اَلرَّحۡمٰنُ ۙ﴿۱﴾
’’رحمن نے‘‘
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تحریر
آیات ۱ تا ۴
بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
قبل ازیں سورۂ قٓ کے تمہیدی کلمات میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ زیر مطالعہ سات مکی سورتوں میں سے سورۂ قٓ منفرد ہے جبکہ باقی چھ سورتیں جوڑوں کی شکل میں ہیں۔ پہلا جوڑا سورۃ الذاریات اور سورۃ الطور کا ہے‘ دوسرا سورۃ النجم اور سورۃ القمر کا اور تیسرا سورۃ الرحمن اور سورۃ الواقعہ کا۔ چنانچہ اب ہم ان میں سے تیسرے جوڑے کا مطالعہ کرنے جا رہے ہیں۔ یہ دونوں سورتیں (سورۃ الرحمن اور سورۃ الواقعہ) اس لحاظ سے پورے قرآن میں منفرد ہیں کہ ان میں نبوت‘ رسالت اور وحی کا سرے سے ذکر ہی نہیں۔ پھر سورۃ الرحمن پورے قرآن میں واحد ایسی سورت ہے جس میں جنوں اور انسانوں سے مسلسل اور متوازی خطاب ہو رہا ہے۔
اس حوالے سے ضمنی طور پر یہاں ایک یہ نکتہ بھی سمجھ لیں کہ جنوں کے ہاں نبوت اور وحی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ’’عالم خلق‘‘ (دنیا)میں وحی الٰہی کے نزول کی متحمل صرف ’’روح‘‘ ہو سکتی ہے اور روح اللہ تعالیٰ نے صرف انسانوں کو عطا کی ہے۔ جنوں میں روح نہیں ہوتی۔ اس لیے جنات ان ہی انبیاء و رسل کے پیروکار رہے ہیں جو انسانوں کی طرف مبعوث ہوتے رہے ہیں۔ اس لحاظ سے ان میں اہل ایمان اور کافر جن بھی ہیں اور نیک و بد بھی۔ سورۃ الاحقاف میں ہم جنات کی ایک جماعت کا ذکر پڑھ آئے ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور تورات کے ماننے والے تھے۔ وہ حضورﷺ سے قرآن سن کر ایمان لائے اور پھر انہوں نے ایمان و قرآن کی دعوت اپنی قوم تک بھی پہنچائی۔بہرحال سورۃ الرحمن اس حوالے سے پورے قرآن میں منفرد سورت ہے کہ اس میں جنوں اور انسانوں سے خطاب کے لیے بار بار تثنیہ کا صیغہ آیا ہے ‘بلکہ خصوصی طور پر یٰـمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ کے الفاظ میں بھی خطاب ہوا ہے۔ اس طرح اس سورت میں تخصیص کے ساتھ واضح کر دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے مخاطب ان دونوں نسلوں کے افراد ہیں۔ لہٰذا قرآن مجید میں جہاں کہیں یٰٓــاَیُّـھَا النَّاسُ کے الفاظ میں خطاب کیا گیا ہے اس سے مراد اگرچہ نوعِ انسانی ہے لیکن اس صیغہ تخاطب میں جنوں کو انسانوں کے تابع سمجھا جائے گا ‘چنانچہ ایسے ہر خطاب میں انسانوں کے ساتھ جن بھی مخاطب ہیں۔
سورۃ الرحمن کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں دو دو جنتوں کا دو مرتبہ تذکرہ ہے اور سورۃ الواقعہ میں بھی ایسا ہی ہے۔ ان دونوں سورتوں کے مضامین کی ترتیب میں ایک انوکھی اور عجیب مناسبت پائی جاتی ہے۔ اس ترتیب کو معکوس ترتیب یا mirror image کا نام دیا جا سکتا ہے۔ یعنی ایک سورۃ کے مضامین جس ترتیب سے آئے ہیں دوسری سورت میں وہی مضامین اس کے برعکس ترتیب میں ہیں۔ آج کل بعض لوگ جڑواں گھر اس طرح بناتے ہیں کہ دونوں کا نقشہ ایک جیسا ہوتا ہے لیکن ایک گھر میں کمروں وغیرہ کی location کی ترتیب دوسرے کی ترتیب کے برعکس ہوتی ہے۔ اس طرح ایک گھر دوسرے گھر کا mirror image محسوس ہوتا ہے۔ دونوں سورتوں کے مضامین اور ان مضامین کی ترتیب میں گہری مناسبت پائی جاتی ہے۔
سورۃ الرحمن کی ترجیعی آیت {فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿﴾} ہے جو اس سورت میں ۳۱ مرتبہ آئی ہے‘ جبکہ اس سورت کی کل آیات ۷۸ ہیں۔ آیات کی ترجیع کا اسلوب اگرچہ قبل ازیں ہم سورۃ الشعراء اور سورۃ القمر میں بھی د یکھ چکے ہیں ۔ سورۃ الشعراء میں یہ دو آیات آٹھ بار دہرائی گئی ہیں: {اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ؕوَ مَا کَانَ اَکۡثَرُ ہُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿﴾وَ اِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ﴿﴾} جبکہ سورۃ القمر میں ان دو آیات کی تکرار چار مرتبہ آئی ہے : {فَذُوۡقُوۡا عَذَابِیۡ وَ نُذُرِ ﴿﴾وَ لَقَدۡ یَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّکۡرِ فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ ﴿﴾} ۔بہرحال یہ خاص اسلوب سورۃ الرحمن میں بہت زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔
اَلرَّحۡمٰنُ ۙ﴿۱﴾ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ ؕ﴿۲﴾ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ ۙ﴿۳﴾ عَلَّمَہُ الۡبَیَانَ ﴿۴﴾
اَلرَّحۡمٰنُ ۙ﴿۱﴾
’’رحمن نے‘‘
عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ ؕ﴿۲﴾
’’قرآن سکھایا ۔‘‘
رحمن‘ اللہ تعالیٰ کا خاص نام ہے۔ اس کا مادہ ’’رحم‘‘ ہے اور یہ فَعلان کے وزن پر ہے۔ اس وزن پر جو الفاظ آتے ہیں ان کے مفہوم میں بہت زیادہ مبالغہ پایاجاتا ہے۔ جیسے قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے دو مرتبہ (الاعراف: ۱۵۰ اور طٰہ:۸۶) غَضْبان کا لفظ آیا ہے‘ یعنی غصے سے بہت زیادہ بھرا ہوا۔ اسی طرح اَنَا عَطْشَان کا مطلب ہے کہ میں پیاس سے مرا جا رہا ہوں اور اَنَا جَوْعَان : بھوک سے میری جان نکلی جا رہی ہے۔ چنانچہ لغوی اعتبار سے رحمن کے مفہوم میں ایک طوفانی شان پائی جاتی ہے (لفظ ’’طوفان‘‘ بھی اسی وزن پر ہے ‘اس لیے اس لفظ کے مفہوم میں بھی مبالغہ پایاجاتا ہے)۔ اس مفہوم کو ہم اپنی زبان میں اس طرح ادا کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں کہ رحمن وہ ذات ہے جس کی رحمت ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح ہے۔اس کی رحمت تمام مخلوقات کو ڈھانپے ہوئے ہے۔کسی مخلوق کا کوئی فرد بھی اس کی رحمت سے مستغنی نہیں۔ خاص طور پر بنی نوعِ انسانی تو دنیا میں بھی اُس کی رحمت کی محتاج ہے اور آخرت میں بھی۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں ایک موقع پر حضورﷺ نے فرمایا کہ کوئی شخص صرف اپنے اعمال کی بنیاد پر جنت میں نہیں جا سکے گا جب تک کہ رحمت خداوندی اس کی دستگیری نہ کرے۔ اس پر صحابہؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہؐ! کیا آپؐ بھی نہیں؟ آپؐ نے فرمایا: حدیث((وَلَا اَنَا‘ اِلاَّ اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَرَحْمَۃٍ))۱ ’’ہاں میں بھی نہیں‘ اِلا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے‘‘۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں رحمن چوٹی کا نام ہے۔
جس طرح اللہ تعالیٰ کے ناموں میں چوٹی کا نام رحمن ہے ‘اسی طرح اللہ نے انسان کو جو علم سکھایا ہے اس میں چوٹی کا علم قرآن ہے۔ اکتسابی علم (acquired knowledge) میں تو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق انسان رفتہ رفتہ ترقی کی منازل طے کر رہا ہے ‘لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو جو الہامی علم (revealed knowledge) عطا ہوا ہے اس میں چوٹی کا علم قرآن ہے‘ جو ہر قسم کے تمام علوم کا نقطۂ عروج ہے۔
(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الرقاق‘ باب القصد والمداومۃ علی العمل‘ ح:۶۴۶۷۔وصحیح مسلم‘ کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار‘ باب لن یدخل احد الجنۃ بعملہ بل برحمۃ اللّٰہ تعالٰی‘ ح:۲۸۱۶۔
خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ ۙ﴿۳﴾
’’اُسی نے انسان کو بنایا۔‘‘
اس سلسلے کا تیسرا اہم نکتہ یہ نوٹ کر لیں کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی معراج (climax) انسان ہے۔ انسان کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ نے عالمِ امر اور عالم خلق (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: سورۃالنحل‘ آیت ۴۰ کی تشریح)دونوں کو جمع فرما دیا ہے ۔ اسی لیے انسان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا: {خَلَقۡتُ بِیَدَیَّ ؕ} (ص:۷۵) کہ میں نے اسے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے۔
عَلَّمَہُ الۡبَیَانَ ﴿۴﴾
’’اس کو بیان سکھایا۔‘‘
یعنی اسے بولنا سکھایا‘ اسے گویائی کی صلاحیت بخشی ۔ آیات زیر مطالعہ کے حوالے سے یہاں چوتھا اہم نکتہ یہ ہے کہ انسان کی صلاحیتوں میں سے جو چوٹی کی صلاحیت ہے وہ قوتِ بیان (گویائی) ہے۔ آج میڈیکل سائنس کی تحقیق سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ انسان کی قوتِ گویائی کا تعلق اس کے دماغ کی خصوصی بناوٹ سے ہے۔ سائنس کی زبان میں تو انسان بھی حیوان ہی ہے ‘لیکن اس کے بولنے کی صلاحیت کی وجہ سے اسے حیوانِ ناطق (بولنے والا حیوان) کہا گیا ہے۔ دماغ تو ظاہر ہے انسان سمیت تمام جانوروں میں موجود ہے‘ لیکن ہر جانور کے دماغ کی بناوٹ اور صلاحیت مختلف ہے۔ اس لحاظ سے انسان کا دماغ تمام حیوانات کے دماغوں میں سب سے اعلیٰ ہے اور اس میں ایسی صلاحیتیں بھی پائی جاتی ہیں جو کسی اور جانورکے دماغ میں نہیں ہیں ۔بہرحال استعداد کے حوالے سے حیوانی دماغ کی بناوٹ نچلی سطح سے ترقی کر کے گوریلوں اور چیمپنزیز (champenzies) کے دماغ کی سطح تک پہنچتی ہے‘ اور پھر اس ترقی کی معراج انسان کا دماغ ہے۔ انسانی دماغ کے مختلف حصے ہیں‘ مثلاً سماعت سے متعلقہ حصہ‘ بصارت سے متعلقہ حصہ وغیرہ۔ حواس (آنکھ‘ کان وغیرہ) سے حاصل ہونے والی معلومات پہلے دماغ کے متعلقہ حصے میں جاتی ہیں اورپھر وہاں سے gray matter کے پچھلے حصے میں پہنچتی ہیں۔ لیکن انسانی دماغ کا سب سے اہم اور بڑا حصہ speech centre ہے‘ اور پھر اس میں بھی کلام کے فہم اور ابلاغ سے متعلق دو الگ الگ حصے ہیں ‘یعنی ایک حصے میں دوسروں کی بات سمجھنے کی صلاحیت ہے جبکہ دوسرا حصہ دوسروں تک بات پہنچانے سے متعلق ہے۔
ویسے تو اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت سی صلاحیتوں سے نوازا ہے‘ لیکن قوتِ گویائی کے علاوہ انسان کی باقی تقریباً تمام صلاحیتیں کسی نہ کسی سطح پر کسی نہ کسی درجے میں دوسرے حیوانات کو بھی ملی ہیں‘بلکہ بعض حیوانات کی بعض صلاحیتیں تو انسان کے مقابلے میں کہیں بہتر ہیں۔ بعض جانوروں کی بصارت ہمارے مقابلے میں بہت زیادہ تیز ہے‘ کئی جانور اندھیرے میں بھی دیکھ سکتے ہیں جبکہ ہم دیکھنے کے لیے روشنی کے محتاج ہیں ۔گھوڑے کی قوتِ سماعت انسان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ چنانچہ ذرا سی آہٹ پر گھوڑے کے کان (antenna) کی طرح کھڑے ہو جاتے ہیں‘ جبکہ گھڑ سوار نے ابھی کچھ دیکھا ہوتا ہے نہ سنا ہوتا ہے ۔ اسی طرح کتوں کے دماغ میں سونگھنے کا حصہ بہت بڑا ہوتا ہے ۔اسی وجہ سے ان کے سونگھنے کی حس انسان کے مقابلے میں سو گناسے بھی زیادہ تیز ہے۔ بہرحال باقی صلاحیتیں تو دوسرے جانوروں میں بھی پائی جاتی ہیں ‘لیکن بیان اور گویائی کی صلاحیت صرف اور صرف انسان کا طرۂ امتیاز ہے ۔
اس تمہید کے بعد اب ان آیات کو دوبارہ پڑھئے۔ ان چار آیات سے تین جملے بنتے ہیں۔پہلی آیت {اَلرَّحۡمٰنُ ۙ﴿۱﴾} جملہ نہیں ہے‘ یہ مبتدأ ہے اور {عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ ؕ﴿۲﴾} اس کی خبر ہے۔ چنانچہ پہلی اور دوسری آیت کے ملنے سے مکمل جملہ بنتا ہے۔ یعنی ’’رحمن نے قرآن سکھایا‘‘۔ اس کے بعد آیت ۳ {خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ ۙ﴿۳﴾} ’’اُس نے انسان کو پیدا کیا‘‘بھی مکمل جملہ ہے اور آیت ۴ {عَلَّمَہُ الۡبَیَانَ ﴿۴﴾} ’’اسے بیان کی صلاحیت عطا کی‘‘ بھی مکمل جملہ ہے____ اب ان آیات پر اس پہلو سے غور کیجیے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے سب سے اعلیٰ نام کے حوالے سے سب سے اعلیٰ علم (قرآن) کا ذکر کیا۔ پھر اپنی چوٹی کی مخلوق اور اس مخلوق کی چوٹی کی صلاحیت (بیان) کا ذکر کیا۔ اس زاویے سے غور کیا جائے تو یہ تین جملے ریاضی کے کسی سوال کی طرح ’’جواب‘‘ کا تقاضا کرتے نظر آتے ہیں۔ چنانچہ جس طرح ریاضی کے ’’نسبت و تناسب‘‘ کے سوالات میں تین رقموں (values) کی مدد سے چوتھی رقم معلوم کی جاتی ہے‘ اسی طرح ان تین جملوں پر غور کرنے سے اس عبارت کے اصل مدعا تک پہنچا جا سکتا ہے ۔’’ رحمن نے قرآن سکھایا۔ اُس نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بیان کی صلاحیت عطا فرمائی‘‘۔ کس لیے؟--- جواب بالکل واضح ہے: ’’قرآن کے بیان کے لیے!‘‘ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی اعلیٰ ترین مخلوق کو ’’بیان‘‘ کی انمول صلاحیت سے اس لیے تو نہیں نوازا کہ وہ اسے لہو و لعب میں ضائع کرتا پھرے‘ یا دلائل کے انبار لگانے والا وکیل یا شعلہ بیان مقرر بن کر اسے حصولِ دولت و شہرت کا ذریعہ بنا لے۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ توپ اس لیے تو نہیں بنائی جاتی کہ اس سے مکھیاں ماری جائیں۔ چنانچہ انسان کی اس بہترین صلاحیت کا بہترین مصرف یہ ہو گا کہ وہ اسے بہترین علم کے سیکھنے سکھانے کا ذریعہ بنائے۔ یعنی اپنی قوتِ بیان کو قرآن کی تعلیم اور نشرواشاعت کے لیے وقف کر دے۔ان آیات کے اس مفہوم کو حضورﷺ کے اس فرمان کی روشنی میں بہتر انداز میں سمجھا جا سکتاہے۔ آپﷺ نے فرمایا: حدیث((خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہٗ))۱ یہاں خَیْرُکُمْ کا صیغہ تفضیل کل (superlative degree) کے مفہوم میں آیا ہے کہ تم سب میں بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے ۔ اس حدیث کے حوالے سے ضمنی طور پر یہاں یہ نکتہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ اس کے راوی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے نام اور حدیث کے لفظ ’’قرآن‘‘ کے قافیے بھی زیر مطالعہ آیات کے قافیوں کے ساتھ مل رہے ہیں۔ یعنی ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے اس حدیث کی ان آیات کے ساتھ خصوصی نسبت ہے۔ سورۃ الرحمن کی ان ابتدائی آیات کامطالعہ کرتے ہوئے اگر سورۃ القمر کی ترجیعی آیت {وَ لَقَدۡ یَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّکۡرِ …} کے مفہوم اور اس کے پرشکوہ اسلوب کو بھی مدنظر رکھا جائے اور ان آیات کی ترتیب پر بھی غور کیا جائے کہ سورۃ القمر کی مذکورہ آیت کوباربار دہرانے کے فوراً بعد سورۃ الرحمن کی یہ آیات آئی ہیں تو ان آیات کا مذکورہ مفہوم واضح تر ہوجاتا ہے۔ بہرحال ان آیات کے بین السطور یہ پیغام بھی مضمر ہے کہ انسانوں پر اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت کا حق اداکرنا لازم ہے۔
(۱) صحیح البخاری‘ کتاب فضائل القرآن‘ باب خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ۔