تحریر

الحديد

آیات ۷ تا ۱۱

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

7

دینِ اسلام کے دو تقاضے . . . ایمان اور انفاق

ویڈیو

اٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ اَنۡفِقُوۡا مِمَّا جَعَلَکُمۡ مُّسۡتَخۡلَفِیۡنَ فِیۡہِ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَ اَنۡفَقُوۡا لَہُمۡ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿۷﴾

آیت 7

اٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ اَنۡفِقُوۡا مِمَّا جَعَلَکُمۡ مُّسۡتَخۡلَفِیۡنَ فِیۡہِ ؕ

’’ایمان لاؤ اللہ پر اور اُس کے رسول ؐپرا ور خرچ کرو اُن سب میں سے جن میں اُس نے تمہیں خلافت عطا کی ہے۔‘‘

خلافت کے حوالے سے انسان کو سب سے زیادہ اختیار تو اپنے جسم پر عطا کیا گیا ہے۔ اس میں اس کے مختلف اعضاء ہیں‘ طاقت جسمانی‘ طلاقت لسانی ‘ ذہانت و فطانت اور دوسری بہت سی صلاحیتیں ہیں ۔پھر مال و دولت ‘ اولاد اور دوسری بے شمار نعمتیں ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کو معبود ماننے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی ان خداداد صلاحیتوں اور نعمتوں کو اللہ کی رضا کے لیے اس کے راستے میں خرچ کرنے کے لیے ہر وقت کمر بستہ رہے۔ واضح رہے کہ ’’نفق‘‘ کالفظ مال و دولت خرچ کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے اور جان خرچ کر دینے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ نَفَقَتِ الدَّرَاھِم کے معنی ہیں رقم ختم ہو گئی اور نَفَقَ الْفَرس کے معنی ہیں گھوڑا مر گیا۔ یہاں یہ آیت پڑھتے ہوئے ضروری ہے کہ سورۃ الحجرات کی اس آیت کو بھی ذہن میں تازہ کر لیں:

دوسرے مقام کی آیت

اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ثُمَّ لَمۡ یَرۡتَابُوۡا وَ جٰہَدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوۡنَ ﴿۱۵﴾

’’مؤمن تو بس وہی ہیں جو ایمان لائے اللہ اور اُس کے رسولؐ پر ‘پھر شک میں ہر گز نہیں پڑے اور انہوں نے جہاد کیا اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں۔یہی لوگ ہیں جو (اپنے دعوائے ایمان میں) سچے ہیں۔‘‘

ان دونوں آیات میں د و دومطالبات آئے ہیں ‘ پہلا مطالبہ دونوں میں مشترک ہے یعنی {اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ} ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولؐ پر‘ جیساکہ ا یما ن لانے کا حق ہے ۔جبکہ دوسرے مطالبے کے حوالے سے سورۃ الحجرات کی مذکورہ بالا آیت میں جہاد کا ذکر ہے کہ اپنے جان و مال کے ساتھ جہاد کرو‘اور زیر مطالعہ آیت میں ہر اُس چیز کے انفاق کا حکم ہے جس پر انسان کو خلیفہ بنایا گیا ہے۔ ظاہر ہے اس میں انفاقِ مال بھی شامل ہے اور بذلِ نفس یعنی انفاقِ جان بھی۔

فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَ اَنۡفَقُوۡا لَہُمۡ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿۷﴾

’’پس جولوگ تم میں سے ایمان لائے اور انہوں نے (اپنے مال و جان کو ) خرچ کیا ‘ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔‘‘

جس خوش نصیب نے مذکورہ دونوں مطالبات پورے کر دیے‘ یعنی اسے یقین والا ایمان بھی نصیب ہو گیا اور اس نے اپنی زیر ملکیت ہر چیز کو اللہ کی رضا کے لیے پیش بھی کر دیا تو اس کے گویاوارے نیارے ہو گئے۔وہ بہت بڑے اجر کا مستحق ٹھہرا------ مضمون کے حوالے سے یہاں آیات کے ربط و نظم کی خوبصورتی اور مندرجات کی ترتیب ملاحظہ کیجیے کہ پہلے ایک آیت میں دو مطالبات کا ذکر کر کے ان کے بارے میں ترغیب دی گئی ہے۔ اب اس کے بعد ان میں سے ہر مطالبے سے متعلق دو دو آیات اس طرح آ رہی ہیں کہ پہلی آیت میں زجر یعنی ڈانٹ ڈپٹ کا انداز ہے‘ جبکہ دوسری میں راہنمائی اور ترغیب دی گئی ہے۔

8-9

تم دل سے ایمان کیوں نہیں لاتے؟

ویڈیو

وَ مَا لَکُمۡ لَا تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ۚ وَ الرَّسُوۡلُ یَدۡعُوۡکُمۡ لِتُؤۡمِنُوۡا بِرَبِّکُمۡ وَ قَدۡ اَخَذَ مِیۡثَاقَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸﴾ ہُوَ الَّذِیۡ یُنَزِّلُ عَلٰی عَبۡدِہٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخۡرِجَکُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ بِکُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۹﴾

آیت 8

وَ مَا لَکُمۡ لَا تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ۚ

’’اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم نہیں ایمان رکھتے اللہ پر!‘‘

یہ پہلے مطالبے یعنی ’’ایمان‘‘ سے متعلق گویا زجر و ملامت اور ایک طرح سے تنبیہہ کا انداز ہے۔

وَ الرَّسُوۡلُ یَدۡعُوۡکُمۡ لِتُؤۡمِنُوۡا بِرَبِّکُمۡ

’’جبکہ رسول (محمدﷺ)تمہیں دعوت دے رہے ہیں کہ تم ایمان رکھو اپنے رب پر‘‘

ہمارے رسولؐ ابھی تمہارے مابین موجودہیں‘ اور وہ تم لوگوں کو براہِ راست ایمان کی دعوت دے رہے ہیں۔

وَ قَدۡ اَخَذَ مِیۡثَاقَکُمۡ

’’اور دیکھو! وہ تم سے عہد بھی لے چکا ہے‘‘

اگر تم ایمان کے دعوے دار ہو تو ذرا غور کرو کہ تم نے اپنے رب کے ساتھ کتنے عہد کر رکھے ہیں۔ ایک عہد تو وہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے تم سے عالم ارواح میں لیا تھا: {اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ ؕ } ’’کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ ‘‘ اور تم سب نے اس سوال کے جواب میں {بَلٰی ۚۛ } کہا تھا (بحوالہ الاعراف:۱۷۲) ۔ اس کے بعد تم {سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا ۫} (بحوالہ البقرۃ:۲۸۵ و المائدۃ:۷) کا عہد بھی کر چکے ہو۔ اس عہدِ اطاعت کے علاوہ تم نے اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو اللہ کے ہاتھ بیچنے کا عہد بھی کر رکھا ہے : {اِنَّ اللّٰہَ اشۡتَرٰی مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَنۡفُسَہُمۡ وَ اَمۡوَالَہُمۡ بِاَنَّ لَہُمُ الۡجَنَّۃَ ؕ …} (التوبۃ:۱۱۱) ’’یقینا اللہ نے خرید لی ہیں اہل ایمان سے ان کی جانیں بھی اور ان کے مال بھی اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنت ہے‘‘۔توتم لوگ اپنے رب کے ساتھ کیے ہوئے اپنے وعدوں اور معاہدوں کا تو لحاظ کرو:

اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸﴾

’’اگر تم حقیقتاً مؤمن ہو!‘‘

یہ ڈانٹ سننے کے بعد ہر بندۂ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے گریبان میں جھانکے اور اپنا جائزہ لے کہ کیا اس کے دل میں حقیقی ایمان موجود ہے یا کچھ خلا سا ہے؟ الحمد لِلّٰہ ہم سب مسلمان تو ہیں ‘کسی نہ کسی درجے میں نماز روزہ وغیرہ کا تقاضا بھی پورا کر رہے ہیں‘ لیکن اللہ کرے ہمیں احساس ہوجائے اور ہم اپنا اپنا جائزہ لیں کہ اسلام کے ساتھ ساتھ کیا ابھی تک ہمیں حقیقی ایمان بھی نصیب ہوا ہے یا نہیں! اور اگر کسی کو یہ محسوس ہو کہ واقعی اس کے دل میں اس پہلو سے ابھی خلا موجود ہے تو پھر اسے یہ معلوم کرنے کے لیے بھی تگ و دو کرنی چاہیے کہ وہ یقین والا ایمان کہاں سے ملے گا۔ اگلی آیت میں اس حوالے سے راہنمائی فرمائی جا رہی ہے۔

آیت 9

ہُوَ الَّذِیۡ یُنَزِّلُ عَلٰی عَبۡدِہٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخۡرِجَکُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ؕ

’’وہی توہے جو اپنے بندے (ﷺ) پر یہ آیاتِ بینات نازل کر رہا ہے تاکہ نکالے تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف۔‘‘

یعنی یقین والے ایمان کا منبع و سرچشمہ اللہ کی یہ کتاب ہے ۔اگر تم اس کتاب کو سمجھ کر پڑھو گے ‘ اس پر فکرو تدبر کرو گے تو تمہارے اندر ایک ہلچل برپا ہو جائے گی ‘تمہاری روح کے تاروں میں خود بخود سرسراہٹ پیدا ہو گی اور تم خود محسوس کرو گے ۔ بقولِ اقبال ؎

مضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیاز

نغمے بے تاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیے

تو ذرا چھیڑ تو دے ‘ تشنۂ مضراب ہے ساز

طور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیے!

دراصل ایمان تمہاری روح کے اندر خفتہ (dormant) حالت میں پہلے سے موجود ہے۔ بس اسے فعال (active) کرنے کی ضرورت ہے۔ اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایمان کو فعال کرنے کا نسخہ پہلے سے تمہارے پاس موجود ہے ‘یعنی آیاتِ قرآنیہ۔

وَ اِنَّ اللّٰہَ بِکُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۹﴾

’’اور یقینا اللہ تمہارے حق میں بہت رئوف اور رحیم ہے۔‘‘

وہ تمہارے حال پر نہایت ہی شفیق اور مہربان ہے۔

اس آیت میں واضح طور پر بتا دیاگیا کہ ایمانِ حقیقی کا منبع اور سرچشمہ قرآن ہے۔ اس سے پہلے سورۃ الشوریٰ میں ہم پڑھ آئے ہیں کہ خود حضورﷺکو بھی ایمان قرآن مجید ہی سے ملا :

دوسرے مقام کی آیت

وَ کَذٰلِکَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ رُوۡحًا مِّنۡ اَمۡرِنَا ؕ مَا کُنۡتَ تَدۡرِیۡ مَا الۡکِتٰبُ وَ لَا الۡاِیۡمَانُ وَ لٰکِنۡ جَعَلۡنٰہُ نُوۡرًا نَّہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ نَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِنَا ؕ وَ اِنَّکَ لَتَہۡدِیۡۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿ۙ۵۲﴾

’’اور (اے نبیﷺ!) اسی طرح ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے ایک روح اپنے امر میں سے۔آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے‘ لیکن اس (قرآن) کو ہم نے ایسا نور بنایا ہے جس کے ذریعے سے ہم ہدایت دیتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں۔اور آپ یقینا سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتے ہیں۔‘‘

یعنی اس سے پہلے نہ توآپؐ تورات سے واقف تھے اور نہ ہی آپؐ انجیل کے بارے میں کچھ جانتے تھے۔ آپ تو اُمی تھے۔لیکن جب ہم نے قرآن کریم کو نور بنا کر آپؐ کے دل پر اُتارا تو اس سے آپؐ کا باطن نورِ ایمان سے جگمگا اٹھا اور آپؐ نوعِ انسانی کے لیے روشنی کامینار بن گئے۔ اب آپؐ لوگوں کو ہدایت دیں گے اور انہیں سیدھے راستے کی طرف بلائیں گے۔اسی مضمون کو مولانا ظفر علی خان نے بڑی خوبصورتی اور سادگی سے یوں بیان کیا ہے : ؎

وہ جنس نہیں ایمان جسے لے آئیں دکانِ فلسفہ سے

ڈھونڈے سے ملے گی عاقل کو یہ قرآں کے سیپاروں میں

ان دو آیات میں پہلے مطالبے یعنی ’’ایمان‘‘ سے متعلق پہلے ڈانٹ پلائی گئی کہ تمہارا ایمان پختہ کیوں نہیں ہے؟ یہ ڈِھل مل ایمان لیے کیوں پھر رہے ہو جس میں شکوک و شبہات کے کانٹے چبھے ہوئے ہیں؟ اگر تمہارے ایمان میں کمزوری ہے تو اس کمزوری کو دورکیوں نہیں کرتے ہو؟کمزور ایمان کے ساتھ گزارا کیوں کررہے ہو؟ پھردوسری آیت میں راہنمائی بھی کردی گئی کہ ایمان کی کمزوری کودور کرنے اور حقیقی ایمان کے حصول کے لیے قرآن کی طرف رجوع کرو! قرآن کا یہی مطالبہ ہم سے بھی ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم بات ہمیشہ کے لیے پلے باندھ لیجیے کہ قرآن کا ترجمہ پڑھنے سے نہ تو قرآن دل میں اترتا ہے اور نہ ہی اس سے جذبے کو تحریک ملتی ہے ۔ ترجمہ پڑھنے سے آپ کچھ آیات کا مفہوم تو سمجھ لیں گے اور کچھ معلومات بھی آپ کو حاصل ہو جائیں گی‘ مگر قرآن آپ کے دل کے تاروں کو چھوئے گا نہیں ‘اور نہ ہی اس کی تاثیر آپ کی روح تک پہنچے گی۔ لہٰذا اگر آپ چاہتے ہیں کہ قرآن آپ کی روح کو فیوضِ ملکوتی سے سیراب اور آپ کے دل کو نورِ ایمانی سے منورکرے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ قرآن کو اس کی زبان میں پڑھیں اور سمجھیں۔ بقول اقبال : ؎

ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب

گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحبِ کشاف!

ظاہر ہے کسی کے ضمیر پر قرآن کا نزول تبھی ممکن ہے جب وہ قرآن کی زبان یعنی عربی سے واقف ہو گا اور قرآن کے الفاظ اور اس کی عبارت کو براہِ راست سمجھے گا۔ اس کے لیے وہ پڑھے لکھے حضرات جو عربی زبان سے نابلد ہیں خصوصی طو رپر اللہ کے ہاں جواب دہ ہوں گے کہ وہ اپنی زندگی میں ایک سے بڑھ کر ایک علوم و فنون سیکھتے رہے لیکن قرآن کی زبان سیکھنے کے لیے انہوں نے کوئی منصوبہ بندی اور کوئی کوشش نہ کی۔ ایسے تمام حضرات کو میرا مشورہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کا ایک سال اس کام کے لیے ضرور وقف کریں اور کم از کم اس حد تک عربی زبان ضرور سیکھیں کہ قرآن مبین کو پڑھتے ہوئے انہیں اس کی آیاتِ بینات کا مفہوم تو معلوم ہو۔ (خواہش مند حضرات اس مقصد کے لیے قرآن اکیڈمی کے تحت چلنے والے رجوع الی القرآن کورس میں داخلہ لے سکتے ہیں۔)یہ تو تھی توحید کے پہلے مطالبے (ایمان) سے متعلق ڈانٹ ڈپٹ اور راہنمائی ۔اور اب دوسرے مطالبے سے متعلق ڈانٹ:

10

تم اللہ کی راہ میں خرچ کیوں نہیں کرتے ؟

ویڈیو

وَ مَا لَکُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لِلّٰہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ لَا یَسۡتَوِیۡ مِنۡکُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَ قٰتَلَ ؕ اُولٰٓئِکَ اَعۡظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَ قٰتَلُوۡا ؕ وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الۡحُسۡنٰی ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿٪۱۰﴾

آیت 10

وَ مَا لَکُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لِلّٰہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ

’’اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں‘ جبکہ اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی وراثت!‘‘

یہ جو تم بڑے بڑے محل تعمیر کر رہے ہو اور فیکٹریوں پر فیکٹریاں لگاتے چلے جا رہے ہو‘ ان سے آخر کب تک استفادہ کرو گے؟ تم تو آج ہو کل نہیں ہو گے۔ تمہارے بعد تمہاری اولاد میں سے بھی جو لوگ ان جائیدادوں کے وارث بنیں گے وہ بھی اپنے وقت پر چلے جائیں گے۔ پھر جو ان کے وارث بنیں گے وہ بھی نہیں رہیں گے۔ بالآخر تمہارے اس سب کچھ کا اور پوری کائنات کا حقیقی وارث تو اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔تو جب یہ سب کچھ تم نے ادھر ہی چھوڑ کر چلے جانا ہے تو پھر غیر ضروری دولت اکٹھی کرنے میں کیوں وقت برباد کر رہے ہو؟ اور کیوں اسے سینت سینت کر رکھ رہے ہو؟ واضح رہے کہ انفاق سے مراد یہاں انفاقِ مال بھی ہے اور بذلِ نفس (جان کھپانا) بھی۔ یہ نکتہ قبل ازیں آیت ۷ کے مطالعے کے دوران بھی زیر بحث آیا تھا اور اب اگلے فقرے میں مزید واضح ہو جائے گا :

لَا یَسۡتَوِیۡ مِنۡکُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَ قٰتَلَ ؕ

’’تم میں سے وہ لوگ جنہوں نے انفاق کیا اور قتال کیا فتح سے پہلے وہ (فتح کے بعد انفاق اور قتال کرنے والوں کے) برابر نہیں ہیں۔‘‘

وضاحت کے لیے یہاں انفاق اور قتال کا ذکر الگ الگ آ گیا ہے۔ یعنی ’انفاق‘ مال خرچ کرنے کے لیے اور ’قتال‘ جان کھپانے کے لیے ۔ چنانچہ یہاں واضح کر دیا گیا کہ آیت۷ میں جس انفاق کا ذکر ہوا تھا اس سے مال و جان دونوں کا انفاق مراد تھا اور ظاہر ہے انفاقِ جان کا سب سے اہم موقع تو قتال ہی ہے۔ میدانِ جنگ سے غازی بن کر لوٹنے کا انحصار تو حالات اور قسمت پر ہے ‘لیکن میدانِ کارزار میں اترنے کا مطلب تو بہرحال یہی ہوتاہے کہ اس مردِ مجاہد نے اپنی نقد جان ہتھیلی پر رکھ کر قربانی کے لیے پیش کر دی۔

اس آیت میں خاص بات یہ بتائی گئی ہے کہ وہ اہل ایمان جنہوں نے ابتدائی دور میں اس وقت قربانیاں دیں جبکہ اسلام کمزور تھا اور مسلمانوں کی طاقت بہت کم تھی ‘ان کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ وہ اور بعد کے مسلمان جنہوں نے یہی اعمال بعد میں سرانجام دیے‘ ثواب و مرتبہ میں برابر نہیں۔

اُولٰٓئِکَ اَعۡظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَ قٰتَلُوۡا ؕ

’’ان لوگوںکا درجہ بہت بلند ہے ان کے مقابلے میں جنہوں نے انفاق اور قتال کیا فتح کے بعد۔‘‘

وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الۡحُسۡنٰی ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿٪۱۰﴾

’’اگرچہ ان سب سے اللہ نے بہت اچھا وعدہ فرمایا ہے۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔‘‘

حضورﷺ کی سربراہی میں کفر و باطل سے جنگ میں پہلی واضح فتح تو صلح حدیبیہ تھی جس کو اللہ تعالیٰ نے خود فتح مبین قرار دیا : {اِنَّا فَتَحۡنَا لَکَ فَتۡحًا مُّبِیۡنًا ۙ﴿۱﴾} (الفتح) ۔یہ فتح مبین مسلمانوں کو ۶ ہجری میں عطا ہوئی جبکہ ظاہری فیصلہ کن فتح انہیں ۸ ہجری میں فتح مکہ کی صورت میں حاصل ہوئی۔ چنانچہ اس آیت میں فتح کے ذکر سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سورۃ الحدید کم از کم ۶ ہجری یعنی صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی۔

اب سنیے ‘کھلے اور بیدار دل کے ساتھ ایک اہم پکار! ذرا دھیان سے سنیے!میرا خالق‘ آپ کا خالق‘ میر۱ مالک‘آپ کا مالک اور پوری کائنات کا مالک کیاندا کر رہا ہے ؟

11

کون اللہ کو قرض دے گا؟

ویڈیو

مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقۡرِضُ اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗ وَ لَہٗۤ اَجۡرٌ کَرِیۡمٌ ﴿ۚ۱۱﴾

آیت 11

مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقۡرِضُ اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا

’’کون ہے جو اللہ کو قرض دے قرضِ حسنہ ؟‘‘

فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗ وَ لَہٗۤ اَجۡرٌ کَرِیۡمٌ ﴿ۚ۱۱﴾

’’ کہ وہ اس کے لیے اسے بڑھاتا رہے اور اُس کے لیے بڑا باعزت اجر ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اور بھلا کون اجر دے سکتا ہے؟ایسا منافع اور بھلا کہاں سے مل سکتا ہے؟ چنانچہ اے اہل ایمان ! آگے بڑھو ! لبیک کہو اپنے رب کی اس پکار پر! اور اپنا مال اور اپنا وقت قربان کر دو اس کی رضا کے لیے! اپنی صلاحیتیں اور اپنی جان کھپا دو اس کی راہ میں!

یہاں پر یہ نکتہ ایک دفعہ پھر سے ذہن نشین کر لیجیے کہ انفاقِ مال اور انفاقِ جان ایک اعتبار سے ایک ہی چیز ہے۔ مال اور جان کے باہمی تعلق کو اس پہلو سے بھی سمجھنا چاہیے کہ ایک شخص اپنی جان‘ یعنی جسمانی قوت‘ ذہانت اور دیگر صلاحیتوں کی مدد سے مال کماتا ہے۔ پھر اپنے اس مال سے ایک طرف وہ اپنی جان کی بقا کا سامان پیدا کرتا ہے تو دوسری طرف اسی کی مدد سے وہ دوسروں کی قوت‘ ذہانت اور دیگر صلاحیتوں کو خریدنے کی استعداد بھی حاصل کر لیتا ہے۔ اسی طرح انسان کی مہلت زندگی یعنی ’’وقت‘‘ بھی اُس کی دولت ہے جس کے ذریعے سے وہ مال کماتا ہے۔ چنانچہ عام طو رپر کہا جاتا ہے : time is money کہ وقت اصل دولت ہے ۔ گویاانسان کی جان‘ اُس کا مال اور وقت باہم یوں متعلق و مربوط ہیں کہ ان میں سے کسی ایک کے انفاق میں عملی طور پر باقی دو چیزوں کا انفاق بھی شامل ہوتا ہے۔ چنانچہ یہاں جس انفاق کی بات ہو رہی ہے اس میں آپ کا مال‘ آپ کا وقت‘ آپ کی جسمانی قوت‘ ذہانت‘ فطانت‘ جان وغیرہ سب شامل ہیں۔

اب اگلی آیات میں روزِ محشر کے اس مرحلے کا نقشہ دکھایا جا رہا ہے جب منافقین کو چھانٹ کر سچے اہلِ ایمان سے الگ کر دیا جائے گا۔ اس مرحلے کو ہمارے ہاں عموماً’’پل صراط‘‘ کا مرحلہ کہاجاتا ہے۔ میدانِ حشر کا یہ نقشہ ذہن میں رکھیے کہ وہاں مختلف مواقع پر مختلف قسم کے لوگوں کی چھانٹی ہوتی چلی جائے گی۔ اس چھانٹی کے عمل کو سمجھنے کے لیے بجری بنانے والے کرشرز (crushers) میں لگی چھلنیوں کی مثال ذہن میں رکھیے ۔ جس طرح ان مشینوں میں لگی مختلف قسم کی چھلنیاں مختلف سائز کے پتھروں کو الگ کرتی چلی جاتی ہیں بالکل اسی طرح میدانِ محشر میں مختلف مراحل پر مختلف قسم کے انسان بھی اپنے اعتقادات و اعمال کی بنیاد پر الگ ہوتے چلے جائیں گے۔ چنانچہ سب سے پہلی چھانٹی میں تمام کفار و مشرکین کو الگ کر لیا جائے گا۔ پھر کسی مرحلے پر ایمان کے دعوے داروں میں سے سچے مؤمنین اور منافقین کو الگ الگ کرنے کے لیے چھانٹی کی جائے گی اور یہی وہ مرحلہ ہے جس کا نقشہ آئندہ آیات میں دکھایا جا رہا ہے۔ اس چھانٹی کے لیے تمام مسلمانوں کو گھپ اندھیرے میں پل صراط پر سے گزرنا ہو گا جس کے نیچے جہنم بھڑک رہی ہوگی۔ جن لوگوں کے دلوں میں سچا ایمان تھا اور انہوں نے ایمان کی حالت میں نیک اعمال بھی کیے تھے ‘ان کے قلوب اور داہنے ہاتھوں سے اس وقت نور پھوٹ رہا ہو گا اور وہ اس روشنی میں راستہ پار کر کے جنت میں پہنچ جائیں گے۔ لیکن جو لوگ دنیا میں سچے ایمان سے محروم رہے اور اعمالِ صالحہ کی پونجی بھی ان کے پاس نہیں ہو گی‘وہ خواہ دنیا میں مسلمانوں ہی کے ساتھ شریک رہے ہوں اور خواہ وہ مسلمانوں کے بڑے بڑے قائدین بن کر رہے ہوں اُس وقت وہ روشنی سے محروم کر دیے جائیں گے ۔ اس حالت میں وہ ٹھوکریں کھاتے جہنم میں گرتے چلے جائیں گے۔آئندہ آیات میں اس مرحلے کا تفصیلی نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اس کے بعد روزِ محشر کے اس مرحلے کی ایک جھلک سورۃ التحریم کی آیت ۸ میں بھی دکھائی گئی ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے