فَلَوۡ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَ ﴿ۙ۸۳﴾
’’تو کیوں نہیں‘ جب جان حلق میں آ (کر پھنس) جاتی ہے۔‘‘
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
فَلَوۡ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَ ﴿ۙ۸۳﴾ وَ اَنۡتُمۡ حِیۡنَئِذٍ تَنۡظُرُوۡنَ ﴿ۙ۸۴﴾ وَ نَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡکُمۡ وَ لٰکِنۡ لَّا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۸۵﴾ فَلَوۡ لَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ غَیۡرَ مَدِیۡنِیۡنَ ﴿ۙ۸۶﴾ تَرۡجِعُوۡنَہَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۸۷﴾
جیساکہ قبل ازیں بھی بار بار ذکر ہوا ہے کہ سورۃ الرحمن اور سورۃ الواقعہ باہم جوڑا ہیں اور ان کے مضامین بھی باہم مشابہ و مربوط ہیں۔البتہ زیر مطالعہ آیات کا مضمون صرف اسی سورت میں آیا ہے۔ اس کے مقابل سورۃ الرحمن میں ایسا کوئی مضمون نہیں ہے۔ گویا یہ مضمون اس سورۃ کی اضافی شان ہے۔
فَلَوۡ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَ ﴿ۙ۸۳﴾
’’تو کیوں نہیں‘ جب جان حلق میں آ (کر پھنس) جاتی ہے۔‘‘
وَ اَنۡتُمۡ حِیۡنَئِذٍ تَنۡظُرُوۡنَ ﴿ۙ۸۴﴾
’’اور تم اُس وقت دیکھ رہے ہوتے ہو۔‘‘
ان آیات میں ایک انسان کے وقتِ نزع کی کیفیت کا عبرت انگیز نقشہ پیش کر کے دعوتِ فکر دی گئی ہے کہ ذرا سوچو! جب تم میں سے کسی کی جان حلق میں پھنسی ہوتی ہے۔تم اُس وقت کا تصورکرو جب تم میں سے کسی کے بیٹے‘ کسی کے بھائی‘ کسی کے والد‘ کسی کی والدہ یا کسی کی بیوی پر نزع کا عالم طاری ہوتا ہے اور وہ بے بسی کی تصویر بنے اپنے اس عزیز کی اس کیفیت کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔
وَ نَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡکُمۡ وَ لٰکِنۡ لَّا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۸۵﴾
’’اور ہم تمہارے مقابلے میں اس سے قریب تر ہوتے ہیں لیکن تم دیکھ نہیں پاتے ۔‘‘
یہ تو تخصیص کے ساتھ عالم نزع کی کیفیت کا ذکر ہے لیکن اس کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ ہر وقت ہر بندے کے ساتھ ہوتا ہے‘ جیسا کہ سورۂ قٓ میں فرمایا گیا ہے : {وَ نَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِیۡدِ ﴿۱۶﴾} ’’اور ہم تو انسان کی رگِ جان سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتے ہیں۔‘‘
فَلَوۡ لَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ غَیۡرَ مَدِیۡنِیۡنَ ﴿ۙ۸۶﴾تَرۡجِعُوۡنَہَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۸۷﴾
’’تو اگر تم کسی کے اختیار میں نہیں ہو تو اس (جان) کو لوٹا کیوں نہیں لیتے اگر تم سچے ہو؟‘‘
یہاں الفاظ کی ترتیب اس طرح ہے کہ ان دونوں آیات کو ملانے سے ایک فقرہ مکمل ہوتا ہے۔ قرآن کے خصوصی اسلوب کی وجہ سے لَوْلَا پہلی آیت کے شروع میں آ گیا ہے‘لیکن اس کا مفہوم دوسری آیت کے ساتھ ملنے سے واضح ہوتاہے۔ چنانچہ مفہوم کی وضاحت کے لیے یوں سمجھیں کہ ان دونوں آیات میں الفاظ کی اصل ترتیب یوں ہے : فَاِنۡ کُنۡتُمۡ غَیۡرَ مَدِیۡنِیۡنَ تَرۡجِعُوۡنَہَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ؟ کہ تم لوگ آئے دن اپنے عزیز و اقارب کی اموات کا مشاہدہ کرتے رہتے ہو ۔ تم میں سے جب کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو تم سب مل کر بھی اور اپنے تمام وسائل استعمال میں لا کر بھی اس کو بچا نہیں پاتے ہو۔ اس معاملے میں تمہارے بڑے بڑے صاحب اختیا ر و اقتدار لوگ بھی بالکل بے بس ہو جاتے ہیں۔ شاہی اطباء اور ماہر ڈاکٹرز کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں اور بادشاہ سلامت ان کی آنکھوں کے سامنے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ تم لوگ دعویٰ کرتے ہو کہ تم خود ہی پیدا ہوتے ہو اور خود ہی مرتے ہو اور تمہاری زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں نہیں ہے۔ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو اپنے پیاروں کو موت کے منہ میں جاتے دیکھ کر بے بسی کی تصویر بن کر کیوں رہ جاتے ہو؟ اپنے وسائل کو استعما ل میں لا کر انہیں بچا کیوں نہیں لیتے ہو؟
اس کے بعد اگلی آیات میں ان تین گروہوں کی جزا و سزا کا تذکرہ ہے جن کا ذکر سورۃ کے آغاز میں ہوا تھا۔
فَاَمَّاۤ اِنۡ کَانَ مِنَ الۡمُقَرَّبِیۡنَ ﴿ۙ۸۸﴾ فَرَوۡحٌ وَّ رَیۡحَانٌ ۬ۙ وَّ جَنَّتُ نَعِیۡمٍ ﴿۸۹﴾ وَ اَمَّاۤ اِنۡ کَانَ مِنۡ اَصۡحٰبِ الۡیَمِیۡنِ ﴿ۙ۹۰﴾ فَسَلٰمٌ لَّکَ مِنۡ اَصۡحٰبِ الۡیَمِیۡنِ ﴿ؕ۹۱﴾
فَاَمَّاۤ اِنۡ کَانَ مِنَ الۡمُقَرَّبِیۡنَ ﴿ۙ۸۸﴾
’’پھر اگر وہ مقربین میں سے تھا۔‘‘
یعنی اگر مرنے والا شخص سابقون میں سے تھا۔ اپنی زندگی میں {فَاسۡتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ ؕ } (المائدۃ:۴۸) کے حکم پر عمل کرتے ہوئے نیکی اور بھلائی کے کاموں میں مسابقت کرتے ہوئے دوسروں کے لیے مثال بنتا رہا تھا:
فَرَوۡحٌ وَّ رَیۡحَانٌ ۬ۙ وَّ جَنَّتُ نَعِیۡمٍ ﴿۸۹﴾
’’تو اُس کے لیے راحت اور سرور اور نعمتوں والی جنت ہے۔‘‘
وَ اَمَّاۤ اِنۡ کَانَ مِنۡ اَصۡحٰبِ الۡیَمِیۡنِ ﴿ۙ۹۰﴾
’’اور اگر وہ اصحاب الیمین میں سے تھا۔‘‘
اگرچہ وہ ’’سابقون‘‘ میں سے تو نہیں تھا لیکن نیک تھا اوردین کی خدمت میں حسبِ استطاعت کوشاں رہتاتھا :
فَسَلٰمٌ لَّکَ مِنۡ اَصۡحٰبِ الۡیَمِیۡنِ ﴿ؕ۹۱﴾
’’تو سلامتی پہنچے آپ کو اصحاب الیمین کی طرف سے۔‘‘
اے نبیﷺ! آپ اطمینان رکھیں کہ آپ کی امت کے اصحاب الیمین بھی عیش میں ہوں گے اور جنت کی ان نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے جن کا ذکر سورۃ کے آغاز میں ہو چکا ہے۔۱
(۱) اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی لیا گیا ہے کہ اصحاب یمین کی طرف سے اس کا استقبال کیا جائے گا اور اسے سلام کہا جائے گا۔ جب کہ بعض مفسرین نے اس جملے میں اَنْتَ محذوف مانا ہے۔ یعنی تقدیر عبارت یوں ہے : فسلام لک انت من اصحٰب الیمین کہ تیرے لیے اب سلامتی ہی سلامتی ہے‘ تو اصحاب یمین میں شامل ہے! (حاشیہ از مرتب)
وَ اَمَّاۤ اِنۡ کَانَ مِنَ الۡمُکَذِّبِیۡنَ الضَّآلِّیۡنَ ﴿ۙ۹۲﴾ فَنُزُلٌ مِّنۡ حَمِیۡمٍ ﴿ۙ۹۳﴾ وَّ تَصۡلِیَۃُ جَحِیۡمٍ ﴿۹۴﴾ اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ حَقُّ الۡیَقِیۡنِ ﴿ۚ۹۵﴾ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الۡعَظِیۡمِ ﴿٪۹۶﴾
وَ اَمَّاۤ اِنۡ کَانَ مِنَ الۡمُکَذِّبِیۡنَ الضَّآلِّیۡنَ ﴿ۙ۹۲﴾
’’اور اگر وہ تھا جھٹلانے والوں اور گمراہوں میں سے۔‘‘
یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ قبل ازیں دوسرے رکوع میں جب اس گروہ کا ذکر ہوا تو وہاں ان لوگوں کو ’’اَیُّھَا الضَّآلُّـــوْنَ الْمُکَذِّبُوْنَ‘‘ کہہ کر مخاطب فرمایا گیا تھا ‘لیکن یہاں پر انہیں ’’الْمُکَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَ‘‘ کہا گیا ہے۔ یعنی یہاں پر الفاظ کی ترتیب بدل گئی ہے ۔بظاہر اس کی توجیہہ یہ سمجھ آتی ہے کہ سزا کے حوالے سے ان کے بڑے اور اصل جرم کا ذکر پہلے کیا گیا ہے۔ حق کو جھٹلا دینے کے مقابلے میں گمراہی نسبتاً چھوٹا جرم ہے‘کیونکہ کسی گمراہ اور بھٹکے ہوئے شخص کو اگر کوئی سیدھا راستہ دکھا دے تو ممکن ہے وہ اسے قبول کرلے ۔ لیکن جو حق کو جھٹلا دے اس کا سیدھے راستے پر گامزن ہونا ممکن نہیں۔
فَنُزُلٌ مِّنۡ حَمِیۡمٍ ﴿ۙ۹۳﴾
’’تو اس کے لیے مہمانی ہے کھولتے پانی سے۔‘‘
وَّ تَصۡلِیَۃُ جَحِیۡمٍ ﴿۹۴﴾
’’اور جہنم میں جلنا۔‘‘
یعنی ان لوگوں کی ابتدائی تواضع تو کھولتے ہوئے پانی سے ہو گی۔ اس کے بعد ان کو جہنم کے اصل عذاب میں جھونک دیا جائے گا۔
اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ حَقُّ الۡیَقِیۡنِ ﴿ۚ۹۵﴾
’’یقینا یہ سب کچھ قطعی حق ہے۔‘‘
بے شک یہ ساری باتیں سچی اور یقینی ہیں۔ یہ سب تفصیلات جو اس سورت میں بیان ہوئی ہیں ان کے بارے میں تمہیں یقین ہونا چاہیے کہ یہ سب کچھ ہو کر رہنا ہے۔ قیامت کے دن تمام نوعِ انسانی کو مذکورہ بالا تین گروہوں میں تقسیم کر کے ہر گروہ کے افراد کو ان کے اعمال و اعتقادات کے مطابق بدلہ دیا جانا ہے۔
فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الۡعَظِیۡمِ ﴿٪۹۶﴾
’’پس آپ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو کہ بہت عظمت والا ہے۔‘‘
اس کے جواب میں امتثالِ امر کے طور پر کہا جائے گا : سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ! یہ آیت اس سورت میں دو مرتبہ آئی ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضورﷺ نے فرمایا: حدیث((اِجْعَلُوْھَا فِیْ رُکُوْعِکُمْ))۱ کہ اس کو تم لوگ اپنے رکوع میں رکھ دو۔ چنانچہ حضورﷺ کے اس فرمان کے مطابق رکوع کی تسبیح سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم اس آیت سے اخذ کی گئی ہے۔ ٭
(۱) سنن ابی داوٗد‘ کتاب الصلاۃ‘ باب ما یقول الرجل فی رکوعہ وسجودہ‘ ح:۸۶۹ وصحیح ابن حبان‘ ح : ۱۸۹۸-------- اسی طرح جب آیت {سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی ۙ﴿۱﴾} (الاعلیٰ) نازل ہوئی تو آپﷺ نے فرمایا: ((اِجْعَلُوْھَا فِیْ سُجُُوْدِکُمْ)) کہ اس کو تم لوگ اپنے سجدوں میں رکھ دو۔