اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ نَافَقُوۡا
’’کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو نفاق میں مبتلا ہیں‘‘
یَقُوۡلُوۡنَ لِاِخۡوَانِہِمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ
’’وہ کہتے ہیں اپنے ان بھائیوں سے جنہوں نے اہل کتاب میں سے کفر کیاہے‘‘
لَئِنۡ اُخۡرِجۡتُمۡ لَنَخۡرُجَنَّ مَعَکُمۡ
’’کہ اگر تم لوگوں کو (کبھی مدینہ سے )نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے‘‘
یہودیوں کے ساتھ ان منافقین کے حلیفانہ تعلقات تھے۔ ان تعلقات اور روابط کی بنیاد پر منافقین وقتاً فوقتاً انہیں یقین دلاتے رہتے تھے کہ ہم آخری دم تک تمہارا ساتھ دیں گے اور اگر تم لوگوں کو کبھی مدینہ سے بے دخل کرنے کی کوشش کی گئی تو ایسی مشکل گھڑی میں ہم شانہ بشانہ تمہارے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
وَ لَا نُطِیۡعُ فِیۡکُمۡ اَحَدًا اَبَدًا ۙ
’’اور تمہارے معاملے میں ہم کسی کی بھی اطاعت نہیں کریں گے‘‘
وَّ اِنۡ قُوۡتِلۡتُمۡ لَنَنۡصُرَنَّکُمۡ ؕ
’’اور اگر تمہارے ساتھ جنگ کی گئی تو ہم لازماً تمہاری مدد کریں گے۔‘‘
منافقین انہیں یقین دلاتے رہتے تھے کہ ہم محض وقتی طور پر بعض مصلحتوں کی وجہ سے مسلمانوں میں شامل ہوئے ہیں اور یہ کہ اس وجہ سے تمہارے ساتھ ہمارے پرانے دوستانہ تعلقات بالکل متاثر نہیں ہوں گے۔ چنانچہ تمہارے ساتھ حق دوستی نبھانے میں کوئی مصلحت بھی ہمارے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ ہم بعض معاملات میں رسول اللہﷺ کا حکم مانتے بھی ہیں ‘ لیکن تمہارے معاملے میں ہم ان کے حکم کو بھی کوئی اہمیت نہیں دیں گے۔اگر مسلمانوں نے کبھی تمہارے خلاف کوئی اقدام کرنے کی کوشش کی تو ہم ان کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے تمہارا ساتھ دیں گے۔
وَ اللّٰہُ یَشۡہَدُ اِنَّہُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۱﴾
’’اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ بالکل جھوٹے ہیں۔‘‘
لَئِنۡ اُخۡرِجُوۡا لَا یَخۡرُجُوۡنَ مَعَہُمۡ ۚ
’’ اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔‘‘
وَ لَئِنۡ قُوۡتِلُوۡا لَا یَنۡصُرُوۡنَہُمۡ ۚ
’’اور اگر اُن سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے۔‘‘
وَ لَئِنۡ نَّصَرُوۡہُمۡ لَیُوَلُّنَّ الۡاَدۡبَارَ ۟ ثُمَّ لَا یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۱۲﴾
’’اور اگر انہوں نے کبھی اُن کی مدد کی بھی تو پیٹھ دکھا دیں گے ‘ پھران کی کہیں سے مدد نہیں ہو سکے گی۔‘‘
منافقین اپنے کردار و عمل سے ثابت کر چکے ہیں کہ وہ پست حوصلہ‘ بزدل اور جھوٹے لوگ ہیں۔ اگر ان میں جوانمردی اور غیرت و حمیت کی کوئی رمق ہوتی تو یہ دوغلا پن اختیار نہ کرتے‘بلکہ ایمان لانے کے بعد سچے مسلمانوں کا طرزِعمل اختیار کرتے کہ ؏ ’’ہرچہ بادا باد ماکشتی در آب انداختیم!‘‘ لہٰذا اپنے دعووں کے مطابق یہ کبھی بھی یہودیوں کا ساتھ نہیں دیں گے ‘اور اگر ان میں سے کوئی اِکا دُکاسرپھرے لوگ حق دوستی نبھانے کے جوش میں یہودیوں کے ساتھ کہیں کھڑے ہو بھی گئے تو مشکل وقت آنے پر وہ بھی میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔
لَاَنۡتُمۡ اَشَدُّ رَہۡبَۃً فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنَ اللّٰہِ ؕ
’’(اے مسلمانو!) یقینا تمہارا ڈر ان کے دلوں میں اللہ کی نسبت شدید تر ہے۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ سے اتنا نہیں ڈرتے جتنا تم لوگوں سے ڈرتے ہیں۔
ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۱۳﴾
’’یہ اس لیے ہے کہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں۔‘‘
یہ لوگ سمجھ بوجھ سے عاری ہیں۔ انسان کی اصل سمجھ اور عقل تو وہ ہے جو اسے اللہ سے متعارف کرائے اور ایمان کی راہ سجھائے۔ اسی طرح انسان کے لیے علم بھی وہی فائدہ مند ہے جو اسے اس حقیقت سے آگاہ کر دے کہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے اور دنیا کی زندگی بس کھیل اور تماشا ہے۔ چونکہ منافقین ایسی عقل سے بیگانہ اور ایسے علم سے نابلد ہیں اس لیے وہ اللہ سے ڈرنے کے بجائے انسانوں سے ڈرتے ہیں اور آخرت کی قیمت پر دنیا سنوارنے کی فکر میں مگن ہیں۔