تحریر

الواقعة

آیات ۱۱ تا ۵۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

11-26

سابقوں کی جنت

ویڈیو

اُولٰٓئِکَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ ﴿ۚ۱۱﴾ فِیۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ ﴿۱۲﴾ ثُلَّۃٌ مِّنَ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ۙ۱۳﴾ وَ قَلِیۡلٌ مِّنَ الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿ؕ۱۴﴾ عَلٰی سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَۃٍ ﴿ۙ۱۵﴾ مُّتَّکِـِٕیۡنَ عَلَیۡہَا مُتَقٰبِلِیۡنَ ﴿۱۶﴾ یَطُوۡفُ عَلَیۡہِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ ﴿ۙ۱۷﴾ بِاَکۡوَابٍ وَّ اَبَارِیۡقَ ۬ۙ وَ کَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِیۡنٍ ﴿ۙ۱۸﴾ لَّا یُصَدَّعُوۡنَ عَنۡہَا وَ لَا یُنۡزِفُوۡنَ ﴿ۙ۱۹﴾ وَ فَاکِہَۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوۡنَ ﴿ۙ۲۰﴾ وَ لَحۡمِ طَیۡرٍ مِّمَّا یَشۡتَہُوۡنَ ﴿ؕ۲۱﴾ وَ حُوۡرٌ عِیۡنٌ ﴿ۙ۲۲﴾ کَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِ الۡمَکۡنُوۡنِ ﴿ۚ۲۳﴾ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۴﴾ لَا یَسۡمَعُوۡنَ فِیۡہَا لَغۡوًا وَّ لَا تَاۡثِیۡمًا ﴿ۙ۲۵﴾ اِلَّا قِیۡلًا سَلٰمًا سَلٰمًا ﴿۲۶﴾

آیت 11

اُولٰٓئِکَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ ﴿ۚ۱۱﴾

’’وہی توبہت مقرب ہوں گے۔‘‘

یعنی تیسرا گروہ مقربین بارگاہ پر مشتمل ہو گا۔ اللہ تعالیٰ انسان کو اپنے قرب سے نوازنا چاہتا ہے اور اس کے لیے قرآن میں جابجا ترغیبی انداز اختیار کیا گیا ہے۔ سورۃ المائدۃ میں تو امر کے صیغے میں فرمایا گیا: {وَ ابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ وَ جَاہِدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِہٖ } (آیت ۳۵) کہ تم اس کا قرب تلاش کرو اور اس کے لیے اس کی راہ میں جہاد کرو۔ظاہر ہے جو کوئی اللہ کی راہ میں جان و مال کے ساتھ جہاد کے لیے نکلے گا اللہ تعالیٰ اسے ضرور اپنے مقربین میں شامل فرمائیں گے۔

آیت 12

فِیۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ ﴿۱۲﴾

’’یہ نعمتوں والے باغات میں ہوں گے۔‘‘

آیت 13

ثُلَّۃٌ مِّنَ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ۙ۱۳﴾

’’یہ بڑی تعداد میں ہوں گے پہلوں میں سے۔‘‘

آیت 14

وَ قَلِیۡلٌ مِّنَ الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿ؕ۱۴﴾

’’اور تھوڑے ہوں گے پچھلوں میں سے۔‘‘

بعض مفسرین کے نزدیک یہاں اَوَّلِیْن سے پہلی اُمتیں اور آخَرِین سے یہ اُمت مراد ہے ۔لیکن اگر اس مفہوم کو درست سمجھا جائے تو اس سے الٹا یہ ثابت ہو گا کہ پہلی اُمتیں اس اُمت کے مقابلے میں بہتر اور افضل تھیں۔ اس لیے زیادہ صحیح یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس فقرے کو ہر اُمت کے اولین اور آخرین سے متعلق سمجھا جائے۔ یعنی ہر اُمت کے اَوَّلِیْن (ہر نبی کے ابتدائی پیروکاروں)میں سے مقربین کی تعداد زیادہ ہو گی‘ جبکہ ہر اُمت کے آخِرِیْنَ میں سے بہت کم لوگ اس درجے تک پہنچ پائیں گے۔ اور یہی معاملہ اس اُمت کا بھی ہے۔ حضورﷺ کا فرمان ہے : حدیث((اِنَّ خَیْرَکُمْ قَرْنِیْ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ))۱ یعنی اس اُمت کا بہترین زمانہ حضورﷺ کا زمانہ تھا ۔ا س دور کے لوگ کثیر تعداد میں مقربین بارگاہ کے درجے تک پہنچے‘کیونکہ جس قدر قربانیاں ان لوگوں نے دیں پچھلے زمانہ کے لوگوں نے نہیں دیں۔ تاہم یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔یعنی ہر دور میں لوگ صدیقین کے مقام تک بھی پہنچیں گے اور شہادتِ عظمیٰ کا درجہ بھی حاصل کریں گے ‘لیکن ان کی تعداد بہت کم ہوگی‘ جبکہ زیادہ تر مؤمنین ’’صالحین‘‘ کے درجے تک پہنچ پائیں گے۔ جیسا کہ سورۃ التوبہ کی اس آیت سے واضح ہے : {وَ السّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ وَ الۡاَنۡصَارِ وَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُمۡ بِاِحۡسَانٍ ۙ…} (آیت ۱۰۰) ’’اور پہلے پہل سبقت کرنے والے مہاجرین اور انصار میں سے ‘اور وہ جنہوں نے اُن کی پیروی کی احسان کے ساتھ…‘‘یعنی ’’سابقون الاولون‘‘ تو آگے نکل جانے والے ہوں گے جبکہ کچھ لوگ اسی راستے پر ان کے پیچھے آنے والے بھی ہوں گے ۔یہ عام مؤمنین صالحین ہوں گے جنہیں آیات زیر مطالعہ میں اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ اور اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ کے القاب سے نوازا گیا ہے۔ چنانچہ ہر اُمت کے پہلے دور کے اہل ایمان میں سے نسبتاً زیادہ لوگ ’’مقربین‘‘ ہونے کی سعادت حاصل کریں گے جبکہ بعد کے ادوار میں بہت کم لوگ اس درجہ تک پہنچ پائیں گے۔ جیسے آج حضورﷺ کی امت کی تعداد ڈیڑھ ارب کے لگ بھگ ہے لیکن ان میں مقربین آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہوں گے۔

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب المناقب‘ باب فضائل اصحاب النبیﷺ ۔ ومتعدد مقامات‘ح:۶۴۲۸‘ ۶۶۹۵۔ وصحیح مسلم ‘کتاب فضائل الصحابۃ‘ باب فضل الصحابۃ ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم‘ ح:۲۵۳۵۔ واللفظ لہ۔

آیات 15–16

عَلٰی سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَۃٍ ﴿ۙ۱۵﴾مُّتَّکِـِٕیۡنَ عَلَیۡہَا مُتَقٰبِلِیۡنَ ﴿۱۶﴾

’’جڑاؤ تختوں پر‘ ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے آمنے سامنے۔‘‘

آیت 17

یَطُوۡفُ عَلَیۡہِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ ﴿ۙ۱۷﴾

’’ ان پر گردش کر رہے ہوں گے وہ لڑکے جو سدا اسی طرح رہیں گے۔‘‘

عام طو رپر گھروں میں چھوٹی عمر کے لڑکوں کو ملازم رکھا جاتا ہے اور وہ آپ کے مزاج اورذوق سے واقف ہوجاتے ہیں‘ لیکن بڑے ہونے پر انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی گھر سے نکالنا پڑتا ہے ۔ جبکہ جنت میں چھوٹے لڑکے (غلمان) جو اہل جنت کی خدمت پر مامور ہوں گے وہ ’’بڑے‘‘ نہیں ہوں گے بلکہ ہمیشہ لڑکپن کی عمر میں ہی رہیں گے۔

آیت 18

بِاَکۡوَابٍ وَّ اَبَارِیۡقَ ۬ۙ وَ کَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِیۡنٍ ﴿ۙ۱۸﴾

’’آب خورے‘ صراحیاں اور شرابِ خالص کے جام لیے ہوئے ۔‘‘

اہل جنت کی محفلوں میں خوبصورت غلمان نہایت شفاف قسم کی شراب کے مینا و جام لیے ہر وقت محو گردش رہیں گے۔

آیت 19

لَّا یُصَدَّعُوۡنَ عَنۡہَا وَ لَا یُنۡزِفُوۡنَ ﴿ۙ۱۹﴾

’’(اس سے) نہ تو ان کے سروں میں کوئی گرانی ہوگی اور نہ ہی وہ بہکیں گے۔‘‘

دنیا کی شراب پینے سے تو سر چکرانے لگتا ہے اور آدمی مدہوش ہو جاتا ہے‘بہکی بہکی باتیں کرنے لگتا ہے‘ لیکن جنت کی ’’شرابِ طہور‘‘ کو اس شراب پر قیاس نہیں کرنا چاہیے۔ اس میں ایسی کسی خرابی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

آیت 20

وَ فَاکِہَۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوۡنَ ﴿ۙ۲۰﴾

’’اور میوے جو وہ پسند کریں گے۔‘‘

آیت 21

وَ لَحۡمِ طَیۡرٍ مِّمَّا یَشۡتَہُوۡنَ ﴿ؕ۲۱﴾

’’اور پرندوں کے گوشت جو انہیں مرغوب ہوں گے۔‘‘

خوب صورت ابدی لڑکے یہ سب نعمتیں اہل جنت کی خدمت میں پیش کر رہے ہوں گے۔

آیت 22

وَ حُوۡرٌ عِیۡنٌ ﴿ۙ۲۲﴾

’’اور حوریں ہوں گی بڑی بڑی آنکھوںوالی۔‘‘

نوٹ کیجیے یہاں اس جنت کی نعمتوں میں حوروں کا ذکر بھی ہوا ہے لیکن اگلی آیات میں اصحاب الیمین کی جنت کے تذکرے میں ’’حُوْر‘‘ کا لفظ نہیں آیا۔ یاد رہے کہ سورۃ الرحمن میں نچلے درجے کی جنت کا ذکر پہلے جبکہ حوروں والی جنت (اونچے درجے کی جنت) کا ذکر بعد میں آیاہے۔ دونوں سورتوں کے مضامین کی اسی ترتیب کو میں نے ابتدا میں عکسی ترتیب (mirror image) کا نام دیا ہے۔

آیت 23

کَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِ الۡمَکۡنُوۡنِ ﴿ۚ۲۳﴾

’’جیسے موتی ہوں چھپا کر رکھے گئے۔‘‘

آیت 24

جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۴﴾

’’ یہ بدلہ ہو گا ان کے اعمال کا جو وہ کرتے رہے تھے۔‘‘

یہ ان قربانیوں کا صلہ ہو گا جو انہوں نے اپنی دنیوی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے دی ہوں گی۔

آیت 25

لَا یَسۡمَعُوۡنَ فِیۡہَا لَغۡوًا وَّ لَا تَاۡثِیۡمًا ﴿ۙ۲۵﴾

’’وہ نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات اور نہ ہی کوئی الزام۔‘‘

آیت 26

اِلَّا قِیۡلًا سَلٰمًا سَلٰمًا ﴿۲۶﴾

’’مگر (ان کے لیے ‘ ہر طرف سے) سلام سلام ہی کی آوازیں ہوں گی۔‘‘

یہ تو تھا مقربین اور ان کی جنت کا بیان‘ اب آگے اصحاب الیمین اور ان کی جنت کا ذکر ہے۔

27-40

اصحاب الیمین کی جنت

ویڈیو

وَ اَصۡحٰبُ الۡیَمِیۡنِ ۬ۙ مَاۤ اَصۡحٰبُ الۡیَمِیۡنِ ﴿ؕ۲۷﴾ فِیۡ سِدۡرٍ مَّخۡضُوۡدٍ ﴿ۙ۲۸﴾ وَّ طَلۡحٍ مَّنۡضُوۡدٍ ﴿ۙ۲۹﴾ وَّ ظِلٍّ مَّمۡدُوۡدٍ ﴿ۙ۳۰﴾ وَّ مَآءٍ مَّسۡکُوۡبٍ ﴿ۙ۳۱﴾ وَّ فَاکِہَۃٍ کَثِیۡرَۃٍ ﴿ۙ۳۲﴾ لَّا مَقۡطُوۡعَۃٍ وَّ لَا مَمۡنُوۡعَۃٍ ﴿ۙ۳۳﴾ وَّ فُرُشٍ مَّرۡفُوۡعَۃٍ ﴿ؕ۳۴﴾ اِنَّاۤ اَنۡشَاۡنٰہُنَّ اِنۡشَآءً ﴿ۙ۳۵﴾ فَجَعَلۡنٰہُنَّ اَبۡکَارًا ﴿ۙ۳۶﴾ عُرُبًا اَتۡرَابًا ﴿ۙ۳۷﴾ لِّاَصۡحٰبِ الۡیَمِیۡنِ ﴿ؕ٪۳۸﴾ ثُلَّۃٌ مِّنَ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ۙ۳۹﴾ وَ ثُلَّۃٌ مِّنَ الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿ؕ۴۰﴾

آیت 27

وَ اَصۡحٰبُ الۡیَمِیۡنِ ۬ۙ مَاۤ اَصۡحٰبُ الۡیَمِیۡنِ ﴿ؕ۲۷﴾

’’اور اصحاب الیمین! کیا کہنے ہیں اصحاب الیمین کے!‘‘

آیت 28

فِیۡ سِدۡرٍ مَّخۡضُوۡدٍ ﴿ۙ۲۸﴾

’’وہ ہوں گے بیری کے درختوں میں جن میں کانٹے نہیں ہوں گے۔‘‘

آیت 29

وَّ طَلۡحٍ مَّنۡضُوۡدٍ ﴿ۙ۲۹﴾

’’اور تہ بر تہ کیلے۔‘‘

آیت 30

وَّ ظِلٍّ مَّمۡدُوۡدٍ ﴿ۙ۳۰﴾

’’اور پھیلے ہوئے سائے۔‘‘

آیت 31

وَّ مَآءٍ مَّسۡکُوۡبٍ ﴿ۙ۳۱﴾

’’اور بہتا ہوا پانی۔‘‘

آیت 32

وَّ فَاکِہَۃٍ کَثِیۡرَۃٍ ﴿ۙ۳۲﴾

’’اور کثرت کے ساتھ میوے۔‘‘

آیت 33

لَّا مَقۡطُوۡعَۃٍ وَّ لَا مَمۡنُوۡعَۃٍ ﴿ۙ۳۳﴾

’’نہ ٹوٹے ہوئے اور نہ ہی پہنچ سے باہر۔‘‘

جنت کے پھل درختوں سے توڑ کر انہیں پیش نہیں کیے جائیں گے بلکہ جب وہ پھل حاصل کرنا چاہیں گے درخت خود ان کے سامنے جھک جائیں گے ۔تمام پھل بکثرت بے روک ٹوک ملیں گے۔ کوئی پھل ایسا نہیں ہو گا جو ان کی پہنچ سے باہر ہو یا اسے کھانا ممنوع قرار دیا گیا ہو۔

آیت 34

وَّ فُرُشٍ مَّرۡفُوۡعَۃٍ ﴿ؕ۳۴﴾

’’اور اونچے اونچے بچھونے۔‘‘

آیت 35

اِنَّاۤ اَنۡشَاۡنٰہُنَّ اِنۡشَآءً ﴿ۙ۳۵﴾

’’ان (کی بیویوں) کو اٹھایا ہے ہم نے بڑی اچھی اُٹھان پر۔‘‘

آیت 36

فَجَعَلۡنٰہُنَّ اَبۡکَارًا ﴿ۙ۳۶﴾

’’پس ہم نے بنایا ہے انہیں کنواریاں۔‘‘

آیت 37

عُرُبًا اَتۡرَابًا ﴿ۙ۳۷﴾

’’پیار دینے دلانے والیاں‘ ہم عمر۔‘‘

آیت 38

لِّاَصۡحٰبِ الۡیَمِیۡنِ ﴿ؕ٪۳۸﴾

’’(یہ سب کچھ ہو گا ) اصحاب الیمین کے لیے۔‘‘

آیت 39

ثُلَّۃٌ مِّنَ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ۙ۳۹﴾

’’جو پہلوں میں سے بھی بہت ہوں گے۔‘‘

آیت 40

وَ ثُلَّۃٌ مِّنَ الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿ؕ۴۰﴾

’’اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہوں گے۔‘‘

اب اس کے بعد اہل جہنم کا تذکرہ ہے۔

41-56

اصحاب الشمال کا برا انجام

ویڈیو

وَ اَصۡحٰبُ الشِّمَالِ ۬ۙ مَاۤ اَصۡحٰبُ الشِّمَالِ ﴿ؕ۴۱﴾ فِیۡ سَمُوۡمٍ وَّ حَمِیۡمٍ ﴿ۙ۴۲﴾ وَّ ظِلٍّ مِّنۡ یَّحۡمُوۡمٍ ﴿ۙ۴۳﴾ لَّا بَارِدٍ وَّ لَا کَرِیۡمٍ ﴿۴۴﴾ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِکَ مُتۡرَفِیۡنَ ﴿ۚۖ۴۵﴾ وَ کَانُوۡا یُصِرُّوۡنَ عَلَی الۡحِنۡثِ الۡعَظِیۡمِ ﴿ۚ۴۶﴾ وَ کَانُوۡا یَقُوۡلُوۡنَ ۬ۙ اَئِذَا مِتۡنَا وَ کُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ ﴿ۙ۴۷﴾ اَوَ اٰبَآؤُنَا الۡاَوَّلُوۡنَ ﴿۴۸﴾ قُلۡ اِنَّ الۡاَوَّلِیۡنَ وَ الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿ۙ۴۹﴾ لَمَجۡمُوۡعُوۡنَ ۬ۙ اِلٰی مِیۡقَاتِ یَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴿۵۰﴾ ثُمَّ اِنَّکُمۡ اَیُّہَا الضَّآلُّوۡنَ الۡمُکَذِّبُوۡنَ ﴿ۙ۵۱﴾ لَاٰکِلُوۡنَ مِنۡ شَجَرٍ مِّنۡ زَقُّوۡمٍ ﴿ۙ۵۲﴾ فَمَالِـُٔوۡنَ مِنۡہَا الۡبُطُوۡنَ ﴿ۚ۵۳﴾ فَشٰرِبُوۡنَ عَلَیۡہِ مِنَ الۡحَمِیۡمِ ﴿ۚ۵۴﴾ فَشٰرِبُوۡنَ شُرۡبَ الۡہِیۡمِ ﴿ؕ۵۵﴾ ہٰذَا نُزُلُہُمۡ یَوۡمَ الدِّیۡنِ ﴿ؕ۵۶﴾

آیت 41

وَ اَصۡحٰبُ الشِّمَالِ ۬ۙ مَاۤ اَصۡحٰبُ الشِّمَالِ ﴿ؕ۴۱﴾

’’اور بائیں والے !کیا (ہی برا) حال ہو گابائیں والوں کا!‘‘

آیت 42

فِیۡ سَمُوۡمٍ وَّ حَمِیۡمٍ ﴿ۙ۴۲﴾

’’وہ ہوں گے تیز لو اور کھولتے ہوئے پانی میں۔‘‘

آیت 43

وَّ ظِلٍّ مِّنۡ یَّحۡمُوۡمٍ ﴿ۙ۴۳﴾

’’اور کالے دھوئیں کے سائے میں۔‘‘

آیت 44

لَّا بَارِدٍ وَّ لَا کَرِیۡمٍ ﴿۴۴﴾

’’نہ وہ ٹھنڈا ہو گا اور نہ ہی سکون بخش۔‘‘

آیت 45

اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِکَ مُتۡرَفِیۡنَ ﴿ۚۖ۴۵﴾

’’یہ لوگ اس سے پہلے (دنیا میں) بڑے خوشحال تھے۔‘‘

دنیا میں انہیں ہر طرح کا عیش و آرام میسر تھا۔ وہاں انہوں نے خوب مزے کیے۔

آیت 46

وَ کَانُوۡا یُصِرُّوۡنَ عَلَی الۡحِنۡثِ الۡعَظِیۡمِ ﴿ۚ۴۶﴾

’’اور یہ اصرار کرتے تھے بہت بڑے گناہ پر۔‘‘

بہت بڑے گناہ سے یہاں شرک مراد ہے ‘جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سورۃ النساء میں حتمی فیصلہ دیا جا چکا ہے: {اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغۡفِرُ اَنۡ یُّشۡرَکَ بِہٖ وَ یَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ } (آیت ۴۸) کہ اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ کیے گئے شرک کو کبھی نہیں بخشے گا‘ اس کے علاوہ جس کو چاہے گا بخش دے گا۔

آیت 47

وَ کَانُوۡا یَقُوۡلُوۡنَ ۬ۙ اَئِذَا مِتۡنَا وَ کُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ ﴿ۙ۴۷﴾

’’اور وہ یہ کہا کرتے تھے کہ کیا ہم جب مر جائیں گے اور ہو جائیں مٹی اور ہڈیاں تو کیا پھر سے اُٹھا کھڑے کیے جائیں گے؟‘‘

آیت 48

اَوَ اٰبَآؤُنَا الۡاَوَّلُوۡنَ ﴿۴۸﴾

’’اور کیا ہمارے آباء و اَجداد بھی جو پہلے گزر چکے ہیں؟‘‘

آیت 49

قُلۡ اِنَّ الۡاَوَّلِیۡنَ وَ الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿ۙ۴۹﴾

’’ (اے نبیﷺ!) آپ کہیے کہ یقینا پہلے بھی اور پچھلے بھی۔‘‘

آیت 50

لَمَجۡمُوۡعُوۡنَ ۬ۙ اِلٰی مِیۡقَاتِ یَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴿۵۰﴾

’’لازماً جمع کیے جائیں گے ایک مقرر دن کے طے شدہ وقت پر۔‘‘

آیت 51

ثُمَّ اِنَّکُمۡ اَیُّہَا الضَّآلُّوۡنَ الۡمُکَذِّبُوۡنَ ﴿ۙ۵۱﴾

’’پھر تم ‘ اے گمراہو اور جھٹلانے والو!‘‘

آیت 52

لَاٰکِلُوۡنَ مِنۡ شَجَرٍ مِّنۡ زَقُّوۡمٍ ﴿ۙ۵۲﴾

’’ ضرور کھاؤ گے زقوم کے درخت سے۔‘‘

تم بھٹکے ہوئے تھے‘ ہم نے تمہاری راہنمائی کے لیے اپنا رسولؐ بھیجا‘ کتاب ہدایت بھیجی : {تَبۡصِرَۃً وَّ ذِکۡرٰی لِکُلِّ عَبۡدٍ مُّنِیۡبٍ ﴿۸﴾} (قٓ) یہ سب کچھ تمہاری آنکھیں کھولنے کے لیے تھا ۔لیکن اس کے باوجود تم نے ہمار ے رسول ؐکو بھی جھٹلادیا‘ ہماری کتاب کی بھی تکذیب کی اور گمراہ رہنے کو ہی ترجیح دی ۔تو اے بھٹکے ہوئے اور ہماری ہدایت کو جھٹلانے والے لوگو! اب جہنم کے اندر تمہاری ضیافت زقوم کے درخت سے ہی کی جائے گی۔ ۱

(۱) زقوم کے حوالے سے رسول اللہﷺ نے فرمایا: ((لَـوْ اَنَّ قَطْرَۃً مِنَ الزَّقُّوْمِ قُطِرَتْ فِیْ دَارِ الدُّنْیَا لَاَفْسَدَتْ عَلٰی اَھْلِ الدُّنْیَا مَعَایِشَھُمْ فَکَیْفَ بِمَنْ یَکُوْنُ طَعَامَہٗ)) (سنن الترمذی‘ابواب صفۃ جھنم‘ باب ما جاء فی صفۃ شراب اھل النار) ’’اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی دنیا میں ٹپکا دیا جائے تو دنیا والوں کے لیے ان کی زندگی برباد کر دے‘ تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جن کی غذا ہی یہی ہو گی!‘‘’’زقوم‘‘ صحرائے عرب کا ایک درخت ہے‘ جس کے بارے میں مولانا مودودیؒ نے لکھا ہے:’’زقوم ایک قسم کا درخت ہے جو تہامہ کے علاقے میں ہوتا ہے ۔ مزہ اس کا تلخ ہوتا ہے‘ بو ناگوار ہوتی ہے اور توڑنے پر اس میں سے دودھ کا سا رس نکلتا ہے جو اگر جسم کو لگ جائے تو ورم ہو جاتا ہے۔غالباً یہ وہی چیز ہے جسے ہمارے ملک میں تھوہر کہتے ہیں۔‘‘(تفہیم القرآن‘ جلد۴‘ ص ۲۸۹)اس کے بارے میں مفتی محمد شفیعؒ رقم طراز ہیں:’’بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح سانپ بچھو وغیرہ دنیا میں بھی ہوتے ہیں اسی طرح دوزخ میں بھی ہوتے ہیں‘ لیکن دوزخ کے سانپ بچھو یہاں کے سانپ بچھوؤں سے کہیں زیادہ خوفناک ہوں گے‘ اسی طرح دوزخ کا زقوم بھی اپنی جنس کے لحاظ سے تودنیا ہی کے زقوم کی طرح ہو گا‘ لیکن یہاں کے زقوم سے کہیں زیادہ کریہہ المنظر اور کھانے میں کہیں زیادہ تکلیف دہ ہو گا‘ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم!‘‘(معارف القرآن‘ جلد۷‘ ص ۲۴۱)

آیت 53

فَمَالِـُٔوۡنَ مِنۡہَا الۡبُطُوۡنَ ﴿ۚ۵۳﴾

’’پس اسی سے تم اپنے پیٹ بھرو گے۔‘‘

آیت 54

فَشٰرِبُوۡنَ عَلَیۡہِ مِنَ الۡحَمِیۡمِ ﴿ۚ۵۴﴾

’’پھر پیو گے اس پر کھولتا ہوا پانی ۔‘‘

آیت 55

فَشٰرِبُوۡنَ شُرۡبَ الۡہِیۡمِ ﴿ؕ۵۵﴾

’’اور ایسے پیو گے جیسے پیاس کا مارا اونٹ پیتا ہے۔‘‘

جس طرح پیاس زدہ اونٹ جلدی جلدی اپنے پیٹ میں پانی بھرتا چلا جاتا ہے تم بھی وہ کھولتا ہوا پانی اسی طرح اپنے پیٹو میں بھروگے۔

آیت 56

ہٰذَا نُزُلُہُمۡ یَوۡمَ الدِّیۡنِ ﴿ؕ۵۶﴾

’’یہ ہو گی ان کی ابتدائی ضیافت جزاکے دن۔‘‘

یہاں پر ان تینوں گروہوں کا بیان مکمل ہو گیا۔ یاد رہے کہ سورۃ الرحمن میں جہنم اور جنت کے حوالے سے ان تینوں گروہوں کا تذکرہ سورۃ کے آخر میں آیا تھا ‘جبکہ یہاں ان کا ذکر سورت کے آغاز میں آیا ہے۔ یعنی دونوں سورتوں کے مضامین معکوس ترتیب سے بیان ہوئے ہیں۔ اسی عکسی ترتیب کے تحت اب سورت کے دسرے رکوع میں وہ مضمون آ رہا ہے جو سورۃ الرحمن کے پہلے رکوع میں بیان ہوا ہے۔ سورۃ الرحمن کے آغاز میں اللہ تعالیٰ کی خلاقی اور صناعی کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان بنائے‘ زمین بنائی‘ زمین میں دریا چلائے‘ سمندر پھیلائے۔ دریاؤں اور سمندروں کی تہوںمیں عجیب و غریب قسم کے موتی اور مونگے پیدا کیے اور پہاڑوں جیسے بڑے بڑے جہازوں کا پانی کی سطح پر تیرنا ممکن بنایا۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی شان اور اس کی قدرتوں کے مظاہر ہیں۔ چنانچہ اسی انداز سے یہاں اس سورت میں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور صناعی کا ذکر ہونے جا رہا ہے ‘لیکن پے درپے سوالات کے ساتھ بہت ہی خوبصورت اور مؤثر انداز میں:

یوٹیوب پر دیکھیے