تحریر

الذاريات

آیات ۲۰ تا ۲۳

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

20-23

آیت انفسی وعرضی قیامت کے لئے دلیل ہیں

ویڈیو

وَ فِی الۡاَرۡضِ اٰیٰتٌ لِّلۡمُوۡقِنِیۡنَ ﴿ۙ۲۰﴾ وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۲۱﴾ وَ فِی السَّمَآءِ رِزۡقُکُمۡ وَ مَا تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۲۲﴾ فَوَ رَبِّ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ اِنَّہٗ لَحَقٌّ مِّثۡلَ مَاۤ اَنَّکُمۡ تَنۡطِقُوۡنَ ﴿٪۲۳﴾

آیت 20

وَ فِی الۡاَرۡضِ اٰیٰتٌ لِّلۡمُوۡقِنِیۡنَ ﴿ۙ۲۰﴾

’’اور زمین میں (ہر چہارطرف) نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لیے۔‘‘

سورۃ البقرۃ‘ آیت ۱۶۴ (آیت الآیات) میں اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں کا ذکر تفصیل کے ساتھ ہوا ہے۔

آیت 21

وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۲۱﴾

’’اور تمہاری اپنی جانوں میں بھی (نشانیاںہیں)۔ تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟‘‘

یعنی انسان کے جسم اور جسم کے ایک ایک نظام کے اندر اللہ تعالیٰ کی بے شمار نشانیاں موجود ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ان نشانیوں پر غور کرے۔مرزا بیدل ؔ نے اس خوبصورت شعر میں اسی مضمون کی ترجمانی کی ہے : ؎

ستم است گر ہوست کشد کہ بہ سیرِ سرو وسمن درآ

تو زغنچہ کم نہ دمیدۂ درِ دل کشا بہ چمن درآ!

اے انسان! بڑے ستم کی بات ہے اگر تجھے تیری خواہش نفس کسی باغ کی سیر کے لیے کھینچ کر لے جاتی ہے‘جبکہ خود تیری اپنی چمک دمک کسی پھول سے کم نہیں ہے۔ کبھی اپنے دل کا دروازہ کھول کر اس چمن کی سیر کے لیے بھی آؤ جو تمہاری روح کے اندر اللہ تعالیٰ نے مہکا رکھا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے ۔ انسان کو چاہیے کہ اپنی تخلیق اور اپنے وجود پر غور کرے اور اس اعتبار سے اپنے مقام و مرتبہ کو پہچانے۔ بقول مرزا بیدلؔ : ؎

ہر دو عالم خاک شد تا بست نقشِ آدمی

اے بہارِ نیستی از قدرِ خود ہوشیار باش!

(اس شعر کی تشریح سورۃ النحل کی آیت ۴۰ کے تحت بیان ہوئی ہے۔)

آیت 22

وَ فِی السَّمَآءِ رِزۡقُکُمۡ وَ مَا تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۲۲﴾

’’اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارا رز ق بھی طے شدہ ہے اور تمہارے جنت یا دوزخ میں جانے کا فیصلہ بھی اُسی کی مشیت سے ہوناہے۔

آیت 23

فَوَ رَبِّ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ اِنَّہٗ لَحَقٌّ مِّثۡلَ مَاۤ اَنَّکُمۡ تَنۡطِقُوۡنَ ﴿٪۲۳﴾

’’تو آسمانوں اور زمین کے رب کی قسم‘ یقینایہ حق ہے ‘بالکل ایسے جیسے (اِس وقت) تم بات چیت کررہے ہو۔‘‘

یعنی بعث بعد الموت شدنی ہے‘ برحق ہے‘ قیامت آ کر رہے گی۔

یوٹیوب پر دیکھیے