تحریر

الحديد

آیات ۲۰ تا ۲۴

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

20

انسانی زندگی کے پانچ ادوار

ویڈیو

اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ وَّ زِیۡنَۃٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیۡنَکُمۡ وَ تَکَاثُرٌ فِی الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَوۡلَادِ ؕ کَمَثَلِ غَیۡثٍ اَعۡجَبَ الۡکُفَّارَ نَبَاتُہٗ ثُمَّ یَہِیۡجُ فَتَرٰىہُ مُصۡفَرًّا ثُمَّ یَکُوۡنُ حُطَامًا ؕ وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ۙ وَّ مَغۡفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانٌ ؕ وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ ﴿۲۰﴾

آیت 20

اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ وَّ زِیۡنَۃٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیۡنَکُمۡ وَ تَکَاثُرٌ فِی الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَوۡلَادِ ؕ

’’خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل‘ دل لگی کا سامان اور ظاہری ٹیپ ٹاپ ہے اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش ہے۔‘‘

گزشتہ سطور میں دنیا کی محبت کو گاڑی کی بریک سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حبِ دنیا انسان کو اللہ کے راستے پر چلنے سے ایسے روک دیتی ہے جیسے ایک گاڑی کو اس کی بریک جامد و ساکت کر دیتی ہے۔ اب اس آیت میں اس بریک یعنی حب دنیا کی اصل حقیقت کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ تو آیئے اس آیت کے آئینے میں دیکھئے انسانی زندگی کی حقیقت کیا ہے؟ انسانی زندگی کا آغاز کھیل کود (لعب) سے ہوتا ہے ۔ بچپن میں انسان کو کھیل کود کے علاوہ کسی اور چیز سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ باپ امیر ہے یا غریب‘ اس کا کاروبار ٹھیک چل رہا ہے یا مندے کا شکار ہے ‘بچے کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا‘ اسے تو کھیلنے کودنے کا موقع ملتے رہنا چاہیے اور بس۔ پھر جب وہ لڑکپن کی عمر (teenage) کو پہنچتا ہے تو اس کا کھیل کود محض ایک معصوم مشغولیت تک محدود نہیں رہتا ‘بلکہ اس میں کسی نہ کسی حد تک تلذذ (sensual gratification) کا عنصر بھی شامل ہو جاتا ہے۔ اس مشغولیت کو آیت میں لَـھْو کا نام دیا گیا ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ عام طور پر قرآن میں انسان کی دنیوی زندگی کی حقیقت بیان کرنے کے لیے لَہْو و لَعب کی ترکیب استعمال ہوئی ہے‘ لیکن یہاں ان الفاظ کی ترتیب بدل دی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں عمر کی تقسیم کے حساب سے انسانی زندگی کے مراحل کا ذکر ہو رہا ہے اور اس حوالے سے لَعب یعنی کھیل کود کا مرحلہ پہلے آتا ہے جبکہ اس میں لَـہْو کا عنصر بعد کی عمر میں شامل ہوتا ہے۔

جوانی کی اسی عمر میں انسان پر اپنی شخصیت کی ظاہری ٹیپ ٹاپ (زِیْنَۃ) کا جنون سوار ہوتا ہے ۔ عمر کے اس مرحلے میں وہ شکل و صورت کے بنائو سنگھار‘ ملبوسات وغیرہ کی وضع قطع‘ معیار اور فیشن کے بارے میں بہت حساس ہوجاتا ہے۔ پھر اس کے بعد جب عمر ذرا اور بڑھتی ہے تو تَفَاخُرٌ بَیْنَکُمْ کا مرحلہ آتا ہے ۔یہ انسانی زندگی کا چوتھا اوراہم ترین مرحلہ ہے۔ اس عمر میں انسان پر ہر وقت تفاخر کا بھوت سوار ہوتا ہے ‘ اور وہ عزت ‘شہرت‘ دولت‘ گھر‘ گاڑی وغیرہ کے معاملے میں خود کو ہر قیمت پر دوسروں سے برتر اور آگے دیکھنا چاہتا ہے ۔ اس کے بعد جب عمر ذرا ڈھلتی ہے تو تَـکَاثُــرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ کا دور آتا ہے۔اس دور میں انسان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ تفاخر کے دور میں تو سوچ یہ تھی کہ کچھ بھی ہو جائے مونچھ نیچی نہیں ہونی چاہیے ‘لیکن اب سوچ یہ ہے کہ مال آنا چاہیے‘ مونچھ رہے یا نہ رہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس عمر میں پہنچ کر انسان اپنے مفاد کے معاملے میں بہت حقیقت پسند (realistic) ہو جاتا ہے‘ بلکہ جوں جوں بڑھاپے کی طرف جاتا ہے‘ اس کے دل میں مال و دولت کی ہوس بڑھتی چلی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ ایک مرحلے پر اسے خود بھی محسوس ہوجاتا ہے کہ اب وہ پاؤں قبر میں لٹکائے بیٹھا ہے مگر اس کی ھَلْ مِنْ مَّزِیْد کی خواہش ختم ہونے میں نہیں آتی۔ انسان کی اسی کیفیت کو سورۃ التکاثر میں یوں بیان فرمایا گیا ہے : {اَلۡہٰکُمُ التَّکَاثُرُ ۙ﴿۱﴾حَتّٰی زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ ؕ﴿۲﴾} ’’(لوگو!) تم کو (مال کی) کثرت کی طلب نے غافل کر دیا ‘یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔‘‘

بہرحال وقت کے ساتھ ساتھ انسان کی ترجیحات بدلتی رہتی ہیں ‘لیکن عمر کے ہر مرحلے میں کسی ایک چیز کی دھن اس کے ذہن پر سوار رہتی ہے ۔اس موضوع پر یہ قرآن حکیم کی واحد آیت ہے اور اس اعتبار سے بہت اہم اور منفرد ہے ‘مگر حیرت ہے کہ انسانی زندگی کے نفسیاتی مراحل کے طور پر اسے بہت کم لوگوں نے سمجھا ہے۔

آیت کے اگلے حصے میں انسانی اور نباتاتی زندگی کے مابین پائی جانے والی مشابہت اور مماثلت کا ذکر ہے۔ یہ مضمون قرآن مجید میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے کہ نباتاتی سائیکل (Botanical cycle) اور انسانی زندگی کے سائیکل (Human life cycle) دونوں میں بڑی گہری مشابہت اور مناسبت ہے۔ اس تشبیہہ سے انسان کو دراصل یہ بتانا مقصود ہے کہ اگر تم اپنی زندگی کی حقیقت سمجھنا چاہتے ہو تو کسان کی ایک فصل کے سائیکل کو دیکھ لو۔ اس فصل کے دورانیہ میں تمہیں اپنی پیدائش‘ جوانی‘ بڑھاپے‘ موت اور مٹی میں مل کر مٹی ہو جانے کا حقیقی نقشہ نظر آجائے گا۔

کَمَثَلِ غَیۡثٍ اَعۡجَبَ الۡکُفَّارَ نَبَاتُہٗ

’’(انسانی زندگی کی مثال ایسے ہے) جیسے بارش برستی ہے تو اس سے پیدا ہونے والی روئیدگی کسانوں کو بہت اچھی لگتی ہے‘‘

ثُمَّ یَہِیۡجُ

’’پھر وہ کھیتی اپنی پوری قوت پر آتی ہے‘‘

فَتَرٰىہُ مُصۡفَرًّا

’’پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہو جاتی ہے‘‘

ثُمَّ یَکُوۡنُ حُطَامًا ؕ

’’پھر وہ کٹ کر چورا چورا ہو جاتی ہے۔‘‘

اس تشبیہہ کے آئینے میں انسانی زندگی کی مکمل تصویر دیکھی جا سکتی ہے۔ بچہ پیدا ہوتا ہے تو خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ پھر وہ جوان ہو کر اپنی پوری قوت کو پہنچ جاتا ہے۔ پھر عمر ڈھلتی ہے تو بالوں میں سفیدی آ جاتی ہے اور چہرے پر جھریاں پڑ جاتی ہیں۔ پھر موت آنے پر اسے زمین میں دبادیا جاتا ہے جہاں وہ مٹی میں مل کر مٹی ہو جاتا ہے ۔ لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ تشبیہہ صرف دنیوی زندگی کی حقیقت کوسمجھنے کے لیے ہے۔ تم اشرف المخلوقات ہو‘ نباتات نہیں ہو‘ تمہاری اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے جو کہ دائمی اور ابدی ہے اور اس کی نعمتیں اور صعوبتیں بھی دائمی اور ابدی ہیں۔ لہٰذا عقل اور سمجھ کا تقاضا یہی ہے کہ تم اپنی آخرت کی فکر کرو۔

وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ۙ وَّ مَغۡفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانٌ ؕ

’’اور آخرت میں بہت سخت عذاب ہے اور (یا پھر) اللہ کی طرف سے مغفرت اور (اس کی) رضا ہے۔‘‘

رسول اللہﷺ کی دعوت کے ابتدائی دور کا ایک خطبہ ’’نہج البلاغہ‘‘ میں نقل ہوا ہے۔ اس کے اختتامی الفاظ یوں ہیں:

حدیث((… ثُمَّ لَتُحَاسَبُنَّ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ، ثُمَّ لَتُجْزَوُنَّ بِالْاِحْسَانِ اِحْسَانًا وَبِالسُّوْئِ سُوْئً ، وَاِنَّھَا لَجَنَّـۃٌ اَبَدًا اَوْ لَنَارٌ اَبَدًا )) ۱

’’… پھر لازماً تمہارے اعمال کا حساب کتاب ہو گا اور پھر لازماً تمہیں بدلہ ملے گا اچھائی کا اچھا اور برائی کا برا۔ اور وہ جنت ہے ہمیشہ کے لیے یا آگ ہے دائمی۔‘‘

وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ ﴿۲۰﴾

’’اور دنیا کی زندگی توسوائے دھوکے کے ساز و سامان کے اور کچھ نہیں ہے۔‘‘

تمہاری دنیوی زندگی کی حقیقت تو بس یہی ہے ‘لیکن تم ہو کہ اس حقیقت کو فراموش اور نظر انداز کیے بیٹھے ہو۔ تمہارے دل میں نہ اللہ کی یاد ہے اور نہ آخرت کی فکر۔ بس تم اس عارضی اور دھوکے کی زندگی کی آسائشوں میں مگن اور اسی کی رنگینیوں میں گم ہو۔ یاد رکھو ! یہ طرزِ عمل غیروں کی پہچان تو ہو سکتا ہے‘ ایک بندئہ مؤمن کے ہرگز شایانِ شان نہیں ہے۔ بقول علامہ اقبال : ؎

کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے

مؤمن کی یہ پہچان کہ گم اُس میں ہیں آفاق!

(۱) بحوالہ جمھرۃ الخطب‘ ص۵۔ وفقہ السیرۃ للالبانی‘ ص۹۷۔

21

مقابلہ کا اصل میدان

ویڈیو

سَابِقُوۡۤا اِلٰی مَغۡفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ جَنَّۃٍ عَرۡضُہَا کَعَرۡضِ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ۙ اُعِدَّتۡ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ ؕ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۲۱﴾

آیت 21

سَابِقُوۡۤا اِلٰی مَغۡفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ جَنَّۃٍ عَرۡضُہَا کَعَرۡضِ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ۙ

’’ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اُس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین جیسی ہے۔‘‘

دنیا کمانے میں تو تم لوگ خوب مسابقت کر رہے ہو۔ اس میدان میں تو تم ہر وقت ؏ ’’ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں!‘‘کی فکر میں لگے رہتے ہو۔ عارضی دنیا کی اس مسابقت کو چھوڑو‘ اپنی یہی صلاحیتیں اللہ کی رضا اور جنت کے حصول کے لیے صرف کرو۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے محنت کرو اور اس منزل میں بہتر سے بہتر مقام پانے کے لیے دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش کرو۔

جنت کی وسعت کی مثال کے لیے یہاں ’’کَعَرْضِ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ‘‘ جبکہ سورۂ آل عمران کی آیت ۱۳۳ میں ’’عَرْضُھَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضُ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔موجودہ دور میں سائنس کی حیرت انگیز ترقی کے باوجود ابھی تک ارض و سماء کی وسعت کے بارے میں انسان کا علم نہ ہونے کے برابر ہے۔ بہرحال اب تک میسر ہونے والی معلومات کے مطابق اس کائنات میں ارب ہا ارب کہکشائیں ہیں۔ ہر کہکشاں کی وسعت اور ایک کہکشاں سے دوسری کہکشاں کے فاصلے کو کروڑوں نوری سالوں پر محیط تصور کیا گیا ہے۔ اسی طرح ہر کہکشاں میں اَن گنت ستارے ‘ہمارے نظامِ شمسی (solar system) جیسے بے شمار نظام اور ہماری زمین جیسے لاتعداد سیارے ہیں۔ اسی طرح ہر ستارے کی جسامت اور ایک ستارے سے دوسرے ستارے تک کے فاصلے کا اندازہ بھی نوری سالوں میں کیاجاسکتا ہے۔ یہاں اس آیت میں آسمان اور زمین کی وسعت سے مراد پوری کائنات کی وسعت ہے جس کا اندازہ کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ بہرحال اس مثال سے جنت کی وسعت کے تصور کو انسانی ذہن کی سطح پر ممکن حد تک قابل فہم بنانا مقصود ہے۔اس حوالے سے میرا گمان یہ ہے (واللہ اعلم!)کہ قیامت برپا ہونے کے بعد پہلی جنت اسی زمین پر بنے گی اور اہل جنت کی ابتدائی مہمانی (نُزُل) بھی یہیں پر ہوگی۔اس کے بعد اہل جنت کے درجات و مراتب کے مطابق ان کے لیے آسمانوں کے دروازے کھولے جائیں گے۔اس حوالے سے سورۃالاعراف کی اس آیت میں واضح فرما دیا گیا ہے : {اِنَّ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ اسۡتَکۡبَرُوۡا عَنۡہَا لَا تُفَتَّحُ لَہُمۡ اَبۡوَابُ السَّمَآءِ …} (آیت ۴۰) کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے اور ان کے بارے میں تکبر کرنے والوں کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔بہرحال اس کے بعد اہل جنت کو ان کے مراتب کے مطابق اس جنت میں منتقل کر دیا جائے گا جس کی وسعت کا یہاں ذکر ہوا ہے۔ اہل جنت کو وہاں جانے کے لیے کسی راکٹ وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوگی‘ بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں اسی انداز سے آسمانوں پر لے جائے گا جیسے محمد رسول اللہﷺ سفر معراج میں زمین سے ساتویں آسمان تک چلے گئے تھے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام ساتویں آسمان سے زمین پر آتے ہیں۔

اُعِدَّتۡ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ ؕ

’’وہ تیار کی گئی ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اللہ پر اور اُس کے رسولوں پر۔‘‘

’’اِعداد‘‘ (بابِ افعال)کے معنی ہیں کسی خاص مقصد کے لیے کسی چیز کو تیار کرنا۔ یعنی وہ جنت بڑے اہتمام سے تیار کی گئی ہے‘ سجائی اور سنواری گئی ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اللہ پر اور اُس کے رسولوں پر۔

ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۲۱﴾

’’یہ اللہ کا فضل ہے جس کو بھی وہ چاہے گا دے گا۔اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔‘‘

’’فَضْل‘‘ سے مراد ہے اللہ کی طرف سے بغیر استحقاق کے دی جانے والی شے۔ اس کے بالمقابل اجرت اور اجر کے الفاظ عام استعمال ہوتے ہیں‘ جن کا مطلب ہے بدلہ‘ جو کسی محنت اور مزدوری کا نتیجہ ہوتا ہے۔ لیکن قرآن مجید میں بالعموم جہاں بھی جنت کا تذکرہ آیا ہے وہاں لفظ ’’فَضْل‘‘ استعمال ہوا ہے۔ گویا قرآن مجید کا تصور یہ ہے کہ انسان مجرد اپنے عمل کے ذریعے سے جنت کا مستحق نہیں بن سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اس کی دست گیری نہ کرے۔ ٭

اب اگلی آیت میں دنیوی زندگی میں پیش آنے والی تکالیف و مشکلات کو قابل برداشت بنانے کا نسخہ بتایا جا رہا ہے۔ دراصل اہل ایمان کو جس راستے کی طرف بلایا جا رہا ہے وہ بہت کٹھن اور صبر آزما راستہ ہے۔ یہ انفاق‘ جہاد اور قتال کا راستہ ہے اور اس کی منزل ’’اقامت دین‘‘ ہے‘جس کا ذکر آگے آیت ۲۵ میں آ رہا ہے ۔ اس اعتبار سے آیت ۲۵ اس سورت کے ذروۂ سنام (climax) کا درجہ رکھتی ہیں۔ بہرحال اہل ایمان جب اس راستے پر گامزن ہوں گے تو آزمائشیں‘ صعوبتیں اور پریشانیاں قدم قدم پر ان کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کریں گی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اٹل قانون ہے جس کا ذکر قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ سورۃ البقرۃ میں ارشادِربانی ہے: {وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ } (آیت۱۵۵) ’’اورہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے‘‘۔جبکہ سورۂ آل عمران میں اس قانون کا ذکر ان الفاظ میں بیان ہوا ہے : {لَتُبۡلَوُنَّ فِیۡۤ اَمۡوَالِکُمۡ وَ اَنۡفُسِکُمۡ ۟ وَ لَتَسۡمَعُنَّ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ مِنَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡۤا اَذًی کَثِیۡرًا ؕ } (آیت ۱۸۶) ’’(مسلمانو! یاد رکھو) تمہیں لازماً آزمایا جائے گا تمہارے مالوں میں بھی اور تمہاری جانوں میں بھی‘ اور تمہیں لازماً سننا پڑیں گی بڑی تکلیف دہ باتیں ان لوگوں سے بھی جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور ان سے بھی جنہوں نے شرک کیا ‘‘۔ چنانچہ مشکلات و مصائب کی اس متوقع یلغار کے دوران اہل ایمان کو سہارا دینے کے لیے یہ نسخہ بتایاجا رہا ہے:

٭ اس ضمن میں یہ حدیث بھی ذہن میں رہنی چاہیے ۔ حضوراکرمﷺ نے ایک موقع پر فرمایا: ((لَنْ یُدْخِلَ اَحَدًا عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ)) ’’ تم میں سے کسی شخص کا عمل اسے ہرگز جنت میں داخل نہیں کرے گا(جب تک کہ اللہ کی رحمت اس کی دستگیری نہ فرمائے)‘‘۔اب کسی صحابی نے بڑی ہمت ‘حوصلے اور جرأت سے کام لیتے ہوئے پوچھ لیا: وَلَا اَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! ’’اے اللہ کے رسول ﷺ !کیا آپؐ بھی(اعمال کی بنیاد پر جنت میں داخل نہیں ہو سکتے)؟‘‘ اس پر آپﷺ نے فرمایا: ((لَا وَلَا اَنَا‘ اِلَّا اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ بِفَضْلٍ وَّرَحْمَۃٍ)) ’’ نہیں‘میں بھی نہیں‘اِلایہ کہ اللہ عزوجل اپنے فضل و کرم اور اپنی رحمت کی چادر سے مجھے ڈھانپ دے۔‘‘[ صحیح البخاری‘ کتاب المرضی‘ باب تمنی المریض الموت‘ح: ۵۶۷۳ ۔ وصحیح مسلم‘ کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار‘ باب لن یدخل احد الجنۃ بعملہ…‘ح:۲۸۱۸] (حاشیہ از مرتب)

22-24

حوادثِ دنیا کی حقیقت

ویڈیو

مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّبۡرَاَہَا ؕ اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرٌ ﴿ۚۖ۲۲﴾ لِّکَیۡلَا تَاۡسَوۡا عَلٰی مَا فَاتَکُمۡ وَ لَا تَفۡرَحُوۡا بِمَاۤ اٰتٰىکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرِۣ ﴿ۙ۲۳﴾ الَّذِیۡنَ یَبۡخَلُوۡنَ وَ یَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبُخۡلِ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿۲۴﴾

آیت 22

مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّبۡرَاَہَا ؕ

’’نہیں پڑتی کوئی پڑنے والی مصیبت زمین میں اور نہ تمہاری اپنی جانوں میں مگر یہ کہ وہ ایک کتاب میں درج ہے ‘اس سے پہلے کہ ہم اسے ظاہر کریں۔‘‘

اَصَابَ یُصِیْبُ (آپڑنا‘ نازل ہونا)سے اسم الفاعل ’’مُصِیْب‘‘ ہے اور اس کی مؤنث ’’مُصِیْبَۃ‘‘ ہے‘ جس کے معنی ہیں نازل ہونے یا آپڑنے والی شے۔ چنانچہ لغوی اعتبار سے تمام حوادث‘ واقعات ‘ کیفیات جو ہم پر وارد ہوتی ہیں‘ وہ سب کی سب اس میں شامل ہو جائیں گی‘ لیکن عام طور پر یہ لفظ تکلیف دہ‘ ناگوار اور ناپسندیدہ چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس آیت کی رو سے مصیبتیں دو قسم کی ہیں۔ یا تو آفاتِ ارضی و سماوی یعنی آفاقی مصیبتیں ‘جو زمین پر بڑے پیمانے پر نازل ہوتی ہیں‘ مثلاً سیلاب‘ زلزلے‘ طوفانِ باد و باراں وغیرہ‘ یا انسانوں کی اپنی جانوں پر کوئی مصیبت آن پڑتی ہے‘ مثلاً کوئی بیماری یا کوئی عارضہ لاحق ہو گیایا کوئی حادثہ پیش آ گیا۔ یہاں واضح فرما دیا گیا کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی انسانوں پر اجتماعی یا انفرادی طور پر کسی بھی شکل میں کوئی مصیبت‘ آفت یا تکلیف آتی ہے اس کے معرضِ وجود میں آنے سے قبل اس کی پوری تفصیل اللہ کے علم قدیم میں پہلے سے موجود ہوتی ہے۔

اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرٌ ﴿ۚۖ۲۲﴾

’’یقینا یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔‘‘

انسانوں کو یہ بات بے شک عجیب یا مشکل لگے ‘مگر اللہ کا علم مَا کَانَ وَمَا یَکُوْنُ پر محیط ہے۔ اس کے لیے کائنات کی ایک ایک چیز کا پوری تفصیل سے احاطہ کرنا کچھ بھی مشکل نہیں۔ یہ بات تم لوگوں کو بھلا کیوں بتائی جا رہی ہے؟ اس لیے :

آیت 23

لِّکَیۡلَا تَاۡسَوۡا عَلٰی مَا فَاتَکُمۡ

’’تاکہ تم افسوس نہ کیا کرو اُس پر جو تمہارے ہاتھ سے جاتا رہے‘‘

کوئی اچھا موقع ہاتھ سے نکل جانے پر انسان رہ رہ کر افسوس کرتا اور پچھتاتا ہے کہ اگر میں اس وقت یوں کر لیتا تو میرا یہ کام ہو جاتا‘ اگر فلاں شخص فلاں وقت فلاں رکاوٹ کھڑی نہ کردیتا تو میں فلاں نقصان سے بچ جاتا وغیرہ وغیرہ۔ ایسے پچھتاوے بعض اوقات زندگی کا روگ بن جاتے ہیں۔ لیکن اگر اللہ اور اُس کے فیصلوں پر انسان کا ایمان مضبوط ہو تو وہ اپنے بڑے سے بڑے نقصان کو بھی یہ کہہ کر بھلا دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو میرے حق میں ایسا ہی منظور تھا اور اس چیز کے میرے ہاتھ سے نکل جانے میں ہی خیر تھی‘ کیونکہ میرے لیے کیا بہتر ہے اور کیا بہتر نہیں ہے اس کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ سورۃ البقرۃ کی یہ آیت اس بارے میں بہت واضح ہے :

دوسرے مقام کی آیت

وَ عَسٰۤی اَنۡ تَکۡرَہُوۡا شَیۡئًا وَّ ہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ ۚ وَ عَسٰۤی اَنۡ تُحِبُّوۡا شَیۡئًا وَّ ہُوَ شَرٌّ لَّکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۲۱۶﴾

’’اورہو سکتا ہے کہ تم کسی شے کو ناپسند کرواور وہ تمہارے لیے بہتر ہو‘ اور ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو درآنحالیکہ وہی تمہارے لیے بری ہو۔اور اللہ جانتا ہے‘ تم نہیں جانتے۔‘‘

وَ لَا تَفۡرَحُوۡا بِمَاۤ اٰتٰىکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرِۣ ﴿ۙ۲۳﴾

’’اور اس پر اِترایا نہ کرو جو وہ تمہیں دے دے ‘اور اللہ کو بالکل پسند نہیں ہیں اِترانے والے اور فخر کرنے والے۔‘‘

ایسی کسی صورت میں انسان کے لیے اترانے کا جواز اس لیے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جو کچھ بھی دیا جا تاہے دراصل اس کی آزمائش کے لیے دیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے ہمیں اس حقیقت کو کسی وقت بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اس دنیا میں ہمیں جو نعمت ‘ صلاحیت یا دولت ملتی ہے اس کے لیے ہمیں جواب دہ ہونا ہے ۔چنانچہ جس انسان کے پاس دُنیوی نعمتوں کی جس قدر بہتات ہو گی جوابدہی کے حوالے سے اس کی ذمہ داری بھی اسی حد تک بڑھ جائے گی۔ اکاؤنٹس کی زبان میں ایسی ذمہ داری کو liability کہا جاتا ہے۔ جب کسی محکمے یا ادارے کی balance sheet تیار ہوتی ہے تو اس ادارے کو ملنے والا سرمایہ liability کے کھاتے میں لکھا جاتا ہے۔ کھاتے میں liability کا اندراج ہو جانے کے بعد اس کی ایک ایک پائی کا حساب دینا اس ادارے کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ انسان کو دنیا میں جو کچھ دیتا ہے وہ اس کے ذمہ liability ہے۔ کل قیامت کے دن اس میں سے ہر چیز کا آڈٹ ہونا ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ بندے سے پوچھے گا کہ تمہیں جو مال دیا گیا تھا بتاؤ اس کا تم نے کیا کیا؟ میری طرف سے دی گئی قوت‘ذہانت اور دوسری صلاحیتوں کو کہاں کہاں صرف کیا؟ دنیا بنانے میں کھپایا یا آخرت کمانے میں لگایا؟ اس احتساب یا آڈٹ کا تصور کر کے ہم میں سے ہر ایک کواپنے اپنے کھاتے کی فکر کرنی چاہیے ۔جیسے آج ہمارے بہت سے لوگ ورلڈ بینک‘ آئی ایم ایف اور بین الاقوامی سطح کے دوسرے اداروں میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں اور لاکھوں ڈالر تنخواہ وصول کررہے ہیں۔ان کے نزدیک یقینا یہ بہت بڑے اعزاز اور فخر کی بات ہے‘ لیکن ایسے لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ کس کی چاکری کر رہے ہیں؟ اور کس کی رتھ میں گھوڑے بن کر جتے ہوئے ہیں؟ ظاہر ہے وہ باطل نظام کی خدمت کر رہے ہیں اور اسی نظام سے اپنی خدمت کا معاوضہ وصول کر رہے ہیں۔ پھر ایسے لوگوں کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ آخرت کے آڈٹ کے وقت وہ اپنی balance sheet کو کیسے justify کریں گے۔

چنانچہ انسان کو مال و دولت اور دوسری نعمتوں پر اترانے کے بجائے ان کے حساب کتاب کی فکر کرنی چاہیے اور یہ سمجھناچاہیے کہ یہ چیزیں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش کے طو رپر دی گئی ہیں۔ اگر وہ اس آزمائش میں ناکام ہو گیا تو یہی نعمتیں آخرت میں اُس کے گلے کا طوق بن جائیں گی۔ اس حوالے سے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہ کا ایک واقعہ بہت عبرت انگیز ہے۔ آپؒ کو خلیفہ وقت کی طر ف سے ’’خلقِ قرآن‘‘ کے مسئلے پر جیل میں ڈالا گیا۔ خلیفہ آپؒ سے اپنی مرضی کا فتویٰ حاصل کرنا چاہتا تھا اور اس کے لیے خلیفہ کے حکم پر جیل میں آپؒ پر بے پناہ تشدد ہوا۔ روایات میں آتا ہے کہ جس انداز میں آ پؒ کو پیٹا جاتا تھا ایسی مار کسی ہاتھی کو پڑتی تو وہ بھی بلبلا اٹھتا‘ مگر اس بے رحم تشدد کو آپؒ نے ایسے حوصلے اور صبر سے برداشت کیا کہ کبھی آنکھوں میں آنسو تک نہ آئے۔ مگر جب نئے خلیفہ کے دور میں آپؒ کو جیل سے رہا کیا گیا اور خلیفہ کے ایلچی آپؒ کی خدمت میں اشرفیوں کے تھیلے لے کر حاضر ہوئے تو ان تھیلوں کو دیکھ کر آپؒ رو پڑے۔ آپؒ نے روتے ہوئے اللہ کے حضور عرض کی کہ اے اللہ‘ یہ آزمائش بہت سخت ہے! میں اس سے عہدہ برآ ہونے کے قابل نہیں ہوں‘مجھے اس امتحان میں مت ڈال! اس حوالے سے دوسری انتہا پر برصغیر کے قوم فروشوں کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ برصغیر میں انگریزوں نے بڑی بڑی جاگیروں ‘ عہدوں اور خطابات کے ذریعے یہاں کے لوگوں کو خریدااور حکمرانوں کے ہاتھوں بکنے کے بعد وہ لوگ اپنی قوم سے غداری کر کے اپنے آقائوں کی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔بہرحال یہ ہر انسان کا اپنا فیصلہ ہے کہ اس کی ترجیح دنیا ہے یا آخرت؟

آیت 24

الَّذِیۡنَ یَبۡخَلُوۡنَ وَ یَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبُخۡلِ ؕ

’’جو لوگ بخل سے کام لیتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کا مشورہ دیتے ہیں۔‘‘

جو شخص اپنی دولت پر اِتراتا ہے وہ اسے بہت سنبھال سنبھال کر بھی رکھتا ہے‘ کیونکہ اسی دولت کے بل پر تو اس کی اکڑ قائم ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ اس دولت کو بچا بچا کر رکھتا ہے اور نہ صرف خود بخل سے کام لیتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے روکتا ہے ۔دراصل اسے یہ اندیشہ لاحق ہوتا ہے کہ جب دوسرے لوگ اللہ کی راہ میں بڑھ چڑھ کر خرچ کریں گے تو اُس کے بخل کا بھانڈا پھوٹ جائے گا۔ اس لیے وہ دوسروں کو بڑے مخلصانہ انداز میں سمجھاتا ہے کہ میاں ذرا اپنی ضروریات کا بھی خیال رکھو ‘تم نے تو اپنے دونوں ہاتھ کھلے چھوڑ رکھے ہیں۔ آخر تمہارے ہاں چار بیٹیاں ہیں ‘ان کے ہاتھ بھی تم نے پیلے کرنے ہیں۔ آج کی بچت ہی کل تمہارے کام آئے گی… !

وَ مَنۡ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿۲۴﴾

’’اور جو کوئی رخ پھیرے گا تو (وہ سن رکھے کہ) اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں خود ستودہ صفات ہے۔‘‘

وہ غنی ہے‘ اسے کسی کی احتیاج نہیں ہے۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ اگر وہ اقامت دین کی جدوجہد میں اپنے جان و مال سے شریک نہ ہو گا تو یہ کام نہیں ہو گا۔ اسے کسی کی حمد و ثنا کی بھی کوئی احتیاج نہیں ہے‘ وہ اپنی ذات میں خودمحمودہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے