’’(تو اے قریش!) کیا تمہارے کفار اُن (کفار) سے کچھ بہتر ہیں؟‘‘
زمانہ سابق میں جن قوموں نے کفر کی روش اختیار کی ان کے انجام سے متعلق تمام تفصیلات تم لوگ جان چکے ہو۔ اب ذرا سوچو کہ تم میں سے جو لوگ ہمارے رسولﷺ کا انکار کر کے کفر کے مرتکب ہو رہے ہیں ‘کیا وہ کسی خاص خوبی کے حامل ہیں کہ گزشتہ کافر اقوام کی طرح ان پر عذاب نہیں آئے گا؟
اَمۡ لَکُمۡ بَرَآءَۃٌ فِی الزُّبُرِ ﴿ۚ۴۳﴾
’’یا تمہارے لیے سابقہ الہامی کتب میں کوئی فارغ خطی آ چکی ہے؟‘‘
تم میں آخر کیا خوبی ہے کہ جس تکذیب اور ہٹ دھرمی کی روش پر پچھلی قوموں کو سزا دی گئی ہے وہی روش تم اختیار کرو تو تمہیں سزا نہ دی جائے؟کیا تمہارے لیے آسمانی صحیفوں میں کوئی براء ت نامہ لکھا ہوا ہے کہ تم پر عذاب نہیں آئے گا؟
’’عنقریب ان کی جمعیت شکست کھا جائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔‘‘
یہ پیشین گوئی جو ہجرت سے پانچ سال پہلے کر دی گئی تھی‘میدانِ بدر میں حرف بحر ف پوری ہوئی۔ روایات میں آتا ہے کہ غزوئہ بدر سے پہلی رات میں حضورﷺ نے سجدے کی حالت میں رو رو کر دعا کی۔ آپؐ کا یہ سجدہ بہت طویل تھا اور دعا بھی بہت طویل تھی۔ آپؐ کی اس دعا کا لب لباب یہ تھا کہ اے اللہ !میں نے اپنی پندرہ سال کی کمائی لا کر اس میدان میں ڈال دی ہے۔ میں آخری رسول ہوں ‘میرے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔ اے اللہ! اس معرکے میں اگر یہ لوگ ہلاک ہو گئے تو پھر قیامت تک اس زمین پر تیری بندگی کرنے والا کوئی نہیں ہو گا۔ اس رات آپﷺکے عریشے پر پہرے کے لیے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مامور تھے ‘ وہ سجدے میں آپؐ کی کیفیت کا مشاہدہ کر رہے تھے اور دعا کے رقت آمیز الفاظ سن رہے تھے۔ اس دوران ایک موقع ایسا بھی آیا جب حضرت ابوبکر ؓسے رہا نہ گیا اور وہ پکار اُٹھے : حَسْبُکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ … کہ اے اللہ کے رسولﷺ! اب بس کردیجیے ۔ پھر جب حضورﷺ نے سجدے سے سر مبارک اٹھایا تو آپؐ کی زبان مبارک پر یہی الفاظ تھے: {سَیُہۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَ یُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ ﴿۴۵﴾} کہ یہ لوگ اپنی طرف سے بہت بڑا لشکر لے کر آئے ہیں۔ ان کا یہ لشکر یہاں شکست سے دوچار ہوگا اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔
(۱) صحیح البخاری‘ کتاب تفسیر القرآن‘ باب قولہ {سَیُہۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَ یُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ ﴿۴۵﴾}‘ ومتعدد مقامات‘ ح:۳۹۵۳‘ ۲۹۱۵‘۴۸۷۷۔
’’بلکہ ان کے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور قیامت بہت بڑی آفت ہے اور بہت زیادہ کڑوی ہے۔‘‘
عربی میں کڑوی چیز کو مُـرٌّ کہتے ہیں اور اَمَرُّ کے معنی ہیں بہت ہی زیادہ کڑوی ۔ سیاقِ مضمون میں اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ حق و باطل کی اس کشمکش میں پے درپے شکست مشرکین عرب کا مقدر ہے۔ عنقریب (۹ ہجری میں) ان پر ایک ایسا وقت بھی آنے والا ہے جب جزیرہ نمائے عرب کی سرزمین ان پر تنگ ہو جائے گی۔ اس وقت ان کے پاس اسلام قبول کرنے یا حدودِ عرب سے باہر چلے جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔ ایک مضبوط جمعیت اور اعلیٰ پائے کی جنگی صلاحیت کے باوجود ان کی یہ ہزیمتیں‘ نقصانِ مال و جان اور ذلت و رسوائی اللہ کے عذاب ہی کی مختلف صورتیں ہیں ۔لیکن یہ تو چھوٹے چھوٹے عذاب ہیں اور دنیا کی زندگی کی حد تک عارضی نوعیت کی تکالیف ہیں۔ جبکہ انہیں بہت بڑے اور دائمی عذاب کا سامنا تو آخرت میں کرناپڑے گا۔
’’اور ہمارا اَمر تویکبارگی ہوتا ہے‘ جیسے نگاہ کا لپک جانا۔‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ کا امر بیک دفعہ پلک جھپکنے کی طرح پورا ہوتا ہے۔ اللہ کے امر کی یہ وہی شان ہے جو قرآن میں جگہ جگہ ’’کُن فَیکون‘‘ کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے ۔یعنی وہ جب کسی چیز کو حکم دیتا ہے کہ ہو جاتو وہ اس کی مشیت کے مطابق اُسی وقت ہو جاتی ہے۔
’’تو(اے قریشِ مکہ) ہم نے تم جیسے بہت سے لوگوں کو ہلاک کیا ہے‘ تو کوئی ہے اس سے سبق حاصل کرنے والا؟‘‘
تمہاری تذکیر اور یاد دہانی کے لیے قرآن حکیم میں سابقہ اقوام کے انجام کی عبرت انگیز تفاصیل بار بار بیان کی گئی ہیں۔تاریخی حوالوں سے بھی ان اقوام کے حالات سے تم لوگ اچھی طرح واقف ہو۔ اب تم لوگ چاہو تو ان کے انجام سے سبق حاصل کر سکتے ہو۔ اس کے علاوہ بے شمار آیات آفاقی و انفسی بھی تمہارے سامنے ہیں۔ اگر تم لوگ کبھی ان آیات کا مشاہدہ دل کی آنکھ سے کرو تو وہ بھی تمہاری ہدایت کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
آیت 52
وَ کُلُّ شَیۡءٍ فَعَلُوۡہُ فِی الزُّبُرِ ﴿۵۲﴾
’’اور وہ تمام اعمال جو ان لوگوں نے کیے ہیں وہ صحیفوں میں محفوظ ہیں۔‘‘
آیت 53
وَ کُلُّ صَغِیۡرٍ وَّ کَبِیۡرٍ مُّسۡتَطَرٌ ﴿۵۳﴾
’’اور ہر ایک چھوٹی اور بڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔‘‘
قیامت کے دن یہ لوگ اپنے اعمال ناموں میں اپنے ہر چھوٹے بڑے عمل کا اندراج دیکھ کر حیران و ششدر رہ جائیں گے۔ سورۃ الکہف کی یہ آیت اس منظر کا نقشہ دکھاتی ہے جب سرمحشر ان مجرمین کے سامنے ان کے اعمال نامے کھولے جائیں گے:
’’اور رکھ دیا جائے گا اعمال نامہ چنانچہ تم دیکھو گے مجرموں کوکہ ڈر رہے ہوں گے اس سے جو کچھ اس میں ہو گااور کہیں گے: ہائے ہماری شامت! یہ کیسا اعمال نامہ ہے؟ اس نے تو نہ کسی چھوٹی چیز کو چھوڑا ہے اور نہ کسی بڑی کو‘ مگر اس کو محفوظ کر رکھا ہے۔ اور وہ اسے موجود پائیں گے جو عمل بھی انہوں نے کیا ہو گا ۔ اور آپ کا رب ظلم نہیں کرے گا کسی پر بھی۔‘‘
’’یقینا متقین باغات اور نہروں (کے ماحول) میں ہوں گے۔‘‘
یہ مقام ان خوش نصیب لوگوں کو عطا ہو گا جو اپنی دنیا کی زندگی میں اللہ سے ڈرنے والے‘ آخرت کے خیال سے ہر وقت لرزاں و ترساں رہنے والے‘ اللہ کے احکام کی پابندی کرنے والے ‘ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنے والے اور اس حوالے سے پھونک پھونک کر قدم رکھنے والے تھے۔
’’بہت اعلیٰ راستی کے مقام میں اُس بادشاہ کے پاس جو اقتدارِ مطلق کا مالک ہے۔‘‘
ان خوش قسمت لوگوں کے مقام و مرتبہ کا ذکر ایسے ہی الفاظ کے ساتھ سورئہ یونس کی اس آیت میں بھی ہوا ہے : {اَنَّ لَہُمۡ قَدَمَ صِدۡقٍ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕؔ } (آیت ۲) ’’ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بہت اونچا مرتبہ ہے ‘‘۔ یعنی ان لوگوں کو آخرت میں شہنشاہِ ارض و سما کا خصوصی قرب حاصل ہو گا۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ! اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ! اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ! آمین یاربَّ العَالَمین!!