سورۃ الحدید سے قرآن حکیم کی مکی مدنی سورتوں کے چھٹے گروپ کی مدنی سورتوں کے سلسلے کا آغاز ہو رہا ہے جو سورۃ التحریم پر اختتام پذیر ہو گا۔ اس ضمنی گروپ میں دس مدنی سورتیں ہیں۔ ان سورتوں کا حجم تقریباً سواپارے کے برابر ہے‘لیکن تعداد کے اعتبار سے یہ پورے قرآن میں مدنی سورتوں کا سب سے بڑا گلدستہ ہے۔ اس حوالے سے پہلے پانچ گروپس کی مدنی سورتوں کی ترتیب کو ایک دفعہ پھر سے ذہن میں تازہ کر لیں۔ پہلے گروپ میں سورۃ البقرۃ‘ سورۂ آل عمران ‘ سورۃ النساء اور سورۃ المائدۃ چار مدنی سورتیں ہیں جو تقریباً سوا چھ پاروں پر پھیلی ہوئی ہیں اور حجم کے اعتبار سے یہ مدنی قرآن کا سب سے بڑا گلدستہ ہے ۔ اس کے بعد دوسرے گروپ میں سورۃ الانفال اور سورۃ التوبہ دو مدنی سورتیں ہیں ۔پھر تیسرے اور چوتھے گروپ میں صرف ایک ایک مدنی سورت ہے ‘یعنی تیسرے گروپ میں سورۃ النور اور چوتھے گروپ میں سورۃ الاحزاب۔ جبکہ پانچویں گروپ میں سورۂ محمد‘ سورۃ الفتح اور سورۃ الحجرات تین مدنی سورتیں ہیں۔
زیر مطالعہ گروپ کی ان مدنی سورتوں کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ ان میں سے پانچ سورتوں کا آغاز سَبَّحَ لِلّٰہِ یا یُسَبِّحُ لِلّٰہِ سے ہوتا ہے۔ یعنی ان کے آغاز میں اللہ کی تسبیح کا ذکر فعل ماضی میں بھی ہے اور فعل مضارع میں بھی ۔ عربی کا فعل مضارع چونکہ حال اور مستقبل دونوں زمانوں کے معنی دیتا ہے اس لیے ماضی اور مضارع کے ان دو صیغوں سے گویا پورے زمانے کا کلی طور پر احاطہ ہو گیا ہے کہ آسمانوں اور زمین کے اندر جو چیز بھی ہے اس نے ہمیشہ اللہ کی تسبیح بیان کی ہے‘ہر چیز اب بھی اُس کی تسبیح بیان کر رہی ہے اور آئندہ بھی ہمیشہ اس کی تسبیح کرتی رہے گی۔ ان سورتوں کے آغازکے اس مضمون کی مناسبت سے انہیں اَلْمُسَبِّحَات کا نام دیا گیا ہے۔ بعض لوگ سورۃ الاعلیٰ کو بھی اَلْمُسَبِّحَات کے اس گروپ میں شامل کرتے ہیں ‘لیکن یہ سورت اس لحاظ سے ان سے مختلف ہے کہ اس کے آغاز میں تسبیح کا صیغہ فعل امر {سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی ۙ﴿۱﴾} یعنی حکم کی صورت میں آیا ہے۔ اب تک کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ مکی مدنی سورتوں کے زیر مطالعہ (چھٹے) گروپ میں دس مدنی سورتیں ہیں جن میں سے پانچ اَلْمُسَبِّحَات ہیں اور سورتوں کی تعداد کے اعتبار سے یہ مدنی سورتوں کا سب سے بڑاگلدستہ ہے۔
ان مدنی سورتوں کے بارے میں تیسری اہم بات یاد رکھنے کی یہ ہے کہ یہ سب سورتیں (سوائے سورۃ التغابن کے) آنحضورﷺ کے مدنی دور کے نصف آخر میں یعنی سن ۵ ہجری کے بعد نازل ہوئیں۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمانوں کی صفوں میں جوشِ جہاد‘ ذوقِ شہادت‘ جذبۂ انفاق وغیرہ کے حوالے سے بحیثیت مجموعی ضعف و اضمحلال کے آثار نمایاں ہورہے تھے ۔ اس کا مطلب ‘معاذ اللہ ‘یہ ہرگز نہیں کہ ’’السابقون الاوّلون ‘‘کے جذبے میں کوئی کمی آ گئی تھی ‘بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ اب مسلمانوں کی مجموعی تعداد میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جو ہجرت کے بعد ایمان لائے تھے اور وہ سب لوگ تربیت اور آزمائش و ابتلاء کے ان تمام مراحل سے نہیں گزرے تھے جن کا سامنا مکی دور کے اہل ایمان کر چکے تھے ۔چونکہ ابتدائی دور کے مسلمانوں کے مقابلے میں نئے شامل ہونے والوں کی تعداد زیادہ تھی‘ اس لیے جماعت کے اجتماعی کردار و عمل پر بھی ان ہی کا رنگ غالب تھا۔ ظاہر ہے اس رنگ کے ’’اوسط معیار ‘‘کو السابقون الاوّلون کے خصوصی معیار کے پیمانہ سے نہیں پرکھا جا سکتا تھا ۔
مسلمانوں کی صفوں میں مذکورہ ضعف کا ذکر سورۃ الانفال کی آیت ۶۶ میں {عَلِمَ اَنَّ فِیۡکُمۡ ضَعۡفًا ؕ} کے الفاظ میں بھی آیا ہے۔ آیات ۶۵‘۶۶ کے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے تو ایک مؤمن دس کفار پر بھاری ہوسکتا تھا‘ لیکن اب چونکہ تم میں کمزور ی آ چکی ہے اس لیے اب ہم نے تمہارے مقابلے کے معیار میں بھی نرمی کردی ہے۔ چنانچہ اب اگر تم اپنے سے دوگنا کفار کا مقابلہ بہادری اور جواں مردی سے کرو گے تو ہم ان پر تم لوگوں کو فتح دیں گے۔ بہرحال مذکورہ کمزوری کے اثرات کے باعث ان سورتوں میں جابجا مسلمانوں کو جھنجوڑنے اور ان کی گرفت کرنے کا انداز ملتا ہے۔ اس حوالے سے سورۃ الصف کی دوسری آیت کا اسلوب بہت واضح ہے : {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴿۲﴾} ’’ اے اہل ایمان! کیا ہو گیا ہے تمہیں‘ کیوں کہتے ہو وہ جو کرتے نہیں ہو؟‘‘ سورۃ الحدید کی اس آیت کا انداز بھی بالکل ایسا ہی ہے : {وَ مَا لَکُمۡ لَا تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ۚ } (آیت ۸) ’’تمہیں کیا ہے‘ تم اللہ پر پختہ ایمان کیوں نہیں رکھتے؟‘‘ پھر زیر مطالعہ سورت یعنی سورۃ الحدید کی اس آیت کا لب و لہجہ بھی ملاحظہ کریں: {وَ مَا لَکُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ } (آیت۱۰) ’’تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ؟‘‘ سورۃ الجمعہ کی آخری آیت کا یہ انداز بھی بہت سخت ہے : {وَ اِذَا رَاَوۡا تِجَارَۃً اَوۡ لَہۡوَۨا انۡفَضُّوۡۤا اِلَیۡہَا وَ تَرَکُوۡکَ قَآئِمًا ؕ} ’’ جب انہوں نے دیکھا کسی کاروبار یا کسی اور دلچسپی کی چیز کو تو وہ اس کی طرف لپک گئے اور چھوڑ گئے آپ کو (اے نبیﷺ!) کھڑے ہوئے۔ ‘‘
اس سورت میں یقینا روئے سخن منافقین کی طرف بھی ہے(ان سورتوں میں منافقت کے موضوع پر ایک مکمل سورت (سورۃالمنافقون)بھی موجود ہے اور پھر سورۃ الحدیدمیں منافقت کے مرض کی علامات سے لے کر تشخیص تک گویا پوری پتھالوجی بیان ہوئی ہے) لیکن مجموعی طو رپر اصل خطاب منافقین سے نہیں بلکہ ’’ضعفاء‘‘ سے ہے۔ یعنی ان میں ان کمزور مسلمانوں کو مخاطب کیا گیاہے جو ’’ہرچہ بادا باد‘‘ کے سے جذبے کے ساتھ ہر حالت اورہر قیمت پر اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کے تقاضوں کو کماحقہ پورا کرنے سے معذور ہیں۔ چنانچہ منافقت یا منافقین کے معاملے میں ان سورتوں کا انداز سورۃ النساء اور سورۃ التوبہ جیسا نہیں ہے‘ کیونکہ ان دو سورتوں کی متعلقہ آیات میں اصل خطاب ہی منافقین سے ہے ‘جبکہ زیر مطالعہ سورتوں میں اگر کہیں مسلمانوں کی صفوں کے اندر موجود کمزوری کو موضوع بنایا گیا ہے تو وہاں اصل خطاب ضعفاء سے ہے نہ کہ منافقین سے۔
جہاں تک ایمان کی پختگی اور کمزوری کے حوالے سے اہل ایمان کے درمیان انفرادی سطح پر فرق و تفاوت کا تعلق ہے تویہ ایک فطری بات ہے اور یہ فرق شروع سے تھا۔ جیسا کہ سورۃ التوبہ کی اس آیت میں بیان ہوا ہے :
’’اور پہلے پہل سبقت کرنے والے مہاجرین اور انصار میں سے ‘اور وہ جنہوں نے اُن کی پیروی کی نیکوکاری کے ساتھ ‘اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے۔‘‘
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اعلیٰ ترین درجات پر فائز اہل ایمان کے درمیان بھی فرق تھا۔ کچھ لوگ ’’السابقون الاوّلون ‘‘تھے اور کچھ وہ تھے جو ان کے نقش قدم پر چلے رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ اَجْمَعِیْنَ! (اس مضمون کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو سورۃ التوبہ کی آیت ۱۰۰ کی تشریح۔) سورۃ التوبہ کی درج بالا آیت سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ اہل ایمان کے درجات کے فرق کوسمجھنا اور ان کا لحاظ رکھنا بہت ضروری ہے :؏
’’گر حفظِ مراتب نہ کنی زندیقی!‘‘
بہرحال جب تک اس فلسفے کو نہیں سمجھا جائے گا نہ ’’کمزور مسلمان‘‘ کی اصطلاح سمجھ میں آئے گی اور نہ ہی ان آیات کا مفہوم واضح ہو گا جن میں’’ضعفائ‘‘ یعنی کمزور مسلمانوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔
’’حفظِ مراتب ‘‘کا یہ فلسفہ آج کل ہم جیسے مسلمانوں کو ’’اہل ایمان‘‘ کی صفوں میں جگہ دلانے کا جواز اور راستہ بھی فراہم کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم لوگ ’’نسلی مسلمان‘‘ ہیں۔ یعنی ہم میں سے اکثر اس لیے مسلمان ہیں کہ ہم مسلمان والدین کے گھر پیدا ہوئے ہیں۔اس میں ہمارے ارادے‘ اختیار یا انتخاب کا قطعاً کوئی دخل نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ہمارا عام مسلمان اپنے حالات اور ماحول کے مطابق اللہ‘ رسول‘ آخرت‘ نماز روزہ وغیرہ کا تعارف تو بچپن میں ہی سیکھ لیتا ہے۔لیکن ایمان حقیقی اور عمل کے اعتبار سے اس کا دامن خالی ہی رہتا ہے (اِلاّ ماشاء اللہ)۔ اس اعتبار سے آج ہم مسلمانوں کی عظیم اکثریت کا تعلق اس ’’مسلمانی‘‘ سے ہے جس کا ذکر سورۃ الحجرات کی اس آیت میں ہوا ہے:
’’یہ بدو کہتے ہیں :ہم ایمان لے آئے ہیں۔ (اے نبیﷺ!) ان سے کہہ دیجیے کہ تم ہرگز ایمان نہیں لائے ہو‘ بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں(یعنی ہم نے اطاعت قبول کر لی ہے) جبکہ ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ ‘‘
سورۃ الحجرات کے مطالعے کے دوران اس آیت کا پس منظر تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ بہرحال جس طرح اس آیت کے مخاطب لوگوں کی اکثریت نے حالات کا رخ دیکھ کر ’’حادثاتی‘‘ طور پر اسلام قبول کیا تھا‘ اسی طرح ہم بھی اپنی پیدائش کے ’’حادثے‘‘ کی وجہ سے مسلمان ہیں۔ ہم نے اسلام کو ایک موروثی نظریے کے طور پر توقبول کیا ہے‘لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری اکثریت ایمان اور اسلام کے تقاضے پورے کرنے کی فکر سے بالکل ہی لاتعلق ہو چکی ہے (اِلا ماشاء اللہ)۔ دوسری طرف یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلّم ہے کہ ایسے تمام لوگ حقیقی ایمان سے تہی دامن ہونے کے باوجود منافق نہیں اس لیے کہ وہ کسی کو دھوکہ دینے کے لیے اسلام نہیں لائے۔ چنانچہ ان سب لوگوں کے بارے میں یہ کہنا مناسب ہو گا کہ وہ ’’کمزور مسلمان‘‘ ہیں۔
اس تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ سب مسلمان ’’بحیثیت مسلمان‘‘ برابر نہیں ہیں۔ ایمان کی پختگی اور عمل کے معیارسے ان کے اپنے اپنے درجات ہیں اور ان درجات کے فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ جن لوگوں نے مسلمانوں کے درجات میں پائے جانے والے اس فرق کو نہیں سمجھا انہیں سورۃ الحجرات کی مذکورہ آیت کے بارے میں بھی مغالطہ ہوا ہے کہ اس میں منافقین کا تذکرہ ہے۔ حالانکہ اسی آیت میں آگے ان اسلام قبول کرنے والوں کو یہ ضمانت بھی دی گئی ہے : {وَ اِنۡ تُطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَا یَلِتۡکُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِکُمۡ شَیۡئًا ؕ} ’’اوراگر تم اللہ اور اس کے رسول ؐکی فرمانبرداری کرتے رہو گے تو تمہارے اعمال میں کچھ بھی کمی نہیں کی جائے گی‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ہاں وہ مسلمان ہی تھے ‘کیونکہ منافق کا توکوئی عمل قابل قبول ہے ہی نہیں ۔بلاشبہ ان لوگوں کی صفوں میں منافق بھی تھے لیکن مذکورہ آیت میں خصوصیت کے ساتھ ان لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے جو اگرچہ دیکھا دیکھی مسلمان ہوئے تھے ‘لیکن اس میں ان کی بدنیتی شامل نہیں تھی۔
آج ہماری غالب اکثریت بلاشبہ’’کمزور مسلمانوں‘‘ پر مشتمل ہے ‘اس لیے آج ہماری ہدایت کے لیے قرآن کا یہ حصہ (سورۃ الحدید تا سورۃ التحریم) بہت اہم ہے۔ آج کا مسلمان اگر ان دس سورتوں کو سمجھ لے تو اس کا یہ عمل ایسے ہو گا جیسے اس نے پورے قرآن کو سمجھ لیا ۔کیونکہ ان دس سورتوں میں پورے قرآن حکیم کا خلاصہ آگیا ہے۔ مثلاً منافقت اور منافقین کا تذکرہ قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر آیا ہے۔ خصوصاً سورۃ النساء ‘ سورۃ التوبہ اور سورۂ محمد میں یہ مضمون تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ لیکن اس مجموعے میں شامل گیارہ آیات پر مشتمل ایک مختصر سی سورت یعنی سورۃ المنافقون میں اس پورے مضمون کا خلاصہ بیان کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح ایمان کی بحث سے پورا قرآن بھرا پڑا ہے۔ دو تہائی قرآن مکی سورتوں پر مشتمل ہے اور ان مکی سورتوں میں تذکیر بآلا ء اللہ کے علاوہ توحید‘ رسالت اور آخرت کے موضوعات کے تحت ساری بحث ایمان سے ہی متعلق ہے ۔ اس قدر وسیع اور مفصل مضمون کو اس مجموعے کی سورۃ التغابن (۱۸ آیات) میں سمو دیا گیا ہے۔
بہرحال واقعہ یہ ہے کہ ان دس سورتوں میں پورے قرآن کے مضامین کا عطر کشید کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں سے چھ سورتوں (سورۃ الحدید‘ سورۃ الصف‘ سورۃ الجمعہ‘ سورۃ المنافقون ‘ سورۃ التغابن اور سورۃ التحریم) کو ہم نے اپنے منتخب نصاب میں شامل کیا ہے۔ جہاں تک سورۃ الحدید کے تعارف کا تعلق ہے ‘یہ بہت جامع اور بہت بلند مرتبہ سورت ہے۔ الْمُسَبِّحَات میں ممتاز مقام کی وجہ سے اسے اُمُّ الْمُسَبِّحَات کہا جاتا ہے۔ ہمارے منتخب نصاب کا حصہ ششم اسی سورت کے ۷ دروس پر مشتمل ہے۔ میں اکثر تحدیثِ نعمت کے طور پر ذکر کیا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مجھے اس سورت کا خصوصی فہم اور انشراح عطا فرمایا ہے‘ بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص مہربانی سے مجھے یہ سورت عطا فرما دی ہے ۔ پچھلی نصف صدی سے اس پر میراغور و فکر جاری ہے اور میں نے اس پر بہت طویل اور مفصل دروس بھی دیے ہیں۔ بہرحال اس مضمون کے لیے یہ سطور زیادہ تفصیل کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔ اس سورت پر میرے سلسلہ وار دروس کی آڈیو‘ ویڈیو ریکارڈنگ موجود ہے۔ مفصل دروس کی ریکارڈنگ ۱۵ گھنٹے پر مشتمل ہے ‘جبکہ نسبتاً مختصر دروس کا دورانیہ چھ گھنٹے ہے۔ مزید تفصیل جاننے کے خواہش مند حضرات میرے ان دروس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ ۱
(۱) محترم ڈاکٹر صاحبؒ کے متذکرہ بالا دروس کی ترتیب و تدوین کے بعد انہیں ۳۶۸ صفحات پر مشتمل کتاب بعنوان ’’اُمّ المُسَبِّحات یعنی سورۃ الحدید کی مختصر تشریح‘‘ کی صورت میں مکتبہ خدام القرآن لاہور نے شائع کیا ہے۔ (مرتب)
’’تسبیح کرتی ہے اللہ کی ہر وہ شے جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے۔‘‘
ان سورتوں (المُسَبِّحات) کا یہ مضمون بہت اہم ہے۔ آگے چل کر سورۃ الحشر اور سورۃ الصف میں یہ آیت ’’مَا فِیْ‘‘ کے اضافے کے ساتھ اس طرح آئے گی : {سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ۚ } اور پھر سورۃ الجمعہ اور سورۃ التغابن میں مزید پرزور انداز میں فعل مضارع کے ساتھ یوں آئے گا: {یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ۚ} ۔کائنات کی ہر چیز کس طرح اللہ کی تسبیح کرتی ہے؟ اس کی ایک صورت تو ’’تسبیح حالی‘‘ کی ہے جو ہماری سمجھ میں آتی ہے کہ ہر چیز اپنی زبانِ حال سے اللہ کی تسبیح کر رہی ہے۔ اس کی مثال ایک تصویر ہے جو اپنے مصور کے کمالِ فن یا عدمِ مہارت پر دلالت کرتی ہے ۔چنانچہ جس طرح ایک خوبصورت تصویر زبانِ حال سے اپنے مصور کی تعریف کرتی نظر آتی ہے اسی طرح اس کائنات کاذرّہ ذرّہ اپنے وجود سے گواہی دے رہا ہے کہ میرا پیدا کرنے والا‘ میرا صانع‘ میرا خالق ‘ میرا مصور ہر عیب سے پاک‘ ہر نقص سے بالا اور ہر لحاظ سے کامل و اکمل ہے‘ اس کے علم‘ اس کی قدرت اور اس کی حکمت میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں ہے۔ دوسری صورت ’’زبانی تسبیح‘‘ کی ہے جو کہ خود قرآن مجید سے ثابت ہے۔ سورۂ حٰمٓ السَّجدۃ کی آیات ۲۰ اور ۲۱ میں قیامت کے اس منظر کا ذکر ہے جب انسانوں کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دے رہے ہوں گے۔ اس پر وہ لوگ حیرت سے اپنی کھالوں سے پوچھیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی؟ جواب میں ان کی کھالیں کہیں گی : {اَنۡطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیۡۤ اَنۡطَقَ کُلَّ شَیۡءٍ} (آیت ۲۱) کہ آج اُس اللہ نے ہمیں بھی زبان دے دی ہے جس نے ہر شے کو زبان دی ہے۔اس کے علاوہ سورۂ بنی اسرائیل کی اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو اپنی تسبیح کے لیے ایک طریقہ تفویض کر رکھا ہے :
’’اُسی کی تسبیح میں لگے ہوئے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور (وہ تمام مخلوق بھی ) جو ان میں ہے۔اور کوئی چیز نہیں مگر یہ کہ وہ تسبیح کرتی ہے اُس کی حمد کے ساتھ ‘لیکن تم نہیں سمجھ سکتے ان کی تسبیح کو۔‘‘
بہرحال کائنات کی ہر چیز اپنی زبانِ حال سے بھی اللہ کی تسبیح کر رہی ہے اور اللہ کی عطا کردہ اپنی مخصوص زبان سے بھی اس کی تعریف و توصیف میں مشغول و مصروف ہے۔ اس کے علاوہ اس کی تسبیح کی اور صورتیں بھی ہوسکتی ہیں جو کہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہیں۔
وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۱﴾
’’اور وہ بہت زبردست ہے ‘کمال حکمت والا۔‘‘
ان سورتوں میں اللہ تعالیٰ کے یہ دو اسماء اکٹھے ایک ساتھ بہت تکرار کے ساتھ آئے ہیں۔ اسمائے حسنیٰ کا یہ جوڑا معنوی اعتبار سے بہت اہم ہے ۔العزیز وہ ہستی ہے جس کا اختیار مطلق ہو ۔ ہم جانتے ہیں کہ انسانی سطح پرمطلق العنانیت کا تجربہ ہمیشہ بہت تلخ رہا ہے۔ عملی طو ر پر ہمارے ہاں ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ جہاں مطلق العنانیت آتی ہے‘ وہاں اختیارات کا ناجائز استعمال ضرور ہوتا ہے۔ بلکہ پولیٹیکل سائنس کاتو اس حوالے سے آزمودہ فارمولا یہ ہے:
"Authority tends to corrupt and absolute authority corrupts absolutely."
چنانچہ جب کسی ملک کا آئین بنایا جاتا ہے اور معاشرے کے لیے قوانین وضع کیے جاتے ہیں تو متعلقہ ماہرین کی ساری کوشش اختیارات کو مشروط کرنے اور ان میں توازن قائم کرنے پر مرکوز ہوتی ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ ایسی صاحب اختیار ہستی ہے جس کے اختیارات کی نہ تو کوئی حد ہے اور نہ ہی اس کے اختیارات کسی شرط سے مشروط ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ’’الحکیم‘‘ بھی ہے۔ وہ اپنے مطلق اختیارات میں خود ہی اپنی حکمت سے توازن قائم رکھتا ہے۔ چنانچہ ہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ زبردست ہے‘ وہ اپنی تمام مخلوقات پر غالب ہے‘ اس کے اختیارات مطلق ہیں ‘لیکن اس کا کوئی کام‘ اس کا کوئی عمل اور اس کا کوئی فیصلہ حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔
آیت 2
لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ
’’اُسی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی۔‘‘
آیت کے آغاز میں جو حرفِ جار ’’ل‘‘ آیا ہے یہ تملیک کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور استحقاق کے لیے بھی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی بادشاہی de facto بھی اُسی کی ہے اور de jure بھی --- اُسی کو حاکمیت کا حق پہنچتا ہے اور بالفعل بھی وہی حاکم ہے۔ اُسی کو حق پہنچتا ہے کہ وہ مالک ہو اور بالفعل بھی وہی مالک ہے۔
اس سورۂ مبارکہ میں دین کا ذکر خصوصی طور پر بطور ایک نظام کے کیا گیا ہے اور یہ نظام صرف حکومت الٰہیہ کے زیر سایہ ہی قائم ہو سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت میں اللہ کی ایسی صفات بار بار نمایاں کی گئی ہیں جن کا تعلق طاقت‘ حکومت‘ قدرت اور اختیار سے ہے۔
’’وہی زندہ رکھتا ہے ‘وہی مارتا ہے۔اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
اس سورۂ مبارکہ کی پہلی چھ آیات پورے قرآن حکیم میں اس اعتبار سے منفرد و ممتاز ہیں کہ ان میں اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کا ذکر فلسفے اور منطق کی سطح پر جامع ترین انداز میں ہوا ہے۔ لیکن ظاہر ہے یہ موقع ایسی تفصیلات میں جانے کا نہیں۔
’’وہی اول ہے ‘وہی آخر ہے ‘وہی ظاہر ہے ‘وہی باطن ہے۔‘‘
ایک انسان کے لیے اس کیفیت کو سمجھنا یقینا مشکل ہے کہ ہر زمان‘ ہر مکان اگر وہ ہی وہ ہے تو پھر باقی سب کیا ہے۔ غالب ؔنے اس صورت حال سے متعلق انسانی حیرت کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے : ؎
جبکہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟
اس آیت کے بارے میں امام رازیؒ کا درج ذیل قول بہت فکر انگیز ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اس آیت کو پڑھ کر وہ جلالِ ذات کے رعب کے باعث ساکت و ششدر ہوئے کھڑے ہیں۔ لکھتے ہیں: اِعْلَمْ اَنَّ ھٰذا المَقامَ مقامٌ غامِضٌ عمیقٌ مُہیبٌ ’’جان لو کہ یہ بہت مشکل ‘بہت گہرا اور بڑا پرہیبت مقام ہے! ‘‘اس کی حقیقت کا سمجھنا آسان کام نہیں ہے۔ گویا بقول شاعر ؏
’’ہشدار کہ رہ بر دمِ تیغ است قدم را!‘‘
اس راستے پر خبردار ہو کر چلنا‘ اب تمہار اپاؤں تلوار کی دھار پر آ گیا ہے !
صوفیاء نے ’’وحدت الوجود‘‘ کا فلسفہ اسی آیت سے اخذ کیا ہے‘ لیکن یہ فلسفے کا بھی مشکل ترین مسئلہ ہے۔ ’’وحدت الوجود ‘‘کی تعبیر میں کچھ لوگوں نے ’’ہمہ اوست‘‘ کا تصور گھڑا ہے جس کے کفر و شرک ہونے میں کسی اہل علم کو اختلاف نہیں ہے۔ بہرحال ’’وحدت الوجود‘‘ کے بارے میں یہ حقیقت بھی واضح رہنی چاہیے کہ یہ عام لوگوں کی سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے ۔البتہ میں نے اپنے مذکورہ دروس میں اپنی حد تک اس کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے اور پروفیسر یوسف سلیم چشتی مرحوم(۱۸۹۶۔۱۹۸۴ء) سے مجھے اپنی اس وضاحت کی سند بھی مل چکی ہے ۔ ایک مرتبہ اسی سورت کے میرے ایک درس میں پروفیسر صاحب بھی موجود تھے۔ درس کے بعد مجھ سے کہنے لگے کہ اس ’’وحدت الوجود‘‘ کے مسئلے کو پڑھتے پڑھاتے اور سمجھتے سمجھاتے مجھے پچاس برس ہو گئے ہیں ‘لیکن آپ نے اس ایک درس میں اسے جس انداز میں واضح کیا ہے میں آج تک نہیں کر سکا۔ یہاں ان سطور میں اس مسئلے کی وضاحت کرنا میرے لیے ممکن نہیں ۔تفصیل معلوم کرنے کے خواہش مند حضرات سورۃ الحدید پر میرے متعلقہ دروس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ بہرحال اس آیت کا آسان مفہوم یہ ہے کہ یہ کائنات ’’حادث‘‘ ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ موجود نہیں تھی اور جب یہ موجود نہیں تھی اس وقت کون موجود تھا؟ ظاہر ہے اللہ اُس وقت بھی موجود تھا۔ تو اس کائنات کا آغاز کہاں سے ہوا؟ اللہ سے! پھر ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب اس کائنات میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔{کُلُّ مَنۡ عَلَیۡہَا فَانٍ ﴿ۚۖ۲۶﴾} (الرحمن) ’’جو کوئی بھی اس (زمین) پر ہے فنا ہونے والا ہے۔‘‘ تو جب یہ سب کچھ نہیں رہے گا تو اُس وقت کون موجود ہو گا؟ {وَّ یَبۡقٰی وَجۡہُ رَبِّکَ ذُو الۡجَلٰلِ وَ الۡاِکۡرَامِ ﴿ۚ۲۷﴾}(الرحمٰن)
’’اور باقی رہے گا صرف تیرے رب کا چہرہ جو بہت بزرگی والا اور بہت عظمت والا ہے۔‘‘ تو جب کچھ نہیں رہے گا تو اللہ اُس وقت بھی موجود ہو گا۔ تو پھر ’’آخر‘‘کون ہوا؟ ظاہر ہے کہ اللہ ! اب یوں سمجھیں کہ اول اور آخر کے مابین ظاہر بھی وہ ہے اور باطن بھی وہ ہے۔
اس مشکل مضمون کو درج ذیل حدیث نے عام لوگوں کے لیے آسان کر دیا ہے۔ حضورﷺ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے :
’’اے اللہ آسمانوں اور زمین کے رب ! اے عرشِ عظیم کے مالک! اے ہمارے رب اور ہر چیز کے پروردگار! اے دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے اور تورات‘ انجیل اور فرقان کو نازل کرنے والے! میں ہر چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضۂ قدرت میں ہے۔اے اللہ !تو ہی اوّل ہے‘ پس تجھ سے پہلے کوئی چیز نہ تھی اور تو ہی آخر ہے ‘تیرے بعد کوئی چیز نہ ہو گی ‘اور تو ہی ظاہر ہے ‘تجھ سے بالاتر کوئی چیز نہیں‘ اور تو ہی ایسا باطن ہے کہ تجھ سے مخفی کوئی چیز نہیں۔‘‘
وَ ہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۳﴾
’’اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔‘‘
جب ہر زمان ‘ ہر مکان وہ ہی وہ ہے‘ وہ ظاہر بھی ہے اور باطن بھی تو کائنات کی کوئی ذرہ بھر چیز بھی اس سے پوشیدہ کیسے ہو سکتی ہے! بلکہ وہ تو انسان کے دل میں پیدا ہونے والے خیالات سے بھی آگاہ ہے۔ اس حوالے سے سورۂ قٓ کی یہ آیت ہم پڑھ چکے ہیں: {وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ وَ نَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِہٖ نَفۡسُہٗ ۚۖ وَ نَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِیۡدِ ﴿۱۶﴾} ’’اور ہم نے ہی انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم خوب جانتے ہیں جو اُس کا نفس وسوسے ڈالتا ہے ‘اور ہم تو اُس سے اُس کی رَگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں‘‘۔ پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کے ہر چیز پر قادر (عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ) ہونے کا اعلان ہوا ہے ‘ جبکہ زیر مطالعہ آیت میں اُس کے علمِ کل کا بیان ہے کہ اُسے ہر چیز کا علم ہے (وَھُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ) ۔ اللہ تعالیٰ کی یہ دو صفات ایسی ہیں جن کا ذکر قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔
(۱)صحیح مسلم‘ کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار‘ باب ما یقول عند النوم واخذ المضجع ۔
’’وہ جانتا ہے جو کچھ داخل ہوتا ہے زمین میں اور جو کچھ نکلتا ہے اس سے‘ اور جو کچھ اترتا ہے آسمان سے اور جو کچھ چڑھتا ہے اس میں۔‘‘
بالکل یہی الفاظ اس سے پہلے سورۂ سبا کی آیت ۲ میں بھی آ چکے ہیں۔ اس فقرے میں بہت سی چیزوں کا احاطہ ہو گیا‘ مثلاً زمین میں پانی جذب ہوتاہے‘ مختلف قسم کے بیج بوئے جاتے ہیں‘ مردے دفن ہوتے ہیں۔ اسی طرح آسمان سے بارش نازل ہوتی ہے اور فرشتے احکامِ الٰہی لے کر اُترتے ہیں۔ آسمان کی طر ف چڑھنے کی مثال بخارات کی ہے‘ اور پھر فرشتے بھی فوت ہونے والے انسانوں کی ارواح اور دنیا کے حادثات و واقعات کی رپورٹس لے کر اوپر جاتے ہیں۔
’’اور تم جہاں کہیں بھی ہوتے ہو وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے۔ اور جو کچھ تم کررہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔‘‘
جو کچھ اچھے یا برے اعمال تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ بذاتِ خود ان کا چشم دید گواہ ہے۔
آیت 5
لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ
’’آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اُسی کی ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ کی ’’بادشاہی‘‘ کے بارے میں تکرار و تاکید کا خصوصی اسلوب ملاحظہ ہو۔ آیت۲ کے ہوبہو الفاظ یہاں پھر دہرائے گئے ہیں۔
اس مضمون کے حوالے سے یہ نکتہ بھی سمجھنے کا ہے کہ جس طرح اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں اسی طرح اس کے علاوہ کوئی اور حاکم و مقتدر بھی نہیں۔چنانچہ جس طرح اللہ کو اکیلے معبود کے طور پر ماننا ضروری ہے‘ اسی طرح توحید کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اللہ کی زمین پر صرف اُسی کی بادشاہی قائم ہو اور اُس کے تمام احکام عملاً نافذ ہوں۔
وَ اِلَی اللّٰہِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴿۵﴾
’’اور تمام معاملات اُسی کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘
’’وہ پرو لاتا ہے رات کو دن میں اور پرولاتا ہے دن کو رات میں۔‘‘
یہ مضمون ان ہی الفاظ کے ساتھ قرآن حکیم میں متعدد بار آیا ہے۔
وَ ہُوَ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۶﴾
’’اور وہ جانتا ہے اس کو بھی جو سینوں کے اندر ہے۔‘‘
نوٹ کیجیے! ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے علم کا ذکر بہت تکرار کے ساتھ ہوا ہے ‘ پہلے فرمایا: {وَ ہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۳﴾} پھر فرمایا: {یَعۡلَمُ مَا یَلِجُ فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا یَخۡرُجُ مِنۡہَا وَ مَا یَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعۡرُجُ فِیۡہَا …} (آیت۴) اور اب یہاں اس آیت میں بتایا گیا کہ وہ سینوں کے رازوں کا بھی علم رکھتا ہے۔
ان چھ ابتدائی آیات پر مشتمل یہ پرشکوہ تمہید گویا ایک اعلان ہے کہ خبردار! تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم یہ کس کا کلام پڑھ رہے ہو‘ کس سے ہم کلام ہو رہے ہو! ان تمہیدی آیات میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت ‘ اُس کی قدرت‘ اُس کی بادشاہی اور خصوصی طور پر اُس کے علم کا تعارف ہے۔ یہ گویا توحید فی العقیدہ کا بیان ہے۔ توحید کا یہ عقیدہ عملی میدان میں بندوں سے کیا تقاضا کرتا ہے اس کا ذکر اب آگے آ رہا ہے۔ چنانچہ اگلی آیات میں توحید کے دو بنیادی تقاضے بتائے گئے ہیں۔