تحریر

الحشر

آیات ۱۱ تا ۱۷

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

11-13

منافقین کی ذلت و رسوائی

ویڈیو

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ نَافَقُوۡا یَقُوۡلُوۡنَ لِاِخۡوَانِہِمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ لَئِنۡ اُخۡرِجۡتُمۡ لَنَخۡرُجَنَّ مَعَکُمۡ وَ لَا نُطِیۡعُ فِیۡکُمۡ اَحَدًا اَبَدًا ۙ وَّ اِنۡ قُوۡتِلۡتُمۡ لَنَنۡصُرَنَّکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَشۡہَدُ اِنَّہُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۱﴾ لَئِنۡ اُخۡرِجُوۡا لَا یَخۡرُجُوۡنَ مَعَہُمۡ ۚ وَ لَئِنۡ قُوۡتِلُوۡا لَا یَنۡصُرُوۡنَہُمۡ ۚ وَ لَئِنۡ نَّصَرُوۡہُمۡ لَیُوَلُّنَّ الۡاَدۡبَارَ ۟ ثُمَّ لَا یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۱۲﴾ لَاَنۡتُمۡ اَشَدُّ رَہۡبَۃً فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنَ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۱۳﴾

آیت 11

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ نَافَقُوۡا

’’کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو نفاق میں مبتلا ہیں‘‘

یَقُوۡلُوۡنَ لِاِخۡوَانِہِمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ

’’وہ کہتے ہیں اپنے ان بھائیوں سے جنہوں نے اہل کتاب میں سے کفر کیاہے‘‘

لَئِنۡ اُخۡرِجۡتُمۡ لَنَخۡرُجَنَّ مَعَکُمۡ

’’کہ اگر تم لوگوں کو (کبھی مدینہ سے )نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے‘‘

یہودیوں کے ساتھ ان منافقین کے حلیفانہ تعلقات تھے۔ ان تعلقات اور روابط کی بنیاد پر منافقین وقتاً فوقتاً انہیں یقین دلاتے رہتے تھے کہ ہم آخری دم تک تمہارا ساتھ دیں گے اور اگر تم لوگوں کو کبھی مدینہ سے بے دخل کرنے کی کوشش کی گئی تو ایسی مشکل گھڑی میں ہم شانہ بشانہ تمہارے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

وَ لَا نُطِیۡعُ فِیۡکُمۡ اَحَدًا اَبَدًا ۙ

’’اور تمہارے معاملے میں ہم کسی کی بھی اطاعت نہیں کریں گے‘‘

وَّ اِنۡ قُوۡتِلۡتُمۡ لَنَنۡصُرَنَّکُمۡ ؕ

’’اور اگر تمہارے ساتھ جنگ کی گئی تو ہم لازماً تمہاری مدد کریں گے۔‘‘

منافقین انہیں یقین دلاتے رہتے تھے کہ ہم محض وقتی طور پر بعض مصلحتوں کی وجہ سے مسلمانوں میں شامل ہوئے ہیں اور یہ کہ اس وجہ سے تمہارے ساتھ ہمارے پرانے دوستانہ تعلقات بالکل متاثر نہیں ہوں گے۔ چنانچہ تمہارے ساتھ حق دوستی نبھانے میں کوئی مصلحت بھی ہمارے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ ہم بعض معاملات میں رسول اللہﷺ کا حکم مانتے بھی ہیں ‘ لیکن تمہارے معاملے میں ہم ان کے حکم کو بھی کوئی اہمیت نہیں دیں گے۔اگر مسلمانوں نے کبھی تمہارے خلاف کوئی اقدام کرنے کی کوشش کی تو ہم ان کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے تمہارا ساتھ دیں گے۔

وَ اللّٰہُ یَشۡہَدُ اِنَّہُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۱﴾

’’اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ بالکل جھوٹے ہیں۔‘‘

آیت 12

لَئِنۡ اُخۡرِجُوۡا لَا یَخۡرُجُوۡنَ مَعَہُمۡ ۚ

’’ اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔‘‘

وَ لَئِنۡ قُوۡتِلُوۡا لَا یَنۡصُرُوۡنَہُمۡ ۚ

’’اور اگر اُن سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے۔‘‘

وَ لَئِنۡ نَّصَرُوۡہُمۡ لَیُوَلُّنَّ الۡاَدۡبَارَ ۟ ثُمَّ لَا یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۱۲﴾

’’اور اگر انہوں نے کبھی اُن کی مدد کی بھی تو پیٹھ دکھا دیں گے ‘ پھران کی کہیں سے مدد نہیں ہو سکے گی۔‘‘

منافقین اپنے کردار و عمل سے ثابت کر چکے ہیں کہ وہ پست حوصلہ‘ بزدل اور جھوٹے لوگ ہیں۔ اگر ان میں جوانمردی اور غیرت و حمیت کی کوئی رمق ہوتی تو یہ دوغلا پن اختیار نہ کرتے‘بلکہ ایمان لانے کے بعد سچے مسلمانوں کا طرزِعمل اختیار کرتے کہ ؏ ’’ہرچہ بادا باد ماکشتی در آب انداختیم!‘‘ لہٰذا اپنے دعووں کے مطابق یہ کبھی بھی یہودیوں کا ساتھ نہیں دیں گے ‘اور اگر ان میں سے کوئی اِکا دُکاسرپھرے لوگ حق دوستی نبھانے کے جوش میں یہودیوں کے ساتھ کہیں کھڑے ہو بھی گئے تو مشکل وقت آنے پر وہ بھی میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔

آیت 13

لَاَنۡتُمۡ اَشَدُّ رَہۡبَۃً فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنَ اللّٰہِ ؕ

’’(اے مسلمانو!) یقینا تمہارا ڈر ان کے دلوں میں اللہ کی نسبت شدید تر ہے۔‘‘

حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ سے اتنا نہیں ڈرتے جتنا تم لوگوں سے ڈرتے ہیں۔

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۱۳﴾

’’یہ اس لیے ہے کہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں۔‘‘

یہ لوگ سمجھ بوجھ سے عاری ہیں۔ انسان کی اصل سمجھ اور عقل تو وہ ہے جو اسے اللہ سے متعارف کرائے اور ایمان کی راہ سجھائے۔ اسی طرح انسان کے لیے علم بھی وہی فائدہ مند ہے جو اسے اس حقیقت سے آگاہ کر دے کہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے اور دنیا کی زندگی بس کھیل اور تماشا ہے۔ چونکہ منافقین ایسی عقل سے بیگانہ اور ایسے علم سے نابلد ہیں اس لیے وہ اللہ سے ڈرنے کے بجائے انسانوں سے ڈرتے ہیں اور آخرت کی قیمت پر دنیا سنوارنے کی فکر میں مگن ہیں۔

14-15

یہودیوں کی ذلت و رسوائی

ویڈیو

لَا یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ جَمِیۡعًا اِلَّا فِیۡ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ اَوۡ مِنۡ وَّرَآءِ جُدُرٍ ؕ بَاۡسُہُمۡ بَیۡنَہُمۡ شَدِیۡدٌ ؕ تَحۡسَبُہُمۡ جَمِیۡعًا وَّ قُلُوۡبُہُمۡ شَتّٰی ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿ۚ۱۴﴾ کَمَثَلِ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ قَرِیۡبًا ذَاقُوۡا وَبَالَ اَمۡرِہِمۡ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿ۚ۱۵﴾

آیت 14

لَا یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ جَمِیۡعًا اِلَّا فِیۡ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ اَوۡ مِنۡ وَّرَآءِ جُدُرٍ ؕ

’’یہ کبھی اکٹھے ہو کر تمہارے خلاف جنگ نہیں کریں گے ‘سوائے اس کے کہ قلعہ بند بستیوں میں (رہ کر لڑیں) یا دیواروں کے پیچھے سے۔‘‘

بَاۡسُہُمۡ بَیۡنَہُمۡ شَدِیۡدٌ ؕ

’’ان کے آپس کے جھگڑے بہت سخت ہیں۔‘‘

ان کے باہمی جھگڑوں اور مخاصمت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بزدلی اور خود غرضی ان میں سے ہر ایک کے مزاج کا جزولاینفک بن چکی ہے۔ ظاہر ہے اگر یہ لوگ اللہ اور رسولﷺ سے مخلص نہیں ہیں تو آپس میں ایک دوسرے سے کیسے مخلص ہو سکتے ہیں۔

تَحۡسَبُہُمۡ جَمِیۡعًا وَّ قُلُوۡبُہُمۡ شَتّٰی ؕ

’’تم انہیں متحد گمان کرتے ہو ‘حالانکہ ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔‘‘

ہمارے موجودہ زمانے کے سیاسی اتحاد بھی بدقسمتی سے بالکل یہی نقشہ پیش کرتے ہیں ‘حتیٰ کہ ’’تحریک نظامِ مصطفیﷺ ‘‘کے نام پر بننے والے متحدہ محاذ کے راہنماؤں کے بھی باہمی اختلافات اس قدر شدید تھے کہ ان میں سے کئی علماء ایک دوسرے کی اقتدا میں نماز تک ادا کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿ۚ۱۴﴾

’’یہ اس لیے کہ یہ ایک ایسا گروہ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔‘‘

آیت 15

کَمَثَلِ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ قَرِیۡبًا ذَاقُوۡا وَبَالَ اَمۡرِہِمۡ ۚ

’’(ان کا وہی حال ہو گا) جیسے ان لوگوں کا معاملہ ہوا جو ان سے پہلے قریب ہی اپنے کیے کی سزا چکھ چکے ہیں۔‘‘

اس سے یہودی قبیلہ بنو قینقاع کے لوگ مراد ہیں جنہیں ۲ہجری میں غزوۂ بدر کے بعد مدینہ سے جلاوطن کیا گیا تھا‘جبکہ بنونضیر کی جلاوطنی ‘ جس کا ذکر ہم اس سورت میں پڑھ رہے ہیں ‘۴ ہجری کو عمل میں آئی۔ اسی طرح ۵ہجری میں غزوۂ احزاب کے بعد یہودِ مدینہ کا تیسرا اور آخری قبیلہ بنوقریظہ بھی اپنے انجام کو پہنچ گیا۔

وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿ۚ۱۵﴾

’’اور ان کے لیے بہت ہی دردناک عذاب ہے۔‘‘

16-17

منافقین کا طرزِ عمل شیطان کی طرح ہے

ویڈیو

کَمَثَلِ الشَّیۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اکۡفُرۡ ۚ فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ اِنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّنۡکَ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۶﴾ فَکَانَ عَاقِبَتَہُمَاۤ اَنَّہُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیۡنِ فِیۡہَا ؕ وَ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیۡنَ ﴿٪۱۷﴾

آیت 16

کَمَثَلِ الشَّیۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اکۡفُرۡ ۚ

’’ جیسے شیطان کی مثال‘ جب وہ انسان کو کہتا ہے کہ کفر کر!‘‘

فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ اِنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّنۡکَ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۶﴾

’’پھر جب وہ کفر کا ارتکاب کر لیتا ہے تو وہ (شیطان) کہتا ہے میں تم سے لاتعلق ہوں‘ میں تو ڈرتا ہوں اللہ سے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔‘‘

آیت 17

فَکَانَ عَاقِبَتَہُمَاۤ اَنَّہُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیۡنِ فِیۡہَا ؕ

’’تو ان دونوں کا انجام یہ ہے کہ وہ آگ میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔‘‘

وَ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیۡنَ ﴿٪۱۷﴾

’’اور یہی ہے بدلہ ظالموں کا۔‘‘

انسان اور شیطان کی اس ’’جوڑی‘‘ کا ذکر سورۂ ق میں ہم پڑھ چکے ہیں۔ کسی کافر‘ مشرک اور گنہگار کا جو قرین (ساتھی) شیطان ہو گا وہ اس کے بارے میں کہے گا : {وَ قَالَ قَرِیۡنُہٗ ہٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیۡدٌ ﴿ؕ۲۳﴾} ’’اور اس کا ساتھی کہے گا :(اے پروردگار!) یہ جو میری تحویل میں تھا‘ حاضر ہے!‘‘اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ملے گا: {اَلۡقِیَا فِیۡ جَہَنَّمَ کُلَّ کَفَّارٍ عَنِیۡدٍ ﴿ۙ۲۴﴾} ’’ جھونک دو جہنم میں ہر ناشکرے سرکش کو‘‘۔اس کے بعد کی دو آیات میں اس جہنمی کی مزید صفات بیان کی گئی ہیں۔ وہ شیطان پھر کہے گا: {رَبَّنَا مَاۤ اَطۡغَیۡتُہٗ وَ لٰکِنۡ کَانَ فِیۡ ضَلٰلٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿۲۷﴾} ’’ پروردگار! میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا ‘بلکہ یہ خود ہی بہت بڑی گمراہی میں مبتلا تھا‘‘۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : {قَالَ قَرِیۡنُہٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطۡغَیۡتُہٗ وَ لٰکِنۡ کَانَ فِیۡ ضَلٰلٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿۲۷﴾} ’’ اب میرے سامنے جھگڑو مت ‘جبکہ میں پہلے ہی تمہارے پاس وعید بھیج چکا ہوں۔میرے حضور میں بات تبدیل نہیں کی جاسکتی اور میں اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے