تحریر

المجادلة

آیات ۲۰ تا ۲۲

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

20-21

اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) ہی غالب ہوں گے

ویڈیو

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُحَآدُّوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗۤ اُولٰٓئِکَ فِی الۡاَذَلِّیۡنَ ﴿۲۰﴾ کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیۡزٌ ﴿۲۱﴾

آیت 20

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُحَآدُّوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗۤ اُولٰٓئِکَ فِی الۡاَذَلِّیۡنَ ﴿۲۰﴾

’’یقینا جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کی مخالفت پر تلے بیٹھے ہیں ‘وہی ذلیل ترین لوگوں میں سے ہوں گے۔‘‘

ذلت کے ذکر کے لیے اَذَلِّیْن (ذلیل ترین)یہاں ’’تفضیل کل‘‘ (superlative degree) کے طور پر آیا ہے۔ سورۃ النساء کی اس آیت میں بھی منافقین کے لیے بالکل یہی اسلوب اختیار فرمایاگیا ہے: {اِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ فِی الدَّرۡکِ الۡاَسۡفَلِ مِنَ النَّارِ ۚ وَ لَنۡ تَجِدَ لَہُمۡ نَصِیۡرًا ﴿ۙ۱۴۵﴾} ’’ یقینا منافقین آگ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے ‘اور تم نہ پاؤ گے ان کے لیے کوئی مدد گار۔‘‘

آیت 21

کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیۡ ؕ

’’اللہ نے لکھ دیا ہے کہ یقینا میں غالب رہوں گا اور میرے رسول۔‘‘

میں اور میرے رسول لازماً غالب ہو کر رہیں گے۔ یہ مضمون اس سے پہلے سورۃ الصافات کی ان آیات میں بھی آ چکا ہے : {وَ لَقَدۡ سَبَقَتۡ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿ۚۖ۱۷۱﴾اِنَّہُمۡ لَہُمُ الۡمَنۡصُوۡرُوۡنَ ﴿۪۱۷۲﴾وَ اِنَّ جُنۡدَنَا لَہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴿۱۷۳﴾} ’’اور ہماری یہ بات پہلے سے طے شدہ ہے اپنے ان بندوں کے لیے جن کو ہم (رسول بنا کر) بھیجتے رہے ہیں ‘کہ ان کی لازماًمدد کی جائے گی ‘اور یقینا ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔‘‘

اس بارے میں قبل ازیں بھی متعدد بار ذکر ہو چکا ہے کہ اہم مضامین قرآن حکیم میں کم از کم دو مرتبہ ضرور آتے ہیں۔ یہ مضمون بھی اسی اصول کے تحت سورۃ الصَّافَّات کے بعد یہاں پھر آیا ہے۔

اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیۡزٌ ﴿۲۱﴾

’’بے شک اللہ زبردست ہے ‘زور آور ہے۔‘‘

حزب الشیطان کے ذکر کے بعد فوری تقابل (simultaneous contrast) کے طور پر اب اگلی آیت میں حزب اللہ کا ذکر ہے۔ یہ آیت حزب اللہ کی رکنیت کے معیار کے حوالے سے litmus test بھی ہے۔ اس ٹیسٹ کا تعلق انسان کے قلبی تعلقات اور قریبی رشتوں سے ہے۔ اگر کسی مسلمان کا کوئی رشتہ دار‘ چاہے وہ اس کا باپ‘ بیٹا یا بھائی ہی کیوں نہ ہو‘ کافر و مشرک ہے اور وہ اسلام کی مخالفت میں باقاعدہ سرگرمِ عمل ہے‘ تو اس مسلمان کے لیے لازم ہے کہ اس کے ایمان کی تلوار اس دشمنِ خدا کے ساتھ موجود اپنے رشتے کو کاٹ پھینکے۔ لیکن اگر کوئی مسلمان ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا اور کسی ایسے فرد کے ساتھ اس کے قلبی تعلق کا پیوند بدستور استوار رہا جو اللہ اور اس کے رسولؐ کی مخالفت میں سرگرم عمل ہے تو ایسا مسلمان حزب اللہ سے خارج سمجھا جائے گا۔

22

حزب اللہ کا کردار

ویڈیو

لَا تَجِدُ قَوۡمًا یُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ یُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَوۡ کَانُوۡۤا اٰبَآءَہُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَہُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَہُمۡ اَوۡ عَشِیۡرَتَہُمۡ ؕ اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الۡاِیۡمَانَ وَ اَیَّدَہُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡہُ ؕ وَ یُدۡخِلُہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ اُولٰٓئِکَ حِزۡبُ اللّٰہِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿٪۲۲﴾

آیت 22

لَا تَجِدُ قَوۡمًا یُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ یُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ

’’تم نہیں پاؤ گے ان لوگوں کو جوحقیقتاً ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور یومِ آخرت پر کہ وہ محبت کرتے ہوں ان سے جو مخالفت کر رہے ہیں اللہ اور اُس کے رسولؐ کی‘‘

یہ حکم ان کفار و مشرکین کے لیے ہے جو اسلام کی مخالفت میں فعال (active) اور سرگرم عمل ہوں۔ جہاں تک ان کفار و مشرکین کا تعلق ہے جو ایسی کسی جدوجہد میں بالفعل فعال نہ ہوں ‘ان کے بارے میں حکم آگے سورۃ الممتحنہ میں آئے گا۔

وَ لَوۡ کَانُوۡۤا اٰبَآءَہُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَہُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَہُمۡ اَوۡ عَشِیۡرَتَہُمۡ ؕ

’’خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے ہوں یا ان کے بھائی ہوں یا ان کے رشتے دار ہوں۔‘‘

آیت کا یہ حصہ پڑھتے ہوئے سورۃ التوبہ کی آیت ۲۴ کا مضمون بھی ذہن میں تازہ کر لیں:

دوسرے مقام کی آیت

قُلۡ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ وَ اِخۡوَانُکُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ وَ عَشِیۡرَتُکُمۡ وَ اَمۡوَالُۨ اقۡتَرَفۡتُمُوۡہَا وَ تِجَارَۃٌ تَخۡشَوۡنَ کَسَادَہَا وَ مَسٰکِنُ تَرۡضَوۡنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ جِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿٪۲۴﴾

’’ (اے نبی ﷺ !ان سے)کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ ‘تمہارے بیٹے‘تمہارے بھائی‘تمہاری بیویاں (اور بیویوں کے لیے شوہر)‘تمہارے رشتہ دار اور وہ مال جو تم نے بہت محنت سے کمائے ہیں ‘اور وہ تجارت جس کے مندے کا تمہیں خطرہ رہتا ہے ‘اور وہ مکانات جو تمہیں بہت پسند ہیں ‘( اگر یہ سب چیزیں) تمہیں محبوب تر ہیں اللہ‘اس کے رسول اور اس کے راستے میں جہاد سے ‘تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ سنا دے۔ اور اللہ ایسے فاسقوں کو راہ یاب نہیں کرتا۔‘‘

ان آیات کا پیغام بہت واضح ہے کہ اللہ اور اس کے رسولؐ سے ایک بندئہ مسلمان کی محبت کا اصل امتحان عشق رسولؐ کے زبانی دعوے اور نعتیہ اشعار میں زمین وآسمان کے قلابے ملانے سے نہیں‘ بلکہ جہاد فی سبیل اللہ کے حوالے سے ہو گا۔ اگر تو وہ اس آیت میں مذکور اپنی آٹھ محبتوں کو تج کر جہاد فی سبیل اللہ کے لیے کمربستہ ہے تو وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت میں سچا ہے‘ لیکن اگر وہ اس کے لیے عملاً تیار نہیں ہے تو اس کے زبانی دعووں کی کوئی حیثیت نہیں۔

اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الۡاِیۡمَانَ

’’یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے‘‘

دلوں کے اندر ایمان لکھ دینے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان پختہ کر دیا ہے۔ یعنی ایمان اب ان کے دلوں میں نقش کالحجر (پتھر پر لکیر ) کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

وَ اَیَّدَہُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡہُ ؕ

’’اور اُس نے ان کی مدد کی ہے اپنی طرف سے روح کے ساتھ‘‘

روح سے مراد یہاں فرشتہ بھی ہو سکتا ہے ‘ الہام بھی ہو سکتا ہے اور اللہ کا خصوصی فضل بھی ہو سکتا ہے۔ غرض اللہ کی طرف سے غیر مرئی انداز میں مدد کی کوئی صورت بھی ہو سکتی ہے۔

وَ یُدۡخِلُہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ

’’اور وہ داخل کرے گا انہیں ان باغات میں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی ‘ جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔‘‘

رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ

’’اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اُس سے راضی ہو گئے۔‘‘

اس کا ترجمہ ایسے بھی کیاجاسکتا ہے کہ ’’اللہ ان سے راضی ہو جائے گا اور وہ اس سے راضی ہو جائیں گے۔‘‘

اُولٰٓئِکَ حِزۡبُ اللّٰہِ ؕ

’’یہ لوگ ہیں اللہ کی جماعت!‘‘

اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿٪۲۲﴾

’’آگاہ ہو جاؤ !یقینا اللہ کی جماعت کے لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘

سورۃ المائدۃ میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے : {فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴿٪۵۶﴾} کہ یقینا اللہ کی جماعت کے لوگ ہی غالب رہنے والے ہیں۔ اگرحزب اللہ کی جدوجہد کے نتیجے میں اللہ کا دین دنیا میں غالب ہو جاتا ہے تو یہ یقینا ایک بہت بڑی کامیابی ہے ۔لیکن اصل اور حقیقی کامیابی تو آخرت کی کامیابی ہے‘ جس کی بشارت ’’حزب اللہ‘‘ والوں کو اس آیت میں دی جا رہی ہے۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ! اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ! اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ! آمین یارَبَّ الْعَالمین!

یوٹیوب پر دیکھیے