وَ الَّذِیۡنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الۡاِیۡمَانَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ
’’اور (اس مال میں ان کا بھی حق ہے) جو آباد تھے اپنے گھروں میں اور جن کے پاس ایمان بھی تھا ان (مہاجرین کی آمد) سے پہلے‘‘
یہ انصارِ مدینہ کا ذکر ہے کہ مہاجرین کی آمد پر ان کا طرزِعمل کیا تھا :
یُحِبُّوۡنَ مَنۡ ہَاجَرَ اِلَیۡہِمۡ
’’وہ محبت کرتے ہیں ان سے جنہوں نے ہجرت کی ان کی طرف‘‘
مدینہ منورہ کے مسلمانوں نے مکہ مکرمہ سے آنے والے مہاجرین کو کھلے دل سے خوش آمدید کہا۔ ان میں سے کسی کے دل میں قطعاً کوئی ایسا خیال نہیں آیا کہ ان لوگوں کے آنے سے ہماری آبادی بڑھ جائے گی اور ان کی ناداری و محرومی ہماری معیشت پر بوجھ بن جائے گی۔
وَ لَا یَجِدُوۡنَ فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ حَاجَۃً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا
’’اور وہ نہیں پاتے اپنے سینوں میں کوئی حاجت اس بارے میں کہ جو کچھ ان (مہاجرین) کو دیا جاتا ہے‘‘
انصارِ مدینہ کے دل اپنے مہاجر بھائیوں کے لیے ایثار و قربانی کے اعلیٰ جذبات سے لبریز ہیں ‘اور یہ جذبات ان کے دلوں میں اس دولت ایمان کے باعث پیدا ہوئے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے انہیں بہرہ ور فرمایا ہے۔ یہ آیت دراصل انصارِ مدینہ کی تسکین وتشفی کے لیے ان کے جذبہ ایمان کو اپیل کرتے ہوئے نازل ہوئی تاکہ اگر ان میں سے کچھ لوگوںکے دلوں میں بنونضیر کے چھوڑے ہوئے مال سے متوقع حصہ نہ ملنے کے باعث کچھ ملال وغیرہ کے احساسات پیدا ہوئے ہوں تو وہ ختم ہو جائیں۔
وَ یُؤۡثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ وَ لَوۡ کَانَ بِہِمۡ خَصَاصَۃٌ ؕ۟
’’اور وہ تو خود پر ترجیح دیتے ہیں دوسروں کو خواہ ان کے اپنے اوپر تنگی ہو۔‘‘
ایثار کے معنی کسی کے لیے قربانی دینے اور دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دینے کے ہیں۔ ظاہر ہے انصارِ مدینہ میں سے بھی سب لوگ دولت مند تو نہیں تھے‘ ان میں بھی بہت سے لوگ نادار اور تنگ دست تھے‘ لیکن ان میں سے ہر ایک نے اپنی احتیاج اور ضرورت کو پس پشت ڈال کر استطاعت بھر اپنے مہاجر بھائیوں کی مدد کی تھی۔ ان کے اسی جذبۂ ایثار کا اعتراف یہاں اس آیت میں کیا گیا ہے۔
وَ مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ۚ﴿۹﴾
’’اور جوکوئی بھی بچا لیا گیا اپنے جی کے لالچ سے تو وہی لوگ ہیں فلاح پانے والے۔‘‘
اب اس کے بعد جو آیت آ رہی ہے وہ اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایران‘ عراق‘ مصر‘ شام وغیرہ کے مفتوحہ علاقوں کی زمینوں کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے اس آیت سے استدلال کیا تھا۔ ان علاقوں کی زمینیں بہت زرخیز ہیں‘ خصوصی طو رپر عراق اور شام کے درمیان صحرا میں واقع وہ علاقہ جو Fertile Crescent کہلاتا ہے‘ اپنی زرخیزی کے اعتبار سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ جب یہ وسیع و عریض علاقے فتح ہوئے تو ان کی زرعی زمینوں کے نظم و نسق کا مسئلہ سامنے آیا ۔اس معاملے میں زیادہ تر صحابہؓ کی رائے یہ تھی کہ مالِ غنیمت کی تقسیم کے اصول کے مطابق پانچواں حصہ بیت المال کے لیے مختص کر کے باقی زمینیں ہر محاذ کے مجاہدین میں تقسیم کر دی جائیں۔ البتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس رائے سے متفق نہیں تھے۔ آپ کی رائے یہ تھی کہ ان ممالک کی زمینیں مالِ غنیمت کے بجائے مالِ فے کے زمرے میں آتی ہیں‘ اس لیے ان پر مالِ فے کے قانون کا اطلاق ہونا چاہیے۔ اس نکتے کی مزید وضاحت یہ ہے کہ مالِ غنیمت صرف وہ مال ہے جو جنگ میں دشمن کو شکست دینے کے بعد عین محاذِ جنگ سے مسلمان مجاہدین کے ہاتھ لگے۔ جیسے اسلحہ‘ راشن ‘ بھیڑ بکریاں‘ اونٹ گھوڑے‘ جنگی قیدی وغیرہ۔ لیکن اگر کسی ایک جنگ کے نتیجے میں کوئی پورا ملک فتح ہو جائے (جیسے ابراہیم لودھی پانی پت کے میدان میں بابر سے صرف ایک جنگ ہارا تو اس کے نتیجے میں پورے ہندوستان پر بابر کا قبضہ ہو گیا) تو میدانِ جنگ سے باہر کی اراضی‘ املاک اور آبادی کو مالِ فے شمار کیا جائے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس معاملے میں اگلی آیت کے ان الفاظ سے استدلال کیا تھا: {وَ الَّذِیۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ } ’’اور وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے‘‘۔ پچھلی آیات کے مضمون سے اس آیت کے ان الفاظ کا ربط یوں بنتا ہے کہ مالِ فے پر حق ہے اللہ و رسولؐ کا‘ رسول اللہﷺ کے عزیز و اقارب کا‘ غرباء و مساکین کا‘ انصار و مہاجرین کا (بحوالہ آیات ۷ اور ۸) اور اُن لوگوں کا جو اُن کے بعد آئیں گے۔ ان آیات کے سیاق و سباق میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا کہ آج کے مالِ فے میں اس اُمت کے قیامت تک آنے والے مسلمانوں کا بھی حق ہے اور اگر آج یہ زمینیں چندہزار مجاہدین میں تقسیم کر دی گئیں تو بعد میں آنے والے مسلمان گویا اس حق سے محروم رہ جائیں گے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس استدلال سے بعض معتبر صحابہؓ نے اختلاف بھی کیا اور مذکورہ زمینوں کو مالِ غنیمت کے قانون کے تحت متعلقہ مجاہدین میں تقسیم کرنے پر اصرار کیا۔ اس اختلافِ رائے کے بعد حضرت عمرؓ نے اس معاملے میں غور و خوض کے لیے اوس‘ خزرج اور مہاجرین میں سے چند صحابہؓ پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دے دیا۔ کمیشن کے ارکان نے مسئلے سے متعلق مختلف آراء اور دیگر پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے متفقہ طور پر جو فیصلہ دیا وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے عین مطابق تھا اور بعد میں اسی فیصلے پر تمام صحابہؓ کا اجماع ہوا۔ صحابہؓ کے اس اجماع یا فیصلے کے مطابق تمام مسلم ممالک کی اراضی دو اقسام میں بٹ گئی۔ جن علاقوں کے لوگ لڑے بھڑے بغیر ایمان لے آئے ان کی زمینیں ’’عشری زمینیں‘‘ (ایسی زمین جو انفرادی ملکیت میں ہو اور اس کی پیداوار سے باقاعدہ عشر وصول کیا جاتا ہو) قرار پائیں۔ جبکہ بزورِ شمشیر فتح ہونے والے ممالک کی زمینوں کو ’’خراجی زمینوں‘‘ (ایسی زمینیں جو بیت المال کی ملکیت ہوں اور ان کو کاشت کرنے والے لوگ اسلامی حکومت کو خراج ادا کریں) کا درجہ دیا گیا۔ مثلاً مدینہ کو حضورﷺ نے کسی جنگ کے نتیجے میں فتح نہیں کیا تھا بلکہ مدینہ کے لوگوں نے حضورﷺ کو وہاں آنے کی خود دعوت دی تھی‘ اس لیے اوس اور خزرج کی تمام زمینیں ’’عشری‘‘ قرار پائیں اور متعلقہ لوگوں کی انفرادی ملکیت میں ہی رہیں‘ جبکہ ایران‘ عراق‘ مصر‘ شام وغیرہ ممالک کی زمینیں خراجی زمینوں کی حیثیت سے اسلامی حکومت کی تحویل میں چلی گئیں۔ اس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اجتہاد کے نتیجے میں انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ زمین کی اجتماعی ملکیت (collective ownership of land) کا نظام متعارف ہوا۔ اس وقت مفتوحہ علاقوں کی زمینیں اگر مالِ غنیمت کی حیثیت سے چند ہزار مجاہدین میں تقسیم کردی جاتیں تو اسلامی حکومت کے تحت انسانی تاریخ کی سب سے بڑی جاگیرداری وجود میں آ جاتی۔ اور پھر یہ سلسلہ یہیں پر ختم نہ ہوتا بلکہ جس ملک کی اراضی و املاک پر مالِ غنیمت کے قانون کا اطلاق ہوتا اس ملک کی پوری آبادی کو جنگی قیدیوں کی حیثیت سے غلام اور لونڈیاں بنا کر تقسیم کرنے کا مطالبہ بھی آتا۔
اسی قانون کے تحت پچھلی صدی تک ہندوستان کی زمینوں کے بارے میں بھی یہاں کے علماء کا اجماع تھا کہ یہاں کی تمام زمینیں خراجی ہیں اور اس حیثیت سے یہ زمینیں یہاں کے مسلمانوں کی اجتماعی ملکیت ہیں اور یہ کہ ہندوستان میں کوئی عشری زمین نہیں ہے۔ اس کا ذکر ہندوستان کے عظیم مفسر و محدث قاضی ثناء اللہ پانی پتی ؒنے فقہ کے مسائل سے متعلق اپنے رسالے ’’مَالاَ بُدَّ مِنْہ‘‘ میں بھی کیا ہے۔قاضی صاحب موصوف بہت بڑے صوفی اور مفتی بھی تھے ۔ان کی لکھی ہوئی ’’تفسیر مظہری‘‘ جسے انہوں نے اپنے مرشد مرزا مظہر جانِ جاناںؒ کے نام سے منسوب کیا ہے ‘آج کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ قاضی صاحب کا مرتب کردہ مذکورہ رسالہ فقہ کے بنیادی اور ابتدائی مسائل پر مشتمل ہے اور برصغیر کے تمام عربی مدارس میں پڑھایا جاتا ہے۔ اس رسالے میں انہوں نے عشر سے متعلق مسائل شامل ہی نہیں کیے اور اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ جب ہندوستان میں کوئی عشری زمین ہے ہی نہیں اور عشر سے متعلق احکام کی تنفیذ و تعمیل کا کوئی امکان ہی نہیں تو ان مسائل کو لکھنے‘ پڑھنے یا سمجھنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس علاقے میں جب کبھی اسلامی حکومت قائم ہو تو نئے بندوبست اراضی کے تحت بڑے بڑے جاگیرداروں سے وہ زمینیں واپس لی جا سکتی ہیں جو ماضی کے بادشاہوں‘ انگریز حکمرانوں اور سپہ سالاروں کی ’’نظر کرم‘‘ کے باعث انہیں عطا ہوئی تھیں۔