بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

النجم

آیات ۱ تا ۱۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

مکی مدنی سورتوں کے چھٹے گروپ کی تین سورتوں کا ہم مطالعہ کر چکے ہیں۔ان میں سورۂ قٓ منفرد ہے جبکہ سورۃ الذاریات اور سورۃ الطور جوڑے کی شکل میں ہیں۔ ان میں سے سورۃ الذاریات میں انباء الرسل کے انداز میں مختلف پیغمبروں کا ذکر ہے ‘جبکہ سورۃ الطور میں قیامت کے احوال‘ جنت ‘ دوزخ اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور قدرتوں کا ذکر ہے۔ اس کے بعد سورۃ النجم اور سورۃ القمر بھی جوڑے کی صورت میں ہیں۔ ان دونوں سورتوں میں بعض مضامین بہت مشکل ہیں۔ ان دونوں کی باہمی مناسبت اور مشابہت ان کی آغاز کی آیات سے ظاہر ہوتی ہے۔ سورۃ النجم کی پہلی آیت میں ستارے کے گرنے کا ذکر ہے ‘جبکہ سورۃالقمر کی پہلی آیت میں چاند کے پھٹنے کاحوالہ آیا ہے ۔

1-4

حدیثِ ﷺکی اہمیت

ویڈیو

وَ النَّجۡمِ اِذَا ہَوٰی ۙ﴿۱﴾ مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمۡ وَ مَا غَوٰی ۚ﴿۲﴾ وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی ؕ﴿۳﴾ اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی ۙ﴿۴﴾

آیت 1

وَ النَّجۡمِ اِذَا ہَوٰی ۙ﴿۱﴾

’’قسم ہے ستارے کی جبکہ وہ گرتا ہے۔‘‘

ھَوٰی یَھْوِیْ ھَوِیًّا کا اصل معنی ہے اوپر سے نیچے گرنا۔ یہاں اس سے ستاروں کا اُفق سے غائب ہونا ‘ ڈوب جانا یا فنا ہو جانا مراد ہو سکتا ہے۔(اس پر قدرے تفصیلی بحث سورۃ الواقعہ میں ’’مَوَاقِعِ النُّجُوْم‘‘ کے ضمن میں آئے گی۔) الْھَوِیَّۃ گہرے کنویں کو اور ھَاوِیَۃ دوزخ کو کہا جاتا ہے۔ جبکہ اسی مادہ سے ھَوِیَ یَھْوٰی ھَوًی کا معنی ہے خواہش کرنا۔ یہ لفظ (الھَوٰی) آگے آیت ۳ میں آ رہا ہے۔

آیت 2

مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمۡ وَ مَا غَوٰی ۚ﴿۲﴾

’’(اے لوگو!) تمہارے یہ ساتھی نہ تو بھٹکے ہیں اور نہ ہی بہکے ہیں۔‘‘

قرآن حکیم میں قسم بالعموم شہادت کے لیے آتی ہے۔ یہاں ستاروں کے غروب یا سقوط کی قسم کھا کر قریش کو مخاطب کر کے بتایا جا رہا ہے کہ تمہارے یہ ساتھی (محمد رسول اللہﷺ) نہ تو غلط فہمی کی بنا پر راستہ سے بہکے ہیں اور نہ اپنے قصد و اختیار سے جان بوجھ کر غلط راستے پر چلے ہیں۔

آیت 3

وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی ؕ﴿۳﴾

’’اور یہ (جو کچھ کہہ رہے ہیں) اپنی خواہش نفس سے نہیں کہہ رہے ہیں۔‘‘

آیت 4

اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی ۙ﴿۴﴾

’’یہ تو صرف وحی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔‘‘

اگلی آیات میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کا ذکر ہے جنہوں نے نبی مکرمﷺ کو اس کلام کی تعلیم دی۔ یہ مضمون دوسری مرتبہ ۳۰ویں پارے کی سورۃ التَّکوِیر میں آیا ہے۔ دونوں عبارتوں میں ایک خوبصورت مماثلت یہ ہے کہ وہاں بھی حضورﷺ کا ذکر صَاحِبُـکُمْ کے لفظ سے کیا گیا ہے:

دوسرے مقام کی آیت

وَ مَا صَاحِبُکُمۡ بِمَجۡنُوۡنٍ ﴿ۚ۲۲﴾وَ لَقَدۡ رَاٰہُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِیۡنِ ﴿ۚ۲۳﴾وَ مَا ہُوَ عَلَی الۡغَیۡبِ بِضَنِیۡنٍ ﴿ۚ۲۴﴾وَ مَا ہُوَ بِقَوۡلِ شَیۡطٰنٍ رَّجِیۡمٍ ﴿ۙ۲۵﴾

(التکویر)

’’اور (مکے والو) تمہارے یہ رفیق دیوانے نہیں ہیں۔ بے شک انہوں نے اس (جبرائیل) کو کھلے اُفق پر دیکھا ہے۔اور وہ غیب کے معاملے میں بخیل نہیں ہیں۔ اور یہ ہرگز کسی شیطان رجیم کا قول نہیں ہے۔‘‘

حضرت جبرائیل علیہ السلام جب وحی لے کر آتے تو وہ حضورﷺ کو نظر نہیں آتے تھے اور نہ ہی وحی کو آپؐ اپنے کانوں سے سن سکتے تھے ۔ فرشتے اور وحی دونوں کا تعلق چونکہ عالم امر سے ہے اس لیے ان کا نزول بھی آپؐ کی شخصیت کے اس حصے پر ہوتا تھا جو عالم امر سے متعلق تھا‘ یعنی آپؐ کی روحِ مبارک ۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیں کہ انسانی روح کا مسکن چونکہ قلب انسانی ہے اس لیے وحی کا نزول براہِ راست حضورﷺ کے قلب مبارک پر ہوتا تھا : ؎

نغمہ وہی ہے نغمہ کہ جس کو

رُوح سنے اور روح سنائے!

تاہم حضرت جبرائیل علیہ السلام کا حضورﷺ کے پاس انسانی شکل میں آنا بھی ثابت ہے۔ روایات میں یہ وضاحت بھی ملتی ہے کہ حضرت جبرائیل ؑجب انسانی شکل میں آپؐ کے پاس آتے تو عموماً خوبصورت نوجوان صحابی حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی شکل میں آتے جو بہت عظیم انسان تھے۔ اس حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ انسانی شکل میں حضرت جبرائیل ؑکی حضورﷺ سے جو گفتگو ہوتی وہ ’’وحی متلو‘‘ یعنی قرآن میں شامل نہیں ہے۔مثلاً ’’حدیث جبریل ؑ‘‘میں حضرت جبرائیل ؑکے ساتھ حضورﷺ کے مکالمے کی تفصیل درج ہے۔ اس موقع پر حضرت جبرائیل ؑانسانی شکل میں حضورﷺ کے پاس آئے اور آپؐ سے دین کے بارے میں چند بنیادی سوالات پوچھے۔ آپؐ نے ان سوالات کے جوابات دیے ۔ ان کے چلے جانے کے بعد آپؐ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بتایا کہ یہ جبرائیل ؑتھے جو تم لوگوں کو تمہارا دین سکھانے کے لیے آئے تھے۔ اس حدیث کا مضمون اس قدر اہم ہے کہ محدثین نے اسے ’’اُمُّ السُّنَّہ‘‘ قرار دیا ہے‘ لیکن اس حدیث کے مندرجات قرآن میں شامل نہیں۔

البتہ حضورﷺ نے حضرت جبرائیل ؑکو دو مرتبہ ان کی اصلی شکل میں بھی دیکھا ہے۔ پہلی مرتبہ تو آپﷺ نے انہیں آغازِ نبوت کے زمانے میں دیکھا تھا۔ یہ واقعہ ’’فترتِ وحی‘‘ کے دنوں میں پیش آیا۔(پہلی وحی کے بعد وحی کا سلسلہ کچھ عرصہ کے لیے منقطع رہا‘ اس وقفے کو’’ فترتِ وحی‘‘ کہا جاتا ہے۔) ایک دن آپﷺ غارِ حرا سے اُتر رہے تھے تو آپؐ نے ایک آواز سنی ’’یامحمد!‘‘ آپؐ نے اِدھر اُدھر دیکھا تو کوئی بھی نہیں تھا۔ آپؐ نے سمجھا کہ شاید مجھے دھوکہ ہوا ہے ‘لیکن دوسرے ہی لمحے وہی آواز پھر سنائی دی۔ اس مرتبہ بھی آپؐ کو جب کوئی انسان دکھائی نہ دیا تو آپؐ کو کچھ خوف محسوس ہوا۔ تیسری مرتبہ جب آپؐ نے پھروہی آواز سنی تو آپؐ نے آسمان کی طرف دیکھا۔ اوپر دیکھنے سے آپؐ کو حضرت جبرائیل ؑاپنی اصلی ملکوتی شکل میں اس طرح نظر آئے کہ پورا اُفق بھر ا ہوا تھا۔

دوسری مرتبہ آپﷺ نے حضرت جبرائیل ؑکو معراج کے موقع پر سدرۃ المنتہیٰ کے قریب دیکھا۔ آئندہ آیات میں اسی مشاہدے کا ذکر ہے ۔ حضرت جبرائیل ؑجب حضورﷺ کو سفر معراج پر لے جانے کے لیے آئے تو وہ انسانی شکل میں تھے اور آپ ؑ کے لیے جو سواری (براق) وہ لے کر آئے تھے وہ بھی کوئی محسوس و مرئی قسم کی مخلوق تھی۔ لیکن جب آپؐ ساتویں آسمان پر سدرۃ المنتہیٰ کے پاس پہنچے تو وہاں حضرت جبرائیل ؑاصل ملکوتی شکل میں ظاہر ہوئے ۔ اس مقام پر انہوں نے آگے جانے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں یہاں سے آگے بڑھوں گا تو میرے پر جل جائیں گے: ؎

اگر یک سرِ موئے برتر قدم فروغِ تجلی بسوزد پرم

اس مضمون کے حوالے سے یہاں سمجھنے کا اصل نکتہ یہ ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کی اصل ملکوتی شکل میں حضورﷺ سے ملاقات کرانے اور پھر اس ملاقات کا قرآن مجید میں ذکر کرنے کا مقصد نزولِ وحی کے سلسلے کے درمیانی رابطے (link) کی سند فراہم کرنا ہے۔ اس نکتہ لطیف کو ’’اصولِ حدیث‘‘ کے حوالے سے سمجھنا چاہیے۔ محدثین نے احادیث کی صحت (authenticity) کی تحقیق کے لیے جو اصول وضع کیے ہیں ان میں ایک بنیادی اصول یہ بھی ہے کہ جس شخص کی کسی دوسری شخصیت سے روایت منقول ہے اس کی اس شخصیت سے شعور کی عمر اور شعور کی کیفیت میں ملاقات بھی ثابت ہونا ضروری ہے ۔ اگر ایسی ملاقات ثابت نہ ہو سکے تو متعلقہ راوی کی روایت قابل قبول نہیں سمجھی جاتی۔ مثلاً اگر ایک تابعی ؒؒکی کسی صحابیؓ سے کوئی روایت منقول ہے مگر حقائق ثابت کرتے ہیں کہ جب وہ صحابیؓ فوت ہوئے تو متعلقہ تابعی کی عمر صرف چھ سال تھی ‘یعنی اس وقت ان کی عمر ایسی نہ تھی کہ وہ بات کو سمجھ کر کسی دوسرے کو بتا سکتے ‘تو ایسی صورت میں متعلقہ تابعی کی وہ روایت محدثین کے لیے قابل قبول نہیں ہو گی۔چنانچہ حدیث رسولؐ کی صحت (authenticity) کے لیے اگر متعلقہ راویوں کی ملاقات کا ثابت ہونا ضروری ہے تو ایسا ہی ثبوت اللہ تعالیٰ کی حدیث (اللہ تعالیٰ نے قرآن کو سورۃ الزمر کی آیت ۲۳ میں اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ قراردیا ہے) کی روایت کے حوالے سے بھی دستیاب ہونا چاہیے --- چنانچہ قرآن مجید کی روایت کی تصدیق و توثیق یوں ہو گی: قرآن کیا ہے؟یہ اللہ کا کلام ہے۔ اللہ سے اس کا کلام کس نے سنا؟ جبرائیل ؑنے سنا۔ جبرائیل ؑسے کس نے سنا؟ جبرائیل ؑسے محمد(ﷺ) نے سنا ۔تو کیا جبرائیل ؑاور محمد(ﷺ) کی ملاقات ثابت ہے؟

جی ہاں! ان کے درمیان دو مرتبہ کی ملاقات قرآن سے ثابت ہے --- چنانچہ وحی کی ’’روایت‘‘ کا درمیانی رابطہ (link) ثابت کرنے کے لیے حضورﷺ کی حضرت جبرائیل ؑسے اصل ملکوتی شکل میں ملاقات کی ’’سند‘‘ انتہائی اہم ہے جو یہ آیات فراہم کر رہی ہیں۔

5-11

قرآنِ حکیم کے دو راویوں کی ملاقات

ویڈیو

عَلَّمَہٗ شَدِیۡدُ الۡقُوٰی ۙ﴿۵﴾ ذُوۡ مِرَّۃٍ ؕ فَاسۡتَوٰی ۙ﴿۶﴾ وَ ہُوَ بِالۡاُفُقِ الۡاَعۡلٰی ؕ﴿۷﴾ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی ۙ﴿۸﴾ فَکَانَ قَابَ قَوۡسَیۡنِ اَوۡ اَدۡنٰی ۚ﴿۹﴾ فَاَوۡحٰۤی اِلٰی عَبۡدِہٖ مَاۤ اَوۡحٰی ﴿ؕ۱۰﴾ مَا کَذَبَ الۡفُؤَادُ مَا رَاٰی ﴿۱۱﴾

آیت 5

عَلَّمَہٗ شَدِیۡدُ الۡقُوٰی ۙ﴿۵﴾

’’انہیں سکھایا ہے اُس نے جو زبردست قوت والا ہے۔‘‘

’’ شَدِیْدُ الْقُوٰی‘‘ سے یہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام مراد ہیں ‘یعنی محمد رسول اللہﷺکو یہ قرآن جبرائیل ؑنے سکھایا ہے جو زبردست قوت والا ہے۔

آیت 6

ذُوۡ مِرَّۃٍ ؕ فَاسۡتَوٰی ۙ﴿۶﴾

’’جو بڑا زور آور ہے۔وہ سیدھا ہوا۔‘‘

آیت 7

وَ ہُوَ بِالۡاُفُقِ الۡاَعۡلٰی ؕ﴿۷﴾

’’اور وہ افق اعلیٰ پرتھا۔‘‘

یعنی حضورﷺ نے حضرت جبرائیل ؑ کو افق پر اپنی اصلی شکل میں دیکھا۔

آیت 8

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی ۙ﴿۸﴾

’’پھر وہ قریب آیا اور جھک پڑا۔‘‘

آیت 9

فَکَانَ قَابَ قَوۡسَیۡنِ اَوۡ اَدۡنٰی ۚ﴿۹﴾

’’بس دو کمانوں کے برابر (فاصلہ رہ گیا) یا اس سے بھی قریب۔‘‘

آیت 10

فَاَوۡحٰۤی اِلٰی عَبۡدِہٖ مَاۤ اَوۡحٰی ﴿ؕ۱۰﴾

’’پھر اُس نے وحی کی اللہ کے بندے کی طرف جو وحی کی ۔‘‘

’’اَوْحٰی‘‘ کا فاعل اللہ تعالیٰ بھی ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ یوں ہو گا: ’’پس اللہ نے وحی کی اپنے بندے کی طرف جو وحی کی۔‘‘

جس وحی کا یہ ذکر ہے وہ ’’وحیٔ رسالت‘‘ تھی ‘جبکہ پہلی وحی جو سورۃ العلق کی ابتدائی آیات پر مشتمل تھی ’’وحی نبوت‘‘ تھی ۔ اس وحی سے حضورﷺ کی نبوت کا ظہور ہوا: {اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ ۚ﴿۱﴾خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍ ۚ﴿۲﴾اِقۡرَاۡ وَ رَبُّکَ الۡاَکۡرَمُ ۙ﴿۳﴾الَّذِیۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِ ۙ﴿۴﴾عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ یَعۡلَمۡ ؕ﴿۵﴾} ان پانچ آیات میں نہ تو آپؐ کو کوئی حکم دیا گیا تھااور نہ ہی کوئی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اس کے بعد کئی ماہ تک کوئی وحی نہیں آئی ۔ اس عارضی وقفے کو ’’فترتِ وحی‘‘ کا دور کہا جاتا ہے۔ پھر ایک دن جب آپﷺ غارِ حرا سے واپس آ رہے تھے تووہ واقعہ پیش آیا جس کا ذکر آیات زیر مطالعہ میں ہو رہا ہے۔ یعنی آپؐ نے حضرت جبرائیل ؑکو ان کی اصل ملکی شکل میں اُفق پر دیکھا۔ اس منظر سے آپؐ خوفزدہ ہو گئے اور اسی گھبراہٹ کی حالت میں آپؐ گھر پہنچے۔ گھر پہنچتے ہی آپﷺ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکو کمبل اوڑھانے کا فرمایا۔ اس کیفیت میں جب آپؐ کمبل اوڑھے لیٹے تھے تویہ وحی نازل ہوئی ‘جس میں آپؐ کو رسالت کی ذمہ داری سونپ دی گئی: {یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ ۙ﴿۱﴾قُمۡ فَاَنۡذِرۡ ۪ۙ﴿۲﴾وَ رَبَّکَ فَکَبِّرۡ ۪﴿ۙ۳﴾} (المدثر) ’’ اے کمبل میں لپٹ کر لیٹنے والے! اب کھڑے ہو جاؤ اور لوگوں کو خبردار کرو۔ اور اپنے رب کی بڑائی (کا اعلان) کرو!‘‘ یعنی آپﷺ کی اس دعوت کا نقطۂ آغاز تو ’’انذار‘‘ ہے مگر دنیا میں اس کا ہدف ’’تکبیر رب‘‘ ہے۔ پس آپؐ اپنے رب کی بڑائی بیان کریں ‘اس کی بڑائی منوائیں اور اس کی بڑائی کو نافذ کریں۔

آیت 11

مَا کَذَبَ الۡفُؤَادُ مَا رَاٰی ﴿۱۱﴾

’’جو کچھ انہوں نے دیکھا ‘ان کے دل ودماغ نے اسے جھٹلایانہیں۔‘‘

یعنی دل میں کسی قسم کا شک پیدا نہیں ہوا۔ یہ خیال نہیں آیا کہ یہ وہم ہو سکتا ہے یا خواب ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ اکثر ہوتا ہے‘ انسان جب کوئی غیر معمولی واقعہ یا انوکھامنظر دیکھتا ہے تو ایک لمحے کے لیے سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ ؏

’’آنچہ می بینم بیداریست یارب یا بخواب!‘‘

(اے اللہ! یہ جو میں دیکھ رہا ہوں یہ بیداری میں دیکھ رہا ہوں یا خواب میں!)لیکن اس واقعہ کے بارے میں حضورﷺ کا معاملہ ایسا نہیں تھا۔ آپؐ کی آنکھوں نے جو دیکھا آپؐ کے دل نے اسے تسلیم کیا اور اس کی تصدیق کی۔ گویااس انتہائی غیر معمولی واقعہ کے بارے میں آپﷺ کے دل اور آپؐ کی نگاہوں کے درمیان کوئی تضاد و اختلاف نہیں تھا۔

12-18

معراج ِمصطفی ﷺ

ویڈیو

اَفَتُمٰرُوۡنَہٗ عَلٰی مَا یَرٰی ﴿۱۲﴾ وَ لَقَدۡ رَاٰہُ نَزۡلَۃً اُخۡرٰی ﴿ۙ۱۳﴾ عِنۡدَ سِدۡرَۃِ الۡمُنۡتَہٰی ﴿۱۴﴾ عِنۡدَہَا جَنَّۃُ الۡمَاۡوٰی ﴿ؕ۱۵﴾ اِذۡ یَغۡشَی السِّدۡرَۃَ مَا یَغۡشٰی ﴿ۙ۱۶﴾ مَا زَاغَ الۡبَصَرُ وَ مَا طَغٰی ﴿۱۷﴾ لَقَدۡ رَاٰی مِنۡ اٰیٰتِ رَبِّہِ الۡکُبۡرٰی ﴿۱۸﴾

آیت 12

اَفَتُمٰرُوۡنَہٗ عَلٰی مَا یَرٰی ﴿۱۲﴾

’’تو کیا تم اس سے جھگڑتے ہو اس چیز پر جسے وہ دیکھتا ہے!‘‘

اس بارے میں جو تفصیل محمد(ﷺ) بیان کر رہے ہیں تم لوگ اس میں شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہو۔لیکن وہ تو یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں اور وہ تم سے آنکھوں دیکھا واقعہ ہی بیان کر رہے ہیں۔ بقول اقبال : ؏

’’قلندر ہرچہ گوید دیدہ گوید‘‘

کہ قلندر جو بھی بیان کرتا ہے اپنا مشاہدہ ہی بیان کرتا ہے۔

آیت 13

وَ لَقَدۡ رَاٰہُ نَزۡلَۃً اُخۡرٰی ﴿ۙ۱۳﴾

’’اور انہوں نے تواس کو ایک مرتبہ اور بھی اُترتے دیکھا ہے۔‘‘

یعنی حضورﷺ نے حضرت جبرائیل ؑکو دو مرتبہ اصلی شکل و صورت میں دیکھا ہے۔ دوسری مرتبہ کہاں دیکھا؟

آیت 14

عِنۡدَ سِدۡرَۃِ الۡمُنۡتَہٰی ﴿۱۴﴾

’’سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔‘‘

یہ ساتویں آسمان پر وہ مقام ہے جس سے آگے کسی مخلوق کو جانے کی اجازت نہیں۔ اس انتہائی حد کی علامت بیری کا وہ درخت ہے جسے آیت میں ’’سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ اس مقام کی کیفیت اور نوعیت ہمارے تصور سے ماوراء ہے۔ معراج کے موقع پر ’’سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی‘‘ پر حضرت جبرائیل ؑ اپنی اصل ملکوتی شکل میں ظاہر ہوئے اور آگے جانے سے معذرت کر لی۔

آیت 15

عِنۡدَہَا جَنَّۃُ الۡمَاۡوٰی ﴿ؕ۱۵﴾

’’جنت الماویٰ بھی اس کے پاس ہی ہے۔‘‘

’’جنت الماویٰ‘‘ سب سے اونچے درجے کی جنت ہے‘ جو ساتویں آسمان پر سدرۃ المنتہیٰ کے قریب ہے۔ قیامت کے دن اہل جنت کو جہاں ’’نزل‘‘ پیش کیا جائے گا وہ جنت تو زمین پر واقع ہو گی۔ اس کے بعد ان میں سے ہر شخص کے اپنے اپنے ایمان و خلوص کی گہرائی اور انفاقِ جان و مال کے تناسب کے حسا ب سے درجہ بدرجہ ترقی ہوتی جائے گی۔حتیٰ کہ کچھ خوش قسمت لوگ جنت الماویٰ میں پہنچ جائیں گے۔

آیت 16

اِذۡ یَغۡشَی السِّدۡرَۃَ مَا یَغۡشٰی ﴿ۙ۱۶﴾

’’جبکہ چھائے ہوئے تھا سدرہ پر جو چھائے ہوئے تھا۔‘‘

یعنی تم انسانوں کو کیا بتایا جائے کہ اس بیری کے درخت کی اس وقت کیا کیفیت تھی۔ تم اس کیفیت کو نہیں سمجھ سکتے ہو۔ وہ انوار و تجلیاتِ الٰہیہ کے نزول کی ایسی کیفیت تھی جو نہ تو کسی زبان سے ادا ہو سکتی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے الفاظ اس کی تعبیر کر سکتے ہیں۔

آیت 17

مَا زَاغَ الۡبَصَرُ وَ مَا طَغٰی ﴿۱۷﴾

’’(اُس وقت محمدﷺ کی )آنکھ نہ تو کج ہوئی اور نہ ہی حد سے بڑھی۔‘‘

یہاں پردونوں انتہائی کیفیات کی نفی کر دی گئی۔انسان کی فطری اور طبعی کمزوری ہے کہ اگر اسے اچانک بہت تیز روشنی کا سامنا کرنا پڑے تو وہ نظروں کو اس سے پھیرنے اور ہٹانے کی کوشش کرتا ہے یا پلک جھپک لیتا ہے۔ اس حوالے سے یہاں بتایا گیا کہ حضورﷺ نے انوار و تجلیاتِ اِلٰہیہ کا کھلی آنکھوں سے براہِ راست مشاہدہ کیا اور نگاہ جما کر دیکھا۔ لیکن اس مشاہدے میں حد ادب سے تجاوز بھی نہیں کیا۔

واقعہ یہ ہے کہ اس آیت کو اکثر و بیشتر لوگ سمجھ نہیں سکے۔ جبکہ میں نے اس کے مفہوم کو علامہ اقبال ؔکے اس شعر کی مدد سے سمجھا ہے : ؎

عینِ وصال میں مجھے حوصلۂ نظر نہ تھا

گرچہ بہانہ جو رہی میری نگاہِ بے ادب !

یہ بالِ جبریل کی نظم ’’ذوق و شوق‘‘ کا شعر ہے۔ یہ نظم بلاشبہ علامہ اقبال کی شاعرانہ استعداد کی معراج ہے‘ اگرچہ اُمتِ مسلمہ کے لیے پیغام کے اعتبار سے ان کی آخری عمر(۱۹۳۶ء) کی نظم ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ نقطۂ عروج کا درجہ رکھتی ہے۔اس شعر میں علامہ کہتے ہیں کہ میں وصال کے دوران ادب کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر محبوب کے حسن کا مشاہد کرنا چاہتا تھا مگر نظریں جما کر براہِ راست دیکھنے کا مجھ میں حوصلہ نہ تھا۔ یہاں اقبالؔ اپنی نظر کی ’’بے ادبی‘‘ کو خود تسلیم کر رہے ہیں اور حد ادب سے تجاوز کرنے کی شدید خواہش کا بھی اعتراف کر رہے ہیں ‘لیکن ساتھ ہی وہ اپنی معذوری کا بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ ایسا کرنے کا حوصلہ ان میں نہیں تھا۔ گویا صرف وہ حوصلے کے فقدان کی وجہ سے ’’بے ادبی‘‘کے ارتکاب سے بچے رہے۔ اب اس شعر میں پیش کیے گئے تصور کی روشنی میں غور کریں تو آیت کا مفہوم واضح ہوجاتا ہے۔ حضورﷺ کے تحمل اور حوصلے کا یہ عالم تھا کہ آپؐ نے اُن انوار و تجلیات کو براہِ راست دیکھا اور جم کر مشاہدہ کیا۔ لیکن دوسری طرف آپؐ کے ضبط اور ’’ادب‘‘ کا کمال یہ تھا کہ ’’حوصلہ‘‘ ہوتے ہوئے بھی آپؐ کی طرف سے ایک خاص حد سے سرِموتجاوز نہ ہوا۔

آیت 18

لَقَدۡ رَاٰی مِنۡ اٰیٰتِ رَبِّہِ الۡکُبۡرٰی ﴿۱۸﴾

’’انہوں نے اپنے رب کی عظیم ترین آیات کو دیکھا۔‘‘

معراج کے موقع پر حضورﷺ کے مشاہدے سے متعلق صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بھی دو آراء پائی جاتی ہیں۔ کچھ صحابہؓ کا خیال ہے کہ حضورﷺ نے اللہ کو دیکھا ‘جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ آپؐ نے اللہ کو نہیں دیکھا بلکہ انوارِالٰہیہ کا مشاہدہ کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہااور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس بات کے قائل تھے کہ رسول اللہﷺ نے شب معراج میں اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاتو یہاں تک فرمایا کرتی تھیں کہ ’’جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ محمدﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تھا وہ اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا افترا کرتا ہے‘‘۔ صحیح مسلم (کتاب الایمان) میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے عبداللہ بن شفیق ؒ کی دو روایتیں منقول ہیں۔ ایک روایت میں حضرت ابوذرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا : ھَلْ رَاَیْتَ رَبَّکَ ’’کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا تھا؟‘‘ حضورﷺ نے جواب میں فرمایا: حدیث((نُوْرٌ اَنّٰی اَرَاہُ؟)) ’’ایک نور تھا‘ میں اسے کیسے دیکھتا؟‘‘ دوسری روایت میں حضرت ابوذرؓفرماتے ہیں کہ میرے اس سوال کا جواب آپﷺ نے یہ دیا کہ حدیث((رَاَیْتُ نُوْرًا))’’میں نے ایک نور دیکھا تھا‘‘۔ علامہ ابن القیمؒ نے ’’زاد المعاد‘‘ میں رسول اللہﷺ کے پہلے ارشاد کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ’’میرے اور رؤیت باری تعالیٰ کے درمیان نور حائل تھا‘‘۔ جبکہ دوسرے ارشاد کا مطلب وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ’’میں نے اپنے رب کو نہیں بلکہ بس ایک نور دیکھا‘‘۔ البتہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے منسوب روایات میں رؤیتِ باری تعالیٰ کا اثبات ملتا ہے۔آیت زیر مطالعہ اس حوالے سے یہ واضح کرتی ہے کہ آپﷺ نے اللہ کی عظیم آیات کا مشاہدہ کیا ۔چنانچہ یہ آیت اول الذکر کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے کہ آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا مشاہدہ کیا نہ کہ خود اللہ تعالیٰ کو دیکھا۔ سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں سفر معراج کے پہلے حصے (مسجد حرام تا مسجد اقصیٰ) کا ذکر ہوا‘ وہاں بھی یہ ارشاد ہوا ہے کہ ہم اپنے بندے کو اس لیے لے گئے تھے {لِنُرِیَہٗ مِنۡ اٰیٰتِنَا ؕ } ’’تاکہ اُس کو اپنی نشانیاں دکھائیں‘‘۔ لیکن وہاں ’’زمینی آیات‘‘ کے مشاہدے کی بات ہوئی ہے‘ جبکہ ان آیات میں سفر معراج کے دوسرے مرحلے کے دوران سدرۃ المنتہیٰ کے مقام کی آیات و تجلیات کے مشاہدے کا ذکر ہے۔ یہ مقام کسی مخلوق کی رسائی کی آخری حد ہے۔ اس سے آگے ’’حریم ذات‘‘ ہے ‘جہاں کسی غیر کا کوئی دخل ممکن نہیں۔ اس مقام خاص اور اس آخری حد پر لے جا کر حضورﷺ کو خاص الخاص آیاتِ الٰہیہ کا مشاہدہ کرایا گیا جنہیں آیت زیر مطالعہ میں ’’آیات الکبریٰ‘‘ کہا گیا ہے ۔

یوٹیوب پر دیکھیے