تحریر

الطور

آیات ۴۸ تا ۴۹

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

48-49

نبی اکرم ﷺ پر اللہ کی نظر کرم

ویڈیو

وَ اصۡبِرۡ لِحُکۡمِ رَبِّکَ فَاِنَّکَ بِاَعۡیُنِنَا وَ سَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ حِیۡنَ تَقُوۡمُ ﴿ۙ۴۸﴾ وَ مِنَ الَّیۡلِ فَسَبِّحۡہُ وَ اِدۡبَارَ النُّجُوۡمِ ﴿٪۴۹﴾

آیت 48

وَ اصۡبِرۡ لِحُکۡمِ رَبِّکَ

’’(اور اے نبیﷺ) آپ اپنے ربّ کے فیصلے کا انتظار کیجیے۔‘‘

ابتدائی مکی دور کی سورتوں میں یہ حکم بار بار آیا ہے ۔خصوصاً زیر مطالعہ گروپ کی سورتوں اور ۲۹ویں پارے کی سورتوں میں تو فَاصْبِرْ یا وَاصْبِرْ کے صیغے کی بہت تکرار ملتی ہے۔ سورۃ النحل میں فرمایا گیا : {وَ اصۡبِرۡ وَ مَا صَبۡرُکَ اِلَّا بِاللّٰہِ } (آیت۱۲۷) ’’ آپ صبر کیجیے اور آپ کا صبر تو اللہ ہی کے سہارے پر ہے‘‘۔ سورۃ الاحقاف میں حضورﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا: {فَاصۡبِرۡ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الۡعَزۡمِ مِنَ الرُّسُلِ} (آیت۳۵) ’’پس آپ بھی صبر کیجیے جیسے ہمارے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر کیا تھا‘‘۔ مثلاً حضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کی زیادتیاں برداشت کیں۔ سورۃ المزمل میں ارشاد ہوا: {وَ اصۡبِرۡ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ } (آیت۱۰) ’’اور اس پر صبر کیجیے جو یہ لوگ آپ کے خلاف باتیں بنا رہے ہیں‘‘۔سورۃ المدثر میں فرمایا گیا: {وَ لِرَبِّکَ فَاصۡبِرۡ ؕ﴿۷﴾} ’’اور آپ اپنے رب کے لیے صبر کریں‘‘۔غرض ابتدائی مکی دور کی سورتوں میں رسول اللہﷺ کو براہِ راست مخاطب کر کے بار بار ہدایت کی جاتی رہی کہ آپ صبر کا دامن مضبوطی سے تھامیں رہیں۔عربی میں ’’صبر‘‘ کے بعد اگر ’’ل‘‘ آ جائے جیسے کہ آیت زیر مطالعہ میں ہے ‘تو اس کے معنی انتظار کرنے کے ہوتے ہیں۔ چنانچہ آیت زیر مطالعہ کا ترجمہ اسی مفہوم کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

فَاِنَّکَ بِاَعۡیُنِنَا

’’بے شک آپ ہماری نگاہوں میں ہیں۔‘‘

آپؐ مسلسل ہماری نظروں کے سامنے ہیں‘ ہم آپ کے حالات سے پوری طرح باخبرہیں ۔ ہم آپؐ کی نگہبانی کر رہے ہیں‘ آپ کو آپ کے حال پر نہیں چھوڑ دیا۔بالکل یہی مضمون سورۂ یونس کی آیت ۶۱میں بھی آیا ہے:

دوسرے مقام کی آیت

وَ مَا تَکُوۡنُ فِیۡ شَاۡنٍ وَّ مَا تَتۡلُوۡا مِنۡہُ مِنۡ قُرۡاٰنٍ وَّ لَا تَعۡمَلُوۡنَ مِنۡ عَمَلٍ اِلَّا کُنَّا عَلَیۡکُمۡ شُہُوۡدًا اِذۡ تُفِیۡضُوۡنَ فِیۡہِ ؕ

’’اور (اے نبیﷺ!) نہیں ہوتے آپ کسی بھی کیفیت میں اور نہیں پڑھ رہے ہوتے آپ قرآن میں سے کچھ اور (اے مسلمانو!) تم نہیں کر رہے ہوتے کوئی بھی (اچھا)عمل مگر یہ کہ ہم تمہارے پاس موجود ہوتے ہیں جب تم اس میں مصروف ہوتے ہو۔ ‘‘

وَ سَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ حِیۡنَ تَقُوۡمُ ﴿ۙ۴۸﴾

’’اور آپ تسبیح کرتے رہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ جب آپ کھڑے ہوں۔‘‘

اس بارے میں عام رائے یہی ہے کہ یہ حضورﷺ کی تہجد کی نماز کی طرف اشارہ ہے ‘کیونکہ آغاز میں تو وہی ایک نماز تھی۔ جیسا کہ سورۃ المزمل کی ان آیات میں قیام اللیل کا ذکر ہے :

دوسرے مقام کی آیت

یٰۤاَیُّہَا الۡمُزَّمِّلُ ۙ﴿۱﴾قُمِ الَّیۡلَ اِلَّا قَلِیۡلًا ۙ﴿۲﴾نِّصۡفَہٗۤ اَوِ انۡقُصۡ مِنۡہُ قَلِیۡلًا ۙ﴿۳﴾اَوۡ زِدۡ عَلَیۡہِ وَ رَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِیۡلًا ؕ﴿۴﴾

’’اے کپڑا اوڑھنے والے! رات کو قیام کیا کرو مگر (ساری رات نہیں بلکہ) کم۔ (یعنی) نصف رات یا اس سے کچھ کم کر لو۔ یا اس پر کچھ زیادہ کر لو‘اورقرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔‘‘

آیت 49

وَ مِنَ الَّیۡلِ فَسَبِّحۡہُ

’’اور رات کے ایک حصے میں بھی آپ اُس کی تسبیح کریں‘‘ گویا تہجد کے علاوہ بھی رات کے مختلف حصوں میں حضورﷺ کو تسبیح و تحمید کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔ ابتدائی دور کی ان سورتوں میں جن اوقات کو اللہ کے ذکر کے لیے مخصوص کرنے کے احکام دیے گئے ہیں ‘بعد میں جب پانچ اوقات کی نماز فرض ہوئی تو وہی اوقات مختلف نمازوں کے اوقات قرار پائے۔ چنانچہ اس حکم کے مطابق مغرب اور عشاء کی نمازیں فرض ہوئیں ‘کیونکہ غروبِ آفتاب سے رات شروع ہو جاتی ہے اور عشاء کی نماز بھی رات کے ایک حصے میں ہی ادا کی جاتی ہے۔

وَ اِدۡبَارَ النُّجُوۡمِ ﴿٪۴۹﴾

’’اور ستاروں کے پیٹھ موڑتے وقت بھی (آپ تسبیح کیجیے)۔‘‘

جب ستاروں کا قافلہ کوچ کرتا ہے تو صبح کی آمد آمد ہوتی ہے۔ اس سے صبح صادق کا وقت مراد ہے اور بعد میں اس وقت پر نمازِ فجر فرض ہوئی۔

یوٹیوب پر دیکھیے