بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

الذاريات

آیات ۱ تا ۱۹

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۃ الذاریات کا آغاز چار قسموں سے ہو رہا ہے۔اس انداز سے شروع ہونے والی یہ قرآن مجید کی دوسری سورت ہے۔ اس سے پہلے ۲۳ویں پارے میں سورۃ الصّٰفّٰت ہے جس کے آغاز میں بالکل اسی انداز میں تین قسمیں کھائی گئی ہیں:

وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّا ۙ﴿۱﴾فَالزّٰجِرٰتِ زَجۡرًا ۙ﴿۲﴾فَالتّٰلِیٰتِ ذِکۡرًا ۙ﴿۳﴾اِنَّ اِلٰـہَکُمۡ لَوَاحِدٌ ﴿ؕ۴﴾

’’قسم ہے اُن (فرشتوں) کی جو قطار در قطار صفیں باندھے حاضر رہتے ہیں۔پھرقسم ہے اُن کی جو ڈانٹنے والے ہیں۔پھر قسم ہے اُن کی جو تلاوت کرنے والے ہیں ذکر کی۔یقینا تمہارا اِلٰہ ایک ہی ہے۔‘‘

سورۃ الصّٰفّٰت کا تعلق سورتوں کے جس گروپ سے ہے اس گروپ کا مرکزی مضمون توحید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت کے آغاز کی تین قسموں کے مقسم علیہ کا تعلق بھی توحید سے ہے: {اِنَّ اِلٰـہَکُمۡ لَوَاحِدٌ ﴿ؕ۴﴾} کہ یقینا تمہارا اِلٰہ ایک ہی ہے۔زیر مطالعہ گروپ کی سورتوں کا مرکزی مضمون چونکہ انذارِ آخرت ہے اس لیے سورۃ الذاریات کی قسموں کے بعد قیامت اور جزا و سزا کے واقع ہونے کی تصدیق کی گئی ہے : {اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ ۙ﴿۵﴾وَّ اِنَّ الدِّیۡنَ لَوَاقِعٌ ؕ﴿۶﴾}

جس طرح سورۃ الصّٰفّٰت کی قسموں کے بارے میں تقریباً سب علمائے تفسیر کا اتفاق ہے کہ وہ قسمیں فرشتوں کے بارے میں ہیں ‘اسی طرح سورۃ الذّٰرِیٰت کی قسموں کے بارے میں بھی تقریباً سب مفسرین متفق ہیں کہ ان میں ہواؤں کاذکر ہے۔

1-6

قیامت ضرور آئےگی

ویڈیو

وَالذّٰرِیٰتِ ذَرۡوًا ۙ﴿۱﴾ فَالۡحٰمِلٰتِ وِقۡرًا ۙ﴿۲﴾ فَالۡجٰرِیٰتِ یُسۡرًا ۙ﴿۳﴾ فَالۡمُقَسِّمٰتِ اَمۡرًا ۙ﴿۴﴾ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ ۙ﴿۵﴾ وَّ اِنَّ الدِّیۡنَ لَوَاقِعٌ ؕ﴿۶﴾

آیت 1

وَالذّٰرِیٰتِ ذَرۡوًا ۙ﴿۱﴾

’’قسم ہے اُن ہواؤں کی جو بکھیرنے والی ہیں جیسے کہ بکھیرا جاتا ہے۔‘‘

ہوائیں بہت سی چیزوں کو بکھیرتی ہیں۔ مثلاً پودوں کے پھولوں کے زردانے (pollens) ہواؤں کی مدد سے ایک پودے سے دوسرے تک پہنچ کر اسے بارور کرتے ہیں۔اسی طرح بہت سے درختوں کے بیج ہواؤں کے دوش پر سفر کرتے ہوئے دور دراز علاقوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ یوں ہوائیں پودوں کے پھلنے پھولنے اور جنگلات کے بڑھانے میں بھی مدد دیتی ہیں۔

آیت 2

فَالۡحٰمِلٰتِ وِقۡرًا ۙ﴿۲﴾

’’پھر بوجھ اٹھا کر لانے والی ہیں۔‘‘

ہوائیں اربوں کھربوں ٹن پانی سمندر سے اٹھا کر بادلوں کی شکل میں ہزاروں میل دور لے جاتی ہیں اور پھر مختلف علاقوں میں بارش برساتی ہیں۔

آیت 3

فَالۡجٰرِیٰتِ یُسۡرًا ۙ﴿۳﴾

’’پھر نرمی سے چلنے والی ہیں۔‘‘

کبھی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا اس طرح چلتی ہے کہ اس کے ہلکے ہلکے جھونکے نباتات و حیوانات سب کے لیے بہت فرحت بخش ہوتے ہیں۔

آیت 4

فَالۡمُقَسِّمٰتِ اَمۡرًا ۙ﴿۴﴾

’’پھر اللہ کے امر کو تقسیم کرنے والی ہیں۔‘‘

اس سے مراد بارش کے پانی کی تقسیم ہے۔ بادل کی شکل میں سمندر کے پانی کو ہوائیں مختلف علاقوں میں اڑائے پھرتی ہیں‘ مگر کس جگہ بارش ہوگی اور کس جگہ نہیں ہوگی اور جہاں ہو گی وہاں کس قدر ہو گی ‘یہ سب کچھ تو اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ اللہ کے اس امر (حکم) کی تقسیم ہوائوں کے ذریعے سے ہی ہوتی ہے۔ اس تقسیم کا مشاہدہ ہم آئے دن کرتے ہیں۔ چنانچہ بعض علاقوں میں بارش سے جل تھل ہوجاتا ہے اور کچھ علاقے پانی کی ایک ایک بوند کو ترستے رہ جاتے ہیں اور کالی گھٹائیں ان کے اوپر سے گزر جاتی ہیں۔

ان آیات میں ہواؤں کی قسمیں کھا کر اور پھر ان کے ذریعے طے پانے والے بعض امور کا ذکر کر کے دراصل کائنات کے محکم نظام پر غور وفکر کی دعوت دی گئی ہے ۔اگر انسان اس بارے میں غور کرے گا تو وہ ضرور اس نتیجے پر پہنچ جائے گا کہ یہ کائنات اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے بنائی ہے : حدیث((اِنَّ الدُّنْیَا خُلِقَتْ لَـکُمْ وَاَنْتُمْ خُلِقْتُمْ لِلْاٰخِرَۃِ))۱’’یہ دنیا تمہار ے لیے پیدا کی گئی ہے اور تم آخرت کے لیے پیدا کیے گئے ہو۔‘‘

(۱) تخریج الاحیاء للعراقی ۳/۲۵۲۔ حافظ عراقی نے اس حدیث کو منقطع قرار دیا ہے۔

آیات 5–6

اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ ۙ﴿۵﴾وَّ اِنَّ الدِّیۡنَ لَوَاقِعٌ ؕ﴿۶﴾

’’جو وعدہ تمہیں دیا جا رہا ہے وہ یقینا سچ ہے۔ اور جزا و سزا ضرور واقع ہو کر رہے گی۔‘‘

یہ کائنات اور اس کا نظام گواہ ہے کہ بعث بعد الموت ‘ نفخہ اولیٰ‘ نفخہ ثانیہ وغیرہ سے متعلق جو خبریں تمہیں دی جارہی ہیں وہ یقیناسچی ہیں اور جس عذاب کی تمہیں وعید سنائی جا رہی ہے اس میں کچھ شک و شبہ نہیں۔قیامت ضرور قائم ہو گی اور اس دن تمام انسانوں کو پھر سے ضرور زندہ کیا جائے گا اور انہیں ان کے اعمال کا بدلہ مل کر رہے گا۔

7-14

قیامت کا انکار کرنے والوں کا برا انجام

ویڈیو

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الۡحُبُکِ ۙ﴿۷﴾ اِنَّکُمۡ لَفِیۡ قَوۡلٍ مُّخۡتَلِفٍ ۙ﴿۸﴾ یُّؤۡفَکُ عَنۡہُ مَنۡ اُفِکَ ﴿ؕ۹﴾ قُتِلَ الۡخَرّٰصُوۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾ الَّذِیۡنَ ہُمۡ فِیۡ غَمۡرَۃٍ سَاہُوۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾ یَسۡـَٔلُوۡنَ اَیَّانَ یَوۡمُ الدِّیۡنِ ﴿ؕ۱۲﴾ یَوۡمَ ہُمۡ عَلَی النَّارِ یُفۡتَنُوۡنَ ﴿۱۳﴾ ذُوۡقُوۡا فِتۡنَتَکُمۡ ؕ ہٰذَا الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴿۱۴﴾

آیت 7

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الۡحُبُکِ ۙ﴿۷﴾

’’اور قسم ہے جالی دار آسمان کی ۔‘‘

یہ اس منظر کی طرف اشارہ ہے جو رات کے وقت تاروں بھرا آسمان پیش کرتا ہے۔

آیت 8

اِنَّکُمۡ لَفِیۡ قَوۡلٍ مُّخۡتَلِفٍ ۙ﴿۸﴾

’’یقینا تم لوگ ایک جھگڑے کی بات میں پڑ گئے ہو۔‘‘

یعنی آخرت کے بارے میں تم ایک اختلاف میں پڑ گئے ہو اور تمہاری بات ایک دوسرے سے مختلف ہے۔

آیت 9

یُّؤۡفَکُ عَنۡہُ مَنۡ اُفِکَ ﴿ؕ۹﴾

’’اس سے وہی پھیرا جاتا ہے جو پھیر دیاگیا ہے۔‘‘

تم میں سے بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو وحی کے اس پیغام کی طرف دھیان ہی نہیں دیتے اور جزا و سزا کے متعلق مختلف باتیں بناتے رہتے ہیں۔ حالانکہ جزاو سزا کا معاملہ ایک بدیہی حقیقت ہے اور اس کو تسلیم کرنے سے وہی شخص باز رہے گا جو راندئہ درگاہ ہے اور خیر و سعادت کے راستوں سے پھیر دیا گیا ہے۔

آیت 10

قُتِلَ الۡخَرّٰصُوۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾

’’ہلاک ہوجائیں یہ اٹکلیں دوڑانے والے۔‘‘

آیت 11

الَّذِیۡنَ ہُمۡ فِیۡ غَمۡرَۃٍ سَاہُوۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾

’’جو اپنی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔‘‘

انہیں نہ تو اپنے مقصد تخلیق کی خبر ہے اور نہ اپنے انجام کی فکر۔ حتیٰ کہ وہ اپنے اس عہد کو بھی بھولے ہوئے ہیں جو عالم ارواح میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا۔ سورۃ الاعراف کی آیت ۱۷۲ میں اس عہد کا ذکر اس طرح ہوا ہے:

دوسرے مقام کی آیت

وَ اِذۡ اَخَذَ رَبُّکَ مِنۡۢ بَنِیۡۤ اٰدَمَ مِنۡ ظُہُوۡرِہِمۡ ذُرِّیَّتَہُمۡ وَ اَشۡہَدَہُمۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ ۚ اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ ؕ قَالُوۡا بَلٰی ۚۛ شَہِدۡنَا ۚۛ

’’اور یاد کرو جب نکالا آپؐ کے رب نے تمام بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی نسل کو اور ان کو گواہ بنایا خود ان کے اوپر‘ (اور سوال کیا) کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟انہوں نے کہا: کیوں نہیں! ہم اس پر گواہ ہیں۔‘‘

انسان جب اس دنیا میں آتاہے تو اس عہدکا ’’عرفان‘‘ اس کی روح کے اندر موجود ہوتا ہے ۔لیکن دنیوی زندگی کے دوران بعض لوگوں کی ارواح غفلت میں اس قدر ڈوب جاتی ہیں کہ انہیں اپنے رب سے کیا ہوا یہ عہد یاد ہی نہیں رہتا۔زیر مطالعہ آیت میں ایسے ہی لوگوں کا ذکر ہے۔

آیت 12

یَسۡـَٔلُوۡنَ اَیَّانَ یَوۡمُ الدِّیۡنِ ﴿ؕ۱۲﴾

’’وہ پوچھتے ہیں کب آئے گا وہ جزا و سزا کا دن!‘‘

مشرکین یہ سوال طنزیہ انداز میں کرتے تھے کہ آپ ؐکہتے رہتے ہیں کہ جزائے اعمال کا دن آ کر رہے گا‘ تو آخر کب تک آئے گا وہ روزِ جزا ؟چنانچہ ان کے اس سوال کا جواب بھی انہیں اسی انداز میں دیا جا رہا ہے :

آیت 13

یَوۡمَ ہُمۡ عَلَی النَّارِ یُفۡتَنُوۡنَ ﴿۱۳﴾

’’ جس دن یہ لوگ آگ پر سینکے جائیں گے۔‘‘

چونکہ مشرکین یہ سوال غیر سنجیدہ انداز میں کرتے تھے اس لیے جواب میں ان کے لیے ڈانٹ کا انداز پایاجاتا ہے۔

آیت 14

ذُوۡقُوۡا فِتۡنَتَکُمۡ ؕ ہٰذَا الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴿۱۴﴾

’’(اُس دن ان سے کہا جائے گا) اب چکھو مزا اپنی شرارت کا۔ یہ ہے وہ (عذاب) جس کی تم جلدی مچایا کرتے تھے۔‘‘

تم لوگ ہمارے رسولؐ کو چیلنج کیا کرتے تھے ناکہ لے آئو ہم پر عذاب اگر لا سکتے ہو ۔ چنانچہ یہ ہے آج تمہارے اس مطالبے کا جواب۔ اب چکھو اس عذاب کا مزا!

15-19

پرہیزگاروں کے لئے حسین انعامات

ویڈیو

اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوۡنٍ ﴿ۙ۱۵﴾ اٰخِذِیۡنَ مَاۤ اٰتٰہُمۡ رَبُّہُمۡ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِکَ مُحۡسِنِیۡنَ ﴿ؕ۱۶﴾ کَانُوۡا قَلِیۡلًا مِّنَ الَّیۡلِ مَا یَہۡجَعُوۡنَ ﴿۱۷﴾ وَ بِالۡاَسۡحَارِ ہُمۡ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ ﴿۱۸﴾ وَ فِیۡۤ اَمۡوَالِہِمۡ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الۡمَحۡرُوۡمِ ﴿۱۹﴾

آیت 15

اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوۡنٍ ﴿ۙ۱۵﴾

’’یقینا اہل تقویٰ باغات اور چشموں کے اندر ہوں گے۔‘‘

آیت 16

اٰخِذِیۡنَ مَاۤ اٰتٰہُمۡ رَبُّہُمۡ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِکَ مُحۡسِنِیۡنَ ﴿ؕ۱۶﴾

’’وہ (شکریے کے ساتھ) لے رہے ہوں گے جو کچھ ان کا رب انہیں دے گا ۔یہ وہ لوگ ہیں جو اس سے پہلے نیکوکار تھے۔‘‘

یہ لوگ دنیا کی زندگی میں اپنے نیک اعمال کی وجہ سے درجہ احسان تک پہنچے ہوئے تھے۔

آیت 17

کَانُوۡا قَلِیۡلًا مِّنَ الَّیۡلِ مَا یَہۡجَعُوۡنَ ﴿۱۷﴾

’’رات کا تھوڑا ہی حصہ ہوتا تھا جس میں وہ سوتے تھے۔‘‘

ان لوگوں کی راتوں کا بیشتر حصہ اپنے رب کے حضور حاضری میں گزرتا تھا۔ سورۃ الفرقان میں ’’عباد الرحمن‘‘ کے اس معمول کا ذکر اس طرح آیا ہے: {وَ الَّذِیۡنَ یَبِیۡتُوۡنَ لِرَبِّہِمۡ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا ﴿۶۴﴾} ’’اور وہ لوگ راتیں بسر کرتے ہیں اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام کرتے ہوئے۔‘‘

آیت 18

وَ بِالۡاَسۡحَارِ ہُمۡ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ ﴿۱۸﴾

’’اور سحری کے اوقات میں وہ استغفار کرتے تھے۔‘‘

آیت 19

وَ فِیۡۤ اَمۡوَالِہِمۡ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الۡمَحۡرُوۡمِ ﴿۱۹﴾

’’اور ان کے اموال میں سائل اور محتاج کا حق ہوا کرتا تھا۔‘‘

انہوں نے اس حقیقت کو قبول کر رکھا تھا کہ ان کے پاس اللہ کا دیا جو کچھ بھی ہے اس میں فقراء و مساکین کا بھی حصہ ہے اور وہ متعلقہ لوگوں کا حق ان تک پہنچایا بھی کرتے تھے۔

یوٹیوب پر دیکھیے