تحریر

الفتح

آیات ۱۸ تا ۲۹

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

18-21

بیعتِ رضوان کرنے والوں کے لئے بشارتیں

ویڈیو

لَقَدۡ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ یُبَایِعُوۡنَکَ تَحۡتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ فَاَنۡزَلَ السَّکِیۡنَۃَ عَلَیۡہِمۡ وَ اَثَابَہُمۡ فَتۡحًا قَرِیۡبًا ﴿ۙ۱۸﴾ وَّ مَغَانِمَ کَثِیۡرَۃً یَّاۡخُذُوۡنَہَا ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۱۹﴾ وَعَدَکُمُ اللّٰہُ مَغَانِمَ کَثِیۡرَۃً تَاۡخُذُوۡنَہَا فَعَجَّلَ لَکُمۡ ہٰذِہٖ وَ کَفَّ اَیۡدِیَ النَّاسِ عَنۡکُمۡ ۚ وَ لِتَکُوۡنَ اٰیَۃً لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ یَہۡدِیَکُمۡ صِرَاطًا مُّسۡتَقِیۡمًا ﴿ۙ۲۰﴾ وَّ اُخۡرٰی لَمۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَیۡہَا قَدۡ اَحَاطَ اللّٰہُ بِہَا ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرًا ﴿۲۱﴾

تمہید

اب آئندہ آیات میں اسی مضمون کا تسلسل ہے جو پہلے رکوع میں {اِنَّ الَّذِیۡنَ یُبَایِعُوۡنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوۡنَ اللّٰہَ ؕ } (آیت ۱۰) کے الفاظ سے شروع ہوا تھا۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہو چکا ہے کہ حکمت الٰہی کے پیش نظر اس مضمون کا سلسلہ درمیان سے منقطع کرکے بعد میں نازل ہونے والی آیات کو وہاں جگہ دے دی گئی اوراب آیت ۱۸ سے دوبارہ وہی مضمون شروع ہو رہا ہے۔

آیت 18

لَقَدۡ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ یُبَایِعُوۡنَکَ تَحۡتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ

’’اللہ راضی ہو گیا اہل ایمان سے جب کہ وہ آپؐ سے بیعت کر رہے تھے ‘درخت کے نیچے ‘تو اللہ کے علم میں تھا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا‘‘

یعنی بیعت کے وقت تو ان کے دلوں میں فقط ذوقِ شہادت اور جوشِ جہاد تھا۔ صلح کی بات چیت تو ان کی بیعت کے بعد شروع ہوئی تھی۔

فَاَنۡزَلَ السَّکِیۡنَۃَ عَلَیۡہِمۡ وَ اَثَابَہُمۡ فَتۡحًا قَرِیۡبًا ﴿ۙ۱۸﴾

’’تو اللہ نے ان پر سکینت نازل کر دی اور انہیں (بدلے میں) ایک قریبی فتح بخشی۔‘‘

یہ اشارہ ہے فتح خیبر کی طرف جو حدیبیہ سے واپسی کے بعد جلد ہی ظہور میں آ گئی۔ ان الفاظ میں اس امر کی صراحت ہے کہ یہ انعام ان ہی لوگوں کے لیے مخصوص تھا جو بیعت رضوان میں شریک تھے۔ چنانچہ جب رسول اللہﷺ صفر ۷ھ میں خیبر پر چڑھائی کے لیے نکلے تو آپؐ نے صرف انہی اصحاب کو ساتھ لیا ۔

آیت 19

وَّ مَغَانِمَ کَثِیۡرَۃً یَّاۡخُذُوۡنَہَا ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۱۹﴾

’’اور بہت سے اموالِ غنیمت جو وہ حاصل کریں گے۔ اور اللہ زبردست‘ حکمت والا ہے۔‘‘

آیت 20

وَعَدَکُمُ اللّٰہُ مَغَانِمَ کَثِیۡرَۃً تَاۡخُذُوۡنَہَا فَعَجَّلَ لَکُمۡ ہٰذِہٖ

’’ (اے مسلمانو!) اللہ تم سے وعدہ کرتا ہے بہت سے اموالِ غنیمت کا جنہیں تم حاصل کرو گے‘ پس یہ (فتح)تو اس نے تمہیں فوری طور پر عطاکر دی ہے‘‘

اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے‘ جس کا ذکر سورت کے آغاز میں بایں الفاظ ہوا : {اِنَّا فَتَحۡنَا لَکَ فَتۡحًا مُّبِیۡنًا ۙ﴿۱﴾} ’’یقینا ہم نے آپ ؐکو ایک بڑی روشن فتح عطا فرمائی ہے۔‘‘

وَ کَفَّ اَیۡدِیَ النَّاسِ عَنۡکُمۡ ۚ

’’اور اس نے روک لیا لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے۔‘‘

ظاہر ہے اگر جنگ ہوتی اور قریش بھی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے تو کچھ نہ کچھ نقصان مسلمانوں کا بھی ضرور ہوتا۔

وَ لِتَکُوۡنَ اٰیَۃً لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ یَہۡدِیَکُمۡ صِرَاطًا مُّسۡتَقِیۡمًا ﴿ۙ۲۰﴾

’’تاکہ یہ اہلِ ایمان کے لیے ایک نشانی بن جائے اور وہ تمہاری راہنمائی فرمائے سیدھے راستے کی طرف۔‘‘

تا کہ اس کے بعد اقامت دین کے لیے تمہاری اجتماعی جدوجہد کامیابی کے مراحل جلد از جلد طے کرے اور اللہ تعالیٰ اسے تیر کی طرح سیدھا اس کے آخری ہدف اور منزلِ مقصود تک پہنچا دے۔

آیت 21

وَّ اُخۡرٰی لَمۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَیۡہَا قَدۡ اَحَاطَ اللّٰہُ بِہَا ؕ

’’اور کچھ (فتوحات) اور بھی ہیں جن پر ابھی تمہیں قدرت حاصل نہیں ہوئی ‘اللہ ان کا بھی احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘

یعنی اس کے فوراً بعد تمہیں خیبر کی فتح حاصل ہوگی اور اس کے بعد مکہ بھی فتح ہوجائے گا۔ ان کے علاوہ سرزمین عرب سے باہر بھی بہت سی فتوحات اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے گھیر رکھی ہیں۔ ان فتوحات کے بارے میں دوسرے رکوع (آیت۱۶) میں بھی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ تیسرے رکوع کی یہ آیات دوسرے رکوع کی آیات سے پہلے نازل ہوئی ہیں۔

وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرًا ﴿۲۱﴾

’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

22-24

اگر مشرکین سے جنگ کرتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے

ویڈیو

وَ لَوۡ قٰتَلَکُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوَلَّوُا الۡاَدۡبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا ﴿۲۲﴾ سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلُ ۚۖ وَ لَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا ﴿۲۳﴾ وَ ہُوَ الَّذِیۡ کَفَّ اَیۡدِیَہُمۡ عَنۡکُمۡ وَ اَیۡدِیَکُمۡ عَنۡہُمۡ بِبَطۡنِ مَکَّۃَ مِنۡۢ بَعۡدِ اَنۡ اَظۡفَرَکُمۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرًا ﴿۲۴﴾

آیت 22

وَ لَوۡ قٰتَلَکُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوَلَّوُا الۡاَدۡبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا ﴿۲۲﴾

’’اور اگر یہ کافر (قریشِ مکہ) تم سے جنگ کرتے تو لازماً پیٹھ پھیر جاتے اور پھر نہ پاتے وہ اپنے لیے کوئی حمایتی اور نہ کوئی مددگار۔‘‘

آیت 23

سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلُ ۚۖ

’’یہ اللہ کا وہ دستورہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔‘‘

یعنی یہ اللہ کا قانون ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں اور ان کے اہل ایمان ساتھیوں کی مدد کرتا ہے۔ چنانچہ اگر قریش مکہ اس موقع پر آپؐ کے ساتھ جنگ کرتے تو اللہ اپنی سنت کے مطابق آپ لوگوں کی مدد کرتا اور ایسی صورت میں انہیں پیٹھ دکھانا پڑتی اور شکست ان کا مقدر بنتی۔

وَ لَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا ﴿۲۳﴾

’’اور تم ہرگز نہیں پاؤ گے اللہ کے قانون میں کوئی تبدیلی۔‘‘

آیت 24

وَ ہُوَ الَّذِیۡ کَفَّ اَیۡدِیَہُمۡ عَنۡکُمۡ وَ اَیۡدِیَکُمۡ عَنۡہُمۡ بِبَطۡنِ مَکَّۃَ

’’اور وہی ہے جس نے روک دیے ان کے ہاتھ تمہاری طرف بڑھنے سے اور تمہارے ہاتھ ان کی طرف بڑھنے سے مکہ کی وادی میں‘‘

مِنۡۢ بَعۡدِ اَنۡ اَظۡفَرَکُمۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ

’’اس کے بعد کہ اُس نے تمہیں ان پر فتح دے دی تھی۔‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے قریشِ مکہ کے حوصلے پست کر دیے گئے تھے جس کی وجہ سے ان کے لیے مسلمانوں کا مقابلہ کرنا ممکن نہ رہا اور انہوں نے اپنی تمام تر طاقت کے باوجود مسلمانوں کواپنے برابر کا فریق تسلیم کرتے ہوئے ان سے صلح کر لی۔ اس صلح میں اگلے سال مسلمانوں کے عمرہ کرنے اور اس دوران مکہ شہر کو تین دن کے لیے مکمل طور پر خالی کر دینے جیسی شرائط بھی شامل تھیں۔ دیکھا جائے تو قریش مکہ کے لیے مسلمانوں کو اپنا ہم‘پلہ سمجھتے ہوئے صلح کرنا اور پھر ایسی شرائط تسلیم کر لینا موت کا سامناکرنے سے بھی زیادہ مشکل تھا۔ بہر حال اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے انہیں اندرونی طور پر اس قدر کمزور کر دیا تھا کہ وہ یہ سب کچھ قبول کرنے پر آمادہ ہو گئے اور اس کے مقابلے میں وہ مسلمانوں سے صرف ایک یہ بات منوا سکے کہ اس سال عمرہ ادا کیے بغیر واپس چلے جائیں تا کہ وقتی طور پر ان کی’’ناک‘‘ مکمل طور پر کٹنے سے بچ جائے۔

وَ کَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرًا ﴿۲۴﴾

’’اور جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔‘‘

25

اللہ نے جنگ کے بجائے صلح کی صورت کیوں پیدا فرمائی؟

ویڈیو

ہُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ صَدُّوۡکُمۡ عَنِ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ وَ الۡہَدۡیَ مَعۡکُوۡفًا اَنۡ یَّبۡلُغَ مَحِلَّہٗ ؕ وَ لَوۡ لَا رِجَالٌ مُّؤۡمِنُوۡنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤۡمِنٰتٌ لَّمۡ تَعۡلَمُوۡہُمۡ اَنۡ تَطَـُٔوۡہُمۡ فَتُصِیۡبَکُمۡ مِّنۡہُمۡ مَّعَرَّۃٌۢ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ۚ لِیُدۡخِلَ اللّٰہُ فِیۡ رَحۡمَتِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ لَوۡ تَزَیَّلُوۡا لَعَذَّبۡنَا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿۲۵﴾

آیت 25

ہُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ صَدُّوۡکُمۡ عَنِ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ وَ الۡہَدۡیَ مَعۡکُوۡفًا اَنۡ یَّبۡلُغَ مَحِلَّہٗ ؕ

’’وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں روکے رکھا مسجدِ حرام تک جانے سے اور قربانی کے جانور بھی روکے گئے اپنی جگہ پہنچنے سے۔‘‘

یہ ان جرائم کا تذکرہ ہے جن کا ارتکاب قریش مکہ نے اس پورے واقعے کے دوران کیا تھا۔ انہوں نے نہ صرف مسلمانوں کو احرام کی حالت میں ہوتے ہوئے بھی بیت اللہ کے طواف سے روکا بلکہ ان کے قربانی کے جانور وں کو بھی قربان گاہوں تک نہ پہنچنے دیا۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود اللہ تعالیٰ نے فریقین کے ہاتھوں کو ایک دوسرے کی طرف بڑھنے سے روک دیا اور اس ممکنہ جنگ کو ٹال دیا۔ اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے میں جو حکمت کارفرما تھی اب اس کا ذکر ہو رہا ہے:

وَ لَوۡ لَا رِجَالٌ مُّؤۡمِنُوۡنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤۡمِنٰتٌ لَّمۡ تَعۡلَمُوۡہُمۡ اَنۡ تَطَـُٔوۡہُمۡ فَتُصِیۡبَکُمۡ مِّنۡہُمۡ مَّعَرَّۃٌۢ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ۚ

’’اور اگر نہ ہوتے (مکہ میں موجود) ایسے مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں جنہیں تم نہیں جانتے تھے‘ اندیشہ تھا کہ تم لوگ انہیں بھی کچل دیتے تو ان کے بارے میں تم پر الزام آتا بے خبری میں (تو جنگ نہ روکی جاتی)۔‘‘

عین موقع پر جنگ کو روکنے میں دراصل یہ حکمت پوشیدہ تھی کہ اس وقت تک مکہ میں بہت سے ایسے اہلِ ایمان افراد موجود تھے جو کسی نہ کسی وجہ سے ہجرت نہیں کر سکے تھے۔ اس میں ضعفاء بھی تھے‘مریض بھی تھے اور عورتیں بھی تھیں۔ ان لوگوں کا ذکر سورۃ النساء کے چودھویں رکوع میں بھی آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی معذوری کو دیکھتے ہوئے انہیں معاف کر دے گا اور ہجرت نہ کر سکنے کی بنا پر ان سے مؤاخذہ نہیں کرے گا۔ چنانچہ ایسے لوگوں کی شہر میں موجودگی کی صورت میں جب جنگ کی چکی چلتی تو یہ بے گناہ لوگ بھی اس میںِ پس جاتے اور اُلٹا مسلمانوں پر ان سے متعلق الزام بھی آتا کہ انہوں نے اپنے ہی اہل ایمان ساتھیوں کو قتل کر دیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسی لیے ممکنہ جنگ کو روک دیا اور مسلمانو ں کو بغیر لڑے صلح کی شکل میں فتح دے دی۔

لِیُدۡخِلَ اللّٰہُ فِیۡ رَحۡمَتِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ

’’(جنگ اس لیے روکی گئی) تا کہ اللہ داخل کرے اپنی رحمت میں جس کو چاہے۔‘‘

لَوۡ تَزَیَّلُوۡا لَعَذَّبۡنَا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿۲۵﴾

’’ اگر وہ (اہلِ ایمان) علیحدہ ہو چکے ہوتے تو ان (اہل مکہ) میں سے جو کافر تھے ان کو ہم ایک دردناک عذاب کا مزہ چکھا دیتے۔‘‘

اگر وہ کمزور اور معذور اہل ایمان اس وقت تک مکہ سے نکل چکے ہوتے تو ہم یہ جنگ ہونے دیتے اور مسلمانوں کے ہاتھوں قریش مکہ کو ان کے جرائم کی بدترین سزا دلواتے۔

26

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مدح و تحسین

ویڈیو

اِذۡ جَعَلَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الۡحَمِیَّۃَ حَمِیَّۃَ الۡجَاہِلِیَّۃِ فَاَنۡزَلَ اللّٰہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ اَلۡزَمَہُمۡ کَلِمَۃَ التَّقۡوٰی وَ کَانُوۡۤا اَحَقَّ بِہَا وَ اَہۡلَہَا ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا ﴿٪۲۶﴾

آیت 26

اِذۡ جَعَلَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الۡحَمِیَّۃَ حَمِیَّۃَ الۡجَاہِلِیَّۃِ

’’جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں حمیت بٹھالی‘ جاہلیت کی حمیت‘‘

قریش مکہ نے اس موقع پر جس حمیت کا مظاہرہ کیا وہ سراسر حمیت جاہلی تھی۔ ان کے دلوں میں قوم پرستی‘ آباء پرستی اور روایت پرستی کا تعصب کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ اسی تعصب کی بنا پر انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ان لوگوں کوعمرہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے جو اپنے باپ دادا کے دین سےِ پھر کر’’بے دین‘‘ ہو چکے تھے۔

فَاَنۡزَلَ اللّٰہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ

’’تو اللہ نے سکینت نازل کر دی اپنے رسولؐ پر اور اہل ایمان پر‘‘

وَ اَلۡزَمَہُمۡ کَلِمَۃَ التَّقۡوٰی وَ کَانُوۡۤا اَحَقَّ بِہَا وَ اَہۡلَہَا ؕ

’’اور اُس نے لازم کر دیا ان پر تقویٰ کی بات کو اور وہ اس کے زیادہ حق دار بھی ہیں اور اس کے اہل بھی ہیں۔ ‘‘

وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا ﴿٪۲۶﴾

’’اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔‘‘

27

نبیﷺکا خواب سچ ثابت ہوگا

ویڈیو

لَقَدۡ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوۡلَہُ الرُّءۡیَا بِالۡحَقِّ ۚ لَتَدۡخُلُنَّ الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ اٰمِنِیۡنَ ۙ مُحَلِّقِیۡنَ رُءُوۡسَکُمۡ وَ مُقَصِّرِیۡنَ ۙ لَا تَخَافُوۡنَ ؕ فَعَلِمَ مَا لَمۡ تَعۡلَمُوۡا فَجَعَلَ مِنۡ دُوۡنِ ذٰلِکَ فَتۡحًا قَرِیۡبًا ﴿۲۷﴾

آیت 27

لَقَدۡ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوۡلَہُ الرُّءۡیَا بِالۡحَقِّ ۚ

’’اللہ نے اپنے رسول کو بالکل سچا خواب دکھایا حق کے ساتھ۔‘‘

یہ اُس خواب کا ذکر ہے جس کی بنیاد پر رسول اللہﷺ نے عمرے کا قصد فرمایا تھا اور مسلمانوں کو ساتھ چلنے کے لیے ترغیب دی تھی۔ حضورﷺ نے خواب میں خود کو مسلمانوں کے ساتھ عمرہ کرتے ہوئے دیکھا تھا اور آپؐ نے اپنے اس خواب کا تذکرہ صحابہؓ سے سرعام کیا تھا۔ چونکہ رسول کا خوا ب بھی وحی کے درجے میں ہوتا ہے اس لیے جب صلح حدیبیہ کے نتیجے میں عمرہ اگلے سال پر ملتوی ہو گیا تو ایسی صورت میں حضورﷺ کے خواب کے بارے میں وضاحت ضروری تھی۔ مبادا کسی کے ذہن میں یہ شبہ جنم لیتا کہ ‘نعوذ باللہ‘ حضورﷺ کا خواب سچا نہیں تھا۔ اس ضمن میں جب حضورﷺ سے سوال کیا گیا تو آپؐ نے فرمایا کہ میں نے یہ تو کہا تھا ہم عمرہ کریں گے لیکن یہ نہیں کہا تھا کہ ضرور اسی سال کریں گے۔ آیت زیر مطالعہ میں پیشگی خبر دی جا رہی ہے کہ تم لوگ اللہ کے رسولﷺ کے خواب کے عین مطابق عمرہ ادا کرو گے۔ چنانچہ اگلے ہی سال ۷ ہجری کو آپؐ نے مسلمانوں کے ہمراہ عمرہ کیا۔ تاریخ میں یہ عمرہ ’’عمرۃ القضاء‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔

لَتَدۡخُلُنَّ الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ اٰمِنِیۡنَ ۙ

’’( اے مسلمانو!) تم لازماً داخل ہو گے مسجد الحرام میں ‘ان شا ء اللہ‘ پورے امن کے ساتھ‘‘

مُحَلِّقِیۡنَ رُءُوۡسَکُمۡ وَ مُقَصِّرِیۡنَ ۙ لَا تَخَافُوۡنَ ؕ

’’اپنے سروں کو منڈواتے ہوئے اور بالوں کو ترشواتے ہوئے ‘ (اُس وقت) تمہیں کوئی اندیشہ نہیں ہو گا۔‘‘

اگلے سال یہ پیشین گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی ۔اگلے سال جب مسلمان عمرہ ادا کرنے کے لیے مکہ میں داخل ہوئے تو پورا شہر خالی تھا۔ قریش اپنے گھروں کو چھوڑ کر تین دن کے لیے پہاڑوں پر چلے گئے تھے۔ اس دوران مسلمان مکہ میں مقیم رہے اور انہوں نے پورے اطمینان سے عمرہ ادا کیا۔

فَعَلِمَ مَا لَمۡ تَعۡلَمُوۡا فَجَعَلَ مِنۡ دُوۡنِ ذٰلِکَ فَتۡحًا قَرِیۡبًا ﴿۲۷﴾

’’تو اللہ وہ کچھ جانتا ہے جو تم نہیں جانتے‘ تو اس کے علاوہ اس نے (تمہارے لیے ) ایک قریب کی فتح بھی رکھی ہے۔‘‘

اس سے فتح خیبر مراد ہے جس کا ذکر اس سے پہلے آیت ۱۵ کے ضمن میں بھی ہو چکا ہے۔ یعنی اگلے سال جب تم لوگ قضا عمرہ ادا کرنے کے لیے جاؤ گے تو اس سے پہلے تم یہودیوں کے گڑھ خیبر کو فتح کر کے اس کے غنائم سمیٹ چکے ہو گے۔

اب وہ عظیم آیت آ رہی ہے جو اس سے پہلے ہم سورۃ التوبہ میں (آیت ۳۳) بھی پڑھ چکے ہیں۔ اس کے بعد یہ الفاظ سورۃ الصف (۲۸ ویں پارے) کی آیت ۹ میں بھی آئیں گے۔ سورۃ التوبہ اور سورۃ الصف میں یہ آیت جوں کی توں آئی ہے ‘جبکہ زیر مطالعہ سورت میں اس کا آخری حصہ (وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا) مختلف ہے۔

28

نبیﷺ کا مقصد صلح نہیں غلبہ دین ہے

ویڈیو

ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰۦ وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًا ﴿ؕ۲۸﴾

آیت 28

ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰۦ وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ

’’وہی ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو الہدیٰ اور دین حق دے کر‘‘

اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول محمد عربیﷺ کو قرآن حکیم دے کر بھیجا ہے جو نوعِ انسانی کے لیے ہدایت کاملہ ہے: ؎

نوعِ انساں را پیامِ آخریں حامل اُو رحمۃ للعالمیں !

(اقبالؔ) مزید برآں ان کو سچا اور کامل دین بھی عطا فرمایا ہے‘ جو عادلانہ نظامِ زندگی کا خاکہ پیش کرتا ہے۔

لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ ؕ

’’تا کہ وہ غالب کر دے اسے کل کے کل نظامِ زندگی پر۔‘‘

گویا قبل ازیں اس سورت کی آیت ۲ اور آیت ۲۰ میں جس سیدھے راستے (صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا) کا ذکر ہے وہ راستہ ’’اظہارِ دین حق ‘‘کی منزل کی طرف جاتا ہے اور اسی ہدف کو حاصل کرنے کا حکم سورۃ الشوریٰ کی آیت ۱۳ میں اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ کے الفاظ میں ہوا کہ تم دین کو قائم کرو! پھر سورۃ الشوریٰ کی آیت ۲۱ میں جھوٹے معبودوں کے ابطال کی جو دلیل دی گئی ہے اور ان کے مقابلے میں معبود حقیقی کی جو شان بیان ہوئی ہے وہ بھی ’’الدِّیْن‘‘ (نظامِ زندگی)کے حوالے سے ہے۔ ملاحظہ ہوں متعلقہ آیت کے یہ الفاظ: {اَمۡ لَہُمۡ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوۡا لَہُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ مَا لَمۡ یَاۡذَنۡۢ بِہِ اللّٰہُ ؕ } ’’کیا ان کے لیے ایسے شرکاء ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین میں کچھ ایسا طے کردیا ہو جس کا اللہ نے حکم نہیں دیا؟‘‘ یعنی اللہ کی شان تو یہ ہے کہ اس نے انسانوں کو دین حق دیا ہے۔ ایک مکمل ضابطۂ حیات اور عادلانہ نظام زندگی دیا ہے ‘تو کیا اس کا کوئی شریک بھی ایسا ہے جو یہ دعویٰ کر سکے کہ اس نے بھی اپنے ماننے والوں کو کوئی نظام زندگی دیا ہے؟ بہر حال اس آیت میں رسول اللہﷺ کی بعثت کا مقصد ہی ’’اظہارِدین حق‘‘ بتایا گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے الہدیٰ اور دین حق دے کر اپنے رسولؐ کو بھیجا ہی اس لیے ہے کہ وہ اس ’’الدِّین‘‘ کو پورے نظامِ زندگی پر غالب کر دے۔

وَ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًا ﴿ؕ۲۸﴾

’’اورکافی ہے اللہ مددگار کے طور پر۔‘‘

عام طور پر لفظ شَھِید کاترجمہ ’’گواہ‘‘ کیا جاتا ہے‘ لیکن یہاں پر خصوصی طور پر شھید کا ترجمہ ’’مددگار‘‘ ہوگا۔سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۳ میں بھی یہ لفظ اسی مفہوم میں آیاہے‘جہاں قرآن جیسی ایک سورت بنانے کا چیلنج دینے کے بعد فرمایا گیا: {وَ ادۡعُوۡا شُہَدَآءَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ } کہ بلا لو اس کام کے لیے اپنے تمام مدد گاروں کو اللہ کے سوا۔ ’’شَھِدَ یَشْھَدُ‘‘ کے معنی کسی موقع یا وقوعہ پر حاضر ہونے کے ہیں۔ ’’گواہی‘‘ کے معنی اس لفظ میں اسی حاضری کے مفہوم کی وجہ سے آئے ہیں ‘کیونکہ کسی واقعے کی صحیح گواہی کا اہل تو وہی شخص ہو سکتا ہے جو وہاں اس وقت موقع پر حاضر ہو۔ جبکہ اسی ’’حاضری‘‘کی وجہ سے اس لفظ میں ’’مددگار‘‘ کے معنی بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ ظاہر ہے آپ کی مدد وہی شخص کر سکے گا جو آپ کے ساتھ موجود ہو گا۔ اس کے مقابلے میں ایک ایسا شخص جو آپ کا بہت اچھا دوست ہو‘ آپ کے ساتھ مخلص بھی ہو‘ مگر جب آپ کو مد د کی ضرورت ہو اس وقت آپ کے پاس موجود ہی نہ ہو تو وہ آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکے گا۔ چنانچہ سیاق و سباق کے اعتبار سے یہاں لفظ شھید کے معنی مددگار کے ہیں۔

29

اللہ کے محبوب بندوں کے اوصاف

ویڈیو

مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ تَرٰىہُمۡ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانًا ۫ سِیۡمَاہُمۡ فِیۡ وُجُوۡہِہِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ ؕ ذٰلِکَ مَثَلُہُمۡ فِی التَّوۡرٰىۃِ ۚۖۛ وَ مَثَلُہُمۡ فِی الۡاِنۡجِیۡلِ ۚ۟ۛ کَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطۡـَٔہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰی عَلٰی سُوۡقِہٖ یُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیۡظَ بِہِمُ الۡکُفَّارَ ؕ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡہُمۡ مَّغۡفِرَۃً وَّ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿٪۲۹﴾

آیت 29

مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ

’’محمد(ﷺ) اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو ان کے ساتھ ہیں‘ وہ کافروں پر بہت بھاری اور آپس میں بہت رحم دل ہیں‘‘

آیت کے اس ٹکڑے کا ترجمہ دو طرح سے کیا جاتا ہے۔ اگر پہلا فقرہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِط پر مکمل کر دیا جائے اور وَالَّذِیْنَ سے دوسرا فقرہ شروع کیا جائے تو آیت کا مفہوم وہی ہو گا جو اوپر ترجمے میں اختیار کیا گیا ہے۔ یعنی یہ کہ محمد(ﷺ)اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو ان کے ساتھی ہیں وہ کفار پر بہت بھاری اور آپس میں بہت رحم دل ہیں۔ لیکن اگر پہلے فقرے کو وَالَّذِیْنَ مَعَہٓٗ تک پڑھا جائے تو اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ اللہ کے رسول محمد(ﷺ) اور آپؐ کے ساتھی ایک وحدت اور ایک جماعت ہیں۔ اس طرح دوسرے فقرے میں بیان کی گئی دو خصوصیات اس جماعت کی خصوصیات قرار پائیں گی۔ یعنی اللہ کے رسول ﷺ اور آپؐ کے ساتھی کفار پر بہت بھاری اور آپس میں بہت شفیق و مہربان ہیں۔

اہل ایمان کی اس شان کا ذکر زیر مطالعہ آیت کے علاوہ سورۃ المائدۃ آیت ۵۴ میں بھی ہوا ہے۔ وہاں مؤمنین صادقین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا: {اَذِلَّۃٍ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ۫} ’’وہ اہل ایمان کے حق میں بہت نرم ہوں گے‘کافروں پر بہت بھاری ہوں گے‘‘۔علامہ اقبالؔ نے اپنے اس شعر میں اسی مضمون کی ترجمانی کی ہے: ؎

ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مؤمن!

یہاں پر یہ نکتہ بھی لائق توجہ ہے کہ یہ آیت بیعت کے تذکرے کے بعد آئی ہے۔ اس ترتیب سے گویا یہ یاددہانی کرانا مقصود ہے کہ {مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ } کے الفاظ میں جس جماعت کا ذکر ہوا ہے وہ بیعت کی بنیاد پر وجود میں آئی تھی۔ اس حوالے سے حضورﷺ کی سیرت سے جو تفصیلات ملتی ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص آپؐ پر ایمان لاتا‘ آپؐ اس سے بیعت لیتے تھے‘ یہ ایمان کی بیعت تھی۔ لیکن سیرت کے مطالعے سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اہل مکہ میں سے آپؐ نے کسی سے ایمان کی بیعت کبھی نہیں لی‘ بلکہ اہل مکہ میں سے جو کوئی ایمان لانا چاہتا وہ کلمۂ شہادت پڑھتا اور بس حلقہ اسلام میں داخل ہو جاتا۔ اس کے لیے کسی علامتی اقدام کی کبھی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ ہاں اگر کوئی شخص باہر سے آتا تو اس سے آپؐ ایمان کی بیعت لیتے تھے۔

اس کے علاوہ مکی دور میں آپﷺ نے دو بیعتوں کا خصوصی طور پر اہتمام فرمایا تھا۔ یعنی بیعت عقبہ اولیٰ اور بیعت عقبہ ثانیہ۔ ان میں بیعت عقبہ ثانیہ وہ بیعت ہے جس کی بنیاد پر مسلمان باقاعدہ ایک ’’جماعت ‘‘بنے تھے۔ اس بات کی گواہی اس بیعت کے الفاظ بھی دیتے ہیں۔ یہ الفاظ ایک متفق علیہ روایت کے مطابق حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے اس طرح نقل ہوئے ہیں:

بَایَعْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ، فِی الْعُسْرِ والْیُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَہِ، وَعَلٰی اَثَرَۃٍ عَلَیْنَا، وَعَلٰی اَنْ لَا نُـنَازِعَ الْاَمْرَ اَھْلَہٗ، وَعَلٰی اَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ اَیْنَمَا کُنَّا، لَا نَخَافُ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ ۱

’’ہم نے اللہ کے رسولﷺ سے بیعت کی کہ ہم سنیں گے اور اطاعت کریں گے‘ خواہ آسانی ہو یا مشکل‘ خواہ ہماری طبیعت آمادہ ہو یا ہمیں اس پر جبر کرنا پڑے‘ اور خواہ دوسروں کو ہمارے اوپر ترجیح دے دی جائے۔ ہم اصحابِ اختیار سے جھگڑیں گے نہیں‘ لیکن سچ بولیں گے جہاں کہیں بھی ہم ہوں گے‘ اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے بے خوف رہیں گے۔‘‘

غور کیجئے ‘اس بیعت کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک فقرہ کس قدر اہم اور سبق آموز ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ہم نے بیعت کی تھی اللہ کے رسول ﷺ سے کہ ہم آپؐ کا ہر حکم سنیں گے اور مانیں گے۔ خواہ مشکل ہو‘ خواہ آسانی ہو‘ خواہ اس کے لیے ہماری طبیعتیں آمادہ ہوں‘ خواہ ہمیں اپنی طبیعتوں پر جبر کرنا پڑے اور خواہ ہم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے…یعنی ہم کبھی شکایت نہیں کریں گے کہ ہم آپؐ کے پرانے ساتھی ہیں جبکہ آپؐ ہمارے اوپر ایک نوواردکو امیر کیوں مقرر کر رہے ہیں؟ بس یہ آپؐ کا اختیار ہو گا کہ آپؐ جس کو چاہیں امیر مقرر کریں‘ آپؐ جو فیصلہ چاہیں کریں… اور یہ کہ ہم آپؐ کے مقرر کردہ امیر سے کبھی جھگڑا نہیں کریں گے…اس بارے میں رسول اللہﷺ کا فرمان بھی بہت واضح ہے:

حدیث((مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ ، وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ ، وَمَنْ اَطَاعَ اَمِیْرِیْ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ ، وَمَنْ عَصٰی اَمِیْرِیْ فَقَدْ عَصَانِیْ)) ۱

’’جس نے میری اطاعت کی اُس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نا فرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔‘‘

اطاعت امیر کے حوالے سے یہ نکتہ بھی مد نظر رہنا چاہیے کہ جماعتی زندگی میں ’’امیر‘‘صرف ایک نہیں ہوتابلکہ مختلف سطحوں پر اوپر نیچے بہت سے ’’اُمراء ‘‘ہوتے ہیں۔ جیسے فوج کا ایک سپہ سالار ہوتا ہے ‘اس کے نیچے مختلف رجمنٹس ‘ بٹالینز ‘ کمپنیز اور پلاٹونز کے اپنے اپنے کمانڈرز ہوتے ہیں‘ اسی طرح ایک تنظیم کا ایک مرکزی امیر ہو گا‘ پھر صوبائی اُمراء ‘ڈویثرنل اُمراء‘ ضلعی اُمراء ہوں گے اور ان سب اُمراء کا سلسلہ وار سمع و طاعت کا نظام ہو گا۔

حضورﷺ کی مذکورہ بیعت کی یہ آخری شق بھی بہت اہم ہے کہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں گے حق بات ضرور کہیں گے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں کریں گے۔ یعنی مشورہ مانگا جائے گا تو بے لاگ مشورہ دیں گے‘اپنی رائے کو چھپا کر نہیں رکھیں گے ---اس حوالے سے یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ایک مامور کی ذمہ داری صرف مشورہ دینے کی حد تک ہے۔ اس کے بعد امیر جو فیصلہ بھی کرے اسے دل و جان سے تسلیم کرنا اس پر لازم ہے ‘جیسا کہ سورۂ محمد(ﷺ) کی آیت ۲۱ کے الفاظ {فَاِذَا عَزَمَ الۡاَمۡرُ ۟ } سے واضح ہوتا ہے کہ جب فیصلہ ہو جائے تو اللہ اور اس کے رسول ؐ کی اطاعت لازم ہے۔

بہر حال جب منہجِ انقلاب نبوی میں اقدام کا مرحلہ آنے کو تھا‘ Passive Resistance تبدیل ہورہی تھی Active Resistance میں‘تو مسلمانوں میں ایک باقاعدہ جماعت کا نظم وجود میں آیا اور اس نظم کی بنیاد بیعت عقبہ ثانیہ بنی۔ آیت زیر مطالعہ کے الفاظ {مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ} میں اسی جماعت اور اسی نظم کی طرف اشارہ ہے۔

تَرٰىہُمۡ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانًا ۫

’’تم دیکھو گے انہیں رکوع کرتے ہوئے‘ سجدہ کرتے ہوئے ‘ وہ (ہر آن) اللہ کے فضل اور اس کی رضا کے متلاشی رہتے ہیں‘‘

سِیۡمَاہُمۡ فِیۡ وُجُوۡہِہِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ ؕ

’’ان کی پہچان ان کے چہروں پر (ظاہر)ہے سجدوں کے اثرات کی وجہ سے۔‘‘

سجدوں کے نشان سے عام طور پر پیشانی کا گٹہ مراد لے لیا جاتا ہے جو بعض نمازیوں کے چہروں پر کثرتِ سجود کی وجہ سے پڑ جاتا ہے۔ لیکن یہاں اس سے اصل مراد ایک نمازی اور متقی مؤمن کے چہرے کی وہ نورانیت اور خاص کیفیت ہے جو اس کے عمل و کردار کی غمازی کرتی محسوس ہوتی ہے۔

ذٰلِکَ مَثَلُہُمۡ فِی التَّوۡرٰىۃِ ۚۖۛ

’’یہ ہے ان کی مثال تورات میں۔ ‘‘

یعنی محمد رسول اللہﷺ اور آپؐ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی یہ تمثیل تورات میں بیان ہوئی ہے۔ اگرچہ یہود و نصاریٰ نے تورات اور انجیل میں قطع و برید کر کے حضورﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ کے بارے میں پیشین گوئیوں کو بالکل مسخ کر دیا ہے‘ تاہم آج بھی تورات اور انجیل دونوں میں ایسی چیزیں موجود ہیں جن کا مصداق نبی آخرالزماںﷺ کے سوااور کوئی نہیں ہو سکتا۔ مثلاً کتاب استثناء‘ باب ۳۳‘ آیت ۲ ملاحظہ ہو: ’’خداوند سینا سے آیا اور سعیر سے ان پر طلوع ہوا۔ فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا‘ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ میں ایک آتشی شریعت ان کے لیے تھی۔‘‘

وَ مَثَلُہُمۡ فِی الۡاِنۡجِیۡلِ ۚ۟ۛ کَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطۡـَٔہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰی عَلٰی سُوۡقِہٖ

’’اور انجیل میں ان کی مثال یوں ہے کہ جیسے ایک کھیتی ہو جس نے نکالی اپنی کونپل‘ پھر اس کو تقویت دی‘ پھر وہ سخت ہوئی‘ پھر وہ اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی ۔‘‘

یُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ

’’یہ کا شتکار کو بڑی بھلی لگتی ہے‘‘

یہ ایک کھیتی کی مثال ہے ۔ بیج کو جب زمین میں دبایا جاتا ہے تو اس سے ایک چھوٹی سی نرم و نازک کونپل پھوٹتی ہے‘ پھر وہ آہستہ آہستہ بڑھتی ہے‘ پھر اس کا تنا بنتا ہے اور اس کے بعد وہ ایک مضبوط پودے کی صورت میں بغیر کسی سہارے کے کھڑی ہو جاتی ہے۔ اس طرح جب ایک کھیتی کے تمام پودے اپنے جوبن پر ہوں اور فصل خوب لہلہا رہی ہوتی ہے تو اسے دیکھ کر کاشتکار کا دل بھی خوشی سے جھوم اٹھتا ہے۔

لِیَغِیۡظَ بِہِمُ الۡکُفَّارَ ؕ

’’ تا کہ ان سے کافروں کے دل جلائے۔‘‘

اس آخری جملے میں گویا واضح کر دیا گیا کہ اس مثال یا تشبیہہ کے پردے میں جس کھیتی کی بات ہو رہی ہے وہ دراصل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت ہے اوراس کھیتی کا کاشتکار خود اللہ کا رسولﷺ ہے۔ چشم تصور سے اس جماعت کے ماضی میں جھانکیں تو ہمیں چند سال پہلے کا وہ نقشہ نظر آئے گا جب سر زمین مکہ میں دعوت کے بیج سے ایک ایک کر کے اس کھیتی کی نرم و نازک کونپلیں نمودار ہو رہی تھیں۔ اس وقت ان کونپلوں میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ اپنے بل پر کھڑی ہو سکتیں۔ جناب ابو طالب کے انتقال کے وقت مکہ میں بمشکل ڈیڑھ سو مسلمان تھے۔ خود حضورﷺ کے قبیلے نے آپؐ سے تعلق توڑ لیا تھا اور قبیلے کی حمایت کے بغیر مکہ میں رہنا بھی بظاہر آپؐ کے لیے ممکن نہیں رہا تھا۔ اسی صورتِ حال کے پیش نظر آپؐ اپنی دعوت اور تحریک کے متبادل مرکز کی تلاش میںطائف تشریف لے گئے تھے۔ لیکن وہاں سے بہت تکلیف دہ حالت میں خالی ہاتھ واپس آنا پڑا تھا۔ طائف سے واپسی تک صورت حال اس حد تک گھمبیر ہو چکی تھی کہ آپؐ کو مکہ میں داخل ہونے کے لیے ایک مشرک مطعم بن عدی کی امان لیناپڑی تھی۔ ایک صورتِ حال وہ تھی جو کل سرزمین مکہ میں اہل ایمان کو برداشت کرنا پڑ ی تھی اور ایک منظر یہ تھا جس کانظارہ آج حدیبیہ کا میدان کر رہا تھا‘جہاں چودہ سو یا اٹھارہ سو مجاہدین کی سربکف جمعیت سر کٹانے کے لیے بے تاب و بے قرار تھی۔ ان کا نظم و ضبط ‘ ان کا جذبۂ ایثار ‘بیعت علی الموت کے لیے ان کا جوش و خروش ‘ پھر جنگ کے ٹل جانے اور جانوں کے بچ جانے پر ان کا ملال اور بظاہر دب کر صلح کرنے پر ان کا رنج۔ غرض ان کی ہر ادا نرالی اور ان کا ہر انداز انوکھا تھا۔ یہ تھی وہ کھیتی جو آج حدیبیہ کے میدان میں لہلہاتی ہوئی دشمنوں کے دلوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہی تھی۔ اس کھیتی کے جوبن کی اس نرالی شان کو آج ملائکہ مقربین بھی رشک بھری نظروں سے دیکھتے ہوں گے اور اس کے ’’نگہبان ‘‘ کے اندازِ نگہبانی کی تحسین کے لیے اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس کے ترانے الاپتے ہوں گے۔

’’لِیَغِیْظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ‘‘ کے الفاظ میں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ محمد رسول اللہﷺ کی اس کھیتی پر جس کا دل جلتا ہو قرآن حکیم اس کے ایمان کی نفی کر رہا ہے۔ صحابہؓ سے بغض ہو اور دعویٰ ایمان کا ہو تو اس دعویٰ میں کوئی صداقت نہیں۔

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡہُمۡ مَّغۡفِرَۃً وَّ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿٪۲۹﴾

’’اللہ نے وعدہ کیا ہے ان لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ‘ مغفرت اور اجر عظیم کا۔‘‘

تفسیر عثمانی میں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ اگرچہ حضورﷺ کے تمام صحابہؓ ایمان اور عمل صالح کا حق ادا کرچکے تھے‘ پھر بھی یہاں مِنْہُمْ کی قید لگا کر ان پر واضح کر دیا گیا کہ اس کیفیت پر موت تک قائم رہنا بھی ضروری ہے‘ مبادا کہ بعد میں کسی کے اندر کسی قسم کا کوئی تزلزل پیدا ہو جائے۔انسان چونکہ طبعاً کمزور واقع ہوا ہے ‘اس لیے اگر اس کو کامیابی کا یقین دلادیا جائے تو اطمینان کی وجہ سے اس میں تساہل پیدا ہو جاتا ہے ‘جبکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ اللہ کے ہاں بلند مقام حاصل کر لینے کے باوجود بھی انسان آخری دم تک ’’بین الخوف و الرجائ‘‘ کی کیفیت میں رہے۔

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الاحکام‘ باب کیف یبایع الامام الناس۔ وکتاب الفتن‘ باب قول النبیﷺ سترون بعدی امورًا تنکرونھا۔وصحیح مسلم‘ کتاب الامارۃ‘ باب وجوب طاعۃ الامیر فی غیر معصیۃ …

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الاحکام‘ باب قول اللّٰہ تعالیٰ واطیعوا اللّٰہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الامارۃ‘ باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ وتحریمھا فی المعصیۃ۔

یوٹیوب پر دیکھیے