تحریر

الحديد

آیات ۱۶ تا ۱۹

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

16

کیا اب بھی نادم ہونے کا وقت نہیں آیا ؟

ویڈیو

اَلَمۡ یَاۡنِ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخۡشَعَ قُلُوۡبُہُمۡ لِذِکۡرِ اللّٰہِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الۡحَقِّ ۙ وَ لَا یَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلُ فَطَالَ عَلَیۡہِمُ الۡاَمَدُ فَقَسَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ وَ کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۱۶﴾

تمہید

اب اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ ہر اُس شخص سے سوال کر رہے ہیں جس نے اب تک کی یہ سب باتیں پڑھ کر یا سن کر اپنے دل میں اتار لی ہیں۔ سوال و خطاب کایہ بہت جذباتی انداز ہے :

آیت 16

اَلَمۡ یَاۡنِ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخۡشَعَ قُلُوۡبُہُمۡ لِذِکۡرِ اللّٰہِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الۡحَقِّ ۙ

’’کیا ابھی وقت نہیں آیا ہے اہل ایمان کے لیے کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد کے لیے اور اُس (قرآن) کے آگے کہ جو حق میں سے نازل ہو چکا ہے؟‘‘

یہاں قرآ ن کے بارے میں فرمایا گیا : {وَ مَا نَزَلَ مِنَ الۡحَقِّ ۙ} یہی بات سورۂ بنی اسرائیل میں زیادہ پرزور انداز میں فرمائی گئی ہے : {وَ بِالۡحَقِّ اَنۡزَلۡنٰہُ وَ بِالۡحَقِّ نَزَلَ ؕ } (آیت ۱۰۵) ’’اور ہم نے اس کو نازل کیا ہے حق کے ساتھ اور یہ نازل ہوا ہے حق کے ساتھ۔‘‘

دین یا نیکی کے معاملے میں فیصلہ کرتے ہوئے انسان ہمیشہ تاخیر و تعویق سے کام لیتا ہے کہ یہ کر لوں‘ وہ کرلوں‘ بس اس کے بعد اپناطرزِ زندگی درست کر لوں گا!ابھی ذرا بچیوں کے ہاتھ پیلے کر لوں! بس ذرا یہ بچوں کی تعلیم مکمل ہو لے وغیرہ وغیرہ۔ اور دیکھا جائے تو بچوں کی تعلیم ہے کیا؟ صرف دنیا بنانے اور دنیا کمانے کے علم و فن کی تحصیل! گویا جس کوئے ملامت کے طواف میں خود ساری عمر برباد کر دی انہی راستوں پر اپنی اولاد کو گامزن کرنے کے خواب دیکھے جا رہے ہیں! پھریوں بھی ہوتا ہے کہ بچوں کے کیریئرز بنانے کے جنون میں انہیں کچی عمر میں برطانیہ اور امریکہ بھیجنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔ وہاں جا کر بچے جب ’’ترقی‘‘ کی منازل طے کرتے کرتے اس ’’مقام‘‘ پر پہنچ جاتے ہیں کہ مذہب و اخلاق سے اپنے تعلق کو باعث عار سمجھنے لگتے ہیں تو پھر یہ لوگ بیٹھ کر روتے ہیں اور لادینی تہذیب و تمدن کو کوستے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے اس سوال پر لازم ہے کہ ہم سب اپنے اپنے ضمیر کی عدالت میں پیش ہو کر خود سے پوچھیں کہ کیا ہماری زندگیوں میں وہ وقت ابھی نہیں آیا کہ ہم اللہ اور قرآن کے احکام کے سامنے جھک جائیں؟

وَ لَا یَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلُ

’’اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی‘‘

فَطَالَ عَلَیۡہِمُ الۡاَمَدُ فَقَسَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ

’’تو جب ان پر ایک طویل مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے ۔‘‘

یہاں پر { فَقَسَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ } کے یہ الفاظ پڑھتے ہوئے سورۃ البقرۃ کی آیت ۷۴ کا وہ حصہ بھی ذہن میں تازہ کر لیں جس میں بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے فرمایا گیا : {ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالۡحِجَارَۃِ اَوۡ اَشَدُّ قَسۡوَۃً ؕ} ’’پھر تمہارے دل سخت ہو گئے اس سب کچھ کے بعد‘پس اب تو وہ پتھروں کی مانند ہیں‘ بلکہ سختی میں ان سے بھی زیادہ شدید ہیں۔‘‘

وَ کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۱۶﴾

’’اور ان کی اکثریت اب فاسقوں پر مشتمل ہے۔‘‘

آیت زیر مطالعہ کے الفاظ {وَ لَا یَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلُ } میں واضح طور پر بتا دیا گیا کہ بنی اسرائیل بھی تمہاری طرح اپنے زمانے کی اُمتِ مسلمہ تھے۔ ان کی روش کو بھی تم جانتے ہو اور ان کے انجام سے بھی تم آگاہ ہو۔ دیکھ لو! اگر تم نے اب بھی توبہ نہ کی اور اپنی روش تبدیل نہ کی تو یہ مت بھولو کہ ان کی طرح تمہیں بھی نشانِ عبرت بنایا جا سکتا ہے۔

اس ڈانٹ کے بعد اب اگلی آیت میں ہمت افزائی کی جا رہی ہے کہ دیکھو! اگر تم سمجھتے ہو کہ تمہارے دل کی ’’زمین‘‘ ایمان کی فصل کے قابل نہیں رہی ‘تو بھی تمہیں گھبرانے یا مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔

17-19

دل کی سختی دور کرنے کا قرآنی راستہ

ویڈیو

اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یُحۡیِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ قَدۡ بَیَّنَّا لَکُمُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۷﴾ اِنَّ الۡمُصَّدِّقِیۡنَ وَ الۡمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقۡرَضُوا اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَہُمۡ وَ لَہُمۡ اَجۡرٌ کَرِیۡمٌ ﴿۱۸﴾ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖۤ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصِّدِّیۡقُوۡنَ ٭ۖ وَ الشُّہَدَآءُ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ لَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ وَ نُوۡرُہُمۡ ؕ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَحِیۡمِ ﴿٪۱۹﴾

آیت 17

اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یُحۡیِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ

’’جان لو کہ اللہ زندہ کر دیتا ہے زمین کو اُس کے مرنے کے بعد ۔‘‘

تم اکثر دیکھتے ہو کہ بے آب و گیاہ بنجر زمین پر جب بارش برستی ہے تو اس کے ذرے ذرے میں زندگی رواں دواں ہو جاتی ہے۔ لہٰذا اگر تم لوگ بھی خلوصِ نیت کے ساتھ توبہ کر لوگے اور اللہ کے حضور جھک جاؤ گے تو وہ اپنی نظر رحمت سے تمہارے دلوں کی زمین کو بھی ازسر نو زندگی بخش دے گا اور اسے پھر سے ایمان کی فصل کے قابل بنا دے گا۔

قَدۡ بَیَّنَّا لَکُمُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۷﴾

’’ہم نے تو تمہارے لیے اپنی آیات خوب واضح کردی ہیں تاکہ تم عقل سے کام لو۔‘‘

لہٰذا تم عقل سے کام لیتے ہوئے اس مثال سے سبق سیکھو! تم خوب سمجھتے ہو کہ فصلیں کب برباد ہوتی ہیں اور زمینیں کیونکر بنجر بنتی ہیں‘ تمہیں بنجر زمینوں کو پھر سے سرسبز وشاداب بنانے کا نسخہ بھی معلوم ہے۔ یہی نسخہ ذرا اپنے دل کی زمین پر بھی آزماؤ اوراس زمین کو بھی پھر سے آباد کرنے پر کمر ہمت باندھو۔ توکل علی اللہ کا سرمایہ اکٹھا کرو‘ انفاق فی سبیل اللہ کے ہل چلا کر حب مال کے جھاڑ جھنکاڑ سے جان چھڑاؤ ‘پھر اللہ کی اطاعت و محبت کے بیج بو کر اس کے ذکر کے پانی سے مسلسل آبیاری کرتے چلے جاؤ اور دل میں یقین رکھو کہ اللہ مردہ زمینوں کو پھر سے زندہ کر دیا کرتا ہے۔

آیت 18

اِنَّ الۡمُصَّدِّقِیۡنَ وَ الۡمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقۡرَضُوا اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَہُمۡ وَ لَہُمۡ اَجۡرٌ کَرِیۡمٌ ﴿۱۸﴾

’’یقینا صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جو قرض دیں اللہ کو قرضِ حسنہ‘ ان کو کئی گنا بڑھا کر دیا جائے گا اور ان کے لیے بڑا باعزت اجر ہے۔‘‘

سورۃ البقرۃ کے رکوع ۳۵ اور ۳۶ کے مطالعہ کے دوران بھی یہ نکتہ واضح کیا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے مال خرچ کرنے کی د و مدیں ہیں ---- یعنی ایک صدقہ اور دوسری انفاق فی سبیل اللہ یا اللہ کے لیے قرضِ حسنہ۔ چنانچہ وہ مال جو اللہ کی رضا کے لیے غرباء‘ مساکین‘ بیوائوں‘ یتیموں‘ بیماروں‘ مسافروں‘ مقروضوں‘ محتاجوں اور ضرورت مند انسانوں کی مدد اور حاجت روائی کے لیے خرچ کیا جائے وہ صدقہ ہے۔ اسی مفہوم میں سورۃ التوبہ کی آیت ۶۰ میں زکوٰۃ کو بھی ’’صدقہ‘‘ قرار دیا گیا ہے ۔کیونکہ زکوٰۃ بنیادی طور پر غرباء و مساکین اور محتاجوں کے لیے ہے۔ اس میں اللہ کے لیے (فی سبیل اللہ)صرف ایک مد رکھی گئی ہے۔ اس حوالے سے دوسری اصطلاح ’’انفاق فی سبیل اللہ‘‘ یا اللہ کے لیے قرضِ حسنہ کی ہے۔ واضح رہے کہ یہ باقاعدہ ایک اصطلاح کی بات ہو رہی ہے‘ ورنہ عرفِ عام میں تو صدقہ بھی فی سبیل اللہ ہی ہے ‘کیونکہ وہ بھی اللہ کے لیے اور اسکی رضاجوئی کے لیے ہی دیا جاتا ہے۔ بہرحال ایک باقاعدہ اصطلاح کے اعتبار سے انفاق فی سبیل اللہ ایسا انفاق ہے جو اللہ کے دین کے لیے ‘ دین کی نشرو اشاعت کے لیے اور اس کے غلبہ واقامت کی جدوجہد کے لیے کیا جائے اور یہی وہ انفاق ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنے ذمہ قرض قرار دیتا ہے ۔

اللہ کی مشیت سے مردہ زمین کے زندہ ہو جانے کے ذکرکے بعد یہاں صدقہ اور اللہ کے لیے قرضِ حسنہ کی ترغیب میں گویا دل کی مردہ زمین کو پھر سے ایمان کی فصل کے لائق بنانے کی ترکیب پنہاں ہے ۔یعنی اگر تم نے دل کی مردہ زمین کو زندہ کرنا ہے تو اس میں انفاقِ مال کا ہل چلاؤ اور اس میں سے حبِ دنیا کی جڑوں کو کھود کھود کر نکال باہر کرو۔یقین رکھو کہ جیسے جیسے تم اللہ کی رضا کے لیے مال خرچ کرتے جاؤ گے ‘ویسے ویسے تمہارے دل کی زمین میں ایمان کی فصل جڑیں پکڑتی چلی جائے گی۔ دنیا کی محبت کو میں عام طور پر گاڑی کی بریک سے تشبیہہ دیا کرتا ہوں۔ جس طرح گاڑی کو بریک لگی ہو تو وہ حرکت میں نہیں آ سکتی ‘اسی طرح اگر دنیا کی محبت آپ کے دل میں پیوست ہو چکی ہے تو اس میں اللہ کے راستے پر گامزن ہونے کی امنگ پیدا نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ دل کی گاڑی کو رضائے الٰہی کی شاہراہ پر رواں دواں کرنے کے لیے اس کی بریک سے پائوں اٹھانا بہت ضروری ہے۔ یعنی اس کے لیے مال کی محبت کو دل سے نکالنا ناگزیر ہے ۔اور اس محبت کو دل سے نکالنے کی ترکیب یہی ہے کہ اپنے مال کو زیادہ سے زیادہ اللہ کے راستے میں خرچ کیا جائے۔

آیت 19

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖۤ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصِّدِّیۡقُوۡنَ ٭ۖ وَ الشُّہَدَآءُ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ

’’اور جو لوگ ایمان لائے اللہ پر اور اُس کے رسولوں پر وہی ہیں صدیق اور شہداء اپنے رب کے پاس۔‘‘

یعنی وہ لوگ جو صدقات کے ذریعے اور اللہ کو قرضِ حسنہ دے کر اپنے دلوں سے مال کی محبت اور اس کی نجاست کو دھو ڈالتے ہیں ‘وہ جب ایمانِ حقیقی سے سرشار ہوتے ہیں تو اب ان کے لیے مقامِ صدیقیت اور مرتبۂ شہادت تک پہنچنے کا راستہ کھلا ہوا ہے۔ صدقہ و خیرا ت اور انفاق فی سبیل اللہ سے اگر دل کی گاڑی کی بریک کھل گئی اور یہ گاڑی ایمانِ حقیقی کے راستے پر رواں دواں ہو گئی تو پھر اہل ایمان میں سے ہر کوئی اپنی ہمت اور کوشش کے مطابق اس راستے کی منازل طے کرنے کے قابل ہو جائے گا ۔ سیاقِ مضمون کے اعتبار سے اس آیت کا مفہوم یہ ہو گا کہ اگر تم نے انفاقِ مال کے ذریعے مال کی محبت کو دل سے نکال کر اللہ کی محبت سے اپنے دل کو آباد کرلیا تو ایمانِ حقیقی تمہارے دلوں میں راسخ ہوتا چلا جائے گا۔ اس کے بعد تم اپنی اپنی کوششوں اور اپنی اپنی طبائع کے مطابق ترقی کرتے چلے جاؤ گے۔ ترقی کے اس راستے میں تم میں سے بعض لوگ شہادت کے مقام پر بھی فائز ہوسکتے ہیں اور بعض صدیقیت کا مرتبہ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ وہی اعلیٰ مراتب ہیں جن کا ذکر سورۃ النساء کی اس آیت میں ہوا ہے :

دوسرے مقام کی آیت

وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیۡقِیۡنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا ﴿ؕ۶۹﴾

’’اور جو کوئی اطاعت کرے گا اللہ کی اور رسولؐکی تو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہیں معیت حاصل ہو گی اُن کی جن پر اللہ کا انعام ہوا یعنی انبیاء کرام‘ صدیقین‘ شہداء اورصالحین‘ اور کیا ہی اچھے ہیں یہ لوگ رفاقت کے لیے!‘‘

چنانچہ تم ہمت کرو‘ اپنے اپنے دل کی گاڑی کی بریک کھولو‘ ایمان کا ایکسلریٹر (accelerator) دباؤ اور اللہ کے راستے پر نکل پڑو۔ اس ایکسلریٹر کو تم جتنا بڑھاتے چلے جاؤ گے اسی نسبت سے تمہاری منزل قریب سے قریب تر ہوتی چلی جائے گی۔ (انسانی مزاج اور طبائع کے اعتبار سے مقامِ صدیقیت اور مقامِ شہادت کی تفصیل جاننے کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ مریم کی آیت ۴۱ کی تشریح۔)

لَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ وَ نُوۡرُہُمۡ ؕ

’’ان کے لیے ہو گا ان کا اجر اور ان کا نور۔‘‘

انہیں اللہ کے ہاں سے اجر بھی ملے گا اور نور بھی۔ نور تو میدانِ حشر میں پل صراط سے گزرنے کے لیے ملے گا ‘جبکہ اجر جنت میں داخلے اور اس میں درجات کی بلندی کے لیے ملے گا۔

وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَحِیۡمِ ﴿٪۱۹﴾

’’اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہی دوزخ والے ہیں۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے