اَلَمۡ یَاۡنِ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخۡشَعَ قُلُوۡبُہُمۡ لِذِکۡرِ اللّٰہِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الۡحَقِّ ۙ
’’کیا ابھی وقت نہیں آیا ہے اہل ایمان کے لیے کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد کے لیے اور اُس (قرآن) کے آگے کہ جو حق میں سے نازل ہو چکا ہے؟‘‘
یہاں قرآ ن کے بارے میں فرمایا گیا : {وَ مَا نَزَلَ مِنَ الۡحَقِّ ۙ} یہی بات سورۂ بنی اسرائیل میں زیادہ پرزور انداز میں فرمائی گئی ہے : {وَ بِالۡحَقِّ اَنۡزَلۡنٰہُ وَ بِالۡحَقِّ نَزَلَ ؕ } (آیت ۱۰۵) ’’اور ہم نے اس کو نازل کیا ہے حق کے ساتھ اور یہ نازل ہوا ہے حق کے ساتھ۔‘‘
دین یا نیکی کے معاملے میں فیصلہ کرتے ہوئے انسان ہمیشہ تاخیر و تعویق سے کام لیتا ہے کہ یہ کر لوں‘ وہ کرلوں‘ بس اس کے بعد اپناطرزِ زندگی درست کر لوں گا!ابھی ذرا بچیوں کے ہاتھ پیلے کر لوں! بس ذرا یہ بچوں کی تعلیم مکمل ہو لے وغیرہ وغیرہ۔ اور دیکھا جائے تو بچوں کی تعلیم ہے کیا؟ صرف دنیا بنانے اور دنیا کمانے کے علم و فن کی تحصیل! گویا جس کوئے ملامت کے طواف میں خود ساری عمر برباد کر دی انہی راستوں پر اپنی اولاد کو گامزن کرنے کے خواب دیکھے جا رہے ہیں! پھریوں بھی ہوتا ہے کہ بچوں کے کیریئرز بنانے کے جنون میں انہیں کچی عمر میں برطانیہ اور امریکہ بھیجنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔ وہاں جا کر بچے جب ’’ترقی‘‘ کی منازل طے کرتے کرتے اس ’’مقام‘‘ پر پہنچ جاتے ہیں کہ مذہب و اخلاق سے اپنے تعلق کو باعث عار سمجھنے لگتے ہیں تو پھر یہ لوگ بیٹھ کر روتے ہیں اور لادینی تہذیب و تمدن کو کوستے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے اس سوال پر لازم ہے کہ ہم سب اپنے اپنے ضمیر کی عدالت میں پیش ہو کر خود سے پوچھیں کہ کیا ہماری زندگیوں میں وہ وقت ابھی نہیں آیا کہ ہم اللہ اور قرآن کے احکام کے سامنے جھک جائیں؟
وَ لَا یَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلُ
’’اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی‘‘
فَطَالَ عَلَیۡہِمُ الۡاَمَدُ فَقَسَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ
’’تو جب ان پر ایک طویل مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے ۔‘‘
یہاں پر { فَقَسَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ } کے یہ الفاظ پڑھتے ہوئے سورۃ البقرۃ کی آیت ۷۴ کا وہ حصہ بھی ذہن میں تازہ کر لیں جس میں بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے فرمایا گیا : {ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالۡحِجَارَۃِ اَوۡ اَشَدُّ قَسۡوَۃً ؕ} ’’پھر تمہارے دل سخت ہو گئے اس سب کچھ کے بعد‘پس اب تو وہ پتھروں کی مانند ہیں‘ بلکہ سختی میں ان سے بھی زیادہ شدید ہیں۔‘‘
وَ کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۱۶﴾
’’اور ان کی اکثریت اب فاسقوں پر مشتمل ہے۔‘‘
آیت زیر مطالعہ کے الفاظ {وَ لَا یَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلُ } میں واضح طور پر بتا دیا گیا کہ بنی اسرائیل بھی تمہاری طرح اپنے زمانے کی اُمتِ مسلمہ تھے۔ ان کی روش کو بھی تم جانتے ہو اور ان کے انجام سے بھی تم آگاہ ہو۔ دیکھ لو! اگر تم نے اب بھی توبہ نہ کی اور اپنی روش تبدیل نہ کی تو یہ مت بھولو کہ ان کی طرح تمہیں بھی نشانِ عبرت بنایا جا سکتا ہے۔
اس ڈانٹ کے بعد اب اگلی آیت میں ہمت افزائی کی جا رہی ہے کہ دیکھو! اگر تم سمجھتے ہو کہ تمہارے دل کی ’’زمین‘‘ ایمان کی فصل کے قابل نہیں رہی ‘تو بھی تمہیں گھبرانے یا مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔