بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

المجادلة

آیات ۱ تا ۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۃ المجادلہ کا آغاز ایک خاص عائلی مسئلے سے ہوتا ہے‘ لیکن یہ مسئلہ صرف پہلی چار آیات میں ضمنی مضمون کے طور پر بیان ہوا ہے۔ اس کے بعد اس سورت میں سورۃ الحدید کے مرکزی مضمون ہی کا تسلسل نظر آتا ہے ۔ سورۃ الحدید کا مرکزی مضمون نظامِ عدل و قسط کے قیام سے متعلق ہے ۔ اس نظام کے قیام کی جدوجہد کے لیے ایک منظم اور مربوط جماعت کی ضرورت ہے۔یہ کسی اکیلے شخص یا دوچار افراد کے بس کا کام نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے تعاون کے بغیر بھی اسے سرانجام دے لیتے۔ آپؑ نے جب اپنی قوم کو جہاد کے لیے نکلنے کا کہا تو انہوں نے صاف جواب دے دیا:

قَالُوۡا یٰمُوۡسٰۤی اِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَہَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوۡا فِیۡہَا فَاذۡہَبۡ اَنۡتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا ہٰہُنَا قٰعِدُوۡنَ ﴿۲۴﴾

(المائدۃ)

انہوں نے یک زبان ہو کر کہا کہ اے موسیٰ! یہ جنگ جیسا مشکل کام ہم سے نہیں ہوتا‘ اگر یہ ایسا ہی ضروری کام ہے تو آپؑ اور آپ کا ربّ جا کر لڑو ‘ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ اُس وقت آپ ؑ بالکل اکیلے بھی نہیں تھے ‘بلکہ آپؑ کے ساتھ تین لوگ اور بھی تھے ۔یعنی آپؑ کے بھائی ہارونؑ‘ حضرت یوشع بن نون اور کالب بن یوفنا۔ اس کے باوجود آپؑ نے حکومت الٰہیہ کے قیام کا مشن ادھورا چھوڑتے ہوئے پرحسرت انداز میں اللہ سے شکایت کی :

قَالَ رَبِّ اِنِّیۡ لَاۤ اَمۡلِکُ اِلَّا نَفۡسِیۡ وَ اَخِیۡ فَافۡرُقۡ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿۲۵﴾

(المائدۃ)

’’موسٰی ؑنے عرض کیا :پروردگار‘ مجھے تو اختیار نہیں ہے سوائے اپنی جان کے اور اپنے بھائی (ہارونؑ کی جان) کے ‘تو اب تو تفریق کردے ہمارے اوران نافرمان لوگوں کے درمیان۔ ‘‘

تو معلوم ہوا کہ یہ کام چند افراد کے بس کابھی نہیں ‘بلکہ باطل نظام کو اکھاڑ پھینکنے اور اس کی جگہ نظامِ عدل و قسط کے قیام کے لیے ایک بہت مضبوط اور منظم جماعت درکار ہے۔ اب ظاہر ہے جب یہ جماعت تشکیل پائے گی اور اپنے مشن کی تکمیل کے لیے مصروفِ عمل ہو گی تو شیطان انہیں کھلی چھٹی دے کر آرام سے تو نہیں بیٹھا رہے گا کہ جاؤ بھئی آپ اپنے دین حق کا قیام عمل میں لے آؤ‘ بلکہ وہ بھی فوری طور پر اپنے چیلے چانٹوں کے ہمراہ اس جماعت کار استہ روکنے کے لیے میدان میں کود پڑے گا۔ اس طرح یہ دونوں قوتیں ایک دوسرے کے مدمقابل صف آراہو جائیں گی۔ چنانچہ اس سورت میں نظامِ عدل و قسط کے قیام یا اقامت دین کے لیے جدوجہد کرنے والی جماعت ’’حزب اللہ‘‘ اور اس کے مدمقابل شیطان کے لاؤ لشکر پر مشتمل جماعت ’’حزب الشیطان‘‘ کا بھی ذکر آیا ہے اور اس حوالے سے حزب اللہ کے کارکنوں کو کچھ مفید ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ حزب اللہ کا وجود چونکہ شیطان کو بہت کھٹکتا ہے اس لیے وہ اس میں پھوٹ ڈالنے اور اس کی وحدت کو نقصان پہنچانے کے لیے ہر وقت کوشاں رہتا ہے۔ ایسے شیطانی حملوں کے توڑ کے لیے اہل ایمان کو قرآن میں جابجا ہدایات دی گئی ہیں۔ سورۃ الحجرات میں دی گئی معاشرتی اور اخلاقی ہدایات کا مقصد بھی یہی ہے کہ مسلمان اپنی صفوں میں اتحاد و یگانگت کو فروغ دیں اور کوئی ایسا عمل نہ کریں جو ان کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے۔ چنانچہ سورۃ الحجرات میں اہل ایمان کو ایک دوسرے کا تمسخر اڑانے‘ باہم الزام تراشی کرنے‘ دوسروں کو برے ناموں سے پکارنے ‘اپنے بھائی بندوں کے بارے میں بدگمانی کرنے‘ ان کے معاملات کی ٹوہ میں رہنے‘ افواہوں پر کان دھرنے اور ایک دوسرے کی غیبت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے ایسی حرکات سے بالآخر مسلمانوں کی وحدت اور یکجہتی کو نقصان پہنچتا ہے۔ اسی طرح سورۃ الحجرات میں اہل ایمان کو یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ اگر ان کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں توان کی صلح کرا دی جائے تاکہ ’’حزب اللہ‘‘ مضبوط و مستحکم رہے۔ بہرحال سورۃ المجادلہ کا مرکزی مضمون حزب اللہ سے متعلق ہے ۔حزب اللہ بھلائی کی علامت اور نیکی کی طاقت ہے۔ اگر یہ جماعت مضبوط ہو گی تو نیکی کا بول بالا ہو گا اور اگر یہ کمزور ہو جائے گی تو پھر ظاہر ہے معاشرے میں حزب الشیطان ہی کا ڈنکا بجے گا۔

1

حزب اللہ کا کردار

ویڈیو

قَدۡ سَمِعَ اللّٰہُ قَوۡلَ الَّتِیۡ تُجَادِلُکَ فِیۡ زَوۡجِہَا وَ تَشۡتَکِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ٭ۖ وَ اللّٰہُ یَسۡمَعُ تَحَاوُرَکُمَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌۢ بَصِیۡرٌ ﴿۱﴾

آیت 1

قَدۡ سَمِعَ اللّٰہُ قَوۡلَ الَّتِیۡ تُجَادِلُکَ فِیۡ زَوۡجِہَا

’’اللہ نے سن لی اُس عورت کی بات (جو اے نبیﷺ!) آپ سے جھگڑ رہی ہے اپنے شوہر کے بارے میں‘‘

وَ تَشۡتَکِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ٭ۖ

’’اور وہ اللہ سے بھی فریاد کر رہی ہے۔‘‘

وَ اللّٰہُ یَسۡمَعُ تَحَاوُرَکُمَا ؕ

’’اور اللہ سن رہا ہے آپ دونوں کے مابین ہونے والی گفتگو۔‘‘

اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌۢ بَصِیۡرٌ ﴿۱﴾

’’یقینا اللہ سب کچھ سننے والا‘ سب کچھ دیکھنے والا ہے۔‘‘

’’قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ‘‘ کے معنی یہاں محض سن لینے کے نہیں‘ بلکہ قبول کر لینے اور فریاد رسی کرنے کے ہیں۔ یہ ’’ظہار‘‘ کے معاملے کا ذکر ہے جو ایک صحابی حضرت اوسؓ بن صامت انصاری اور ان کی بیوی حضرت خولہؓ بنت ثعلبہ کے درمیان پیش آیا۔ کسی شخص کا اپنی بیوی کو اپنی ماں یا اپنی ماں کے کسی عضو سے تشبیہہ دینا اصطلاحاً ’’ظہار‘‘ کہلاتا ہے ‘مثلاً کسی کا اپنی بیوی کو یوں کہہ دینا کہ تم میرے لیے میری ماں کی طرح ہو یا میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہو۔ عربوں کے ہاں اس کے لیے یہ الفاظ کہے جاتے تھے: ’’اَنْتِ عَلَیَّ کَظَھْرِ اُمِّی‘‘ یعنی اب تجھ کو ہاتھ لگانا میرے لیے گویا اپنی ماں کی پیٹھ کو ہاتھ لگانا ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں ظہار کو طلاق ہی کی طرح سمجھا جاتا تھا‘ بلکہ طلاق میں تو حالات و قرائن کے مطابق پھر بھی رجوع کی گنجائش تھی ‘لیکن ظہار کی صورت میں میاں بیوی میں عمر بھر کے لیے علیحدگی ہو جاتی تھی اور وہ دوبارہ کبھی کسی بھی صورت میں میاں بیوی کے طور پر اکٹھے نہیں ہو سکتے تھے۔

روایات میں مذکورہ معاملے کی تفصیل یوں بیان کی گئی ہے کہ حضرت اوسؓ غصے کی حالت میں اپنی بیوی سے ظہار کر بیٹھے۔ اس پر ان کی بیوی حضرت خولہ ؓبنت ثعلبہ فریاد لے کر حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی کہ حضورؐ اوسؓ نے یہ کر دیا ہے۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں‘ اب میں ان کو لے کر کہاں جائوں گی؟ ان کو کیسے پالوں گی؟ آپؐ ا س پریشانی کا کوئی حل بتائیں۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ ظہار کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ابھی تک کوئی حکم نازل نہیں فرمایا‘ اس لیے میں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ حضورﷺ کے توقف پر وہ بدستور اصرار کرتی رہیں کہ حضورﷺ آپ کچھ کریں! ‘ میرا کیا بنے گا؟ میرے بچے ہلاک ہو جائیں گے! اسی کیفیت میں کبھی وہ اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہوتیں کہ اے اللہ! تو میری فریاد کو سن لے اور میرے لیے کوئی راستہ پیدا کر دے! روایات کے مطابق اس اصرار و تکرار کے دوران ہی زیر مطالعہ آیات نازل ہوئیں۔ پہلی آیت کا انداز خصوصی طور پر بہت شفقت بھرا ہے کہ اے نبیﷺ! اللہ نے اس خاتون کی اس بحث و تکرار کو سن لیا ہے جو وہ آپؐ کے ساتھ کر رہی ہے۔ حضرت خولہؓ بنت ثعلبہ کی فریاد پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دریا موج میں آیا اورظہار کے بارے میں مستقل قانون بنا دیا گیا۔یہ قانون اگلی تین آیات میں بیان ہوا ہے۔

2-4

ظہار کی حقیقت اور کفارہ

ویڈیو

اَلَّذِیۡنَ یُظٰہِرُوۡنَ مِنۡکُمۡ مِّنۡ نِّسَآئِہِمۡ مَّا ہُنَّ اُمَّہٰتِہِمۡ ؕ اِنۡ اُمَّہٰتُہُمۡ اِلَّا الِّٰٓیۡٔ وَلَدۡنَہُمۡ ؕ وَ اِنَّہُمۡ لَیَقُوۡلُوۡنَ مُنۡکَرًا مِّنَ الۡقَوۡلِ وَ زُوۡرًا ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌ ﴿۲﴾ وَ الَّذِیۡنَ یُظٰہِرُوۡنَ مِنۡ نِّسَآئِہِمۡ ثُمَّ یَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا فَتَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّتَمَآسَّا ؕ ذٰلِکُمۡ تُوۡعَظُوۡنَ بِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۳﴾ فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ شَہۡرَیۡنِ مُتَتَابِعَیۡنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّتَمَآسَّا ۚ فَمَنۡ لَّمۡ یَسۡتَطِعۡ فَاِطۡعَامُ سِتِّیۡنَ مِسۡکِیۡنًا ؕ ذٰلِکَ لِتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ؕ وَ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ ؕ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۴﴾

آیت 2

اَلَّذِیۡنَ یُظٰہِرُوۡنَ مِنۡکُمۡ مِّنۡ نِّسَآئِہِمۡ مَّا ہُنَّ اُمَّہٰتِہِمۡ ؕ

’’(اے مسلمانو!) تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں کو مائیں کہہ بیٹھتے ہیں‘ وہ ان کی مائیں نہیں بن جاتی ہیں۔‘‘

جس طرح کسی کو کوئی بیٹا کہہ دے تو وہ اس کا بیٹا نہیں بن جاتا اور جس طرح منہ بولے بیٹے کی کوئی قانونی و شرعی حیثیت نہیں اسی طرح زبان سے اگر کوئی اپنی بیوی کو اپنی ماں کہہ دے تو ایسے کسی دعوے یا جملے کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔

اِنۡ اُمَّہٰتُہُمۡ اِلَّا الِّٰٓیۡٔ وَلَدۡنَہُمۡ ؕ

’’ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے انہیں جنا ہے۔‘‘

وَ اِنَّہُمۡ لَیَقُوۡلُوۡنَ مُنۡکَرًا مِّنَ الۡقَوۡلِ وَ زُوۡرًا ؕ

’’البتہ یہ لوگ ایک نہایت ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔‘‘

یہ لوگ اپنی بیویوں کو اپنی مائیں کہہ کر ایک نہایت بے ہودہ‘ شرمناک اور نامعقول بات منہ سے نکالتے ہیں۔ پھر یہ بات جھوٹی بھی ہے کہ ان کی بیویاں ان کے لیے اب مائیں ہوگئی ہیں۔

وَ اِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌ ﴿۲﴾

’’اور یقینا اللہ بہت معاف فرمانے والا ‘بہت بخشنے والا ہے۔‘‘

ان الفاظ میں یہ اشارہ دے دیا گیا کہ ظہار سے متعلق چونکہ ابھی تک کوئی قانون نازل نہیں ہوا تھا‘ اس لیے اللہ تعالیٰ مذکورہ صحابیؓ کو اس معاملے میں معاف فرما دے گا‘ بلکہ اس سے پہلے جس کسی سے بھی یہ حرکت سرزد ہوئی ‘اللہ تعالیٰ اس سے درگزر فرمائے گا۔

آیت 3

وَ الَّذِیۡنَ یُظٰہِرُوۡنَ مِنۡ نِّسَآئِہِمۡ ثُمَّ یَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا

’’اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کربیٹھیں ‘پھر وہ اپنی کہی ہوئی بات سے واپس لوٹنا چاہیں‘‘

فَتَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّتَمَآسَّا ؕ

’’تو ایک غلام کا آزاد کرنا ہو گا‘اس سے پہلے کہ وہ ایک دوسرے کو مس کریں۔‘‘

یعنی اس معاملے کا کفارہ ادا کرو اور پھر سے میاں بیوی کی طرح رہو!

ذٰلِکُمۡ تُوۡعَظُوۡنَ بِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۳﴾

’’یہ بات ہے جس کی تمہیں نصیحت کی جا رہی ہے۔اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔‘‘

آیت 4

فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ شَہۡرَیۡنِ مُتَتَابِعَیۡنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّتَمَآسَّا ۚ

’’تو جو کوئی (غلام) نہ پائے وہ دو مہینوں کے روزے رکھے لگاتار‘ اس سے پہلے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو چھوئیں۔‘‘

یعنی دو ماہ کے روزے اس طرح متواتر رکھے جائیں کہ درمیان میں کسی دن کا روزہ چھوٹنے نہ پائے۔

فَمَنۡ لَّمۡ یَسۡتَطِعۡ فَاِطۡعَامُ سِتِّیۡنَ مِسۡکِیۡنًا ؕ

’’ تو جوکوئی یہ بھی نہ کر سکتا ہو تو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔‘‘

اگر کوئی شخص کمزور ہے‘ ضعیف العمر ہے یا ایسا مریض ہے کہ دو ماہ کے لگاتار روزے رکھنا اس کے لیے ممکن نہیں تو وہ ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔ اس کے لیے اوسط معیار وہی ہو گا جو سورۃ المائدۃ کی آیت ۸۹ میں قسم کے کفارے کے ضمن میں بیان ہوا ہے : {مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ} یعنی جس معیار کا کھانا متعلقہ شخص اپنے اہل وعیال کو معمول کے مطابق کھلاتا ہے ‘ویسا ہی کھانا وہ ساٹھ مسکینوں کو کھلائے۔

ذٰلِکَ لِتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ؕ

’’یہ اس لیے تاکہ تم ایمان رکھو اللہ پر اور اُس کے رسولؐ پر۔‘‘

اس فقرے پر میں بہت عرصہ سوچ بچار کرتا رہا‘ بالآخر مجھے اس بارے میں یہ نکتہ سمجھ میں آیا کہ جب کوئی شخص کفارہ کو اللہ کا قانون سمجھتے ہوئے اس کی سختی برداشت کرتا ہے تو اس کے ایمان میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔یعنی جس طرح ایمان سے عمل صالح پیدا ہوتا ہے ‘اسی طرح عمل صالح سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے ‘جیسے کہ سورۃ الحجرات میں فرمایا گیا:

دوسرے مقام کی آیت

یَمُنُّوۡنَ عَلَیۡکَ اَنۡ اَسۡلَمُوۡا ؕ قُلۡ لَّا تَمُنُّوۡا عَلَیَّ اِسۡلَامَکُمۡ ۚ بَلِ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیۡکُمۡ اَنۡ ہَدٰىکُمۡ

دوسرے مقام کی آیت

لِلۡاِیۡمَانِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۷﴾

’’(اے نبیﷺ!) یہ لوگ آپ پر احسان دھر رہے ہیں کہ وہ اسلام لے آئے ہیں! ان سے کہیے کہ مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ دھرو‘بلکہ اللہ تم پر احسان دھرتا ہے کہ اُس نے تمہیں ایمان کے راستے پر ڈال دیا ہے‘ اگر تم سچے ہو۔‘‘

یعنی تم لوگ اسلام میں داخل ہو کر گویا ایمان کے راستے پر چل پڑے ہو۔ اس بارے میں تم اللہ کا احسان مانو کہ وہ تمہیں ایمان کے راستے پر لے آیا ہے۔ اگر تم اخلاص کے ساتھ اس راستے پر چلتے ہوئے اعمالِ صالحہ کا اہتمام کرتے رہو گے تو تم ایمان تک بھی ضرور پہنچ جاؤ گے۔ یہاں {ذٰلِکَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ} کا بھی یہی مفہوم ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص غلطی کے بعد توبہ کرتے ہوئے کفارہ ادا کرے گا تو اللہ کے قانون پر عمل درآمد کرنے کی وجہ سے اس کے دل میں ایمان باللہ اور ایمان بالرسول مزید راسخ اور پختہ ہو جائے گا۔

وَ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ ؕ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۴﴾

’’اور یہ اللہ کی (مقرر کردہ) حدود ہیں ‘اور کافروں کے لیے بہت دردناک عذاب ہے۔‘‘

5-6

ظاہری حزب الشیطان کا انجام

ویڈیو

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُحَآدُّوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ کُبِتُوۡا کَمَا کُبِتَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ وَ قَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ ؕ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ۚ﴿۵﴾ یَوۡمَ یَبۡعَثُہُمُ اللّٰہُ جَمِیۡعًا فَیُنَبِّئُہُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا ؕ اَحۡصٰہُ اللّٰہُ وَ نَسُوۡہُ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ٪﴿۶﴾

آیت 5

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُحَآدُّوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ

’’یقینا وہ لوگ جو تل گئے ہیں مخالفت کرنے پر اللہ اور اس کے رسولؐ کی‘‘

اس مضمون کا تعلق سورۃ الحدید کے مرکزی مضمون کے ساتھ ہے۔ سورۃ الحدید کی آیت ۲۵ میں انبیاء و رسلؑ کی بعثت اور کتاب و میزان کے نزول کا مقصد یہ بتایا گیا ہے: لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ تاکہ انسانی معاشرے میں اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے نظامِ عدل وقسط کا قیام عمل میں لایا جا سکے۔ اب ظاہر ہے اہل ایمان جونہی اس مشن کے علمبردار بن کر اٹھیں گے تو شیطانی قوتیں بھی ان کا راستہ روکنے کے لیے پوری قوت سے سرگرم عمل ہو جائیں گی ۔ ان حالات میں معاشرے کا سرمایہ دار اور جاگیردار طبقہ نظامِ عدل و قسط کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہو گا۔ یہ لوگ تو کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ مزدوروں اور کسانوں کو ان کے حقوق ملیں۔ چنانچہ وہ اپنے تمامتر وسائل کے ساتھ روایتی (ظالمانہ) نظام کے دفاع کے لیے میدان میں کود پڑیں گے۔ اس طرح فریقین کے درمیان ایک بھرپور کشمکش کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ آیت زیر مطالعہ میں انہی قوتوں کی سرگرمیوں کا ذکر ہے۔ آئندہ آیات میں ان دونوں گروہوں کے کردار اور رویے کا ذکر حزب اللہ اور حزب الشیطان کے نام سے آئے گا۔

واضح رہے کہ لفظ یُحَادُّوْنَ کا تعلق بھی حدید (سورۃ الحدید‘ آیت ۲۵) ہی سے ہے۔ یہ حدّ سے باب مفاعلہ ہے ‘جیسے جہد سے مُجاہدہ یا قتل سے مُقاتلہ ۔ چنانچہ اس لفظ میں پوری قوت اور منصوبہ بندی کے ساتھ کسی کی مخالفت کرنے کا مفہوم پایاجاتا ہے۔ آیت زیر مطالعہ میں اللہ اور اس کے رسولﷺسے مراد اللہ کا دین ہے اور یہ مخالفت جس کا یہاں ذکر ہے وہ دراصل اللہ کے دین کی مخالفت ہے۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کی تکوینی حکومت جو پوری دنیا میں قائم ہے اسے تو سبھی تسلیم کرتے ہیں۔ اس حوالے سے کسی کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں۔ اسی طرح اللہ کے رسولﷺ سے بھی کسی کو کوئی ذاتی دشمنی نہیں ۔ چنانچہ دنیا میں جہاں کہیں اللہ کے رسولؐ کی مخالفت کی جاتی ہے وہ بھی اللہ کے دین کی وجہ سے ہی کی جاتی ہے۔ اس نکتہ کو سورۃ الانعام کی اس آیت میں یوںواضح کیا گیا ہے : {فَاِنَّہُمۡ لَا یُکَذِّبُوۡنَکَ وَ لٰکِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ یَجۡحَدُوۡنَ ﴿۳۳﴾} ’’(اے نبیﷺ! )یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلا رہے بلکہ یہ ظالم تو اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں‘‘۔ چنانچہ باطل قوتوں کی اصل دشمنی اللہ کے دین سے ہے‘ اور یہ دین بھی جب تک کتابوں اور لائبریریوں تک محدود رہے تب تک اس پر بھی کسی کو کوئی اعتراض نہیں۔دینی مسائل کے بارے میں کوئی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرے‘ مقالے لکھے‘ کتابیں تصنیف کرے ‘کسی کو اس سے کچھ لینا دینا نہیں ۔لیکن جب کوئی اللہ کا بندہ یہ دعویٰ کرے کہ ہم اللہ کے دین اور اُس کے دیے ہوئے نظامِ عدل و قسط کی معاشرے میں بالفعل ترویج و تنفیذ چاہتے ہیں تو اس کی یہ بات باطل پسند قوتوں کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ یہ لوگ ایسی کسی بھی کوشش کا راستہ روکنے کے لیے خم ٹھونک کر میدان میں آ جاتے ہیں۔ اب ایسے لوگوں کے انجام کے بارے میں بتایا جا رہا ہے۔

کُبِتُوۡا کَمَا کُبِتَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ

’’وہ ذلیل و خوار کر دیے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے کے لوگ ذلیل و خوار کیے جا چکے ہیں‘‘

ان سے پہلے قومِ فرعون‘ قومِ عاد اور بہت سی دوسری اقوام نے بھی اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسولوں ؑکی مخالفت کی یہی روش اختیار کر کے اپنی بربادی کو دعوت دی تھی۔ چنانچہ جو انجام مذکورہ اقوام کا ہوا ویسے ہی انجام سے اب یہ لوگ یعنی قریش مکہ بھی دوچار ہونے والے ہیں۔

وَ قَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ ؕ

’’اور ہم اتار چکے ہیں روشن آیات۔‘‘

یعنی قرآن میں گزشتہ اقوام کے واقعات بہت تفصیل سے بیان کر دیے گئے ہیں۔ ان میں سے اکثر قومیں قریش مکہ کی نسبت بہت طاقتور تھیں۔ جب ایسی طاقتور اقوام بھی اپنے پیغمبروں کے انکار کی بنا پر صفحہ ہستی سے مٹا دی گئیں تو آج ان لوگوں کی سرکشی و نافرمانی کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔

وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ۚ﴿۵﴾

’’اور کافروں کے لیے بہت ذلت والاعذاب ہے۔‘‘

اللہ اور اس کے رسولﷺ کے مخالفین کو دنیا میں بھی ہزیمت اٹھانا پڑے گی اور آخرت میں بھی انہیں بہت رسوا کن عذاب کا سامنا کرنا ہو گا۔

آیت 6

یَوۡمَ یَبۡعَثُہُمُ اللّٰہُ جَمِیۡعًا فَیُنَبِّئُہُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا ؕ

’’جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا‘پھر انہیں جتلا دے گا ان کے اعمال کے بارے میں جو انہوں نے کیے تھے۔‘‘

اَحۡصٰہُ اللّٰہُ وَ نَسُوۡہُ ؕ

’’اللہ نے ان (اعمال) کو محفوظ کر رکھا ہے جبکہ وہ انہیں بھول چکے ہیں۔‘‘

یہ لوگ تو بھول چکے ہوں گے کہ انہوں نے اپنی دنیوی زندگی میں کیسی کیسی حرام خوریاں کی تھیں اور کس کس کے ساتھ کیا کیا زیادتی کی تھی ۔ لیکن ظاہر ہے اللہ کے ہاں تو ہر شخص کے ایک ایک عمل اور ایک ایک حرکت کا ریکارڈ محفوظ ہو گا۔

وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ٪﴿۶﴾

’’اور اللہ تو ہر چیز پر خودگواہ ہے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے