تحریر

المجادلة

آیات ۷ تا ۱۹

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

7-8

مخفی حزب الشیطان کی گھٹیا حرکتیں

ویڈیو

اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ مَا یَکُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰی ثَلٰثَۃٍ اِلَّا ہُوَ رَابِعُہُمۡ وَ لَا خَمۡسَۃٍ اِلَّا ہُوَ سَادِسُہُمۡ وَ لَاۤ اَدۡنٰی مِنۡ ذٰلِکَ وَ لَاۤ اَکۡثَرَ اِلَّا ہُوَ مَعَہُمۡ اَیۡنَ مَا کَانُوۡا ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُہُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۷﴾ اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ نُہُوۡا عَنِ النَّجۡوٰی ثُمَّ یَعُوۡدُوۡنَ لِمَا نُہُوۡا عَنۡہُ وَ یَتَنٰجَوۡنَ بِالۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ وَ مَعۡصِیَتِ الرَّسُوۡلِ ۫ وَ اِذَا جَآءُوۡکَ حَیَّوۡکَ بِمَا لَمۡ یُحَیِّکَ بِہِ اللّٰہُ ۙ وَ یَقُوۡلُوۡنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ لَوۡ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰہُ بِمَا نَقُوۡلُ ؕ حَسۡبُہُمۡ جَہَنَّمُ ۚ یَصۡلَوۡنَہَا ۚ فَبِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۸﴾

آیت 7

اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ

’’کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ جانتا ہے اس سب کچھ کے بارے میں جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے؟‘‘

مَا یَکُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰی ثَلٰثَۃٍ اِلَّا ہُوَ رَابِعُہُمۡ

’’نہیں ہوتے کبھی بھی تین آدمی سرگوشیاں کرتے ہوئے مگر ان کا چوتھا وہ (اللہ) ہوتا ہے‘‘

وَ لَا خَمۡسَۃٍ اِلَّا ہُوَ سَادِسُہُمۡ

’’اور نہیں (سرگوشی کر رہے) ہوتے کوئی پانچ افراد مگر ان کاچھٹا وہ (اللہ) ہوتا ہے‘‘

خفیہ انداز میں سرگوشیاں کرنے کو’’ نجویٰ ‘‘کہا جاتا ہے۔ اس حوالے سے یہاں پر ضمنی طور پر یہ بھی سمجھ لیں کہ کسی تنظیم یا جماعت کے اندر نجویٰ کا رجحان یا رواج گروہ بندیوں اور فتنوں کا باعث بنتا ہے۔ کسی بھی اجتماعیت کے افراد میں باہم اختلافِ رائے کا پایا جانا تو بالکل ایک فطری تقاضا ہے‘جہاں اجتماعیت ہو گی وہاں لوگ ایک دوسرے کی آراء سے اختلاف بھی کریں گے۔ لیکن ایسے اختلافات کا اظہار اجتماعیت کے قواعد و ضوابط کے مطابق متعلقہ فورم پر کیا جانا چاہیے۔ اس کے برعکس عام طو رپر یوں ہوتا ہے کہ تخریبی ذہنیت کے حامل کچھ ارکان اپنے اپنے اختلاف کا اظہار نجویٰ کی صورت میں دوسرے ساتھیوں سے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ بات آگے بڑھتی ہے تو چند افراد پر مشتمل ایک مخصوص لابی بن جاتی ہے اور یوں تنظیم یاجماعت کے اندر باقاعدہ گروہ بندی کی بنیاد رکھ دی جاتی ہے۔اگر اختلافات کا اظہار مناسب فورم پر ہو تو کھلی اور تعمیری بحث کا نتیجہ ہمیشہ مثبت رہتا ہے۔ اس سے غلط فہمیاں ختم ہو جاتی ہیں‘ ابہام دور ہو جاتا ہے اور اصل حقیقت واضح ہو کر سامنے آجاتی ہے۔بہرحال نجویٰ (سرگوشیوں) کی حیثیت اجتماعیت کے لیے سمِ قاتل کی سی ہے اور اگر یہ زہر کسی جماعت کی صفوں میں سرایت کر جائے تو اس کا اِتحاد پارہ پارہ ہو کر رہ جاتا ہے۔

وَ لَاۤ اَدۡنٰی مِنۡ ذٰلِکَ وَ لَاۤ اَکۡثَرَ اِلَّا ہُوَ مَعَہُمۡ اَیۡنَ مَا کَانُوۡا ۚ

’’اور نہیں ہوتے وہ ا س سے کم (یعنی دو افراد سرگوشی میں مصروف) اور نہ اس سے زیادہ مگر یہ کہ وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔‘‘

سورۃ الحدید کی آیت ۴ میں یہی مضمون ان الفاظ میں بیان ہوا ہے : {وَ ہُوَ مَعَکُمۡ اَیۡنَ مَا کُنۡتُمۡ ؕ } ’’اور تم جہاں کہیں بھی ہوتے ہو وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے۔‘‘

ثُمَّ یُنَبِّئُہُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۷﴾

’’پھر وہ ان کو جتلا دے گا قیامت کے دن جو کچھ بھی انہوں نے عمل کیا تھا ‘یقینا اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔‘‘

آیت 8

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ نُہُوۡا عَنِ النَّجۡوٰی ثُمَّ یَعُوۡدُوۡنَ لِمَا نُہُوۡا عَنۡہُ

’’کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنہیں منع کیا گیا تھا نجویٰ سے‘ پھر وہ اعادہ کر رہے ہیں اُسی شے کا جس سے انہیں منع کیا گیا تھا‘‘

یہ مدینہ کے منافقین کا ذکر ہے جو یہودیوں کے ساتھ مل کر ہر وقت مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا جال بننے کی کوششوں میں مصروف رہتے تھے۔ یہاں الَّذِیْنَ نُہُوْا عَنِ النَّجْوٰی کے الفاظ میں سورۃ النساء کی آیت۱۱۴ کے اس حکم کی طرف اشارہ ہے : {لَا خَیۡرَ فِیۡ کَثِیۡرٍ مِّنۡ نَّجۡوٰىہُمۡ} کہ ان لوگوں کی اکثر سرگوشیوں میں خیر کی کوئی بات نہیں ہوتی۔ آیت زیر مطالعہ میں سورۃ النساء کی آیت کے حوالے سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سورۃ المجادلہ ‘سورۃ النساء کے بعد نازل ہوئی ۔

وَ یَتَنٰجَوۡنَ بِالۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ وَ مَعۡصِیَتِ الرَّسُوۡلِ ۫

’’اور وہ سرگوشیاں کرتے ہیں گناہ‘ زیادتی اور رسولؐ کی نافرمانی سے متعلق۔‘‘

قبل ازیں سورۃ النساء کے مطالعے کے دوران بھی ذکر ہو چکا ہے کہ حضورﷺ کی ذاتی اطاعت کا حکم منافقین کو بہت برا لگتا تھا۔ اس حوالے سے ان کا موقف یہ تھا کہ ہم اللہ کی اطاعت بھی کرتے ہیں‘ اللہ کی کتاب کے تمام احکام بھی تسلیم کرنے کو تیار ہیں ‘لیکن اپنے جیسے ایک انسان کی تمام باتوں کومن وعن تسلیم کرنے کو ہم ضروری نہیں سمجھتے۔ اسی سوچ اور اسی موقف کے تحت وہ لوگ حضورﷺ کے فیصلوں پر گاہے بگاہے اعتراضات بھی کرتے رہتے تھے۔ ان کے ایسے ہی ایک اعتراض کا ذکر سورۂ محمد کی آیت ۲۰ میں بھی آیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے قتال کا کوئی حکم نازل نہیں ہوا تو قریش کے ساتھ خواہ مخواہ چھیڑ چھاڑ شروع کر کے حالات کیوں خراب کیے جا رہے ہیں؟

وَ اِذَا جَآءُوۡکَ حَیَّوۡکَ بِمَا لَمۡ یُحَیِّکَ بِہِ اللّٰہُ ۙ

’’اور جب وہ آپؐ کے پاس آتے ہیں تو آپؐ کو اُس (کلمہ) سے دعا دیتے ہیں جس سے اللہ نے آپؐ کو دعا نہیں دی‘‘

’’تَحِیَّۃ‘‘ کے لغوی معنی کسی کو زندگی کی دعا دینے کے ہیں۔ عربوں کے ہاں رواج تھا کہ وہ ایک دوسرے سے ملتے وقت ’’حَیَّاکَ اللّٰہُ‘‘ کے جملے کا تبادلہ کرتے تھے۔ اس کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اچھی زندگی دے‘ یا اللہ تعالیٰ تمہاری زندگی دراز کرے۔ عرفِ عام میں اس دعا کو ’’تحیہ‘‘ کہا جاتا تھا۔اسلام نے دو مسلمانوں کی ملاقات کے موقع کے لیے دعائیہ کلمہ (greetings) کے طور پر السَّلام علیکم کے الفاظ کا انتخاب کیا‘ لیکن تحیہ کا لفظ عربوں کے ہاں چونکہ بہت معروف تھا اس لیے ’’السَّلام علیکم‘‘ کو بھی اصطلاحاً ’’تحیہ ‘‘ ہی کہا جانے لگا۔ سورۃ النساء کی آیت ۸۶ میں یہ لفظ ’’السَّلام علیکم‘‘ ہی کے مفہوم میں آیا ہے۔ آیت زیر مطالعہ میں منافقین کی اس شرارت کا ذکر ہے جو وہ اس کلمہ تحیہ کے حوالے سے کرتے تھے۔ جب وہ حضورﷺ کے پاس حاضر ہوتے تو السَّلَام علَیکم کہنے کے بجائے ’’السّام علیکم‘‘ کہتے۔ ’’سام‘‘ کے معنی موت کے ہیں اور اس طرح اپنی طرف سے وہ لوگ حضورﷺ اور آپؐ کی محفل میں موجود مسلمانوں کے لیے اس دعائیہ کلمہ کو (معاذ اللہ!) بددعا میں بدل دیتے تھے۔

وَ یَقُوۡلُوۡنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ لَوۡ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰہُ بِمَا نَقُوۡلُ ؕ

’’اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ہمارے اس طرح کہنے پر؟‘‘

ایسی حرکت کرنے کے بعد وہ سوچتے کہ اگر محمد (ﷺ)اللہ کے رسول ہوتے تو اللہ ان کی یہ توہین کبھی برداشت نہ کرتا اور اس گستاخی پر وہ فوراً ہماری زبانیں کھینچ لیتا ۔چنانچہ ہمارے بار بار ایسا کہنے پر بھی اگرہمیں کچھ نہیں ہوتا تو اس کا مطلب یہی ہے کہ یہ اللہ کے رسول نہیں ہیں۔ یہ مرضِ منافقت کی وہ سٹیج ہے جس کا ذکر سورۃ الحدید کی آیت ۱۴ میں آچکا ہے۔ اس سٹیج پر منافق شخص کے بچے کھچے ایمان میں شکوک و شبہات کے کانٹے چبھنے لگتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ایمان کی تھوڑی بہت پونجی بھی برف کی طرح پگھلنے اور ضائع ہونے لگتی ہے۔

حَسۡبُہُمۡ جَہَنَّمُ ۚ یَصۡلَوۡنَہَا ۚ فَبِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۸﴾

’’ان کے لیے تواب جہنم ہی کافی ہے‘ یہ اس میں داخل ہوں گے ‘پس وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔‘‘

9-10

اچھے اور برے نجویٰ کا فرق

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا تَنَاجَیۡتُمۡ فَلَا تَتَنَاجَوۡا بِالۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ وَ مَعۡصِیَتِ الرَّسُوۡلِ وَ تَنَاجَوۡا بِالۡبِرِّ وَ التَّقۡوٰی ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡۤ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۹﴾ اِنَّمَا النَّجۡوٰی مِنَ الشَّیۡطٰنِ لِیَحۡزُنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَیۡسَ بِضَآرِّہِمۡ شَیۡئًا اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۰﴾

آیت 9

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا تَنَاجَیۡتُمۡ

’’اے اہل ایمان !اگر تمہیں کوئی سرگوشی کرنی ہو‘‘

فَلَا تَتَنَاجَوۡا بِالۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ وَ مَعۡصِیَتِ الرَّسُوۡلِ

’’تو گناہ‘ زیادتی اور رسولؐ کی نافرمانی کی باتوں سے متعلق ہرگز سرگوشی نہ کرو‘‘

اگر تم میں سے چند لوگوں کا علیحدہ بیٹھ کر کوئی گفتگو یا منصوبہ بندی کرنا ناگزیر ہو تو یاد رکھو‘ تمہاری اس خفیہ بات چیت یا سرگوشی کا موضوع ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے جس سے گناہ‘ کسی پرزیادتی یا اللہ کے رسولﷺ کی نافرمانی کا کوئی پہلونکلتاہو۔

وَ تَنَاجَوۡا بِالۡبِرِّ وَ التَّقۡوٰی ؕ

’’ہاں تم نیکی اور تقویٰ کے بارے میں سرگوشی کر سکتے ہو ۔‘‘

کسی کو علیحدگی میں لے جا کر کوئی اچھا مشورہ دینا ہو‘ نیکی کے کسی کام کا بتانا ہو ‘یا صدقہ و خیرات کی تلقین کرنی ہو تو ایسی سرگوشیوں میں کوئی مضائقہ نہیں۔

وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡۤ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۹﴾

’’اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کی طرف تمہیں جمع کیا جائے گا۔‘‘

آیت 10

اِنَّمَا النَّجۡوٰی مِنَ الشَّیۡطٰنِ

’’یہ نجویٰ تو شیطان کی طرف سے ہے‘‘

منفی سرگوشیاں کرنا ایک شیطانی عمل ہے۔ جو لوگ اس میں ملوث ہوتے ہیں انہیں اس کی تحریک و ترغیب شیطان ہی کی طرف سے ملتی ہے۔

لِیَحۡزُنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا

’’تاکہ وہ اہل ایمان کو رنجیدہ کرے‘‘

ان لوگوں کی سرگوشیوں اورخفیہ ملاقاتوں کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ اہل ایمان کو نقصان پہنچا کر انہیں رنجیدہ ‘ دل گرفتہ اور پریشان کریں۔ آیت کے ان الفاظ سے یہ مفہوم بھی متبادر ہوتا ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کی محفل سے الگ جا کر کھسر پھسر اور سرگوشیاں اس لیے کرتے ہیں کہ ان کے اس عمل کو دیکھ کر مسلمان پریشان ہوں کہ یہ لوگ الگ بیٹھ کر ان کے خلاف نہ جانے کیا سازشیں کر رہے ہیں۔گویا یہ لوگ ایک نفسیاتی حربے کے طور پر بھی نجویٰ کرتے تھے۔ ظاہر ہے جب بھری محفل سے تین چار لوگ الگ جا کر بیٹھ جائیں اور کھسر پھسر کرنا شروع کر دیں تو اہل محفل کو فطری طور پر تجسس تو ہو گا کہ ہو نہ ہو یہ لوگ ضرور انہی کے خلاف باتیں کر رہے ہیں۔

وَ لَیۡسَ بِضَآرِّہِمۡ شَیۡئًا اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ

’’حالانکہ یہ (شیطان) انہیں کچھ بھی ضرر پہنچانے پر قادر نہیں مگر اللہ کے اذن سے۔‘‘

شیطان اپنے ارادے اور اختیار سے اہل ایمان کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتا۔البتہ اگر اللہ کی طرف سے کسی کے لیے کوئی تکلیف یا آزمائش طے ہے تو وہ ضرور آئے گی ‘اسے کوئی نہیں روک سکتا ۔

وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۰﴾

’’اور اہل ایمان کوصرف اللہ پر توکل کرنا چاہیے ۔‘‘

اہل ایمان کو بھروسہ رکھنا چاہیے کہ اللہ ان کے ساتھ ہے اور شیطانی حربوںیا دشمنوں کی سازشوں سے ان کا کچھ نہیں بگڑ سکتا۔ اسی بھروسے کے ساتھ انہیں ہر وقت اپنے فرائض کی بجاآوری کے لیے کمربستہ رہنا چاہیے۔

11

حزب الشیطان کا اجتماعات میں طرزِ عمل

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قِیۡلَ لَکُمۡ تَفَسَّحُوۡا فِی الۡمَجٰلِسِ فَافۡسَحُوۡا یَفۡسَحِ اللّٰہُ لَکُمۡ ۚ وَ اِذَا قِیۡلَ انۡشُزُوۡا فَانۡشُزُوۡا یَرۡفَعِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ ۙ وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ دَرَجٰتٍ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۱۱﴾

آیت 11

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قِیۡلَ لَکُمۡ تَفَسَّحُوۡا فِی الۡمَجٰلِسِ فَافۡسَحُوۡا یَفۡسَحِ اللّٰہُ لَکُمۡ ۚ

’’اے مسلمانو! جب تمہیں کہا جائے کہ مجالس میں کھل کر بیٹھو تو کھل جایا کرو ‘اللہ تمہارے لیے کشادگی پیدا کر دے گا۔‘‘

یہ سمجھانے کا بہت عمدہ انداز ہے۔ یہ نصیحت بھی دراصل منافقین کے ایک مخصوص طرزِعمل کی وجہ سے کی جارہی ہے۔ منافقین کا یہ وطیرہ تھا کہ وہ حضورﷺ کی محفلوں میں ٹولیوں کی صورت میں باہم جڑکر بیٹھتے تھے تاکہ درمیان میں کوئی اور (سچا مسلمان) نہ بیٹھ سکے۔ ایسے الگ حلقے بنا کر محفل کے دوران وہ حضورﷺ کے فرمودات پر اپنی مرضی کے تبصرے کرتے اور استہزائیہ فقرے چست کرتے رہتے ۔ ان کے اس طرزِعمل کی وجہ سے مسلمانوں کویہ عمومی ہدایت جاری کی گئی کہ محفل میں حلقے بنا کر بیٹھنے کے بجائے کھل کر بیٹھا کرو تاکہ معلوم ہو کہ یہ ایک اجتماع ہے۔

وَ اِذَا قِیۡلَ انۡشُزُوۡا فَانۡشُزُوۡا

’’اور جب کہا جائے کہ اُٹھ جاؤ تو اُٹھ جایا کرو‘‘

اس حکم کا باعث بھی منافقین کا طرزِعمل ہی تھا۔ ان لوگوں کا معمول تھا کہ وہ مجلس برخاست ہو جانے کے بعد بھی ٹولیوں کی صورت میں اسی جگہ پر بیٹھے محو گفتگو رہتے تھے۔ فرض کریںحضورﷺ نے مسلمانوں کو کسی ضروری مشورے کے لیے بلایا۔ اس پر سب لوگ حضورﷺ کے پاس حاضر ہوئے‘ ضروری گفتگو ہوئی اور صلاح و مشورے کا مرحلہ طے ہوگیا۔ اس کے بعد حضورﷺ محفل کو برخاست کرنے کا حکم دے کر وہاں سے تشریف لے گئے اورآپؐ کے حکم پر سب مسلمان بھی چلے گئے‘ مگر یہ منافقین ہیں کہ ابھی بھی ٹولیوں کی صورت میں اسی جگہ پر بیٹھے سرگوشیوں میں مصروف ہیں۔ ان کی یہ حرکتیں نہ صرف اجتماعیت کے نظم و ضبط کے خلاف تھیں بلکہ ان سے بہت سی غلط فہمیاں بھی جنم لے سکتی تھیں۔ اس لیے یہ حکم دیا گیا کہ جب مجلس برخاست کرنے کا کہہ دیا جائے تو وہاں سے اٹھ جایا کرو۔

یَرۡفَعِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ ۙ وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ دَرَجٰتٍ ؕ

’’اللہ بلند فرما دے گا ان لوگوں کے درجات جو تم میں سے واقعی ایمان والے ہیں اور جن کو حقیقی علم عطا ہوا ہے۔‘‘

وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۱۱﴾

’’اور تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ اُس سے باخبر ہے۔‘‘

12-13

منافقین کی ایک شرارت کا سدِباب

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نَاجَیۡتُمُ الرَّسُوۡلَ فَقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیۡ نَجۡوٰىکُمۡ صَدَقَۃً ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ وَ اَطۡہَرُ ؕ فَاِنۡ لَّمۡ تَجِدُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲﴾ ءَاَشۡفَقۡتُمۡ اَنۡ تُقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیۡ نَجۡوٰىکُمۡ صَدَقٰتٍ ؕ فَاِذۡ لَمۡ تَفۡعَلُوۡا وَ تَابَ اللّٰہُ عَلَیۡکُمۡ فَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ وَ اللّٰہُ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۱۳﴾

آیت 12

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نَاجَیۡتُمُ الرَّسُوۡلَ فَقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیۡ نَجۡوٰىکُمۡ صَدَقَۃً ؕ

’’اے اہل ایمان! جب تم رسول(ﷺ)سے تخلیہ میں کوئی بات کرنا چاہو تو اپنی اس بات چیت سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو۔‘‘

اس حکم کا پس منظر یہ ہے کہ منافقین میں سے اکثر لوگ وقتاً فوقتاً بلاوجہ حضورﷺ سے تخلیہ میں بات کرنے کا تقاضا کرتے تھے۔ حضورﷺ مروّت کے باعث ہر کسی کی بات مان تو لیتے ‘لیکن منافقین کا یہ طرزِعمل آپؐ کے لیے زحمت کا باعث تھا۔ یہ لوگ حضورﷺ سے ایسی ملاقاتیں محض اپنی اہمیت اُجاگر کرنے کے لیے کرتے تھے ‘ تاکہ لوگ دیکھیں کہ حضورﷺسے علیحدگی میں بات کرنے والا یہ شخص حضورﷺ کے بہت قریب ہے اور حضورﷺ کو اس پر بہت اعتماد ہے۔ جیسے رئیس المنافقین عبداللہ بن اُبی کا معمول تھا کہ حضورﷺ جب خطبہ جمعہ کے لیے کھڑے ہوتے تووہ محض اپنی چودھراہٹ جتانے کے لیے فوراً اگلی صف میں کھڑا ہو جاتا اور حاضرین سے مخاطب ہو کر کہتا کہ لوگو! یہ اللہ کے رسولؐ ہیں ‘ان کی بات غور سے سنو! یہ شخص مدینہ کے سب سے بڑے قبیلے خزرج کا سردار تھا۔ حضورﷺ کی ہجرت سے قبل اہل مدینہ کا اتفاق ہو چکا تھا کہ مدینہ میں ایک مستحکم ریاستی نظام قائم کیا جائے تاکہ روز روز کی جنگوں اورباہمی خون ریزی سے ان کی جان چھوٹ جائے۔ اس کے لیے عبداللہ بن اُبی کو بادشاہ بنانے کا فیصلہ ہو چکا تھا اور اس کے لیے تاج بھی تیارہو چکا تھا۔ بس رسم تاجپوشی کا انعقاد باقی تھا کہ حضورﷺ مدینہ تشریف لے آئے اور آتے ہی مدینہ کے بے تاج بادشاہ بن گئے ۔اس طرح آپﷺ کی وجہ سے عبداللہ بن اُبی کی بادشاہت کا خواب ناتمام رہ گیا۔ حالات کا رخ دیکھتے ہوئے اُس نے ظاہری طور پر تو مسلمانی کا لبادہ اوڑھ لیا لیکن عمر بھر حضورﷺ کی مخالفت کا کوئی موقع اُس نے ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ بہرحال حالات کی مجبوری تھی کہ ایسا شخص بھی حضورﷺ سے اپنی قربت جتلانے اور اپنی خصوصی حیثیت نمایاں کرنے کے لیے جمعہ کے اجتماع میں یہ ڈرامہ رچانا ضروری سمجھتا تھا۔

منافقین کے اس طرزِعمل کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس حکم کے ذریعے حضورﷺ سے علیحدگی میں بات کرنے پر ایک طرح کا ٹیکس عائد کر دیا کہ اگر تمہارا حضورﷺ سے علیحدگی میں بات کرنا ایسا ہی ضروری ہے تو پہلے اپنے مال میں سے کچھ صدقہ دو اور پھر آ کرا س مقصد کے لیے حضورﷺ سے وقت مانگو۔ منافقین چونکہ انفاق سے گھبراتے ہیں اس لیے اس حکم کے بعد ان میں سے کسی ایک شخص نے بھی صدقہ دے کر حضورﷺ سے علیحدگی میں بات کرنے کی درخواست نہ کی۔ یہ حکم البتہ بہت تھوڑی دیر نافذ رہا اور جلد ہی اسے اگلی آیت کے ذریعے منسوخ کر دیا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں واحد شخص تھا جس نے اس حکم پر عمل کیا اور صدقہ دے کر حضورﷺ سے علیحدگی میں بات کرنے کی درخواست کی۔

ذٰلِکَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ وَ اَطۡہَرُ ؕ

’’یہ تمہارے لیے بہتر بھی ہے اور زیادہ پاکیزہ بھی۔‘‘

فَاِنۡ لَّمۡ تَجِدُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲﴾

’’البتہ اگر تم (صدقہ دینے کے لیے) کچھ نہ پاؤ تو اللہ بہت بخشنے والا ‘ بہت رحم کرنے والا ہے۔‘‘

یعنی غریب اور نادار لوگ اس حکم پر عمل نہیں بھی کر سکتے تو کوئی مضائقہ نہیں ‘اللہ تعالیٰ ان کا عذر قبول فرماتے ہوئے انہیں معاف فرمائے گا۔ لیکن ظاہر ہے جن لوگوں کی وجہ سے یہ حکم نازل ہوا وہ تو سب کے سب متمول‘ مرفہ الحال اور بڑے لوگ تھے جو حضورﷺ سے اپنی قربت جتلا کر لوگوں کے سامنے مزید ’’بڑے‘‘ بننا چاہتے تھے۔

آیت 13

ءَاَشۡفَقۡتُمۡ اَنۡ تُقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیۡ نَجۡوٰىکُمۡ صَدَقٰتٍ ؕ

’’کیا تم ڈر گئے اس سے کہ (رسولؐ کے ساتھ) اپنی تنہائی کی باتوں سے پہلے صدقات پیش کرو؟‘‘

فَاِذۡ لَمۡ تَفۡعَلُوۡا وَ تَابَ اللّٰہُ عَلَیۡکُمۡ

’’پھر جب تم نے یہ نہیں کیا اور اللہ نے بھی تم پر نظرِ عنایت فرما دی‘‘

فَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ

’’تو بس نماز قائم رکھو‘ زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور اللہ ا ور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرتے رہو۔‘‘

وَ اللّٰہُ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۱۳﴾

’’اور اللہ باخبر ہے اُس سے جو تم کر رہے ہو۔‘‘

اس آیت کے ذریعے اس حکم کو جلد ہی منسوخ بھی کر دیا گیا‘لیکن اس حکم سے ان لوگوں کی قلعی کھل گئی جو محض ریاکاری کے لیے حضورﷺ سے علیحدگی میں بات کرنے کے شوقین تھے۔ پہلے تو وہ اس مقصد کے لیے باربار حضورﷺ کے پاس آتے تھے ‘لیکن صدقہ کے حکم کے بعد ان میں سے کسی کو بھی علیحدگی میں بات کرنے کی حاجت محسوس نہ ہوئی۔بہرحال مذکورہ حکم کے بعد جب ان میں سے کوئی شخص بھی صدقہ دے کر حضورﷺ سے علیحدگی میں بات کرنے کی درخواست لے کر نہ آیاتو اس حکم کی منسوخی کے بعد اپنا پرانا طرزِعمل دہراتے ہوئے وہ شرم تو محسوس کرتے ہوں گے اور یہی دراصل اس وقتی اور عارضی حکم کا اصل مقصد تھا۔

14-17

حق کے دشمنوں سے دوستی . . . منافقانہ طرزِ عمل

ویڈیو

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ تَوَلَّوۡا قَوۡمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ ؕ مَا ہُمۡ مِّنۡکُمۡ وَ لَا مِنۡہُمۡ ۙ وَ یَحۡلِفُوۡنَ عَلَی الۡکَذِبِ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۴﴾ اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمۡ عَذَابًا شَدِیۡدًا ؕ اِنَّہُمۡ سَآءَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۵﴾ اِتَّخَذُوۡۤا اَیۡمَانَہُمۡ جُنَّۃً فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَلَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۱۶﴾ لَنۡ تُغۡنِیَ عَنۡہُمۡ اَمۡوَالُہُمۡ وَ لَاۤ اَوۡلَادُہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ؕ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۷﴾

آیت 14

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ تَوَلَّوۡا قَوۡمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ ؕ

’’کیا تم نے غور نہیں کیا ان لوگوں (کے طرزِعمل) پر جنہوں نے دوستی گانٹھی ہے ان لوگوں سے جن پر اللہ کا غضب ہواہے۔‘‘

اللہ کے غضب کے حوالے سے یہاں قومِ یہود (مَغْضُوْب عَلَیْہِمْ) کی طرف اشارہ ہے اور ان سے دوستیاں گانٹھنے والے اوس اور خزرج کے منافقین تھے جو ان کے ساتھ اپنے پرانے حلیفانہ تعلقات کو ابھی تک نباہے چلے جا رہے تھے۔

مَا ہُمۡ مِّنۡکُمۡ وَ لَا مِنۡہُمۡ ۙ

’’نہ وہ تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے ہیں‘‘

منافقین کے اس دوغلے کردار کا ذکر سورۃ النساء (آیت ۱۴۳) میں اس طرح ہوا ہے : {لَاۤ اِلٰی ہٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰی ہٰۤؤُلَآءِ ؕ } ’’نہ تو یہ اِن کی جانب ہیں اور نہ ہی اُن کی جانب ہیں۔‘‘

وَ یَحۡلِفُوۡنَ عَلَی الۡکَذِبِ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۴﴾

’’اور وہ جانتے بوجھتے جھوٹ پر قسمیں اٹھاتے ہیں۔‘‘

آیت 15

اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمۡ عَذَابًا شَدِیۡدًا ؕ

’’اللہ نے تیار کر رکھا ہے ان کے لیے سخت عذاب۔‘‘

اِنَّہُمۡ سَآءَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۵﴾

’’یقینا بہت ہی برا ہے وہ طرزِعمل جو وہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔‘‘

آیت 16

اِتَّخَذُوۡۤا اَیۡمَانَہُمۡ جُنَّۃً

’’انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا ہے‘‘

یہ لوگ جھوٹی قسموں کو اپنی کمزوریوں کی ڈھال کے طو رپر استعمال کرتے تھے۔ جہاں کہیں کسی کی کسی بات پر گرفت ہوتی ‘ وہ فوراً قسمیں کھانا شروع کر دیتا کہ اللہ کی قسم اصل میں یہ معاملہ یوں نہیں تھا بلکہ یوں تھا۔ اس طرح اُس کا مخاطب مروّت میں آ کر خاموشی اختیار کر لیتا۔

فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَلَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۱۶﴾

’’پس وہ اللہ کے راستے سے رک گئے ہیں (اور دوسروں کو بھی روکتے ہیں) پس ان کے لیے اہانت آمیز عذاب ہے۔‘‘

صَدَّ یَصُدُّ کے معنی خود رکنا بھی ہیں اور دوسروں کو روکنا بھی ۔

آیت 17

لَنۡ تُغۡنِیَ عَنۡہُمۡ اَمۡوَالُہُمۡ وَ لَاۤ اَوۡلَادُہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ

’’ان کے کچھ بھی کام نہیں آئیں گے ان کے اموال اور نہ ہی ان کی اولادیں اللہ سے بچانے کے لیے۔‘‘

اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ؕ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۷﴾

’’یہ آگ والے ہیں‘ اسی میں یہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔‘‘

مقامِ عبرت ہے کہ یہ ’’نوید‘‘ ان لوگوں کو سنائی جا رہی ہے جو بظاہر حضورﷺ کے ماننے والے تھے‘ آپﷺ کی اقتدا میں نمازیں پڑھتے تھے‘ اسلام کا دم بھرتے تھے‘ خود کو مسلمان کہتے تھے اور زبانوں سے گواہی دیتے تھے کہ محمدﷺاللہ کے رسول ہیں۔ سورۃ المنافقون کی پہلی آیت میں ان کی اس ’’شہادت‘‘ کا خصوصی طور پر ذکر کر کے ان کے جھوٹے ہونے پر مہر ثبت کی گئی ہے: {اِذَا جَآءَکَ الۡمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا نَشۡہَدُ اِنَّکَ لَرَسُوۡلُ اللّٰہِ ۘ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوۡلُہٗ ؕ وَ اللّٰہُ یَشۡہَدُ اِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ لَکٰذِبُوۡنَ ۚ﴿۱﴾} ’’(اے نبیﷺ!) جب آپ کے پاس منافقین آتے ہیں تو کہتے ہیں : ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔اللہ خوب جانتا ہے کہ آپ اُس کے رسول ہیں ‘اوراللہ گواہی دیتا ہے کہ بلاشبہ یہ منافقین جھوٹے ہیں۔‘‘

18-19

شیطان نے منافقین کو گھیر لیا ہے

ویڈیو

یَوۡمَ یَبۡعَثُہُمُ اللّٰہُ جَمِیۡعًا فَیَحۡلِفُوۡنَ لَہٗ کَمَا یَحۡلِفُوۡنَ لَکُمۡ وَ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ عَلٰی شَیۡءٍ ؕ اَلَاۤ اِنَّہُمۡ ہُمُ الۡکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۸﴾ اِسۡتَحۡوَذَ عَلَیۡہِمُ الشَّیۡطٰنُ فَاَنۡسٰہُمۡ ذِکۡرَ اللّٰہِ ؕ اُولٰٓئِکَ حِزۡبُ الشَّیۡطٰنِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ الشَّیۡطٰنِ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۹﴾

آیت 18

یَوۡمَ یَبۡعَثُہُمُ اللّٰہُ جَمِیۡعًا فَیَحۡلِفُوۡنَ لَہٗ کَمَا یَحۡلِفُوۡنَ لَکُمۡ

’’جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گاتو وہ اس کے سامنے بھی قسمیں کھائیں گے جیسے (آج) تمہارے سامنے قسمیں کھا تے ہیں‘‘

یعنی یہ لوگ جھوٹی قسمیں کھانے کے اس حد تک عادی ہو چکے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ عزوجل کے سامنے بھی اسی طرح جھوٹی قسمیں کھانا شروع ہو جائیں گے کہ ہم ایسے نہیں کہتے تھے اور ہم ویسے نہیں کرتے تھے۔

وَ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ عَلٰی شَیۡءٍ ؕ

’’اوروہ سمجھیں گے کہ وہ کسی بات پر ہیں۔‘‘

اللہ کی عدالت میں کھڑے ہو کر بھی وہ سمجھ رہے ہوں گے کہ ہمارے اعمال کی بھی کچھ نہ کچھ حیثیت تو ہے۔ آخر ہم مسلمان ہوئے تھے‘ہم نے اللہ کے رسولﷺ کی اقتدا میں نمازیں پڑھی تھیں‘ روزے رکھے تھے‘ سب مسلمانوں کے ساتھ مل کر مہمات میں حصہ لیتے رہے تھے۔ اس طرح ہم دنیا سے کچھ نہ کچھ نیک اعمال تو لے کر آئے ہی ہیں۔

اَلَاۤ اِنَّہُمۡ ہُمُ الۡکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۸﴾

’’آگاہ ہو جاؤ کہ وہ بالکل جھوٹے ہیں۔‘‘

آیت 19

اِسۡتَحۡوَذَ عَلَیۡہِمُ الشَّیۡطٰنُ فَاَنۡسٰہُمۡ ذِکۡرَ اللّٰہِ ؕ

’’ شیطان نے ان کے اوپر قابو پا لیا ہے‘ پس انہیں اللہ کی یاد بھلا دی ہے۔‘‘

شیطان ان پر مسلط ہوچکا ہے اور اُس نے انہیں اللہ کی یاد سے غافل کر دیا ہے۔

اُولٰٓئِکَ حِزۡبُ الشَّیۡطٰنِ ؕ

’’یہ لوگ ہیں شیطان کی جماعت۔‘‘

رسول اللہﷺ کے زمانے میں شیطان کی یہ جماعت تین گروہوں پر مشتمل تھی۔ ان میں شیطان کا سب سے طاقتور ہتھیار مشرکین عرب تھے۔ انہوں نے اسلام کی مخالفت اور اپنے ’’دین‘‘ کی حمایت میں ہر طرح کی قربانیاں دیں‘ جنگیں بھی لڑیں اور اپنے باطل معبودوں کے لیے گردنیں بھی کٹوائیں۔ دوسرا گروہ یہودِ مدینہ کا تھا‘ جبکہ تیسرا گروہ منافقین پر مشتمل تھا۔ منافقین مسلمانوں کے اندر رہتے ہوئے ان کے خلاف fifth columnists کا کردار ادا کر رہے تھے۔ آیات زیر مطالعہ میں خصوصی طور پر ان لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اگرچہ خود کو مسلمان کہتے ہیں اور مسلمانوں کی صفوں میں بیٹھے ہیں‘ لیکن اصل میں یہ حزب الشیطان ہی کے ارکان ہیں۔ مسلمانوں کی مخالفت کے حوالے سے ان لوگوں کے کردار کی مزید تفصیل اگلی سورۃ یعنی سورۃ الحشر میں بیان ہوئی ہے۔

اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ الشَّیۡطٰنِ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۹﴾

’’آگاہ ہو جاؤ! شیطان کی جماعت کے لوگ ہی حقیقت میں خسارہ اٹھانے والے ہیں۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے