بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

الحجرات

آیات ۱ تا ۱۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۃ الحجرات اٹھارہ آیات اور دو رکوعوں پر مشتمل ایک مختصر سورت ہے۔ جیسا کہ قبل ازیں سورۂ محمد(ﷺ) کے تمہیدی کلمات میں بھی بتایاجاچکا ہے کہ سورۂ محمد اور سورۃ الفتح کا آپس میں جوڑے کا تعلق ہے‘ جبکہ سورۃ الحجرات کی حیثیت سورۃ الفتح کے ضمیمے کی سی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں سورۃ الفتح کی بعض آیات کی وضاحت ملتی ہے۔ مثلاً سورۃ الفتح میں {وَ تُعَزِّرُوۡہُ وَ تُوَقِّرُوۡہُ ؕ } کے الفاظ میں اللہ کے رسولﷺ کی تعظیم و توقیر اور حمایت و نصرت کا حکم دیا گیا ہے جبکہ سورۃ الحجرات میں اس حوالے سے عملی ہدایات دی گئی ہیں۔ اسی طرح سورۃ الفتح میں رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ کے الفاظ میں اہل ایمان کی شخصیات کی ایک consolidated جھلک دکھائی گئی ہے جبکہ سورۃ الحجرات میں ایک بندۂ مؤمن کے کردار کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

اس کے علاوہ اس سورت میں غلبۂ دین کی جدوجہد کے حوالے سے جہاد کی اہمیت ‘دین میں جہاد کی اصل حیثیت‘اسلامی ریاست کی دستوری بنیاد‘اہل ایمان پر اللہ اور اس کے رسولﷺ کے حقوق‘مسلمانوں کے باہمی حقوق اور مسلمان معاشرے کی اجتماعی زندگی کے خدوخال جیسے اہم اور بنیادی مسائل بھی بیان ہوئے ہیں۔

گویااسلامی ریاست کے اصولوں اور اسلامی معاشرے سے متعلق بنیادی ہدایات کے اعتبار سے سورۃ الحجرات قرآن کی اہم ترین اور جامع ترین سورت ہے۔ اس اعتبارسے یوں سمجھئے کہ اسلامی ریاست اور اسلامی معاشرے سے متعلق جو تفصیلی ہدایات سورۃ النساء اور سورۃ المائدۃ میں دی گئی ہیں ان کا لبِ لباب اور خلاصہ سورۃ الحجرات کی اٹھارہ آیات میں سمو دیا گیا ہے۔

1

کوئی قانون سازی قرآن و سنت کے خلاف نہیں ہوگی

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱﴾

آیت 1

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱﴾

’’اے اہلِ ایمان مت آگے بڑھو اللہ اور اُس کے رسول سے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔یقینا اللہ سب کچھ سننے والا ‘سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘

یہ آیت گویا اسلامی ریاست کے آئین کی بنیاد ہے۔ اسلامی ریاست کے آئین کی پہلی شق یہ ہے کہ حاکمیت اللہ کی ہے اور اقتدارِ مطلق کامالک صرف اکیلا وہ ہے۔ اس نظری و اعتقادی حقیقت کی تعمیل و تنفیذ کا طریقہ اس آیت میں بتایا گیا ہے۔ یعنی اللہ اور اس کے رسولﷺ نے جو حدود قائم کر دی ہیں ان حدود سے کسی بھی معاملے میں تجاوز نہیں ہو گا۔ اس آیت کے مفہوم کو پاکستان کے ہردستور میں ان الفاظ کے ساتھ شامل رکھا گیا ہے: No Legislation will be done repugnant to the Quran and the Sunnah۔ یہ شق گویا اسلامی ریاست کے آئین کے لیے اصل الاصول کا درجہ رکھتی ہے۔ چنانچہ آئین پاکستان میں اس شق کے شامل ہونے سے اصولی طور پر تو پاکستان ایک اسلامی ریاست بن گیا‘ لیکن عملی طور پر اس ’’ذمہ داری‘‘ سے جان چھڑانے کے لیے کمال یہ دکھایا گیا کہ ان الفاظ کے ساتھ ایک ہاتھ سے آئین کے اندر اسلام داخل کر کے دوسرے ہاتھ سے نکال لیا گیا ۔ آئین پاکستان کو قرآن و سنت کے مطابق بنانے کے مقصد کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل (Islamic Ideological Council) تشکیل دی گئی اور اسے بظاہر یہ اہم اور مقدس فریضہ سونپا گیا کہ وہ پارلیمنٹ کی ’’قانون سازی‘‘ پر گہری نظر رکھے گی اور اس ضمن میں کسی کوتاہی اور غلطی کی صورت میں حکومت کو رپورٹ پیش کرے گی۔ یہاں تک تو معاملہ ٹھیک تھا ‘لیکن اس میں منافقت یہ برتی گئی کہ آئین کی رو سے حکومت کو نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل کرنے کا پابند نہیں کیا گیا۔ چنانچہ کونسل نے اقتصادیات اور غیر سودی بینکاری کے حوالے سے بہت مفید سفارشات مرتب کی ہیں۔ بہت سے دوسرے معاملات میں بھی تحقیقاتی رپوٹیں حکومتوں کو بھجوائی ہیں۔ کونسل کی سفارشات جمع ہوتے ہوتے الماریاں بھر گئیں ‘لیکن کسی حکومت نے ان میں سے کسی ایک سفارش کو بھی تنفیذ کے حوالے سے لائق اعتناء نہ سمجھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کونسل کی تمام تحقیقات اور سفارشات کلی طور پر لاحاصل مشق (exercise in futility) ثابت ہوئیں۔

بہر حال زیر مطالعہ آیت کی رو سے جب کسی ریاست کے آئین میں مذکورہ شق شامل کر لی جائے گی تو اصولی طور پر وہ ریاست اسلامی ریاست بن جائے گی۔ اس کے بعداس ریاست کے قانون ساز ادارے کو چاہے پارلیمنٹ کہیں‘مجلس ملی کہیں یا کانگرس کا نام دیں ‘اس کی قانون سازی کا دائرۂ اختیار (legislative authority) قرآن وسنت کی بالادستی کے باعث محدود ہو جائے گا۔ یعنی اس ’’قدغن‘‘ کے بعد وہ مقننہ اپنے ملک کے لیے صرف قرآن و سنت کے دائرے کے اندر رہ کر ہی قانون سازی کر سکے گی۔اس دائرے کے اندر جو قانون سازی کی جائے گی وہ جائز اور مباح ہو گی اور اس دائرے کی حدود سے متجاوز ہوتا ہوا کوئی بھی قانون ناجائز اور ممنوع قرار پائے گا‘ چاہے اس قانون کو مقننہ کے تمام ارکان ہی کی حمایت حاصل کیوں نہ ہو۔ اسلامی مقننہ کی اس ’’محدودیت‘‘ کو اس مثال سے سمجھیں کہ کسی دعوت میں بلائے گئے مہمانوں کی تواضع روح افزا شربت سے کی جائے‘ سیون اَپ سے یا دودھ سوڈا وغیرہ سے‘ اس بارے میں فیصلہ تو کثرتِ رائے سے کیا جا سکتا ہے‘ لیکن تمام میزبان اپنے سو فیصد ووٹوں سے بھی مہمانوں کو کوئی ایسا مشروب پلانے کافیصلہ نہیں کر سکتے جس کا پینا قرآن و سنت میں ممنوع قرار دیا جا چکا ہے۔ اس نکتے کو رسول اللہﷺ نے اس مثال کے ذریعے نہایت عمدگی سے واضح فرمایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: حدیث((مَثَلُ الْمُؤْمِنِ وَمَثَلُ الْاِیْمَانِ کَمَثَلِ الْفَرَسِ فِیْ آخِیَّتِہٖ ، یَجُوْلُ ثُمَّ یَرْجِعُ اِلٰی آخِیَّتِہٖ …))۱ یعنی ’’مؤمن کی مثال اور ایمان کی مثال اُس گھوڑے کی سی ہے جو اپنے کھونٹے کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ وہ گھومنے پھرنے کے بعد پھر اپنے کھونٹے پر واپس لوٹ آتا ہے…‘‘ ظاہر ہے مؤمن تو وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان رکھتا ہے اور ان کے احکام کو مانتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ اوراس کے رسولﷺ کے احکام کے کھونٹے سے بندھ چکا ہے ‘اب وہ اس کھونٹے کے گردا گرد ایک دائرے میں اپنی مرضی سے چرچگ سکتا ہے ‘لیکن اس دائرے کی حدود کا تعین اس کھونٹے کی رسی (حدود اللہ)کے اندر موجود گنجائش کی بنیاد پر ہی ہو گا۔اس کے برعکس ایک وہ شخص ہے جو مادر پدر آزاد ہے۔ وہ نہ اللہ کو مانتا ہے ‘نہ رسولؐ کو جانتا ہے اور نہ ہی ان کے احکام کو پہچانتا ہے‘وہ اپنی مرضی کا مالک ہے ‘جو چاہے کرے اور جس چیز کو چاہے اپنے لیے ’’جائز‘‘ قرار دے لے۔ چنانچہ ایسے افراد اگر کسی ملک یا ریاست کے قانون ساز ادارے میں بیٹھے ہوں گے تو وہ کثرتِ رائے سے اپنی ریاست اور قوم کے لیے جو قانون چاہیں منظور کر لیں۔ وہ چاہیں تو ہم جنس پرستی کو جائز قرار دے دیں اور چاہیں تو مردکی مرد سے شادی کو قانونی حیثیت دے دیں۔

اب اس کے بعد جو چار آیات آ رہی ہیں وہ اہل ایمان پر اللہ کے رسولﷺ کے حقوق کا تعین کرتی ہیں۔ حضورﷺ کی تعظیم‘آپؐ کی محبت اور آپؐ کے اتباع کا جذبہ گویا ایک مسلمان معاشرے کی تہذیب اور اس کے تمدن کی بنیاد ہے۔ اس بارے میں ایک عمومی حکم {وَ تُعَزِّرُوۡہُ وَ تُوَقِّرُوۡہُ ؕ } ہم سورۃ الفتح میں پڑھ آئے ہیں۔ اس حکم کی شرح گویا اب اگلی آیات میں بیان ہو رہی ہے۔

(۱) صحیح ابن حبان‘ ح:۶۱۶۔ الترغیب والترھیب للمنذری : ۴/۱۱۹۔ مجمع الزوائد للھیثمی :۱۰/۲۰۴۔ مشکاۃ المصابیح‘ کتاب الاطعمۃ‘ باب الضیافۃ۔

2-5

دستورِ اسلامی کی جذباتی و ثقافتی بنیاد. . . نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب و احترام

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرۡفَعُوۡۤا اَصۡوَاتَکُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجۡہَرُوۡا لَہٗ بِالۡقَوۡلِ کَجَہۡرِ بَعۡضِکُمۡ لِبَعۡضٍ اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿۲﴾ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَغُضُّوۡنَ اَصۡوَاتَہُمۡ عِنۡدَ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ امۡتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوۡبَہُمۡ لِلتَّقۡوٰی ؕ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۳﴾ اِنَّ الَّذِیۡنَ یُنَادُوۡنَکَ مِنۡ وَّرَآءِ الۡحُجُرٰتِ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۴﴾ وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ صَبَرُوۡا حَتّٰی تَخۡرُجَ اِلَیۡہِمۡ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۵﴾

آیت 2

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرۡفَعُوۡۤا اَصۡوَاتَکُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجۡہَرُوۡا لَہٗ بِالۡقَوۡلِ کَجَہۡرِ بَعۡضِکُمۡ لِبَعۡضٍ

’’اے اہلِ ایمان! اپنی آواز کبھی بلند نہ کرنا نبی(ﷺ) کی آواز پر اور نہ انہیں اس طرح آواز دے کر پکارنا جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو بلند آواز سے پکارتے ہو‘‘

اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿۲﴾

’’مبادا تمہارے سارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘

خبردار !نبی کریمﷺ کی تعظیم و توقیر کا معاملہ بہت نازک اور حساس ہے۔ اس معاملے میں ہمیشہ چوکنا اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔کہیں ایسا نہ ہو نبی کریم ﷺ کی شان میں کسی معمولی سی بے ادبی سے تم میں سے کسی کے تمام نیک اعمال ضائع ہو جائیں اور وہ اسی زعم میں رہے کہ میں تو پکا سچا مسلمان ہوں‘ہمیشہ کبائر سے بچ کررہتا ہوں‘میں نے کبھی چوری نہیں کی‘ڈاکا نہیں ڈالا‘اور کبھی زنا کاری کا نہیں سوچا۔

آیت 3

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَغُضُّوۡنَ اَصۡوَاتَہُمۡ عِنۡدَ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ امۡتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوۡبَہُمۡ لِلتَّقۡوٰی ؕ

’’بے شک وہ لوگ جو اپنی آواز وں کو پست رکھتے ہیں اللہ کے رسولؐ کے سامنے‘یہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے جانچ پرکھ کر چن لیا ہے تقویٰ کے لیے۔‘‘

پچھلی آیت میں جو حکم منفی انداز میں دیا گیا ہے اسی حکم کو اب شاباش کے لیے مثبت انداز میں دہرایا گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو اپنے رسولﷺ کے ادب کے حوالے سے آپؐ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا طرزِ عمل اس قدر پسند آیا ہے کہ اس بنیاد پر اُس نے ان کے دلوں کو تقویٰ کے نور سے خصوصی طور پر منور کرنے کے لیے منتخب کر لیا ہے۔

لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۳﴾

’’ان کے لیے مغفرت بھی ہے اور بہت بڑا اجر بھی۔‘‘

آیت 4

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُنَادُوۡنَکَ مِنۡ وَّرَآءِ الۡحُجُرٰتِ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۴﴾

’’بے شک وہ لوگ جو آپؐ کو پکارتے ہیں حجروں کے پیچھے سے ان میں سے اکثر وہ ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔‘‘

بعض اوقات جب حضورﷺ اپنے حجرۂ مبارک میں تشریف فرما ہوتے تو بدو قسم کے لوگ باہر کھڑے ہو کر آپؐ کو آواز یں دینا شروع کر دیتے: ’’ یَا مُحَمَّد اُخْرُجْ اِلَیْنَا‘‘ ۔ حضورﷺ کے گھر تشریف لے جانے‘آرام فرمانے اور گھر سے باہر رونق افروز ہونے کے اپنے معمولات تھے۔ لہٰذا یہاں دو ٹوک انداز میں بتا دیا گیا کہ وقت بے وقت گھر سے باہر کھڑے ہو کر لوگوں کا آپؐ کو بے باکانہ انداز میں آوازیں دینے کا یہ طرزِ عمل اللہ تعالیٰ کو سخت نا پسند ہے۔ کسی کو گھر سے باہر بلانے کا یہ انداز اور طریقہ عام معاشرتی آداب کے بھی خلاف ہے۔

آیت 5

وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ صَبَرُوۡا حَتّٰی تَخۡرُجَ اِلَیۡہِمۡ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۵﴾

’’اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ خود ان کے پاس نکل کر آ جاتے تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا۔ بہرحال اللہ بہت بخشنے والا ‘بہت رحم کرنے والا ہے۔‘‘

چونکہ یہ لوگ آدابِ معاشرت سے نا آشنا ہیں اور یہ خلافِ ادب حرکت وہ جان بوجھ کر نہیں کرتے رہے ہیں اس لیے اپنے گزشتہ طرز عمل کے حوالے سے تو انہیں معافی کی توقع رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ غفور اور رحیم ہے‘ لیکن آئندہ کسی سے ایسی کوئی حرکت سرزد نہیں ہونی چاہیے۔

6

بغیر تحقیق کے فیصلہ نہ کرو

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِیۡبُوۡا قَوۡمًۢا بِجَہَالَۃٍ فَتُصۡبِحُوۡا عَلٰی مَا فَعَلۡتُمۡ نٰدِمِیۡنَ ﴿۶﴾

تمہید

آئندہ آیات میں آٹھ خصوصی احکام کا ذکر ہے۔ ان میں دو بڑے احکام ہیں اور چھ چھوٹے۔ بڑے اور چھوٹے کی یہ تقسیم میں نے اس بنیاد پر کی ہے کہ ان میں دو احکام ایسے ہیں جن میں سے پہلے حکم کے لیے تین اور دوسرے کے لیے دو آیات مختص کی گئی ہیں ‘جبکہ بعد کے چھ احکام مجموعی طور پر دو آیات میں بیان ہوئے ہیں ‘یعنی ان میں سے تین تین احکام کو ایک ایک آیت میں جمع کر دیاگیا ہے۔ ان تمام احکام کا تعلق اسلامی معاشرے اور غلبۂ دین کے لیے کھڑی ہونے والی تنظیم کو مضبوط اور مربوط رکھنے سے ہے۔ اگر کوئی تنظیم خود مضبوط و مربوط نہیں ہو گی تو ظاہر ہے اس کی جدوجہد بھی کمزور اور غیر مؤثر رہے گی۔ بہر حال ان آٹھ احکام میں ایسے اصول دے دیے گئے ہیں جو کسی معاشرے اور جماعت کے لیے مفید ہو سکتے ہیں اور ان باتوں سے بچنے کی ترغیب دی گئی ہے جن سے کسی معاشرہ یا تنظیم کی وحدت میں رخنے پڑ سکتے ہیں۔دو بڑے احکام میں سے پہلا حکم یہ ہے:

آیت 6

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا

’’اے اہلِ ایمان! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق شخص کوئی بڑی خبر لے کر آئے تو تم تحقیق کر لیا کرو‘‘

اگر خبر دینے والا شخص تمہارے خیال کے مطابق ’’متقی‘‘ نہیں ہے تو اس خبر کے مطابق کوئی اقدام کرنے سے پہلے اچھی طرح سے تحقیق کر لیا کرو۔ ہو سکتا ہے اس نے آپ کو غلط اطلاع دی ہو کہ فلاں قبیلہ تم لوگوں پر حملے کی تیاری کر رہا ہے اور آپ تحقیق کیے بغیر اس قبیلے پر خواہ مخواہ چڑھائی کر دو۔

اَنۡ تُصِیۡبُوۡا قَوۡمًۢا بِجَہَالَۃٍ فَتُصۡبِحُوۡا عَلٰی مَا فَعَلۡتُمۡ نٰدِمِیۡنَ ﴿۶﴾

’’مبادا کہ تم جا پڑو کسی قوم پر نادانی میں اور پھر تمہیں اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔‘‘

تاریخِ عالم گواہ ہے کہ افواہوں کی بنیاد پر کیے گئے اکثر اقدامات سے قوموں اور ملکوں کے مابین بڑے بڑے جھگڑوں نے جنم لیا ہے۔اس لیے افواہوں کی بنیاد پر کوئی اقدام نہیں کرنا چاہیے۔ ہاں اگر خبر لانے والا شخص صاحبِ تقویٰ اور قابل اعتماد ہو تو دوسری بات ہے۔

7-8

رسول ﷺ کی اطاعت نہ کی تو مشکل میں پڑ جاؤ گے

ویڈیو

وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ فِیۡکُمۡ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ؕ لَوۡ یُطِیۡعُکُمۡ فِیۡ کَثِیۡرٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ لَعَنِتُّمۡ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیۡکُمُ الۡاِیۡمَانَ وَ زَیَّنَہٗ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ وَ کَرَّہَ اِلَیۡکُمُ الۡکُفۡرَ وَ الۡفُسُوۡقَ وَ الۡعِصۡیَانَ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الرّٰشِدُوۡنَ ۙ﴿۷﴾ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰہِ وَ نِعۡمَۃً ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۸﴾

آیت 7

وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ فِیۡکُمۡ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ؕ

’’اور جان لو کہ تمہارے مابین اللہ کا رسول موجود ہے۔‘‘

انسانی سطح پرحضورﷺ کے مختلف لوگوں کے ساتھ مختلف رشتے تھے۔ مثلاً بعض خواتین کے آپؐ شوہر اور بعض کے باپ تھے۔مردو ں میں سے بعض کے آپؐ داماد تھے‘بعض کے بھتیجے اور بعض کے سسر تھے۔ چنانچہ اس حساس معاملے میں دو ٹوک انداز میں متنبہ کر دیا گیا کہ خبردار! تم میں سے کوئی کسی وقت یہ حقیقت نہ بھولنے پائے کہ محمد بن عبداللہ جو تمہارے درمیان موجود ہیں یہ اللہ کے رسول (ﷺ)ہیں۔ لہٰذا آپؐ کی یہ حیثیت تم میں سے ہر ایک کے سامنے ہر حال میں مقدم رہنی چاہیے۔ آپؐ کا کوئی رشتہ دار محض اپنے کسی مخصوص رشتے کی بنا پر آپؐ کے ساتھ کوئی معاملہ کرنے کا کبھی خیال بھی ذہن میں نہ لائے۔

لَوۡ یُطِیۡعُکُمۡ فِیۡ کَثِیۡرٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ لَعَنِتُّمۡ

’’اگر وہ تمہارا کہنا مانا کریں اکثر معاملات میں تو تم لوگ مشکل میں پڑ جاؤ‘‘

چنانچہ تم ہر معاملے میں رسول اللہﷺ کی مرضی اور منشاء کو پیش نظر رکھا کرو۔ آپؐ سے یہ توقع نہ رکھو کہ آپؐ فیصلے کرتے ہوئے تم لوگوں کی مرضی کا خیال رکھیں گے۔

وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیۡکُمُ الۡاِیۡمَانَ وَ زَیَّنَہٗ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ

’’ لیکن (اے نبیﷺ کے ساتھیو!) اللہ نے تمہارے نزدیک ایمان کو بہت محبوب بنا دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں کے اندر کھبا دیا ہے‘‘

وَ کَرَّہَ اِلَیۡکُمُ الۡکُفۡرَ وَ الۡفُسُوۡقَ وَ الۡعِصۡیَانَ ؕ

’’اوراُس نے تمہارے نزدیک بہت نا پسندیدہ بنا دیا ہے کفر‘فسق اور نافرمانی کو۔‘‘

اُولٰٓئِکَ ہُمُ الرّٰشِدُوۡنَ ۙ﴿۷﴾

’’یہی لوگ ہیں جو صحیح راستے پر ہیں۔‘‘

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان کے حوالے سے قرآن کی یہ آیت خصوصی اہمیت اور عظمت کی حامل ہے۔

آیت 8

فَضۡلًا مِّنَ اللّٰہِ وَ نِعۡمَۃً ؕ

’’اللہ کی طرف سے بہت بڑے فضل اور انعام کی بنا پر۔‘‘

وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۸﴾

’’ اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ‘کمال حکمت والا ہے۔‘‘

اس کے بعد اب دوسرا حکم دیا جا رہا ہے:

9-10

دو مسلمان گروہوں باہم لڑ پڑیں تو فورا صلح کراؤ

ویڈیو

وَ اِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَہُمَا ۚ فَاِنۡۢ بَغَتۡ اِحۡدٰىہُمَا عَلَی الۡاُخۡرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیۡ تَبۡغِیۡ حَتّٰی تَفِیۡٓءَ اِلٰۤی اَمۡرِ اللّٰہِ ۚ فَاِنۡ فَآءَتۡ فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَہُمَا بِالۡعَدۡلِ وَ اَقۡسِطُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ ﴿۹﴾ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَۃٌ فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَ اَخَوَیۡکُمۡ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿٪۱۰﴾

آیت 9

وَ اِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَہُمَا ۚ

’’اور اگر اہلِ ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دیا کرو۔‘‘

اہل ایمان بھی تو آخر انسان ہیں۔ ان کے درمیان بھی اختلافات ہو سکتے ہیں اور کسی خاص صورت حال میں اختلافات بڑھ کر جنگ اور قتال پر بھی منتج ہو سکتے ہیں۔ جیسے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان یا حضرت علی رضی اللہ عنہ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلافات جنگ کی شکل اختیار کر گئے تھے۔چنانچہ اگر کہیں ایسی صورت حال پیدا ہو تو امت مسلمہ کے تمام افراد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ متحارب فریقین کے درمیان صلح کروائیں۔ اگر مسلمانوں کے دو فریق آپس میں لڑ رہے ہوں تو باقی مسلمان خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھ سکتے‘کیونکہ اگر ان کے درمیان صلح نہ کرائی گئی تو مسلمانو ں کی جمعیت اور طاقت میں رخنہ پڑے گا جس کی وجہ سے بالآخر مسلمانوں کی مجموعی طاقت اور غلبۂ دین کی جدوجہد کو نقصان پہنچے گا۔ اس لحاظ سے کسی بھی ملک یاخطہ کے مسلمانوں کے باہمی جھگڑوں کو ختم کرانا باقی مسلمانوں کا دینی فریضہ ہے۔

فَاِنۡۢ بَغَتۡ اِحۡدٰىہُمَا عَلَی الۡاُخۡرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیۡ تَبۡغِیۡ

’’پھر اگر ان میں سے ایک فریق دوسرے پر زیادتی کر رہا ہو تو تم جنگ کرو اس کے ساتھ جو زیادتی کر رہا ہے‘‘

اگر فریقین میں صلح کرا دی گئی ‘لیکن اس کے بعد بھی ان میں سے ایک فریق اس صلح کی پابندی نہیں کر رہا اور دوسرے فریق پر زیادتی کیے جا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پوری اُمت مسلمہ پر زیادتی کر رہا ہے اورپوری ملت اسلامیہ کو چیلنج کر رہا ہے۔ لہٰذا ایسی صورت میں پوری ملت کی ذمہ داری ہے کہ وہ زیادتی کرنے والے فریق کے خلاف بھر پور طاقت استعمال کرے۔

حَتّٰی تَفِیۡٓءَ اِلٰۤی اَمۡرِ اللّٰہِ ۚ

’’یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے اللہ کے حکم کی طرف۔‘‘

فَاِنۡ فَآءَتۡ فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَہُمَا بِالۡعَدۡلِ وَ اَقۡسِطُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ ﴿۹﴾

’’پھر اگر وہ لوٹ آئے تو ان دونوں کے درمیان صلح کرا دو عدل کے ساتھ اوردیکھو! انصاف کرنا۔بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔‘‘

کہیں ایسا نہ ہو کہ زیادتی کرنے والے فریق کے خلاف طاقت کے استعمال کے دوران تم لوگ انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھو۔ ایسا ہر گز نہیں ہوناچاہیے ۔ طاقت کا یہ استعمال صرف انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی حد تک ہو۔ ظاہر ہے ایک زیادتی کو روکنے کے لیے مزید کسی زیادتی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

آیت 10

اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَۃٌ فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَ اَخَوَیۡکُمۡ

’’یقینا تمام اہلِ ایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں‘پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کر ادیا کرو ۔‘‘

وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿٪۱۰﴾

’’ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو‘تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘

جیسا کہ قبل ازیں ذکر ہوچکا ہے‘ا ن دو بڑے احکام کے بعد اب چھ چھوٹے احکام اگلی دو آیات میں جمع کردیے گئے ۔ اس طرح کہ ہر آیت میں تین احکام ہیں۔ کسی معاشرے یا کسی تنظیم کے اندر انفرادی اور اجتماعی سطح پر جہاں بڑے بڑے اختلافات پید ا ہوتے ہیں وہاں ایسی غلط فہمیاں بھی پیدا ہوتی رہتی ہیں جو بظاہر بہت چھوٹی محسوس ہوتی ہیں ‘لیکن اگر انہیں معمولی سمجھتے ہوئے بروقت ان کا تدارک نہ کیا جائے تو منفی عوامل کی وجہ سے دلوں میں زخم بن جاتے ہیں۔

یوٹیوب پر دیکھیے