ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ ضَیۡفِ اِبۡرٰہِیۡمَ الۡمُکۡرَمِیۡنَ ﴿ۘ۲۴﴾
’’کیا آپؐ کے پاس ابراہیم ؑکے معزز مہمانوں کی خبرپہنچی ہے!‘‘
یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب فرشتے انسانی شکلوں میں مہمان بن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھر آئے تھے۔
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ ضَیۡفِ اِبۡرٰہِیۡمَ الۡمُکۡرَمِیۡنَ ﴿ۘ۲۴﴾ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَیۡہِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ؕ قَالَ سَلٰمٌ ۚ قَوۡمٌ مُّنۡکَرُوۡنَ ﴿ۚ۲۵﴾ فَرَاغَ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِیۡنٍ ﴿ۙ۲۶﴾ فَقَرَّبَہٗۤ اِلَیۡہِمۡ قَالَ اَلَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۫۲۷﴾ فَاَوۡجَسَ مِنۡہُمۡ خِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ ؕ وَ بَشَّرُوۡہُ بِغُلٰمٍ عَلِیۡمٍ ﴿۲۸﴾ فَاَقۡبَلَتِ امۡرَاَتُہٗ فِیۡ صَرَّۃٍ فَصَکَّتۡ وَجۡہَہَا وَ قَالَتۡ عَجُوۡزٌ عَقِیۡمٌ ﴿۲۹﴾ قَالُوۡا کَذٰلِکِ ۙ قَالَ رَبُّکِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۰﴾
ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ ضَیۡفِ اِبۡرٰہِیۡمَ الۡمُکۡرَمِیۡنَ ﴿ۘ۲۴﴾
’’کیا آپؐ کے پاس ابراہیم ؑکے معزز مہمانوں کی خبرپہنچی ہے!‘‘
یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب فرشتے انسانی شکلوں میں مہمان بن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھر آئے تھے۔
اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَیۡہِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ؕ
’’جب وہ اس کے ہاں داخل ہوئے تو انہوں نے سلام کہا۔‘‘
قَالَ سَلٰمٌ ۚ قَوۡمٌ مُّنۡکَرُوۡنَ ﴿ۚ۲۵﴾
’’اس نے بھی (جواب میں) سلام کہا (اور دل میں کہا کہ) یہ تو کوئی اجنبی لوگ ہیں۔‘‘
فَرَاغَ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِیۡنٍ ﴿ۙ۲۶﴾
’’پھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کی طرف گیا اور ایک (بھنا ہوا) موٹا تازہ بچھڑا لے آیا۔‘‘
سورۂ ہود (آیت ۶۹) میں ’’عِجْلٍ حَنِیْذٍ‘‘ (بھنا ہوا بچھڑا) کے الفاظ آئے ہیں۔ پرانے زمانے کی دعوتیں اسی انداز سے ہوا کرتی تھیں کہ جانور ذبح کیا اور گھی میں تل کر یا بھون کر پورے کا پورا مہمانوں کے سامنے حاضر کردیا۔
فَقَرَّبَہٗۤ اِلَیۡہِمۡ قَالَ اَلَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۫۲۷﴾
’’پھر اسے ان کی طرف بڑھایا اور کہا کہ آپ لوگ کھاتے نہیں؟‘‘
فَاَوۡجَسَ مِنۡہُمۡ خِیۡفَۃً ؕ
’’تو اُس نے ان کی طرف سے دل میں اندیشہ محسوس کیا۔‘‘
مہمانوں کے کھانا تناول نہ کرنے پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اندیشہ لاحق ہوا کہ شاید یہ لوگ میرے دشمن ہیں‘ مجھے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور اسی لیے میرا نمک کھانے سے احتراز کر رہے ہیں۔ پرانے زمانے کے لوگ دشمنی میں بھی شرافت دکھاتے تھے ۔ اگر کسی کا نمک کھا لیا جاتا تواس کے بعد اسے نقصان پہنچانے کا نہیں سوچا جاتا تھا۔
قَالُوۡا لَا تَخَفۡ ؕ
’’انہوں نے کہا :آپ ڈریں نہیں۔‘‘
وَ بَشَّرُوۡہُ بِغُلٰمٍ عَلِیۡمٍ ﴿۲۸﴾
’’اور انہوں نے اسے بشارت دی ایک صاحب علم بیٹے کی۔‘‘
صاحب علم بیٹے سے مراد حضرت اسحاق علیہ السلام ہیں جن کی پیدائش کی بشارت فرشتوں نے دی ۔
فَاَقۡبَلَتِ امۡرَاَتُہٗ فِیۡ صَرَّۃٍ فَصَکَّتۡ وَجۡہَہَا وَ قَالَتۡ عَجُوۡزٌ عَقِیۡمٌ ﴿۲۹﴾
’’اس پر اُس کی بیوی سامنے آئی بڑبڑاتی ہوئی اور اس نے اپنا ماتھا پیٹ لیا اور کہنے لگی :بڑھیا بانجھ (بچہ جنے گی کیا)؟‘‘
کہ میں تو ساری عمر بانجھ رہی ہوں اور اب تومیری عمر بھی ماں بننے کی نہیں رہی ‘تو کیا اب میرے ہاں بیٹا پیداہو گا؟
قَالُوۡا کَذٰلِکِ ۙ قَالَ رَبُّکِ ؕ
’’انہوں نے کہا :ایسا ہی فرمایا ہے آپ کے رب نے۔‘‘
فرشتے جو انسانی شکل میں تھے انہوں نے جواب دیا :یقینا ایسے ہی ہو گا ۔ہم اپنی طرف سے یہ خبر نہیں دے رہے‘ بلکہ یہ آپ کے رب کا فیصلہ ہے ۔
اِنَّہٗ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۰﴾
’’یقینا وہ سب کچھ جاننے والا بھی ہے اور بہت حکمت والا بھی ۔‘‘
قَالَ فَمَا خَطۡبُکُمۡ اَیُّہَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿۳۱﴾ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰی قَوۡمٍ مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿ۙ۳۲﴾ لِنُرۡسِلَ عَلَیۡہِمۡ حِجَارَۃً مِّنۡ طِیۡنٍ ﴿ۙ۳۳﴾ مُّسَوَّمَۃً عِنۡدَ رَبِّکَ لِلۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿۳۴﴾ فَاَخۡرَجۡنَا مَنۡ کَانَ فِیۡہَا مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۚ۳۵﴾ فَمَا وَجَدۡنَا فِیۡہَا غَیۡرَ بَیۡتٍ مِّنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿ۚ۳۶﴾ وَ تَرَکۡنَا فِیۡہَاۤ اٰیَۃً لِّلَّذِیۡنَ یَخَافُوۡنَ الۡعَذَابَ الۡاَلِیۡمَ ﴿ؕ۳۷﴾
قَالَ فَمَا خَطۡبُکُمۡ اَیُّہَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿۳۱﴾
’’ابراہیم نے پوچھا کہ اے ایلچیو! پھر آپ لوگوں کا مقصد کیا ہے؟‘‘
آپ کا قصد اور ارادہ کیا ہے؟ کیاخصوصی مہم آ پ کو درپیش ہے؟
قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰی قَوۡمٍ مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿ۙ۳۲﴾
’’انہوں نے کہا :ہم بھیجے گئے ہیں ایک مجرم قوم کی طرف۔‘‘
لِنُرۡسِلَ عَلَیۡہِمۡ حِجَارَۃً مِّنۡ طِیۡنٍ ﴿ۙ۳۳﴾
’’تاکہ ہم ان پر بارش برسائیں کنکریوں کی۔‘‘
مُّسَوَّمَۃً عِنۡدَ رَبِّکَ لِلۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿۳۴﴾
’’جو نشان زدہ ہیں آپ کے رب کے پاس حد سے بڑھ جانے والوں کے لیے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے ہر کنکری کو ان کے ایک خاص فرد کے لیے مخصوص کر رکھا ہے جو اس کے لیے گولی (bullet) کا کام کر ے گی۔
فَاَخۡرَجۡنَا مَنۡ کَانَ فِیۡہَا مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۚ۳۵﴾
’’پھر ہم نے نکال لیا جو بھی اس بستی میں تھے اہل ایمان۔‘‘
فَمَا وَجَدۡنَا فِیۡہَا غَیۡرَ بَیۡتٍ مِّنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿ۚ۳۶﴾
’’تو نہیں پایا ہم نے اس میں سوائے ایک گھر کے کسی کو مسلمانوں میں سے۔‘‘
یعنی حضرت لوط علیہ السلام کے ایک گھر کے سوا اس پوری قوم میں اور کوئی بھی مسلمان نہیں تھا۔
وَ تَرَکۡنَا فِیۡہَاۤ اٰیَۃً لِّلَّذِیۡنَ یَخَافُوۡنَ الۡعَذَابَ الۡاَلِیۡمَ ﴿ؕ۳۷﴾
’’اور ہم نے اس میں ایک نشانی چھوڑ دی ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہوں دردناک عذاب سے۔‘‘
قومِ لوط کی بستیاں (سدوم اور عامورہ) سمندر کے کنارے پرآباد تھیں ‘ جو اب بحیرۂ مردار (Dead Sea) کہلاتا ہے۔ ان بستیوں کے بارے میں یہی اندازہ تھا کہ جب زلزلے سے یہ علاقہ تلپٹ ہوا ہو گاتو یہ بستیاں سمندر میں غرق ہو گئی ہوں گی۔ اب اس کی تصدیق بھی ہو گئی ہے اور بحیرۂ مردارکی تہہ میں ان شہروں کے کھنڈرات کو دریافت بھی کر لیا گیا ہے۔ یہاں نشانی سے مراد یہی کھنڈرات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے رہتی دنیا تک لوگوں کی عبرت کے لیے ظاہر فرما دیا ہے۔
وَ فِیۡ مُوۡسٰۤی اِذۡ اَرۡسَلۡنٰہُ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۳۸﴾ فَتَوَلّٰی بِرُکۡنِہٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوۡ مَجۡنُوۡنٌ ﴿۳۹﴾ فَاَخَذۡنٰہُ وَ جُنُوۡدَہٗ فَنَبَذۡنٰہُمۡ فِی الۡیَمِّ وَ ہُوَ مُلِیۡمٌ ﴿ؕ۴۰﴾
وَ فِیۡ مُوۡسٰۤی اِذۡ اَرۡسَلۡنٰہُ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۳۸﴾
’’اور موسیٰ کے معاملے میں بھی (نشانی ہے) جب ہم نے اسے بھیجا فرعون کی طرف کھلی سند دے کر۔‘‘
فَتَوَلّٰی بِرُکۡنِہٖ
’’تو اُس نے منہ موڑ لیا اپنی شان وشوکت کے گھمنڈ میں‘‘
وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوۡ مَجۡنُوۡنٌ ﴿۳۹﴾
’’اور کہا کہ یہ ساحر ہے یا مجنون ہے۔‘‘
یعنی فرعون نے بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وہی القابات دیے تھے جو اہل مکہ حضورﷺ کو دے رہے تھے۔
فَاَخَذۡنٰہُ وَ جُنُوۡدَہٗ فَنَبَذۡنٰہُمۡ فِی الۡیَمِّ وَ ہُوَ مُلِیۡمٌ ﴿ؕ۴۰﴾
’’سو ہم نے پکڑا اُس کو اور اُس کے لشکروں کواور انہیں پھینک دیا سمندر میں اور وہ ملامت زدہ تھا۔‘‘
وَ فِیۡ عَادٍ اِذۡ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمُ الرِّیۡحَ الۡعَقِیۡمَ ﴿ۚ۴۱﴾ مَا تَذَرُ مِنۡ شَیۡءٍ اَتَتۡ عَلَیۡہِ اِلَّا جَعَلَتۡہُ کَالرَّمِیۡمِ ﴿ؕ۴۲﴾
وَ فِیۡ عَادٍ اِذۡ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمُ الرِّیۡحَ الۡعَقِیۡمَ ﴿ۚ۴۱﴾
’’اور قومِ عاد میں بھی (نشانی ہے) جب ہم نے اُن پرایک ایسی ہوا چھوڑ دی تھی جوہر خیر سے خالی تھی۔‘‘
عَقِیْم کے معنی بانجھ کے ہیں‘ یعنی ایسا مرد یا ایسی عورت جس کے اولاد پیدا نہ ہوتی ہو۔ قبل ازیں آیت ۲۹ میں یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے ۔ اس مفہوم میں اَلرِّیْحَ الْعَقِیْمَ سے مراد ایسی ہوا ہے جو ہر قسم کی خیر سے خالی تھی۔
مَا تَذَرُ مِنۡ شَیۡءٍ اَتَتۡ عَلَیۡہِ اِلَّا جَعَلَتۡہُ کَالرَّمِیۡمِ ﴿ؕ۴۲﴾
’’وہ نہیں چھوڑتی تھی کسی شے کو جس پر وہ آجاتی تھی مگر اُس کو چوراچورا کر کے رکھ دیتی تھی۔‘‘
وَ فِیۡ ثَمُوۡدَ اِذۡ قِیۡلَ لَہُمۡ تَمَتَّعُوۡا حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿۴۳﴾ فَعَتَوۡا عَنۡ اَمۡرِ رَبِّہِمۡ فَاَخَذَتۡہُمُ الصّٰعِقَۃُ وَ ہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ ﴿۴۴﴾ فَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مِنۡ قِیَامٍ وَّ مَا کَانُوۡا مُنۡتَصِرِیۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾ وَ قَوۡمَ نُوۡحٍ مِّنۡ قَبۡلُ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِیۡنَ ﴿٪۴۶﴾
وَ فِیۡ ثَمُوۡدَ اِذۡ قِیۡلَ لَہُمۡ تَمَتَّعُوۡا حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿۴۳﴾
’’اور اسی طرح ثمود کے معاملے میں بھی (نشانی ہے)جب ان سے کہا گیا کہ ایک خاص وقت تک کے لیے تم فائدہ اٹھا لو (دنیا کی نعمتوں سے)۔‘‘
فَعَتَوۡا عَنۡ اَمۡرِ رَبِّہِمۡ
’’تو انہوں نے سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے ‘‘
فَاَخَذَتۡہُمُ الصّٰعِقَۃُ وَ ہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ ﴿۴۴﴾
’’تو ان کے دیکھتے ہی دیکھتے ایک چنگھاڑ نے انہیں آپکڑا۔‘‘
فَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مِنۡ قِیَامٍ وَّ مَا کَانُوۡا مُنۡتَصِرِیۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾
’’تو نہ ان میں کھڑے ہونے کی سکت رہی اور نہ ہی اس قابل رہے کہ بدلہ لیتے۔‘‘
یعنی نہ تو وہ اُٹھ ہی سکے اور نہ اپنا بچاؤ ہی کر سکے۔
وَ قَوۡمَ نُوۡحٍ مِّنۡ قَبۡلُ ؕ
’’اور قومِ نوح کو بھی اس سے پہلے (ہم نے پکڑا)۔‘‘
اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِیۡنَ ﴿٪۴۶﴾
’’یقینا وہ بھی بڑے ہی نافرمان لوگ تھے۔‘‘
نوٹ کیجیے یہاں حضرت شعیب علیہ السلام کے سوا ان سب پیغمبروں کا ذکر آ گیا ہے جن کے حالات طویل مکی سورتوں میں تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ یعنی سورۃ الاعراف اور سورۂ ہود میں ایک ایک پیغمبر کا واقعہ عموماً ایک ایک رکوع میں بیان ہوا ہے لیکن یہاں ان کا ذکر ایک ایک دو دو آیات میں آیا ہے۔ گویا بعد میں نازل ہونے والی طویل مکی سورتوں میں انباء الرسل کی تفصیل بیان ہوئی ہے جبکہ زیر مطالعہ مکی سورتوں میں ان پیغمبروں کا ذکر انتہائی مختصر انداز میں آیا ہے۔