اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَذِکۡرٰی لِمَنۡ کَانَ لَہٗ قَلۡبٌ اَوۡ اَلۡقَی السَّمۡعَ وَ ہُوَ شَہِیۡدٌ ﴿۳۷﴾
’’یقینا اس میں یاد دہانی ہے اُس کے لیے جس کا دل ہو یا جو توجہ سے سنے حاضر ہو کر۔‘‘
اپنے مضمون کے اعتبار سے یہ قرآن مجید کا بہت اہم مقام ہے۔ یاد دہانی کے حوالے سے اس آیت میں دو طرح کے لوگوں کا ذکر ہوا ہے۔ یہ یاد دہانی یا تو ان لوگوں کے لیے مفید ہے جو ’’دل‘‘ رکھتے ہیں‘ یا پھر وہ جو پوری توجہ سے اس کو سنیں۔گویا یہاںقرآن کی ہدایت تک پہنچنے کے دو الگ الگ طریقوں اور راستوں (approaches) کا ذکر ہے۔ ایک ان لوگوں کا راستہ ہے جو دل رکھتے ہیں۔ یہ دراصل وہ لوگ ہیں جن کی روح زندہ ہے۔روح کا مسکن چونکہ قلب انسانی ہے اس لیے جس انسان کی روح زندہ ہو گی اس کا دل بھی زندہ ہو گا۔ایسے دل کو دلِ بیدار‘ دلِ زندہ یا قلبِ سلیم کہا جاتا ہے۔ میر درد ؔنے اپنے اس شعر میں دل کی اسی ’’زندگی‘‘ کا ذکر کیا ہے : ؎
مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مر جائے
کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے!
۱
چنانچہ ایک زندہ دل شخص جب قرآن سنے گا تواس شخص کی روح یوں لپک کر قرآنی پیغام تک پہنچ جائے گی جیسے پٹرول دور سے آگ پکڑ لیتا ہے۔ اس کیفیت کو سورۃ النور کی آیت ۳۵ میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : {یَّکَادُ زَیۡتُہَا یُضِیۡٓءُ وَ لَوۡ لَمۡ تَمۡسَسۡہُ نَارٌ ؕ } (النور:۳۵) ’’قریب ہے کہ اس کا روغن خود بخود روشن ہو جائے‘ چاہے اسے آگ نے ابھی چھوا بھی نہ ہو‘‘۔گویاایک پاکیزہ روح نورِ وحی تک پہنچنے کے لیے بے قرار ہوتی ہے۔بقولِ اقبال: ؎
مضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیاز
تو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے ساز
نغمے بے تاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیے
طور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیے!
حافظ ابن قیم ؒنے اس بارے میں بڑی خوبصورت بات لکھی کہ بہت سے لوگ قرآن کو پڑھتے ہوئے یوں محسوس کرتے ہیں جیسے قرآن ان کے دل پر نقش ہے اور وہ اس کی عبارت کو مصحف سے نہیں بلکہ اپنی لوحِ قلب سے پڑھ رہے ہیں۔ یعنی سلیم الفطرت لوگوں کی ارواح کوقرآن حکیم کے ساتھ خصوصی ہم آہنگی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ جب قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں تو ان کی روحوں میں ایک مانوس قسم کا ارتعاش (sympathetic vibration) پیدا ہوتا ہے۔گویا ان کی ارواح قرآنی الفاظ و آیات کے ساتھ پہلے سے ہی مانوس ہیں۔ بقول غالبؔ ؎
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اُس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے!
ایسے لوگوں کو قرآن کی ہدایت تک پہنچنے کے لیے کسی مہلت یا تگ و دو کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جیسے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قبولِ حق میں ایک لمحے کا توقف بھی نہیں کیا تھا۔
اس کے برعکس وہ لوگ جن کی ارواح پر غفلت اور مادیت کے پردے پڑ چکے ہوں‘ ان کے لیے اس آیت میں دوسرا طریقہ بتایا گیا ہے: {اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ وَھُوَ شَھِیْدٌ}۔ یعنی ان لوگوں کو خصوصی توجہ کے ساتھ محنت کرنا ہوگی‘ تب کہیں جا کر ’’گوہر مقصود‘‘ تک ان کی رسائی ہو گی۔ مطالعہ قرآن کے ہمارے منتخب نصاب میں ایمان کی بحث کے تحت دو دروس (درس ۶ اور ۷) ایسے ہیں جو انہی دو طریقوں کی الگ الگ نمائندگی کرتے ہیں۔ ان میں پہلا درس سورۂ آل عمران کی آیات ۱۹۰ تا ۱۹۵ پر مشتمل ہے۔ ان آیات میں آیاتِ آفاقی کے مشاہدے کی بنیاد پر تفکر و تدبر کی دعوت دی گئی ہے :
دوسرے مقام کی آیتاِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ ﴿ۚۙ۱۹۰﴾الَّذِیۡنَ یَذۡکُرُوۡنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوۡدًا وَّ عَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ وَ یَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿۱۹۱﴾
’’یقینا آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے الٹ پھیر میں ہوش مند لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔جو اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں‘ کھڑے بھی‘ بیٹھے بھی اور اپنے پہلوؤں پر بھی اور مزید غور و فکر کرتے رہتے ہیں آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں۔ اے ہمارے ربّ! تو نے یہ سب کچھ بے مقصد توپیدا نہیں کیاہے۔ تو پاک ہے (اس سے کہ کوئی عبث کام کرے)‘ پس تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا!‘‘
لیکن یہ تفکر و تدبر تب نتیجہ خیز ہو گا جب اس کے ساتھ اللہ کے ذکر کا بھی اہتمام کیا جائے گا ۔ گویا ایمان وہدایت کی منزلِ مقصود تک پہنچنے کے لیے ذکر اور فکر دونوں کو ایک ساتھ لے کر چلنا ہو گا ‘جیسا کہ اقبال ؔنے کہا ہے ؎
فقرِ قرآں اختلاطِ ذکر و فکر
فکررا کامل نہ دیدم جز بہ ذکر
جز بہ قرآں ضیغمی روباہی است
فقرِ قرآں اصل شاہنشاہی است
یعنی فقر قرآن تو ذکر اور فکر کے امتزاج کانام ہے جبکہ میں ذکر کے بغیر فکر کوناقص اور نامکمل دیکھتا ہوں۔ اگر کوئی شیر بھی ہو تو قرآن کے بغیر وہ لومڑی کی طرح ہو گا ‘اصل شہنشاہ تو وہ ہے جسے فقر قرآنی مل گیا۔
اس ضمن میں ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں ذکر اور فکر کے الگ الگ حلقے بن چکے ہیں۔ ان میں سے ہر حلقے کے لوگ اپنے طور طریقوں میں اس قدر مگن ہیں کہ انہیں دوسروں سے کچھ سروکار نہیں۔ ایک طرف مفکرین ہیں جو فلسفہ وفکر پر بڑی بڑی کتابیں رقم کر رہے ہیں ‘ کیسی کیسی تفسیریں لکھتے جاتے ہیں‘ مگر وہ ذکر کی لذت سے بالکل ناآشنا ہیں۔ دوسری طرف ذاکرین ہیں جو ذکر کی روح پرورمحفلیں سجاتے ہیں لیکن انہیں فکر و تدبر سے کوئی واسطہ نہیں ۔ ظاہر ہے گاڑی کے ان دونوں پہیوں میں ہم آہنگی ہو گی تو امت کا قافلہ منزل کی طرف گامزن ہو گا ۔ بہرحال سورۂ آل عمران کی مذکورہ آیات میں ذکر و فکر کے ذریعے ہدایت کی ’’منزل مقصود‘‘ تک پہنچنے کا طریقہ بتایا گیا ہے‘ جبکہ دوسرے طریقے کی نشاندہی سورۃ النور کے پانچویں رکوع (منتخب نصاب کے درس۷) میں کی گئی ہے کہ اپنے قلب کو صاف کر لیجیے‘ اس کی تمام کدورتیں دور کر دیجیے تو اس کے آئینے میں قرآن خود بخود منعکس ہو کر اسے منور (نُورٌ عَلٰی نُور) کر دے گا اور یوں نورِ فطرت اور نورِ وحی کے امتزاج سے نورِ ایمان کی تکمیل ہو جائے گی۔
(۱) علامہ اقبال کے کلام میں بھی جابجا دلِ بیدار‘ دلِ زندہ‘ دلِ مردہ‘ دلِ بینا اور قلبِ سلیم وغیرہ کا ذکر ملتا ہے۔ ’’بالِ جبریل‘‘ میں انہوں نے ’’دلِ بیدار‘‘ کے بارے میں کیا خوب کہا ہے ؎
دلِ بیدار فاروقی‘ دلِ بیدار کراری
مسِ آدم کے حق میں کیمیا ہے دل کی بیداری
دلِ بیدار پیدا کر کہ دل خوابیدہ ہے جب تک
نہ تیری ضرب ہے کاری‘ نہ میری ضرب ہے کاری! (حاشیہ از مرتب)