تحریر

الطور

آیات ۱۷ تا ۲۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

17-20

متقیوں کا حسین انجام

ویڈیو

اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیۡمٍ ﴿ۙ۱۷﴾ فٰکِہِیۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمۡ رَبُّہُمۡ ۚ وَ وَقٰہُمۡ رَبُّہُمۡ عَذَابَ الۡجَحِیۡمِ ﴿۱۸﴾ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا ہَنِیۡٓـًٔۢا بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿ۙ۱۹﴾ مُتَّکِئِیۡنَ عَلٰی سُرُرٍ مَّصۡفُوۡفَۃٍ ۚ وَ زَوَّجۡنٰہُمۡ بِحُوۡرٍ عِیۡنٍ ﴿۲۰﴾

آیت 17

اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیۡمٍ ﴿ۙ۱۷﴾

’’یقینا متقی لوگ باغات میں اور نعمتوں میں ہوں گے۔‘‘

آیت 18

فٰکِہِیۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمۡ رَبُّہُمۡ ۚ

’’وہ مزے کر رہے ہوں گے ان نعمتوں کے ساتھ جو ان کے رب نے انہیں عطا کی ہوں گی۔‘‘

وَ وَقٰہُمۡ رَبُّہُمۡ عَذَابَ الۡجَحِیۡمِ ﴿۱۸﴾

’’اور بچا لے گا انہیں ان کا ربّ جہنم کے عذاب سے۔‘‘

آیت 19

کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا ہَنِیۡٓـًٔۢا بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿ۙ۱۹﴾

’’اور کھاؤ پیو رچتا پچتا‘اُن اعمال کا صلہ جو تم کرتے رہے ہو۔‘‘

قبل ازیں بھی متعدد مرتبہ ذکر ہو چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل جنت کی قدر افزائی کے لیے جنت اور اس کی نعمتوں کو ان کے اعمال کا صلہ قرار دیا جائے گا‘جبکہ اہل جنت بار بار یہ اقرار کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار! یہ تیرا فضل ہے جو تونے ہمیں بخش دیااور جنت کی نعمتوں سے سرفراز فرمایا ‘ورنہ ہم اس قابل ہرگز نہ تھے۔

آیت 20

مُتَّکِئِیۡنَ عَلٰی سُرُرٍ مَّصۡفُوۡفَۃٍ ۚ

’’وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے ان تختوں پر جو برابر بچھے ہوں گے صف درصف۔‘‘

وَ زَوَّجۡنٰہُمۡ بِحُوۡرٍ عِیۡنٍ ﴿۲۰﴾

’’اورا نہیں ہم بیاہ دیں گے بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کے ساتھ۔‘‘

21

نیک اولاد جنت میں ساتھ ہوگی

ویڈیو

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ اتَّبَعَتۡہُمۡ ذُرِّیَّتُہُمۡ بِاِیۡمَانٍ اَلۡحَقۡنَا بِہِمۡ ذُرِّیَّتَہُمۡ وَ مَاۤ اَلَتۡنٰہُمۡ مِّنۡ عَمَلِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ ؕ کُلُّ امۡرِیًٔۢ بِمَا کَسَبَ رَہِیۡنٌ ﴿۲۱﴾

آیت 21

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ اتَّبَعَتۡہُمۡ ذُرِّیَّتُہُمۡ بِاِیۡمَانٍ اَلۡحَقۡنَا بِہِمۡ ذُرِّیَّتَہُمۡ

’’اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ان کی پیروی کی ایمان کے ساتھ‘ ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ ان کی اس اولاد کو‘‘

قبل ازیں اس مضمون کا ذکر سورۃ المؤمن میں حاملین عرش اور ان کے ساتھی فرشتوں کی دعا کے ضمن میں بھی آ چکا ہے۔ وہ اللہ کے حضور مؤمنین کے لیے یوں دعا کر رہے ہوں گے : {رَبَّنَا وَ اَدۡخِلۡہُمۡ جَنّٰتِ عَدۡنِۣ الَّتِیۡ وَعَدۡتَّہُمۡ وَ مَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآئِہِمۡ وَ اَزۡوَاجِہِمۡ وَ ذُرِّیّٰتِہِمۡ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ۙ﴿۸﴾} ’’اے ہمارے پروردگار! انہیں داخل فرما نااُن رہنے والے باغات میں جن کا تو نے ان سے وعدہ کیاہے اور (ان کو بھی) جو نیک ہوں ان کے آباء و اَجداد‘ ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے۔تویقینا زبردست ہے‘ کمالِ حکمت والا ہے‘‘۔اب زیرمطالعہ آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے اس کریمانہ فیصلے کا خود اعلان فرما رہے ہیں کہ ہم اہلِ جنت کی اولاد کو ان کے ساتھ ملا دیں گے۔ یعنی نچلے درجے کی جنت کے مستحق افراد کو بھی ان کے والدین کے برابر لے آئیں گے جو اعلیٰ درجات کی جنتوں میں متمکن ہوں گے۔

وَ مَاۤ اَلَتۡنٰہُمۡ مِّنۡ عَمَلِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ ؕ

’’اور ہم اُن کے عمل میں سے کوئی کمی نہیں کریں گے۔‘‘

یعنی اگر کوئی شخص اعلیٰ درجے کی جنت میں ہے اور اس کے اہل و عیال نسبتاً نچلے درجے میں ہیں تو یہ نہیں ہو گا کہ اس شخص کو اس کے اہل و عیال کے پاس نچلے درجے میں بھیج دیا جائے بلکہ اس کے اہل وعیال کے درجات بلند کر کے اس کے برابر کر دیا جائے گا۔ گویا اہل جنت کے اکرام کے لیے یہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل ہو گا کہ ان کے رشتے داروں میں سے جو کوئی کم سے کم درجے کی جنت کا بھی مستحق ہوجائے گا اسے ترقی دے کر ان کے اعلیٰ جنتوں والے رشتے داروں سے ملا دیا جائے گا تاکہ انہیں آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب ہو۔

کُلُّ امۡرِیًٔۢ بِمَا کَسَبَ رَہِیۡنٌ ﴿۲۱﴾

’’ہر انسان اپنی کمائی کے عوض رہن ہو گا۔‘‘

22-24

جنت کی نعمتیں

ویڈیو

وَ اَمۡدَدۡنٰہُمۡ بِفَاکِہَۃٍ وَّ لَحۡمٍ مِّمَّا یَشۡتَہُوۡنَ ﴿۲۲﴾ یَتَنَازَعُوۡنَ فِیۡہَا کَاۡسًا لَّا لَغۡوٌ فِیۡہَا وَ لَا تَاۡثِیۡمٌ ﴿۲۳﴾ وَ یَطُوۡفُ عَلَیۡہِمۡ غِلۡمَانٌ لَّہُمۡ کَاَنَّہُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّکۡنُوۡنٌ ﴿۲۴﴾

آیت 22

وَ اَمۡدَدۡنٰہُمۡ بِفَاکِہَۃٍ وَّ لَحۡمٍ مِّمَّا یَشۡتَہُوۡنَ ﴿۲۲﴾

’’اور ہم انہیں دیے چلے جائیں گے پھل اور گوشت جس سے وہ چاہیں گے۔‘‘

آیت 23

یَتَنَازَعُوۡنَ فِیۡہَا کَاۡسًا لَّا لَغۡوٌ فِیۡہَا وَ لَا تَاۡثِیۡمٌ ﴿۲۳﴾

’’اس میں وہ ایک دوسرے سے چھین رہے ہوں گے وہ جام جن (کے مشروب) میں نہ تو کوئی بے ہودگی ہو گی اور نہ ہی گناہ میں ڈالنے والی کوئی بات۔‘‘

یہ اہل جنت کی دوستانہ محفلوں کی رونق اور چہل پہل کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے کہ وہ خوش طبعی کے انداز میں ایک دوسرے سے جام چھین رہے ہوں گے۔ اہل جنت کو جو مشروب ملے گا اس میں کیف و سرور تو ہو گا لیکن دنیا کی شراب کی طرح بے ہودگی کی کوئی کیفیت نہیں ہو گی۔

آیت 24

وَ یَطُوۡفُ عَلَیۡہِمۡ غِلۡمَانٌ لَّہُمۡ کَاَنَّہُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّکۡنُوۡنٌ ﴿۲۴﴾

’’اور ان پر گردش میں رہیں گے نوجوان لڑکے ان کی خدمت کے لیے‘ وہ ایسے ہوں گے جیسے موتی ہوں غلافوں میں رکھے ہوئے۔‘‘

25-28

گھر میں خدا خوفی اختیار کرنے کا انعام

ویڈیو

وَ اَقۡبَلَ بَعۡضُہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ یَّتَسَآءَلُوۡنَ ﴿۲۵﴾ قَالُوۡۤا اِنَّا کُنَّا قَبۡلُ فِیۡۤ اَہۡلِنَا مُشۡفِقِیۡنَ ﴿۲۶﴾ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیۡنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوۡمِ ﴿۲۷﴾ اِنَّا کُنَّا مِنۡ قَبۡلُ نَدۡعُوۡہُ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡبَرُّ الرَّحِیۡمُ ﴿٪۲۸﴾

آیت 25

وَ اَقۡبَلَ بَعۡضُہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ یَّتَسَآءَلُوۡنَ ﴿۲۵﴾

’’اور وہ (اہل جنت) ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے باہم سوال کریں گے۔‘‘

آیت 26

قَالُوۡۤا اِنَّا کُنَّا قَبۡلُ فِیۡۤ اَہۡلِنَا مُشۡفِقِیۡنَ ﴿۲۶﴾

’’وہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے اہل و عیال میں ڈرتے ہوئے رہتے تھے۔‘‘

دنیا میں اپنے اہل و عیال اور عزیز و اقارب کے درمیان معمول کی زندگی بسر کرتے ہوئے ہمیں ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ نہ معلوم ہمارے اعمال اللہ تعالیٰ کے ہاں شرفِ قبولیت حاصل کر بھی پائیں گے یا نہیں۔ نہ معلوم نیک اعمال کی قبولیت کے لیے مطلوبہ معیار کا اخلاص ہمارے دلوں میں ہے بھی یا نہیں۔ کہیں ہم سے کوئی ایسی غلطی سرزد نہ ہو جائے جو ہماری ساری محنت کو بھی اکارت کر دے ۔ایسے اندیشے اور خدشے ہر لمحہ ہمیں دامن گیر رہتے تھے۔

آیت 27

فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیۡنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوۡمِ ﴿۲۷﴾

’’تو اللہ نے بڑا احسان کیا ہم پر اور ہمیں بچا لیا لو کے عذاب سے ۔‘‘

آیت 28

اِنَّا کُنَّا مِنۡ قَبۡلُ نَدۡعُوۡہُ ؕ

’’یقیناہم پہلے سے اس کو پکارا کرتے تھے۔‘‘

البتہ یہ ضرور تھا کہ اپنی دنیوی زندگی میں ہم اپنی مغفرت کے لیے اللہ تعالیٰ سے مسلسل دعائیں کرتے رہتے تھے۔

اِنَّہٗ ہُوَ الۡبَرُّ الرَّحِیۡمُ ﴿٪۲۸﴾

’’یقینا وہ بہت ہی اچھا سلوک کرنے والا‘ بہت رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے