تحریر

ق

آیات ۱۹ تا ۴۵

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

19

موت کی سختی

ویڈیو

وَ جَآءَتۡ سَکۡرَۃُ الۡمَوۡتِ بِالۡحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنۡہُ تَحِیۡدُ ﴿۱۹﴾

آیت 19

وَ جَآءَتۡ سَکۡرَۃُ الۡمَوۡتِ بِالۡحَقِّ ؕ

’’اور بالآخر موت کی بے ہوشی کا وقت آ ن پہنچا ہے حق کے ساتھ ۔‘‘

موت کا آنا تو قطعی اور برحق ہے‘ اس سے کسی کو انکار نہیں۔اللہ کے منکر تو بہت ہیں لیکن موت کا منکر کوئی نہیں۔

ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنۡہُ تَحِیۡدُ ﴿۱۹﴾

’’یہی ہے نا وہ چیز جس سے تو بھاگا کرتا تھا!‘‘

اس بات کاانسان کی نفسیات کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔یہ ہر انسان کی نفسیاتی کمزوری ہے کہ موت کو برحق جانتے ہوئے بھی وہ اس کے تصور کو حتی الوسع اپنے ذہن سے دور رکھنے کی کوشش میں رہتا ہے۔ وقتی طور پر اگر کسی عزیز کی موت اور تجہیز و تکفین کے موقع پر اپنی موت اور قبر کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آتا بھی ہے تو انسان فوری طور پر اس خیال کوذہن سے جھٹک کر روز مرہ کے معمولات میں خود کو مصروف کر لیتا ہے۔

20-22

میدان ِحشر میں حاضری

ویڈیو

وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ ؕ ذٰلِکَ یَوۡمُ الۡوَعِیۡدِ ﴿۲۰﴾ وَ جَآءَتۡ کُلُّ نَفۡسٍ مَّعَہَا سَآئِقٌ وَّ شَہِیۡدٌ ﴿۲۱﴾ لَقَدۡ کُنۡتَ فِیۡ غَفۡلَۃٍ مِّنۡ ہٰذَا فَکَشَفۡنَا عَنۡکَ غِطَآءَکَ فَبَصَرُکَ الۡیَوۡمَ حَدِیۡدٌ ﴿۲۲﴾

آیت 20

وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ ؕ ذٰلِکَ یَوۡمُ الۡوَعِیۡدِ ﴿۲۰﴾

’’اور صور میں پھونکا جائے گا‘ یہ ہے وعدے کا دن!‘‘

پہلے انفرادی موت کی بات کی گئی تھی ۔ اب اس آیت میں پوری دنیا کی اجتماعی موت کا ذکر ہے۔ جب کسی شخص کو موت آتی ہے تو اس کے لیے تو گویا وہی قیامت ہے ۔ اس لیے انسان کی انفرادی موت کو قیامتِ صغریٰ اور تمام انسانوں کی اجتماعی موت کو قیامت کبریٰ کہا جاتا ہے۔ چنانچہ گزشتہ آیت میں قیامت صغریٰ کابیان تھا‘اب یہاں قیامت کبریٰ کا نقشہ دکھایا جا رہا ہے۔

آیت 21

وَ جَآءَتۡ کُلُّ نَفۡسٍ مَّعَہَا سَآئِقٌ وَّ شَہِیۡدٌ ﴿۲۱﴾

’’اور ہر جان آئے گی (اس حالت میں کہ) اس کے ساتھ ہو گا ایک دھکیلنے والا اور ایک گواہ۔‘‘

دنیا میں ہر انسان کے ساتھ جو دو فرشتے (کِرَامًا کَاتِبِیْنَ) مامور ہیں وہی قیامت کے دن اسے لا کر اللہ کی عدالت میں پیش کریں گے۔ ان میں سے ایک فرشتہ اس کا اعمال نامہ اٹھائے ہوئے ہو گا جب کہ دوسرا اسے عدالت کی طرف دھکیل رہا ہو گا۔

آیت 22

لَقَدۡ کُنۡتَ فِیۡ غَفۡلَۃٍ مِّنۡ ہٰذَا

’’(اللہ فرمائے گا: اے انسان!) تو اس دن سے غفلت میں رہاتھانا!‘‘

فَکَشَفۡنَا عَنۡکَ غِطَآءَکَ فَبَصَرُکَ الۡیَوۡمَ حَدِیۡدٌ ﴿۲۲﴾

’’تو آج ہم نے تجھ سے تیرا پردہ ہٹا دیا ہے‘تو آج تمہاری نگاہ کتنی تیز ہو گئی ہے۔‘‘

دنیا میں رہتے ہوئے بہت سے حقائق تمہارے لیے پردۂ غیب میں تھے۔ وہاں تجھ سے مطالبہ تھا کہ ان حقائق پر بغیر دیکھے ایمان لاؤ۔ آج غیب کا پردہ اٹھا دیا گیا ہے اور اب تمہاری نظر ہر چیز کو دیکھ سکتی ہے‘ حتیٰ کہ آج تم اپنے ساتھ آنے والے فرشتوں کو بھی دیکھ رہے ہو ۔

23-29

انسان کے ساتھی شیطان کا انجام

ویڈیو

وَ قَالَ قَرِیۡنُہٗ ہٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیۡدٌ ﴿ؕ۲۳﴾ اَلۡقِیَا فِیۡ جَہَنَّمَ کُلَّ کَفَّارٍ عَنِیۡدٍ ﴿ۙ۲۴﴾ مَّنَّاعٍ لِّلۡخَیۡرِ مُعۡتَدٍ مُّرِیۡبِۣ ﴿ۙ۲۵﴾ الَّذِیۡ جَعَلَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ فَاَلۡقِیٰہُ فِی الۡعَذَابِ الشَّدِیۡدِ ﴿۲۶﴾ قَالَ قَرِیۡنُہٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطۡغَیۡتُہٗ وَ لٰکِنۡ کَانَ فِیۡ ضَلٰلٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿۲۷﴾ قَالَ لَا تَخۡتَصِمُوۡا لَدَیَّ وَ قَدۡ قَدَّمۡتُ اِلَیۡکُمۡ بِالۡوَعِیۡدِ ﴿۲۸﴾ مَا یُبَدَّلُ الۡقَوۡلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِیۡدِ ﴿٪۲۹﴾

آیت 23

وَ قَالَ قَرِیۡنُہٗ ہٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیۡدٌ ﴿ؕ۲۳﴾

’’اور اُس کا ساتھی کہے گا :(پروردگار!) یہ جو میری تحویل میں تھا‘ حاضر ہے!‘‘

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہاں’’ساتھی‘‘ سے فرشتہ مراد ہے ‘لیکن میں ان لوگوں سے متفق ہوں جو اس سے شیطان مراد لیتے ہیں۔ دراصل خیر اور شر کی قوتیں انسان کے اندر بھی موجود ہیں اور خارج میں بھی۔ اندر سے انسان کا نفس اسے برائی پر اُبھارتا ہے ‘جبکہ خارج میں ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان بھی مامور ہے جو اس کے نفس میں ہر وقت وسوسہ اندازی کرتا رہتا ہے۔ اسی طرح ہر انسان کے اندر اس کی روح ’’داعیٔ خیر‘‘ کے طور پر موجود ہے جبکہ خارج میں اس حوالے سے فرشتے اس کی مدد کرتے ہیں۔ سورۂ حٰمٓ السجدۃ کی آیات ۳۰ اور ۳۱ میں ان فرشتوں کے بارے میں ہم پڑھ آئے ہیں جو نیکی کے کاموں میں انسان کی پشت پناہی کرتے ہیں: {نَحۡنُ اَوۡلِیٰٓؤُکُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ ۚ } ۔ فرشتوں کی معیت کے باعث ہی کوئی نیک کام کر کے ہمیں خوشی اور طمانیت محسوس ہوتی ہے ۔ایسے مواقع پر فرشتے دراصل ہمیں بشارت اور شاباش دے رہے ہوتے ہیں جس کے اثرات ہماری روح پر طمانیت کی صورت میں مرتب ہوتے ہیں۔

آیت 24

اَلۡقِیَا فِیۡ جَہَنَّمَ کُلَّ کَفَّارٍ عَنِیۡدٍ ﴿ۙ۲۴﴾

’’(اللہ تعالیٰ فرمائے گا) جھونک دو جہنم میں ہر ناشکرے سرکش کو۔‘‘

یہ حکم گویا ا س انسان اور اس کے ساتھی شیطان دونوں کے لیے ہو گا۔

آیت 25

مَّنَّاعٍ لِّلۡخَیۡرِ مُعۡتَدٍ مُّرِیۡبِۣ ﴿ۙ۲۵﴾

’’جو خیر سے روکنے والا ‘حد سے بڑھنے والا اور شکوک و شبہات میں مبتلا رہنے والا ہے۔‘‘

آیت 26

الَّذِیۡ جَعَلَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ

’’جس نے اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا الٰہ بھی بنا لیا تھا۔‘‘

فَاَلۡقِیٰہُ فِی الۡعَذَابِ الشَّدِیۡدِ ﴿۲۶﴾

’’تو جھونک دو اس کو بڑے سخت عذاب میں۔‘‘

اس انسان کا شیطان یہ سمجھ رہا ہو گا کہ اس کی اپنی حیثیت ’’سرکاری کارندے‘‘ کی ہے جو مجرم کو سزا کے لیے لے کر آیا ہے‘ لیکن دونوں کو جہنم رسید کرنے کا حکم سن کر وہ فوراً اپنی صفائی میں چلانا شروع کر دے گا۔

آیت 27

قَالَ قَرِیۡنُہٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطۡغَیۡتُہٗ وَ لٰکِنۡ کَانَ فِیۡ ضَلٰلٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿۲۷﴾

’’اُس کا ساتھی (شیطان) کہے گا: پروردگار! میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا‘ بلکہ یہ خود ہی بہت دور کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا۔‘‘

گویا وہ چاہے گا کہ جو انسان اس کی تحویل میں دیا گیا تھا اُسے سزا کے لیے وصول کرلیا جائے اور خود اس کی جان بخشی کر دی جائے۔

آیت 28

قَالَ لَا تَخۡتَصِمُوۡا لَدَیَّ وَ قَدۡ قَدَّمۡتُ اِلَیۡکُمۡ بِالۡوَعِیۡدِ ﴿۲۸﴾

’’(اللہ فرمائے گا:) اب میرے سامنے جھگڑ۱ مت کرو ‘جبکہ میں پہلے ہی تمہاری طرف وعید بھیج چکا ہوں۔‘‘

کہ میں نے تو جن و انس پر’ ’انذار‘‘ کے حوالے سے اتمامِ حجت کر دیا تھا۔ سورۃ الاحقاف میں ان جنات کے بارے میں ہم پڑھ آئے ہیں جو حضورﷺ سے قرآن سن کر ایمان لائے اور پھر داعیانِ حق بن کر اپنی قوم کو خبردار کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔گویا قرآن کا پیغام اور انذار جنات تک بھی پہنچا دیا گیا ہے۔

آیت 29

مَا یُبَدَّلُ الۡقَوۡلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِیۡدِ ﴿٪۲۹﴾

’’میرے حضور میں بات تبدیل نہیں کی جاسکتی اور میں اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔‘‘

چنانچہ اب میرے قانون کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے۔

30

جہنم کا پیٹ نہیں بھرے گا

ویڈیو

یَوۡمَ نَقُوۡلُ لِجَہَنَّمَ ہَلِ امۡتَلَاۡتِ وَ تَقُوۡلُ ہَلۡ مِنۡ مَّزِیۡدٍ ﴿۳۰﴾

آیت 30

یَوۡمَ نَقُوۡلُ لِجَہَنَّمَ ہَلِ امۡتَلَاۡتِ

’’جس دن ہم پوچھیں گے جہنم سے کہ کیا تو بھر گئی؟‘‘

وَ تَقُوۡلُ ہَلۡ مِنۡ مَّزِیۡدٍ ﴿۳۰﴾

’’اور وہ کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے؟‘‘

یعنی وہ کہے گی کہ ابھی تو میرے اندر بہت گنجائش ہے ۔ ابھی مزید جنوں اور انسانوں کو میرے اندر ڈالا جائے تاکہ میں بھر جاؤں۔

31-35

جنت میں کون لوگ جائیں گے

ویڈیو

وَ اُزۡلِفَتِ الۡجَنَّۃُ لِلۡمُتَّقِیۡنَ غَیۡرَ بَعِیۡدٍ ﴿۳۱﴾ ہٰذَا مَا تُوۡعَدُوۡنَ لِکُلِّ اَوَّابٍ حَفِیۡظٍ ﴿ۚ۳۲﴾ مَنۡ خَشِیَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَیۡبِ وَ جَآءَ بِقَلۡبٍ مُّنِیۡبِۣ ﴿ۙ۳۳﴾ ادۡخُلُوۡہَا بِسَلٰمٍ ؕ ذٰلِکَ یَوۡمُ الۡخُلُوۡدِ ﴿۳۴﴾ لَہُمۡ مَّا یَشَآءُوۡنَ فِیۡہَا وَلَدَیۡنَا مَزِیۡدٌ ﴿۳۵﴾

آیت 31

وَ اُزۡلِفَتِ الۡجَنَّۃُ لِلۡمُتَّقِیۡنَ غَیۡرَ بَعِیۡدٍ ﴿۳۱﴾

’’اور جنت قریب لائی جائے گی اہل تقویٰ کے لیے‘ کچھ بھی دُور نہیں ہو گی۔‘‘

آیت 32

ہٰذَا مَا تُوۡعَدُوۡنَ

’’(ان سے کہا جائے گا) یہ ہے جس کا وعدہ تم لوگوں سے کیا جاتا تھا‘‘

لِکُلِّ اَوَّابٍ حَفِیۡظٍ ﴿ۚ۳۲﴾

’’ہر اُس شخص کے لیے جو (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا اور حفاظت کرنے والا ہو۔‘‘

یعنی اس امانت کی حفاظت کرنے والا جو ہم نے اس کے سپرد کی تھی۔اللہ تعالیٰ نے انسان میں جو روح پھونکی ہے وہ اس کے پاس اللہ کی امانت ہے ‘جیسا کہ سورۃ الاحزاب کی اس آیت سے واضح ہوتا ہے : {اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ الۡجِبَالِ فَاَبَیۡنَ اَنۡ یَّحۡمِلۡنَہَا وَ اَشۡفَقۡنَ مِنۡہَا وَ حَمَلَہَا الۡاِنۡسَانُ ؕ } (آیت ۷۲) ’’ہم نے اس امانت کو پیش کیا آسمانوں پراور زمین پر اور پہاڑوں پر تو ان سب نے انکار کر دیا اس کو اٹھانے سے اور وہ اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے اُٹھا لیا‘‘۔چنانچہ ’’حَفِیْظ‘‘سے ایسا شخص مراد ہے جس نے اس امانت کا حق ادا کیا اور اپنی روح کو گناہ کی آلودگی سے محفوظ رکھا۔ سورۃ الشعراء میں ایسی محفوظ اور پاکیزہ روح کو ’’قلب سلیم‘‘ کا نام دیا گیاہے : {یَوۡمَ لَا یَنۡفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوۡنَ ﴿ۙ۸۸﴾اِلَّا مَنۡ اَتَی اللّٰہَ بِقَلۡبٍ سَلِیۡمٍ ﴿ؕ۸۹﴾} ’’جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ بیٹے۔سوائے اُس کے جو آئے ا للہ کے پاس قلبِ سلیم لے کر‘‘۔اس مضمون کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو سورۃ الاحزاب کی آیت ۷۲ کی تشریح۔

آیت 33

مَنۡ خَشِیَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَیۡبِ

’’جو ڈرتا رہا رحمن سے غیب میں ہونے کے باوجود۔‘‘

وَ جَآءَ بِقَلۡبٍ مُّنِیۡبِۣ ﴿ۙ۳۳﴾

’’اور لے کرآیا رجوع کرنے والا دل۔‘‘

قلب منیب سے بھی یہاں قلب سلیم ہی مراد ہے ۔ یہ ایسے شخص کا ذکر ہے جو دنیا میں اللہ کا فرمانبردار بندہ بن کر رہا۔ اللہ کی امانت کو اُس نے پوری حفاظت اور سلامتی کے ساتھ رکھا اور صحیح و سلامت حالت میں لوٹایا۔

آیت 34

ادۡخُلُوۡہَا بِسَلٰمٍ ؕ ذٰلِکَ یَوۡمُ الۡخُلُوۡدِ ﴿۳۴﴾

’’(ان سے کہا جائے گا:) داخل ہو جاؤ اس (جنت) میں سلامتی کے ساتھ‘ اب یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔‘‘

اب ایسا کوئی مرحلہ نہیں آئے گا کہ تمہیں جنت سے نکلنا پڑے۔

آیت 35

لَہُمۡ مَّا یَشَآءُوۡنَ فِیۡہَا وَلَدَیۡنَا مَزِیۡدٌ ﴿۳۵﴾

’’ان کے لیے اس میں وہ سب کچھ ہوگاجو وہ چاہیں گے ‘اور ہمار ے پاس مزید بھی بہت کچھ ہے ۔‘‘

قرآن کے مختلف مقامات پر جنت کی نعمتوں کا جو تعارف ملتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کی نعمتوں کے تین درجے ہیں ۔ نفس انسانی کے بنیادی تقاضوں کی تسکین کا بھرپورسامان تو جنت میں پہلے سے موجود ہو گا۔ اس کے علاوہ ہر شخص اپنی پسند ‘ذوق اور خواہش کے مطابق جو کچھ طلب کرے گا وہ بھی اسے فراہم کیا جائے گا۔ ظاہر ہے ہر شخص کی طلب اپنے ذوق اور معیار کے مطابق ہو گی۔ ایک سادہ لوح دیہاتی اپنی پسند کے مطابق کوئی چیز مانگے گا اور ایک حکیم و فلسفی اپنے ذوق کی تسکین چاہے گا۔ البتہ اس حوالے سے کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جو کچھ بھی طلب نہیں کریں گے ‘وہ لوگ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ (الکہف:۲۸) کے مصداق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی رضا کے طالب ہوں گے۔ جیسے رابعہ بصریؒ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ایک مرتبہ جذب کے عالم میں ایک مشعل اور پانی کا لوٹا لیے گھر سے نکلیں ۔ لوگوں کے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ میں اس آگ سے جنت کو جلانے نکلی ہوں اور اس پانی سے میں جہنم کی آگ کو بجھا دینا چاہتی ہوں تاکہ لوگ اللہ سے خالص اُس کی ذات کے لیے محبت کریں نہ کہ جنت کے لالچ اور جہنم کے خوف کی وجہ سے اسے چاہیں۔ بہرحال جنت میں وہ لوگ بھی ہوں گے جنہیں اللہ کی رضا کے علاوہ کچھ نہیں چاہیے ہو گا۔جبکہ ان دو اقسام کے علاوہ تیسری قسم کی نعمتیں وہ ہوں گی جو انسانی تصور سے بالاتر ہیں اور آیت زیر مطالعہ کے الفاظ ’’وَلَدَیْنَا مَزِیْدٌ‘‘ میں انہی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے۔ سورۃ السجدۃ میں جنت کی ان نعمتوں کا ذکر اس طر ح ہوا ہے : {فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعۡیُنٍ ۚ } (آیت ۱۷) ’’پس کوئی جان یہ نہیں جانتی کہ ان(اہل جنت) کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے‘‘۔ رسول اللہﷺ نے اس آیت کی وضاحت ان الفاظ میں فرمائی ہے:

حدیث((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ : اَعْدَدْتُ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالاَ عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ، فَاقْرَئُ وْا اِنْ شِئْتُمْ : فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا اُخْفِیَ لَھُمْ مِنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ)) ۱

’’اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے (جنت میں) وہ کچھ تیار کر رکھاہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا‘ نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا گمان ہی گزرا۔ (پھر آپﷺ نے فرمایا:) اگر تم چاہو تویہ آیت پڑھ لو : ’’پس کوئی جان یہ نہیں جانتی کہ ان(اہل جنت) کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ چھپا کررکھاگیاہے۔‘‘

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب بدء الخلق‘ باب ما جاء فی صفۃ الجنۃ وانھا مخلوقۃ ۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا۔

36

تاریخ سے عبرت حاصل کرو

ویڈیو

وَ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا قَبۡلَہُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ ہُمۡ اَشَدُّ مِنۡہُمۡ بَطۡشًا فَنَقَّبُوۡا فِی الۡبِلَادِ ؕ ہَلۡ مِنۡ مَّحِیۡصٍ ﴿۳۶﴾

آیت 36

وَ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا قَبۡلَہُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ ہُمۡ اَشَدُّ مِنۡہُمۡ بَطۡشًا فَنَقَّبُوۡا فِی الۡبِلَادِ ؕ ہَلۡ مِنۡ مَّحِیۡصٍ ﴿۳۶﴾

’’اورکتنی ہی قوموں کو ہم نے ان سے پہلے ہلاک کیا ہے جو قوت میں ان سے بڑھ کر تھیں ‘ سوانہوں نے ملکوں کے ملک فتح کیے !پھر کیا وہ کوئی جائے فرار پا سکے؟‘‘

نَقَبَ کا معنی ہے نقب لگانا‘ یعنی دیوار میں سوراخ کرنا‘ جبکہ نَقَّبَ فِی الْاَرْضِ (باب تفعیل) کا مفہوم ہے: بھاگ دوڑ کرتے ہوئے کسی ملک میں جا گھسنا‘ یعنی کسی علاقے کوفتح کر لینا۔وہ لوگ اتنے زور آور تھے کہ اپنی فتوحات کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے مختلف علاقوں میں گھستے چلے گئے اور ملکوں پر ملک فتح کرتے چلے گئے‘ لیکن جب اللہ کی پکڑ آئی تو انہیں بھاگنے کو جگہ نہ ملی۔

37

حق کی معرفت حاصل کرنے کے دو ذریعے

ویڈیو

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَذِکۡرٰی لِمَنۡ کَانَ لَہٗ قَلۡبٌ اَوۡ اَلۡقَی السَّمۡعَ وَ ہُوَ شَہِیۡدٌ ﴿۳۷﴾

آیت 37

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَذِکۡرٰی لِمَنۡ کَانَ لَہٗ قَلۡبٌ اَوۡ اَلۡقَی السَّمۡعَ وَ ہُوَ شَہِیۡدٌ ﴿۳۷﴾

’’یقینا اس میں یاد دہانی ہے اُس کے لیے جس کا دل ہو یا جو توجہ سے سنے حاضر ہو کر۔‘‘

اپنے مضمون کے اعتبار سے یہ قرآن مجید کا بہت اہم مقام ہے۔ یاد دہانی کے حوالے سے اس آیت میں دو طرح کے لوگوں کا ذکر ہوا ہے۔ یہ یاد دہانی یا تو ان لوگوں کے لیے مفید ہے جو ’’دل‘‘ رکھتے ہیں‘ یا پھر وہ جو پوری توجہ سے اس کو سنیں۔گویا یہاںقرآن کی ہدایت تک پہنچنے کے دو الگ الگ طریقوں اور راستوں (approaches) کا ذکر ہے۔ ایک ان لوگوں کا راستہ ہے جو دل رکھتے ہیں۔ یہ دراصل وہ لوگ ہیں جن کی روح زندہ ہے۔روح کا مسکن چونکہ قلب انسانی ہے اس لیے جس انسان کی روح زندہ ہو گی اس کا دل بھی زندہ ہو گا۔ایسے دل کو دلِ بیدار‘ دلِ زندہ یا قلبِ سلیم کہا جاتا ہے۔ میر درد ؔنے اپنے اس شعر میں دل کی اسی ’’زندگی‘‘ کا ذکر کیا ہے : ؎

مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مر جائے

کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے!

۱

چنانچہ ایک زندہ دل شخص جب قرآن سنے گا تواس شخص کی روح یوں لپک کر قرآنی پیغام تک پہنچ جائے گی جیسے پٹرول دور سے آگ پکڑ لیتا ہے۔ اس کیفیت کو سورۃ النور کی آیت ۳۵ میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : {یَّکَادُ زَیۡتُہَا یُضِیۡٓءُ وَ لَوۡ لَمۡ تَمۡسَسۡہُ نَارٌ ؕ } (النور:۳۵) ’’قریب ہے کہ اس کا روغن خود بخود روشن ہو جائے‘ چاہے اسے آگ نے ابھی چھوا بھی نہ ہو‘‘۔گویاایک پاکیزہ روح نورِ وحی تک پہنچنے کے لیے بے قرار ہوتی ہے۔بقولِ اقبال: ؎

مضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیاز

تو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے ساز

نغمے بے تاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیے

طور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیے!

حافظ ابن قیم ؒنے اس بارے میں بڑی خوبصورت بات لکھی کہ بہت سے لوگ قرآن کو پڑھتے ہوئے یوں محسوس کرتے ہیں جیسے قرآن ان کے دل پر نقش ہے اور وہ اس کی عبارت کو مصحف سے نہیں بلکہ اپنی لوحِ قلب سے پڑھ رہے ہیں۔ یعنی سلیم الفطرت لوگوں کی ارواح کوقرآن حکیم کے ساتھ خصوصی ہم آہنگی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ جب قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں تو ان کی روحوں میں ایک مانوس قسم کا ارتعاش (sympathetic vibration) پیدا ہوتا ہے۔گویا ان کی ارواح قرآنی الفاظ و آیات کے ساتھ پہلے سے ہی مانوس ہیں۔ بقول غالبؔ ؎

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اُس نے کہا

میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے!

ایسے لوگوں کو قرآن کی ہدایت تک پہنچنے کے لیے کسی مہلت یا تگ و دو کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جیسے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قبولِ حق میں ایک لمحے کا توقف بھی نہیں کیا تھا۔

اس کے برعکس وہ لوگ جن کی ارواح پر غفلت اور مادیت کے پردے پڑ چکے ہوں‘ ان کے لیے اس آیت میں دوسرا طریقہ بتایا گیا ہے: {اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ وَھُوَ شَھِیْدٌ}۔ یعنی ان لوگوں کو خصوصی توجہ کے ساتھ محنت کرنا ہوگی‘ تب کہیں جا کر ’’گوہر مقصود‘‘ تک ان کی رسائی ہو گی۔ مطالعہ قرآن کے ہمارے منتخب نصاب میں ایمان کی بحث کے تحت دو دروس (درس ۶ اور ۷) ایسے ہیں جو انہی دو طریقوں کی الگ الگ نمائندگی کرتے ہیں۔ ان میں پہلا درس سورۂ آل عمران کی آیات ۱۹۰ تا ۱۹۵ پر مشتمل ہے۔ ان آیات میں آیاتِ آفاقی کے مشاہدے کی بنیاد پر تفکر و تدبر کی دعوت دی گئی ہے :

دوسرے مقام کی آیت

اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ ﴿ۚۙ۱۹۰﴾الَّذِیۡنَ یَذۡکُرُوۡنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوۡدًا وَّ عَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ وَ یَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿۱۹۱﴾

’’یقینا آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے الٹ پھیر میں ہوش مند لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔جو اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں‘ کھڑے بھی‘ بیٹھے بھی اور اپنے پہلوؤں پر بھی اور مزید غور و فکر کرتے رہتے ہیں آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں۔ اے ہمارے ربّ! تو نے یہ سب کچھ بے مقصد توپیدا نہیں کیاہے۔ تو پاک ہے (اس سے کہ کوئی عبث کام کرے)‘ پس تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا!‘‘

لیکن یہ تفکر و تدبر تب نتیجہ خیز ہو گا جب اس کے ساتھ اللہ کے ذکر کا بھی اہتمام کیا جائے گا ۔ گویا ایمان وہدایت کی منزلِ مقصود تک پہنچنے کے لیے ذکر اور فکر دونوں کو ایک ساتھ لے کر چلنا ہو گا ‘جیسا کہ اقبال ؔنے کہا ہے ؎

فقرِ قرآں اختلاطِ ذکر و فکر

فکررا کامل نہ دیدم جز بہ ذکر

جز بہ قرآں ضیغمی روباہی است

فقرِ قرآں اصل شاہنشاہی است

یعنی فقر قرآن تو ذکر اور فکر کے امتزاج کانام ہے جبکہ میں ذکر کے بغیر فکر کوناقص اور نامکمل دیکھتا ہوں۔ اگر کوئی شیر بھی ہو تو قرآن کے بغیر وہ لومڑی کی طرح ہو گا ‘اصل شہنشاہ تو وہ ہے جسے فقر قرآنی مل گیا۔

اس ضمن میں ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں ذکر اور فکر کے الگ الگ حلقے بن چکے ہیں۔ ان میں سے ہر حلقے کے لوگ اپنے طور طریقوں میں اس قدر مگن ہیں کہ انہیں دوسروں سے کچھ سروکار نہیں۔ ایک طرف مفکرین ہیں جو فلسفہ وفکر پر بڑی بڑی کتابیں رقم کر رہے ہیں ‘ کیسی کیسی تفسیریں لکھتے جاتے ہیں‘ مگر وہ ذکر کی لذت سے بالکل ناآشنا ہیں۔ دوسری طرف ذاکرین ہیں جو ذکر کی روح پرورمحفلیں سجاتے ہیں لیکن انہیں فکر و تدبر سے کوئی واسطہ نہیں ۔ ظاہر ہے گاڑی کے ان دونوں پہیوں میں ہم آہنگی ہو گی تو امت کا قافلہ منزل کی طرف گامزن ہو گا ۔ بہرحال سورۂ آل عمران کی مذکورہ آیات میں ذکر و فکر کے ذریعے ہدایت کی ’’منزل مقصود‘‘ تک پہنچنے کا طریقہ بتایا گیا ہے‘ جبکہ دوسرے طریقے کی نشاندہی سورۃ النور کے پانچویں رکوع (منتخب نصاب کے درس۷) میں کی گئی ہے کہ اپنے قلب کو صاف کر لیجیے‘ اس کی تمام کدورتیں دور کر دیجیے تو اس کے آئینے میں قرآن خود بخود منعکس ہو کر اسے منور (نُورٌ عَلٰی نُور) کر دے گا اور یوں نورِ فطرت اور نورِ وحی کے امتزاج سے نورِ ایمان کی تکمیل ہو جائے گی۔

(۱) علامہ اقبال کے کلام میں بھی جابجا دلِ بیدار‘ دلِ زندہ‘ دلِ مردہ‘ دلِ بینا اور قلبِ سلیم وغیرہ کا ذکر ملتا ہے۔ ’’بالِ جبریل‘‘ میں انہوں نے ’’دلِ بیدار‘‘ کے بارے میں کیا خوب کہا ہے ؎

دلِ بیدار فاروقی‘ دلِ بیدار کراری

مسِ آدم کے حق میں کیمیا ہے دل کی بیداری

دلِ بیدار پیدا کر کہ دل خوابیدہ ہے جب تک

نہ تیری ضرب ہے کاری‘ نہ میری ضرب ہے کاری! (حاشیہ از مرتب)

38-40

اللہ ہرکمزوری سے پاک ہے

ویڈیو

وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ٭ۖ وَّ مَا مَسَّنَا مِنۡ لُّغُوۡبٍ ﴿۳۸﴾ فَاصۡبِرۡ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ وَ سَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ قَبۡلَ طُلُوۡعِ الشَّمۡسِ وَ قَبۡلَ الۡغُرُوۡبِ ﴿ۚ۳۹﴾ وَ مِنَ الَّیۡلِ فَسَبِّحۡہُ وَ اَدۡبَارَ السُّجُوۡدِ ﴿۴۰﴾

آیت 38

وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ٭ۖ

’’اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے پیدا کیا چھ دنوں میں۔‘‘

وَّ مَا مَسَّنَا مِنۡ لُّغُوۡبٍ ﴿۳۸﴾

’’اور ہم پر کوئی تکان طاری نہیں ہوئی۔‘‘

یہ مضمون موجودہ تورات میں کچھ اس طرح بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دنوں میں زمین و آسمان کو پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کر کے تھکن دور کی۔ اسی وجہ سے یہودیوں اور عیسائیوں کے ہاں ’’ویک اینڈ‘‘ کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دن کام کر نے کے بعد ساتویں دن آرام کیا تھا ‘لہٰذا تم لوگ بھی چھ دن کام کر کے ساتویں دن آرام کرو۔ اس آیت میں دراصل تورات کے اس تصور کی نفی کی گئی ہے۔چنانچہ اسلام میں’’ویک اینڈ‘‘ کا کوئی تصور نہیں۔ اس حوالے سے یہ تاریخی حقیقت واضح رہنی چاہیے کہ اصل تورات بخت نصر کے حملے میں گم ہو گئی تھی اور دوبارہ اس کو یادداشت کی مدد سے مرتب کیا گیاتھا۔ مرتبین چونکہ عام انسان تھے ‘نبی نہیں تھے‘ اس لیے ان کی یادداشتوں نے ٹھوکریں کھائیں اور بہت سی غلط باتیں بھی اس میں شامل کر دی گئیں۔

آیت 39

فَاصۡبِرۡ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ

’’تو(اے نبیﷺ) آپ صبر کیجیے اس پر جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں‘‘

وَ سَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ قَبۡلَ طُلُوۡعِ الشَّمۡسِ وَ قَبۡلَ الۡغُرُوۡبِ ﴿ۚ۳۹﴾

’’اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے سورج کے طلوع ہونے سے قبل اور غروب ہونے سے قبل ۔‘‘

جیسا کہ قبل ازیں ذکر ہو چکا ہے ‘زیر مطالعہ سورتیں مکی دور کے ابتدائی چار سال کے دوران نازل ہوئی تھیں۔ اُس وقت تک پنج گانہ نماز کا باقاعدہ نظام وضع نہیں ہوا تھا۔ پنج گانہ نماز تو معراج کے موقع پر (۱۰ نبویؐ میں) فرض ہوئی تھی۔ اس سے پہلے تو بس صبح وشام اللہ کا ذکر کرنے کی بار بار تلقین و تاکید کی جاتی تھی ‘جیسا کہ سورۂ طٰہ کی آیت ۱۳۰ میں بھی بالکل یہی الفاظ آئے ہیں یا اس سے بھی پہلے سورۃ المزمل میں رات کی نماز اور اس میں تلاوتِ قرآن کا حکم آ چکا تھا۔ بعد میں جب باقاعدہ اوقات کے ساتھ پانچ نمازوں کا نظام وضع ہوا تو ان دو اوقات میں دو نمازیں فرض ہو گئیں‘ یعنی قَـبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ کے اوقات میں فجر کی نماز اور قَـبْلَ الْغُرُوْبِ کے وقت میں نمازِ عصر۔

آیت 40

وَ مِنَ الَّیۡلِ فَسَبِّحۡہُ

’’اور رات کے حصوں میں بھی اس کی تسبیح بیان کرو۔‘‘

وَ اَدۡبَارَ السُّجُوۡدِ ﴿۴۰﴾

’’اور سجدوں (نمازوں) کے بعد بھی۔‘‘

یہ گویا نماز سے فارغ ہونے کے بعد کی تسبیح و تحمید کاحکم ہے۔ نمازوں کے بعد کے اذکار کی تفصیلات احادیث میں ملتی ہیں ‘جیسے تسبیح فاطمہؓ (۳۳ مرتبہ سبحان اللہ‘ ۳۳ مرتبہ الحمد للہ اور ۳۳ یا ۳۴ بار اللہ اکبر پڑھنا) کی مداومت سے متعلق احادیث میں ترغیب آئی ہے۔

41-44

احوالِ قیامت

ویڈیو

وَ اسۡتَمِعۡ یَوۡمَ یُنَادِ الۡمُنَادِ مِنۡ مَّکَانٍ قَرِیۡبٍ ﴿ۙ۴۱﴾ یَّوۡمَ یَسۡمَعُوۡنَ الصَّیۡحَۃَ بِالۡحَقِّ ؕ ذٰلِکَ یَوۡمُ الۡخُرُوۡجِ ﴿۴۲﴾ اِنَّا نَحۡنُ نُحۡیٖ وَ نُمِیۡتُ وَ اِلَیۡنَا الۡمَصِیۡرُ ﴿ۙ۴۳﴾ یَوۡمَ تَشَقَّقُ الۡاَرۡضُ عَنۡہُمۡ سِرَاعًا ؕ ذٰلِکَ حَشۡرٌ عَلَیۡنَا یَسِیۡرٌ ﴿۴۴﴾

آیت 41

وَ اسۡتَمِعۡ یَوۡمَ یُنَادِ الۡمُنَادِ مِنۡ مَّکَانٍ قَرِیۡبٍ ﴿ۙ۴۱﴾

’’اور کان لگائے رکھو جس دن پکارنے والا پکارے گا بہت قریب کی جگہ سے۔‘‘

یعنی اس دن کے منتظررہو جب صور میں پھونکا جائے گا اور ہر شخص کو اس کی آواز بہت قریب سے آتی ہوئی محسوس ہو گی۔صور کی آواز ایسی زوردار اور خوفناک ہو گی کہ اس سے ہر جان دار کی موت واقع ہو جائے گی۔اس کے بعد سب انسانوں کوزندہ کر کے محشر میں جمع کرنے کے لیے پھر صور پھونکا جائے گا۔ یہاں اسی دوسرے صور کا ذکر ہے ۔

آیت 42

یَّوۡمَ یَسۡمَعُوۡنَ الصَّیۡحَۃَ بِالۡحَقِّ ؕ

’’جس دن کہ وہ سنیں گے ایک چنگھاڑ حق کے ساتھ۔‘‘

ذٰلِکَ یَوۡمُ الۡخُرُوۡجِ ﴿۴۲﴾

’’وہ ہو گا نکلنے کا دن۔‘‘

یعنی وہ زمین سے مردوں کے نکلنے کا دن ہو گا۔

آیت 43

اِنَّا نَحۡنُ نُحۡیٖ وَ نُمِیۡتُ

’’یقینا ہم ہی زندہ رکھتے ہیں اور ہم ہی موت وارد کرتے ہیں۔‘‘

وَ اِلَیۡنَا الۡمَصِیۡرُ ﴿ۙ۴۳﴾

’’اور ہماری ہی طرف (سب کو) پلٹ کر آنا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ اپنی شانِ جلالت کا زیادہ اظہار کرنا چاہتا ہے وہاں اپنے لیے جمع کا صیغہ پسند فرماتا ہے۔

آیت 44

یَوۡمَ تَشَقَّقُ الۡاَرۡضُ عَنۡہُمۡ سِرَاعًا ؕ

’’جس دن زمین ان پر سے پھٹ جائے گی اور وہ تیزی سے نکل پڑیں گے۔‘‘

ذٰلِکَ حَشۡرٌ عَلَیۡنَا یَسِیۡرٌ ﴿۴۴﴾

’’یہ (سب کا) جمع کر دینا ہمارے لیے بہت آسان ہے۔‘‘

45

اے نبی صﷺ قرآن کے ذریعے یاد دہانی کراتےرہیے

ویڈیو

نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا یَقُوۡلُوۡنَ وَ مَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِجَبَّارٍ ۟ فَذَکِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ یَّخَافُ وَعِیۡدِ ﴿٪۴۵﴾

آیت 45

نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا یَقُوۡلُوۡنَ

’’(اے نبیﷺ!) ہم خوب جانتے ہیں جوکچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں‘‘

وَ مَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِجَبَّارٍ ۟

’’اور آپ ان پر کوئی زبردستی کرنے والے نہیں ہیں۔‘‘

آپ کا کام ان سے جبراً بات منوانا نہیں ہے۔ ہم نے آپ ؐکو اس اختیار کے ساتھ نہیں بھیجا کہ آپؐ انہیں زبردستی حق کی طرف لے آئیں۔

فَذَکِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ یَّخَافُ وَعِیۡدِ ﴿٪۴۵﴾

’’پس آپ تذکیر کرتے رہیے اِس قرآن کے ذریعے سے ہر اُس شخص کو جو میری وعید سے ڈرتا ہے۔‘‘

جس شخص کی روح مردہ نہ ہو چکی ہو گی اور اس میں تھوڑی سی بھی جان ہو گی اور جس کے اندر اخلاقی حس دم نہ توڑ چکی ہو گی اور بھلائی کی معمولی سی رمق بھی باقی ہو گی وہ آپﷺ کی باتیں سن کر قرآن کی تذکیر اور یاد دہانی سے ضرور فائدہ اٹھائے گا۔ یہاں پر {فَذَکِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ} کے الفاظ میں حضورﷺ کو خصوصی طو رپر ہدایت دی جا رہی ہے کہ آپؐ تبلیغ و تذکیر‘ انذار و تبشیر اور لوگوں کے تزکیہ نفس کاذریعہ قرآن ہی کو بنائیں۔ اس حکم کے مقابلے میں آج اُمتِ مسلمہ کی مجموعی حالت یہ ہے کہ مسلمانوں نے خود کو قرآن سے بالکل ہی بے نیاز کر لیا ہے اور دعوت و تبلیغ‘ وعظ و نصیحت اور تربیت و تزکیہ کے دیگر ذرائع اختیار کر لیے ہیں۔

یوٹیوب پر دیکھیے