’’ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ‘تو تم لوگ تصدیق کیوں نہیں کرتے؟‘‘
جب یہ تسلیم کرتے ہو کہ تم سب کو اللہ نے پیدا کیا ہے تو پھر تم لوگوں کو یہ یقین کیوں نہیں آتا کہ وہی اللہ تمہیں دوبارہ بھی پیدا کر سکتا ہے۔ اس میں آخر تعجب اور شک والی کون سی بات ہے؟
آیت 58
اَفَرَءَیۡتُمۡ مَّا تُمۡنُوۡنَ ﴿ؕ۵۸﴾
’’کیا تم نے کبھی غور کیا اس پر جو (منی) تم ٹپکادیتے ہو؟‘‘
’’کیا اس کی تخلیق تم کرتے ہو یا ہم تخلیق کرنے والے ہیں ؟‘‘
تم تو پانی کی وہ بوند ٹپکا کر فارغ ہوجاتے ہو۔ اس کے بعد رحم مادر میں ایک حیرت انگیز تخلیقی عمل کا آغاز ہوجاتا ہے۔ وہ نطفہ علقہ میں تبدیل ہوتا ہے‘ علقہ سے مغضہ بنتا ہے۔ پھر ہڈیاں بنتی ہیں‘ جوڑ بند درست ہوتے ہیں‘ آنکھوں‘ کانوں اور دوسرے اعضاء کا نقشہ تیار ہوتاہے اور یہ سارا عمل تین پردوں {فِیۡ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ ؕ } (الزمر:۶) کے اندر پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے۔ کیا اس سارے عمل میں تمہارا بھی کوئی حصہ ہے؟ ماں کے پیٹ میں مختلف پیچیدہ تخلیقی مراحل سے گزرتے ہوئے بچے کے کسی عضو کے بنانے میں کیا کوئی تمہارا کردار بھی ہے؟ یا اس کی تذکیر و تانیث میں تمہارا کچھ اختیار ہے؟ ظاہر ہے اس پورے تخلیقی عمل میں تمہارا حصہ یا کردار بالکل نہیں ہے‘ اور تم تسلیم کرتے ہو کہ نہیں ہے ‘تو پھر اس حقیقت کو قبول کیوں نہیں کر لیتے ہوکہ یہ سب کچھ اللہ کی مرضی و منشاء اور صناعی و خلاقی کا مظہر ہے۔
جب ہم ان آیات کی تلاوت کریں تو ہر سوال کے جواب میں عجز و انکساری سے عرض کرنا چاہیے : بَلْ اَنْتَ یَارَبِّ! کہ اے میرے پروردگار! یہ سب تیری کاریگری ‘ تیری صناعی اور تیری خلاقی کا مظہر ہے‘ اس میں سے ہمارے بس میں کچھ بھی نہیں۔ (تفسیر عثمانی کے مطابق بعض روایات کی بنا پر علماء نے یہ مستحب سمجھا ہے۔)
’’ہم نے تمہارے مابین موت کو ٹھہرا دیا ہے اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں کہ تمہاری مثل بدل کر لائیں‘‘
یہ مقام بھی مشکلات القرآن میں سے ہے۔ بہرحال اس کی ایک توجیہہ جو میری سمجھ میں آتی ہے‘وہ یہ ہے کہ یہاں دو انسانی زندگیوں اور ان کے درمیان طے شدہ موت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی ایک دنیا کی زندگی ہے اور دوسری آخرت کی زندگی اور درمیان میں اللہ تعالیٰ نے موت کا پردہ حائل کر دیا ہے۔ موت کی اس سرحد کے اس طرف بھی تم ہو اور دوسری طرف بھی تم ہو۔ گویا موت کے وقفے کے بعد زندگی کا تسلسل پھر سے بحال ہو جائے گا۔ بقول شاعر ؎
موت اِک زندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کر!
یہاں سمجھنے کا اصل نکتہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد انسان کا جسم تو مٹی میں مل کر مٹی ہو جاتاہے ‘جبکہ اس کی روح کو موت نہیں آتی ‘روح زندہ رہتی ہے۔ قیامت میں انسان کو جس جسم کے ساتھ دوبارہ زندہ کیا جائے گا وہ بعینہٖ اس کا دنیا والا جسم نہیں ہو گا‘ بلکہ ’’اس جیسا‘‘ جسم ہو گا۔ اس حوالے سے یہ نکتہ بھی سمجھنے کا ہے کہ انسان کا دُنیوی زندگی والا جسم تو اس زندگی میں بھی مسلسل بدلتا رہتا ہے ۔ زندہ جسم کے اربوں خلیے مسلسل ختم ہوتے رہتے ہیں اور ایسے ہی نئے خلیے مسلسل بنتے رہتے ہیں۔ جلد کی جھلی بھی بدلتی رہتی ہے اور ناخن بھی لگاتار گھستے اور نئے بنتے رہتے ہیں۔ اس عمل کو ذہن میں رکھیں تو یہ حقیقت بخوبی سمجھ میں آجاتی ہے کہ ایک انسان کا چند سال پہلے جو جسم تھا آج اس کا جسم وہ نہیں ہے اور جو جسم اس کا آج ہے چند سال بعد بعینہٖ یہ نہیں رہے گا۔چنانچہ جب انسان کا جسم مسلسل تبدیل ہو رہا ہے تو آخرت میں اسے بعینہٖ دنیا والا جسم ملنا ویسے ہی بعید از قیاس ہے۔ اگر وقتی طور پر یہ فرض کر لیا جائے کہ انسان کو آخرت میں دنیا والا جسم ملے گا تو پھر اس سوال کا جواب بھی دینا پڑے گا کہ وہ اس کا کون سا جسم ہو گا؟ بیس برس کی عمر والا؟ چالیس سال کی عمر والا؟ یاساٹھ سال کی عمر والا؟ لہٰذا یہ بات عقل اور منطق ہی کے خلاف ہے کہ انسان کو دوبارہ دنیا والے جسم کے ساتھ زندہ کیا جائے گا۔
چنانچہ آخرت میں انسان کو دنیا کے جسم جیسا جسم دیا جائے گا اور اس کی روح کو اس کے اس جسم سے ملا کر اسے نئی زندگی بخشی جائے گی۔ یہ مضمون قرآن میں تین مقامات (بنی اسرائیل:۹۹‘ یٰسٓ:۸۱‘ الدھر:۲۸) پر آیا ہے۔بہرحال دوبارہ زندہ ہونے کے بعد انسان کی جان اور روح جب نئے جسم میں منتقل ہو جائے گی تو اس کے شعور اور اس کی یادداشت کا دنیوی تسلسل بعینہٖ بحال کر دیا جائے گا۔ دنیا میں وہ کیا تھا ؟ وہاں اس نے کب کیا کیاتھا؟ زندہ ہوتے ہی اسے سب کچھ یاد آ جائے گا۔ کیونکہ دُنیوی زندگی کے دوران اس کا جسم تو بدلتا رہا تھالیکن اس کے شعورِ ذات کا تسلسل بغیر کسی خلل کے آخر تک برقرار رہا تھا۔ اس لیے وہ سلسلہ موت کے باعث جہاں سے ٹوٹاتھا عین وہیں سے اسے جوڑ دیا جائے گا ۔ چنانچہ ان آیات کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ اے لوگو! تمہاری دو زندگیوں کے درمیان ہم نے ہی موت کا پردہ حائل کر رکھا ہے‘توکیاہم اس پر قادر نہیں ہیں کہ تم جیسے وجود دوبارہ پیدا کر دیں۔
وَ نُنۡشِئَکُمۡ فِیۡ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۱﴾
’’اور تمہیں ایسی تخلیق میں اٹھائیں جسے تم نہیں جانتے !‘‘
اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ تمہیں ہم ایسے عالم میں اٹھا کھڑا کریں گے جس کی کیفیت سے آج تم واقف نہیں ہو یعنی عالم آخرت میں۔
آیت 62
وَ لَقَدۡ عَلِمۡتُمُ النَّشۡاَۃَ الۡاُوۡلٰی
’’اور تم (اپنی) پہلی زندگی کے بارے میں تو جانتے ہی ہو‘‘
یعنی اپنی دنیوی تخلیق سے متعلق تمام مراحل کے بارے میں توتم جانتے ہو۔ انسانی تخلیق کے مختلف مراحل کا ذکر قرآن مجید میں تکرار کے ساتھ آیا ہے ۔ لیکن جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہو چکا ہے ‘ سورۃ المؤمنون کی یہ آیات اس موضوع پر قرآن کے ذروئہ سنام کا درجہ رکھتی ہیں:
’’ہم نے پیدا کیا انسان کو مٹی کے خلاصے سے۔ پھر ہم نے اسے بوند کی شکل میں ایک محفوظ ٹھکانے میں رکھا۔پھر ہم نے اس نطفہ کو علقہ کی شکل دے دی ‘پھر علقہ کو ہم نے گوشت کا لوتھڑا بنا دیا۔پھر ہم نے گوشت کے اس لوتھڑے کے اندر ہڈیاں پیدا کیں‘ پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا‘پھر ہم نے اسے ایک اور ہی تخلیق پراٹھا دیا۔پس بڑا با برکت ہے اللہ‘ تمام تخلیق کرنے والوں میں بہترین تخلیق کرنے و الا۔‘‘
تو جب اس حیرت انگیز اور پیچیدہ تخلیقی عمل کے مختلف مراحل تمہارے علم اور مشاہدے میں آ چکے ہیں:
فَلَوۡ لَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۶۲﴾
’’تو پھر تم سمجھتے کیوں نہیں ہو؟‘‘
تم عقل سے کام کیوں نہیں لیتے؟ تم اس سے نصیحت اور یاددہانی کیوں اخذ نہیں کرتے؟ ----اللہ تعالیٰ کی قدرت اور صناعی کے ان مظاہر کا ادراک کر لینے کے بعد بھی تمہیں یہ بات کیوں سمجھ میں نہیں آتی کہ جس اللہ نے اس عمل سے گزار کر ہمیں ابتدا میں پیدا کیا ہے وہ دوبارہ بھی ہمیں پیدا کر سکتا ہے؟
آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی خلاقی کی چند اور مثالیں بیان کی جا رہی ہیں:
’’کیا تم نے کبھی غور کیا کہ یہ بیج جو تم بوتے ہو؟‘‘
تم لوگ تو بیج کو مٹی میں دبا کر آ جاتے ہو ۔اس کے بعد تم کیا جانو کہ وہ بیج کس کس مرحلے سے گزرتا ہے‘ کس طرح اس کی جڑیں نکل کر زمین میں پیوست ہوتی ہیں اور کس طرح اس کی کونپلیں زمین کو پھاڑ کر باہر نکلتی ہیں!
یہاں ہماری زبانوں پر بے اختیار یہ الفاظ آ جانے چاہئیں: بَلْ اَنْتَ یَارَبِّ! کہ نہیں! اے ہمارے پروردگار!اسے تو ہی اُگاتا ہے‘ اس میں ہمارا کچھ بھی اختیار نہیں! علامہ اقبال کی نظم اَلْاَرْضُ لِلّٰہ کے درج ذیل اشعار میں ان ہی آیات کے اسلوب اور مضمون کی جھلک نظر آتی ہے : ؎
پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون؟
کون دریاؤں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب؟
کون لایا کھینچ کر پچھم سے بادِ سازگار؟
خاک یہ کس کی ہے ‘ کس کا ہے یہ نورِ آفتاب؟
کس نے بھر دی موتیوں سے خوشہ گندم کی جیب؟
موسموں کو کس نے سکھلائی ہے خوئے انقلاب؟
دہ خدایا! یہ زمیں تیری نہیں‘ تیری نہیں!
تیرے آباء کی نہیں ‘ تیری نہیں‘ میری نہیں!
یعنی یہ زمین‘ یہ کائنات‘ کائنات کا پورا نظام یہ سب کچھ اللہ ہی کا ہے اور اسی کی قدرت و مشیت سے اس کائنات کا یہ نظام چل رہا ہے۔
آیت 65
لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنٰہُ حُطَامًا
’’اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کر دیں‘‘
اگر ہم چاہیں توکسی آسمانی آفت‘ طوفان ‘جھکڑ یا ژالہ باری سے تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہاری لہلہاتی فصلوں کو برباد کر کے رکھ دیں۔
فَظَلۡتُمۡ تَفَکَّہُوۡنَ ﴿۶۵﴾
’’پھر تم بیٹھے رہو باتیں بناتے ہوئے۔‘‘
آیت 66
اِنَّا لَمُغۡرَمُوۡنَ ﴿ۙ۶۶﴾
’’(کہ لو جی!) ہم پر تو بڑا تاوان پڑ گیا۔‘‘
کہ ہم نے محنت کی‘ ہل چلائے‘ بیج ڈالا‘ آبیاری کی اور بہت سے دوسرے اخراجات کیے ‘لیکن ہم پر تو الٹی چٹی پڑ گئی۔
’’ہم نے بنا دیا اس کو ایک نشانی یاد دلانے کو اور ایک بہت فائدہ مند چیز صحرا کے مسافروں کے لیے ۔‘‘
جیسا کہ سورۂ یٰسین کی آیت ۸۰ کے ضمن میں بھی وضاحت کی جا چکی ہے ‘ بعض صحراؤں میں ایسے درخت پائے جاتے ہیں جن کی سبز گیلی شاخوں کو آپس میں رگڑنے سے آگ پیدا ہوتی ہے۔ یہاں پر شَجَرَتَہَآ سے وہ مخصوص درخت بھی مراد ہے اور عام درخت بھی۔کیونکہ درختوں کی لکڑی آگ جلانے کا ایک بہت بڑاذریعہ ہے۔ اور یہ درخت ظاہر ہے اللہ نے پیدا کیے ہیں اور اسی نے ان میں جلنے کی خصوصیت رکھی ہے۔
آیت 74
فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الۡعَظِیۡمِ ﴿٪ؓ۷۴﴾
’’پس تم تسبیح بیان کرو اپنے ربّ کے نام کی جو بہت عظمت والا ہے ۔‘‘
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم!
اب اگلی آیات میں قرآن کی عظمت کا بیان ہے۔ ان آیات کے مطالعہ سے پہلے عظمت قرآن کے حوالے سے سورۃ الرحمن کے آغاز کی یہ عظیم آیات بھی ذہن میں تازہ کر لیجیے: {اَلرَّحۡمٰنُ ۙ﴿۱﴾عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ ؕ﴿۲﴾خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ ۙ﴿۳﴾عَلَّمَہُ الۡبَیَانَ ﴿۴﴾} ۔قرآن کی عظمت کے اس بیان کے بین السطور میں یہ پیغام بھی مضمر ہے کہ انسانوں پر اس عظیم کتاب کا حق ادا کرنا لازم ہے۔ اس حوالے سے حضورﷺ کا یہ فرمان بھی ہم ان آیات کے ضمن میں پڑھ آئے ہیں : حدیث((خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہٗ)) کہ تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جوخود قرآن سیکھتے اور دوسروں کوسکھاتے ہیں۔ان دونوں سورتوں کے مضامین چونکہ عکسی ترتیب سے بیان ہوئے ہیں ‘اس لیے عظمت قرآن کا وہ مضمون جو سورۃ الرحمن کے آغاز میں آیا تھا ‘اس سورت کے آخر میں آ رہا ہے اور سورۃ الرحمن کی مذکورہ چار آیات کے مقابلے میں یہاں اس موضوع پر آٹھ آیات آئی ہیں۔