لَا تَجِدُ قَوۡمًا یُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ یُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ
’’تم نہیں پاؤ گے ان لوگوں کو جوحقیقتاً ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور یومِ آخرت پر کہ وہ محبت کرتے ہوں ان سے جو مخالفت کر رہے ہیں اللہ اور اُس کے رسولؐ کی‘‘
یہ حکم ان کفار و مشرکین کے لیے ہے جو اسلام کی مخالفت میں فعال (active) اور سرگرم عمل ہوں۔ جہاں تک ان کفار و مشرکین کا تعلق ہے جو ایسی کسی جدوجہد میں بالفعل فعال نہ ہوں ‘ان کے بارے میں حکم آگے سورۃ الممتحنہ میں آئے گا۔
وَ لَوۡ کَانُوۡۤا اٰبَآءَہُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَہُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَہُمۡ اَوۡ عَشِیۡرَتَہُمۡ ؕ
’’خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے ہوں یا ان کے بھائی ہوں یا ان کے رشتے دار ہوں۔‘‘
آیت کا یہ حصہ پڑھتے ہوئے سورۃ التوبہ کی آیت ۲۴ کا مضمون بھی ذہن میں تازہ کر لیں:
دوسرے مقام کی آیتقُلۡ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ وَ اِخۡوَانُکُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ وَ عَشِیۡرَتُکُمۡ وَ اَمۡوَالُۨ اقۡتَرَفۡتُمُوۡہَا وَ تِجَارَۃٌ تَخۡشَوۡنَ کَسَادَہَا وَ مَسٰکِنُ تَرۡضَوۡنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ جِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿٪۲۴﴾
’’ (اے نبی ﷺ !ان سے)کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ ‘تمہارے بیٹے‘تمہارے بھائی‘تمہاری بیویاں (اور بیویوں کے لیے شوہر)‘تمہارے رشتہ دار اور وہ مال جو تم نے بہت محنت سے کمائے ہیں ‘اور وہ تجارت جس کے مندے کا تمہیں خطرہ رہتا ہے ‘اور وہ مکانات جو تمہیں بہت پسند ہیں ‘( اگر یہ سب چیزیں) تمہیں محبوب تر ہیں اللہ‘اس کے رسول اور اس کے راستے میں جہاد سے ‘تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ سنا دے۔ اور اللہ ایسے فاسقوں کو راہ یاب نہیں کرتا۔‘‘
ان آیات کا پیغام بہت واضح ہے کہ اللہ اور اس کے رسولؐ سے ایک بندئہ مسلمان کی محبت کا اصل امتحان عشق رسولؐ کے زبانی دعوے اور نعتیہ اشعار میں زمین وآسمان کے قلابے ملانے سے نہیں‘ بلکہ جہاد فی سبیل اللہ کے حوالے سے ہو گا۔ اگر تو وہ اس آیت میں مذکور اپنی آٹھ محبتوں کو تج کر جہاد فی سبیل اللہ کے لیے کمربستہ ہے تو وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت میں سچا ہے‘ لیکن اگر وہ اس کے لیے عملاً تیار نہیں ہے تو اس کے زبانی دعووں کی کوئی حیثیت نہیں۔
اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الۡاِیۡمَانَ
’’یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے‘‘
دلوں کے اندر ایمان لکھ دینے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان پختہ کر دیا ہے۔ یعنی ایمان اب ان کے دلوں میں نقش کالحجر (پتھر پر لکیر ) کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
وَ اَیَّدَہُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡہُ ؕ
’’اور اُس نے ان کی مدد کی ہے اپنی طرف سے روح کے ساتھ‘‘
روح سے مراد یہاں فرشتہ بھی ہو سکتا ہے ‘ الہام بھی ہو سکتا ہے اور اللہ کا خصوصی فضل بھی ہو سکتا ہے۔ غرض اللہ کی طرف سے غیر مرئی انداز میں مدد کی کوئی صورت بھی ہو سکتی ہے۔
وَ یُدۡخِلُہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ
’’اور وہ داخل کرے گا انہیں ان باغات میں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی ‘ جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔‘‘
رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ
’’اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اُس سے راضی ہو گئے۔‘‘
اس کا ترجمہ ایسے بھی کیاجاسکتا ہے کہ ’’اللہ ان سے راضی ہو جائے گا اور وہ اس سے راضی ہو جائیں گے۔‘‘
اُولٰٓئِکَ حِزۡبُ اللّٰہِ ؕ
’’یہ لوگ ہیں اللہ کی جماعت!‘‘
اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿٪۲۲﴾
’’آگاہ ہو جاؤ !یقینا اللہ کی جماعت کے لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘
سورۃ المائدۃ میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے : {فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴿٪۵۶﴾} کہ یقینا اللہ کی جماعت کے لوگ ہی غالب رہنے والے ہیں۔ اگرحزب اللہ کی جدوجہد کے نتیجے میں اللہ کا دین دنیا میں غالب ہو جاتا ہے تو یہ یقینا ایک بہت بڑی کامیابی ہے ۔لیکن اصل اور حقیقی کامیابی تو آخرت کی کامیابی ہے‘ جس کی بشارت ’’حزب اللہ‘‘ والوں کو اس آیت میں دی جا رہی ہے۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ! اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ! اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ! آمین یارَبَّ الْعَالمین!
٭٭٭