سورۃ الطور کے آغاز میں پانچ قسموں کا ذکر ہے ۔ان قسموں کے مفہوم کا تعین کرنا مشکلات القرآن میں سے ہے ۔ سورۃ الطور اور سورۃ الذاریات کے درمیان نسبت زوجیت اور گہری مشابہت پائی جاتی ہے۔ مثلاً دونوں سورتوں کے آغاز کا اسلوب بھی ایک جیسا ہے۔ دونوں کے آغاز میں پے درپے قسمیں کھائی گئی ہیں اور دونوں کی قسموں کا مقسم علیہ بھی ایک ہے۔ سورۃ الذاریات کی قسموں کے بعد فرمایا گیا: {اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ ۙ﴿۵﴾وَّ اِنَّ الدِّیۡنَ لَوَاقِعٌ ؕ﴿۶﴾} جبکہ سورۃ الطور کی قسموں کے مقسم علیہ کا ذکر یوں ہوا: {اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ ۙ﴿۷﴾مَّا لَہٗ مِنۡ دَافِعٍ ۙ﴿۸﴾} ۔اس کے بعد سورۃ الذاریات میں جنت اور دوزخ کی کیفیات کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور بالکل اسی انداز سے یہ مضمون سورۃ الطور میں بھی آیا ہے۔ پھر سورۃ الذاریات کے دوسرے رکوع میں نہایت اختصار کے ساتھ انباءِ الرسل کاتذکرہ ہے جبکہ سورۃ الطور میں اس کے مقابل تذکیر بالآء اللہ یعنی اللہ کی قدرتوں اور اس کی صفاتِ کاملہ کا ذکر ہے۔
طور عام پہاڑ کو بھی کہا جاتا ہے ‘لیکن ’’الطُّور‘‘ سے مراد وہ خاص پہاڑ (طورِ سینین) ٭
ہے جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے تھے۔
٭ اس کا تذکرہ سورۃ التِّیْن میں بایں الفاظ ہوا ہے : {وَ طُوۡرِ سِیۡنِیۡنَ ۙ﴿۲﴾} ’’اور قسم ہے طورِ سینین کی!‘‘
آیت 2
وَ کِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍ ۙ﴿۲﴾
’’اور اس کتاب کی قسم جو لکھی ہوئی ہے۔‘‘
اس بارے میں غالب گمان یہی ہے کہ اس سے مراد تورات ہے ‘کیونکہ تورات پتھر کی تختیوں پر لکھی ہوئی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عطا کی گئی تھی ‘جبکہ قرآن قلبِ محمدﷺ پر براہِ راست نازل ہوا تھا۔
آیت 3
فِیۡ رَقٍّ مَّنۡشُوۡرٍ ۙ﴿۳﴾
’’کشادہ ورق میں۔‘‘
یعنی وہ تختیاں خوب کشادہ تھیں جن پر تورات کی عبارت تحریر تھی۔ گویا یہ تین قسمیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حالات سے متعلق ہیں۔ کوہِ طور پر آپؑ کو مکالمہ الٰہی سے سرفراز فرمایا گیا اور آپؑ کو ایک ایسی کتاب عطا کی گئی جو کشادہ تختیوں پر لکھی ہوئی تھی۔
آیت 4
وَّ الۡبَیۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِ ۙ﴿۴﴾
’’اور قسم ہے آباد گھر کی ۔‘‘
’’البَیْتِ الْمَعْمُوْر‘‘ سے بعض مفسرین بیت اللہ مراد لیتے ہیں کہ اس میں طواف اور عبادت کے لیے ہر وقت لوگ موجود رہتے ہیں۔ بعض دوسرے مفسرین کی رائے میں اس سے مراد خانہ کعبہ کے عین اوپر ساتویں آسمان میں فرشتوں کا کعبہ ہے جو ہر وقت ’’معمور‘‘ رہتا ہے ‘ جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔ اس کے علاوہ بعض مفسرین کی رائے میں اس سے دنیا مراد ہے جو طرح طرح کی مخلوق سے معمور ہے اور مجھے ذاتی طو رپر اس رائے سے اتفاق ہے۔ اس لیے کہ بعد والی قسم اسی مفہوم سے مناسبت رکھتی ہے۔
آیت 5
وَ السَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِ ۙ﴿۵﴾
’’اور قسم ہے اونچی چھت کی ۔‘‘
اس سے آسمان مراد ہے ۔پچھلی آیت کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ یہ دنیا ایک گھر کی مانند ہے جس میں انسان آبادہیں اور آسمان اس گھر کی چھت ہے۔
آیت 6
وَ الۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِ ۙ﴿۶﴾
’’اور قسم ہے اُبلتے ہوئے سمندر کی ۔‘‘
اس سے سمندر کی وہ کیفیت مراد ہے جسے ہم اپنی زبان میں’’موج زن سمندر‘‘ یا ’’ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر‘‘ کہہ کر بیان کرتے ہیں۔ سمندر کو دیکھنے سے واقعتا ایسے محسوس بھی ہوتا ہے جیسے یہ جوش سے اُبل رہا ہے۔ بہرحال جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے ان قسموں کے معانی و مفاہیم کے بارے میں مفسرین میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔البتہ ان قسموں کا مقسم علیہ وہی ہے جو کہ سورۃ الذاریات کی قسموں کا مقسم علیہ ہے۔
آیت 7
اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ ۙ﴿۷﴾
’’تیرے رب کا عذاب یقینا واقع ہو کر رہے گا ۔‘‘
اس سے قیامت کا سخت دن مراد ہے جس کے اٹل ہونے کی حقیقت کو سورۃ الشوریٰ کی آیت ۴۷ میں {یَوۡمٌ لَّا مَرَدَّ لَہٗ } ’’وہ دن جسے لوٹایا نہ جا سکے گا‘‘کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
’’اب داخل ہو جاؤ اس میں ‘تم خواہ صبر کرو یا نہ کرو‘ اب تمہارے حق میں برابر ہے ۔‘‘
اب تمہارے جزع فزع کرنے اور چیخنے چلانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ اب یہاں کوئی تمہاری مدد کو نہیں آئے گا۔تمہارے پاس اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اس میں خاموشی سے داخل ہو جاؤ اور اس کی سختیوں کو صبر سے برداشت کرو۔