’’اور جو کوئی اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا اُس کے لیے دو جنتیں ہیں۔‘‘
اہل جنت کی صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں اپنے رب کے حضور پیشی سے لرزاں و ترساں رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا جادئہ مستقیم پر قائم رکھنے والی واحد چیز یہی اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی کا خوف ہے۔
دو جنتوں کے بارے میں مفسرین نے مختلف آراء نقل کی ہیں‘ تاہم دو جنتوں کی توجیہہ جو میری سمجھ میں آئی ہے اور مجھے اپنی اس رائے پر اطمینان اور انشراح ہے کہ یہ انسانوں اور جنوں کے لیے الگ الگ جنتوں کا بیان ہے۔ چونکہ اس سورت میں خطاب بھی مسلسل ان دونوں سے ہے اور جہنم کی وعید بھی دونوں گروہوں کو دی گئی ہے‘ اس لیے جنت کی نوید بھی دونوں کے لیے ہونی چاہیے تھی۔ اب چونکہ انسانوں اور جنوں کا مادۂ تخلیق اور ان کی فطرتیں الگ الگ ہونے کی وجہ سے ان کی ضرورتیں‘ پسند وناپسند‘ رنج و غم کے معیار‘ راحت و سکون کے پیمانے اور کیف و سرور کے انداز‘سب کچھ ہی ایک دوسرے سے مختلف اور جدا ہیں‘ اس لیے ظاہر ہے جنت میں بھی ان کے لیے الگ الگ ماحول کی ضرورت تھی۔ چنانچہ میرے خیال میں یہی وجہ ہے کہ یہاں ان دونوں گروہوں کے لیے الگ الگ جنتوں کا ذکر ہوا ہے۔ اس حوالے سے یہ نکتہ بھی مدنظر رہے کہ آیت زیر مطالعہ میں جن دو جنتوں کا ذکر ہوا ہے وہ نچلے درجے کی جنتیں ہیں‘ جبکہ آگے چل کر آیت ۶۲ میں جن دو جنتوں کا ذکر ہوا ہے وہ اونچے درجے کی جنتیں ہیں۔ گویا اس سورت میں کل چار جنتوں کا ذکر ہوا ہے ۔ہر گروہ کے لیے دو جنتیں ہوں گی ‘ان میں سے ایک جنت نچلے درجے میں ہو گی اور دوسری نسبتاًبرتر درجے میں۔
آیت 47
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۙ۴۷﴾
’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘
آیت 48
ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ ﴿ۚ۴۸﴾
’’ دونوں بہت سی شاخوں والی ہوں گی۔‘‘
آیت 49
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۴۹﴾
’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘
آیت 50
فِیۡہِمَا عَیۡنٰنِ تَجۡرِیٰنِ ﴿ۚ۵۰﴾
’’ان دونوں میں دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘
یعنی ہر جنت میں ایک ایک چشمہ رواں ہوگا۔
آیت 51
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۵۱﴾
’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘
آیت 52
فِیۡہِمَا مِنۡ کُلِّ فَاکِہَۃٍ زَوۡجٰنِ ﴿ۚ۵۲﴾
’’ان دونوں میں ہر قسم کے میوے ہوں گے جوڑوں کی شکل میں۔‘‘
یعنی ہر پھل کی دو قسمیں ہوں گی۔
آیت 53
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۵۳﴾
’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘
’’وہ وہاں تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے ایسے بچھونوں پر جن کے اَستر گاڑھے ریشم کے ہوں گے۔‘‘
یہاں پر جنت کے بچھونوں کے اندرونی کپڑے (اَستر) کا ذکر ہوا ہے کہ وہ گاڑھے یعنی موٹے ریشم کے بنے ہوں گے لیکن ان کے بیرونی غلافوں کا ذکر نہیں ہوا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے بیرونی غلافوں کی کیفیت ہمارے احاطہ خیال میں آ ہی نہیں سکتی۔
وَ جَنَا الۡجَنَّتَیۡنِ دَانٍ ﴿ۚ۵۴﴾
’’ اور دونوں جنتوں کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘
یعنی وہ اہل جنت میں سے ہر ایک کی پہنچ میں ہوں گے۔
آیت 55
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۵۵﴾
’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘
آیت 56
فِیۡہِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ ۙ
’’ان میں ایسی عورتیں ہوں گی جن کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی۔‘‘
عورت کی جھکی ہوئی نگاہیں شرم و حیا کی علامت ہیں اور شرم و حیا نسوانیت کا خاص زیور بھی ہے اور اس کے اخلاق کا سب سے بڑا محافظ بھی ۔ جنتی عورتوں کی جھکی ہوئی نظروں کا ذکر گویا ان کے حسن ظاہری و باطنی کا بیان ہے۔
’’ان کو چھوا نہیں ہوگا ان سے پہلے نہ کسی انسان نے اور نہ کسی جن نے۔‘‘
جنتی جنوں کی بیویاں ظاہر ہے انہی کی جنس سے ہوں گی جنہیں پہلے کسی جن نے نہیں چھوا ہو گا‘ جبکہ انسانوں کی بیویاں انسان ہوں گی اور انہیں بھی پہلے کسی انسان نے نہیں چھوا ہو گا۔
آیت 57
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۚ۵۷﴾
’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘
آیت 58
کَاَنَّہُنَّ الۡیَاقُوۡتُ وَ الۡمَرۡجَانُ ﴿ۚ۵۸﴾
’’وہ ایسی ہوں گی گویا لعل اور مونگے ہوں۔‘‘
آیت 59
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۵۹﴾
’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘
’’کیا بھلائی کا بدلہ بھلائی کے سوا کچھ اور بھی ہوسکتا ہے؟‘‘
نیک لوگوں نے اللہ تعالیٰ اور اُس کے دین کے لیے جوقربانیاں دیں‘اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی کرنے کے حوالے سے انہوں نے جو مشقتیں اٹھائیں ‘ظاہر ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کا بدلہ تو دینا ہے۔ لہٰذا جنت کی مذکورہ نعمتوں کی صورت میں انہیں بدلہ دے کر اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کوششوں کی قدر افزائی فرمائے گا۔
آیت 61
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۶۱﴾
’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘
مفسرین نے ان دو جنتوں کی مختلف توجیہات کی ہیں‘ لیکن جیسا کہ قبل ازیں آیت ۴۶ کی تشریح میں ذکر ہوچکا ہے‘ میرے نزدیک ان میں سے دو جنتیں جنوں اور انسانوں کے لیے الگ الگ نچلے درجے میں ہیں اور دو جنتیں ان دونوں گروہوں کے لیے الگ الگ اونچے درجے میں ہیں۔ اہل جنت کے ان درجات کی وضاحت اگلی سورت یعنی سورۃ الواقعہ میں ملے گی(یاد رہے کہ سورۃ الرحمن اور سورۃ الواقعہ کا آپس میں جوڑے کا تعلق ہے)۔ سورۃ الواقعہ میں اہل جہنم (اَصْحٰبُ الشِّمَال) کے مقابلے میں اہل جنت کے دو گروہوں کا ذکر ہوا ہے۔ ان میں ایک گروہ تو اَصْحٰبُ الْیَمِیْن (دائیں جانب والوں) کا ہے۔ ان کے لیے الگ جنت کا ذکر ہے جو نسبتاً نچلے درجے کی جنت ہو گی ۔ جبکہ دوسرا گروہ مقربین بارگاہ کا ہے : {وَ السّٰبِقُوۡنَ السّٰبِقُوۡنَ ﴿ۚۙ۱۰﴾اُولٰٓئِکَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ ﴿ۚ۱۱﴾} ’’اور آگے نکل جانے والے تو ہیں ہی آگے نکل جانے والے۔ وہ توبہت مقرب ہوں گے‘‘۔ یہ وہی خوش نصیب لوگ ہیں جن کا ذکر سورۃ التوبہ میں بایں الفاظ آیا ہے :
’’اور پہلے پہل سبقت کرنے والے مہاجرین اور انصار میں سے ‘اور وہ جنہوں نے اُن کی پیروی کی نیکوکاری کے ساتھ اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے‘اور اُس نے ان کے لیے وہ باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے ندیاں بہتی ہوں گی‘ان میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔یہی ہے بہت بڑی کامیابی۔‘‘
سورۃ الواقعہ میں ان مقربین بارگاہ کے لیے بہت خصوصی انداز میں جنت کا ذکر ہوا ہے۔ ظاہر ہے ان لوگوں کے لیے بہت اونچے درجے کی جنت ہو گی۔ چنانچہ میری رائے میں سورۃ الرحمن کی آیت ۴۶ میں جن دو جنتوں(جنوں اور انسانوں کے لیے الگ الگ) کا ذکر ہوا ہے وہ اصحاب الیمین کے لیے ہیں ‘جبکہ زیر مطالعہ آیات میں جنوں اور انسانوں میں سے مقربین بارگاہ کی جنتوں کا ذکر ہونے جا رہا ہے ۔
آیت 63
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۙ۶۳﴾
’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘
آیت 64
مُدۡہَآ مَّتٰنِ ﴿ۚ۶۴﴾
’’دونوں گہرے سبز رنگ کی ہوں گی۔‘‘
ان دو نوں جنتوں کا رنگ سیاہی مائل سبز ہو گا۔ یعنی بہت گھنی اور سرسبز و شاداب ۔اس رنگ کے ذکر کی توجیہہ آگے آیت ۶۸ کے ضمن میں بیان کی گئی ہے۔
آیت 65
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۚ۶۵﴾
’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘
آیت 66
فِیۡہِمَا عَیۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ ﴿ۚ۶۶﴾
’’ان میں دو چشمے ہوں گے اُبلتے ہوئے ۔‘‘
یعنی ہر جنت میں ایک ایک ایسا چشمہ ہوگا ۔
آیت 67
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۶۷﴾
’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘
آیت 68
فِیۡہِمَا فَاکِہَۃٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ ﴿ۚ۶۸﴾
’’ان دونوں میں میوے ‘کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘
ان جنتوں کی کیفیت کے بیان میں ایک طرف گویا عجمی پسند کی جھلک نظر آتی ہے تو دوسری طرف عربی ذوق کی عکاسی ۔ عجمی علاقوں کے درختوں اور باغات کے جوبن کا کمال یہ ہے کہ ان کے سبز پتوں کا رنگ گہرا ہوتے ہوتے سیاہی مائل ہو جائے۔ ایسے درختوں اور پودوں کا سایہ بھی مثالی ہوتا ہے اور ان کے پھلوں کی پیداوار اور کوالٹی بھی بہترین ہوتی ہے ۔ دوسری طرف سرزمین عرب خصوصاً نزولِ قرآن کے علاقے حجاز کے ذوق کے مطابق ایک مثالی باغ کا نقشہ بھی دکھایا گیا ہے۔ یعنی پہاڑی ڈھلوان سے ابلتا ہوا چشمہ‘ چشمے کے نشیب میں کھجور اور انار کے درختوں کا جھنڈ اور ان درختوں کے جھرمٹ میں انگور کی لہلہاتی بیلیں!
آیت 69
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۚ۶۹﴾
’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘
آیت 70
فِیۡہِنَّ خَیۡرٰتٌ حِسَانٌ ﴿ۚ۷۰﴾
’’ان میں ہوں گی نہایت نیک سیرت اورخوبصورت عورتیں۔‘‘
آیت 71
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۚ۷۱﴾
’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘
آیت 72
حُوۡرٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِی الۡخِیَامِ ﴿ۚ۷۲﴾
’’یعنی حوریں‘ جو قیام پذیر ہوں گی خیموں میں۔‘‘
یہاں پر ’’خیموں‘‘ کا ذکر خصوصی طو رپر عرب کے ماحول کی عکاسی کرتا ہے ۔ نزولِ قرآن کے وقت عرب میں شہروں کی تعداد بہت تھوڑی تھی اور زیادہ تر لوگ خیموں میں رہتے تھے۔ اس لیے یہاں پر گھر یا محل کے بجائے خیمے کا ذکر آیا ہے۔ یہاں {مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِی الۡخِیَامِ } کے الفاظ میں {وَ قَرۡنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ } (الاحزاب:۳۳) کے حکم کی عملی جھلک دکھائی دیتی محسوس ہوتی ہے۔ یہ دراصل عورت کا وہ روپ ہے جس روپ میں اسلام اسے دیکھنا چاہتا ہے۔اسلام عورت کو ’’چراغ خانہ‘‘ بن کر رہنے کی ترغیب دیتا ہے اور اسے ’’شمع محفل‘‘ بننے سے منع کرتا ہے۔
یہاں پر ایک بہت اہم نکتہ یہ بھی لائق توجہ ہے کہ ان آیات میں جن دو جنتوں کا ذکر ہو رہا ہے ان میں ’’حوریں‘‘ ہوں گی جبکہ قبل ازیں جن جنتوں کا ذکر ہواتھا ان میں حوروں کا نہیں بلکہ ’’جنتی عورتوں‘‘ کا تذکرہ تھا : {فِیۡہِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ ۙ } ’’ان میں ایسی عورتیں ہوں گی جن کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی‘‘۔اسی طرح سورۃ الواقعہ میں اصحاب الیمین کی جنت میں خوبصورت عورتوں {اِنَّاۤ اَنۡشَاۡنٰہُنَّ اِنۡشَآءً ﴿ۙ۳۵﴾} کا ذکر ہے جبکہ ’’مقربین‘‘ کے لیے جنت کے حوالے سے ’’حُوْرٌ عِیْن‘‘ (آیت۲۷) کا تذکرہ ہے ۔
آیت 73
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۚ۷۳﴾
’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘
’’نہیں چھوا ہو گا ان سے پہلے انہیں نہ کسی انسان نے اور نہ کسی جن نے۔‘‘
یہاں خصوصی طور پر جن اور انسان کے ذکر سے بھی میری اس رائے کو تقویت ملتی ہے کہ یہ جنوں اور انسانوں کے لیے الگ الگ جنتوں کا بیان ہے۔ اس اعتبار سے آیت کا مفہوم یہ ہو گا کہ جنوں کی جنت کی حوروں کو ان کے خاوندوں سے پہلے کسی جن نے نہیں چھوا ہو گا اور انسانوں کی جنت کی حوروں کو قبل ازاں کسی انسان نے ہاتھ نہیں لگایا ہوگا۔
آیت 75
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۚ۷۵﴾
’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘