وَ اَنَّہٗ ہُوَ اَضۡحَکَ وَ اَبۡکٰی ﴿ۙ۴۳﴾
’’اور یہ کہ وہی ہے جو ہنساتا بھی ہے اور رلاتا بھی ہے۔‘‘
یعنی اچھے برے حالات‘خوشی ‘ غم ‘تکلیف‘ بیماری سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
وَ اَنَّہٗ ہُوَ اَضۡحَکَ وَ اَبۡکٰی ﴿ۙ۴۳﴾ وَ اَنَّہٗ ہُوَ اَمَاتَ وَ اَحۡیَا ﴿ۙ۴۴﴾ وَ اَنَّہٗ خَلَقَ الزَّوۡجَیۡنِ الذَّکَرَ وَ الۡاُنۡثٰی ﴿ۙ۴۵﴾ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ اِذَا تُمۡنٰی ﴿۪۴۶﴾ وَ اَنَّ عَلَیۡہِ النَّشۡاَۃَ الۡاُخۡرٰی ﴿ۙ۴۷﴾ وَ اَنَّہٗ ہُوَ اَغۡنٰی وَ اَقۡنٰی ﴿ۙ۴۸﴾ وَ اَنَّہٗ ہُوَ رَبُّ الشِّعۡرٰی ﴿ۙ۴۹﴾
وَ اَنَّہٗ ہُوَ اَضۡحَکَ وَ اَبۡکٰی ﴿ۙ۴۳﴾
’’اور یہ کہ وہی ہے جو ہنساتا بھی ہے اور رلاتا بھی ہے۔‘‘
یعنی اچھے برے حالات‘خوشی ‘ غم ‘تکلیف‘ بیماری سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔
وَ اَنَّہٗ ہُوَ اَمَاتَ وَ اَحۡیَا ﴿ۙ۴۴﴾
’’اور یہ کہ وہی ہے جو مارتا بھی ہے اور زندہ بھی رکھتا ہے۔‘‘
وَ اَنَّہٗ خَلَقَ الزَّوۡجَیۡنِ الذَّکَرَ وَ الۡاُنۡثٰی ﴿ۙ۴۵﴾مِنۡ نُّطۡفَۃٍ اِذَا تُمۡنٰی ﴿۪۴۶﴾
’’اور یہ کہ وہی ہے جس نے پیدا کیے ہیں جوڑے نر اور مادہ کے ‘ایک ہی بوندسے جبکہ وہ ٹپکائی جاتی ہے۔‘‘
وَ اَنَّ عَلَیۡہِ النَّشۡاَۃَ الۡاُخۡرٰی ﴿ۙ۴۷﴾
’’اور یہ کہ اُسی کے ذمے ہے دوبارہ اٹھانا۔‘‘
یہاں یہ نکتہ بہت اہم اور لائق توجہ ہے کہ انسانوں کو دوبارہ اٹھانا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے۔گویا انسانوں کو دوبارہ زندہ کر کے ان کا احتساب کرنا اللہ کے انصاف کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر وہ انسانوں کو دوبارہ نہیں اٹھاتا اور ان کو ان کے اچھے برے اعمال کا بدلہ نہیں دیتا تو نیکوکار لوگوں کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہو جائے گا ۔ اس لیے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی بھی آزمائشوں اور مصیبتوں میں گزاری ۔ ساری زندگی وہ پھونک پھونک کر قدم رکھتے رہے‘ حرام خوریوں سے بچنے کے لیے روکھی سوکھی کھا کر گزارا کرتے رہے۔ اگر انہیں ان کی محنتوں اور قربانیوں کا صلہ نہیں ملتا تو اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو گا؟
وَ اَنَّہٗ ہُوَ اَغۡنٰی وَ اَقۡنٰی ﴿ۙ۴۸﴾
’’اور یہ کہ اُسی نے دولت دی اور اسی نے خزانہ دیا۔‘‘
اَقْنٰی چونکہ باب افعال سے ہے ‘ جس کی خصوصیات میں ’’سلب ماخذ‘‘ بھی ہے‘ چنانچہ اس کا ترجمہ اَفْقَرَ بھی کیا گیا ہے۔ یعنی اُس نے کسی کو غنی اور کسی کو فقیر بنا دیا۔
وَ اَنَّہٗ ہُوَ رَبُّ الشِّعۡرٰی ﴿ۙ۴۹﴾
’’اور یہ کہ وہی شِعریٰ کا بھی ربّ ہے۔‘‘
الشِّعریٰ وہ ستارہ تھا جس کی مختلف اقوام میں پوجا کی جاتی تھی ۔یہ ستارہ اس حیثیت سے اہل عرب کے ہاں بھی معروف تھا ۔اس لیے انہیں بتایا گیا کہ جسے تم لوگ الٰہ مانتے ہو اس کا رب بھی اللہ ہی ہے ۔تمہاری قسمت کے فیصلے یہ ستارہ نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے۔
وَ اَنَّہٗۤ اَہۡلَکَ عَادَۨ ا الۡاُوۡلٰی ﴿ۙ۵۰﴾ وَ ثَمُوۡدَا۠ فَمَاۤ اَبۡقٰی ﴿ۙ۵۱﴾ وَ قَوۡمَ نُوۡحٍ مِّنۡ قَبۡلُ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا ہُمۡ اَظۡلَمَ وَ اَطۡغٰی ﴿ؕ۵۲﴾ وَ الۡمُؤۡتَفِکَۃَ اَہۡوٰی ﴿ۙ۵۳﴾ فَغَشّٰہَا مَا غَشّٰی ﴿ۚ۵۴﴾ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکَ تَتَمَارٰی ﴿۵۵﴾
وَ اَنَّہٗۤ اَہۡلَکَ عَادَۨ ا الۡاُوۡلٰی ﴿ۙ۵۰﴾
’’اور یہ کہ اُسی نے ہلاک کیا تھا عادِ اولیٰ کو۔‘‘
’’عادِ اولیٰ‘‘ سے مراد قدیم قومِ عاد ہے‘ جس کی طرف حضرت ہود علیہ السلام مبعوث کیے گئے۔ یہ قوم اَحقاف کے علاقے میں آباد ہوئی۔ اس قوم پر جب عذاب بھیجنے کا فیصلہ ہوا تو حضرت ہود ؑاپنے اہل ایمان ساتھیوں کے ہمراہ اس علاقے سے ہجرت کر گئے۔ ان لوگوں کی نسل سے جو قوم وجود میں آئی وہ ’’ثمود‘‘ کہلائی۔ لیکن وہ لوگ چونکہ قومِ عاد ہی کی نسل سے تھے اس لیے انہیں ’’عادِ ثانیہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
وَ ثَمُوۡدَا۠ فَمَاۤ اَبۡقٰی ﴿ۙ۵۱﴾
’’اور ثمود کو بھی ‘ پس کسی کو باقی نہ چھوڑا۔‘‘
وَ قَوۡمَ نُوۡحٍ مِّنۡ قَبۡلُ ؕ
’’اور قومِ نوح ؑکوبھی (ہلاک کیا) ان سے پہلے۔‘‘
اِنَّہُمۡ کَانُوۡا ہُمۡ اَظۡلَمَ وَ اَطۡغٰی ﴿ؕ۵۲﴾
’’یقینا وہ تو ان سے بڑھ کر ظالم اور ان سے بڑھ کر سرکش تھے۔‘‘
وَ الۡمُؤۡتَفِکَۃَ اَہۡوٰی ﴿ۙ۵۳﴾
’’اور (اُسی نے) الٹی ہوئی بستیوں کو پٹخ دیا۔‘‘
اس سے سدوم اور عامورہ یعنی حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی بستیاں مراد ہیں۔
فَغَشّٰہَا مَا غَشّٰی ﴿ۚ۵۴﴾
’’اور پھر اس کو ڈھانپ لیاجس چیز نے ڈھانپ لیا۔‘‘
پہلے شدید زلزلے نے ان آبادیوں کو تلپٹ کیا اور اس کے بعد ان پر کنکروں کی بارش ہوئی۔ یہاں اس آیت میں اس بارش کی طرف اشارہ ہے یعنی کنکروں کی بارش نے اس علاقے کو ڈھانپ لیا۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکَ تَتَمَارٰی ﴿۵۵﴾
’’تو تم اپنے رب کی کون کون سی قدرتو ں کے بارے میں شک کرو گے؟‘‘
ہٰذَا نَذِیۡرٌ مِّنَ النُّذُرِ الۡاُوۡلٰی ﴿۵۶﴾ اَزِفَتِ الۡاٰزِفَۃُ ﴿ۚ۵۷﴾ لَیۡسَ لَہَا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ کَاشِفَۃٌ ﴿ؕ۵۸﴾ اَفَمِنۡ ہٰذَا الۡحَدِیۡثِ تَعۡجَبُوۡنَ ﴿ۙ۵۹﴾ وَ تَضۡحَکُوۡنَ وَ لَا تَبۡکُوۡنَ ﴿ۙ۶۰﴾ وَ اَنۡتُمۡ سٰمِدُوۡنَ ﴿۶۱﴾ فَاسۡجُدُوۡا لِلّٰہِ وَ اعۡبُدُوۡا ﴿٪ٛ۶۲﴾
ہٰذَا نَذِیۡرٌ مِّنَ النُّذُرِ الۡاُوۡلٰی ﴿۵۶﴾
’’یہ (محمدﷺ) ایک خبردار کرنے والے ہیں‘ پہلے خبردار کرنے والوں (کے زمرے) میں سے۔‘‘
نذیر کے معنی ہیں :ڈرانے والا ‘ آگاہ کرنے والا‘ خبردار (warn) کرنے والا ‘اور النُّذُر اسی کی جمع ہے۔
اَزِفَتِ الۡاٰزِفَۃُ ﴿ۚ۵۷﴾
’’قریب آ چکی ہے وہ آنے والی۔‘‘
لَیۡسَ لَہَا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ کَاشِفَۃٌ ﴿ؕ۵۸﴾
’’نہیں ہے اس کو اللہ کے سوا کوئی کھولنے والا۔‘‘
قیامت برپا کرنے کا اختیار صرف اللہ ہی کے پاس ہے ۔ گویا اس وقت قیامت کسی کشتی کی طرح ’’لنگر انداز‘‘ ہے‘ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس کا لنگر اٹھا کر اسے برپا کر دے گا۔ پھر یہ کہ اس کے وقوع کا علم بھی اللہ ہی کے پاس ہے۔ اللہ کے سوا کوئی کھول کر نہیں بتا سکتا کہ قیامت کب آئے گی۔ اور جب وہ وقت معین آ جائے گا تو اللہ کے سوا کوئی اس کو ٹالنے اور دور کرنے پر قادر نہ ہو گا۔
اَفَمِنۡ ہٰذَا الۡحَدِیۡثِ تَعۡجَبُوۡنَ ﴿ۙ۵۹﴾
’’تو کیا تم لوگوں کو اس کلام کے بارے میں تعجب ہورہا ہے؟‘‘
ہٰذَا الْحَدِیْثِ سے مراد یہاں قرآن مجید ہے‘ یعنی کیا تم لوگ قرآن کے بارے میں تعجب کر رہے ہو؟
وَ تَضۡحَکُوۡنَ وَ لَا تَبۡکُوۡنَ ﴿ۙ۶۰﴾
’’اورتم ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو!‘‘
وَ اَنۡتُمۡ سٰمِدُوۡنَ ﴿۶۱﴾
’’اور تم خوش فعلیاں کر رہے ہو!‘‘
فَاسۡجُدُوۡا لِلّٰہِ وَ اعۡبُدُوۡا ﴿٪ٛ۶۲﴾
’’پس سجدہ کرو اللہ کے لیے اور اُسی کی بندگی کرو!‘‘
روایات میں آتا ہے کہ حضورﷺ نے پہلی مرتبہ یہ سورت حرمِ کعبہ میں قریش کے ایک بڑے مجمع کے سامنے تلاوت فرمائی تھی۔ اس مجمع میں اہل ایمان بھی تھے اور مشرکین کے خواص و عوام بھی۔ اس کلام کی شدتِ تاثیر کا یہ عالم تھا کہ جب آپﷺ نے اسے سنانا شروع کیا تو مخالفین کو اس پر شور مچانے کی ہمت نہ ہوئی اور حضورﷺ نے جب یہ آخری آیت تلاوت فرمانے کے بعد سجدہ کیا تو آپؐ کے ساتھ مسلم و کافر سبھی سجدہ میں گرگئے۔ بعد میں مشرکین کو سخت پریشانی لاحق ہوئی کہ یہ ہم نے کیا کیا۔ آخر کار انہوں نے اپنے سجدے کے جواز میں یہ بات بتائی کہ ہم نے تو لات‘ عزیٰ اور منات کے ذکر (آیت ۱۹ اور۲۰) کے بعد محمد(ﷺ) کی زبان سے یہ کلمات بھی سنے تھے : تلک الغُرانِقَۃ العُلٰی‘ وان شفَاعتُھُن لتُرٰجی (یہ بلند مرتبہ دیویاں ہیں‘ اور ان کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے)۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کلمات سننے کے بعد ہم نے سمجھا کہ محمد (ﷺ) نے ہماری دیویوں کو بھی تسلیم کر لیا ہے ‘ لہٰذا اب ان کے ساتھ ہماراجھگڑا ختم ہو گیا ہے۔حالانکہ اس پوری سورت کے سیاق و سباق میں ان فقروں کی کوئی جگہ ممکن ہی نہیں جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ ان کے کانوں نے سنے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مشرکین کے سجدہ میں گر جانے کا واقعہ کلامِ الٰہی کی غیر معمولی تاثیر اور خصوصی طور پر اس سورت کے پرجلال اندازِ خطابت کے باعث پیش آیا تھا۔ ہمارا معاملہ تو یہ ہے کہ ہم کلام اللہ کے ادبی جمال‘ اس کی فصاحت و بلاغت کی لطافتوں اور خطابت کی چاشنی کا صحیح ادراک نہیں کر سکتے۔ مگر اس کے اوّلین مخاطبین تو اہل زبان تھے۔ پھر نزولِ قرآن کے زمانے کے عرب معاشرے میں سخن گوئی اور سخن فہمی کا مجموعی ذوق بھی عروج پر تھا۔ وہ لوگ قرآن مجید کے ادبی و لسانی محاسن کو خوب سمجھتے تھے ‘بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کے بڑے بڑے شعراء ‘ ادباء اور خطباء قرآن مجید کے اعجازِ بیان کے سامنے سرنگوں ہو چکے تھے۔ ظاہرہے اچھے کلام کی تاثیر سے تو کسی کو بھی انکار نہیں۔ خودحضورﷺ کا فرمان ہے : حدیث((اِنَّ مِنَ الشِّعْرِ لَحِکْمَۃً))۱’’یقینا بہت سے اشعار حکمت پرمبنی ہوتے ہیں‘‘۔نیز فرمایا: حدیث((اِنَّ مِنَ الْبَیَانِ لَسِحْرًا))۲’’یقینابہت سے خطبات جادو کی سی تاثیر رکھتے ہیں‘‘۔ زورِ خطابت اور تاثیر کے اعتبار سے اگرچہ قرآن مجید کی ہر آیت ہی لاجوا ب ہے مگر سورۃ النجم اس حوالے سے خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔
مندرجہ بالا حقائق کے تناظر میں مذکورہ واقعہ کی توجیہہ یہ ہے کہ جب حضورﷺ نے اس سورت کی تلاوت شروع کی تو تمام حاضرین مجمع دم بخود ہو کر سننے میں محو ہو گئے ۔ حضورﷺ کی زبان مبارک سے اداہونے والا ایک ایک لفظ اور ایک ا یک فقرہ ان کی روحوں کی گہرائیوں تک اترتا گیا۔ خصوصاً مشرکین کی کیفیت تو ایسی تھی کہ تلاوت کے اختتام تک وہ گویا مبہوت ہو چکے تھے ۔ چنانچہ اختتامِ تلاوت پرجب حضورﷺ اور مجمع میں موجود اہلِ ایمان سجدہ میں گئے تو {فَاسۡجُدُوۡا لِلّٰہِ } کے حکم کی تاثیر ‘ ہیبت اور جلالت کی تاب نہ لاتے ہوئے سب کے سب مشرکین بھی بے اختیار سجدے میں گر گئے ۔گویا وہ اسی طرح سجدے میں گرا دیے گئے (واللہ اعلم!) جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں آئے ہوئے جادوگر سجدوں میں گرا دیے گئے تھے : {وَ اُلۡقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیۡنَ ﴿ۚۖ۱۲۰﴾} (الاعراف) ۔واضح رہے کہ سورۃ الاعراف کی اس آیت میں فعل مجہول (اُ لْــقِیَ) استعمال ہوا ہے۔ یعنی ایسے لگا جیسے انہیں کسی نے پکڑ کر سجدے میں گرا دیاہو۔