تحریر

النجم

آیات ۳۱ تا ۴۲

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

31-32

کبیرہ گناہوں سے بچنے والوں کے لیے بشارت

ویڈیو

وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ۙ لِیَجۡزِیَ الَّذِیۡنَ اَسَآءُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا وَ یَجۡزِیَ الَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوۡا بِالۡحُسۡنٰی ﴿ۚ۳۱﴾ اَلَّذِیۡنَ یَجۡتَنِبُوۡنَ کَبٰٓئِرَ الۡاِثۡمِ وَ الۡفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ ؕ اِنَّ رَبَّکَ وَاسِعُ الۡمَغۡفِرَۃِ ؕ ہُوَ اَعۡلَمُ بِکُمۡ اِذۡ اَنۡشَاَکُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ وَ اِذۡ اَنۡتُمۡ اَجِنَّۃٌ فِیۡ بُطُوۡنِ اُمَّہٰتِکُمۡ ۚ فَلَا تُزَکُّوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی ٪﴿۳۲﴾

آیت 31

وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ۙ

’’اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے‘‘

آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

لِیَجۡزِیَ الَّذِیۡنَ اَسَآءُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا

’’تاکہ وہ بدلہ دے ان کو جنہوں نے برائیاں کمائی ہیں ان کے اعمال کا‘‘

وَ یَجۡزِیَ الَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوۡا بِالۡحُسۡنٰی ﴿ۚ۳۱﴾

’’اور بدلہ دے ان کو جنہوں نے نیک کام کیے ہیں اچھا۔‘‘

آیت 32

اَلَّذِیۡنَ یَجۡتَنِبُوۡنَ کَبٰٓئِرَ الۡاِثۡمِ وَ الۡفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ ؕ

’’وہ لوگ جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی سے بچتے ہیں سوائے کچھ آلودگی کے۔‘‘

یہاں پر لَـمَم سے مراد صغائر ہیں ۱

۔یہ مضمون اس سے پہلے سورۃ النساء ‘آیت ۳۱ اور سورۃ الشوریٰ ‘آیت ۳۷ میں بھی آ چکا ہے اور اب یہاں تیسری مرتبہ آیا ہے۔ مذکورہ آیات کے ضمن میں اس مضمون کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی جا چکی ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے بارے میں بہت زیادہ متفکر بھی نہ ہواجائے اور دوسروں سے درگزر سے بھی کام لیا جائے۔

یہاں اس حوالے سے میں آپ کی توجہ اس تلخ حقیقت کی طرف دلانا چاہتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں ہر شخص کسی نہ کسی دلیل کے ساتھ ایک دو کبائر کو اپنے لیے ’’جائز‘‘ قرار دے لیتا ہے (اِلا ماشاء اللہ)۔ فیکٹری کا مالک کہتا ہے کہ کیا کریں جی! سود کے بغیر تو ہمارے ملک میں کاروبار کا کوئی تصور ہی نہیں۔اب مجبوری ہے‘ کیا کریں!فیکٹری بند کر کے تو نہیں بیٹھ سکتے نا۔ سرکاری ملازم کہتا ہے کہ سکولوں کی فیسیں‘ گھر کا کرایہ‘ یوٹیلٹی بلز کہاں سے ادا کروں؟تنخواہ میں تو کسی طرح بھی گزارا ممکن نہیں۔ اب اگر رشوت نہیں لیں گے تو ظاہر ہے بھوکوں مریں گے!غرض ہر شخص نے اپنے ضمیر کے سامنے اپنی مجبوری کا رونا رو کر کبائر میں سے کم از کم ایک گناہ کو اپنا لیا ہے اور ضمیر کی تسلی کے لیے اپنی تمام تر ترجیحات صغائر سے ’’پرہیز ‘‘کی طرف منتقل کر دی ہیں۔ اس حوالے سے یہ لوگ صغائر سے متعلق مسائل بھی دریافت کرتے ہیں‘ پھر ان مسائل پر بحثیں بھی ہوتی ہیں اور ان کے بارے میں دوسروں پر اعتراضات بھی کیے جاتے ہیں ‘بلکہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑوں کی وجہ سے ’’من دیگرم تو دیگری‘‘ (میں اور ہوں‘ تم اور ہو) کے فتوے بھی صادر کیے جاتے ہیں۔ اس معاملے میں کوئی بھی اللہ کا بندہ یہ نہیں سوچتا (الا ماشاء اللہ!) کہ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ میں اس چند روزہ زندگی کی آسانیوں اور عیاشیوں کے بدلے اصل زندگی کو تو قربان نہ کروں۔ اگر ایک کام سے جائز طور پر گزارا نہیں ہوتا تو کوئی دوسرا کام کر لوں ‘یا اپنی ضروریات کو سکیڑ کر کم وسائل کے ساتھ زندگی بسر کر لوں ‘مگر حرام تونہ کھاؤں!

اِنَّ رَبَّکَ وَاسِعُ الۡمَغۡفِرَۃِ ؕ

’’یقینا آپ کا ربّ بہت ہی وسیع مغفرت والا ہے۔‘‘

اُس کا دامنِ مغفرت بہت وسیع ہے۔ اہلِ ایمان بندے اگر کبائر وفواحش سے اجتناب کرتے رہیں تو وہ ان کی چھوٹی چھوٹی لغزشوں پر گرفت نہیں کرے گا اور اپنی رحمت بے پایاں کی وجہ سے ان کو معاف فرما دے گا۔

ہُوَ اَعۡلَمُ بِکُمۡ اِذۡ اَنۡشَاَکُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ وَ اِذۡ اَنۡتُمۡ اَجِنَّۃٌ فِیۡ بُطُوۡنِ اُمَّہٰتِکُمۡ ۚ

’’ وہ تمہیں خوب جانتا ہے‘ جبکہ اُس نے تمہیں زمین سے اٹھایا اور جب کہ تم اپنی مائوں کے پیٹوں میں جنین کی شکل میں تھے۔‘‘

فَلَا تُزَکُّوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی ٪﴿۳۲﴾

’’تو تم خود کو بہت پاکباز نہ ٹھہراؤ۔ وہ اسے خوب جانتا ہے جو تقویٰ اختیار کرتا ہے۔‘‘

یعنی اپنے نفس کی پاکی کے دعوے نہ کرو‘ وہی بہتر جانتا ہے کہ واقعتا متقی کون ہے۔ دراصل اپنی پرہیزگاری کا ڈھنڈورا پیٹنے کی ضرورت اس شخص کو ہی محسوس ہوتی ہے جس کا دل ’’تھوتھا چنا باجے گھنا‘‘ کے مصداق تقویٰ سے خالی ہو ۔ جہاں تقویٰ کی روح کو نظر انداز کیا جا رہا ہو گا وہاں سارا زور تقویٰ کے مظاہر پر ہو گا۔ اندر سے حرام خوری جاری ہو گی اور اس کو چھپانے کے لیے اوپر سے چھوٹی چھوٹی دینی علامات کو اپنا کر تقویٰ کا لبادہ اوڑھ رکھاہو گا۔

(۱) عربی میں ’’لَمَم‘‘ کالفظ کسی چیز کی تھوڑی سی مقدار‘ یا اس کے خفیف سے اثر‘ یا اُس کے محض قرب‘ یا اُس کے ذرا سی دیر رہنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ چنانچہ مفسرین نے ’’لَمَم‘‘ کی تفسیر میں کئی قول نقل کیے ہیں۔ بعض کے نزدیک گناہ کے جو خیالات دل میں آئیں مگر ان پر عمل نہ کیا جائے وہ ’’لَمَم‘‘ ہیں۔ بعض نے صغیرہ گناہ مراد لیے ہیں۔ بعض نے کہا کہ آدمی جس گناہ پر اصرار نہ کرے یا اُسے اپنی عادت نہ بنا لے یا جس گناہ سے توبہ کر لے وہ مراد ہیں۔ بعض نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ آدمی عملاً کسی بڑے گناہ کے قریب تک پہنچ جائے مگر اس کا ارتکاب نہ کرے۔ (حاشیہ از مرتب)

33-35

کیا دولت مندوں سے اللہ راضی ہے؟

ویڈیو

اَفَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ تَوَلّٰی ﴿ۙ۳۳﴾ وَ اَعۡطٰی قَلِیۡلًا وَّ اَکۡدٰی ﴿۳۴﴾ اَعِنۡدَہٗ عِلۡمُ الۡغَیۡبِ فَہُوَ یَرٰی ﴿۳۵﴾

آیت 33

اَفَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ تَوَلّٰی ﴿ۙ۳۳﴾

’’پھر (اے نبیﷺ!) کیا آپ نے اُس شخص کو بھی دیکھا جس نے پیٹھ موڑ لی؟‘‘

آیت 34

وَ اَعۡطٰی قَلِیۡلًا وَّ اَکۡدٰی ﴿۳۴﴾

’’ تھوڑا سا دیااور پھر سخت ہو گیا۔‘‘

عام مفسرین کی رائے یہ ہے کہ ان آیات میں ولید بن مغیرہ کا تذکرہ ہے۔ مجھے بھی اس رائے سے اتفاق ہے۔ تاریخ میں اس شخص کے بارے میں جو معلومات ملتی ہیں ان سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ذہنی طو ر پر ایمان لانے کے قریب پہنچ چکا تھا‘مگر پھر اچانک اسے اپنی چودھراہٹ یاد آ گئی۔ حق جوئی کی خواہش پر عصبیت کا جذبہ غالب آ گیا اور یوں اس نے اپنی سوچ دوبارہ بدل لی۔ یہاں اس کے اسی رویے کا ذکر ہے۔ سورۃ المدثر میں اس شخص کا تذکرہ قدرے تفصیل سے آیا ہے۔

آیت 35

اَعِنۡدَہٗ عِلۡمُ الۡغَیۡبِ فَہُوَ یَرٰی ﴿۳۵﴾

’’کیا اُس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے!‘‘

36-42

انسان کا عمل اس کے کام آئےگا

ویڈیو

اَمۡ لَمۡ یُنَبَّاۡ بِمَا فِیۡ صُحُفِ مُوۡسٰی ﴿ۙ۳۶﴾ وَ اِبۡرٰہِیۡمَ الَّذِیۡ وَفّٰۤی ﴿ۙ۳۷﴾ اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ﴿ۙ۳۸﴾ وَ اَنۡ لَّیۡسَ لِلۡاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی ﴿ۙ۳۹﴾ وَ اَنَّ سَعۡیَہٗ سَوۡفَ یُرٰی ﴿۪۴۰﴾ ثُمَّ یُجۡزٰىہُ الۡجَزَآءَ الۡاَوۡفٰی ﴿ۙ۴۱﴾ وَ اَنَّ اِلٰی رَبِّکَ الۡمُنۡتَہٰی ﴿ۙ۴۲﴾

آیت 36

اَمۡ لَمۡ یُنَبَّاۡ بِمَا فِیۡ صُحُفِ مُوۡسٰی ﴿ۙ۳۶﴾

’’کیا اسے خبر نہیں پہنچی اس بارے میں جو کچھ موسیٰؑ کے صحیفوں میں تھا؟‘‘

آیت 37

وَ اِبۡرٰہِیۡمَ الَّذِیۡ وَفّٰۤی ﴿ۙ۳۷﴾

’’اور ابراہیم کے (صحیفوں میں تھا) جس نے وفا کی انتہا کر دی!‘‘

صحفِ ابراہیم ؑاور صحفِ موسیٰ ؑکا ذکر سورۃ الاعلیٰ میں بھی آیا ہے : {اِنَّ ہٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰی ﴿ۙ۱۸﴾ صُحُفِ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ مُوۡسٰی ﴿٪۱۹﴾} ’’یہی بات پہلے صحیفوں میں (مرقوم) ہے ‘(یعنی) ابراہیم ؑاور موسیٰ ؑکے صحیفوں میں‘‘۔ صحف موسیٰ تو عہدنامہ قدیم (Old Testament) کی پہلی پانچ کتابوں کی شکل میں آج بھی موجود ہیں‘ البتہ صحف ابراہیم ؑ کے بارے میں کسی کو کچھ خبر نہیں۔ اس حوالے سے میرا گمان ہے (واللہ اعلم) کہ ہندوؤں کے اُپنشد صحف ابراہیم ؑکی بگڑی ہوئی شکل ہے ۔ (اس موضوع پر مزید تفصیل سورۂ طٰہ کی آیت ۸ ۹ کے تحت ملاحظہ ہو۔) حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم علیہما السلام کے صحیفوں میں سے جس بات کا یہاں حوالہ دیا جا رہا ہے وہ یہ ہے:

آیت 38

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ﴿ۙ۳۸﴾

’’کہ نہیں اٹھائے گی کوئی جان کسی دوسری جان کے بوجھ کو۔‘‘

قیامت کے دن ہر شخص اپنی ذمہ داریوں کے لیے خو د جواب دہ ہو گا۔ وہاں کوئی کسی کی مدد کو نہیں آئے گا‘ جیسا کہ سورۂ مریم کی اس آیت میں واضح طور پر بتادیا گیا ہے : {وَ کُلُّہُمۡ اٰتِیۡہِ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فَرۡدًا ﴿۹۵﴾} کہ اُس دن ہر شخص اکیلا حاضر ہو گا۔ ماں باپ‘ اولاد ‘عزیز و اقارب میں سے کوئی اس کے ساتھ نہیں ہو گا۔

آیت 39

وَ اَنۡ لَّیۡسَ لِلۡاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی ﴿ۙ۳۹﴾

’’اور یہ کہ انسان کے لیے نہیں ہے مگر وہی کچھ جس کی اُس نے سعی کی ہوگی۔‘‘

انسان کو جو کچھ کرنا ہو گا اپنی محنت اور کوشش کے بل پر کرنا ہو گا‘ خواہشوں اورتمناؤں سے کچھ نہیں ہو گا۔ قبل ازیں آیت ۲۴ میں سوال کیا گیا تھا کہ’’کیا انسان کو وہی کچھ مل جائے گا جس کی وہ تمنا کرے گا؟‘‘یہ آیت گویا مذکورہ سوال کا جواب ہے۔

آیت 40

وَ اَنَّ سَعۡیَہٗ سَوۡفَ یُرٰی ﴿۪۴۰﴾

’’اور یہ کہ اُس کی سعی عنقریب اسے دکھا دی جائے گی۔‘‘

سورۃ الزلزال میں اس مضمون کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے : {فَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿۷﴾وَ مَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿۸﴾} ’’تو جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا ‘اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ بھی اسے دیکھ لے گا ۔‘‘

آیت 41

ثُمَّ یُجۡزٰىہُ الۡجَزَآءَ الۡاَوۡفٰی ﴿ۙ۴۱﴾

’’پھر اُس کو بدلہ دیا جائے گا پورا پورا بدلہ۔‘‘

آیت 42

وَ اَنَّ اِلٰی رَبِّکَ الۡمُنۡتَہٰی ﴿ۙ۴۲﴾

’’اور یہ کہ بالآخر پہنچنا تمہارے رب ہی کی طرف ہے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے