تحریر

الحديد

آیات ۲۶ تا ۲۹

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

26-27

رہبانیت . . . دین سے فرار کی راہ

ویڈیو

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا وَّ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ جَعَلۡنَا فِیۡ ذُرِّیَّتِہِمَا النُّبُوَّۃَ وَ الۡکِتٰبَ فَمِنۡہُمۡ مُّہۡتَدٍ ۚ وَ کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۲۶﴾ ثُمَّ قَفَّیۡنَا عَلٰۤی اٰثَارِہِمۡ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیۡنَا بِعِیۡسَی ابۡنِ مَرۡیَمَ وَ اٰتَیۡنٰہُ الۡاِنۡجِیۡلَ ۬ۙ وَ جَعَلۡنَا فِیۡ قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ رَاۡفَۃً وَّ رَحۡمَۃً ؕ وَ رَہۡبَانِیَّۃَۨ ابۡتَدَعُوۡہَا مَا کَتَبۡنٰہَا عَلَیۡہِمۡ اِلَّا ابۡتِغَآءَ رِضۡوَانِ اللّٰہِ فَمَا رَعَوۡہَا حَقَّ رِعَایَتِہَا ۚ فَاٰتَیۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡہُمۡ اَجۡرَہُمۡ ۚ وَ کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۲۷﴾

تمہید

اس سورۂ مبارکہ کا اصل مضمون تدریجاً آگے بڑھتا ہوا آیت۲۵ پر اپنے نقطہ عروج (climax) پر پہنچ گیا ہے۔ اب آئندہ آیات میں گویا اس مضمون کا ضمیمہ اور تکملہ آ رہا ہے (قبل ازیں کبھی میں بغرضِ تفہیم اس کے لیے anti climax کی اصطلاح استعمال کرتا رہا ہوں‘ لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ یہ اصطلاح مناسب نہیں ہے) ۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر مناسب ہو گا کہ متعلقہ آیات کے مطالعے سے پہلے اس مضمون کی روح کو اچھی طرح سے سمجھ لیا جائے۔ ظاہر ہے زمین پر اللہ کے قانون کی حکمرانی اور معاشرے میں عدل و انصاف کی ترویج شیطان پر بہت بھاری ہے۔ اس لیے اس نے اس ’’انقلاب‘‘ کاراستہ روکنے کے لیے یہ چال چلی کہ مخلص اہل ایمان کی توجہ ترکِ دنیا اور رہبانیت کی طرف مبذول کرا دی‘ تاکہ اُسے انسانوں کے معاشرے میں ننگا ناچ ناچنے کی کھلی چھٹی مل جائے۔

اہل ایمان کے دلوں میں اللہ کی محبت‘ دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی طلب کے جذبے کا نتیجہ تو یہ نکلنا چاہیے کہ وہ اللہ کی فوج کے سپاہی بن کر اقامت دین کی جدوجہد کے علمبردار بن جائیں اور نتائج سے بے پرواہوکر ہر زماں ‘ہر مکاں شیطانی قوتوں کے خلاف برسرپیکار رہیں‘ لیکن شیطان نے ایسے لوگوں کو رہبانیت کا سبق پڑھادیا کہ اللہ والوں کا دنیا کے جھمیلوں سے کیا واسطہ؟ انہیں توچاہیے کہ وہ دنیا اور علائق دنیا کو چھوڑ کر جنگلوں اور پہاڑوں کی غاروں میں بیٹھ کر اللہ کی عبادت کریں اور اللہ کے ہاں اپنے درجات بلند کریں۔ ظاہرہے ایسی رہبانیت دین کی اصل روح کے خلاف ہے ۔ غلبہ دین کی جدوجہد کی راہ میں مصیبتیں جھیلنے‘ اس میدان میں شیطانی قوتوں سے نبردآزماہونے کے لیے مال و جان کی قربانیاں دینے اور خانقاہوں میں بیٹھ کر عبادت و ریاضت کی سختیاں برداشت کرنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اللہ کے راستے میں جہاد کی سختیاں برداشت کرنے سے معاشرے سے ظلم وناانصافی کا خاتمہ ہوتا ہے‘ انسانیت عدل و انصاف کے ثمرات سے بہرہ ور ہوتی ہے اور ماحول میں فلاح وخوشحالی کے پھول کھلتے ہیں ‘ جبکہ رہبانیت کی راہ میں اٹھائی گئی تکالیف سے دنیا اور اہل دنیا کو کسی قسم کا فائدہ پہنچنے کا کوئی امکان نہیں۔ بہرحال شیطان کا یہ وار عیسائیت کے حوالے سے بہت کارگر ثابت ہوا۔ اس کے نتیجے میں عیسائیوں کے ہاں نہ صرف خانقاہی نظام کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی بلکہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ’’رہبانیت‘‘ اعلیٰ ترین ذریعہ اور وسیلہ قرار پائی۔ (History of Christian Monasticism) پر لکھی گئی یورپین مصنفین کی بڑی بڑی ضخیم کتابیں عیسائی راہبوں اور رہبانیت کے بارے میں عجیب و غریب تفصیلات سے بھری پڑی ہیں۔

اس کے بعد اسلام میں جب خلافت کی جگہ ملوکیت نے لے لی اور احیاءِ خلافت کی چند کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئیں تو مسلمانوں کے ہاں بھی رہبانیت کے طور طریقے رائج ہونا شروع ہو گئے۔ اس کی عملی صورت یہ سامنے آئی کہ مخلص اہل ایمان اور اہل علم لوگ بادشاہوں اور سلاطین کے رویے کی وجہ سے اُمت کے اجتماعی معاملات سے لاتعلق ہو کر گوشہ تنہائی میں جا بیٹھے۔ البتہ ان کے شاگردوں اور عقیدت مندوں نے ان سے اکتسابِ فیض کا سلسلہ جاری رکھا ۔ اس طرح رفتہ رفتہ اہل اللہ اور اہل علم کی مسندوں نے خانقاہوں کی شکل اختیار کر لی۔ سلاطین واُمراء نے اپنے مفاد کے لیے ان خانقاہوں کی سرپرستی کرنی شروع کر دی۔ ایسی خانقاہوں کے لیے بڑی بڑی جاگیریں مختص کر دی گئیں تاکہ خانقاہ اور اس سے متعلقہ تمام لوگوں کے اخراجات احسن طریقے سے پورے ہوتے رہیں اور یہ لوگ حکومت کے معاملات میں دخل اندازی کرنے کے بجائے اطمینان کے ساتھ چلہ کشیوں اور اپنی روحانی منازل طے کرنے میں مصروف و مشغول رہیں۔ دوسری طرف ان خانقاہوں سے متعلقہ لوگوں کے ہاں بھی رفتہ رفتہ دین و دنیا کا یہ تصور جڑ پکڑتا گیا کہ حکومت کرنا اور اجتماعی معاملات نپٹانا سلاطین و امراء کا کام ہے‘ ہمیں ان معاملات سے کیا سروکار؟ ہمارا کام تو دینی تعلیمات کی اشاعت اور لوگوں کی روحانی اصلاح کرنا ہے ‘تاکہ وہ اچھے مسلمان اور اللہ کے مقرب بندے بن سکیں۔ یوں دین اسلام کا اصل تصور دھندلاتا گیا اور اس کی جگہ خانقاہی نظام کی حوصلہ افزائی ہوتی رہی۔دین کا درست تصور اور انبیاء و رسل کی بعثت کا اصل مقصد تو وہی ہے جو ہم گزشتہ آیت میں پڑھ چکے ہیں : {لِیَقُوۡمَ النَّاسُ بِالۡقِسۡطِ ۚ} ’’تاکہ لوگ عدل و انصاف پر قائم ہو جائیں۔‘‘

چنانچہ آئندہ آیات میں ایک تو یہ نکتہ واضح کیا گیا ہے کہ انسانیت نے ’’رہبانیت‘‘ کا غلط موڑ کب اور کیسے مڑا‘ اور ساتھ ہی مسلمانوں کومتنبہ کیا جا رہا ہے کہ اے مسلمانو! بے شک دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنا اور دنیا کے مقابلے میں آخرت بنانے کی فکر اختیار کرنا ہی دین کا اصل جوہر ہے ‘لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تم راہب بن کر تمدن کی زندگی کو خیرباد کہہ دو‘بن باس لے لو‘ اور جنگلوں میں جا کر چلے کاٹنا شروع کر دو ‘ پہاڑوں کی چوٹیوں اور غاروں میں جا کر تپسیائیں کرو‘یا خانقاہوں میں گوشہ نشین ہو جائو۔تمہیں تو دنیاکی منجدھار میں رہتے ہوئے دوسروں کو زندگی کی ضمانت فراہم کرنی ہے۔ تمہیں تو جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے دنیا میں حق کا بول بالا کرنا ہے ۔ ظلم و ناانصافی کو جڑ سے اکھاڑ کر معاشرے میں عدل و انصاف کا نظام قائم کرنا ہے‘ اور اپنے ارد گرد ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جس میں مظلوم کو اُس کا حق ملے اور ظالم کو سر چھپانے کی جگہ نہ مل سکے۔ اس کے لیے تمہارے سامنے اُسوئہ رسول اللہﷺ اور آپؐ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا قائم کردہ معیار بطور نمونہ موجود ہے۔

حضورﷺ نے عرب کے معاشرے کو حق و انصاف کا جو معیارعطا کیا تھا اس کی جھلک حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اس تقریر میں بھی دیکھی جا سکتی ہے جو آپؓ نے لوگوں سے بیعت خلافت لینے کے فوراً بعد کی تھی۔ آپؓ نے بحیثیت امیر المؤمنین اپنے پہلے خطاب میں عدل و انصاف کے بارے میں اپنی ترجیح واضح کرتے ہوئے فرمایا تھا :’’لوگو! تمہارا کمزور شخص میرے نزدیک بہت قوی ہو گا جب تک کہ میں اسے اُس کا حق نہ دلوا دوں اور تمہارا قوی شخص میرے نزدیک بہت کمزور ہو گا جب تک کہ میں اس سے کسی کا حق وصول نہ کر لوں‘‘۔ اسی طرح اس ضمن میں حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ کے وہ الفاظ بھی بہت اہم ہیں جو آپؓ نے ایرانی افواج کے سپہ سالار رستم کو مخاطب کرتے ہوئے کہے تھے ۔ قادسیہ کے محاذ پر اسلامی افواج کے سپہ سالار حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے جنگ سے پہلے ایرانیوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا۔ رستم نے ان سے سوال کیا تھا کہ تم لوگ یہاں کیا لینے آئے ہو؟ اس پر انہوں نے اپنے مشن کی وضاحت ان الفاظ میں کی تھی:

اِنَّ اللّٰہ ابتعثنا لنخرج العباد من عبادۃ العباد الی عبادۃ ربِّ العباد‘ ومن ضیق الدُّنیا الی سِعَۃ الآخرۃ ومن جور الادیان الی عدل الاسلام

’’ہمیں اللہ نے بھیجا ہے تاکہ ہم بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر بندوں کے رب کی غلامی میں لے آئیں‘ اور انہیں دنیا کی تنگی سے نکال کر آخرت کی کشادگی سے ہم کنار کریں‘ اور باطل نظاموں سے نجات دلا کر اسلام کے عادلانہ نظام سے روشناس کرائیں۔‘‘

یہ ہے اس مضمون کا لب لباب جو اس سورت کے آخر میں مرکزی مضمون کے ضمیمے کے طو رپر بیان ہوا ہے۔

اب اگلی آیت سے اس مضمون کی تمہید شروع ہو رہی ہے۔

آیت 26

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا وَّ اِبۡرٰہِیۡمَ

’’ہم نے ہی بھیجا تھانوح ؑکو بھی اور ابراہیم ؑکو بھی‘‘

وَ جَعَلۡنَا فِیۡ ذُرِّیَّتِہِمَا النُّبُوَّۃَ وَ الۡکِتٰبَ

’’اور ہم نے انہی دونوں کی نسل میں رکھ دی نبوت اور کتاب‘‘

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پر عذاب کے بعد انسانیت کی نسل حضرت نوحؑ کے تین بیٹوں حضرت سام‘ حضرت حام اور حضرت یافث سے چلی تھی۔چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام کے بعد جو انبیاء بھی آئے وہ آپؑ ہی کی نسل سے تھے۔ البتہ قرآن میں صرف سامی رسولوں کا تذکرہ ہے‘ آپؑ کے دوسرے دو بیٹوں کی نسلوں میں مبعوث ہونے والے پیغمبروں کا ذکر قرآن میں نہیں آیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام خود بھی حضرت نوح علیہ السلام ہی کی نسل سے تھے‘ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں جو انبیاء و رسل علیہم السلام آئے ان کا ذکر قرآن میں تخصیص کے ساتھ آپؑ کی نسل یا ذریت کے حوالے سے ہوا ہے۔ آج حضرت ابراہیم علیہ السلام کو گزرے تقریباً پانچ ہزار برس ہو چکے ہیں۔ اس دوران آپؑ کی اولاد کہاں کہاں پہنچی اور کس کس علاقے میں آباد ہوئی‘ یہ اپنی جگہ تحقیق کا ایک مستقل موضوع ہے‘ لیکن اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپؑ کی نسل جس جس علاقے میں بھی آباد ہوئی ان تمام علاقوں میں انبیاء آتے رہے۔

فَمِنۡہُمۡ مُّہۡتَدٍ ۚ وَ کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۲۶﴾

’’تو ان( کی نسل) میں کچھ تو ہدایت یافتہ بھی ہیں‘ لیکن ان کی اکثریت فاسقوں پر مشتمل ہے۔‘‘

آیت 27

ثُمَّ قَفَّیۡنَا عَلٰۤی اٰثَارِہِمۡ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیۡنَا بِعِیۡسَی ابۡنِ مَرۡیَمَ وَ اٰتَیۡنٰہُ الۡاِنۡجِیۡلَ ۬ۙ

’’پھر ہم نے بھیجے ان کے نقش قدم پر اپنے بہت سے رسول ؑاور پھر ان کے پیچھے بھیجا ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو اور اسے ہم نے انجیل عطا فرمائی‘‘

آیت ۲۶ اور ۲۷میں حضرت نوح‘ حضرت ابراہیم اور دوسرے انبیاء و رسل علیہم السلام کا ذکر تمہید کے طور پر آیا ہے۔ موضوع کے اعتبار سے اصل میں یہاںحضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ کرنا مقصود ہے جن کے پیروکاروں نے رہبانیت کی ابتدا کی تھی۔

وَ جَعَلۡنَا فِیۡ قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ رَاۡفَۃً وَّ رَحۡمَۃً ؕ

’’اور جن لوگوں نے اس کی پیروی کی ہم نے ان کے دلوں میں بڑی نرمی اور رحمت پیدا کر دی۔‘‘

رأفت اور رحمت ملتے جلتے مفہوم کے دو الفاظ ہیں۔ رأفت دراصل وہ انسانی جذبہ ہے جس کے تحت انسان کسی کو تکلیف میں دیکھ کر تڑپ اٹھتا ہے۔ بقول امیر مینائی ؎

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ

سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے!

یعنی یہ جذبۂ رأفت ہی ہے جس کی وجہ سے انسان کسی کے درد کو اپنا درد سمجھتا ہے ‘جبکہ رحمت کا جذبہ انسان کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ دوسرے انسان کی تکلیف دور کرنے کے لیے کوشش کرے۔ گویا رأفت کا جذبہ بنیادی طور پر انسان کے دل میں تحریک پیدا کرتا ہے اور اس کے ردّعمل (reflex action) کا اظہار جذبۂ رحمت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے رأفت اور رحمت باہم تکمیلی (complementary) نوعیت کے جذبات ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے گویاتصدیق فرمائی گئی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں کے دلوں کو خصوصی طو رپر رأفت و رحمت کے جذبات سے مزین کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود بھی مزاج کے اعتبار سے انتہائی نرم اور رقیق القلب تھے‘ آپؑ کی شخصیت میں سختی کا عنصر بالکل نہیں تھا۔آپؑ کی شخصیت کے اس پہلو کا اندازہ اس مثال سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک دفعہ آپؑ نے ایک شخص کو چوری کرتے دیکھا تو پوچھا کہ کیا تم چوری کر رہے ہو؟ اس نے کہا نہیں میں چوری تو نہیں کر رہا ۔ آپؑ نے فرمایا :اچھا تو پھر میری آنکھ نے غلط دیکھا ہے۔ چنانچہ آپؑ کی شخصیت کے زیر اثر آپؑ کے حواریین کی طبیعتوں میں بھی رأفت‘ رحمت ‘ رقتِ قلب اور شفقت کے غیر معمولی جذبا ت پیدا ہو گئے تھے۔ یہ جذبات بلاشبہ اپنی جگہ مستحسن ہیں۔ خود حضورﷺ کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ میں فرمایاہے کہ آپؐ اہل ایمان کے حق میں بہت نرم دل اور شفیق ہیں: {بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲۸﴾} ( رأفت اور رء وف ایک ہی مادے سے ہیں) ۔ بہرحال شیطان نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں کے مزاج کی نرمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے ان جذبات کا رخ رہبانیت کی طرف موڑ دیا۔

وَ رَہۡبَانِیَّۃَۨ ابۡتَدَعُوۡہَا

’’اور رہبانیت کی بدعت انہوں نے خود ایجاد کی تھی‘‘

مَا کَتَبۡنٰہَا عَلَیۡہِمۡ اِلَّا ابۡتِغَآءَ رِضۡوَانِ اللّٰہِ

’’ہم نے اسے ان پر لازم نہیں کیا تھامگر اللہ کی خوشنودی کی تلاش میں‘‘

اس فقرے کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ یہ رہبانیت انہوں نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اختیار کی تھی‘اس میں ان کی کسی بدنیتی کا عنصر شامل نہیں تھا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ ہم نے تو ان پر کچھ لازم نہیں کیا تھاسوائے اس کے کہ وہ اللہ کی رضا تلاش کریں ۔لیکن انہوں نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے نفس کشی (self annihilation) ‘ترکِ دنیا‘ رہبانیت اور تجرد (بغیر نکاح کے) کی زندگی بسر کرنے کا راستہ اختیار کر لیا۔ بہرحال حقیقت میں یہ اللہ کی رضا کا راستہ نہیں تھا۔ اللہ کی رضا حاصل کرنے کا درست راستہ تو جہاد کا راستہ ہے : {وَ ابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ وَ جَاہِدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِہٖ } (المائدۃ:۳۵) ’’ اللہ کا قرب تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو!‘‘ یعنی باطل کو ملیامیٹ کرنے ‘ حق کو غالب کرنے ‘ ظلم و ناانصافی کو اکھاڑ پھینکنے اور عدل و قسط کو قائم کرنے کے لیے اللہ کے مجاہد بن جاؤ! اس راستے پر چلتے ہوئے جان و مال کی قربانیاں دو‘ فاقے برداشت کرو اور ہر طرح کی تکالیف ومشکلات کا سامنا کرو۔ بہرحال شیطان نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں کو اللہ کے مقرب بننے اور اُس کی رضا تلاش کرنے کا یہ راستہ ان کی نظروں سے اوجھل کر کے رہبانیت کے راستے پر ڈال دیا تاکہ اللہ کے نیک اور مخلص بندے تمدن کے معاملات سے لاتعلق رہیں اور معاشرے کے اندر ابلیسیت کے ننگے ناچ کو روکنے ٹوکنے والا کوئی نہ ہو۔ دنیا میں ظالموں اور شریروں کو کھلی چھوٹ حاصل ہو اور ان کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ ہو۔ علامہ اقبال نے ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ میں اس کی بہترین تعبیر کی ہے کہ ابلیس نے اپنے چیلے چانٹوں کو ہدایات دیتے ہوئے ’’مؤمن‘‘ کے بارے میں کہا کہ ؎

مست رکھو ذکر و فکر صبح گاہی میں اسے

پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے!

فَمَا رَعَوۡہَا حَقَّ رِعَایَتِہَا ۚ

’’پھر وہ اس کی رعایت بھی نہ کر سکے جیساکہ اس کی رعایت کرنے کا حق تھا۔‘‘

دراصل انسان کے لیے اپنے اوپر کوئی غیر فطری پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلینا تو آسان ہے مگر پھر ساری عمر اس فیصلے کو نبھانا بہت مشکل ہے۔ یہی مشکل رہبانیت کا راستہ اختیار کرنے والے لوگوں کو پیش آئی۔ راہب اور راہبائیں بظاہر تو مجرد زندگی بسر کرنے کا عہد کرتے لیکن پھر فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر زناکاریوں میں ملوث ہوجاتے۔ ان کے اس طرزِعمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ راہب خانوں کے تہہ خانے حرامی بچوں کے قبرستان بن گئے۔ History of Christian Monasticism پر لکھی گئی کتابوں میں اس بارے میں لرزہ خیز تفصیلات ملتی ہیں۔ دراصل انسان کے جنسی جذبے کو غیر فطری طور پر دبانا ایسا ہی ہے جیسے بہتے دریا پر بند باندھنا۔دریا کے پانی کو مناسب راستہ دے کر تو اس پر بند باندھا جا سکتا ہے لیکن دریا کے پورے پانی کو روکنا کسی طور پر بھی ممکن نہیں۔ ظاہر ہے اگر کہیں کوئی ایسی کوشش ہو گی تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے۔ یہ لوگ خود تسلیم کرتے ہیں کہ انسان کا جنسی جذبہ بہت منہ زور ہے۔ سگمنڈ فرائڈ عیسائیوں کے گھر کا آدمی ہے اور اس کی گواہی گویا ’’شَھِدَ شَاھِدٌ مِّنْ اَھْلِھَا‘‘ کا درجہ رکھتی ہے۔ انسان کے جنسی جذبے کو وہ تمام جذبات پر غالب اور باقی تمام جذبات کا محرک قرار دیتا ہے۔ اگرچہ میں ذاتی طور پر فرائڈ کے اس تجزیے سے متفق نہیں ہوں اور میری یہ رائے اکیلے فرائڈ یا اس کے اس تجزیے کے بارے میں ہی نہیں‘بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ بیشتر مغربی فلاسفر انسانی زندگی پر فلسفیانہ بحث کے دوران اکثر غلط بینی اور کج روی کا شکار ہو گئے ہیں۔ جیسے فرائڈ کو ہر طرف سیکس ہی سیکس نظر آیا‘ کارل مارکس کی نظریں انسان کے پیٹ پر مرکوز ہو کر رہ گئیں‘ جبکہ ایڈلر صاحب کوانسان کے بڑا بننے کا جذبہ (urge to dominate) ہی ہر طرف چھایا ہوا دکھائی دیا۔ بہرحال مذکورہ فلاسفرز نے اپنے اپنے مطالعے اور تجزیے میں انسانی زندگی کے کسی ایک پہلو پر ضرورت سے زیادہ زور دیا ہے اور بہت سے دوسرے اہم پہلوؤں کو بالکل ہی نظر انداز کر دیا ہے۔ لہٰذا ان کی ایسی آراء جزوی طور پر ہی درست تسلیم کی جا سکتی ہیں۔ بہرحال اگر یہ درست نہ بھی ہو کہ انسان کا جنسی جذبہ اس کے تمام جذبوں پر غالب اور اس کے باقی تمام جذبوں کا محرک ہے تو بھی اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ انسان کا یہ جذبہ بہت منہ زور ہے اور اس کو غیر فطری طریقے سے قابو میں لانا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس جذبے کو نظم و ضبط میں لانے کے لیے نکاح کا فطری راستہ تجویز کیا ہے۔ رہبانیت کے لیے اختیار کیے گئے طور طریقے زیادہ تر چونکہ غیر فطری تھے اس لیے اسے اختیار کرنے والے لوگ اس کا حق اد ا کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔

فَاٰتَیۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡہُمۡ اَجۡرَہُمۡ ۚ

’’تو ہم نے ان میں سے ان لوگوں کو ان کا اجر دیا جو ایمان لے آئے۔‘‘

ایک رائے کے مطابق یہ عیسائیوں کے ان لوگوں کا ذکر ہے جو حضورﷺ کی بعثت سے پہلے کے زمانے میں صاحب ایمان تھے‘ لیکن اس سے ایک مفہوم یہ بھی نکلتا ہے کہ ان میں سے جو لوگ نبی آخر الزماںﷺ پر ایمان لا کر مسلمان ہو گئے انہیں ان کا اجر دیا جائے گا۔

وَ کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۲۷﴾

’’لیکن ان کی اکثریت فاسقوں پر مشتمل ہے۔‘‘

28-29

عیسائیوں کے لیے حصولِ سعادت کا موقعہ

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اٰمِنُوۡا بِرَسُوۡلِہٖ یُؤۡتِکُمۡ کِفۡلَیۡنِ مِنۡ رَّحۡمَتِہٖ وَ یَجۡعَلۡ لَّکُمۡ نُوۡرًا تَمۡشُوۡنَ بِہٖ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿ۚۙ۲۸﴾ لِّئَلَّا یَعۡلَمَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ اَلَّا یَقۡدِرُوۡنَ عَلٰی شَیۡءٍ مِّنۡ فَضۡلِ اللّٰہِ وَ اَنَّ الۡفَضۡلَ بِیَدِ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿٪۲۹﴾

آیت 28

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اٰمِنُوۡا بِرَسُوۡلِہٖ

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو!اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اُس کے رسولؐ (محمدﷺ) پر ایمان لاؤ!‘‘

اس آیت کی تفسیر دو طرح سے کی گئی ہے --- ایک تو یہ کہ یہاں ’’یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا‘‘ کا خطاب محمد رسول اللہﷺ پر ایمان لانے والوں سے ہے۔ ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ تم محض زبان سے آپﷺ کی نبوت کا اقرار کر کے نہ رہ جاؤ بلکہ صدقِ دل سے ایمان لاؤ اور اپنے ایمان کو پختہ کرو۔ حضورﷺ پر سچے ایمان کا معیار آپؐ کے اُسوۂ حسنہ کی پیروی ہے۔سورۃ الاحزاب میں اہل ایمان سے فرمایا گیا : {لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ } (آیت۲۱) ’’تمہارے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ ہے‘‘ ۔ تم لوگ اللہ کے رسولﷺ کے اُسوہ کو دیکھو‘ آپؐ کی زندگی کے معمولات کو اپنے لیے مشعل راہ بناؤ اور اپنی زندگیوں میں ویسا توازن پیدا کرو جیساکہ آپؐ کی زندگی میں توازن تھا۔ دیکھو! حضورﷺ نے ترکِ دنیا کا طریقہ نہیں اپنایا۔ آپؐ نے نکاح کیے‘ آپؐ کی اولاد بھی ہوئی‘ آپؐ نے بھرپور زندگی گزاری‘ اس کے باوجود آپؐ نے اپنی زندگی کی تمام توانائیاں اور تمام صلاحیتیں غلبہ دین کی جدوجہد کی نذر کر دیں۔ تم پر بھی لازم ہے کہ تم لوگ اللہ کے رسولﷺ کے اس اُسوہ کی پیروی کرو۔

حضورﷺ کے اسوہ کے حوالے سے یہ اہم نکتہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ جیسے آپؐ کا اتباع ضروری ہے‘ ویسے ہی اس اتباع میں توازن قائم کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر کسی نے حضورﷺ کی تمام سنتوں کو اپنا لیا لیکن اتباع کرتے ہوئے ہر سنت کی مطلوبہ ترجیح اور اہمیت کا خیال نہ رکھا تو گویا وہ شخص حضورﷺ کے اُسوہ کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا۔ اس نکتہ کو اس مثال سے سمجھیں کہ ایک طبیب نے آپ کو چند دوائیوں پر مشتمل ایک نسخہ لکھ کر دیا۔ ان میں سے ایک دوائی کا مطلوبہ وزن ایک چھٹانک ہے ‘دوسری کا ایک تولہ اور تیسری کا ایک ماشہ۔ اب اگر آپ اپنی پسند سے تولہ والی دوائی کا وزن ایک چھٹانک کر لیں اور چھٹانک والی دوائی کا وزن ایک تولہ کر لیں تو وہ نسخہ ‘ نسخہ شفا نہیں رہے گا ‘نسخہ ہلاکت بن جائے گا۔ اس لیے صرف یہ اطمینان کافی نہیں کہ فلاں عمل آپﷺ کی سنت سے ثابت ہے‘ بلکہ سنت و سیرتِ نبویؐ کو اس اعتبار سے دیکھنا چاہیے کہ حضورﷺ نے اپنی زندگی مجموعی طور پر کس طرح گزاری۔ آپؐ کی زندگی میں کس چیز کی کتنی اہمیت تھی؟آپ ؐنے کس عمل کو کتنا وقت دیا؟ آپؐ کی ترجیحات کیا تھیں؟ آپؐ کی ترجیحات میں بنیادی نوعیت کی چیزیں کون سی تھیں اور کون سی چیزوں کو ثانوی حیثیت حاصل تھی؟ واضح رہے کہ اگر کسی نے حضورﷺ کے اُسوہ کااتباع کرتے ہوئے اس اعتبار سے توازن برقرار نہ رکھا تو اس کا طرزِعمل حضورﷺ کے اُسوہ کے اتباع کے بجائے ذاتی پسند وناپسند کا معاملہ بن جائے گا۔

سیاق و سباق کے اعتبار سے آیت زیر مطالعہ کے اس حصے کا ایک مفہوم اور بھی ہے۔ پچھلی آیت میں چونکہ اہل کتاب کا ذکر ہے ‘اس لیے اس حوالے سے اس خطاب کا رخ اہل کتاب کی طرف بھی ہے ۔ اس پہلو سے اس فقرے کو اس طرح سمجھنا چاہیے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں میں سے جن لوگوں کے اندر اپنے سابقہ ایمان کی کچھ رمق موجود ہے ‘ان سے کہاجا رہا ہے کہ اے وہ لوگو جو پہلے سے اللہ پر ایمان رکھتے ہو اب اُس اللہ کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے اُس کے آخری رسول ؐپر بھی ایمان لے آؤ! اگر تم ایسا کرو گے تو :

یُؤۡتِکُمۡ کِفۡلَیۡنِ مِنۡ رَّحۡمَتِہٖ

’’وہ تمہیں دہرا حصہ عطا کرے گا اپنی رحمت سے‘‘

اہل کتاب کے ایسے لوگوں کے لیے ہم سورۃ القصص میں بھی یہ خوشخبری پڑھ چکے ہیں: {اُولٰٓئِکَ یُؤۡتَوۡنَ اَجۡرَہُمۡ مَّرَّتَیۡنِ } (آیت ۵۴) کہ اگر یہ لوگ نبی آخر الزماںﷺپر ایمان لائیں گے تو انہیں دہرا اجر ملے گا۔

وَ یَجۡعَلۡ لَّکُمۡ نُوۡرًا تَمۡشُوۡنَ بِہٖ

’’اور وہ تمہیں ایسا نور عطا فرمائے گا جس کو لے کر تم چل سکوگے‘‘

اس سے ایک تو وہ نور مراد ہے جس کا ذکر قبل ازیں آیت ۱۲ میں ہو چکا ہے کہ پل صراط سے گزرتے وقت تمہیں نور عطا کیا جائے گا جس کی مدد سے تم آسانی سے جنت میں پہنچ جاؤ گے ۔ لیکن اس کے علاوہ اس سے مراد یہاں ایمان بالرسول اور اُسوۂ رسولؐ کے اتباع کا وہ نور بھی ہے جو اہل ایمان کو دنیوی زندگی میں بھی نصیب ہوتا ہے۔ اس نکتے کو سمجھنے کے لیے آیت کے الفاظ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِہٖ کو ذہن میں دوبارہ تازہ کر لیںاور سمجھ لیں کہ یہاں اصل زور (emphasis) ایمان بالرسولؐ پر ہے۔اس حوالے سے آیت کے اس حصے کا مفہوم یہ ہوگا کہ اگر تم لوگ اُسوۂ رسولؐ کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو تمہیں عملی زندگی میں ایک ایسی روشنی عطا ہو گی جو تمہیں کبھی بھٹکنے نہیں دے گی۔ خاص طور پر تم رہبانیت جیسی بدعت میں ملوث ہونے سے محفوظ رہو گے۔چونکہ زیر مطالعہ آیات کا تعلق اقامتِ دین اور اقامتِ عدل و قسط کے مضمون سے ہے اس لیے سیاقِ مضمون کے اعتبار سے آیت کے اس حصے میں یہ مفہوم بھی پایا جاتا ہے کہ اگر تمہیں نظامِ عدل و قسط کے قیام کی منزل پر پہنچنے کے لیے رہنمائی اور روشنی درکار ہے تو وہ تمہیں ایمان بالرسول ؐاور منہجِ انقلابِ نبویؐ سے ملے گی۔ اور اگر تم نے اپنا یہ ایمان پختہ کر لیا اور منہج نبوی کو اپنا راستہ بنا لیا تو اس راستے پر ہم تمہیں ایسا نور عطا کریں گے جس کی راہنمائی میں تمہارے لیے کسی غلطی‘ کوتاہی یا منزل سے بھٹکنے کا کوئی امکان نہیں رہے گا ---- چنانچہ اگر ہمیں عدل و قسط کے قیام کے لیے انقلاب برپا کرنے کی جدوجہد کرنی ہے (دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو اس جدوجہد میں اپنا تن من دھن کھپا دینے کی توفیق عطا فرمائے!) تو ہمیں اس کے لیے روشنی اور راہنمائی انقلابِ نبویؐ کے منہج سے حاصل ہوگی۔ ہمیں معلوم ہو نا چاہیے کہ اگر ہم حضورﷺ کے راستے سے ہٹ کر کوئی راستہ اختیار کریں گے تو کبھی منزل پر نہیں پہنچ پائیں گے : ؎

خلافِ پیمبرؐ کسے راہ گزید

کہ ہرگز بمنزل نخواہد رسید

سورۃ المائدۃ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {لِکُلٍّ جَعَلۡنَا مِنۡکُمۡ شِرۡعَۃً وَّ مِنۡہَاجًا ؕ } (آیت ۴۸) کہ ہم نے تم میں سے سب کے لیے علیحدہ علیحدہ شریعتیں اور علیحدہ علیحدہ منہاج بنائے ہیں۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے نبیﷺ کا منہاج تلاش کریں اور جب تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو پھر ہمیں یقین کر لینا چاہیے کہ ’’جاایں جاست!‘‘ (جس جگہ کی ہمیں تلاش ہے وہ جگہ یہی ہے۔) یعنی ہمیں راہنمائی چاہیے‘ ہدایت چاہیے یا غلبہ دین کی جدوجہد میں کامیابی چاہیے تو یہ سب کچھ ہمیں سیرتِ محمدیؐ سے ہی ملے گا۔ اس یقین کے بعد ہمیں اپنا تن من دھن سیرتِ محمدی ؐکے اتباع میں کھپا دینے پر کمربستہ ہو جانا چاہیے اور ایسا کرتے ہوئے ہمیں زیرزمین تیل تلاش کرنے والی کمپنی کی مثال پیش نظر رکھنی چاہیے ۔ ایسی کسی کمپنی کے ماہرین کو اگر کسی جگہ کے بارے میں گمان ہو کہ یہاں سے تیل ملنے کا امکان ہے تو وہ صرف اس گمان اور امکان کی بنیاد پر کروڑوں روپے اس جگہ کی ڈرلنگ پر صرف کر دیتے ہیں۔ لیکن ہمارا تو ایمان ہے ‘ ہمیں تو یقین ہے کہ ’’جا ایں جاست‘‘۔تو پھر ہم کیوں نہ اپنا سب کچھ اس راہ میں نچھاور کر دیں!

وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿ۚۙ۲۸﴾

’’او وہ تمہیں بخش دے گا ‘ اور اللہ بہت بخشنے والا‘ بہت رحم کرنے والا ہے۔‘‘

اگر تم لوگوں نے منہاجِ محمدیؐ کو اپنے لیے مشعل راہ بنا لیا تو تمہارا رخ سیدھا ہو گیا‘ مجموعی طور پر تم سیدھے راستے پر آ گئے۔ اب اگر اس راستے پر چلتے ہوئے کوئی خطا یا کوئی لغزش ہو گی تو توبہ کا دروازہ کھلا ہے :

دوسرے مقام کی آیت

اِنَّمَا التَّوۡبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ السُّوۡٓءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوۡبُوۡنَ مِنۡ قَرِیۡبٍ فَاُولٰٓئِکَ یَتُوۡبُ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ ؕ

(النساء :۱۷)

’’اللہ کے ذمے ہے توبہ قبول کرنا ایسے لوگوں کی جو کوئی بری حرکت کر بیٹھتے ہیں جہالت اور نادانی میں پھر جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں‘تو یہی ہیں جن کی توبہ اللہ قبول فرمائے گا۔‘‘

چنانچہ اگر تم سچے دل سے توبہ کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری خطائیں اور لغزشیں معاف کرتا رہے گا۔ وہ بہت بخشنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔

آیت 29

لِّئَلَّا یَعۡلَمَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ اَلَّا یَقۡدِرُوۡنَ عَلٰی شَیۡءٍ مِّنۡ فَضۡلِ اللّٰہِ

’’(یہ اس لیے ہے) تاکہ اہل کتاب یہ نہ سمجھ لیں کہ اللہ کے فضل پر اب ان کا کوئی حق نہیں ہے‘‘

گزشتہ آیت کی تشریح کے دوران میں نے ذکر کیا تھا کہ {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اٰمِنُوۡا بِرَسُوۡلِہٖ } کے خطاب کا رخ اہل کتاب کی طرف بھی ہے۔ یہ بات اس آیت میں اب بالکل واضح ہو گئی ہے۔ جن مفسرین کا ذہن اس طرف نہیں گیا (کہ گزشتہ آیت میں خطاب کا رخ اہل کتاب کی طرف بھی ہے) انہیں زیر مطالعہ آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے یہ کہنا پڑا کہ یہاں لِئَــلاَّ میں لاَ زائدہے اور اصل میں یہاں مراد لِکَیْ یَعْلَمَ ہے۔ چونکہ ان لوگوں کے نزدیک گزشتہ آیت صرف مسلمانوں سے خطاب کر رہی ہے ‘اس لیے انہوں نے زیر مطالعہ آیت کا ترجمہ یوں کیا ہے :’’تاکہ اہل کتاب کو اچھی طرح معلوم ہو جائے کہ اب انہیں کوئی قدرت حاصل نہیں ہے اللہ کے فضل پر۔‘‘

بہرحال میں نے گزشتہ آیت میں اہل کتاب سے خطاب کے پہلو کومدنظر رکھتے ہوئے زیر مطالعہ آیت کا جو ترجمہ کیا ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ اہل کتاب یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ ان کے لیے اب اللہ کے فضل کے حصول کا کوئی راستہ رہا ہی نہیں‘بلکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے لیے راستہ تو اب بھی کھلا ہے۔ وہ آئیں‘ خود کو محمد رسول اللہﷺ کے قدموں میں ڈال دیں ‘ قرآن پر ایمان لائیں اور اللہ کے فضل میں حصہ دار بن جائیں۔ یہی بات انہیں سورۂ بنی اسرائیل میں بھی بایں الفاظ کہی گئی ہے : {عَسٰی رَبُّکُمۡ اَنۡ یَّرۡحَمَکُمۡ ۚ } (آیت ۸) ’’ہو سکتا ہے کہ اب تمہارا رب تم پر رحم کرے‘‘۔یعنی بے شک تم اللہ کے بہت لاڈلے تھے اور اب تم اپنے طرزِعمل کی وجہ سے راندۂ درگاہ ہو گئے ہو‘لیکن تمہارا ربّ اب بھی تم پر رحمت فرمانے پر آمادہ ہے۔ بس تم آخری نبی حضرت محمدﷺ اور آخری آسمانی کتاب قرآن پر ایمان لے آؤ اور اُس کی رحمت کے مستحق بن جاؤ ۔بلکہ اس سے اگلی آیت میں مزید واضح فرما دیا گیا: {اِنَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ یَہۡدِیۡ لِلَّتِیۡ ہِیَ اَقۡوَمُ} (آیت ۹) ’’یقینا یہ قرآن راہنمائی کرتا ہے اس راہ کی طرف جو سب سے سیدھی ہے‘‘۔ اب ہدایت کا ’’شاہ درہ‘‘ تو بس قرآن ہی ہے‘چنانچہ آؤ اور اس راستے سے ہوتے ہوئے اللہ کے قصر رحمت میں داخل ہوجاؤ۔ بہرحال آیت زیر مطالعہ میں اہل کتاب پر واضح کر دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے دروازے ان پر بند نہیں ہو گئے‘یہ دروازے ان کے لیے اب بھی کھلے ہیں۔

وَ اَنَّ الۡفَضۡلَ بِیَدِ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿٪۲۹﴾

’’اور فضل یقینا اللہ کے ہاتھ میں ہے ‘وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔‘‘ ٭

یوٹیوب پر دیکھیے