لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِالۡبَیِّنٰتِ
’’ہم نے بھیجا اپنے رسولوں کو واضح نشانیوں کے ساتھ‘‘
وَ اَنۡزَلۡنَا مَعَہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡمِیۡزَانَ
’’اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان اُتاری‘‘
یہاں تین چیزوں کا تذکرہ فرمایا گیا ہے جو رسولوں کے ساتھ بھیجی گئیں : (۱)بینات (۲) کتاب‘ اور (۳)میزان ---- ان میں سب سے پہلی چیز ’’بینات‘‘ ہے۔ ’’بیِّن‘‘ اُس شے کو کہتے ہیں جو اَز خود ظاہر اور نمایاں ہو اور اسے کسی دلیل اور وضاحت کی حاجت نہ ہو۔ ؏
’’آفتاب آمد دلیلِ آفتاب!‘‘
یہ لفظ عام طور پر رسولوں کے تذکرے میں معجزات کے لیے آتا ہے۔
’’کتاب‘‘ کا لفظ عام فہم اور بالکل واضح ہے‘ جبکہ ’’میزان‘‘ سے مراد اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ نظام ہے جس میں حقوق و فرائض کا توازن موجودہے۔ کسی معاشرے میں اگر حقوق و فرائض کے مابین توازن ہو گا تو وہ معاشرہ صحیح رہے گا‘ اور اگر اس کے اندر عدمِ توازن راہ پا گیا تو اسی کا نام ظلم‘ عدوان‘ زیادتی اور ناانصافی ہے۔
لِیَقُوۡمَ النَّاسُ بِالۡقِسۡطِ ۚ
’’تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔‘‘
یہ ہے اس کتاب یعنی قرآن مجید کے نزول کا اصل مقصد ۔ اب اس کے مقابلے میں اپنی موجودہ صورت کا بھی جائزہ لیں کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں سے قرآن کو کسی حد تک ’’بے دخل‘‘ کر چکے ہیں۔کیا قرآن اس لیے نازل ہوا تھا کہ قرآن خوانی کی مجالس سجا لی جائیں؟یا حسنِ قراء ت کی محافل کا اہتمام کرلیا جائے‘ یااس کی آیات کی خطاطی کی نمائشیں لگائی جائیں‘ یا چالیس من وزنی قرآن سونے کی تاروں سے لکھ کر لوگوں کی زیارت کے لیے رکھ دیا جائے ---- اور زندگی باطل نظام کے تحت ہی بسر کی جائے؟اس حوالے سے مولانا ماہر القادری کی زبان سے قرآن کا یہ شکوہ کس قدر حقیقت پر مبنی ہے : ؎
یہ میری عقیدت کے دعوے ‘قانون پہ راضی غیروں کے
یوں بھی مجھے رسوا کرتے ہیں‘ ایسے بھی ستایا جاتا ہوں!
ظاہر ہے قرآن توایک ضابطہ زندگی اورایک نظامِ حکومت لے کر آیا ہے۔ یہ اپنے ماننے والوں سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس کے نظام کو عملی طو رپر اپنے ملک اور معاشرے میں قائم کریں‘ اس کی لائی ہوئی میزان کو نصب کریں اور اس کی دی ہوئی شریعت کے مطابق اپنے فیصلے کریں؏
’’گر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں!‘‘
اس آیت کا مطالعہ کرتے ہوئے یہاں درج ذیل آیات کو بھی دہرانے کی ضرورت ہے ۔ سورۂ آلِ عمران میں اللہ تعالیٰ نے خود اپنے بارے میں فرمایا: {قَآئِمًۢا بِالۡقِسۡطِ ؕ } (آیت۱۸) کہ میں عدل و قسط کو قائم کرنے والا ہوں۔ سورۃ النساء میں اہل ایمان کو باقاعدہ حکم دیا گیا : {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُہَدَآءَ لِلّٰہِ } (آیت۱۳۵) ’’ اے اہل ایمان !کھڑے ہو جاؤ پوری قوت کے ساتھ عدل کو قائم کرنے کے لیے اللہ کے گواہ بن کر‘‘۔سورۃ المائدۃ میں الفاظ کی ترتیب بدل کر یہی حکم پھر سے دہرایا گیا : {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ ۫} (آیت۸) ’’اے اہل ایمان! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بن جاؤ‘‘۔پھر سورۃ الشوریٰ میں حضورﷺ سے اعلان کروایا گیا : {وَ اُمِرۡتُ لِاَعۡدِلَ بَیۡنَکُمۡ ؕ } (آیت۱۵) ’’مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہارے مابین عدل قائم کروں‘‘۔ پھر سورۃ الشوریٰ ہی میں فرمایا گیا : {اَللّٰہُ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ وَ الۡمِیۡزَانَ ؕ} (آیت۱۷) ’’ اللہ وہ ہستی ہے جس نے نازل فرمائی کتاب حق کے ساتھ اور میزان بھی‘‘۔ یعنی سورۃ الشوریٰ کی اس آیت میں بھی کتاب اور میزان نازل کرنے کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے۔
اس حوالے سے سورۃ المائدۃ کی یہ آیت خصوصی اہمیت کی حامل ہے : {قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَسۡتُمۡ عَلٰی شَیۡءٍ حَتّٰی تُقِیۡمُوا التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ؕ } (آیت۶۸) ’’(اے نبیﷺ!) آپ کہہ دیجیے کہ اے اہل کتاب !تمہاری کوئی حیثیت نہیں ہے جب تک تم قائم نہیں کرتے تورات کو اور انجیل کو اور اُس کو جو کچھ تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے تمہارے رب کی طرف سے‘‘۔سورۃ المائدۃ کی اس آیت کے مطالعہ کے دوران میں نے کہا تھا کہ مسلمان ’’تورات و انجیل‘‘ کی جگہ لفظ ’’قرآن‘‘ رکھ کر اس آیت کو اس طرح پڑھ کر دیکھیں اور پھر اللہ تعالیٰ کے سامنے خود ہی اپنی حیثیت کا تعین کریں: ’’قُلْ یٰٓـاَھْلَ الْقُرآنِِ لَسْتُمْ عَلٰی شَیْئٍ حَتّٰی تُقِیْمُوا الْقُرْآنَ وَمَا اُنْزِلَ اِلَـیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ‘‘ کہ اے قرآن والو! تمہاری کوئی حیثیت نہیں ہے جب تک تم قائم نہیں کرتے قرآن کو اور اس کو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے --- تم قرآن کی تلاوت کر کے سمجھ لیتے ہو کہ تم نے قرآن کاحق ادا کر دیا ‘یا تراویح میں قرآن ختم کر کے فخر محسوس کرتے ہو کہ تم نے بڑا تیر مار لیا‘ چاہے تم نے اس کا ایک حرف بھی نہ سمجھا ہو۔ یاد رکھو! جب تک تم قرآن کے احکام کو عملی طو رپر خود پر نافذ نہیں کرتے ہو اور قرآن کے نظامِ عدل کو اپنے ملک و معاشرہ میں قائم نہیں کرتے ہو‘ قرآن پر ایمان کے تمہارے زبانی دعوے کی کوئی حیثیت نہیں۔
قرآن کے نظامِ عدل و قسط کے حوالے سے یہ حقیقت بھی مدنظر رہنی چاہیے کہ معاشرے کے مراعات یافتہ طبقات کے لیے یہ نظام کسی قیمت پر قابل قبول نہیں ہو گا۔ اس لیے جونہی اس کے قیام کے لیے ٹھوس کوششوں کا آغاز ہو گا یہ طبقات ان کوششوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے آموجود ہوں گے۔ ظاہر ہے جن سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے مفادات (vested interests) پرانے نظام کے ساتھ وابستہ ہیں‘ وہ کب چاہیں گے کہ معاشرے میں عدل و انصاف کا دور دورہ ہو۔ اگرچہ اس حوالے سے بھی تاریخ میں استثنائی مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہما اپنے معاشرے کے اونچے طبقے سے تعلق رکھتے تھے‘ اس کے باوجود ان دونوں حضراتؓ نے اپنے مفادات‘ کاروبار اور سٹیٹس کی پروا کیے بغیر حق کی آواز پر بلاتاخیر لبیک کہا۔ لیکن مجموعی طور پر اشرافیہ اور دولت مند طبقہ ہمیشہ نظامِ عدل کے قیام کی کوشش میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔مراعات یافتہ طبقات کی سرتوڑ کوشش ہوتی ہے کہ موجودہ نظام کے اندر کوئی تبدیلی نہ آئے۔ چنانچہ باطل نظام کی بیخ کنی اور نظامِ عدل و قسط کے قیام کی جدوجہد کے لیے اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو راستے سے ہٹانا بھی ضروری ہے۔ چنانچہ آیت کے اگلے حصے میں ایسے عناصر کی سرکوبی کا نسخہ بتایا جا رہا ہے :
وَ اَنۡزَلۡنَا الۡحَدِیۡدَ فِیۡہِ بَاۡسٌ شَدِیۡدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ
’’اور ہم نے لوہا بھی اُتارا ہے ‘اس میں شدید جنگی صلاحیت ہے اور لوگوں کے لیے دوسری منفعتیں بھی ہیں۔‘‘
نوٹ کیجیے! نہ کوئی لگی لپٹی بات کی گئی ہے اور نہ ہی معذرت خواہانہ اسلوب اپنایا گیا ہے۔ جو بات کہنا مقصود تھی وہ دو ٹوک انداز میں ڈنکے کی چوٹ کہی گئی ہے۔ اسی لیے میں نے کہا تھا کہ یہ ’’عریاں ترین‘‘ انقلابی عبارت ہے۔ ظاہر ہے جب انقلاب اپنا راستہ بنائے گا اور جب ظالمانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑپھینکنے کا مرحلہ آئے گا تو خون بھی ضرور بہے گا اور کچھ سر بھی کچلنے پڑیں گے۔ یہ انقلاب کا ناگزیر مرحلہ ہے‘ اس کے بغیر انقلاب کی تکمیل ممکن ہی نہیں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کے نظامِ عدل کے لیے انقلاب کی بات ہو رہی ہے جو ساری کائنات کا خالق اور مالک ہے۔ یہاں تو ہم آئے دن دیکھتے ہیں کہ دنیا میں خود انسان عدلِ انسانی کے اپنے تصور کی ترویج و تنفیذ کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں‘ مخالف ممالک کا گھیراؤ کرتے ہیں‘ ان پر بے رحمانہ پابندیاں عائد کرتے ہیں۔’’امن کے لیے جنگ‘‘ (War for Peace) کا نعرہ لگا کر کمزوروں پر چڑھائی کرتے ہیں اور پھر ملکوں کے ملک برباد کر کے رکھ دیتے ہیں‘ اور ستم بالائے ستم یہ کہ اس قتل و غارت اور بربریت کو وہ وقت کی اہم ضرورت اور عین انصاف سمجھتے ہیں۔
اس کائنات کا خالق اور مالک بھی اللہ ہے اور زمین پرحکمرانی کا حق بھی اُسی کا ہے۔ اُسی نے اپنی تمام مخلوق کو اپنا تابع فرمان بنایا ہے اور اُسی نے انسان کو ایک حد تک اختیار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اسی اختیار کی وجہ سے انسان اکثر من مانی کرتے ہوئے اُس کی حکمرانی کے مقابلے میں اپنی حکمرانی قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اسی وجہ سے زمین میں فساد برپا ہوتا ہے۔ظاہر ہے اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ وہ زمین میں عدل و انصاف کی ترویج اور اپنے قانون کی حکمرانی چاہتا ہے۔ اس کے لیے اس کی مشیت یہی ہے کہ اُس کے حق حکمرانی کو چیلنج کرنے والے باغیوں کو حق کی طاقت کے ذریعے سے کچل دیا جائے: {بَلۡ نَقۡذِفُ بِالۡحَقِّ عَلَی الۡبَاطِلِ فَیَدۡمَغُہٗ فَاِذَا ہُوَ زَاہِقٌ ؕ} (الانبیائ:۱۸) ’’بلکہ ہم حق کو دے مارتے ہیں باطل پرتو وہ اس کا بھیجا نکال دیتا ہے ‘تو جبھی وہ نابود ہوجاتا ہے‘‘۔ بہرحال اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اُس کا یہ کام اُس کے نام لیوا کریں۔ اُس کے نام لیوا حق کے علمبردار بن کر اللہ کے باغیوں کا مقابلہ کریں‘ باطل نظام کو بزورِ بازو اُکھاڑ پھینکیں اور اللہ کی زمین پر اللہ کی حکمرانی کو یقینی بنائیں۔
آیت زیر مطالعہ میں لوہے کا ذکر اسی حوالے سے آیا ہے کہ اہل حق حالات و زمانہ کی ضرورت کے مطابق اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے سامانِ حرب تیار کریں‘ رائج الوقت ٹیکنالوجی سے استفادہ کریں اور باطل کے مقابلے کے لیے مطلوبہ طاقت فراہم کریں۔ لیکن اس انقلابی عمل میں سب سے اہم سوال اَفرادی قوت کی فراہمی کا ہے‘ اور اس عمل کی ابتدا دعوت و تبلیغ سے ہو گی۔ رسول اللہﷺ نے مکہ میں بارہ سال تک مسلسل دعوت و تبلیغ کا کام کیا۔حق کو قبول کرنے والے افراد کی تربیت کی‘ انہیں منظم کیا اور جب مطلوبہ افرادی قوت فراہم ہو گئی تو آپؐ نے اللہ کی مشیت کے عین مطابق طاقت کے اس ’’کوڑے‘‘ کو باطل کے سر پر یوں دے مارا کہ اس کا بھیجا نکال کے رکھ دیا۔ آج بھی یہ کام اگر ہو گا تو اسی طریقے سے ہو گا جس طریقے سے حضورﷺ نے اور آپؐ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا۔ آج بھی اہل حق کو اسی طرح جانیں قربان کرنا ہوں گی‘ تکلیفیں جھیلنا پڑیں گی‘ گھر بار چھوڑنے پڑیں گے اور جان و مال کے نقصانات برداشت کرنا پڑیں گے۔ گویا یہ انتہائی مشکل کام ہے اور اہل حق کی بے دریغ قربانیوں کے بغیر اس کاپایہ تکمیل تک پہنچنا ممکن نہیں۔
وَ لِیَعۡلَمَ اللّٰہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ وَ رُسُلَہٗ بِالۡغَیۡبِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیۡزٌ ﴿٪۲۵﴾
’’اورتاکہ اللہ جان لے کہ کون مدد کرتا ہے اُس کی اور اُس کے رسولوں کی غیب میں ہونے کے باوجود۔یقینا اللہ بہت قوت والا‘ بہت زبردست ہے۔‘‘
’’تاکہ اللہ جان لے‘‘ کا مفہوم یہ ہے تاکہ اللہ تعالیٰ دکھادے‘ ظاہر کر دے‘ ممیز کر دے کہ کون ہے وہ جو غیب کے باوجود اللہ اور اُس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ گویاحق و باطل کی جنگ کے دوران جو مردانِ حق لوہے کی طاقت کو ہاتھ میں لے کر اللہ کے دین کے غلبے کے لیے میدان میں آئیں گے وہی اللہ اور اس کے رسولؐ کے مددگار ہوں گے۔ دراصل اللہ کے دین کو غالب کرنا بنیادی طورپر حضورﷺ کا فرضِ منصبی ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو اسی مقصد کے لیے مبعوث فرمایا: {ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ } (الصف:۹)
’’وہی ہے (اللہ) جس نے بھیجا اپنے رسول (محمدﷺ) کو الہدیٰ اور دین حق کے ساتھ‘ تاکہ وہ غالب کر دے اس کوکل کے کل دین پر‘‘۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ حضورﷺ کے اس مشن میں تمام اہلِ ایمان آپؐ کے دست و بازو بنیں ‘بلکہ سورۃ الصف میں تو اس کے لیے براہِ راست حکم آیا ہے : {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡۤا اَنۡصَارَ اللّٰہِ} (آیت۱۴) ’’اے اہل ایمان !اللہ کے مددگار بن جاؤ۔‘‘
یہ مضمون سورۃ الصف میں مزید وضاحت کے ساتھ آئے گا۔ لیکن اس حوالے سے یہاں یہ اہم نکتہ سمجھ لیجیے کہ آیت زیر مطالعہ میں غلبہ دین کی تکمیل اور نظامِ عدل و قسط کی تنفیذ کے لیے تین چیزوں کا ذکر ہوا ہے: بینات ‘ کتاب اور میزان: {لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِالۡبَیِّنٰتِ وَ اَنۡزَلۡنَا مَعَہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡمِیۡزَانَ} یعنی حضورﷺ سے پہلے رسولوں کو ا س مشن کے لیے بینات (معجزات) ‘ کتاب اور میزان کے ساتھ بھیجا جاتا رہا‘ جبکہ حضورﷺ کو اس مشن کے لیے صرف دو چیزیں (الہدیٰ اور دین الحق)عطا کی گئیں: {ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ } (التوبۃ:۳۳‘ الفتح:۲۸اورالصف:۹) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضورﷺ کے لیے بینات (معجزات) اور الکتاب ایک ہو گئے۔ یعنی الہدیٰ (قرآن) آپؐ کی کتاب بھی ہے ‘اسی میں قانون ہے اور یہی آپؐ کا سب سے بڑا معجزہ بھی ہے ‘جبکہ آپ ؐ کی رسالت میں میزان (شریعت) مکمل ہو کر ’’دین الحق‘‘ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔