وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ ﴿۵۶﴾
’’اور میں نے نہیں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر صرف اس لیے کہ وہ میری بندگی کریں۔‘‘
شیخ سعدیؒ نے اس مفہوم کی ترجمانی اس طرح کی ہے : ؎
زندگی آمد برائے بندگی
زندگی بے بندگی شرمندگی!
یہ آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں تخلیق انسانی کی غایت بیان کی گئی ہے۔ کائنات کی تخلیق کے حوالے سے عام طو رپر ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس تخلیق کا سبب کیا ہے؟ یہ ایک مشکل اور پیچیدہ سوال ہے جس کے جواب میں ہر زمانے کے فلاسفر اور حکماء نے اپنی اپنی آراء دی ہیں ۔یہ ان تفاصیل میں جانے کا موقع نہیں۔ ایک عام شخص کے لیے تخلیق کائنات کے سبب کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا ضروری نہیں اور اس لاعلمی کی وجہ سے اسے کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ بھی نہیں ۔البتہ اپنی تخلیق کی غرض و غایت کے بارے میں جاننا ہر انسان کے لیے ضروری ہے۔ اگر انسان کو اپنی غایت تخلیق ہی کا علم نہیں ہو گا تو گویااس کی ساری زندگی رائیگاں جائے گی۔ چنانچہ اس آیت میں بنی نوع انسان کو ان کی غایت تخلیق واضح طو رپر بتا دی گئی ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ’’بندگی‘‘ کے لیے پیدا کیا ہے۔
بندگی یا عبادت کے بارے میں قبل ازیں بھی میں نے کئی مرتبہ وضاحت کی ہے کہ اس کے تین حصے ہیں: اوّلاًہمہ تن اطاعت ‘ ثانیاًاطاعت کی روح یعنی اللہ تعالیٰ کی غایت درجے کی محبت۔ عبادت اصلاً ان دوچیزوں کے مجموعے کا نام ہے (اَلْعِبَادَۃُ تَجْمَعُ اَصْلَیْنِ : غَایَۃَ الْحُبِّ مَعَ غَایَۃِ الذُّلِّ وَالْخُضُوْعِ) ۔ جبکہ تیسری چیز مراسمِ عبودیت ہے ‘ جس کی حیثیت عبادت کے ظاہر یا جسم کی ہے۔ مثلاً اللہ کے سامنے عاجزی کی حالت (قنوت) میں کھڑے ہونا (قیام)‘ رکوع‘ سجدہ‘ حمدیہ کلمات ادا کرنا‘ نماز وغیرہ مراسم عبودیت ہیں اور ان کی اپنی اہمیت ہے۔ اگر ہم عبادت کی اس تعریف (اللہ تعالیٰ کی ہمہ تن اطاعت) کی روشنی میں آج اپنی حالت کا جائزہ لیں تو یہ تلخ حقیقت واضح ہو گی کہ ہم میں سے جو لوگ اپنے زعم میں شب و روز پابندی کے ساتھ اللہ کی عبادت پر کمر بستہ ہیں وہ بھی زیادہ سے زیادہ دس یا پندرہ فیصد تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر رہے ہیں۔اس کا واضح تر مطلب یہ ہے کہ ہماری زندگیوں کا غالب حصہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی اطاعت سے نکلا ہوا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اس پر کافرانہ نظام کا غلبہ ہے اور اس نظام کے تحت رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی ہمہ تن اطاعت ممکن ہی نہیں ۔ ان حالات میں ہم اللہ تعالیٰ کی اطاعت یا عبادت کے تقاضوں سے کیسے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں ؟اس سوال کا جواب جاننے کے خواہش مند حضرات اس موضوع پر میری کتب اور تقاریر سے استفادہ کر سکتے ہیں۔
آیت زیر مطالعہ کے حوالے سے یہاں پر مختصراً یہ سمجھ لیں کہ مادی وعلمی لحاظ سے انسان جس قدر چاہے ترقی کر لے اگر وہ اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت یا بندگی کے قالب میں ڈھالنے سے قاصر رہا تو انسانی سطح پر اس کی ساری زندگی بیکار اور رائیگاں ہے۔ علامہ اقبالؔ نے اپنے ان اشعار میں انسان کی اسی ناکامی کی طرف اشارہ کیا ہے : ؎
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا!
مَاۤ اُرِیۡدُ مِنۡہُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ
’’میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا‘‘
وَّ مَاۤ اُرِیۡدُ اَنۡ یُّطۡعِمُوۡنِ ﴿۵۷﴾
’’اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ مجھے کھلائیں ‘پلائیں۔‘‘
اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الۡقُوَّۃِ الۡمَتِیۡنُ ﴿۵۸﴾
’’یقینا اللہ ہی سب کو رزق دینے والا‘ قوت والا‘ زبردست ہے۔‘‘
فَاِنَّ لِلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ذَنُوۡبًا مِّثۡلَ ذَنُوۡبِ اَصۡحٰبِہِمۡ فَلَا یَسۡتَعۡجِلُوۡنِ ﴿۵۹﴾
’’پس ان ظالموں کا پیمانہ بھی لبریز ہو چکا ہے جس طرح ان کے ساتھیوں کا پیمانہ لبریز ہوا تھا‘ سو یہ مجھ سے جلدی نہ مچائیں۔‘‘
’’ذَنُوب‘‘ ایسے ڈول کو کہتے ہیں جو پانی وغیرہ سے لبالب بھرا ہوا ہو۔ مراد یہ کہ زمانہ ماضی میں عذاب کا شکار ہونے والی اقوام کی طرح ان کفار و مشرکین کی بداعمالیوں کا ڈول بھی لبریزہو چکا ہے اوریہ ڈول اب کسی وقت بھی کھینچا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اگر فوری طور پر ان کی پکڑ نہیں بھی ہو رہی تو اس سے وہ یہ نہ سمجھیں کہ انہیں یونہی چھوڑ دیا جائے گا ۔
فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ یَّوۡمِہِمُ الَّذِیۡ یُوۡعَدُوۡنَ ﴿٪۶۰﴾
’’تو ہلاکت اور بربادی ہے ان کافروں کے لیے اُس دن سے جس کا اُن سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔‘‘
٭٭٭