اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ وَّ زِیۡنَۃٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیۡنَکُمۡ وَ تَکَاثُرٌ فِی الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَوۡلَادِ ؕ
’’خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل‘ دل لگی کا سامان اور ظاہری ٹیپ ٹاپ ہے اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش ہے۔‘‘
گزشتہ سطور میں دنیا کی محبت کو گاڑی کی بریک سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حبِ دنیا انسان کو اللہ کے راستے پر چلنے سے ایسے روک دیتی ہے جیسے ایک گاڑی کو اس کی بریک جامد و ساکت کر دیتی ہے۔ اب اس آیت میں اس بریک یعنی حب دنیا کی اصل حقیقت کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ تو آیئے اس آیت کے آئینے میں دیکھئے انسانی زندگی کی حقیقت کیا ہے؟ انسانی زندگی کا آغاز کھیل کود (لعب) سے ہوتا ہے ۔ بچپن میں انسان کو کھیل کود کے علاوہ کسی اور چیز سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ باپ امیر ہے یا غریب‘ اس کا کاروبار ٹھیک چل رہا ہے یا مندے کا شکار ہے ‘بچے کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا‘ اسے تو کھیلنے کودنے کا موقع ملتے رہنا چاہیے اور بس۔ پھر جب وہ لڑکپن کی عمر (teenage) کو پہنچتا ہے تو اس کا کھیل کود محض ایک معصوم مشغولیت تک محدود نہیں رہتا ‘بلکہ اس میں کسی نہ کسی حد تک تلذذ (sensual gratification) کا عنصر بھی شامل ہو جاتا ہے۔ اس مشغولیت کو آیت میں لَـھْو کا نام دیا گیا ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ عام طور پر قرآن میں انسان کی دنیوی زندگی کی حقیقت بیان کرنے کے لیے لَہْو و لَعب کی ترکیب استعمال ہوئی ہے‘ لیکن یہاں ان الفاظ کی ترتیب بدل دی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں عمر کی تقسیم کے حساب سے انسانی زندگی کے مراحل کا ذکر ہو رہا ہے اور اس حوالے سے لَعب یعنی کھیل کود کا مرحلہ پہلے آتا ہے جبکہ اس میں لَـہْو کا عنصر بعد کی عمر میں شامل ہوتا ہے۔
جوانی کی اسی عمر میں انسان پر اپنی شخصیت کی ظاہری ٹیپ ٹاپ (زِیْنَۃ) کا جنون سوار ہوتا ہے ۔ عمر کے اس مرحلے میں وہ شکل و صورت کے بنائو سنگھار‘ ملبوسات وغیرہ کی وضع قطع‘ معیار اور فیشن کے بارے میں بہت حساس ہوجاتا ہے۔ پھر اس کے بعد جب عمر ذرا اور بڑھتی ہے تو تَفَاخُرٌ بَیْنَکُمْ کا مرحلہ آتا ہے ۔یہ انسانی زندگی کا چوتھا اوراہم ترین مرحلہ ہے۔ اس عمر میں انسان پر ہر وقت تفاخر کا بھوت سوار ہوتا ہے ‘ اور وہ عزت ‘شہرت‘ دولت‘ گھر‘ گاڑی وغیرہ کے معاملے میں خود کو ہر قیمت پر دوسروں سے برتر اور آگے دیکھنا چاہتا ہے ۔ اس کے بعد جب عمر ذرا ڈھلتی ہے تو تَـکَاثُــرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ کا دور آتا ہے۔اس دور میں انسان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ تفاخر کے دور میں تو سوچ یہ تھی کہ کچھ بھی ہو جائے مونچھ نیچی نہیں ہونی چاہیے ‘لیکن اب سوچ یہ ہے کہ مال آنا چاہیے‘ مونچھ رہے یا نہ رہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس عمر میں پہنچ کر انسان اپنے مفاد کے معاملے میں بہت حقیقت پسند (realistic) ہو جاتا ہے‘ بلکہ جوں جوں بڑھاپے کی طرف جاتا ہے‘ اس کے دل میں مال و دولت کی ہوس بڑھتی چلی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ ایک مرحلے پر اسے خود بھی محسوس ہوجاتا ہے کہ اب وہ پاؤں قبر میں لٹکائے بیٹھا ہے مگر اس کی ھَلْ مِنْ مَّزِیْد کی خواہش ختم ہونے میں نہیں آتی۔ انسان کی اسی کیفیت کو سورۃ التکاثر میں یوں بیان فرمایا گیا ہے : {اَلۡہٰکُمُ التَّکَاثُرُ ۙ﴿۱﴾حَتّٰی زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ ؕ﴿۲﴾} ’’(لوگو!) تم کو (مال کی) کثرت کی طلب نے غافل کر دیا ‘یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔‘‘
بہرحال وقت کے ساتھ ساتھ انسان کی ترجیحات بدلتی رہتی ہیں ‘لیکن عمر کے ہر مرحلے میں کسی ایک چیز کی دھن اس کے ذہن پر سوار رہتی ہے ۔اس موضوع پر یہ قرآن حکیم کی واحد آیت ہے اور اس اعتبار سے بہت اہم اور منفرد ہے ‘مگر حیرت ہے کہ انسانی زندگی کے نفسیاتی مراحل کے طور پر اسے بہت کم لوگوں نے سمجھا ہے۔
آیت کے اگلے حصے میں انسانی اور نباتاتی زندگی کے مابین پائی جانے والی مشابہت اور مماثلت کا ذکر ہے۔ یہ مضمون قرآن مجید میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے کہ نباتاتی سائیکل (Botanical cycle) اور انسانی زندگی کے سائیکل (Human life cycle) دونوں میں بڑی گہری مشابہت اور مناسبت ہے۔ اس تشبیہہ سے انسان کو دراصل یہ بتانا مقصود ہے کہ اگر تم اپنی زندگی کی حقیقت سمجھنا چاہتے ہو تو کسان کی ایک فصل کے سائیکل کو دیکھ لو۔ اس فصل کے دورانیہ میں تمہیں اپنی پیدائش‘ جوانی‘ بڑھاپے‘ موت اور مٹی میں مل کر مٹی ہو جانے کا حقیقی نقشہ نظر آجائے گا۔
کَمَثَلِ غَیۡثٍ اَعۡجَبَ الۡکُفَّارَ نَبَاتُہٗ
’’(انسانی زندگی کی مثال ایسے ہے) جیسے بارش برستی ہے تو اس سے پیدا ہونے والی روئیدگی کسانوں کو بہت اچھی لگتی ہے‘‘
ثُمَّ یَہِیۡجُ
’’پھر وہ کھیتی اپنی پوری قوت پر آتی ہے‘‘
فَتَرٰىہُ مُصۡفَرًّا
’’پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہو جاتی ہے‘‘
ثُمَّ یَکُوۡنُ حُطَامًا ؕ
’’پھر وہ کٹ کر چورا چورا ہو جاتی ہے۔‘‘
اس تشبیہہ کے آئینے میں انسانی زندگی کی مکمل تصویر دیکھی جا سکتی ہے۔ بچہ پیدا ہوتا ہے تو خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ پھر وہ جوان ہو کر اپنی پوری قوت کو پہنچ جاتا ہے۔ پھر عمر ڈھلتی ہے تو بالوں میں سفیدی آ جاتی ہے اور چہرے پر جھریاں پڑ جاتی ہیں۔ پھر موت آنے پر اسے زمین میں دبادیا جاتا ہے جہاں وہ مٹی میں مل کر مٹی ہو جاتا ہے ۔ لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ تشبیہہ صرف دنیوی زندگی کی حقیقت کوسمجھنے کے لیے ہے۔ تم اشرف المخلوقات ہو‘ نباتات نہیں ہو‘ تمہاری اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے جو کہ دائمی اور ابدی ہے اور اس کی نعمتیں اور صعوبتیں بھی دائمی اور ابدی ہیں۔ لہٰذا عقل اور سمجھ کا تقاضا یہی ہے کہ تم اپنی آخرت کی فکر کرو۔
وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ۙ وَّ مَغۡفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانٌ ؕ
’’اور آخرت میں بہت سخت عذاب ہے اور (یا پھر) اللہ کی طرف سے مغفرت اور (اس کی) رضا ہے۔‘‘
رسول اللہﷺ کی دعوت کے ابتدائی دور کا ایک خطبہ ’’نہج البلاغہ‘‘ میں نقل ہوا ہے۔ اس کے اختتامی الفاظ یوں ہیں:
حدیث((… ثُمَّ لَتُحَاسَبُنَّ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ، ثُمَّ لَتُجْزَوُنَّ بِالْاِحْسَانِ اِحْسَانًا وَبِالسُّوْئِ سُوْئً ، وَاِنَّھَا لَجَنَّـۃٌ اَبَدًا اَوْ لَنَارٌ اَبَدًا )) ۱
’’… پھر لازماً تمہارے اعمال کا حساب کتاب ہو گا اور پھر لازماً تمہیں بدلہ ملے گا اچھائی کا اچھا اور برائی کا برا۔ اور وہ جنت ہے ہمیشہ کے لیے یا آگ ہے دائمی۔‘‘
وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ ﴿۲۰﴾
’’اور دنیا کی زندگی توسوائے دھوکے کے ساز و سامان کے اور کچھ نہیں ہے۔‘‘
تمہاری دنیوی زندگی کی حقیقت تو بس یہی ہے ‘لیکن تم ہو کہ اس حقیقت کو فراموش اور نظر انداز کیے بیٹھے ہو۔ تمہارے دل میں نہ اللہ کی یاد ہے اور نہ آخرت کی فکر۔ بس تم اس عارضی اور دھوکے کی زندگی کی آسائشوں میں مگن اور اسی کی رنگینیوں میں گم ہو۔ یاد رکھو ! یہ طرزِ عمل غیروں کی پہچان تو ہو سکتا ہے‘ ایک بندئہ مؤمن کے ہرگز شایانِ شان نہیں ہے۔ بقول علامہ اقبال : ؎
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مؤمن کی یہ پہچان کہ گم اُس میں ہیں آفاق!
(۱) بحوالہ جمھرۃ الخطب‘ ص۵۔ وفقہ السیرۃ للالبانی‘ ص۹۷۔