

’’اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔بے شک اللہ تعالیٰ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔‘‘

اب اگلی آیات میں مالِ فے کی تقسیم کے بارے میں مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ جب یہ مال مذکورہ قانون کے تحت بیت المال میں آجائے گا تواس کی تقسیم میں بنیادی طور پر ضرورت مندوں کی ضروریات کو ترجیح دی جائے گی۔ ظاہر ہے اللہ کے رسولﷺتو اس میں سے اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے وہی کچھ قبول کریں گے جو آپؐ کی انتہائی بنیادی ضروریات کے لیے ناگزیر ہو گا۔ آپﷺنے تو اپنی ذات اور ازواجِ مطہراتؓ پر شروع دن سے ہی فقر طاری کر رکھا تھا ۔سورۃ الاحزاب کے چوتھے رکوع میں واقعہ ایلاء کے بارے میں ہم پڑھ آئے ہیں کہ ازواجِ مطہراتؓ کی طرف سے نان نفقہ بڑھانے کے مطالبے پر حضورﷺ نے ان ؓسے علیحدگی اختیار فرما لی تھی۔ چنانچہ مالِ فے کا بڑا حصہ کس کے لیے مختص کیا جائے گا :

(۱) المقاصد الحسنۃ للسخاوی‘ ح:۳۶۸۔ اللآلی المنثورہ للزرکشی (بدر الدین)‘ ح:۲۰۹ [لہ شاھد]

8

مہاجرین کی تحسین

ویڈیو

لِلۡفُقَرَآءِ الۡمُہٰجِرِیۡنَ الَّذِیۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ وَ اَمۡوَالِہِمۡ یَبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانًا وَّ یَنۡصُرُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوۡنَ ۚ﴿۸﴾

آیت 8

لِلۡفُقَرَآءِ الۡمُہٰجِرِیۡنَ الَّذِیۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ وَ اَمۡوَالِہِمۡ

’’یہ (خاص طور پر) اُن تنگ دست مہاجرین کے لیے ہے جو نکال دیے گئے اپنے گھروں اور اپنے اموال سے‘‘

یَبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانًا وَّ یَنۡصُرُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ

’’وہ اللہ کے فضل اور اُس کی رضا کے متلاشی ہیں اور اللہ اور اُس کے رسولؐ کی مدد کر رہے ہیں۔ ‘‘

اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوۡنَ ۚ﴿۸﴾

’’یہی لوگ ہیں جو سچے ہیں۔‘‘

یہاں سورۃ الحدید کی آیت ۲۵ کے یہ الفاظ بھی ذہن میں تازہ کر لیں: {وَ لِیَعۡلَمَ اللّٰہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ وَ رُسُلَہٗ بِالۡغَیۡبِ ؕ} یعنی حق و باطل کی کشمکش سے دراصل اللہ تعالیٰ یہ دیکھنا چاہتا ہے (ظاہر کر دینا چاہتا ہے )کہ کون لوگ غیب میں ہونے کے باوجود اُس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کے لیے جاں بکف ہو کر کھڑے ہوتے ہیں۔ آیت زیر مطالعہ میں نہ صرف مالِ فے کی تقسیم کے حوالے سے فقراء مہاجرین کی ترجیح واضح کر دی گئی بلکہ ان کی بے لوث قربانیوں کی تصدیق و توثیق بھی فرما دی گئی کہ یہ لوگ صرف اللہ اور اس کے رسولﷺ کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ کر گھروں سے نکلے ہیں۔ اب چونکہ ان کے پاس اپنی بنیادی ضروریات کے لیے بھی کچھ نہیں تو مالِ فے کی تقسیم میں ان کے لیے خصوصی حصہ رکھا جائے گا۔

9

انصارِ مدینہ کی تحسین

ویڈیو

وَ الَّذِیۡنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الۡاِیۡمَانَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ یُحِبُّوۡنَ مَنۡ ہَاجَرَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَا یَجِدُوۡنَ فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ حَاجَۃً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَ یُؤۡثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ وَ لَوۡ کَانَ بِہِمۡ خَصَاصَۃٌ ؕ۟ وَ مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ۚ﴿۹﴾

آیت 9

وَ الَّذِیۡنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الۡاِیۡمَانَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ

’’اور (اس مال میں ان کا بھی حق ہے) جو آباد تھے اپنے گھروں میں اور جن کے پاس ایمان بھی تھا ان (مہاجرین کی آمد) سے پہلے‘‘

یہ انصارِ مدینہ کا ذکر ہے کہ مہاجرین کی آمد پر ان کا طرزِعمل کیا تھا :

یُحِبُّوۡنَ مَنۡ ہَاجَرَ اِلَیۡہِمۡ

’’وہ محبت کرتے ہیں ان سے جنہوں نے ہجرت کی ان کی طرف‘‘

مدینہ منورہ کے مسلمانوں نے مکہ مکرمہ سے آنے والے مہاجرین کو کھلے دل سے خوش آمدید کہا۔ ان میں سے کسی کے دل میں قطعاً کوئی ایسا خیال نہیں آیا کہ ان لوگوں کے آنے سے ہماری آبادی بڑھ جائے گی اور ان کی ناداری و محرومی ہماری معیشت پر بوجھ بن جائے گی۔

وَ لَا یَجِدُوۡنَ فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ حَاجَۃً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا

’’اور وہ نہیں پاتے اپنے سینوں میں کوئی حاجت اس بارے میں کہ جو کچھ ان (مہاجرین) کو دیا جاتا ہے‘‘

انصارِ مدینہ کے دل اپنے مہاجر بھائیوں کے لیے ایثار و قربانی کے اعلیٰ جذبات سے لبریز ہیں ‘اور یہ جذبات ان کے دلوں میں اس دولت ایمان کے باعث پیدا ہوئے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے انہیں بہرہ ور فرمایا ہے۔ یہ آیت دراصل انصارِ مدینہ کی تسکین وتشفی کے لیے ان کے جذبہ ایمان کو اپیل کرتے ہوئے نازل ہوئی تاکہ اگر ان میں سے کچھ لوگوںکے دلوں میں بنونضیر کے چھوڑے ہوئے مال سے متوقع حصہ نہ ملنے کے باعث کچھ ملال وغیرہ کے احساسات پیدا ہوئے ہوں تو وہ ختم ہو جائیں۔

وَ یُؤۡثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ وَ لَوۡ کَانَ بِہِمۡ خَصَاصَۃٌ ؕ۟

’’اور وہ تو خود پر ترجیح دیتے ہیں دوسروں کو خواہ ان کے اپنے اوپر تنگی ہو۔‘‘

ایثار کے معنی کسی کے لیے قربانی دینے اور دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دینے کے ہیں۔ ظاہر ہے انصارِ مدینہ میں سے بھی سب لوگ دولت مند تو نہیں تھے‘ ان میں بھی بہت سے لوگ نادار اور تنگ دست تھے‘ لیکن ان میں سے ہر ایک نے اپنی احتیاج اور ضرورت کو پس پشت ڈال کر استطاعت بھر اپنے مہاجر بھائیوں کی مدد کی تھی۔ ان کے اسی جذبۂ ایثار کا اعتراف یہاں اس آیت میں کیا گیا ہے۔

وَ مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ۚ﴿۹﴾

’’اور جوکوئی بھی بچا لیا گیا اپنے جی کے لالچ سے تو وہی لوگ ہیں فلاح پانے والے۔‘‘

اب اس کے بعد جو آیت آ رہی ہے وہ اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایران‘ عراق‘ مصر‘ شام وغیرہ کے مفتوحہ علاقوں کی زمینوں کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے اس آیت سے استدلال کیا تھا۔ ان علاقوں کی زمینیں بہت زرخیز ہیں‘ خصوصی طو رپر عراق اور شام کے درمیان صحرا میں واقع وہ علاقہ جو Fertile Crescent کہلاتا ہے‘ اپنی زرخیزی کے اعتبار سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ جب یہ وسیع و عریض علاقے فتح ہوئے تو ان کی زرعی زمینوں کے نظم و نسق کا مسئلہ سامنے آیا ۔اس معاملے میں زیادہ تر صحابہؓ کی رائے یہ تھی کہ مالِ غنیمت کی تقسیم کے اصول کے مطابق پانچواں حصہ بیت المال کے لیے مختص کر کے باقی زمینیں ہر محاذ کے مجاہدین میں تقسیم کر دی جائیں۔ البتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس رائے سے متفق نہیں تھے۔ آپ کی رائے یہ تھی کہ ان ممالک کی زمینیں مالِ غنیمت کے بجائے مالِ فے کے زمرے میں آتی ہیں‘ اس لیے ان پر مالِ فے کے قانون کا اطلاق ہونا چاہیے۔ اس نکتے کی مزید وضاحت یہ ہے کہ مالِ غنیمت صرف وہ مال ہے جو جنگ میں دشمن کو شکست دینے کے بعد عین محاذِ جنگ سے مسلمان مجاہدین کے ہاتھ لگے۔ جیسے اسلحہ‘ راشن ‘ بھیڑ بکریاں‘ اونٹ گھوڑے‘ جنگی قیدی وغیرہ۔ لیکن اگر کسی ایک جنگ کے نتیجے میں کوئی پورا ملک فتح ہو جائے (جیسے ابراہیم لودھی پانی پت کے میدان میں بابر سے صرف ایک جنگ ہارا تو اس کے نتیجے میں پورے ہندوستان پر بابر کا قبضہ ہو گیا) تو میدانِ جنگ سے باہر کی اراضی‘ املاک اور آبادی کو مالِ فے شمار کیا جائے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس معاملے میں اگلی آیت کے ان الفاظ سے استدلال کیا تھا: {وَ الَّذِیۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ } ’’اور وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے‘‘۔ پچھلی آیات کے مضمون سے اس آیت کے ان الفاظ کا ربط یوں بنتا ہے کہ مالِ فے پر حق ہے اللہ و رسولؐ کا‘ رسول اللہﷺ کے عزیز و اقارب کا‘ غرباء و مساکین کا‘ انصار و مہاجرین کا (بحوالہ آیات ۷ اور ۸) اور اُن لوگوں کا جو اُن کے بعد آئیں گے۔ ان آیات کے سیاق و سباق میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا کہ آج کے مالِ فے میں اس اُمت کے قیامت تک آنے والے مسلمانوں کا بھی حق ہے اور اگر آج یہ زمینیں چندہزار مجاہدین میں تقسیم کر دی گئیں تو بعد میں آنے والے مسلمان گویا اس حق سے محروم رہ جائیں گے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس استدلال سے بعض معتبر صحابہؓ نے اختلاف بھی کیا اور مذکورہ زمینوں کو مالِ غنیمت کے قانون کے تحت متعلقہ مجاہدین میں تقسیم کرنے پر اصرار کیا۔ اس اختلافِ رائے کے بعد حضرت عمرؓ نے اس معاملے میں غور و خوض کے لیے اوس‘ خزرج اور مہاجرین میں سے چند صحابہؓ پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دے دیا۔ کمیشن کے ارکان نے مسئلے سے متعلق مختلف آراء اور دیگر پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے متفقہ طور پر جو فیصلہ دیا وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے عین مطابق تھا اور بعد میں اسی فیصلے پر تمام صحابہؓ کا اجماع ہوا۔ صحابہؓ کے اس اجماع یا فیصلے کے مطابق تمام مسلم ممالک کی اراضی دو اقسام میں بٹ گئی۔ جن علاقوں کے لوگ لڑے بھڑے بغیر ایمان لے آئے ان کی زمینیں ’’عشری زمینیں‘‘ (ایسی زمین جو انفرادی ملکیت میں ہو اور اس کی پیداوار سے باقاعدہ عشر وصول کیا جاتا ہو) قرار پائیں۔ جبکہ بزورِ شمشیر فتح ہونے والے ممالک کی زمینوں کو ’’خراجی زمینوں‘‘ (ایسی زمینیں جو بیت المال کی ملکیت ہوں اور ان کو کاشت کرنے والے لوگ اسلامی حکومت کو خراج ادا کریں) کا درجہ دیا گیا۔ مثلاً مدینہ کو حضورﷺ نے کسی جنگ کے نتیجے میں فتح نہیں کیا تھا بلکہ مدینہ کے لوگوں نے حضورﷺ کو وہاں آنے کی خود دعوت دی تھی‘ اس لیے اوس اور خزرج کی تمام زمینیں ’’عشری‘‘ قرار پائیں اور متعلقہ لوگوں کی انفرادی ملکیت میں ہی رہیں‘ جبکہ ایران‘ عراق‘ مصر‘ شام وغیرہ ممالک کی زمینیں خراجی زمینوں کی حیثیت سے اسلامی حکومت کی تحویل میں چلی گئیں۔ اس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اجتہاد کے نتیجے میں انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ زمین کی اجتماعی ملکیت (collective ownership of land) کا نظام متعارف ہوا۔ اس وقت مفتوحہ علاقوں کی زمینیں اگر مالِ غنیمت کی حیثیت سے چند ہزار مجاہدین میں تقسیم کردی جاتیں تو اسلامی حکومت کے تحت انسانی تاریخ کی سب سے بڑی جاگیرداری وجود میں آ جاتی۔ اور پھر یہ سلسلہ یہیں پر ختم نہ ہوتا بلکہ جس ملک کی اراضی و املاک پر مالِ غنیمت کے قانون کا اطلاق ہوتا اس ملک کی پوری آبادی کو جنگی قیدیوں کی حیثیت سے غلام اور لونڈیاں بنا کر تقسیم کرنے کا مطالبہ بھی آتا۔

اسی قانون کے تحت پچھلی صدی تک ہندوستان کی زمینوں کے بارے میں بھی یہاں کے علماء کا اجماع تھا کہ یہاں کی تمام زمینیں خراجی ہیں اور اس حیثیت سے یہ زمینیں یہاں کے مسلمانوں کی اجتماعی ملکیت ہیں اور یہ کہ ہندوستان میں کوئی عشری زمین نہیں ہے۔ اس کا ذکر ہندوستان کے عظیم مفسر و محدث قاضی ثناء اللہ پانی پتی ؒنے فقہ کے مسائل سے متعلق اپنے رسالے ’’مَالاَ بُدَّ مِنْہ‘‘ میں بھی کیا ہے۔قاضی صاحب موصوف بہت بڑے صوفی اور مفتی بھی تھے ۔ان کی لکھی ہوئی ’’تفسیر مظہری‘‘ جسے انہوں نے اپنے مرشد مرزا مظہر جانِ جاناںؒ کے نام سے منسوب کیا ہے ‘آج کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ قاضی صاحب کا مرتب کردہ مذکورہ رسالہ فقہ کے بنیادی اور ابتدائی مسائل پر مشتمل ہے اور برصغیر کے تمام عربی مدارس میں پڑھایا جاتا ہے۔ اس رسالے میں انہوں نے عشر سے متعلق مسائل شامل ہی نہیں کیے اور اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ جب ہندوستان میں کوئی عشری زمین ہے ہی نہیں اور عشر سے متعلق احکام کی تنفیذ و تعمیل کا کوئی امکان ہی نہیں تو ان مسائل کو لکھنے‘ پڑھنے یا سمجھنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس علاقے میں جب کبھی اسلامی حکومت قائم ہو تو نئے بندوبست اراضی کے تحت بڑے بڑے جاگیرداروں سے وہ زمینیں واپس لی جا سکتی ہیں جو ماضی کے بادشاہوں‘ انگریز حکمرانوں اور سپہ سالاروں کی ’’نظر کرم‘‘ کے باعث انہیں عطا ہوئی تھیں۔

10

مومنوں سے محبت کرنے والوں کی تحسین

ویڈیو

وَ الَّذِیۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا وَ لِاِخۡوَانِنَا الَّذِیۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِیۡمَانِ وَ لَا تَجۡعَلۡ فِیۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّکَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۱۰﴾

آیت 10

وَ الَّذِیۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا وَ لِاِخۡوَانِنَا الَّذِیۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِیۡمَانِ

’’اور وہ لوگ جو ان کے بعد آئے (مالِ فے پر ان کا بھی حق ہے) وہ کہتے ہیں :اے ہمارے ربّ! تو بخش دے ہمیں بھی اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ایمان میں ہم سے سبقت لے گئے‘‘

وَ لَا تَجۡعَلۡ فِیۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّکَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۱۰﴾

’’اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی کدورت نہ پیدا ہونے دے ‘ اے ہمارے رب ‘ بے شک تو نہایت شفیق اور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

اس آیت میں واضح کر دیا گیا ہے کہ مالِ فے کی تقسیم میں حاضر و موجود لوگوں کے علاوہ بعد میں آنے والے مسلمانوں اور ان کی آئندہ نسلوں کا حصہ بھی ہے۔ مزید برآں اس میں ایک اہم اخلاقی درس بھی دیا گیا ہے کہ کسی مسلمان کے دل میں کسی دوسرے مسلمان کے لیے کوئی بغض‘ کینہ یا کدورت نہیں ہونی چاہیے‘ اور مسلمانوں کے لیے صحیح طرزِعمل یہی ہے کہ وہ اپنے اسلاف کے حق میں دعائے مغفرت کرتے رہیں‘ نہ یہ کہ انہیں سب و شتم کا نشانہ بنائیں۔

یہاں پر پہلا رکوع اختتام پذیر ہو ا ۔ اس رکوع میں بنونضیر کے مدینہ سے انخلاء اور ان کی چھوڑی ہوئی املاک (مالِ فے) سے متعلق احکام کا ذکر تھا۔ اب اگلی آیات میں منافقین کا تذکرہ ہے کہ ان لوگوں نے غزوئہ بنونضیر کے حوالے سے کیا کردار ادا کیا۔

یوٹیوب پر دیکھیے