وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ وَ نَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِہٖ نَفۡسُہٗ ۚۖ
’’اور ہم نے ہی انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم خوب جانتے ہیں جو اُس کا نفس وسوسے ڈالتا ہے ۔‘‘
یہ اُس قوتِ شرکا ذکر ہے جو انسان کے اندر ہے۔ نفس انسانی کے شر کا ذکر سورۂ یوسف میں یوں آیا ہے:
دوسرے مقام کی آیتوَ مَاۤ اُبَرِّیُٔ نَفۡسِیۡ ۚ اِنَّ النَّفۡسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوۡٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیۡ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۵۳﴾
’’اور میں اپنے نفس کو بری قرار نہیں دیتا‘یقینا (انسان کا) نفس تو برائی ہی کا حکم دیتا ہے سوائے اُس کے جس پر میرا ربّ رحم فرمائے۔ یقینا میرا ربّ بہت بخشنے والا‘ نہایت رحم کرنے والاہے۔‘‘
فطری طور پر انسان کے اندر داعیہ خیر بھی ہے اور داعیہ شربھی۔ انسان کی اندرونی قوتِ شر کوسورۂ یوسف کی اس آیت میں ’’نفسِ امارہ‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ فرائیڈ اسے id یا libido کہتا ہے۔ دوسری طرف انسان کے اندر خیر کی قوت اس کی روح ہے جس کا مسکن قلب انسانی ہے۔ انسان کی روح اسے بلندی کی طر ف لے جانا چاہتی ہے۔ اس داعیہ یا قوت کو فرائیڈ super ego کا نام دیتا ہے‘ یعنی ego (انسانی انا) کا اعلیٰ درجہ ۔فرائیڈ کے دیے ہوئے یہ عنوانات توکسی حد تک ہمارے لیے قابل قبول ہیں ‘لیکن ان عنوانات کی تشریح جو اُس نے کی ہے اسے ہم درست نہیں سمجھتے۔ اس کی وجہ وہی ہے جو اس حوالے سے کئی مرتبہ پہلے بھی بیان ہو چکی ہے کہ مغربی سائنسدان اورفلاسفرز سب کے سب ایک آنکھ سے دیکھتے ہیں ۔وہ صرف ’’عالم خلق‘‘ یعنی اسباب و علل کی دنیا سے واقف ہیں اور اس میں کوئی کلام نہیں کہ مادی دنیا کے اَسرار و رموز کو وہ خوب سمجھتے ہیں۔ اس میدان میں انہوں نے تحقیق و تفتیش کے ایسے معیار قائم کیے ہیں کہ انسانی عقل واقعی دنگ رہ جاتی ہے۔ لیکن دوسری طرف ’’عالم امر‘‘ کے بارے میں وہ بالکل اندھے اور کورے ہیں۔ یعنی ان کے ہاں روح‘ وحی اور فرشتے وغیرہ کا کوئی تصور نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’انسان‘‘ کے بارے میں ان کے فلسفیانہ تجزیے اکثر درست نہیں ہوتے۔ بہرحال آیت زیر مطالعہ میں انسان کے اندر موجود قوتِ شر (نفس امارہ) کا ذکر ہے کہ انسان کا نفس اسے جوپٹیاں پڑھاتا ہے اس کی تفصیلات اس کے خالق سے پوشیدہ نہیں ہیں۔
وَ نَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِیۡدِ ﴿۱۶﴾
’’اور ہم تو اُس سے اُس کی رَگِ جاں سے بھی زیادہ قریب ہیں۔‘‘
ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کے اس قرب کی کیفیت اور نوعیت کے بارے میں ہم کچھ نہیں جان سکتے ‘بقول شاعر یہ قرب ’’بے تکیف و بے قیاس‘‘ ہے: ؎
اتصالے بے تکیف بے قیاس
ہست ربّ الناس را با جانِ ناس
سورۃ الحدید کی آیت ۴ میں بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے اس قرب کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے : {وَ ہُوَ مَعَکُمۡ اَیۡنَ مَا کُنۡتُمۡ ؕ} کہ تم جہاںکہیں بھی ہوتے ہو وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے۔ ظاہر ہے ہم اس ’’معیت‘‘ کا تصور نہیں کر سکتے۔ اسی طرح قرآن میں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ اور چہرے کا ذکر بھی ہے‘ اس کا چہرہ کیسا ہے؟ ہم نہیں جانتے۔ اس کا ہاتھ کیسا ہے؟ ہمیں کچھ معلوم نہیں ۔ اللہ تعالیٰ رات کے آخری حصے میں آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے۔ وہ کیسے نزول فرماتا ہے ؟ہم اس کی کیفیت کو نہیں سمجھ سکتے۔ ایسے معاملات میں خواہ مخواہ کا تجسس ہمیں فتنوں میں مبتلا کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس حوالے سے ہمیں آخری بات یہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ’’عالم امر‘‘ اور اس کی کیفیات ہماری سمجھ سے وراء الوراء ہیں۔ ہم اپنے حواسِ خمسہ اور عقل و شعور کے ذریعے جو علم حاصل کر سکتے ہیں اس کا تعلق ’’عالم خلق‘‘ سے ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اسی ’’دائرے‘‘ میں رہتے ہوئے ‘ سوچیں سمجھیں‘ تحقیق کریں‘ نتائج اخذ کریں اوران نتائج کو بروئے کار لائیں۔ دوسری طرف ’’عالم امر‘‘ سے متعلق جو معلومات وحی کے ذریعے ہم تک پہنچیں انہیں من وعن تسلیم کرلیں۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت۳۶ کے الفاظ {اِنَّ السَّمۡعَ وَ الۡبَصَرَ وَ الۡفُؤَادَ } میں اسی طرزِعمل کی طرف ہماری راہنمائی کی گئی ہے۔ چنانچہ آیت زیر مطالعہ کے حوالے سے ہمارے لیے بس یہ جان لینا کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری رگِ جان سے بھی زیادہ ہمارے قریب ہے۔ اس قرب کی منطق اور کیفیت کے بارے میں ہمیں عقل کے گھوڑے دوڑانے کی ضرورت نہیں ہے۔