اَفَرَءَیۡتُمُ اللّٰتَ وَ الۡعُزّٰی ﴿ۙ۱۹﴾
’’توکیا تم لوگوں نے لات اور عزیٰ کے بارے میں غور کیاہے؟‘‘
اب یہاں سے مکی سورتوں کے عمومی مضامین کا آغاز ہو رہا ہے ۔
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
اَفَرَءَیۡتُمُ اللّٰتَ وَ الۡعُزّٰی ﴿ۙ۱۹﴾ وَ مَنٰوۃَ الثَّالِثَۃَ الۡاُخۡرٰی ﴿۲۰﴾ اَلَکُمُ الذَّکَرُ وَ لَہُ الۡاُنۡثٰی ﴿۲۱﴾ تِلۡکَ اِذًا قِسۡمَۃٌ ضِیۡزٰی ﴿۲۲﴾
اَفَرَءَیۡتُمُ اللّٰتَ وَ الۡعُزّٰی ﴿ۙ۱۹﴾
’’توکیا تم لوگوں نے لات اور عزیٰ کے بارے میں غور کیاہے؟‘‘
اب یہاں سے مکی سورتوں کے عمومی مضامین کا آغاز ہو رہا ہے ۔
وَ مَنٰوۃَ الثَّالِثَۃَ الۡاُخۡرٰی ﴿۲۰﴾
’’اور جو تیسری ایک اور (دیوی) منات ہے؟‘‘
یعنی کبھی تم لوگوں نے اپنی ان تین دیویوں کی حقیقت کے بارے میں بھی سوچا ہے؟
اَلَکُمُ الذَّکَرُ وَ لَہُ الۡاُنۡثٰی ﴿۲۱﴾
’’کیا تمہار ے لیے بیٹے ہیں اور اُس کے لیے بیٹیاں؟‘‘
تم اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کو تم نے الاٹ بھی کی ہیں تو بیٹیاں!
تِلۡکَ اِذًا قِسۡمَۃٌ ضِیۡزٰی ﴿۲۲﴾
’’یہ تو بہت بھونڈی تقسیم ہے !‘‘
اِنۡ ہِیَ اِلَّاۤ اَسۡمَآءٌ سَمَّیۡتُمُوۡہَاۤ اَنۡتُمۡ وَ اٰبَآؤُکُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ ؕ اِنۡ یَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَہۡوَی الۡاَنۡفُسُ ۚ وَ لَقَدۡ جَآءَہُمۡ مِّنۡ رَّبِّہِمُ الۡہُدٰی ﴿ؕ۲۳﴾ اَمۡ لِلۡاِنۡسَانِ مَا تَمَنّٰی ﴿۫ۖ۲۴﴾ فَلِلّٰہِ الۡاٰخِرَۃُ وَ الۡاُوۡلٰی ﴿٪۲۵﴾ وَ کَمۡ مِّنۡ مَّلَکٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغۡنِیۡ شَفَاعَتُہُمۡ شَیۡئًا اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ اَنۡ یَّاۡذَنَ اللّٰہُ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَرۡضٰی ﴿۲۶﴾
اِنۡ ہِیَ اِلَّاۤ اَسۡمَآءٌ سَمَّیۡتُمُوۡہَاۤ اَنۡتُمۡ وَ اٰبَآؤُکُمۡ
’’یہ کچھ نہیں ہے سوائے اس کے کہ کچھ نام ہیں جو رکھ لیے ہیں تم نے اور تمہارے آباء و اَجداد نے‘‘
مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ ؕ
’’اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نہیں اُتاری۔‘‘
اِنۡ یَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَہۡوَی الۡاَنۡفُسُ ۚ
’’یہ لوگ نہیں پیروی کر رہے مگر ظن و تخمین کی اور اپنی خواہشاتِ نفس کی۔‘‘
یعنی ان لوگوں نے اپنی خواہشاتِ نفس اور wishful thinkings کو عقائد کی شکل دے دی ہے اور کچھ فرضی نام رکھ کر ان کی پوجا شروع کر دی ہے۔
وَ لَقَدۡ جَآءَہُمۡ مِّنۡ رَّبِّہِمُ الۡہُدٰی ﴿ؕ۲۳﴾
’’جب کہ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے الہدیٰ آچکا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لیے اپنی کتاب بھی نازل کی ہے اور محمد رسول اللہﷺکو بھی بھیجا ہے۔
اَمۡ لِلۡاِنۡسَانِ مَا تَمَنّٰی ﴿۫ۖ۲۴﴾
’’کیا انسان کو وہی کچھ مل جائے گا جس کی وہ آرزو کرتا ہے؟‘‘
فَلِلّٰہِ الۡاٰخِرَۃُ وَ الۡاُوۡلٰی ﴿٪۲۵﴾
’’پس آخرت اور دنیا‘ سب اللہ ہی کے اختیارمیں ہے۔‘‘
یعنی دنیا اور آخرت سے متعلق اختیار مطلق اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔
وَ کَمۡ مِّنۡ مَّلَکٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغۡنِیۡ شَفَاعَتُہُمۡ شَیۡئًا
’’اور کتنے ہی فرشتے ہیں آسمانوں میں جن کی شفاعت کسی کام نہیں آئے گی‘‘
اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ اَنۡ یَّاۡذَنَ اللّٰہُ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَرۡضٰی ﴿۲۶﴾
’’مگر اس کے بعد کہ اللہ جس کے لیے چاہے اجازت بخشے اور (سفارش) پسند کرے ۔‘‘
آسمانوں کے فرشتے اہل ایمان کے لیے تو دعا کرتے ہیں: {یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ} (المؤمن:۷) کہ پروردگار! تو اہل ایمان کی مغفرت فرما دے۔ لیکن ان مشرکین کے لیے نہ کوئی دعا کرے گا اور نہ ہی شفاعت۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ لَیُسَمُّوۡنَ الۡمَلٰٓئِکَۃَ تَسۡمِیَۃَ الۡاُنۡثٰی ﴿۲۷﴾ وَ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ ؕ اِنۡ یَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغۡنِیۡ مِنَ الۡحَقِّ شَیۡئًا ﴿ۚ۲۸﴾
اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ لَیُسَمُّوۡنَ الۡمَلٰٓئِکَۃَ تَسۡمِیَۃَ الۡاُنۡثٰی ﴿۲۷﴾
’’یہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے انہوں نے فرشتوں کے مؤنث نام رکھ دیے ہیں ۔‘‘
اور پھر اپنے خیال کے مطابق ان ہی ناموں پر انہوں نے اپنے لیے دیویاں گھڑ لی ہیں۔
وَ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ ؕ اِنۡ یَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ ۚ
’’اوران کے پاس اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ وہ نہیں پیروی کر رہے مگر صرف گمان کی۔‘‘
یعنی فرشتوں کے مؤنث نام رکھنے اور پھر ان ناموں کے مطابق دیویاں بنا کر ان کی پوجا کرنے کے بارے میں ان کے پاس نہ تو کوئی عقلی دلیل ہے اور نہ ہی اللہ کی اتاری ہوئی کسی کتاب سے کوئی سند۔ اس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ یہ لوگ محض اپنے ظن و تخمین اور وہم و گمان کی پیروی کرر ہے ہیں۔
وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغۡنِیۡ مِنَ الۡحَقِّ شَیۡئًا ﴿ۚ۲۸﴾
’’اور ظن تو حق سے کچھ بھی مستغنی نہیں کر سکتا۔‘‘
یعنی گمان کسی درجے میں بھی حق کا بدل نہیں ہو سکتا اور وہ حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا --- حق یاتو وہ الہامی علم (revealed knowledge) ہے جو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے لوگوں تک پہنچایا ہے یا پھر انسان کا وہ اکتسابی علم (acquired knowledge) جو وہ اپنے حواس سے حاصل ہونے والی ٹھوس معلومات کو عقل کی کسوٹی پر پرکھ کر حاصل کر تا ہے ۔ جیسے کہا جاتا ہے : اَلْعِلْمُ عِلْمَانِ‘ عِلْمُ الْاَدْیَانِ وَعِلْمُ الْاَبْدَان۔ (اس موضوع پر مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو :سورۂ بنی اسرائیل کی آیت ۳۶ کی تشریح۔)اس کے علاوہ جن علوم کی بنیاد ظن و تخمین پر ہے ‘حق کے مقابلے میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔
فَاَعۡرِضۡ عَنۡ مَّنۡ تَوَلّٰی ۬ۙ عَنۡ ذِکۡرِنَا وَ لَمۡ یُرِدۡ اِلَّا الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا ﴿ؕ۲۹﴾ ذٰلِکَ مَبۡلَغُہُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ۙ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنِ اہۡتَدٰی ﴿۳۰﴾
فَاَعۡرِضۡ عَنۡ مَّنۡ تَوَلّٰی ۬ۙ عَنۡ ذِکۡرِنَا وَ لَمۡ یُرِدۡ اِلَّا الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا ﴿ؕ۲۹﴾
’’تو (اے نبیﷺ!) آپ اعراض کر لیجیے ہر اُس شخص سے جس نے روگردانی کی ہے ہمارے ذکر سے‘ اور دنیا کی زندگی کے سوا جسے کچھ مطلوب نہیں ہے۔‘‘
آپﷺ ہر ایسے شخص کو نظر انداز کر دیں اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں جو صرف اور صرف دنیا کا طالب ہے اور اپنے اُس مطلوب کی دھن میں اس نے ہماری یاد سے پیٹھ موڑ لی ہے۔ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ اس حوالے سے اللہ تعالیٰ کا قانون اٹل ہے جس کی وضاحت سورۂ بنی اسرائیل کی ان آیات میں کر دی گئی ہے :
دوسرے مقام کی آیتمَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الۡعَاجِلَۃَ عَجَّلۡنَا لَہٗ فِیۡہَا مَا نَشَآءُ لِمَنۡ نُّرِیۡدُ ثُمَّ جَعَلۡنَا لَہٗ جَہَنَّمَ ۚ یَصۡلٰىہَا مَذۡمُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا ﴿۱۸﴾وَ مَنۡ اَرَادَ الۡاٰخِرَۃَ وَ سَعٰی لَہَا سَعۡیَہَا وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ کَانَ سَعۡیُہُمۡ مَّشۡکُوۡرًا ﴿۱۹﴾
’’جو کوئی عاجلہ (دنیا)کا طلب گار بنتا ہے ہم اس کو جلدی دے دیتے ہیں اس میں سے جو کچھ ہم چاہتے ہیں‘جس کے لیے چاہتے ہیں‘پھر ہم مقرر کر دیتے ہیں اس کے لیے جہنم۔ وہ داخل ہو گا اس میں ملامت زدہ‘دھتکارا ہوا۔ اور جو کوئی آخرت کا طلب گارہو‘ اور اس کے لیے اس کے شایانِ شان کوشش کرے اور وہ مؤمن بھی ہوتو یہی لوگ ہوں گے جن کی کوشش کی قدر افزائی کی جائے گی۔‘‘
ذٰلِکَ مَبۡلَغُہُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ ؕ
’’یہ ہے ان کے علم کی رسائی کی حد۔‘‘
ان کے علم کی رسائی بس دنیا تک ہی ہے اور وہ اسی میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ علم آخرت ان کے چھوٹے اور محدود ذہنوں کی پہنچ میں ہے ہی نہیں ۔حالانکہ انسان کا ذہنی ظرف ذرا بھی وسیع ہو تو وہ اپنے غور و فکر سے اس نتیجے پر پہنچ سکتا ہے کہ انسان جو کہ اشرف المخلوقات ہے اس کی زندگی اتنی بے وقعت نہیں ہو سکتی کہ اسے ’’چاردن‘‘کی زندگی کا عنوان دے کر فضول خواہشات کی نذر کر دیا جائے ۔بقول بہادر شاہ ظفر ؔ: ؎
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے‘ دو انتظار میں!
بہرحال یہ بات عقل اور منطق ہی کے خلاف ہے کہ انسان جیسی اشرف المخلوقات اور مسجودِ ملائک ہستی کی زندگی محض تیس‘ چالیس یا پچاس برس کے دورانیے تک ہی محدود ہو۔اس حوالے سے علامہ اقبال کا فلسفہ بہت بصیرت افروز اور مبنی بر حقیقت ہے۔ علامہ کے نزدیک انسانی زندگی وقت کے ایسے جاودانی تسلسل کا نام ہے جسے پیمانہ امرو ز و فردا سے ناپنا ممکن ہی نہیں: ؎
تو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں ‘ پیہم دواں‘ ہر دم جواں ہے زندگی!
اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ۙ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنِ اہۡتَدٰی ﴿۳۰﴾
’’یقینا آپ(ﷺ) کا ربّ خوب جانتا ہے ان کو بھی جو اُس کی راہ سے بھٹک گئے ہیں اور وہ خوب جانتا ہے ان کو بھی جو ہدایت پر ہیں۔‘‘