تحریر

الطور

آیات ۲۹ تا ۴۷

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

29-32

اللہ تعالی کا گستاخانِرسول پر غیظ و غضب

ویڈیو

فَذَکِّرۡ فَمَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّکَ بِکَاہِنٍ وَّ لَا مَجۡنُوۡنٍ ﴿ؕ۲۹﴾ اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِہٖ رَیۡبَ الۡمَنُوۡنِ ﴿۳۰﴾ قُلۡ تَرَبَّصُوۡا فَاِنِّیۡ مَعَکُمۡ مِّنَ الۡمُتَرَبِّصِیۡنَ ﴿ؕ۳۱﴾ اَمۡ تَاۡمُرُہُمۡ اَحۡلَامُہُمۡ بِہٰذَاۤ اَمۡ ہُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ ﴿ۚ۳۲﴾

آیت 29

فَذَکِّرۡ فَمَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّکَ بِکَاہِنٍ وَّ لَا مَجۡنُوۡنٍ ﴿ؕ۲۹﴾

’’تو (اے نبیﷺ!) آپ تذکیر کرتے رہیے‘ پس آپ اپنے رب کے فضل سے نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون۔‘‘

یہ خطاب اگرچہ حضورﷺ سے ہے لیکن اصل میں سنانا ان لوگوں کو مقصود ہے جو آپؐ کے ایسے نام رکھتے تھے۔ ان لوگوں کو نظر انداز کر کے حضورﷺکو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ آپؐ ان کی فضول باتوں پر بالکل توجہ نہ دیں اور لوگوں کو مسلسل تذکیر اور یاد دہانی کرتے رہیں۔ اس سے ملتا جلتا مضمون قبل ازیں گزشتہ سورت (الذاریات ) میں بھی آ چکا ہے۔وہاں فرمایا گیا تھا :

دوسرے مقام کی آیت

فَتَوَلَّ عَنۡہُمۡ فَمَاۤ اَنۡتَ بِمَلُوۡمٍ ﴿٭۫۵۴﴾وَّ ذَکِّرۡ فَاِنَّ الذِّکۡرٰی تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۵۵﴾

’’پس (اے نبیﷺ!) آپ ان سے رخ پھیر لیں‘ آپ پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ اور آپ تذکیر کرتے رہیے‘ کیونکہ یہ تذکیر اہل ایمان کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔‘‘

آپ ؐتذکیر و تبلیغ کا عمل مسلسل جاری رکھیے۔کیا خبر کسی دل میں ایمان کی کوئی کلی کھلنے والی ہو‘ کیا خبر آپؐ کے کسی دشمن کا دل بھی موم ہونے والا ہو۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کا واقعہ اس حقیقت کا گواہ ہے کہ تذکیر آہستہ آہستہ دلوں کو متاثر کرتی رہتی ہے اور پھر کسی وقت اچانک وہ گھڑی آ پہنچتی ہے جب دل میں ایمان کی کلی کھل اٹھتی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اگرچہ حضورﷺ کی مخالفت میںہر وقت پیش پیش رہتے تھے لیکن چونکہ سخن شناس تھے اس لیے کلامِ الٰہی سننے کے لیے متجسس بھی رہتے تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضورﷺ رات کو صحنِ کعبہ میں قیام اللیل کے دوران قرآن مجید کی تلاوت فرمایا کرتے تو کبھی کبھی حضرت عمرؓ چھپ کر حضورﷺ کی زبانِ مبارک سے تلاوت سنتے اور کلامِ الٰہی کی تاثیر کو اپنی روح کی گہرائیوں میں محسوس کرتے تھے۔گویا حضورﷺ کی تذکیر اور قرآن کی تاثیر تدریجاً ان کے دل میں گھر کر رہی تھی۔ اسی تدریجی عمل کے باعث آپؓ کے خیالات و جذبات میں اندر ہی اندر ایک مثبت تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ اُس کے بعد مشیت الٰہی سے وہ واقعہ رونما ہوا جس کے باعث اس خاموش تبدیلی کو اظہار کا موقع ملا اور آپؓ کو ایمان کی دولت نصیب ہو گئی۔ اس دن تو آپؓ گھر سے حضورﷺ کو قتل کرنے کی نیت سے نکلے تھے۔ راستے میں اپنی بہن فاطمہؓ بنت خطاب اور اپنے بہنوئی حضرت سعید ؓ بن زید سے اُلجھ پڑے۔ آپؓ کے تشدد کا سامنا کرتے ہوئے بہن نے جب ڈٹ کر کہا کہ عمر تم جو چاہے کر لو ‘اب ہم اپنے دین کو چھوڑنے والے نہیں !تو آپؓ اپنی بہن کے اس غیر معمولی عزم اور حوصلے کے سامنے ڈھیر ہو گئے ۔پھر کیا تھا ‘آپؓ کے دل کا ’’بند‘‘ یکدم کھل گیا اور آپؓ نے حق کو اعلانیہ قبول کر لیا۔

آیت 30

اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِہٖ رَیۡبَ الۡمَنُوۡنِ ﴿۳۰﴾

’’کیا ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک شاعر ہے‘ جس کے لیے ہم منتظر ہیں گردشِ زمانہ کے؟‘‘

مشرکین مکہ آپس میں ایک دوسرے کو یہ کہہ کر تسلی دیتے تھے کہ محمد (ﷺ) محض ایک شاعر ہیں۔ ان کے شاعرانہ کلام سے متاثر ہونے میں جلدی مت کرو‘کچھ دیر انتظار کرو گے (wait and see!) ‘ تو ان کے دعووں کی اصل حقیقت خود بخود کھل کر سامنے آ جائے گی۔ ہمیں قوی اُمیدہے کہ بہت جلد یہ خود ہی گردشِ زمانہ کی لپیٹ میں آجائیں گے۔

آیت 31

قُلۡ تَرَبَّصُوۡا فَاِنِّیۡ مَعَکُمۡ مِّنَ الۡمُتَرَبِّصِیۡنَ ﴿ؕ۳۱﴾

’’آپؐ کہیے کہ اچھا تم انتظار کرو‘ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔‘‘

آیت 32

اَمۡ تَاۡمُرُہُمۡ اَحۡلَامُہُمۡ بِہٰذَاۤ اَمۡ ہُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ ﴿ۚ۳۲﴾

’’کیا ان کی عقلیں انہیں یہی کچھ سکھا رہی ہیں یا یہ ہیں ہی سرکش لوگ؟‘‘

مشرکین کے ایمان نہ لانے کی یہ دو ہی ممکنہ وجوہات تھیں۔ یا تو واقعتا انہیں بات سمجھ نہیں آ رہی تھی اور ان کی عقلیں انہیں یہی سکھاتی تھیں کہ محمد(ﷺ) جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ محض شاعری اور ان کا من گھڑت کلام ہے۔ دوسرا امکان یہ تھا کہ بات ان کی سمجھ میں بھی آتی تھی اور ان کے دل گواہی بھی دیتے تھے کہ یہ سب کچھ درست ہے مگر وہ اپنی سرکشی ‘ ضد اور عناد کی وجہ سے انکار پر جمے رہنے کو ترجیح دیتے تھے۔ اور حقیقت یہی ہے کہ محمد رسول اللہﷺ کی مخالفت میں یہ ساری باتیں وہ عقل سے نہیں بلکہ سراسر ضد‘ عناد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر کر رہے تھے۔ دراصل نفس انسانی کی سرکشی بھی دریا کی طغیانی کی طرح ہے جس کے سامنے منطق‘ تدبیر‘ کوشش وغیرہ کسی کی نہیں چلتی۔بقول الطاف حسین حالی : ؎

دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام

کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے!

33-34

عظمتِ قرآن

ویڈیو

اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَہٗ ۚ بَلۡ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۚ۳۳﴾ فَلۡیَاۡتُوۡا بِحَدِیۡثٍ مِّثۡلِہٖۤ اِنۡ کَانُوۡا صٰدِقِیۡنَ ﴿ؕ۳۴﴾

آیت 33

اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَہٗ ۚ

’’کیا ان کاکہنا ہے کہ یہ اس (محمدﷺ) نے خود گھڑ لیا ہے؟‘‘

تَقَوَّلَباب تفعل سے ہے اور اس کے معنی تکلف کر کے کچھ کہنے کے ہیں ‘یعنی قرآن کے بارے میں مشرکین کا یہ کہنا تھا کہ محمد (ﷺ )محنت و ریاضت کے ذریعے یہ کلام خود ’’موزوں‘‘ کرتے ہیں۔

بَلۡ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۚ۳۳﴾

’’بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) یہ ماننے والے نہیں ہیں۔‘‘

آیت 34

فَلۡیَاۡتُوۡا بِحَدِیۡثٍ مِّثۡلِہٖۤ اِنۡ کَانُوۡا صٰدِقِیۡنَ ﴿ؕ۳۴﴾

’’تو وہ لے آئیں اس جیسی کوئی ایک بات اگر وہ سچے ہیں۔‘‘

یہ وہ چیلنج ہے جو قرآن نے بار بار انہیں دیا کہ اگر تم واقعتا یہ سمجھتے ہو کہ یہ کلام محمد(ﷺ) کا اپنا بنایا ہوا ہے تو ایسا ہی کلام تم بھی اس کے مقابلے میں بنا کر لے آؤ۔ آخر تمہارے درمیان بڑے بڑے خطباء‘ ادباء اور شعراء موجود ہیں‘ ان سب کو اکٹھا کرو اور کوشش کر کے دیکھ لو۔

35-43

مخالفینِ حق کو گریبان میں جھانکنے کی دعوت

ویڈیو

اَمۡ خُلِقُوۡا مِنۡ غَیۡرِ شَیۡءٍ اَمۡ ہُمُ الۡخٰلِقُوۡنَ ﴿ؕ۳۵﴾ اَمۡ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ ۚ بَلۡ لَّا یُوۡقِنُوۡنَ ﴿ؕ۳۶﴾ اَمۡ عِنۡدَہُمۡ خَزَآئِنُ رَبِّکَ اَمۡ ہُمُ الۡمُصَۜیۡطِرُوۡنَ ﴿ؕ۳۷﴾ اَمۡ لَہُمۡ سُلَّمٌ یَّسۡتَمِعُوۡنَ فِیۡہِ ۚ فَلۡیَاۡتِ مُسۡتَمِعُہُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ؕ۳۸﴾ اَمۡ لَہُ الۡبَنٰتُ وَ لَکُمُ الۡبَنُوۡنَ ﴿ؕ۳۹﴾ اَمۡ تَسۡـَٔلُہُمۡ اَجۡرًا فَہُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ ﴿ؕ۴۰﴾ اَمۡ عِنۡدَہُمُ الۡغَیۡبُ فَہُمۡ یَکۡتُبُوۡنَ ﴿ؕ۴۱﴾ اَمۡ یُرِیۡدُوۡنَ کَیۡدًا ؕ فَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ہُمُ الۡمَکِیۡدُوۡنَ ﴿ؕ۴۲﴾ اَمۡ لَہُمۡ اِلٰہٌ غَیۡرُ اللّٰہِ ؕ سُبۡحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۴۳﴾

آیت 35

اَمۡ خُلِقُوۡا مِنۡ غَیۡرِ شَیۡءٍ اَمۡ ہُمُ الۡخٰلِقُوۡنَ ﴿ؕ۳۵﴾

’’کیا یہ بغیر کسی کے بنائے ہو ئے خود بن گئے ہیں یا یہ خود ہی خالق ہیں؟‘‘

یہ فلسفے کا بہت گہرا مسئلہ ہے ۔ ظاہر ہے کوئی شے بغیر کسی کے بنائے ہوئے خود بخود تو بنتی نہیں ہے۔ چنانچہ کسی بھی چیز کی تخلیق کے حوالے سے دو ہی صورتیں ممکن ہیں ‘یعنی یا تو اس چیز کو کسی نے تخلیق کیا ہے یا اس چیز نے اپنے آپ کو خود تخلیق کیا ہے۔ چنانچہ یہ منطقی سوال ان کے سامنے رکھا گیا کہ اگر تم اس حقیقت سے آگاہ ہوکہ تم نے خود اپنے آپ کو تخلیق نہیں کیا تو پھر خود بخود ثابت ہو جاتا ہے کہ کسی دوسری ہستی نے تمہیں پیدا کیا ہے اور ظاہر ہے کہ وہ ہستی اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔

آیت 36

اَمۡ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ ۚ بَلۡ لَّا یُوۡقِنُوۡنَ ﴿ؕ۳۶﴾

’’کیا آسمانوں اور زمین کو انہوں نے بنایا ہے؟ بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) یہ یقین نہیں رکھتے۔‘‘

چلو اپنی تخلیق کی بحث کو چھوڑو‘ تم ذرا یہ بتائو کہ زمین و آسمان تم نے بنائے ہیں؟ اگر تم تسلیم کرتے ہو کہ تم نے نہیں بنائے تو پھر مان کیوں نہیں لیتے کہ خود تمہاراخالق اور تمام مخلوق سمیت پوری کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ وہ حقائق ہیں جو دو اور دو چار کی طرح مسلم ہیں‘لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ یقین سے محروم ہیں۔

آیت 37

اَمۡ عِنۡدَہُمۡ خَزَآئِنُ رَبِّکَ اَمۡ ہُمُ الۡمُصَۜیۡطِرُوۡنَ ﴿ؕ۳۷﴾

’’کیا ان کے قبضہ قدرت میں آپ کے رب کے خزانے ہیں یا یہ داروغہ ہیں؟‘‘

اس آیت کو پڑھتے ہوئے مشرکین مکہ کا وہ اعتراض بھی ذہن میں تازہ کر لیں جس کا ذکر سورۃ الزخرف کی آیت ۳۱ میں ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اگر وحی بھیجنا تھی اور اپنا کلام دنیا میں نازل کرنا ہی تھا تو اس کے لیے اس کی نظر بنوہاشم کے ایک یتیم شخص ہی پر کیوں پڑی‘ جو نہ تو سرمایہ دار ہے اور نہ ہی مکہ کے قبائلی نظام کے اعلیٰ عہدوں (hierarchy) میں سے کوئی عہدہ اس کے پاس ہے! عرب کے قبائلی معاشرے میں کسی شخصیت کے ’’بڑے‘‘ ہونے کا ایک معیار یہ بھی تھا کہ وہ کسی بڑے عہدے پر فائز ہو۔ جیسے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس زمانے میں مقدماتِ قتل کے فیصلے کرنے پر مامور تھے۔ یہ قبائلی نظام کا بہت بڑا اور انتہائی حساس نوعیت کا عہدہ تھا جس پر حضرت ابوبکرؓ اس زمانے میں فائز تھے۔ اس کے علاوہ آپؓ بہت بڑے تاجر اور سرمایہ دار بھی تھے۔ اس زمانے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سرمائے کی مالیت چالیس ہزار درہم کے لگ بھگ تھی۔ اس حوالے سے یہ حقیقت بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ ایمان لانے کے بعد آپؓ نے یہ سارا سرمایہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں لٹا دیا اور جب آپؓ ہجرت کے لیے مدینہ روانہ ہوئے تو پیچھے گھر والوں کے لیے کچھ بھی نہ تھا ۔

بہرحال مشرکین مکہ بار بار یہ اعتراض کرتے تھے کہ آخر اللہ تعالیٰ نے اس منصب کے لیے ان دو بڑے شہروں (مکہ اور طائف) میں سے کسی بڑی شخصیت کو کیوں منتخب نہیں کیا : {وَ قَالُوۡا لَوۡ لَا نُزِّلَ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الۡقَرۡیَتَیۡنِ عَظِیۡمٍ ﴿۳۱﴾} (الزخرف) ’’ اور کہنے لگے کہ کیوں نہیں اتارا گیا یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی عظیم شخص پر؟‘‘اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: {اَہُمۡ یَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّکَ ؕ } (الزخرف:۳۲) ’’کیا آپ کے رب کی رحمت کو یہ لوگ تقسیم کریں گے؟‘‘آیت زیر مطالعہ میں بھی حضورﷺ کے خلاف اسی نوعیت کے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے خزانے کیا ان لوگوں کے قبضہ قدرت میں ہیں؟ اور کیا اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے فیصلے کرنے میں ان لوگوں کی مرضی و منشا کاپابند ہے؟

آیت 38

اَمۡ لَہُمۡ سُلَّمٌ یَّسۡتَمِعُوۡنَ فِیۡہِ ۚ

’’کیا ان کے پا س کوئی ایسی سیڑھی ہے جس کے ذریعے سے یہ آسمان کی خبریں سن لیتے ہیں؟‘‘

فَلۡیَاۡتِ مُسۡتَمِعُہُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ؕ۳۸﴾

’’(اگر ایسا ہے) تو ان کا سننے والا کوئی واضح دلیل لائے۔‘‘

آیت 39

اَمۡ لَہُ الۡبَنٰتُ وَ لَکُمُ الۡبَنُوۡنَ ﴿ؕ۳۹﴾

’’کیا اُس کے لیے توبیٹیاں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے؟‘‘

آیت 40

اَمۡ تَسۡـَٔلُہُمۡ اَجۡرًا فَہُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ ﴿ؕ۴۰﴾

’’کیا آپ ان لوگوں سے کوئی اجرت طلب کر رہے ہیں کہ یہ تاوان کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں؟‘‘

یہاں پر پے در پے سوالات کا انداز خصوصی تاثیر کا حامل ہے۔ یہ مقام زورِ خطابت‘ فصاحت‘ بلاغت‘ ادبیت اور عذوبت کے حوالے سے گویا قرآن کی معراج ہے ۔ظاہر بات ہے ان تمام سوالات کا جواب نفی میں ہے۔

آیت 41

اَمۡ عِنۡدَہُمُ الۡغَیۡبُ فَہُمۡ یَکۡتُبُوۡنَ ﴿ؕ۴۱﴾

’’کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہیں؟‘‘

آیت 42

اَمۡ یُرِیۡدُوۡنَ کَیۡدًا ؕ فَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ہُمُ الۡمَکِیۡدُوۡنَ ﴿ؕ۴۲﴾

’’کیا یہ لوگ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں؟اصل میں تو یہ کافر خود ہی چال کا شکار ہو گئے ہیں۔‘‘

یہ لوگ ایک منصوبہ بندی کے تحت ہمارے رسولﷺاور قرآن کے خلاف جھوٹی باتیں پھیلا رہے ہیں تاکہ عوام ان سے متاثر نہ ہوں۔ لیکن ان کی یہ باتیں اس قدر بودی ہیں کہ خود ان کے اپنے دل بھی ان کو نہیں مانتے۔

ان کی سازشوں کو اللہ تعالیٰ اسی طرح ناکام کرتا رہتا ہے‘ جیسا کہ سورۃ الطارق میں فرمایا گیا : {اِنَّہُمۡ یَکِیۡدُوۡنَ کَیۡدًا ﴿ۙ۱۵﴾وَّ اَکِیۡدُ کَیۡدًا ﴿ۚۖ۱۶﴾} ’’یہ لوگ تو اپنی تدبیروں میں لگے ہوئے ہیں اور میں اپنی تدبیر کر رہا ہوں۔‘‘

آیت 43

اَمۡ لَہُمۡ اِلٰہٌ غَیۡرُ اللّٰہِ ؕ سُبۡحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۴۳﴾

’’کیا ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ بھی ہے ؟پاک ہے اللہ اس سے جو شرک یہ کر رہے ہیں۔‘‘

44-47

مخالفینِ حق پر دو عذاب آئیں گے

ویڈیو

وَ اِنۡ یَّرَوۡا کِسۡفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا یَّقُوۡلُوۡا سَحَابٌ مَّرۡکُوۡمٌ ﴿۴۴﴾ فَذَرۡہُمۡ حَتّٰی یُلٰقُوۡا یَوۡمَہُمُ الَّذِیۡ فِیۡہِ یُصۡعَقُوۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾ یَوۡمَ لَا یُغۡنِیۡ عَنۡہُمۡ کَیۡدُہُمۡ شَیۡئًا وَّ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿ؕ۴۶﴾ وَ اِنَّ لِلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا عَذَابًا دُوۡنَ ذٰلِکَ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۷﴾

آیت 44

وَ اِنۡ یَّرَوۡا کِسۡفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا یَّقُوۡلُوۡا سَحَابٌ مَّرۡکُوۡمٌ ﴿۴۴﴾

’’اور اگر کبھی یہ دیکھیں آسمان کا کوئی ٹکڑا گرتا ہوا تو کہیں گے کہ یہ تو بادل ہیں تہ بر تہ۔‘‘

ان کی حالت تو یہ ہے کہ اگر آسمان کا کوئی ٹکڑا بھی عذابِ الٰہی بن کر ان پر گر رہا ہو تو اسے بھی یہ لوگ بارش برسانے والا بادل ہی سمجھیں گے۔جیسا کہ قومِ عاد کے لوگوں نے اپنی طرف بڑھتے ہوئے عذاب کو دیکھ کر کہا تھا : {ہٰذَا عَارِضٌ مُّمۡطِرُنَا ؕ } (الاحقاف:۲۴) ’’یہ تو بادل ہے جو ہم کو سیراب کرنے والا ہے‘‘۔ یہ بادل برسیں گے تو ہمارے علاقے میں جل تھل کر دیں گے۔

آیت 45

فَذَرۡہُمۡ حَتّٰی یُلٰقُوۡا یَوۡمَہُمُ الَّذِیۡ فِیۡہِ یُصۡعَقُوۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾

’’تو (اے نبیﷺ!) چھوڑے رکھیے ان کو‘ یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے دوچار ہوں جس میں ان پر بجلی کی کڑک گرے گی۔‘‘

’’چھوڑ دینے‘‘ کے مفہوم میں یہ حکم ابتدائی زمانے کی سورتوں میں تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ جیسے سورۃ المعارج میں فرمایا گیا: {فَذَرۡہُمۡ یَخُوۡضُوۡا وَ یَلۡعَبُوۡا حَتّٰی یُلٰقُوۡا یَوۡمَہُمُ الَّذِیۡ یُوۡعَدُوۡنَ ﴿ۙ۴۲﴾} ’’تو (اے پیغمبرﷺ!) ان کو باطل میں پڑے رہنے اور کھیل لینے دو یہاں تک کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ان کے سامنے آ موجود ہو‘‘۔سورۃ القلم میں فرمایا گیا : {فَذَرۡنِیۡ وَ مَنۡ یُّکَذِّبُ بِہٰذَا الۡحَدِیۡثِ ؕ سَنَسۡتَدۡرِجُہُمۡ مِّنۡ حَیۡثُ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۴﴾} ’’تو آپ مجھ کو اس کلام کے جھٹلانے والوں سے سمجھ لینے دیں۔ ہم ان کو آہستہ آہستہ ایسے طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہو گی‘‘۔اس حکم کے تکرار کا مطلب یہی ہے کہ اے نبیﷺ! آپ ان لوگوں کے تمسخر‘ استہزاء اور دیگر مخالفانہ ہتھکنڈوں کو بالکل خاطر میں نہ لائیں اور تبلیغ و تذکیر کے حوالے سے اپنا مشن جاری رکھیں ۔ان لوگوں کے معاملے کو آپؐ مجھ پر چھوڑ دیں ‘ان سے میں خود نمٹ لوں گا۔

آیت 46

یَوۡمَ لَا یُغۡنِیۡ عَنۡہُمۡ کَیۡدُہُمۡ شَیۡئًا وَّ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿ؕ۴۶﴾

’’جس دن ان کی چالیں ان کے کسی کام نہ آ سکیں گی اور نہ ہی ان کی کوئی مدد ہی ہو گی۔‘‘

ان کی ساری چالیں ناکام ہو جائیں گی اور کوئی مددگار ان کی مدد کو نہ پہنچ سکے گا۔

آیت 47

وَ اِنَّ لِلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا عَذَابًا دُوۡنَ ذٰلِکَ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۷﴾

’’اور ان ظالموں کے لیے اُس (آخرت کے عذاب) کے علاوہ بھی ایک عذاب ہے لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی۔‘‘

اس عذاب سے یا تو قحط مکہ کا عذاب مراد ہے جس کا ذکر سورۃ الدخان میں ہے اور یا پھر غزوۂ بدر کے دن کا عذاب جس دن مکہ کے ستر سردار مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔

یوٹیوب پر دیکھیے