وَ النَّجۡمِ اِذَا ہَوٰی ۙ﴿۱﴾
’’قسم ہے ستارے کی جبکہ وہ گرتا ہے۔‘‘
ھَوٰی یَھْوِیْ ھَوِیًّا کا اصل معنی ہے اوپر سے نیچے گرنا۔ یہاں اس سے ستاروں کا اُفق سے غائب ہونا ‘ ڈوب جانا یا فنا ہو جانا مراد ہو سکتا ہے۔(اس پر قدرے تفصیلی بحث سورۃ الواقعہ میں ’’مَوَاقِعِ النُّجُوْم‘‘ کے ضمن میں آئے گی۔) الْھَوِیَّۃ گہرے کنویں کو اور ھَاوِیَۃ دوزخ کو کہا جاتا ہے۔ جبکہ اسی مادہ سے ھَوِیَ یَھْوٰی ھَوًی کا معنی ہے خواہش کرنا۔ یہ لفظ (الھَوٰی) آگے آیت ۳ میں آ رہا ہے۔
مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمۡ وَ مَا غَوٰی ۚ﴿۲﴾
’’(اے لوگو!) تمہارے یہ ساتھی نہ تو بھٹکے ہیں اور نہ ہی بہکے ہیں۔‘‘
قرآن حکیم میں قسم بالعموم شہادت کے لیے آتی ہے۔ یہاں ستاروں کے غروب یا سقوط کی قسم کھا کر قریش کو مخاطب کر کے بتایا جا رہا ہے کہ تمہارے یہ ساتھی (محمد رسول اللہﷺ) نہ تو غلط فہمی کی بنا پر راستہ سے بہکے ہیں اور نہ اپنے قصد و اختیار سے جان بوجھ کر غلط راستے پر چلے ہیں۔
اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی ۙ﴿۴﴾
’’یہ تو صرف وحی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔‘‘
اگلی آیات میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کا ذکر ہے جنہوں نے نبی مکرمﷺ کو اس کلام کی تعلیم دی۔ یہ مضمون دوسری مرتبہ ۳۰ویں پارے کی سورۃ التَّکوِیر میں آیا ہے۔ دونوں عبارتوں میں ایک خوبصورت مماثلت یہ ہے کہ وہاں بھی حضورﷺ کا ذکر صَاحِبُـکُمْ کے لفظ سے کیا گیا ہے:
دوسرے مقام کی آیتوَ مَا صَاحِبُکُمۡ بِمَجۡنُوۡنٍ ﴿ۚ۲۲﴾وَ لَقَدۡ رَاٰہُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِیۡنِ ﴿ۚ۲۳﴾وَ مَا ہُوَ عَلَی الۡغَیۡبِ بِضَنِیۡنٍ ﴿ۚ۲۴﴾وَ مَا ہُوَ بِقَوۡلِ شَیۡطٰنٍ رَّجِیۡمٍ ﴿ۙ۲۵﴾
(التکویر)
’’اور (مکے والو) تمہارے یہ رفیق دیوانے نہیں ہیں۔ بے شک انہوں نے اس (جبرائیل) کو کھلے اُفق پر دیکھا ہے۔اور وہ غیب کے معاملے میں بخیل نہیں ہیں۔ اور یہ ہرگز کسی شیطان رجیم کا قول نہیں ہے۔‘‘
حضرت جبرائیل علیہ السلام جب وحی لے کر آتے تو وہ حضورﷺ کو نظر نہیں آتے تھے اور نہ ہی وحی کو آپؐ اپنے کانوں سے سن سکتے تھے ۔ فرشتے اور وحی دونوں کا تعلق چونکہ عالم امر سے ہے اس لیے ان کا نزول بھی آپؐ کی شخصیت کے اس حصے پر ہوتا تھا جو عالم امر سے متعلق تھا‘ یعنی آپؐ کی روحِ مبارک ۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیں کہ انسانی روح کا مسکن چونکہ قلب انسانی ہے اس لیے وحی کا نزول براہِ راست حضورﷺ کے قلب مبارک پر ہوتا تھا : ؎
نغمہ وہی ہے نغمہ کہ جس کو
رُوح سنے اور روح سنائے!
تاہم حضرت جبرائیل علیہ السلام کا حضورﷺ کے پاس انسانی شکل میں آنا بھی ثابت ہے۔ روایات میں یہ وضاحت بھی ملتی ہے کہ حضرت جبرائیل ؑجب انسانی شکل میں آپؐ کے پاس آتے تو عموماً خوبصورت نوجوان صحابی حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی شکل میں آتے جو بہت عظیم انسان تھے۔ اس حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ انسانی شکل میں حضرت جبرائیل ؑکی حضورﷺ سے جو گفتگو ہوتی وہ ’’وحی متلو‘‘ یعنی قرآن میں شامل نہیں ہے۔مثلاً ’’حدیث جبریل ؑ‘‘میں حضرت جبرائیل ؑکے ساتھ حضورﷺ کے مکالمے کی تفصیل درج ہے۔ اس موقع پر حضرت جبرائیل ؑانسانی شکل میں حضورﷺ کے پاس آئے اور آپؐ سے دین کے بارے میں چند بنیادی سوالات پوچھے۔ آپؐ نے ان سوالات کے جوابات دیے ۔ ان کے چلے جانے کے بعد آپؐ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بتایا کہ یہ جبرائیل ؑتھے جو تم لوگوں کو تمہارا دین سکھانے کے لیے آئے تھے۔ اس حدیث کا مضمون اس قدر اہم ہے کہ محدثین نے اسے ’’اُمُّ السُّنَّہ‘‘ قرار دیا ہے‘ لیکن اس حدیث کے مندرجات قرآن میں شامل نہیں۔
البتہ حضورﷺ نے حضرت جبرائیل ؑکو دو مرتبہ ان کی اصلی شکل میں بھی دیکھا ہے۔ پہلی مرتبہ تو آپﷺ نے انہیں آغازِ نبوت کے زمانے میں دیکھا تھا۔ یہ واقعہ ’’فترتِ وحی‘‘ کے دنوں میں پیش آیا۔(پہلی وحی کے بعد وحی کا سلسلہ کچھ عرصہ کے لیے منقطع رہا‘ اس وقفے کو’’ فترتِ وحی‘‘ کہا جاتا ہے۔) ایک دن آپﷺ غارِ حرا سے اُتر رہے تھے تو آپؐ نے ایک آواز سنی ’’یامحمد!‘‘ آپؐ نے اِدھر اُدھر دیکھا تو کوئی بھی نہیں تھا۔ آپؐ نے سمجھا کہ شاید مجھے دھوکہ ہوا ہے ‘لیکن دوسرے ہی لمحے وہی آواز پھر سنائی دی۔ اس مرتبہ بھی آپؐ کو جب کوئی انسان دکھائی نہ دیا تو آپؐ کو کچھ خوف محسوس ہوا۔ تیسری مرتبہ جب آپؐ نے پھروہی آواز سنی تو آپؐ نے آسمان کی طرف دیکھا۔ اوپر دیکھنے سے آپؐ کو حضرت جبرائیل ؑاپنی اصلی ملکوتی شکل میں اس طرح نظر آئے کہ پورا اُفق بھر ا ہوا تھا۔
دوسری مرتبہ آپﷺ نے حضرت جبرائیل ؑکو معراج کے موقع پر سدرۃ المنتہیٰ کے قریب دیکھا۔ آئندہ آیات میں اسی مشاہدے کا ذکر ہے ۔ حضرت جبرائیل ؑجب حضورﷺ کو سفر معراج پر لے جانے کے لیے آئے تو وہ انسانی شکل میں تھے اور آپ ؑ کے لیے جو سواری (براق) وہ لے کر آئے تھے وہ بھی کوئی محسوس و مرئی قسم کی مخلوق تھی۔ لیکن جب آپؐ ساتویں آسمان پر سدرۃ المنتہیٰ کے پاس پہنچے تو وہاں حضرت جبرائیل ؑاصل ملکوتی شکل میں ظاہر ہوئے ۔ اس مقام پر انہوں نے آگے جانے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں یہاں سے آگے بڑھوں گا تو میرے پر جل جائیں گے: ؎
اگر یک سرِ موئے برتر قدم فروغِ تجلی بسوزد پرم
اس مضمون کے حوالے سے یہاں سمجھنے کا اصل نکتہ یہ ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کی اصل ملکوتی شکل میں حضورﷺ سے ملاقات کرانے اور پھر اس ملاقات کا قرآن مجید میں ذکر کرنے کا مقصد نزولِ وحی کے سلسلے کے درمیانی رابطے (link) کی سند فراہم کرنا ہے۔ اس نکتہ لطیف کو ’’اصولِ حدیث‘‘ کے حوالے سے سمجھنا چاہیے۔ محدثین نے احادیث کی صحت (authenticity) کی تحقیق کے لیے جو اصول وضع کیے ہیں ان میں ایک بنیادی اصول یہ بھی ہے کہ جس شخص کی کسی دوسری شخصیت سے روایت منقول ہے اس کی اس شخصیت سے شعور کی عمر اور شعور کی کیفیت میں ملاقات بھی ثابت ہونا ضروری ہے ۔ اگر ایسی ملاقات ثابت نہ ہو سکے تو متعلقہ راوی کی روایت قابل قبول نہیں سمجھی جاتی۔ مثلاً اگر ایک تابعی ؒؒکی کسی صحابیؓ سے کوئی روایت منقول ہے مگر حقائق ثابت کرتے ہیں کہ جب وہ صحابیؓ فوت ہوئے تو متعلقہ تابعی کی عمر صرف چھ سال تھی ‘یعنی اس وقت ان کی عمر ایسی نہ تھی کہ وہ بات کو سمجھ کر کسی دوسرے کو بتا سکتے ‘تو ایسی صورت میں متعلقہ تابعی کی وہ روایت محدثین کے لیے قابل قبول نہیں ہو گی۔چنانچہ حدیث رسولؐ کی صحت (authenticity) کے لیے اگر متعلقہ راویوں کی ملاقات کا ثابت ہونا ضروری ہے تو ایسا ہی ثبوت اللہ تعالیٰ کی حدیث (اللہ تعالیٰ نے قرآن کو سورۃ الزمر کی آیت ۲۳ میں اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ قراردیا ہے) کی روایت کے حوالے سے بھی دستیاب ہونا چاہیے --- چنانچہ قرآن مجید کی روایت کی تصدیق و توثیق یوں ہو گی: قرآن کیا ہے؟یہ اللہ کا کلام ہے۔ اللہ سے اس کا کلام کس نے سنا؟ جبرائیل ؑنے سنا۔ جبرائیل ؑسے کس نے سنا؟ جبرائیل ؑسے محمد(ﷺ) نے سنا ۔تو کیا جبرائیل ؑاور محمد(ﷺ) کی ملاقات ثابت ہے؟
جی ہاں! ان کے درمیان دو مرتبہ کی ملاقات قرآن سے ثابت ہے --- چنانچہ وحی کی ’’روایت‘‘ کا درمیانی رابطہ (link) ثابت کرنے کے لیے حضورﷺ کی حضرت جبرائیل ؑسے اصل ملکوتی شکل میں ملاقات کی ’’سند‘‘ انتہائی اہم ہے جو یہ آیات فراہم کر رہی ہیں۔