تحریر

الرحمن

آیات ۵ تا ۴۵

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

5-9

پوری کائنات میں عدل ہے تم بھی عدل کرو

ویڈیو

اَلشَّمۡسُ وَ الۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ ﴿۪۵﴾ وَّ النَّجۡمُ وَ الشَّجَرُ یَسۡجُدٰنِ ﴿۶﴾ وَ السَّمَآءَ رَفَعَہَا وَ وَضَعَ الۡمِیۡزَانَ ۙ﴿۷﴾ اَلَّا تَطۡغَوۡا فِی الۡمِیۡزَانِ ﴿۸﴾ وَ اَقِیۡمُوا الۡوَزۡنَ بِالۡقِسۡطِ وَ لَا تُخۡسِرُوا الۡمِیۡزَانَ ﴿۹﴾

آیت 5

اَلشَّمۡسُ وَ الۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ ﴿۪۵﴾

’’سورج اور چاند ایک حساب کے ساتھ گردش کرتے ہیں۔‘‘

سورج اور چاند کی گردش ایک قطعی اور مربوط نظام کا حصہ ہے۔ ان کی گردش سے ہی دن رات بنتے ہیں اور دنوں‘ مہینوں اور سالوں کا حساب ممکن ہوتا ہے۔

آیت 6

وَّ النَّجۡمُ وَ الشَّجَرُ یَسۡجُدٰنِ ﴿۶﴾

’’اور ستارے اور درخت (اللہ کو) سجدہ کرتے ہیں۔‘‘

نَجْم کے معروف معنی ستارے کے ہیں‘ لیکن عربی میں یہ لفظ ایسے پودوں اور بیل بوٹوں کے لیے بھی بولا جاتا ہے جن کا تنا نہیں ہوتا۔ مثلاً جھاڑیاں اور خربوزے اور تربوز کی بیلیں وغیرہ۔ جس طرح لاتعداد ستارے آسمان پر بکھرے نظر آتے ہیں بالکل اسی طرح بے شمار جھاڑیاں اور بیل بوٹے زمین پر پھیلے دکھائی دیتے ہیں۔ چنانچہ پچھلی آیت میں سورج اور چاند کے ذکر کی نسبت سے دیکھا جائے تو یہاں النَّجْم سے ستارے مراد ہوں گے‘ لیکن اگلے لفظ الشَّجَر کے حوالے سے جھاڑیاں یا بیلیں کا ترجمہ بہتر معلوم ہوتا ہے۔

آیت 7

وَ السَّمَآءَ رَفَعَہَا وَ وَضَعَ الۡمِیۡزَانَ ۙ﴿۷﴾

’’اور آسمان کو اُس نے بلند کیا اور میزان قائم کی۔‘‘

یہاں میزان سے مراد کائناتی نظام کے اندر پایا جانے والا مربوط اور خوبصورت توازن (cosmic balance) ہے جس کی وجہ سے یہ کائنات قائم ہے۔ یہ توازن تمام اجرامِ سماویہ کے اندر موجود کشش ثقل (gravitational force) کی وجہ سے قائم ہے۔ تمام اجرامِ فلکی اس کشش کی وجہ سے آپس میں بندھے ہوئے ہیں۔ قدرت کی طرف سے ہر کرے کا دوسرے کرے سے فاصلہ‘ اس کی کشش کی طاقت کی نسبت سے رکھا گیا ہے۔ اگرکہیں یہ فاصلہ ایک طرف سے معمولی سا کم ہو جائے اور دوسری طرف سے معمولی سا بڑھ جائے تو یہ سارا نظام تلپٹ ہو جائے اور تمام کرے آپس میں ٹکرا جائیں۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی تمام چیزوں میں ایک توازن قائم کر رکھا ہے۔

آیت 8

اَلَّا تَطۡغَوۡا فِی الۡمِیۡزَانِ ﴿۸﴾

’’تاکہ تم میزان میں زیادتی مت کرو۔‘‘

اس کائناتی توازن کا تقاضا یہ ہے کہ اس کائنات میں رہتے ہوئے تم بھی عدل و انصاف پر قائم رہو۔

آیت 9

وَ اَقِیۡمُوا الۡوَزۡنَ بِالۡقِسۡطِ وَ لَا تُخۡسِرُوا الۡمِیۡزَانَ ﴿۹﴾

’’اور قائم رکھو وزن کو انصاف کے ساتھ اور میزان میں کوئی کمی نہ کرو۔‘‘

کسی بھی نظام میں توازن برقرار رکھنے کے لیے اس نظام کے اندر عدل قائم رکھنا یعنی اس کی ہر چیز کو اس کی اصل جگہ پر رکھنا ضروری ہے‘ کیونکہ کسی بھی قسم کی کمی بیشی نظام میں خرابی اور عدم توازن کا باعث بنتی ہے ۔ اسی لیے زیادتی سے بھی منع کر دیا گیا (لَا تَطْغَوْا) اور کمی کرنے سے بھی روک دیا گیا (لَا تُخْسِرُوا)۔ خالق کائنات نے اس کائنات کا پورا نظام توازن اور عدل و قسط پر قائم کیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انسان بھی اپنے دائرۂ اختیار میں اسی طرح توازن اور عدل وقسط کو ملحوظ رکھے۔ اس میزان میں کوئی خرابی نہ پیدا کرے‘ ورنہ سارے نظامِ معاش و معیشت میں فساد پھیل جائے گا۔ یہاں کوئی بڑا ظلم تو درکنار‘ ترازو میں ڈنڈی مار کر اگر کوئی شخص خریدار کے حصے کی تھوڑی سی چیز بھی مار لیتا ہے تو میزانِ عالم میں خلل برپا کر دیتا ہے۔

10-12

زمین پر اللہ کی رحمتیں

ویڈیو

وَ الۡاَرۡضَ وَضَعَہَا لِلۡاَنَامِ ﴿ۙ۱۰﴾ فِیۡہَا فَاکِہَۃٌ ۪ۙ وَّ النَّخۡلُ ذَاتُ الۡاَکۡمَامِ ﴿ۖ۱۱﴾ وَ الۡحَبُّ ذُو الۡعَصۡفِ وَ الرَّیۡحَانُ ﴿ۚ۱۲﴾

آیت 10

وَ الۡاَرۡضَ وَضَعَہَا لِلۡاَنَامِ ﴿ۙ۱۰﴾

’’اور زمین کو اُس نے بچھا دیا مخلوق کے لیے۔‘‘

ظاہر ہے مخلوق میں انسان بھی شامل ہیں اور جنات بھی ۔ نوٹ کیجیے کہ پہلے آسمان‘ سورج اور چاند کا ذکر ہوا ہے اور اب زمین کا ۔ گویا ترتیب تدریجاً اوپر سے نیچے کی طرف آرہی ہے۔

آیت 11

فِیۡہَا فَاکِہَۃٌ ۪ۙ وَّ النَّخۡلُ ذَاتُ الۡاَکۡمَامِ ﴿ۖ۱۱﴾

’’اس میں میوے ہیں اور کھجوریں ہیں‘ جن پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں۔‘‘

آیت 12

وَ الۡحَبُّ ذُو الۡعَصۡفِ وَ الرَّیۡحَانُ ﴿ۚ۱۲﴾

’’اور بھس والا اناج بھی ہے اورخوشبودار پھول بھی۔‘‘

بعض مترجمین ’’الرَّیْحَان‘‘ سے مختلف النوع غذائیں بھی مراد لیتے ہیں۔

13

تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

ویڈیو

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۱۳﴾

آیت 13

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۱۳﴾

’’تو تم دونوں (گروہ) اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘

عام طور پر اٰلَآئِ کا ترجمہ ’’نعمتیں‘‘کیا جاتا ہے ‘لیکن اس لفظ میں نعمتوں کے ساتھ ساتھ قدرتوں کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ چنانچہ اس سورت میں بھی اس لفظ سے کہیں اللہ کی نعمتیں مراد ہیں اور کہیں اس کی قدرتیں۔ تُکَذِّبٰنِ تثنیہ کا صیغہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سورت میں جنوں اور انسانوں سے مسلسل ایک ساتھ خطاب ہو رہا ہے ۔ آگے چل کر آیت ۳۳ میں یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ کے خطاب سے یہ بات مزید واضح ہوجائے گی۔ ۱

(۱) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اپنے صحابہ( رضوان اللہ علیہم اجمعین) کو سورۃ الرحمن شروع سے آخر تک سنائی تو وہ اسے سن کر خاموش رہے۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا:’’میں نے لیلۃ الجن میں یہ سورت جنوں کو سنائی تھی تو وہ تم سے بہتر جواب دینے والے تھے۔ میں جب بھی یہ آیت شریفہ پڑھتا:{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۱۶﴾} تو وہ جواب میں کہتے :لاَ بِشَیْئٍ مِنْ نِعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ‘ فَلَکَ الْحَمْدُ (پروردگار! ہم تیری نعمتوں میں سے کسی ایک کا بھی انکار نہیں کرتے‘ پس شکر و تعریف تیرے ہی لیے ہے)‘‘۔ سنن الترمذی‘ ابواب تفسیر القرآن‘ باب ومن سورۃ الرَّحمٰن ‘ح:۳۲۹۱ ۔ (حاشیہ از مرتب)

14-25

قدرتِ باری تعالیٰ کے مظاہر

ویڈیو

خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلۡصَالٍ کَالۡفَخَّارِ ﴿ۙ۱۴﴾ وَ خَلَقَ الۡجَآنَّ مِنۡ مَّارِجٍ مِّنۡ نَّارٍ ﴿ۚ۱۵﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۱۶﴾ رَبُّ الۡمَشۡرِقَیۡنِ وَ رَبُّ الۡمَغۡرِبَیۡنِ ﴿ۚ۱۷﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۱۸﴾ مَرَجَ الۡبَحۡرَیۡنِ یَلۡتَقِیٰنِ ﴿ۙ۱۹﴾ بَیۡنَہُمَا بَرۡزَخٌ لَّا یَبۡغِیٰنِ ﴿ۚ۲۰﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۲۱﴾ یَخۡرُجُ مِنۡہُمَا اللُّؤۡلُؤُ وَ الۡمَرۡجَانُ ﴿ۚ۲۲﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۲۳﴾ وَ لَہُ الۡجَوَارِ الۡمُنۡشَئٰتُ فِی الۡبَحۡرِ کَالۡاَعۡلَامِ ﴿ۚ۲۴﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿٪۲۵﴾

آیت 14

خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلۡصَالٍ کَالۡفَخَّارِ ﴿ۙ۱۴﴾

’’اُس نے پیدا کیا انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی ہوئی مٹی سے۔‘‘

حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے حوالے سے سورۃ الحجر کے تیسرے رکوع میں تین مرتبہ {صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴿﴾} کے الفاظ آئے ہیں۔اس سے مراد ایسا گارا ہے جس میں سڑاند پیدا ہو چکی ہو‘ یعنی سنا ہوا گارا۔ ایسا گارا خشک ہونے پر سخت ہو جاتا ہے اورٹھوکر لگنے سے کھنکنے لگتا ہے۔ یہاں پر صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ سے ایسا ہی سوکھا ہوا گارا مراد ہے‘ یعنی ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتا ہوا گارا۔

آیت 15

وَ خَلَقَ الۡجَآنَّ مِنۡ مَّارِجٍ مِّنۡ نَّارٍ ﴿ۚ۱۵﴾

’’اور جنات کو اُس نے پیدا کیا آگ کی لپٹ سے۔‘‘

مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ سے آگ کی لویا لپٹ مراد ہے۔ اس کا اطلاق آگ کے شعلے کے اس حصے پر ہوتا ہے جو نظر نہیں آتا لیکن انتہائی گرم ہوتا ہے۔ شعلے کے اندر سب سے زیادہ درجہ حرارت اسی نظر نہ آنے والے حصے میں ہوتا ہے۔ سورۃ الحجر کی آیت ۲۷ میں آگ کی اس لپٹ کو نَارِ السَّمُوْمِ کا نام دیا گیا ہے۔

آیت 16

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۱۶﴾

’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘

آیت 17

رَبُّ الۡمَشۡرِقَیۡنِ وَ رَبُّ الۡمَغۡرِبَیۡنِ ﴿ۚ۱۷﴾

’’وہ ربّ ہے دونوں مشرقوں کا اور دونوں مغربوں کا۔‘‘

یہاں پر رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ اور رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِ تثنہ کے اس صیغہ کی مناسبت سے آیا ہے جو پوری سورت میں بار بار آ رہا ہے۔ اس کے علاوہ قرآن مجید میں {رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ } (المُزَّمل:۹) اور {رَبِّ الۡمَشٰرِقِ وَ الۡمَغٰرِبِ} (المعارج:۴۰) کی تراکیب بھی آئی ہیں۔ بہرحال واحد‘ تثنیہ اور جمع کے یہ تینوں صیغے اپنی اپنی جگہ پر درست ہیں۔ واحد کے صیغے میں مشرق اور مغرب تو معروف عام ہیں۔ دو مشرقوں اور دو مغربوں کے تصور کو یوں سمجھیں کہ ایک وقت میں سورج جہاں سے طلوع ہو رہا ہے گلوب کی دوسری طرف وہیں پر وہ غروب ہوتا بھی نظر آ رہا ہے۔اسی طرح جس نقطے پر سورج غروب ہوتا نظر آتا ہے دوسری طرف اسی جگہ سے طلوع ہوتابھی دکھائی دیتا ہے۔ گویا سورج طلوع ہونے کا ہر نقطہ مقامِ غروب بھی ہے اور اسی طرح ہر مقامِ غروب گویا مقامِ طلوع بھی ہے۔ اس لحاظ سے گویا مشرق بھی دو ہیں اور مغرب بھی دو۔پھر کسی ایک مقام سے بظاہر نظر آنے والے مشرق و مغرب کے درمیان زمین پر ہر ہر نقطہ گلوب میں کسی کے لیے مقامِ طلوع ہے اور کسی کے لیے مقامِ غروب ۔اس طرح گویا بہت سے مشرق ہیں اور بہت سے مغرب۔

آیت 18

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۱۸﴾

’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘

آیت 19

مَرَجَ الۡبَحۡرَیۡنِ یَلۡتَقِیٰنِ ﴿ۙ۱۹﴾

’’اُس نے چلا دیے دو دریا جو آپس میں ملے ہوئے بھی ہیں۔‘‘

آیت 20

بَیۡنَہُمَا بَرۡزَخٌ لَّا یَبۡغِیٰنِ ﴿ۚ۲۰﴾

’’لیکن ان کے مابین ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔‘‘

دونوں دریا باہم مل کر چلتے ہیں لیکن ایک دوسرے میں گھستے نہیں‘ اپنی اپنی حد میں رہتے ہیں۔ جیسے ٹھنڈے پانی کے سمندروں میں گرم پانی کی روئیں بہتی ہیں اور کھاری سمندروں میں میٹھے پانی کی روئیں بہتی ہیں۔ اسی طرح کئی دریا باہم ملتے ہیں لیکن دور تک الگ الگ نظر آتے ہیں۔ ہمارے ہاں دریائے کابل کا پانی جب دریائے سندھ میں ملتا ہے تو بہت دور تک دونوں پانی اپنے رنگ کی وجہ سے الگ الگ نظر آتے ہیں۔ اٹک کے پل پر کھڑے ہو کر دونوں پانیوں کا الگ الگ رہتے ہوئے ایک ساتھ چلنے کا یہ منظر دیکھا جا سکتا ہے۔ ایسا ہی منظر مظفر آباد کے قریب ’’دومیل‘‘ کے مقام پر نظر آتا ہے جہاں دریائے نیلم دریائے جہلم میں ملتا ہے۔

آیت 21

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۲۱﴾

’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘

آیت 22

یَخۡرُجُ مِنۡہُمَا اللُّؤۡلُؤُ وَ الۡمَرۡجَانُ ﴿ۚ۲۲﴾

’’ ان دونوں سے نکلتے ہیں موتی بھی اور مونگے بھی۔‘‘

آیت 23

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۲۳﴾

’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘

آیت 24

وَ لَہُ الۡجَوَارِ الۡمُنۡشَئٰتُ فِی الۡبَحۡرِ کَالۡاَعۡلَامِ ﴿ۚ۲۴﴾

’’اور اُسی کے ہیں یہ جہاز جو سمندر میں پہاڑوں کی مانند اونچے اٹھے ہوئے ہیں۔‘‘

یعنی اُسی کی قدرت کا نمونہ ہیں اور اُسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ پچھلے زمانے کے جہاز اگرچہ دورِ جدید کے جہازوں کے مقابلے میں چھوٹے ہوتے تھے ‘لیکن جب ان کے بادبان کھلتے تھے تو وہ بھی اونچائی میں پہاڑوں جیسے نظر آتے تھے ۔ اورآج کل کے جہاز تو واقعتا پہاڑوں سے مشابہ ہیں۔

آیت 25

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿٪۲۵﴾

’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟‘‘

یہاں ایک دفعہ پھر نوٹ کر لیں کہ سورت کے آغاز سے لے کر اب تک جو آیات ہم نے پڑھی ہیں ان میں پہلے قرآن کی عظمت کا ذکر آیا ہے اور اس کے بعد اللہ کی صناعی اور اس کی قدرتوں کا بیان ہے۔ ابتدائی آیات میں انسان کی قوتِ بیان کے تذکرے کے ساتھ قرآن کی عظمت کا ذکر کر کے انسان کو یاد دلایا گیا ہے کہ اس کی اس صلاحیت کا بہترین مصرف یہی ہے کہ وہ قرآن سیکھے اور سکھائے۔ اس کی مزید وضاحت نبی اکرمﷺ کے اس فرمان میں ملتی ہے : حدیث((خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہٗ)) کہ تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو قرآن سیکھیں اور سکھائیں۔بہرحال انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں اور صلاحیتوں کو بہترین طورپر صرف کرے۔ علامہ اقبال کے اس شعر میں اسی جذبے کو ترغیب و تحریک دی گئی ہے :

اگر یک قطرہ خوں داری ‘ اگر مشتِ پرے داری

بیا من با تو آموزم طریق شاہبازی را!

(کہ اے ننھی چڑیا !اگر تیرے پاس چند پر ہیں اور ایک قطرئہ خون بھی ہے تو میرے پاس آؤ ‘میں تجھے شاہین کی سی اڑان کا طریقہ سکھا دوں!)

جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہو چکا ہے‘ یہ موضوعات (قرآن کی عظمت اور اللہ کی صناعی کابیان) ہم سورۃ الواقعہ میں بھی پڑھیں گے‘لیکن وہاں ان کی ترتیب سورۃ الرحمن کے مضامین کی ترتیب کے بالعکس ہے۔ یعنی قرآن کی عظمت کا بیان جو سورۃ الرحمن کے آغاز میں ہے سورۃ الواقعہ میں بالکل آخر پر ہے۔ پھر سورۃ الرحمن میں اللہ کی خلاقی و صناعی کا ذکر عظمت قرآن کے بعد ہے جبکہ سورۃ الواقعہ میں یہ موضوع عظمت قرآن کے ذکرسے پہلے بیان ہوا ہے۔یعنی دونوں سورتوں میں ایک جیسے موضوعات بیان ہوئے ہیں لیکن معکوس ترتیب سے۔ اس ترتیب کو قبل ازیں mirror image کا نام دیا گیا ہے ۔

26-28

دنیا کی رعنائیوں کا انجام

ویڈیو

کُلُّ مَنۡ عَلَیۡہَا فَانٍ ﴿ۚۖ۲۶﴾ وَّ یَبۡقٰی وَجۡہُ رَبِّکَ ذُو الۡجَلٰلِ وَ الۡاِکۡرَامِ ﴿ۚ۲۷﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۲۸﴾

آیت 26

کُلُّ مَنۡ عَلَیۡہَا فَانٍ ﴿ۚۖ۲۶﴾

’’جو کوئی بھی اس (زمین) پر ہے فنا ہونے والا ہے۔‘‘

آیت 27

وَّ یَبۡقٰی وَجۡہُ رَبِّکَ ذُو الۡجَلٰلِ وَ الۡاِکۡرَامِ ﴿ۚ۲۷﴾

’’اور باقی رہے گا صرف تیرے رب کا چہرہ جو بہت بزرگی اور بہت عظمت والا ہے۔‘‘

اللہ کے چہرے کا تصور ہماری سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ اس لحاظ سے اگرچہ یہ آیت آیاتِ متشابہات میں سے ہے لیکن اس کا عمومی مفہوم بالکل واضح ہے کہ باقی رہنے والی صرف ایک اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات ہے ‘جس کے علاوہ ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔ اس کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور ان میں کوئی ایک مخلوق بھی ایسی نہیں جو اپنے بل پر اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہو۔ ہر چیز اور ہر مخلوق کا وجود اللہ تعالیٰ کی منشاء و مرضی کا مرہونِ منت ہے۔جب تک وہ چاہتا ہے کسی چیز کا وجود برقرار رہتا ہے اور جب وہ چاہتا ہے اسے فنا کر دیتا ہے۔جیسا کہ سورۃ القصص کی اس آیت میں فرمایا گیا ہے:{کُلُّ شَیۡءٍ ہَالِکٌ اِلَّا وَجۡہَہٗ ؕ لَہُ الۡحُکۡمُ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿٪۸۸﴾} ’’ہر چیز فنا ہونے والی ہے سوائے اُس کے چہرے کے۔ فرمان روائی اُسی کی ہے اور اُسی کی طرف تم سب لوٹا دیے جاؤ گے۔‘‘

آیت 28

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۲۸﴾

’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘

29-30

ہر شے اللہ کے در کی فقیر ہے

ویڈیو

یَسۡـَٔلُہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ کُلَّ یَوۡمٍ ہُوَ فِیۡ شَاۡنٍ ﴿ۚ۲۹﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۰﴾

آیت 29

یَسۡـَٔلُہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ

’’ اُسی سے مانگتاہے جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اپنی ضرورتوں اور حاجتوں کے لیے اللہ ہی کے در کی سوالی ہے۔ ہر کسی کو وجود بھی اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے۔ ہر زندہ وجود کی زندگی بھی اسی کی دین ہے‘ کسی مخلوق میں اگر کوئی صلاحیت ہے تو وہ بھی اسی کی بخشی ہوئی ہے اور تمام مخلوقات کے ایک ایک فرد کی ضرورتوں کا خبرگیر ونگہبان بھی وہی ہے ۔اس حوالے سے سورۂ محمد کی آیت ۳۸ کے یہ الفاظ بہت واضح ہیں:{وَ اللّٰہُ الۡغَنِیُّ وَ اَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ ۚ } کہ اللہ غنی اور بے نیاز ہے اورتم سب اس کے محتاج ہو۔ یعنی تمہارا وجود ‘تمہاری زندگی‘ تمہاری صلاحیتیں ‘غرض تمہارا سب کچھ اُسی کا عطا کردہ ہے۔ تم اپنے تمام تر وسائل سے بس وہی کچھ کر سکتے ہو جس کی وہ اجازت دیتا ہے اور صرف اسی قدر جان سکتے ہو جس قدر وہ چاہتا ہے۔ اس کی مخلوق کے تمام افراد پر یہ حقیقت واضح ہونی چاہیے :{وَ لَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ }(البقرۃ:۲۵۵) کہ وہ سب کے سب اس کے احاطۂ علم میں مقید و محصور ہیں اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے‘ مگر اسی قدر جس قدر وہ چاہتا ہے۔

کُلَّ یَوۡمٍ ہُوَ فِیۡ شَاۡنٍ ﴿ۚ۲۹﴾

’’ہر دن وہ ایک نئی شان میں ہے۔‘‘

ہر دن اُس کی ایک نئی شان کا ظہور ہوتا ہے۔میرے نزدیک اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی تدبیر امر کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر سورۃ السجدۃ میں بایں الفاظ آیا ہے: {یُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَی الۡاَرۡضِ ثُمَّ یَعۡرُجُ اِلَیۡہِ فِیۡ یَوۡمٍ کَانَ مِقۡدَارُہٗۤ اَلۡفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴿۵﴾} ’’وہ تدبیر کرتا ہے اپنے امر کی آسمان سے زمین کی طرف‘ پھر وہ (امر) چڑھتا ہے اُس کی طرف‘(یہ سارا معاملہ طے پاتا ہے) ایک دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار برس ہے‘‘۔یعنی کائنات اور مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فارغ ہو کر نہیں بیٹھ گیا ‘بلکہ اس کائنات کے نظام اور ارض و سماء میں پھیلی ہوئی مخلوقات سے متعلق تمام امور کو وہ لمحہ بہ لمحہ اپنی تدبیر سے چلا رہا ہے۔ اس تدبیر کی منصوبہ بندی کے لیے اس کا ایک دن ہمارے ایک ہزار سال کے برابر ہے۔ چنانچہ اس کے ہاں ایک ایک دن کی منصوبہ بندی ہوتی ہے‘ اہم فیصلے کیے جاتے ہیں‘ احکام جاری ہوتے ہیں‘ ان احکام کی تعمیل و تنفیذ عمل میں لائی جاتی ہے اور پھر جائزہ رپورٹیں اسے پیش کی جاتی ہیں۔ اس طرح ہر دن کے لیے اس کی نئی شان ہے اور نئی مصروفیات!

آیت 30

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۰﴾

’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟‘‘

31-36

انسانوں اور جنات کی بے بسی

ویڈیو

سَنَفۡرُغُ لَکُمۡ اَیُّہَ الثَّقَلٰنِ ﴿ۚ۳۱﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۲﴾ یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ ﴿ۚ۳۳﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۴﴾ یُرۡسَلُ عَلَیۡکُمَا شُوَاظٌ مِّنۡ نَّارٍ ۬ۙ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنۡتَصِرٰنِ ﴿ۚ۳۵﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۶﴾

آیت 31

سَنَفۡرُغُ لَکُمۡ اَیُّہَ الثَّقَلٰنِ ﴿ۚ۳۱﴾

’’ہم جلد ہی فارغ ہو جائیں گے تمہارے لیے ‘ اے دو بھاری قافلو!‘‘

اس آیت میں اشارۃً اور آگے آیت ۳۳ میں باقاعدہ نام لے کر تثنیہ (تُکَذِّبٰن) کے صیغے کی وضاحت کردی گئی کہ اے جن وانس کے قافلوں کے افراد ! ہم تم سے مخاطب ہیں۔ یاد رکھو! تم دونوں گروہ اپنے اعمال کے لیے ہمارے سامنے جواب دہ ہو ۔یاد رکھو!ہم اس کائنات کو ’’مہلت‘‘کے اصول پر چلا رہے ہیں۔ اس کے لیے ہم نے کائنات کی ایک عمر {اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّی} مقرر کر رکھی ہے‘ اسی اصول کے تحت ہر قوم کو بھی ہم ایک وقت معین تک مہلت دیتے ہیں : {لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ۚ } (الاعراف:۳۴) اور ہر فرد کو بھی ۔چنانچہ ہماری عطا کردہ مہلت سے تم یہ مت سمجھو کہ تمہارا احتساب نہیں ہوگا‘ بلکہ ہم عنقریب تم سب لوگوں کو اپنے حضور حاضر کرنے والے ہیں‘ جہاں تمہیں اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہو گا۔

آیت 32

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۲﴾

’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘

آیت 33

یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا ؕ

’’اے گروہِ جن و انس! اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل بھاگوتو نکل بھاگو۔‘‘

لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ ﴿ۚ۳۳﴾

’’تم نکل نہیں سکو گے مگر (اللہ کی) سند کے ساتھ۔‘‘

یہ آیت مشکلات القرآن میں سے ہے۔ جب تک کائنات (cosmos) کی وسعتوں کے بارے میں انسان کا علم مزید ترقی نہیں کر جاتا‘ اس آیت کا مفہوم شاید ہم پوری طرح سمجھ نہ پائیں۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اپنی تمام تر سائنسی ترقی کے باوجود ابھی تک انسان زمین کی ’’حدود‘‘ سے نکل کر نظامِ شمسی کے کسی ایک سیارے تک بھی رسائی حاصل نہیں کر سکا۔ اس کی اس رفتار سے تو یہی لگتا ہے کہ نظامِ شمسی کی وسعتوں تک بھی اس کی رسائی کا خواب کبھی شرمندئہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ جہاں تک اس معاملے میں جنوں کی ’’استطاعت‘‘ کا تعلق ہے اس کے بارے میں قبل ازیں سورۃ الحجر کی آیت ۱۷ کے ضمن میں وضاحت کی جا چکی ہے کہ وہ نظامِ شمسی کی حدود کے اندر آسانی سے گھوم پھر سکتے ہیں‘ لیکن نظامِ شمسی کی حدود کو پھلانگنے کی استطاعت وہ بھی نہیں رکھتے۔ دوسری طرف اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کی وسعتوں کا عالم یہ ہے کہ ان وسعتوں کے اندر خو دنظامِ شمسی کی حیثیت ایک نقطے کی سی ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں گروہ جن و انس کی اس بے بسی اور بے بضاعتی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جس کی طرف آیت زیر مطالعہ میں اشارہ کیا گیا ہے۔

قرآن حکیم میں جب آسمانوں اور زمین کا ذکر آتا ہے تو اس سے پوری کائنات مراد ہوتی ہے۔ میراگمان یہ ہے کہ یہاں پوری کائنات کے کناروں سے نکل بھاگنے کے معنی معدوم ہونے کے ہیں۔ جیسا کہ قیامت کے دن عذاب کے مستحق لوگ خواہش کریں گے : {یَوۡمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ عَصَوُا الرَّسُوۡلَ لَوۡ تُسَوّٰی بِہِمُ الۡاَرۡضُ ؕ وَ لَا یَکۡتُمُوۡنَ اللّٰہَ حَدِیۡثًا ﴿٪۴۲﴾} (النساء) ’’اُس دن تمنا کریں گے وہ لوگ جنہوں نے کفرکیا تھا اور رسول ؐکی نافرمانی کی تھی کہ کاش ان کے سمیت زمین برابرکردی جائے۔اور وہ اللہ سے کوئی بات بھی چھپا نہیں سکیں گے‘‘۔ لیکن ہمارا یہ وجود چونکہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر یہ معدوم بھی نہیں ہو سکتا ۔ چنانچہ اس آیت کا مفہوم میرے خیال میں یہ ہے کہ تم لوگ اگر معدوم بھی ہونا چاہو تو اللہ کی مرضی اور اجازت کے بغیر (اِلَّا بِسُلْطٰنٍ) ایسا نہیں کر سکو گے۔ واللہ اعلم!

آیت 34

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۴﴾

’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘

آیت 35

یُرۡسَلُ عَلَیۡکُمَا شُوَاظٌ مِّنۡ نَّارٍ ۬ۙ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنۡتَصِرٰنِ ﴿ۚ۳۵﴾

’’ تم پر پھینکے جائیں گے بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلے اور دھواں ‘ تو تم لوگ بدلہ نہیں لے سکو گے۔‘‘

آیت 36

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۶﴾

’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘

37-45

روز ِقیامت مجرموں کا انجام

ویڈیو

فَاِذَا انۡشَقَّتِ السَّمَآءُ فَکَانَتۡ وَرۡدَۃً کَالدِّہَانِ ﴿ۚ۳۷﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۸﴾ فَیَوۡمَئِذٍ لَّا یُسۡـَٔلُ عَنۡ ذَنۡۢبِہٖۤ اِنۡسٌ وَّ لَا جَآنٌّ ﴿ۚ۳۹﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۴۰﴾ یُعۡرَفُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ بِسِیۡمٰہُمۡ فَیُؤۡخَذُ بِالنَّوَاصِیۡ وَ الۡاَقۡدَامِ ﴿ۚ۴۱﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۴۲﴾ ہٰذِہٖ جَہَنَّمُ الَّتِیۡ یُکَذِّبُ بِہَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿ۘ۴۳﴾ یَطُوۡفُوۡنَ بَیۡنَہَا وَ بَیۡنَ حَمِیۡمٍ اٰنٍ ﴿ۚ۴۴﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿٪۴۵﴾

آیت 37

فَاِذَا انۡشَقَّتِ السَّمَآءُ فَکَانَتۡ وَرۡدَۃً کَالدِّہَانِ ﴿ۚ۳۷﴾

’’پھرجب آسمان پھٹ جائے گا اور ہو جائے گا گلابی‘ تیل کی تلچھٹ جیسا۔‘‘

آیت 38

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۳۸﴾

’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘

آیت 39

فَیَوۡمَئِذٍ لَّا یُسۡـَٔلُ عَنۡ ذَنۡۢبِہٖۤ اِنۡسٌ وَّ لَا جَآنٌّ ﴿ۚ۳۹﴾

’’تو اُس روز پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوگی ‘نہ کسی جن سے اور نہ انسان سے اُس کے گناہوں کے بارے میں۔‘‘

اگرچہ سوال و جواب بھی ہوں گے اور ایک ایک عمل کا حساب بھی ہو گا‘ لیکن چونکہ ہر انسان اپنے اندرونی احوال کو خوب سمجھتا ہے : {بَلِ الۡاِنۡسَانُ عَلٰی نَفۡسِہٖ بَصِیۡرَۃٌ ﴿ۙ۱۴﴾} (القیامۃ) اس لیے میدانِ حشر میں ہر شخص کا چہرہ ہی گویا اُس کے انجام کی خبر دے رہا ہو گا۔اس کیفیت کا نقشہ قرآن میں جابجا دکھایا گیا ہے ‘جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اُس دن کئی چہرے تروتازہ ہوں گے ‘جبکہ کچھ چہروں پر مردنی چھارہی ہو گی۔ اس کیفیت کی عملی مثال ہمارے ہاں اسکولوں کے سالانہ نتائج کے اعلان کے موقع پر دیکھنے میں آتی ہے۔ چونکہ ہر طالب علم کو امتحان کے دوران اپنی کارکردگی کے بارے میں پہلے سے معلوم ہوتا ہے ‘اس لیے نتائج کے باقاعدہ اعلان سے پہلے ہی ہر ایک کانتیجہ اس کے چہرے پر سے پڑھا جا سکتا ہے ۔

آیت 40

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۴۰﴾

’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘

آیت 41

یُعۡرَفُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ بِسِیۡمٰہُمۡ فَیُؤۡخَذُ بِالنَّوَاصِیۡ وَ الۡاَقۡدَامِ ﴿ۚ۴۱﴾

’’پہچان لیے جائیں گے مجرم اپنے چہروں سے ‘پھر ان کو پکڑ اجائے گا پیشانی (کے بالوں) سے اور پاؤں سے۔‘‘

اُس دن مجرمین کے اترے ہوئے چہرے ہی ان کی پہچان ہوں گے۔ چنانچہ فرشتے انہیں ٹانگوں اور پیشانی کے بالوں سے پکڑ پکڑ کر جہنم کی طرف اُچھالتے جائیں گے۔

آیت 42

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۴۲﴾

’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘

آیت 43

ہٰذِہٖ جَہَنَّمُ الَّتِیۡ یُکَذِّبُ بِہَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿ۘ۴۳﴾

’’(اُس وقت ان سے کہا جائے گا کہ) یہ ہے وہ جہنم جسے مجرمین جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘

آیت 44

یَطُوۡفُوۡنَ بَیۡنَہَا وَ بَیۡنَ حَمِیۡمٍ اٰنٍ ﴿ۚ۴۴﴾

’’اب وہ چکر لگاتے رہیں گے اس (آگ) کے اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان۔‘‘

آگ کی تپش سے گھبرا کر پانی کی طرف لپکیں گے اور جب کھولتے ہوئے پانی کا مزہ چکھیں گے تو پھر واپس بھاگیں گے۔ اَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْ ذٰلِکَ!

آیت 45

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿٪۴۵﴾

’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘

یہ اہل جہنم کا تذکرہ تھا ‘اب اس کے بعد آئندہ آیات میں اہل جنت کا بیان ہو گا۔ البتہ سورۃ الواقعہ میں پہلے اہل جنت کا ذکر ہے اور اس کے بعد اہل جہنم کا ۔ یعنی جیسا کہ قبل ازیں بھی وضاحت کی جا چکی ہے کہ ان دونوں سورتوں کے مضامین باہم عکسی ترتیب میں ہیں۔

یوٹیوب پر دیکھیے