یُنَادُوۡنَہُمۡ اَلَمۡ نَکُنۡ مَّعَکُمۡ ؕ
’’وہ (منافق) انہیں پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟‘‘
ہم تمہارے ساتھ مسجد نبویؐ میں نمازیں پڑھا کرتے تھے ۔ عیدوں کی نمازوں میں بھی ہم تمہارے ساتھ ہوتے تھے۔ ہم نے تمہارے ساتھ فلاں فلاں مہمات میں بھی حصہ لیا۔ ہر جگہ ‘ ہر مقام پر ہم تمہارے ساتھ ہی تو تھے۔پھر آج تمہارے اور ہمارے مابین اتنا فرق و تفاوت کیوں ہے؟
قَالُوۡا بَلٰی
’’وہ کہیں گے :ہاں کیوں نہیں! (تم تھے تو ہمارے ساتھ ہی)۔‘‘
وَ لٰکِنَّکُمۡ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ
’’لیکن تم نے اپنے آپ کو (اپنے ہاتھوں)فتنے میں ڈالا‘‘
فتنہ کیا ہے؟ قرآن مجید میں فتنے کی تین نسبتیں بیان کی گئی ہیں۔ کہیں تو اللہ تعالیٰ اس کی نسبت اپنی طرف کرتا ہے کہ ہم نے ان کو فتنے میں ڈالا ہے کہ ہم آزما کر ظاہر کر دیں کہ کون کھرا ہے‘ کون کھوٹا ہے ۔ دوسری نسبت ان کفار کی طرف کی گئی جو مسلمانوں کو ستا رہے تھے اور انہیں فتنے میں ڈال رہے تھے۔ تیسری نسبت یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالتا ہے۔ یعنی جو لوگ اہل و عیال اور متاعِ دنیوی کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں اور ان کی محبت کو اللہ کی محبت پر ترجیح دیتے ہیں وہ اپنے آپ کو فتنے میں مبتلا کر لیتے ہیں۔ اس فتنے کا ذکر سورۃ التغابن میں بایں الفاظ فرمایا گیا: {اِنَّمَاۤ اَمۡوَالُکُمۡ وَ اَوۡلَادُکُمۡ فِتۡنَۃٌ ؕ } (آیت ۱۵) ’’بلاشبہ تمہارے مال اورتمہاری اولاد (تمہارے حق میں) فتنہ ہیں‘‘۔ اللہ تعالیٰ‘ اس کے رسول ؐاور جہاد فی سبیل اللہ کے مقابلے میں اپنے مال و متاع او ر اہل و عیال کو عزیز ترجاننا سب سے بڑا فتنہ ہے۔ یہاں پر سورۃ التوبہ کی یہ آیت بھی ذہن میں تازہ کر لیں: {قُلۡ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ وَ اِخۡوَانُکُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ وَ عَشِیۡرَتُکُمۡ وَ اَمۡوَالُۨ اقۡتَرَفۡتُمُوۡہَا وَ تِجَارَۃٌ تَخۡشَوۡنَ کَسَادَہَا وَ مَسٰکِنُ تَرۡضَوۡنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ جِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿٪۲۴﴾}
’’ (اے نبی ﷺ !ان سے)کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ ‘تمہارے بیٹے‘تمہارے بھائی‘تمہاری بیویاں (اور بیویوں کے لیے شوہر)‘تمہارے رشتہ دار اور وہ مال جو تم نے بہت محنت سے کمائے ہیں ‘اور وہ تجارت جس کے مندے کا تمہیں خطرہ رہتا ہے ‘اور وہ مکانات جو تمہیں بہت پسند ہیں ‘( اگر یہ سب چیزیں) تمہیں محبوب تر ہیں اللہ‘اُس کے رسول اور اُس کے راستے میں جہاد سے ‘تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ سنا دے۔ اور اللہ ایسے فاسقوں کو راہ یاب نہیں کرتا۔‘‘
اس آیت نے گویا ایک ترازو نصب کر کے اس کے ایک پلڑے میں آٹھ اور دوسرے میں تین محبتیں رکھ دی ہیں۔ اب ہر کوئی اپنے اپنے پلڑوں کی کیفیت کو دیکھ کر اندازہ لگا سکتا ہے کہ وہ کہاں کھڑا ہے۔ تو اے گروہِ منافقین ! تم خود بتاؤ تم نے اپنی زندگیوں میں ان میں سے کونسے پلڑے کو جھکا کر رکھاتھا؟ آٹھ محبتوں والے پلڑے کو یااللہ و رسول ؐاور جہاد کی محبت والے پلڑے کو؟ ظاہر ہے دنیا میں تم لوگ دنیاداری کے تقاضوں کو‘ اپنے مال و منال اور اہل و عیال کو اللہ کی رضا اور اس کے رسول ؐکی محبت پر ترجیح دیتے رہے ہو۔ یہ تمہارا اپنا فیصلہ تھا۔ یہ فیصلہ کرکے تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا اور اس کا نتیجہ کیا نکلا؟
وَ تَرَبَّصۡتُمۡ
’’اور تم گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہوگئے‘‘
یہ وہی لفظ ہے جو سورۃ التوبہ کی مذکورہ بالا آیت کے آخر میں (فَتَرَبَّصُوْا) آیا ہے۔ تَرَبُّص کے معنی انتظار کے بھی ہیں کہ آدمی کسی جگہ پر ٹھٹک کر کھڑا ہو جائے۔ ایمان و عمل کے معاملے میں یہ ’’انتظار‘‘ ہی دراصل فتنہ ہے۔ یہ ایمان کی ڈانواں ڈول کیفیت کا نام ہے جس کی وجہ سے آدمی فیصلہ نہیں کر سکتا کہ آگے بڑھوں یا نہ بڑھوں! آگے بڑھتا ہوں تو جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں اور رُکتا ہوں تو باز پرس کا ڈر ہے۔ ایسی صورت حال میں وہ سوچنے لگتا ہے کہ کچھ دیر انتظار کرتا ہوں‘ اگر خطرہ ٹل گیا تو آگے بڑھ جائوں گا ‘ورنہ پیچھے مڑ جاؤں گا۔ اورباز پرس ہو گی تو جھوٹ بول کر جان بچا لوں گا۔
وَ ارۡتَبۡتُمۡ
’’اور تم لوگ شکوک و شبہات میں پڑ گئے‘‘
پھر تمہاری منافقت کا مرض بڑھ کر اگلے مرحلے میں داخل ہوگیا۔ یعنی پہلے اللہ کے مقابلے میں مال و اولاد کی محبت نے فتنے میں ڈالا‘ اس کا نتیجہ ’’تربُّص‘‘ (گومگو کی کیفیت) کی صورت میں سامنے آیا ۔پھر اس کے بعد ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب بچے کھچے ایمان میں شکوک و شبہات کے کانٹے چبھنے شروع ہوگئے کہ کیا پتا قیامت آئے گی بھی کہ نہیں! معلوم نہیں یہ مر کر زندہ ہونے کی باتیں سچی اور واقعی ہیں یا محض افسانے ہیں! یہ دنیا تو ایک حقیقت ہے‘ لیکن آخرت کا کیا اعتبار! یہاں کا عیش اور یہاں کے مزے تو نقد ہیں۔ اس آرام و آسائش کو اگر میں آخرت کے موہوم وعدے پر قربان کر دوں تو پتا نہیں اس کااجر ملے گا بھی یا نہیں ! اس کے بعد اس مرض کی آخری نشانی بتائی گئی :
وَ غَرَّتۡکُمُ الۡاَمَانِیُّ
’’اور تمہیں دھوکے میں ڈال دیا تمہاری خواہشات نے‘‘
ان خواہشات کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اللہ بڑا غفور رحیم ہے۔ وہ بڑے بڑے گناہگاروں کو بخش دیتا ہے۔ ہم جو بھی ہیں ‘جیسے بھی ہیں‘ اللہ تعالیٰ کے محبوبﷺکی اُمت ہیں۔ بالکل ایسا ہی زعم یہودیوں کو بھی تھاکہ ہم اللہ کے محبوب وبرگزیدہ بندے ہیں: We are the chosen people of the Lord۔ چنانچہ تم لوگ اپنی انہی خوش فہمیوں میں مگن رہے۔ اس مرحلے میں اگر کبھی توبہ کرنے اور روش تبدیل کرنے کا خیال تمہیں آیا بھی تو خوشنما آرزوؤں (wishful thinkings) کے تصور نے تمہارے ضمیر کو تھپک تھپک کرپھر سے سلا دیا۔
حَتّٰی جَآءَ اَمۡرُ اللّٰہِ وَ غَرَّکُمۡ بِاللّٰہِ الۡغَرُوۡرُ ﴿۱۴﴾
’’یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آ گیااور تمہیں خوب دھوکہ دیا اللہ کے معاملے میں اُس بڑے دھوکے باز نے۔‘‘
یعنی شیطان لعین نے تم لوگوں کو اللہ کے نام پر دھوکہ دیا۔ اس حوالے سے سورۂ لقمان میں ہم یہ تنبیہہ پڑھ چکے ہیں: {فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ٝ وَ لَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللّٰہِ الۡغَرُوۡرُ ﴿۳۳﴾} ’’تو (دیکھو!) تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے دُنیا کی زندگی اور( دیکھنا !)تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے اللہ کے حوالے سے وہ بڑا دھوکے باز۔‘‘
زیر مطالعہ اس آیت میں بہت جامع انداز میں منافقت کے مدارج اور مراحل کے بارے میں بتادیا گیا ہے۔ مرض کانقطہ آغاز مال و اولاد کی حد سے بڑھی ہوئی محبت سے ہوتا ہے۔ ان چیزوں میں انہماک کی وجہ سے انسان کے دل میں اللہ‘ اس کے رسول ؐاور جہاد کی محبت بتدریج کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس صورت حال کے نتیجے میں تَرَبَّصکی کیفیت پیدا ہوتی ہے ۔ جس کی وجہ سے ایمان کے اندر شکوک و شبہات کے رخنے پڑ جاتے ہیں اور یہ وہ مرحلہ ہے جب نفاق اپنی اصلی شکل میں نمودار ہو کر دل میں مستقل ڈیرے جما لیتا ہے۔