تمہید
اس سورۂ مبارکہ کا اصل مضمون تدریجاً آگے بڑھتا ہوا آیت۲۵ پر اپنے نقطہ عروج (climax) پر پہنچ گیا ہے۔ اب آئندہ آیات میں گویا اس مضمون کا ضمیمہ اور تکملہ آ رہا ہے (قبل ازیں کبھی میں بغرضِ تفہیم اس کے لیے anti climax کی اصطلاح استعمال کرتا رہا ہوں‘ لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ یہ اصطلاح مناسب نہیں ہے) ۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر مناسب ہو گا کہ متعلقہ آیات کے مطالعے سے پہلے اس مضمون کی روح کو اچھی طرح سے سمجھ لیا جائے۔ ظاہر ہے زمین پر اللہ کے قانون کی حکمرانی اور معاشرے میں عدل و انصاف کی ترویج شیطان پر بہت بھاری ہے۔ اس لیے اس نے اس ’’انقلاب‘‘ کاراستہ روکنے کے لیے یہ چال چلی کہ مخلص اہل ایمان کی توجہ ترکِ دنیا اور رہبانیت کی طرف مبذول کرا دی‘ تاکہ اُسے انسانوں کے معاشرے میں ننگا ناچ ناچنے کی کھلی چھٹی مل جائے۔
اہل ایمان کے دلوں میں اللہ کی محبت‘ دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی طلب کے جذبے کا نتیجہ تو یہ نکلنا چاہیے کہ وہ اللہ کی فوج کے سپاہی بن کر اقامت دین کی جدوجہد کے علمبردار بن جائیں اور نتائج سے بے پرواہوکر ہر زماں ‘ہر مکاں شیطانی قوتوں کے خلاف برسرپیکار رہیں‘ لیکن شیطان نے ایسے لوگوں کو رہبانیت کا سبق پڑھادیا کہ اللہ والوں کا دنیا کے جھمیلوں سے کیا واسطہ؟ انہیں توچاہیے کہ وہ دنیا اور علائق دنیا کو چھوڑ کر جنگلوں اور پہاڑوں کی غاروں میں بیٹھ کر اللہ کی عبادت کریں اور اللہ کے ہاں اپنے درجات بلند کریں۔ ظاہرہے ایسی رہبانیت دین کی اصل روح کے خلاف ہے ۔ غلبہ دین کی جدوجہد کی راہ میں مصیبتیں جھیلنے‘ اس میدان میں شیطانی قوتوں سے نبردآزماہونے کے لیے مال و جان کی قربانیاں دینے اور خانقاہوں میں بیٹھ کر عبادت و ریاضت کی سختیاں برداشت کرنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اللہ کے راستے میں جہاد کی سختیاں برداشت کرنے سے معاشرے سے ظلم وناانصافی کا خاتمہ ہوتا ہے‘ انسانیت عدل و انصاف کے ثمرات سے بہرہ ور ہوتی ہے اور ماحول میں فلاح وخوشحالی کے پھول کھلتے ہیں ‘ جبکہ رہبانیت کی راہ میں اٹھائی گئی تکالیف سے دنیا اور اہل دنیا کو کسی قسم کا فائدہ پہنچنے کا کوئی امکان نہیں۔ بہرحال شیطان کا یہ وار عیسائیت کے حوالے سے بہت کارگر ثابت ہوا۔ اس کے نتیجے میں عیسائیوں کے ہاں نہ صرف خانقاہی نظام کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی بلکہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ’’رہبانیت‘‘ اعلیٰ ترین ذریعہ اور وسیلہ قرار پائی۔ (History of Christian Monasticism) پر لکھی گئی یورپین مصنفین کی بڑی بڑی ضخیم کتابیں عیسائی راہبوں اور رہبانیت کے بارے میں عجیب و غریب تفصیلات سے بھری پڑی ہیں۔
اس کے بعد اسلام میں جب خلافت کی جگہ ملوکیت نے لے لی اور احیاءِ خلافت کی چند کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئیں تو مسلمانوں کے ہاں بھی رہبانیت کے طور طریقے رائج ہونا شروع ہو گئے۔ اس کی عملی صورت یہ سامنے آئی کہ مخلص اہل ایمان اور اہل علم لوگ بادشاہوں اور سلاطین کے رویے کی وجہ سے اُمت کے اجتماعی معاملات سے لاتعلق ہو کر گوشہ تنہائی میں جا بیٹھے۔ البتہ ان کے شاگردوں اور عقیدت مندوں نے ان سے اکتسابِ فیض کا سلسلہ جاری رکھا ۔ اس طرح رفتہ رفتہ اہل اللہ اور اہل علم کی مسندوں نے خانقاہوں کی شکل اختیار کر لی۔ سلاطین واُمراء نے اپنے مفاد کے لیے ان خانقاہوں کی سرپرستی کرنی شروع کر دی۔ ایسی خانقاہوں کے لیے بڑی بڑی جاگیریں مختص کر دی گئیں تاکہ خانقاہ اور اس سے متعلقہ تمام لوگوں کے اخراجات احسن طریقے سے پورے ہوتے رہیں اور یہ لوگ حکومت کے معاملات میں دخل اندازی کرنے کے بجائے اطمینان کے ساتھ چلہ کشیوں اور اپنی روحانی منازل طے کرنے میں مصروف و مشغول رہیں۔ دوسری طرف ان خانقاہوں سے متعلقہ لوگوں کے ہاں بھی رفتہ رفتہ دین و دنیا کا یہ تصور جڑ پکڑتا گیا کہ حکومت کرنا اور اجتماعی معاملات نپٹانا سلاطین و امراء کا کام ہے‘ ہمیں ان معاملات سے کیا سروکار؟ ہمارا کام تو دینی تعلیمات کی اشاعت اور لوگوں کی روحانی اصلاح کرنا ہے ‘تاکہ وہ اچھے مسلمان اور اللہ کے مقرب بندے بن سکیں۔ یوں دین اسلام کا اصل تصور دھندلاتا گیا اور اس کی جگہ خانقاہی نظام کی حوصلہ افزائی ہوتی رہی۔دین کا درست تصور اور انبیاء و رسل کی بعثت کا اصل مقصد تو وہی ہے جو ہم گزشتہ آیت میں پڑھ چکے ہیں : {لِیَقُوۡمَ النَّاسُ بِالۡقِسۡطِ ۚ} ’’تاکہ لوگ عدل و انصاف پر قائم ہو جائیں۔‘‘
چنانچہ آئندہ آیات میں ایک تو یہ نکتہ واضح کیا گیا ہے کہ انسانیت نے ’’رہبانیت‘‘ کا غلط موڑ کب اور کیسے مڑا‘ اور ساتھ ہی مسلمانوں کومتنبہ کیا جا رہا ہے کہ اے مسلمانو! بے شک دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنا اور دنیا کے مقابلے میں آخرت بنانے کی فکر اختیار کرنا ہی دین کا اصل جوہر ہے ‘لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تم راہب بن کر تمدن کی زندگی کو خیرباد کہہ دو‘بن باس لے لو‘ اور جنگلوں میں جا کر چلے کاٹنا شروع کر دو ‘ پہاڑوں کی چوٹیوں اور غاروں میں جا کر تپسیائیں کرو‘یا خانقاہوں میں گوشہ نشین ہو جائو۔تمہیں تو دنیاکی منجدھار میں رہتے ہوئے دوسروں کو زندگی کی ضمانت فراہم کرنی ہے۔ تمہیں تو جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے دنیا میں حق کا بول بالا کرنا ہے ۔ ظلم و ناانصافی کو جڑ سے اکھاڑ کر معاشرے میں عدل و انصاف کا نظام قائم کرنا ہے‘ اور اپنے ارد گرد ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جس میں مظلوم کو اُس کا حق ملے اور ظالم کو سر چھپانے کی جگہ نہ مل سکے۔ اس کے لیے تمہارے سامنے اُسوئہ رسول اللہﷺ اور آپؐ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا قائم کردہ معیار بطور نمونہ موجود ہے۔
حضورﷺ نے عرب کے معاشرے کو حق و انصاف کا جو معیارعطا کیا تھا اس کی جھلک حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اس تقریر میں بھی دیکھی جا سکتی ہے جو آپؓ نے لوگوں سے بیعت خلافت لینے کے فوراً بعد کی تھی۔ آپؓ نے بحیثیت امیر المؤمنین اپنے پہلے خطاب میں عدل و انصاف کے بارے میں اپنی ترجیح واضح کرتے ہوئے فرمایا تھا :’’لوگو! تمہارا کمزور شخص میرے نزدیک بہت قوی ہو گا جب تک کہ میں اسے اُس کا حق نہ دلوا دوں اور تمہارا قوی شخص میرے نزدیک بہت کمزور ہو گا جب تک کہ میں اس سے کسی کا حق وصول نہ کر لوں‘‘۔ اسی طرح اس ضمن میں حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ کے وہ الفاظ بھی بہت اہم ہیں جو آپؓ نے ایرانی افواج کے سپہ سالار رستم کو مخاطب کرتے ہوئے کہے تھے ۔ قادسیہ کے محاذ پر اسلامی افواج کے سپہ سالار حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے جنگ سے پہلے ایرانیوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا۔ رستم نے ان سے سوال کیا تھا کہ تم لوگ یہاں کیا لینے آئے ہو؟ اس پر انہوں نے اپنے مشن کی وضاحت ان الفاظ میں کی تھی:
اِنَّ اللّٰہ ابتعثنا لنخرج العباد من عبادۃ العباد الی عبادۃ ربِّ العباد‘ ومن ضیق الدُّنیا الی سِعَۃ الآخرۃ ومن جور الادیان الی عدل الاسلام
’’ہمیں اللہ نے بھیجا ہے تاکہ ہم بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر بندوں کے رب کی غلامی میں لے آئیں‘ اور انہیں دنیا کی تنگی سے نکال کر آخرت کی کشادگی سے ہم کنار کریں‘ اور باطل نظاموں سے نجات دلا کر اسلام کے عادلانہ نظام سے روشناس کرائیں۔‘‘
یہ ہے اس مضمون کا لب لباب جو اس سورت کے آخر میں مرکزی مضمون کے ضمیمے کے طو رپر بیان ہوا ہے۔
اب اگلی آیت سے اس مضمون کی تمہید شروع ہو رہی ہے۔
وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا وَّ اِبۡرٰہِیۡمَ
’’ہم نے ہی بھیجا تھانوح ؑکو بھی اور ابراہیم ؑکو بھی‘‘
وَ جَعَلۡنَا فِیۡ ذُرِّیَّتِہِمَا النُّبُوَّۃَ وَ الۡکِتٰبَ
’’اور ہم نے انہی دونوں کی نسل میں رکھ دی نبوت اور کتاب‘‘
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پر عذاب کے بعد انسانیت کی نسل حضرت نوحؑ کے تین بیٹوں حضرت سام‘ حضرت حام اور حضرت یافث سے چلی تھی۔چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام کے بعد جو انبیاء بھی آئے وہ آپؑ ہی کی نسل سے تھے۔ البتہ قرآن میں صرف سامی رسولوں کا تذکرہ ہے‘ آپؑ کے دوسرے دو بیٹوں کی نسلوں میں مبعوث ہونے والے پیغمبروں کا ذکر قرآن میں نہیں آیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام خود بھی حضرت نوح علیہ السلام ہی کی نسل سے تھے‘ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں جو انبیاء و رسل علیہم السلام آئے ان کا ذکر قرآن میں تخصیص کے ساتھ آپؑ کی نسل یا ذریت کے حوالے سے ہوا ہے۔ آج حضرت ابراہیم علیہ السلام کو گزرے تقریباً پانچ ہزار برس ہو چکے ہیں۔ اس دوران آپؑ کی اولاد کہاں کہاں پہنچی اور کس کس علاقے میں آباد ہوئی‘ یہ اپنی جگہ تحقیق کا ایک مستقل موضوع ہے‘ لیکن اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپؑ کی نسل جس جس علاقے میں بھی آباد ہوئی ان تمام علاقوں میں انبیاء آتے رہے۔
فَمِنۡہُمۡ مُّہۡتَدٍ ۚ وَ کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۲۶﴾
’’تو ان( کی نسل) میں کچھ تو ہدایت یافتہ بھی ہیں‘ لیکن ان کی اکثریت فاسقوں پر مشتمل ہے۔‘‘
ثُمَّ قَفَّیۡنَا عَلٰۤی اٰثَارِہِمۡ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیۡنَا بِعِیۡسَی ابۡنِ مَرۡیَمَ وَ اٰتَیۡنٰہُ الۡاِنۡجِیۡلَ ۬ۙ
’’پھر ہم نے بھیجے ان کے نقش قدم پر اپنے بہت سے رسول ؑاور پھر ان کے پیچھے بھیجا ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو اور اسے ہم نے انجیل عطا فرمائی‘‘
آیت ۲۶ اور ۲۷میں حضرت نوح‘ حضرت ابراہیم اور دوسرے انبیاء و رسل علیہم السلام کا ذکر تمہید کے طور پر آیا ہے۔ موضوع کے اعتبار سے اصل میں یہاںحضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ کرنا مقصود ہے جن کے پیروکاروں نے رہبانیت کی ابتدا کی تھی۔
وَ جَعَلۡنَا فِیۡ قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ رَاۡفَۃً وَّ رَحۡمَۃً ؕ
’’اور جن لوگوں نے اس کی پیروی کی ہم نے ان کے دلوں میں بڑی نرمی اور رحمت پیدا کر دی۔‘‘
رأفت اور رحمت ملتے جلتے مفہوم کے دو الفاظ ہیں۔ رأفت دراصل وہ انسانی جذبہ ہے جس کے تحت انسان کسی کو تکلیف میں دیکھ کر تڑپ اٹھتا ہے۔ بقول امیر مینائی ؎
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے!
یعنی یہ جذبۂ رأفت ہی ہے جس کی وجہ سے انسان کسی کے درد کو اپنا درد سمجھتا ہے ‘جبکہ رحمت کا جذبہ انسان کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ دوسرے انسان کی تکلیف دور کرنے کے لیے کوشش کرے۔ گویا رأفت کا جذبہ بنیادی طور پر انسان کے دل میں تحریک پیدا کرتا ہے اور اس کے ردّعمل (reflex action) کا اظہار جذبۂ رحمت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے رأفت اور رحمت باہم تکمیلی (complementary) نوعیت کے جذبات ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے گویاتصدیق فرمائی گئی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں کے دلوں کو خصوصی طو رپر رأفت و رحمت کے جذبات سے مزین کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود بھی مزاج کے اعتبار سے انتہائی نرم اور رقیق القلب تھے‘ آپؑ کی شخصیت میں سختی کا عنصر بالکل نہیں تھا۔آپؑ کی شخصیت کے اس پہلو کا اندازہ اس مثال سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک دفعہ آپؑ نے ایک شخص کو چوری کرتے دیکھا تو پوچھا کہ کیا تم چوری کر رہے ہو؟ اس نے کہا نہیں میں چوری تو نہیں کر رہا ۔ آپؑ نے فرمایا :اچھا تو پھر میری آنکھ نے غلط دیکھا ہے۔ چنانچہ آپؑ کی شخصیت کے زیر اثر آپؑ کے حواریین کی طبیعتوں میں بھی رأفت‘ رحمت ‘ رقتِ قلب اور شفقت کے غیر معمولی جذبا ت پیدا ہو گئے تھے۔ یہ جذبات بلاشبہ اپنی جگہ مستحسن ہیں۔ خود حضورﷺ کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ میں فرمایاہے کہ آپؐ اہل ایمان کے حق میں بہت نرم دل اور شفیق ہیں: {بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲۸﴾} ( رأفت اور رء وف ایک ہی مادے سے ہیں) ۔ بہرحال شیطان نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں کے مزاج کی نرمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے ان جذبات کا رخ رہبانیت کی طرف موڑ دیا۔
وَ رَہۡبَانِیَّۃَۨ ابۡتَدَعُوۡہَا
’’اور رہبانیت کی بدعت انہوں نے خود ایجاد کی تھی‘‘
مَا کَتَبۡنٰہَا عَلَیۡہِمۡ اِلَّا ابۡتِغَآءَ رِضۡوَانِ اللّٰہِ
’’ہم نے اسے ان پر لازم نہیں کیا تھامگر اللہ کی خوشنودی کی تلاش میں‘‘
اس فقرے کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ یہ رہبانیت انہوں نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اختیار کی تھی‘اس میں ان کی کسی بدنیتی کا عنصر شامل نہیں تھا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ ہم نے تو ان پر کچھ لازم نہیں کیا تھاسوائے اس کے کہ وہ اللہ کی رضا تلاش کریں ۔لیکن انہوں نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے نفس کشی (self annihilation) ‘ترکِ دنیا‘ رہبانیت اور تجرد (بغیر نکاح کے) کی زندگی بسر کرنے کا راستہ اختیار کر لیا۔ بہرحال حقیقت میں یہ اللہ کی رضا کا راستہ نہیں تھا۔ اللہ کی رضا حاصل کرنے کا درست راستہ تو جہاد کا راستہ ہے : {وَ ابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ وَ جَاہِدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِہٖ } (المائدۃ:۳۵) ’’ اللہ کا قرب تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو!‘‘ یعنی باطل کو ملیامیٹ کرنے ‘ حق کو غالب کرنے ‘ ظلم و ناانصافی کو اکھاڑ پھینکنے اور عدل و قسط کو قائم کرنے کے لیے اللہ کے مجاہد بن جاؤ! اس راستے پر چلتے ہوئے جان و مال کی قربانیاں دو‘ فاقے برداشت کرو اور ہر طرح کی تکالیف ومشکلات کا سامنا کرو۔ بہرحال شیطان نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں کو اللہ کے مقرب بننے اور اُس کی رضا تلاش کرنے کا یہ راستہ ان کی نظروں سے اوجھل کر کے رہبانیت کے راستے پر ڈال دیا تاکہ اللہ کے نیک اور مخلص بندے تمدن کے معاملات سے لاتعلق رہیں اور معاشرے کے اندر ابلیسیت کے ننگے ناچ کو روکنے ٹوکنے والا کوئی نہ ہو۔ دنیا میں ظالموں اور شریروں کو کھلی چھوٹ حاصل ہو اور ان کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ ہو۔ علامہ اقبال نے ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ میں اس کی بہترین تعبیر کی ہے کہ ابلیس نے اپنے چیلے چانٹوں کو ہدایات دیتے ہوئے ’’مؤمن‘‘ کے بارے میں کہا کہ ؎
مست رکھو ذکر و فکر صبح گاہی میں اسے
پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے!
فَمَا رَعَوۡہَا حَقَّ رِعَایَتِہَا ۚ
’’پھر وہ اس کی رعایت بھی نہ کر سکے جیساکہ اس کی رعایت کرنے کا حق تھا۔‘‘
دراصل انسان کے لیے اپنے اوپر کوئی غیر فطری پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلینا تو آسان ہے مگر پھر ساری عمر اس فیصلے کو نبھانا بہت مشکل ہے۔ یہی مشکل رہبانیت کا راستہ اختیار کرنے والے لوگوں کو پیش آئی۔ راہب اور راہبائیں بظاہر تو مجرد زندگی بسر کرنے کا عہد کرتے لیکن پھر فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر زناکاریوں میں ملوث ہوجاتے۔ ان کے اس طرزِعمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ راہب خانوں کے تہہ خانے حرامی بچوں کے قبرستان بن گئے۔ History of Christian Monasticism پر لکھی گئی کتابوں میں اس بارے میں لرزہ خیز تفصیلات ملتی ہیں۔ دراصل انسان کے جنسی جذبے کو غیر فطری طور پر دبانا ایسا ہی ہے جیسے بہتے دریا پر بند باندھنا۔دریا کے پانی کو مناسب راستہ دے کر تو اس پر بند باندھا جا سکتا ہے لیکن دریا کے پورے پانی کو روکنا کسی طور پر بھی ممکن نہیں۔ ظاہر ہے اگر کہیں کوئی ایسی کوشش ہو گی تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے۔ یہ لوگ خود تسلیم کرتے ہیں کہ انسان کا جنسی جذبہ بہت منہ زور ہے۔ سگمنڈ فرائڈ عیسائیوں کے گھر کا آدمی ہے اور اس کی گواہی گویا ’’شَھِدَ شَاھِدٌ مِّنْ اَھْلِھَا‘‘ کا درجہ رکھتی ہے۔ انسان کے جنسی جذبے کو وہ تمام جذبات پر غالب اور باقی تمام جذبات کا محرک قرار دیتا ہے۔ اگرچہ میں ذاتی طور پر فرائڈ کے اس تجزیے سے متفق نہیں ہوں اور میری یہ رائے اکیلے فرائڈ یا اس کے اس تجزیے کے بارے میں ہی نہیں‘بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ بیشتر مغربی فلاسفر انسانی زندگی پر فلسفیانہ بحث کے دوران اکثر غلط بینی اور کج روی کا شکار ہو گئے ہیں۔ جیسے فرائڈ کو ہر طرف سیکس ہی سیکس نظر آیا‘ کارل مارکس کی نظریں انسان کے پیٹ پر مرکوز ہو کر رہ گئیں‘ جبکہ ایڈلر صاحب کوانسان کے بڑا بننے کا جذبہ (urge to dominate) ہی ہر طرف چھایا ہوا دکھائی دیا۔ بہرحال مذکورہ فلاسفرز نے اپنے اپنے مطالعے اور تجزیے میں انسانی زندگی کے کسی ایک پہلو پر ضرورت سے زیادہ زور دیا ہے اور بہت سے دوسرے اہم پہلوؤں کو بالکل ہی نظر انداز کر دیا ہے۔ لہٰذا ان کی ایسی آراء جزوی طور پر ہی درست تسلیم کی جا سکتی ہیں۔ بہرحال اگر یہ درست نہ بھی ہو کہ انسان کا جنسی جذبہ اس کے تمام جذبوں پر غالب اور اس کے باقی تمام جذبوں کا محرک ہے تو بھی اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ انسان کا یہ جذبہ بہت منہ زور ہے اور اس کو غیر فطری طریقے سے قابو میں لانا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس جذبے کو نظم و ضبط میں لانے کے لیے نکاح کا فطری راستہ تجویز کیا ہے۔ رہبانیت کے لیے اختیار کیے گئے طور طریقے زیادہ تر چونکہ غیر فطری تھے اس لیے اسے اختیار کرنے والے لوگ اس کا حق اد ا کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔
فَاٰتَیۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡہُمۡ اَجۡرَہُمۡ ۚ
’’تو ہم نے ان میں سے ان لوگوں کو ان کا اجر دیا جو ایمان لے آئے۔‘‘
ایک رائے کے مطابق یہ عیسائیوں کے ان لوگوں کا ذکر ہے جو حضورﷺ کی بعثت سے پہلے کے زمانے میں صاحب ایمان تھے‘ لیکن اس سے ایک مفہوم یہ بھی نکلتا ہے کہ ان میں سے جو لوگ نبی آخر الزماںﷺ پر ایمان لا کر مسلمان ہو گئے انہیں ان کا اجر دیا جائے گا۔
وَ کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۲۷﴾
’’لیکن ان کی اکثریت فاسقوں پر مشتمل ہے۔‘‘