اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ
’’کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ جانتا ہے اس سب کچھ کے بارے میں جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے؟‘‘
مَا یَکُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰی ثَلٰثَۃٍ اِلَّا ہُوَ رَابِعُہُمۡ
’’نہیں ہوتے کبھی بھی تین آدمی سرگوشیاں کرتے ہوئے مگر ان کا چوتھا وہ (اللہ) ہوتا ہے‘‘
وَ لَا خَمۡسَۃٍ اِلَّا ہُوَ سَادِسُہُمۡ
’’اور نہیں (سرگوشی کر رہے) ہوتے کوئی پانچ افراد مگر ان کاچھٹا وہ (اللہ) ہوتا ہے‘‘
خفیہ انداز میں سرگوشیاں کرنے کو’’ نجویٰ ‘‘کہا جاتا ہے۔ اس حوالے سے یہاں پر ضمنی طور پر یہ بھی سمجھ لیں کہ کسی تنظیم یا جماعت کے اندر نجویٰ کا رجحان یا رواج گروہ بندیوں اور فتنوں کا باعث بنتا ہے۔ کسی بھی اجتماعیت کے افراد میں باہم اختلافِ رائے کا پایا جانا تو بالکل ایک فطری تقاضا ہے‘جہاں اجتماعیت ہو گی وہاں لوگ ایک دوسرے کی آراء سے اختلاف بھی کریں گے۔ لیکن ایسے اختلافات کا اظہار اجتماعیت کے قواعد و ضوابط کے مطابق متعلقہ فورم پر کیا جانا چاہیے۔ اس کے برعکس عام طو رپر یوں ہوتا ہے کہ تخریبی ذہنیت کے حامل کچھ ارکان اپنے اپنے اختلاف کا اظہار نجویٰ کی صورت میں دوسرے ساتھیوں سے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ بات آگے بڑھتی ہے تو چند افراد پر مشتمل ایک مخصوص لابی بن جاتی ہے اور یوں تنظیم یاجماعت کے اندر باقاعدہ گروہ بندی کی بنیاد رکھ دی جاتی ہے۔اگر اختلافات کا اظہار مناسب فورم پر ہو تو کھلی اور تعمیری بحث کا نتیجہ ہمیشہ مثبت رہتا ہے۔ اس سے غلط فہمیاں ختم ہو جاتی ہیں‘ ابہام دور ہو جاتا ہے اور اصل حقیقت واضح ہو کر سامنے آجاتی ہے۔بہرحال نجویٰ (سرگوشیوں) کی حیثیت اجتماعیت کے لیے سمِ قاتل کی سی ہے اور اگر یہ زہر کسی جماعت کی صفوں میں سرایت کر جائے تو اس کا اِتحاد پارہ پارہ ہو کر رہ جاتا ہے۔
وَ لَاۤ اَدۡنٰی مِنۡ ذٰلِکَ وَ لَاۤ اَکۡثَرَ اِلَّا ہُوَ مَعَہُمۡ اَیۡنَ مَا کَانُوۡا ۚ
’’اور نہیں ہوتے وہ ا س سے کم (یعنی دو افراد سرگوشی میں مصروف) اور نہ اس سے زیادہ مگر یہ کہ وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔‘‘
سورۃ الحدید کی آیت ۴ میں یہی مضمون ان الفاظ میں بیان ہوا ہے : {وَ ہُوَ مَعَکُمۡ اَیۡنَ مَا کُنۡتُمۡ ؕ } ’’اور تم جہاں کہیں بھی ہوتے ہو وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے۔‘‘
ثُمَّ یُنَبِّئُہُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۷﴾
’’پھر وہ ان کو جتلا دے گا قیامت کے دن جو کچھ بھی انہوں نے عمل کیا تھا ‘یقینا اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔‘‘
اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ نُہُوۡا عَنِ النَّجۡوٰی ثُمَّ یَعُوۡدُوۡنَ لِمَا نُہُوۡا عَنۡہُ
’’کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنہیں منع کیا گیا تھا نجویٰ سے‘ پھر وہ اعادہ کر رہے ہیں اُسی شے کا جس سے انہیں منع کیا گیا تھا‘‘
یہ مدینہ کے منافقین کا ذکر ہے جو یہودیوں کے ساتھ مل کر ہر وقت مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا جال بننے کی کوششوں میں مصروف رہتے تھے۔ یہاں الَّذِیْنَ نُہُوْا عَنِ النَّجْوٰی کے الفاظ میں سورۃ النساء کی آیت۱۱۴ کے اس حکم کی طرف اشارہ ہے : {لَا خَیۡرَ فِیۡ کَثِیۡرٍ مِّنۡ نَّجۡوٰىہُمۡ} کہ ان لوگوں کی اکثر سرگوشیوں میں خیر کی کوئی بات نہیں ہوتی۔ آیت زیر مطالعہ میں سورۃ النساء کی آیت کے حوالے سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سورۃ المجادلہ ‘سورۃ النساء کے بعد نازل ہوئی ۔
وَ یَتَنٰجَوۡنَ بِالۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ وَ مَعۡصِیَتِ الرَّسُوۡلِ ۫
’’اور وہ سرگوشیاں کرتے ہیں گناہ‘ زیادتی اور رسولؐ کی نافرمانی سے متعلق۔‘‘
قبل ازیں سورۃ النساء کے مطالعے کے دوران بھی ذکر ہو چکا ہے کہ حضورﷺ کی ذاتی اطاعت کا حکم منافقین کو بہت برا لگتا تھا۔ اس حوالے سے ان کا موقف یہ تھا کہ ہم اللہ کی اطاعت بھی کرتے ہیں‘ اللہ کی کتاب کے تمام احکام بھی تسلیم کرنے کو تیار ہیں ‘لیکن اپنے جیسے ایک انسان کی تمام باتوں کومن وعن تسلیم کرنے کو ہم ضروری نہیں سمجھتے۔ اسی سوچ اور اسی موقف کے تحت وہ لوگ حضورﷺ کے فیصلوں پر گاہے بگاہے اعتراضات بھی کرتے رہتے تھے۔ ان کے ایسے ہی ایک اعتراض کا ذکر سورۂ محمد کی آیت ۲۰ میں بھی آیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے قتال کا کوئی حکم نازل نہیں ہوا تو قریش کے ساتھ خواہ مخواہ چھیڑ چھاڑ شروع کر کے حالات کیوں خراب کیے جا رہے ہیں؟
وَ اِذَا جَآءُوۡکَ حَیَّوۡکَ بِمَا لَمۡ یُحَیِّکَ بِہِ اللّٰہُ ۙ
’’اور جب وہ آپؐ کے پاس آتے ہیں تو آپؐ کو اُس (کلمہ) سے دعا دیتے ہیں جس سے اللہ نے آپؐ کو دعا نہیں دی‘‘
’’تَحِیَّۃ‘‘ کے لغوی معنی کسی کو زندگی کی دعا دینے کے ہیں۔ عربوں کے ہاں رواج تھا کہ وہ ایک دوسرے سے ملتے وقت ’’حَیَّاکَ اللّٰہُ‘‘ کے جملے کا تبادلہ کرتے تھے۔ اس کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اچھی زندگی دے‘ یا اللہ تعالیٰ تمہاری زندگی دراز کرے۔ عرفِ عام میں اس دعا کو ’’تحیہ‘‘ کہا جاتا تھا۔اسلام نے دو مسلمانوں کی ملاقات کے موقع کے لیے دعائیہ کلمہ (greetings) کے طور پر السَّلام علیکم کے الفاظ کا انتخاب کیا‘ لیکن تحیہ کا لفظ عربوں کے ہاں چونکہ بہت معروف تھا اس لیے ’’السَّلام علیکم‘‘ کو بھی اصطلاحاً ’’تحیہ ‘‘ ہی کہا جانے لگا۔ سورۃ النساء کی آیت ۸۶ میں یہ لفظ ’’السَّلام علیکم‘‘ ہی کے مفہوم میں آیا ہے۔ آیت زیر مطالعہ میں منافقین کی اس شرارت کا ذکر ہے جو وہ اس کلمہ تحیہ کے حوالے سے کرتے تھے۔ جب وہ حضورﷺ کے پاس حاضر ہوتے تو السَّلَام علَیکم کہنے کے بجائے ’’السّام علیکم‘‘ کہتے۔ ’’سام‘‘ کے معنی موت کے ہیں اور اس طرح اپنی طرف سے وہ لوگ حضورﷺ اور آپؐ کی محفل میں موجود مسلمانوں کے لیے اس دعائیہ کلمہ کو (معاذ اللہ!) بددعا میں بدل دیتے تھے۔
وَ یَقُوۡلُوۡنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ لَوۡ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰہُ بِمَا نَقُوۡلُ ؕ
’’اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ہمارے اس طرح کہنے پر؟‘‘
ایسی حرکت کرنے کے بعد وہ سوچتے کہ اگر محمد (ﷺ)اللہ کے رسول ہوتے تو اللہ ان کی یہ توہین کبھی برداشت نہ کرتا اور اس گستاخی پر وہ فوراً ہماری زبانیں کھینچ لیتا ۔چنانچہ ہمارے بار بار ایسا کہنے پر بھی اگرہمیں کچھ نہیں ہوتا تو اس کا مطلب یہی ہے کہ یہ اللہ کے رسول نہیں ہیں۔ یہ مرضِ منافقت کی وہ سٹیج ہے جس کا ذکر سورۃ الحدید کی آیت ۱۴ میں آچکا ہے۔ اس سٹیج پر منافق شخص کے بچے کھچے ایمان میں شکوک و شبہات کے کانٹے چبھنے لگتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ایمان کی تھوڑی بہت پونجی بھی برف کی طرح پگھلنے اور ضائع ہونے لگتی ہے۔
حَسۡبُہُمۡ جَہَنَّمُ ۚ یَصۡلَوۡنَہَا ۚ فَبِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۸﴾
’’ان کے لیے تواب جہنم ہی کافی ہے‘ یہ اس میں داخل ہوں گے ‘پس وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔‘‘