وَ مَا لَکُمۡ لَا تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ۚ
’’اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم نہیں ایمان رکھتے اللہ پر!‘‘
یہ پہلے مطالبے یعنی ’’ایمان‘‘ سے متعلق گویا زجر و ملامت اور ایک طرح سے تنبیہہ کا انداز ہے۔
وَ الرَّسُوۡلُ یَدۡعُوۡکُمۡ لِتُؤۡمِنُوۡا بِرَبِّکُمۡ
’’جبکہ رسول (محمدﷺ)تمہیں دعوت دے رہے ہیں کہ تم ایمان رکھو اپنے رب پر‘‘
ہمارے رسولؐ ابھی تمہارے مابین موجودہیں‘ اور وہ تم لوگوں کو براہِ راست ایمان کی دعوت دے رہے ہیں۔
وَ قَدۡ اَخَذَ مِیۡثَاقَکُمۡ
’’اور دیکھو! وہ تم سے عہد بھی لے چکا ہے‘‘
اگر تم ایمان کے دعوے دار ہو تو ذرا غور کرو کہ تم نے اپنے رب کے ساتھ کتنے عہد کر رکھے ہیں۔ ایک عہد تو وہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے تم سے عالم ارواح میں لیا تھا: {اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ ؕ } ’’کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ ‘‘ اور تم سب نے اس سوال کے جواب میں {بَلٰی ۚۛ } کہا تھا (بحوالہ الاعراف:۱۷۲) ۔ اس کے بعد تم {سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا ۫} (بحوالہ البقرۃ:۲۸۵ و المائدۃ:۷) کا عہد بھی کر چکے ہو۔ اس عہدِ اطاعت کے علاوہ تم نے اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو اللہ کے ہاتھ بیچنے کا عہد بھی کر رکھا ہے : {اِنَّ اللّٰہَ اشۡتَرٰی مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَنۡفُسَہُمۡ وَ اَمۡوَالَہُمۡ بِاَنَّ لَہُمُ الۡجَنَّۃَ ؕ …} (التوبۃ:۱۱۱) ’’یقینا اللہ نے خرید لی ہیں اہل ایمان سے ان کی جانیں بھی اور ان کے مال بھی اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنت ہے‘‘۔توتم لوگ اپنے رب کے ساتھ کیے ہوئے اپنے وعدوں اور معاہدوں کا تو لحاظ کرو:
اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸﴾
’’اگر تم حقیقتاً مؤمن ہو!‘‘
یہ ڈانٹ سننے کے بعد ہر بندۂ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے گریبان میں جھانکے اور اپنا جائزہ لے کہ کیا اس کے دل میں حقیقی ایمان موجود ہے یا کچھ خلا سا ہے؟ الحمد لِلّٰہ ہم سب مسلمان تو ہیں ‘کسی نہ کسی درجے میں نماز روزہ وغیرہ کا تقاضا بھی پورا کر رہے ہیں‘ لیکن اللہ کرے ہمیں احساس ہوجائے اور ہم اپنا اپنا جائزہ لیں کہ اسلام کے ساتھ ساتھ کیا ابھی تک ہمیں حقیقی ایمان بھی نصیب ہوا ہے یا نہیں! اور اگر کسی کو یہ محسوس ہو کہ واقعی اس کے دل میں اس پہلو سے ابھی خلا موجود ہے تو پھر اسے یہ معلوم کرنے کے لیے بھی تگ و دو کرنی چاہیے کہ وہ یقین والا ایمان کہاں سے ملے گا۔ اگلی آیت میں اس حوالے سے راہنمائی فرمائی جا رہی ہے۔
ہُوَ الَّذِیۡ یُنَزِّلُ عَلٰی عَبۡدِہٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخۡرِجَکُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ؕ
’’وہی توہے جو اپنے بندے (ﷺ) پر یہ آیاتِ بینات نازل کر رہا ہے تاکہ نکالے تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف۔‘‘
یعنی یقین والے ایمان کا منبع و سرچشمہ اللہ کی یہ کتاب ہے ۔اگر تم اس کتاب کو سمجھ کر پڑھو گے ‘ اس پر فکرو تدبر کرو گے تو تمہارے اندر ایک ہلچل برپا ہو جائے گی ‘تمہاری روح کے تاروں میں خود بخود سرسراہٹ پیدا ہو گی اور تم خود محسوس کرو گے ۔ بقولِ اقبال ؎
مضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیاز
نغمے بے تاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیے
تو ذرا چھیڑ تو دے ‘ تشنۂ مضراب ہے ساز
طور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیے!
دراصل ایمان تمہاری روح کے اندر خفتہ (dormant) حالت میں پہلے سے موجود ہے۔ بس اسے فعال (active) کرنے کی ضرورت ہے۔ اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایمان کو فعال کرنے کا نسخہ پہلے سے تمہارے پاس موجود ہے ‘یعنی آیاتِ قرآنیہ۔
وَ اِنَّ اللّٰہَ بِکُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۹﴾
’’اور یقینا اللہ تمہارے حق میں بہت رئوف اور رحیم ہے۔‘‘
وہ تمہارے حال پر نہایت ہی شفیق اور مہربان ہے۔
اس آیت میں واضح طور پر بتا دیاگیا کہ ایمانِ حقیقی کا منبع اور سرچشمہ قرآن ہے۔ اس سے پہلے سورۃ الشوریٰ میں ہم پڑھ آئے ہیں کہ خود حضورﷺکو بھی ایمان قرآن مجید ہی سے ملا :
دوسرے مقام کی آیتوَ کَذٰلِکَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ رُوۡحًا مِّنۡ اَمۡرِنَا ؕ مَا کُنۡتَ تَدۡرِیۡ مَا الۡکِتٰبُ وَ لَا الۡاِیۡمَانُ وَ لٰکِنۡ جَعَلۡنٰہُ نُوۡرًا نَّہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ نَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِنَا ؕ وَ اِنَّکَ لَتَہۡدِیۡۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿ۙ۵۲﴾
’’اور (اے نبیﷺ!) اسی طرح ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے ایک روح اپنے امر میں سے۔آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے‘ لیکن اس (قرآن) کو ہم نے ایسا نور بنایا ہے جس کے ذریعے سے ہم ہدایت دیتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں۔اور آپ یقینا سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتے ہیں۔‘‘
یعنی اس سے پہلے نہ توآپؐ تورات سے واقف تھے اور نہ ہی آپؐ انجیل کے بارے میں کچھ جانتے تھے۔ آپ تو اُمی تھے۔لیکن جب ہم نے قرآن کریم کو نور بنا کر آپؐ کے دل پر اُتارا تو اس سے آپؐ کا باطن نورِ ایمان سے جگمگا اٹھا اور آپؐ نوعِ انسانی کے لیے روشنی کامینار بن گئے۔ اب آپؐ لوگوں کو ہدایت دیں گے اور انہیں سیدھے راستے کی طرف بلائیں گے۔اسی مضمون کو مولانا ظفر علی خان نے بڑی خوبصورتی اور سادگی سے یوں بیان کیا ہے : ؎
وہ جنس نہیں ایمان جسے لے آئیں دکانِ فلسفہ سے
ڈھونڈے سے ملے گی عاقل کو یہ قرآں کے سیپاروں میں
ان دو آیات میں پہلے مطالبے یعنی ’’ایمان‘‘ سے متعلق پہلے ڈانٹ پلائی گئی کہ تمہارا ایمان پختہ کیوں نہیں ہے؟ یہ ڈِھل مل ایمان لیے کیوں پھر رہے ہو جس میں شکوک و شبہات کے کانٹے چبھے ہوئے ہیں؟ اگر تمہارے ایمان میں کمزوری ہے تو اس کمزوری کو دورکیوں نہیں کرتے ہو؟کمزور ایمان کے ساتھ گزارا کیوں کررہے ہو؟ پھردوسری آیت میں راہنمائی بھی کردی گئی کہ ایمان کی کمزوری کودور کرنے اور حقیقی ایمان کے حصول کے لیے قرآن کی طرف رجوع کرو! قرآن کا یہی مطالبہ ہم سے بھی ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم بات ہمیشہ کے لیے پلے باندھ لیجیے کہ قرآن کا ترجمہ پڑھنے سے نہ تو قرآن دل میں اترتا ہے اور نہ ہی اس سے جذبے کو تحریک ملتی ہے ۔ ترجمہ پڑھنے سے آپ کچھ آیات کا مفہوم تو سمجھ لیں گے اور کچھ معلومات بھی آپ کو حاصل ہو جائیں گی‘ مگر قرآن آپ کے دل کے تاروں کو چھوئے گا نہیں ‘اور نہ ہی اس کی تاثیر آپ کی روح تک پہنچے گی۔ لہٰذا اگر آپ چاہتے ہیں کہ قرآن آپ کی روح کو فیوضِ ملکوتی سے سیراب اور آپ کے دل کو نورِ ایمانی سے منورکرے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ قرآن کو اس کی زبان میں پڑھیں اور سمجھیں۔ بقول اقبال : ؎
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحبِ کشاف!
ظاہر ہے کسی کے ضمیر پر قرآن کا نزول تبھی ممکن ہے جب وہ قرآن کی زبان یعنی عربی سے واقف ہو گا اور قرآن کے الفاظ اور اس کی عبارت کو براہِ راست سمجھے گا۔ اس کے لیے وہ پڑھے لکھے حضرات جو عربی زبان سے نابلد ہیں خصوصی طو رپر اللہ کے ہاں جواب دہ ہوں گے کہ وہ اپنی زندگی میں ایک سے بڑھ کر ایک علوم و فنون سیکھتے رہے لیکن قرآن کی زبان سیکھنے کے لیے انہوں نے کوئی منصوبہ بندی اور کوئی کوشش نہ کی۔ ایسے تمام حضرات کو میرا مشورہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کا ایک سال اس کام کے لیے ضرور وقف کریں اور کم از کم اس حد تک عربی زبان ضرور سیکھیں کہ قرآن مبین کو پڑھتے ہوئے انہیں اس کی آیاتِ بینات کا مفہوم تو معلوم ہو۔ (خواہش مند حضرات اس مقصد کے لیے قرآن اکیڈمی کے تحت چلنے والے رجوع الی القرآن کورس میں داخلہ لے سکتے ہیں۔)یہ تو تھی توحید کے پہلے مطالبے (ایمان) سے متعلق ڈانٹ ڈپٹ اور راہنمائی ۔اور اب دوسرے مطالبے سے متعلق ڈانٹ: