اِذَا وَقَعَتِ الۡوَاقِعَۃُ ۙ﴿۱﴾
’’جب وہ ہونے والا واقعہ رونما ہو جائے گا۔‘‘
اس آیت کا ترجمہ یوں بھی کیا جا سکتا ہے کہ ’’جب وہ وقوع پذیرہونے والی وقوع پذیر ہوجائے گی‘‘۔ یعنی جس قیامت کی خبر تم لوگوں کو دی جا رہی ہے جب وہ آ جائے گی۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تحریر
آیات ۱ تا ۱۰
بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
جیسا کہ قبل ازیں سورۃ الرحمن کے تمہیدی کلمات میں بھی ذکر ہو چکاہے ‘سورۃ الرحمن اور سورۃ الواقعہ کا آپس میں جوڑے کا تعلق ہے۔ اس اعتبار سے ان سورتوںکی باہمی مناسبت اور مشابہت بہت گہری ہے۔ دونوں سورتیں اس لحاظ سے پورے قرآن میں منفرد ہیں کہ ان میں نبوت ‘رسالت یا وحی کا کوئی ذکر نہیں ۔البتہ دونوں سورتیں اللہ تعالیٰ کی صناعی و خلاقی کے تذکرے ‘ جنت و دوزخ کے احوال‘ آیاتِ انفسی وآفاقی کے بیان اور تذکیر بآلاء اللہ جیسے مضامین کی حامل ہیں۔ یہ مضامین ان دونوں سورتوں میں عکسی ترتیب سے بیان ہوئے ہیں۔
اِذَا وَقَعَتِ الۡوَاقِعَۃُ ۙ﴿۱﴾ لَیۡسَ لِوَقۡعَتِہَا کَاذِبَۃٌ ۘ﴿۲﴾ خَافِضَۃٌ رَّافِعَۃٌ ۙ﴿۳﴾ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا ۙ﴿۴﴾ وَّ بُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا ۙ﴿۵﴾ فَکَانَتۡ ہَبَآءً مُّنۡۢبَثًّا ۙ﴿۶﴾
اِذَا وَقَعَتِ الۡوَاقِعَۃُ ۙ﴿۱﴾
’’جب وہ ہونے والا واقعہ رونما ہو جائے گا۔‘‘
اس آیت کا ترجمہ یوں بھی کیا جا سکتا ہے کہ ’’جب وہ وقوع پذیرہونے والی وقوع پذیر ہوجائے گی‘‘۔ یعنی جس قیامت کی خبر تم لوگوں کو دی جا رہی ہے جب وہ آ جائے گی۔
لَیۡسَ لِوَقۡعَتِہَا کَاذِبَۃٌ ۘ﴿۲﴾
’’(اور جان لو) اس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں ہے ۔‘‘
یعنی وہ ہر صورت وقوع پذیر ہو کر رہے گی ۔
خَافِضَۃٌ رَّافِعَۃٌ ۙ﴿۳﴾
’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘
بہت سے ایسے لوگ جو دنیا میں بہت بلند مقام و مناصب کے مالک تھے‘ قیامت انہیں ذلیل و رسوا کر دے گی۔ اس کے برعکس کئی فقراء ومساکین جن کا دنیا میں کوئی پرسانِ حال نہیں تھا ‘اس دن بہت بلند مقامات پر فائز نظر آئیں گے۔اُس دن حضرت ابوہریرہ‘ حضرت ابودرداء‘ حضرت ابوذر غفاری اور دوسرے فقراء صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ایسے اعلیٰ مراتب عطا ہوں گے جن کے بارے میں آج ہم لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے۔
اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا ۙ﴿۴﴾
’’جب زمین ہلا ڈالی جائے گی جیسے کہ زلزلہ آتا ہے۔‘‘
وَّ بُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا ۙ﴿۵﴾
’’اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے۔‘‘
فَکَانَتۡ ہَبَآءً مُّنۡۢبَثًّا ۙ﴿۶﴾
’’پس وہ ہو جائیں گے اُڑتا ہوا غبار۔‘‘
وَّ کُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَۃً ؕ﴿۷﴾ فَاَصۡحٰبُ الۡمَیۡمَنَۃِ ۬ۙ مَاۤ اَصۡحٰبُ الۡمَیۡمَنَۃِ ؕ﴿۸﴾ وَ اَصۡحٰبُ الۡمَشۡـَٔمَۃِ ۬ۙ مَاۤ اَصۡحٰبُ الۡمَشۡـَٔمَۃِ ؕ﴿۹﴾ وَ السّٰبِقُوۡنَ السّٰبِقُوۡنَ ﴿ۚۙ۱۰﴾
وَّ کُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَۃً ؕ﴿۷﴾
’’اور تم تین گروہوں میں منقسم ہو جاؤ گے۔‘‘
ان تین گروہوں کا ذکر بالواسطہ طور پر سورۃ الرحمن میں دو جنتوں کے حوالے سے ہوا ہے۔ یعنی اہل جہنم‘ نچلے درجے کی جنت کے مستحق اور اونچے درجے کی جنت کے باسی۔
فَاَصۡحٰبُ الۡمَیۡمَنَۃِ ۬ۙ مَاۤ اَصۡحٰبُ الۡمَیۡمَنَۃِ ؕ﴿۸﴾
’’تو جو داہنے والے ہوں گے‘ کیا خوب ہوں گے وہ داہنے والے!‘‘
داہنے والوں کی خوش نصیبی کا کیاکہناہو گا --- یا تم لوگوں کو کیا معلوم کہ وہ داہنے والے لوگ کون ہوں گے‘ ان کی کیا شان ہو گی اور وہ کس کیفیت میں ہوں گے۔ مَیْمَنَۃ ’’یمین‘‘ سے بھی ہو سکتا ہے جس کے معنی سیدھے ہاتھ کے ہیں‘ اور ’’یُمن‘‘ سے بھی ہو سکتا ہے جس کے معنی برکت اور خوش نصیبی کے ہیں۔اس اعتبار سے اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃ کاترجمہ مبارک لوگ یا خوش نصیب اور نیک بخت لوگ بھی ہو سکتا ہے۔
وَ اَصۡحٰبُ الۡمَشۡـَٔمَۃِ ۬ۙ مَاۤ اَصۡحٰبُ الۡمَشۡـَٔمَۃِ ؕ﴿۹﴾
’’اور جو بائیں والے ہوں گے‘ تو کیا حال ہو گا بائیں والوں کا!‘‘
مَشْئَمَۃ ’’شئوم‘‘ سے ہے‘ جس کے معنی بدنصیبی اور نحوست کے ہیں۔ عربوں کے ہاں جس طرح داہنی جانب خوش قسمتی اور برکت کی علامت سمجھی جاتی تھی اسی طرح بائیں جانب کو منحوس خیال کیا جاتا تھا۔ اس وجہ سے ان دونوں مادوں میں مستقل طور پر برکت اور نحوست کے معنی بھی شامل ہو گئے ہیں۔ چنانچہ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃ کا دوسرا ترجمہ بدقسمت ‘بدبخت اور برے لوگ بھی کیا گیا ہے۔اردو لفظ ’’شوم‘‘ (شومئی قسمت وغیرہ) بھی اسی سے مشتق ہے۔ بہرحال دوسرا گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہو گا جو دربارِ الٰہی میں بائیں جانب کھڑے کر دیے جائیں گے اور بہت برے انجام سے دوچار ہوں گے۔
وَ السّٰبِقُوۡنَ السّٰبِقُوۡنَ ﴿ۚۙ۱۰﴾
’’اور آگے نکل جانے والے تو ہیں ہی آگے نکل جانے والے۔‘‘