بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

الحشر

آیات ۱ تا ۵

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

1-2

غزوہ بنو نظیر میں یہود کی عبرتناک شکست

ویڈیو

سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ۚ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۱﴾ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَخۡرَجَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ مِنۡ دِیَارِہِمۡ لِاَوَّلِ الۡحَشۡرِ ؕؔ مَا ظَنَنۡتُمۡ اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا وَ ظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ مَّانِعَتُہُمۡ حُصُوۡنُہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ فَاَتٰىہُمُ اللّٰہُ مِنۡ حَیۡثُ لَمۡ یَحۡتَسِبُوۡا ٭ وَ قَذَفَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الرُّعۡبَ یُخۡرِبُوۡنَ بُیُوۡتَہُمۡ بِاَیۡدِیۡہِمۡ وَ اَیۡدِی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ٭ فَاعۡتَبِرُوۡا یٰۤاُولِی الۡاَبۡصَارِ ﴿۲﴾

آیت 1

سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ۚ

’’تسبیح کرتی ہے اللہ کی ہر وہ شے جو آسمانوں میں ہے اور ہروہ شے جو زمین میں ہے۔‘‘

المُسَبِّحات کے سلسلے کی پہلی سورۃ یعنی سورۃ الحدید کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے : {سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ } ۔یہاں ’’مَا فِی‘‘ کا اضافہ ہے ‘جس سے گویا مفہوم میں مزید زور (emphasis) پیدا ہو گیا ہے۔ باقی ساری آیت کے الفاظ وہی ہیں۔

وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۱﴾

’’اور وہ زبردست ہے‘ کمال حکمت والا۔‘‘

اُس کے اختیارات مطلق ہیں‘ لیکن وہ اپنے اختیارات کا استعمال بہت حکمت سے کرتا ہے۔

آیت 2

ہُوَ الَّذِیۡۤ اَخۡرَجَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ مِنۡ دِیَارِہِمۡ لِاَوَّلِ الۡحَشۡرِ ؕؔ

’’وہی ہے جس نے نکال باہر کیا ان کافروں کو جواہل کتاب میں سے تھے ان کے گھروں سے‘ پہلے جمع ہونے کے وقت۔‘‘

یہ یہودی قبیلہ بنو نضیر کی مدینہ منورہ سے جلاوطنی کے واقعہ کا ذکر ہے ۔ اس واقعہ کا پس منظر یوں ہے کہ حضورﷺ کی ہجرت کے وقت مدینہ (یثرب) میں تین یہودی قبائل بنو قینقاع‘ بنونضیر اور بنوقریظہ آباد تھے۔

حضورﷺ نے مدینہ تشریف لانے کے فوراً بعد ان قبائل کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جو تاریخ میں ’’میثاقِ مدینہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بنیادی طور پر یہ مدینہ کے ’’مشترکہ دفاع‘‘ کا معاہدہ تھا۔ ان میں سے قبیلہ بنوقینقاع نے تو معاہدے کے کچھ ہی دیر بعد مسلمانوں کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ چنانچہ معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کی بنا پر حضورﷺ نے غزوۂ بدر کے بعد اس قبیلہ کو مدینہ بدر کر دیا۔ غزوۂ احد (۳ ہجری) کے بعد قبیلہ بنو نضیر نے بھی مسلمانوں کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ غزوۂ اُحد میں مسلمانوں کی وقتی شکست سے ان کی کمزوری کا تاثر لے کر جہاں عرب کے بہت سے دوسرے قبائل نے سر اٹھانا شروع کیا‘ وہاں یہ قبیلہ بھی اپنے عہد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف مہم جوئی میں شامل ہو گیا۔ان کے سردار کعب بن اشرف نے قریش مکہ سے گٹھ جوڑ کر کے انہیں مدینہ پر حملہ کرنے کی باقاعدہ دعوت دی اور انہیں یقین دلایا کہ تم لوگ باہر سے حملہ کرو ‘ہم اندر سے تمہاری مدد کریں گے۔ اسی دوران کعب بن اشرف نے حضورﷺ کو (نعوذباللہ) شہید کرنے کی ایک سازش بھی تیار کی۔ اس کے لیے ان لوگوں نے حضورﷺ کو کسی اہم بات چیت کے بہانے اپنے ہاں بلایا۔ منصوبہ یہ تھا کہ کسی دیوار کے بالکل ساتھ آپؐ کی نشست کا انتظام کیا جائے اور جب آپؐ وہاں بیٹھے ہوں تو دیوار کے اوپر سے چکی کا بھاری پاٹ آپؐ پر گرا دیا جائے ۔ آپؐ ان کے بلانے پر ان کے محلے میں تشریف لے گئے مگر اللہ تعالیٰ نے جب وحی کے ذریعے آپؐ کو ان کی اس گھنائونی سازش سے آگاہ کیا تو آپؐ واپس تشریف لے آئے۔

بنونضیر کی ان ریشہ دوانیوں اور مسلسل بدعہدی کی وجہ سے بالآخر ربیع الاول۴ ہجری میں حضورﷺ نے ان کے خلاف لشکر کشی کا حکم دے دیا۔ البتہ جب مسلمانوں نے ان کی گڑھیوں کا محاصرہ کیا تو انہوں نے چند دن محصور رہنے کے بعد لڑے بغیر ہتھیار ڈال دیے۔ اس پر حضورﷺ نے ان کی جان بخشی کرتے ہوئے انہیں مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا‘ بلکہ آپﷺ نے مزید نرمی فرماتے ہوئے انہیں یہ اجازت بھی دے دی کہ جاتے ہوئے وہ جس قدر سامان اونٹوں پر لاد کر لے جا سکتے ہیں‘ لے جائیں۔ غزوۂ احزاب (۵ہجری) کے بعد بنوقریظہ کو بھی ان کی عہد شکنی اور سازشوں کی وجہ سے کیفر کردار تک پہنچا دیا گیا۔ اس طرح یہودِ مدینہ کے تینوں قبائل میثاقِ مدینہ کی خلاف ورزی کے باعث ایک ایک کر کے اپنے انجام کو پہنچ گئے۔

آیت میں لِاَوَّلِ الْحَشْرِ کا ایک مفہوم تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ مسلمانوں نے پہلی مرتبہ ہی جب ان پر لشکرکشی کی تو انہوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ اس کے علاوہ اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ مدینہ سے جلاوطنی تو ان لوگوں کا پہلا حشر ہے‘ پھرایک وقت آئے گا جب انہیں خیبر سے بھی نکال دیا جائے گا اور اس کے بعد انہیں جزیرہ نمائے عرب کو بھی خیرباد کہنا پڑے گا (چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں تمام عیسائیوں اور یہودیوں کو جزیرہ نمائے عرب سے نکال دیا گیا)اور پھر ایک حشر وہ ہو گا جو قیامت کے دن برپا ہو گا۔

مَا ظَنَنۡتُمۡ اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا

’’(اے مسلمانو!) تمہیں یہ گمان نہیں تھا کہ وہ (اتنی آسانی سے) نکل جائیں گے‘‘

وَ ظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ مَّانِعَتُہُمۡ حُصُوۡنُہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ

’’اور وہ بھی سمجھتے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ (کی پکڑ) سے بچا لیں گے‘‘

فَاَتٰىہُمُ اللّٰہُ مِنۡ حَیۡثُ لَمۡ یَحۡتَسِبُوۡا ٭

’’تو اللہ نے ان پر حملہ کیا وہاں سے جہاں سے انہیں گمان بھی نہ تھا۔‘‘

وَ قَذَفَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الرُّعۡبَ

’’اور ان کے دلوں میں اُس نے رعب ڈال دیا‘‘

اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں کو جس طریقے سے چاہے ہزیمت سے دوچار کر دے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے انہیں اس قدر مرعوب کر دیا کہ وہ اپنے مضبوط قلعوں کے اندر بھی خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے اور اپنے تمام تر وسائل کے باوجود بھی مسلمانوں سے مقابلہ کرنے کی ہمت نہ کر سکے ۔

یُخۡرِبُوۡنَ بُیُوۡتَہُمۡ بِاَیۡدِیۡہِمۡ وَ اَیۡدِی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ٭

’’وہ برباد کر رہے تھے اپنے گھروں کو ‘خود اپنے ہاتھوں سے بھی اور اہل ایمان کے ہاتھوں سے بھی۔‘‘

چونکہ انہیں یہ اجازت مل چکی تھی کہ اپنے سامان میں سے جو کچھ وہ اپنے ساتھ اونٹوں پر لاد کر لے جا سکتے ہیں لے جائیں اس لیے وہ اپنے گھروں کی دیواروں اور چھتوں میں سے دروازے ‘ کھڑکیاں ‘ کڑیاں‘ شہتیر وغیرہ نکالنے کے لیے خود ہی انہیں مسمار کر رہے تھے۔ ان کی اس تخریب میں مسلمانوں نے بھی ان کا ہاتھ بٹایا ہوگا۔

فَاعۡتَبِرُوۡا یٰۤاُولِی الۡاَبۡصَارِ ﴿۲﴾

’’پس عبرت حاصل کرو اے آنکھیں رکھنے والو!‘‘

یہ گویا پیچھے رہ جانے والے قبیلے بنی قریظہ کو سنایا جا رہا ہے کہ تم اپنے بھائی بندوں کے اس انجام سے عبرت حاصل کرو اور سازشوں سے باز آجاؤ!

3-4

اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) سے دشمنی کا انجام

ویڈیو

وَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ کَتَبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمُ الۡجَلَآءَ لَعَذَّبَہُمۡ فِی الدُّنۡیَا ؕ وَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابُ النَّارِ ﴿۳﴾ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ شَآقُّوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ۚ وَ مَنۡ یُّشَآقِّ اللّٰہَ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۴﴾

آیت 3

وَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ کَتَبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمُ الۡجَلَآءَ

’’اور اگر اللہ نے پہلے سے نہ لکھ دیا ہوتا ان پر جلاوطن ہونا‘‘

لَعَذَّبَہُمۡ فِی الدُّنۡیَا ؕ وَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابُ النَّارِ ﴿۳﴾

’’تو انہیں سخت عذاب دیتا دنیوی زندگی میں‘ اور آخرت میں ان کے لیے آگ کا عذاب ہے ۔‘‘

آیت 4

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ شَآقُّوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ۚ

’’یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اُس کے رسول (ﷺ) کی مخالفت کی۔‘‘

وَ مَنۡ یُّشَآقِّ اللّٰہَ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۴﴾

’’اور جو اللہ کی مخالفت پر کمرکس لے تو (سمجھ لوکہ) اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔‘‘

5

قرآن کے علاوہ وحی کا نزول

ویڈیو

مَا قَطَعۡتُمۡ مِّنۡ لِّیۡنَۃٍ اَوۡ تَرَکۡتُمُوۡہَا قَآئِمَۃً عَلٰۤی اُصُوۡلِہَا فَبِاِذۡنِ اللّٰہِ وَ لِیُخۡزِیَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿۵﴾

آیت 5

مَا قَطَعۡتُمۡ مِّنۡ لِّیۡنَۃٍ اَوۡ تَرَکۡتُمُوۡہَا قَآئِمَۃً عَلٰۤی اُصُوۡلِہَا فَبِاِذۡنِ اللّٰہِ

’’تم نے کھجور کے جو درخت کاٹے یا جن کو چھوڑ دیا ان کی جڑوں پر کھڑے ‘تو یہ اللہ کے اِذن سے ہوا‘‘

لِینہ ایک خاص قسم کی کھجور کے درخت کو کہتے ہیں۔ یہودیوں کی گڑھیوں اور حویلیوں کے گرد یہ درخت باڑ کی شکل میں کثرت سے موجود تھے۔مسلمانوں نے جب ان کا محاصرہ کیا تو حملہ کے لیے راستے بنانے کی غرض سے حسبِ ضرورت ان میں سے کچھ درختوں کو انہوں نے کاٹ ڈالا۔ یہودیوں نے مسلمانوں کے اس عمل کو ہدفِ تنقید بنایا اور پروپیگنڈا کیا کہ یہ لوگ خود کو مؤمنین کہتے ہیں اور ان کے قائد اللہ کے رسول (ﷺ)ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں‘ لیکن ان لوگوں کی اخلاقیات کا معیار یہ ہے کہ پھل دار درختوں کو بھی کاٹنے سے دریغ نہیں کرتے۔ یہودیوں کے اس پراپیگنڈے کا جواب اللہ تعالیٰ نے خود دیا۔ چنانچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے مذکورہ اقدام پر اپنی منظوری (sanction) کی مہر ثبت کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ مسلمانوں نے یہ درخت جنگی ضرورت کے تحت اللہ کے رسولﷺ کی موجودگی میں کاٹے ہیں۔ چنانچہ جب اللہ کے رسولﷺ نے انہیں ایسا کرنے سے منع نہیں کیا تو پھر سمجھ لو کہ اللہ کی طرف سے اس کی اجازت دی گئی تھی۔

وَ لِیُخۡزِیَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿۵﴾

’’اورتاکہ وہ فاسقوں کو ذلیل و رسوا کرے۔‘‘

اب اگلی آیات میں مالِ فے کا ذکر آ رہا ہے جو اس سورت کا اہم ترین مضمون ہے۔ چنانچہ ان آیات کے مطالعہ سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ مالِ فے کیا ہے اور یہ مالِ غنیمت سے کس طرح مختلف ہے ۔ مالِ غنیمت تو وہ مال ہے جو باقاعدہ جنگ کے نتیجے میں حاصل ہو ۔ اس سے پہلے سورۃ الانفال کی آیت ۴۱ میں مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں حکم آ چکا ہے۔اس حکم کے مطابق مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ اللہ‘ اس کے رسولﷺ‘ رسولؐ کے قرابت داروں‘ یتیموں‘ مسکینوں اور مسافروں کے لیے مخصوص ہو گا ‘جبکہ باقی چار حصے اس جنگ میں حصہ لینے والے مجاہدین کے مابین تقسیم کر دیے جائیں گے ‘اور اس تقسیم میں سوار کو پیدل کے مقابلے میں دو حصے ملیں گے۔ اس کے برعکس ’’مالِ فے‘‘ وہ مال ہے جو مسلمانوں کوکسی جنگ کے بغیر ہی حاصل ہو جائے‘ جیسے زیر مطالعہ واقعہ میں باقاعدہ جنگ کی نوبت نہیں آئی تھی ‘ مسلمانوں نے بنونضیر کا محاصرہ کیا اور انہوں نے مرعوب ہو کر ہتھیار ڈال دیے۔ چنانچہ اس مہم کے نتیجے میں حاصل ہونے والی زمینیں اور دوسری تمام اشیاء مالِ فے قرار پائیں۔آگے آیت ۷ میں مالِ فے کے بارے میں واضح کردیاگیا کہ یہ مال کل کاکل اللہ اور اس کے رسولﷺ کا ہے۔ اس میں سے اللہ کے رسولﷺ اپنی مرضی سے غرباء و مساکین کو تو دیں گے لیکن عام مسلمانوں کو اس میں سے حصہ نہیں ملے گا۔

یوٹیوب پر دیکھیے