تحریر

القمر

آیات ۹ تا ۴۲

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

9-16

قوم ِنوح علیہ السلام کا برا انجام

ویڈیو

کَذَّبَتۡ قَبۡلَہُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ فَکَذَّبُوۡا عَبۡدَنَا وَ قَالُوۡا مَجۡنُوۡنٌ وَّ ازۡدُجِرَ ﴿۹﴾ فَدَعَا رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَغۡلُوۡبٌ فَانۡتَصِرۡ ﴿۱۰﴾ فَفَتَحۡنَاۤ اَبۡوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنۡہَمِرٍ ﴿۫ۖ۱۱﴾ وَّ فَجَّرۡنَا الۡاَرۡضَ عُیُوۡنًا فَالۡتَقَی الۡمَآءُ عَلٰۤی اَمۡرٍ قَدۡ قُدِرَ ﴿ۚ۱۲﴾ وَ حَمَلۡنٰہُ عَلٰی ذَاتِ اَلۡوَاحٍ وَّ دُسُرٍ ﴿ۙ۱۳﴾ تَجۡرِیۡ بِاَعۡیُنِنَا ۚ جَزَآءً لِّمَنۡ کَانَ کُفِرَ ﴿۱۴﴾ وَ لَقَدۡ تَّرَکۡنٰہَاۤ اٰیَۃً فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ ﴿۱۵﴾ فَکَیۡفَ کَانَ عَذَابِیۡ وَ نُذُرِ ﴿۱۶﴾

آیت 9

کَذَّبَتۡ قَبۡلَہُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ

’’جھٹلایا تھا ان سے پہلے نوح کی قوم نے ‘‘

اب یہاں سے اس سورت میں انباء الرسل کا تذکرہ شروع ہو رہا ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے ‘ سورۃ النجم اور سورۃ القمر کا آپس میں جوڑے کا تعلق ہے۔ چنانچہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ سورۃ النجم میں ’’تذکیر بآلاء اللہ‘‘ (اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور نعمتوں کے ذریعے تذکیر) کا انداز تھا ‘جبکہ اس سورت میں ’’تذکیر بایام اللہ‘‘ اور انباء الرسل کا تذکرہ ہے۔ بالکل یہی تقسیم اور یہی انداز اس سے پہلے ہم سورۃ الانعام اور سورۃ الاعراف کے مطالعے کے دوران بھی دیکھ چکے ہیں۔ سورۃ الانعام میں آلاء اللہ کے ذریعے تذکیر کی گئی ہے ‘جبکہ سورۃ الاعراف میں انباء الرسل کا انداز ہے ۔ اسی طرح یہ دونوں سورتیں بھی مل کر تذکیر و انذار کے دونوں پہلوؤں کی تکمیل کرتی ہیں۔

فَکَذَّبُوۡا عَبۡدَنَا وَ قَالُوۡا مَجۡنُوۡنٌ وَّ ازۡدُجِرَ ﴿۹﴾

’’تو انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایااور کہا کہ یہ تو مجنون ہے اور اسے جھڑک دیا گیا۔‘‘

اس بدبخت قوم نے ہمارے جلیل القدر رسولؑ کو نہ صرف جھٹلا دیا بلکہ اس کے ساتھ اہانت آمیز سلوک روا رکھا۔

آیت 10

فَدَعَا رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَغۡلُوۡبٌ فَانۡتَصِرۡ ﴿۱۰﴾

’’تو اُس نے پکارا اپنے رب کو کہ میں مغلوب ہو چکا ہوں ‘اب تو اُن سے انتقام لے۔‘‘

رسولوں ؑکی مدد کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے قانون کا ذکر سورۃ الصّٰفٰت میں اس طرح آیا ہے : {وَ لَقَدۡ سَبَقَتۡ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿ۚۖ۱۷۱﴾اِنَّہُمۡ لَہُمُ الۡمَنۡصُوۡرُوۡنَ ﴿۪۱۷۲﴾وَ اِنَّ جُنۡدَنَا لَہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴿۱۷۳﴾} ’’اور ہماری یہ بات پہلے سے طے شدہ ہے اپنے ان بندوں کے لیے جن کو ہم (رسول بنا کر) بھیجتے رہے ہیں‘کہ ان کی لازماًمدد کی جائے گی۔اور یقینا ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔‘‘

آیت 11

فَفَتَحۡنَاۤ اَبۡوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنۡہَمِرٍ ﴿۫ۖ۱۱﴾

’’تو ہم نے کھول دیے آسمان کے دروازے اس پانی کے ساتھ جو مسلسل چھاجوں برستا رہا۔‘‘

آیت 12

وَّ فَجَّرۡنَا الۡاَرۡضَ عُیُوۡنًا

’’اور ہم نے زمین کوپھاڑ کر چشمے ہی چشمے کر دیا‘‘

اس وقت اس علاقے کی صورتِ حال یوں تھی کہ آسمان سے مسلسل موسلادھار بارش ہو رہی تھی اور نیچے زمین سے جابجا چشمے اس طرح پھوٹ رہے تھے کہ زمین گویاچشموں میں تبدیل ہو گئی تھی۔

فَالۡتَقَی الۡمَآءُ عَلٰۤی اَمۡرٍ قَدۡ قُدِرَ ﴿ۚ۱۲﴾

’’تو وہ سارا پانی مل گیا ایک ایسے کام کے لیے جس کا فیصلہ ہو چکا تھا۔‘‘

اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس نافرمان قوم کو غرق کرنے کا فیصلہ ہو چکا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے مطابق آسمان سے برسنے والے اور زمین سے پھوٹنے والے پانی نے مل کر ایک خوفناک سیلاب کی شکل اختیار کر لی۔

آیت 13

وَ حَمَلۡنٰہُ عَلٰی ذَاتِ اَلۡوَاحٍ وَّ دُسُرٍ ﴿ۙ۱۳﴾

’’اور ہم نے اُسے سوار کر دیا اس (کشتی) پر جو تختوں اور کیلوں سے بنی تھی۔‘‘

آیت 14

تَجۡرِیۡ بِاَعۡیُنِنَا ۚ

’’جو چل رہی تھی ہماری نگاہوں کے سامنے۔‘‘

وہ کشتی ہماری نگرانی اور حفاظت میں چل رہی تھی۔

جَزَآءً لِّمَنۡ کَانَ کُفِرَ ﴿۱۴﴾

’’یہ بدلہ تھا اُس شخص کے لیے جس کی ناقدری کی گئی تھی۔‘‘

یوں ہم نے اپنے بندے نوحؑ کی قدر افزائی فرمائی جس کی قوم نے اسے ٹھکرا دیا تھا۔ اس کشتی کے ذریعے ہم نے اسے اور اس کے اہل ایمان ساتھیوں کو سیلاب سے محفوظ رکھا۔

آیت 15

وَ لَقَدۡ تَّرَکۡنٰہَاۤ اٰیَۃً فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ ﴿۱۵﴾

’’اور ہم نے اسے چھوڑ دیا ایک نشانی کے طور پر تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا!‘‘

یعنی حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی مشیت الٰہی سے محفوظ کر لی گئی اور کسی وقت ایک بہت بڑی نشانی کے طور پر دنیا کی نظروں کے سامنے آجائے گی۔بالکل اسی طرح جس طرح زیر زمین دفن شدہ شداد کی جنت ارضی کے بارے میں اب دنیا جان چکی ہے یا بحیرۂ مردار کی تہہ میں قومِ لوطؑ کے شہروں کے کھنڈرات دریافت کر لیے گئے ہیں۔

آیت 16

فَکَیۡفَ کَانَ عَذَابِیۡ وَ نُذُرِ ﴿۱۶﴾

’’تو کیسا رہا میرا عذاب اور میرا خبردار کرنا!‘‘

17

قرآن سمجھنے کے لئے آسان کر دیا گیا ہے

ویڈیو

وَ لَقَدۡ یَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّکۡرِ فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ ﴿۱۷﴾

آیت 17

وَ لَقَدۡ یَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّکۡرِ فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ ﴿۱۷﴾

’’اور ہم نے قرآن کو آسان کر دیا ہے نصیحت اخذ کرنے کے لیے‘تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا!‘‘

یہ اس سورت کی ترجیعی (بار بار دہرائی جانے والی )آیت ہے اور اس میں ایک چیلنج کا ساانداز پایاجاتا ہے۔ مضمون کی اہمیت کے پیش نظر پوری سورت میں اس آیت کو چار مرتبہ دہرایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس اعلان کو پڑھ لینے یا سن لینے کے بعد ایک بندے پر گویا اتمامِ حجت ہو جاتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ قرآن کو سمجھنے اور ا س سے ہدایت حاصل کرنے کے لیے استطاعت بھر کوشش شروع کردے۔ خصوصی طور پر پڑھے لکھے خواتین و حضرات پر تو گویا فرض ہے کہ وہ عربی سیکھیں اور قرآن کے معانی و مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر وہ باقی علوم حاصل کر سکتے ہیں تو قرآن کا علم باقاعدہ حاصل نہ کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے ان کا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا ۔آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ اس قدر اہم اور بنیادی فرض کے بارے میں لوگوں کو بتایا ہی نہیں جاتا۔ لیلۃ القدر میں نوافل پڑھنے کی ترغیب بھی دی جاتی ہے ‘ مختلف اَذکار و وظائف کے ثواب کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے‘ لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق قرآن کے مطالب و مفاہیم کا سمجھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔

عربی سیکھنے کے حوالے سے ہمارے لیے حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ یہ ایک زندہ زبان ہے۔ دنیا کے ایک بہت بڑے علاقے میں بولی جاتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس کی اہمیت مسلمہ ہے۔ آج کوئی بین الاقوامی فورم ایسا نہیں جہاں پر عربی ترجمہ پیش کرنے کا انتظام نہ ہو۔ہم مسلمانوں کو اپنی الہامی کتاب کی زبان کو سیکھنے کے لیے یہودیوں اور ہندوؤں سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اگر یہ قومیں اپنی مردہ زبانوں (عبرانی اور سنسکرت) کو زندہ کرسکتی ہیں تو ہم اپنی زندہ زبان کو کیوں نہیں سیکھ سکتے؟ بہرحال آج نوجوان نسل میں یہ احساس اجاگر کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

18-22

قوم عاد کی بربادی

ویڈیو

کَذَّبَتۡ عَادٌ فَکَیۡفَ کَانَ عَذَابِیۡ وَ نُذُرِ ﴿۱۸﴾ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ رِیۡحًا صَرۡصَرًا فِیۡ یَوۡمِ نَحۡسٍ مُّسۡتَمِرٍّ ﴿ۙ۱۹﴾ تَنۡزِعُ النَّاسَ ۙ کَاَنَّہُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ مُّنۡقَعِرٍ ﴿۲۰﴾ فَکَیۡفَ کَانَ عَذَابِیۡ وَ نُذُرِ ﴿۲۱﴾ وَ لَقَدۡ یَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّکۡرِ فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ ﴿٪۲۲﴾

آیت 18

کَذَّبَتۡ عَادٌ فَکَیۡفَ کَانَ عَذَابِیۡ وَ نُذُرِ ﴿۱۸﴾

’’جھٹلایا تھا قومِ عاد نے بھی ‘تو کیسا رہا میرا عذاب اور میرا خبردار کرنا؟‘‘

آیت 19

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ رِیۡحًا صَرۡصَرًا

’’ہم نے ان پر مسلط کر دی ایک تند و تیز ہوا‘‘

فِیۡ یَوۡمِ نَحۡسٍ مُّسۡتَمِرٍّ ﴿ۙ۱۹﴾

’’ایک مسلسل نحوست کے دن میں۔‘‘

آیت 20

تَنۡزِعُ النَّاسَ ۙ کَاَنَّہُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ مُّنۡقَعِرٍ ﴿۲۰﴾

’’وہ لوگوں کو یوں اُکھاڑ پھینکتی تھی جیسے وہ کھجور کے تنے ہوں اُکھڑی ہوئی جڑوں والے۔‘‘

طویل القامت ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کو کھجور کے تنوں کے ساتھ تشبیہہ دی گئی ہے کہ ہوا کے اس عذاب کی وجہ سے وہ مردہ حالت میں زمین پر ایسے پڑے تھے جیسے جڑوں سے اُکھڑے ہوئے کھجوروں کے تنے پڑے ہوں۔

آیت 21

فَکَیۡفَ کَانَ عَذَابِیۡ وَ نُذُرِ ﴿۲۱﴾

’’تو کیسا رہا میرا عذاب اور میرا خبردارکرنا؟‘‘

آیت 22

وَ لَقَدۡ یَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّکۡرِ فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ ﴿٪۲۲﴾

’’اور ہم نے اس قرآن کوآسان کر دیا ہے نصیحت حاصل کرنے کے لیے ‘توہے کوئی اس سے نصیحت حاصل کرنے والا!‘‘

23-32

قوم ِثمود کی تباہی

ویڈیو

کَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِالنُّذُرِ ﴿۲۳﴾ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُہٗۤ ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیۡ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ ﴿۲۴﴾ ءَاُلۡقِیَ الذِّکۡرُ عَلَیۡہِ مِنۡۢ بَیۡنِنَا بَلۡ ہُوَ کَذَّابٌ اَشِرٌ ﴿۲۵﴾ سَیَعۡلَمُوۡنَ غَدًا مَّنِ الۡکَذَّابُ الۡاَشِرُ ﴿۲۶﴾ اِنَّا مُرۡسِلُوا النَّاقَۃِ فِتۡنَۃً لَّہُمۡ فَارۡتَقِبۡہُمۡ وَ اصۡطَبِرۡ ﴿۫۲۷﴾ وَ نَبِّئۡہُمۡ اَنَّ الۡمَآءَ قِسۡمَۃٌۢ بَیۡنَہُمۡ ۚ کُلُّ شِرۡبٍ مُّحۡتَضَرٌ ﴿۲۸﴾ فَنَادَوۡا صَاحِبَہُمۡ فَتَعَاطٰی فَعَقَرَ ﴿۲۹﴾ فَکَیۡفَ کَانَ عَذَابِیۡ وَ نُذُرِ ﴿۳۰﴾ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ صَیۡحَۃً وَّاحِدَۃً فَکَانُوۡا کَہَشِیۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ ﴿۳۱﴾ وَ لَقَدۡ یَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّکۡرِ فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ ﴿۳۲﴾

آیت 23

کَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِالنُّذُرِ ﴿۲۳﴾

’’قومِ ثمود نے بھی جھٹلایا خبردار کرنے والوں کو۔‘‘

آیت 24

فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُہٗۤ ۙ

’’انہوں نے کہا :کیا ہم اپنے میں سے ہی ایک بشر کی پیروی کریں؟‘‘

اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیۡ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ ﴿۲۴﴾

’’پھر تو یقیناہم پڑ جائیں گے گمراہی میں اور آگ میں۔‘‘

اپنے جیسے ایک انسان کی اطاعت اور پیروی کرنے کا مطلب تو یہ ہوگا کہ ہم نے اپنے آپ کو خود ہی گمراہی میں اور آگ کے گڑھے میں ڈال دیا۔ سُعُر جمع ہے سَعِیْر کی اور سَعِیْر کے معنی آگ کے ہیں۔ ایسی باتیں کرتے ہوئے وہ لوگ گویا حضرت صالح علیہ السلام ہی کے الفاظ میں آپؑ کو جواب دے رہے تھے ۔ حضرت صالح علیہ السلام ان سے کہتے تھے کہ تم لوگ اگر میری بات نہیں مانو گے تو آخرت میں جہنم کی آگ کا ایندھن بنو گے ۔جواب میں وہ کہتے تھے کہ تم ہماری ہی طرح کے ایک انسان ہو ۔ اگر ہم تمہیں اپنا پیشوا مان کر تمہارے پیچھے چل پڑیں تو یہ گمراہی کا راستہ ہوگا اور ہمارے لیے اسی دنیا میں خود کو آگ میں جھونک دینے کے مترادف ہو گا۔

آیت 25

ءَاُلۡقِیَ الذِّکۡرُ عَلَیۡہِ مِنۡۢ بَیۡنِنَا

’’کیا یہ ذکر ہمارے مابین اسی پر القا کیا گیا ہے؟‘‘

اگر ہم مان بھی لیں کہ یہ سچ کہہ رہے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے وحی کے لیے آخر اسی شخص کا انتخاب کیوں کیا؟ اس منصب کے لیے اس کی نظر ہمارے کسی بڑے سردار پر کیوں نہیں پڑی؟

بَلۡ ہُوَ کَذَّابٌ اَشِرٌ ﴿۲۵﴾

’’بلکہ یہ انتہائی جھوٹا اور شیخی خورا ہے۔‘‘

لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے اور صرف اپنی بڑائی جتلانے اور شیخی بگھارنے کے لیے اس نے یہ دعویٰ کر رکھا ہے کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے۔

آیت 26

سَیَعۡلَمُوۡنَ غَدًا مَّنِ الۡکَذَّابُ الۡاَشِرُ ﴿۲۶﴾

’’جلد ہی انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کون انتہائی جھوٹا اور شیخی خورا ہے!‘‘

آیت 27

اِنَّا مُرۡسِلُوا النَّاقَۃِ فِتۡنَۃً لَّہُمۡ فَارۡتَقِبۡہُمۡ وَ اصۡطَبِرۡ ﴿۫۲۷﴾

’’ہم بھیجے دیتے ہیں اونٹنی کوان کی آزمائش کے لیے ‘تو آپؑ انتظار کیجیے ان کے بارے میں اور صبر کیجیے۔‘‘

یہ خطاب حضرت صالح علیہ السلام سے ہے کہ ہم ان کے مطالبے کے مطابق اونٹنی بطور معجزہ ان کے سامنے لارہے ہیں ‘جو ان کے لیے بہت بڑی آزمائش بن جائے گی۔ لیکن ابھی چونکہ ان کی مہلت باقی ہے اس لیے آپ ؑصبر کے ساتھ ان کے بارے میں اللہ کے فیصلے کا انتظار کیجیے۔

آیت 28

وَ نَبِّئۡہُمۡ اَنَّ الۡمَآءَ قِسۡمَۃٌۢ بَیۡنَہُمۡ ۚ کُلُّ شِرۡبٍ مُّحۡتَضَرٌ ﴿۲۸﴾

’’اور انہیں بتا دیجیے کہ اب پانی ان کے مابین تقسیم ہو گا‘ ہر پینے کی باری پر حاضری ہو گی۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے ان کے مطالبے پر ایک چٹان سے حاملہ اونٹنی پیدا کر دی اور اس کا نام ناقۃُ اللّٰہ (اللہ کی اونٹنی)]الاعراف:۷۳ اورہود:۶۴[ رکھا۔ وہ اونٹنی جب چشمے پر پانی پینے کے لیے آتی تو اس کی ہیبت سے ان کے تمام مویشی بدک کر بھاگ جاتے تھے۔ بالآخر باہمی مشورے سے طے ہوا کہ ایک دن اونٹنی پانی پئے گی اور دوسرے دن ان کے مال مویشی پانی پینے کے لیے آئیں گے۔ چنانچہ جب وہ دوسرے دن چشمے پر آتی تو چشمے کا سارا پانی پی جاتی۔

آیت 29

فَنَادَوۡا صَاحِبَہُمۡ فَتَعَاطٰی فَعَقَرَ ﴿۲۹﴾

’’تو انہوں نے پکارا اپنے ایک ساتھی کو‘ پس اس نے ہاتھ بڑھایا اور اس کی کونچیں کاٹ دیں۔‘‘

انہوں نے اس اونٹنی سے جان چھڑانے کے لیے اپنی قوم کے ایک ایسے شخص کو تیار کیا جو ان میں سب سے زیادہ سخت دل تھا۔اس بدبخت نے ناقۃ اللہ پر حملہ کر کے اسے مار ڈالا۔

آیت 30

فَکَیۡفَ کَانَ عَذَابِیۡ وَ نُذُرِ ﴿۳۰﴾

’’پھر کیسا رہا میرا عذاب اور میرا خبردار کرنا؟‘‘

آیت 31

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ صَیۡحَۃً وَّاحِدَۃً فَکَانُوۡا کَہَشِیۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ ﴿۳۱﴾

’’ہم نے ان پر بس ایک ہی چنگھاڑ بھیجی تو وہ باڑھ لگانے والے کی روندی ہوئی باڑھ کی طرح چورا ہو کر رہ گئے۔‘‘

اگر جانوروں کا کوئی بڑا سا گلہ کسی کھیت کی باڑھ کو روندتا ہوا گزر جائے تو وہ باڑھ چورا چورا ہو جاتی ہے‘ بالکل اسی طرح وہ نافرمان لوگ بھی چورا چورا ہو کر پڑے رہ گئے۔

آیت 32

وَ لَقَدۡ یَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّکۡرِ فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ ﴿۳۲﴾

’’اور ہم نے تو اس قرآن کو آسان کر دیا ہے سمجھنے کے لیے ‘تو ہے کوئی سوچنے سمجھنے والا؟‘‘

33-40

قوم ِلوط علیہ السلام پر بدترین عذاب

ویڈیو

کَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوۡطٍۭ بِالنُّذُرِ ﴿۳۳﴾ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ؕ نَجَّیۡنٰہُمۡ بِسَحَرٍ ﴿ۙ۳۴﴾ نِّعۡمَۃً مِّنۡ عِنۡدِنَا ؕ کَذٰلِکَ نَجۡزِیۡ مَنۡ شَکَرَ ﴿۳۵﴾ وَ لَقَدۡ اَنۡذَرَہُمۡ بَطۡشَتَنَا فَتَمَارَوۡا بِالنُّذُرِ ﴿۳۶﴾ وَ لَقَدۡ رَاوَدُوۡہُ عَنۡ ضَیۡفِہٖ فَطَمَسۡنَاۤ اَعۡیُنَہُمۡ فَذُوۡقُوۡا عَذَابِیۡ وَ نُذُرِ ﴿۳۷﴾ وَ لَقَدۡ صَبَّحَہُمۡ بُکۡرَۃً عَذَابٌ مُّسۡتَقِرٌّ ﴿ۚ۳۸﴾ فَذُوۡقُوۡا عَذَابِیۡ وَ نُذُرِ ﴿۳۹﴾ وَ لَقَدۡ یَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّکۡرِ فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ ﴿٪۴۰﴾

آیت 33

کَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوۡطٍۭ بِالنُّذُرِ ﴿۳۳﴾

’’لوط ؑکی قوم نے بھی خبردا رکرنے والوں کو جھٹلایا۔‘‘

آیت 34

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ؕ نَجَّیۡنٰہُمۡ بِسَحَرٍ ﴿ۙ۳۴﴾

’’ہم نے ان پر بھیج دی ایک ایسی تیز آندھی جس میں پتھر تھے‘سوائے لوط کے گھر والوں کے ۔ان کو ہم نے نجات دے دی صبح کے وقت۔‘‘

آیت 35

نِّعۡمَۃً مِّنۡ عِنۡدِنَا ؕ کَذٰلِکَ نَجۡزِیۡ مَنۡ شَکَرَ ﴿۳۵﴾

’’وہ نعمت تھی ہمارے پاس سے۔ اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں اُس کو جو شکر کرتا ہے۔‘‘

آیت 36

وَ لَقَدۡ اَنۡذَرَہُمۡ بَطۡشَتَنَا فَتَمَارَوۡا بِالنُّذُرِ ﴿۳۶﴾

’’اور لوطؑ نے ان کو خبردار کر دیا تھا ہماری پکڑ سے ‘لیکن انہوں نے شک کیا ان چیزوں پر جن کے بارے میں انہیں خبردار کیا گیا تھا۔‘‘

وہ ہماری تنبیہات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اڑاتے رہے۔

آیت 37

وَ لَقَدۡ رَاوَدُوۡہُ عَنۡ ضَیۡفِہٖ فَطَمَسۡنَاۤ اَعۡیُنَہُمۡ

’’اور انہوں نے اس سے اس کے مہمانوں کولے جانا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھوں کو مٹا دیا‘‘

حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے بدکردار لوگ ان خوبصورت مہمان لڑکوں کو حاصل کرنا چاہتے تھے جو اصل میں فرشتے تھے ۔اس پر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو اندھا کر دیا۔ بائبل میں اس کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے کہ ان میں سے ایک فرشتے نے ان لوگوں کی طرف اپنا ہاتھ پھیلایا تووہ سب کے سب اندھے ہو گئے۔

فَذُوۡقُوۡا عَذَابِیۡ وَ نُذُرِ ﴿۳۷﴾

’’تو مزا چکھو اب میرے عذاب کا اور میرے خبردار کرنے کا۔‘‘

آیت 38

وَ لَقَدۡ صَبَّحَہُمۡ بُکۡرَۃً عَذَابٌ مُّسۡتَقِرٌّ ﴿ۚ۳۸﴾

’’اور ان پر صبح ہی صبح آ دھمکا ایک عذاب جو کہ ٹھہر چکا تھا۔‘‘

آیت 39

فَذُوۡقُوۡا عَذَابِیۡ وَ نُذُرِ ﴿۳۹﴾

’’تو چکھو مزا اب میرے عذاب کا اور میرے خبردار کرنے کا۔‘‘

آیت 40

وَ لَقَدۡ یَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّکۡرِ فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ ﴿٪۴۰﴾

’’اور ہم نے آسان کر دیا ہے قرآن سمجھنے کو ‘تو ہے کوئی سوچنے سمجھنے والا؟‘‘

یہ آیت یہاں چوتھی اور آخری مرتبہ آئی ہے۔

41-42

آلِ فرعون کی بدبختی

ویڈیو

وَ لَقَدۡ جَآءَ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ النُّذُرُ ﴿ۚ۴۱﴾ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا کُلِّہَا فَاَخَذۡنٰہُمۡ اَخۡذَ عَزِیۡزٍ مُّقۡتَدِرٍ ﴿۴۲﴾

آیت 41

وَ لَقَدۡ جَآءَ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ النُّذُرُ ﴿ۚ۴۱﴾

’’اسی طرح قومِ فرعون کے پاس بھی آئے تھے خبردار کرنے والے ۔‘‘

آیت 42

کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا کُلِّہَا

’’انہوں نے ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا‘‘

سورۂ بنی اسرائیل کی آیت ۱۰۱ میں ان نشانیوں کی تعداد نو(۹) بتائی گئی ہے: {وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسٰی تِسۡعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ } ’’اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دیں‘‘۔ان میں دو نشانیاں تو آپؑ کو ابتدا میں عطا ہوئی تھیں یعنی عصا کا اژدھا بن جانا اور ہاتھ کا چمکدار ہو جانا۔ جبکہ سات نشانیاں وہ تھیں جن کا ذکر سورۃ الاعراف کے سولہویں رکوع میں آیا ہے ۔یہ نشانیاں قومِ فرعون پروقتاً فوقتاًعذاب کی صورت میں نازل ہوتی رہیں ۔

فَاَخَذۡنٰہُمۡ اَخۡذَ عَزِیۡزٍ مُّقۡتَدِرٍ ﴿۴۲﴾

’’پھر ہم نے انہیں پکڑا ‘ ایک زبردست ‘ صاحب قدرت کا پکڑنا۔‘‘

یعنی یہ کوئی معمولی اور کمزور پکڑ نہیں تھی کہ اس سے کوئی نکل بھاگتا ‘بلکہ اُس اللہ کی پکڑ تھی جو زبردست طاقت کا مالک ہے اور کائنات کے ہر معاملے میں اسے پوری قدرت حاصل ہے۔

ان پیغمبروں اور ان کی نافرمان قوموں کے انجام کا ذکر کرنے کے بعد اب روئے سخن حضورﷺ اور کفارِ مکہ کی طرف پھیرا جا رہا ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے