تحریر

الحجرات

آیات ۱۱ تا ۱۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

11-12

وہ مجلسی برائیاں جو دلوں کو پھاڑ دیتی ہیں

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَسۡخَرۡ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوۡمٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا خَیۡرًا مِّنۡہُمۡ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنۡ نِّسَآءٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُنَّ خَیۡرًا مِّنۡہُنَّ ۚ وَ لَا تَلۡمِزُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ وَ لَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ ؕ بِئۡسَ الِاسۡمُ الۡفُسُوۡقُ بَعۡدَ الۡاِیۡمَانِ ۚ وَ مَنۡ لَّمۡ یَتُبۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۱۱﴾ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اجۡتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ ۫ اِنَّ بَعۡضَ الظَّنِّ اِثۡمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوۡا وَ لَا یَغۡتَبۡ بَّعۡضُکُمۡ بَعۡضًا ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُکُمۡ اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحۡمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا فَکَرِہۡتُمُوۡہُ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲﴾

آیت 11

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَسۡخَرۡ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوۡمٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا خَیۡرًا مِّنۡہُمۡ

’’اے اہل ایمان !تم میں سے کوئی گروہ دوسرے گروہ کا مذاق نہ اڑائے‘ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں‘‘ ممکن ہے مدمقابل شخص کی کوئی خوبی اس کے ظاہری عیب کے مقابلے میں بہت بڑی ہو۔ مثلاً آپ جس شخص کی بھدی ناک یا چھوٹے کان کا مذاق اڑا رہے ہوں ممکن ہے اس کے دل کا تقویٰ تمہارے تقویٰ کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہو۔ یا ممکن ہے وہ تمہارے مقابلے میں اللہ اور اس کے رسولﷺ سے ہزار گنا زیادہ محبت کرتا ہو۔

وَ لَا نِسَآءٌ مِّنۡ نِّسَآءٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُنَّ خَیۡرًا مِّنۡہُنَّ ۚ

’’ (اسی طرح) عورتیں بھی دوسری عورتوں کا مذاق نہ اڑائیں‘ہو سکتا ہے وہ ان سے بہتر ہوں۔‘‘

گویا پہلے حکم میں مسلمان مردوں اور عورتوں کو اپنے اپنے حلقوں میں ایک دوسرے کا مذاق اور تمسخر اڑانے سے منع کیا گیا ہے۔ اب اس سلسلے کا دوسرا حکم ملاحظہ ہو:

وَ لَا تَلۡمِزُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ

’’اور اپنے آپ کو عیب مت لگاؤ‘‘

اپنے بھائی بندوں پر عیب لگانے سے منع کرنے کا یہ بہت ہی بلیغ انداز ہے کہ اپنے آپ کو عیب نہ لگاؤ۔ یعنی کسی کو عیب لگانے سے پہلے یہ ضرور سوچ لو کہ وہ تمہاری اپنی ہی ملت کا ایک فرد ہے اور اپنی ملت کے کسی فرد کو عیب لگانا گویا خود اپنے آپ ہی کو عیب لگانے کے مترادف ہے۔

وَ لَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ ؕ

’’اور نہ آپس میں ایک دوسرے کے چڑانے والے نام رکھا کرو۔‘‘

یہ تیسرا حکم ہے کہ کسی فرد یا کسی گروہ کے اصل نام کو چھوڑ کر اس کے لیے کوئی ایسا نام نہ رکھ لوجو اسے پسند نہ ہو۔ یہ ایک مذموم اور ناپسندیدہ حرکت ہے۔

بِئۡسَ الِاسۡمُ الۡفُسُوۡقُ بَعۡدَ الۡاِیۡمَانِ ۚ

’’ایمان کے بعد تو برائی کا نام بھی برا ہے۔‘‘

تم تو وہ لوگ ہو جن کے دل ایمان کے نور سے منور ہو چکے ہیں۔ یہ بہت بڑی فضیلت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو نوازا ہے۔ ایسے اعلیٰ مقام و مرتبے پر فائز ہوجانے کے بعد ایسی گھٹیا حرکات کا ارتکاب اب تمہارے شایانِ شان نہیں۔

وَ مَنۡ لَّمۡ یَتُبۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۱۱﴾

’’اور جو باز نہیں آئیں گے وہی تو ظالم ہیں۔‘‘

پچھلے فقرے میں معیوب روش کو ترک کرنے کے لیے ترغیب و تشویق کی جھلک تھی جبکہ ان الفاظ میں اس روش سے تائب ہو کر باز نہ آنے والوں کے لیے زجرو توبیخ کا انداز پایا جاتا ہے ۔ممکن ہے کوئی شخص بادیٔ النظر میں مذکورہ برائیوں کو معمولی سمجھے ‘لیکن کسی معاشرے یا تنظیم میں ایسی برائیوں کا عادتاً رائج ہو جانا انتہائی نقصان دہ ہے۔

گزشتہ آیت میں جن تین برائیوں کا ذکر ہوا ہے ان کا ارتکاب عام طور پر دوسرے فریق کے رو برو کیا جاتا ہے ‘جبکہ اگلی آیت میں تین ایسے رذائل سے بچنے کا حکم دیا جا رہا ہے جو عموماً کسی فرد کی پیٹھ پیچھے سرزد ہوتے ہیں۔

آیت 12

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اجۡتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ ۫ اِنَّ بَعۡضَ الظَّنِّ اِثۡمٌ

’’اے اہلِ ایمان! زیادہ گمان کرنے سے بچو‘بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں‘‘

کسی کے بارے میں خواہ مخواہ کوئی بات فرض کر کے یا کسی سنی سنائی بات کو بنیاد بنا کر کوئی برا گمان اپنے دل میں بٹھا لینا اور منفی رائے قائم کر لینا جبکہ متعلقہ شخص نے نہ تو ویسا کوئی اقدام کیا ہو اور نہ ہی اس کے عملی رویے سے ویسی کسی بات کی تصدیق ہوتی ہو‘ یہ ہے اس گمان کی نوعیت جس سے یہاں منع کیا جا رہا ہے۔ ایسے گمان کو بدگمانی یا سوئے ظن کہا جاتا ہے اور یہ بہتان اور تہمت کے زمرے میں آتا ہے۔

وَّ لَا تَجَسَّسُوۡا

’’اور ایک دوسرے کے حالات کی ٹوہ میں نہ رہا کرو‘‘

عام طور پر ریاستی اور حکومتی سطح پر جاسوسی کے باقاعدہ محکمے بھی ہوتے ہیں اور ظاہر ہے ضرورت کے تحت ایسا کوئی محکمہ ایک اسلامی حکومت کے تحت بھی قائم ہو سکتا ہے‘ لیکن اس حوالے سے جو بات معیوب اور ممنوع ہے وہ افراد کی سطح پر ایک دوسرے کے حالات کے بارے میں خواہ مخواہ کا تجسس ہے۔ جیسے بعض لوگ عادتاً دوسروں کے معاملات کی ٹوہ میں رہتے ہیں اور کرید کرید کر جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ فلاں گھر کے اندر کیا ہو رہا ہے؟ فلاں دو بھائیوں کے معاملات کیا ہیں؟اور کیا وجہ ہے کہ ابھی تک ان میں کوئی جھگڑاوغیرہ نہیں ہوا؟

وَ لَا یَغۡتَبۡ بَّعۡضُکُمۡ بَعۡضًا ؕ

’’اور تم میں سے کوئی دوسرے کی غیبت نہ کرے۔‘‘

اس حکم کا تقاضا یہ ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی غیر حاضری میں اس کی برائی بیان نہ کرے‘خواہ وہ برائی اس شخص میں بالفعل پائی بھی جاتی ہو۔ رسول اللہﷺ نے غیبت کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی ہے: حدیث((ذِکْرُکَ اَخَاکَ بِمَا یَکْرَہُ))’’تمہارا اپنے بھائی کا ذکر اس انداز سے کرنا جسے وہ ناپسند کرے‘‘۔آپؐ سے پوچھا گیا: ’’دیکھئے‘ اگر میرے بھائی میں وہ برائی واقعتا پائی جاتی ہو جس کا میں ذکر کرتا ہوں (پھر بھی یہ غیبت ہے)؟‘‘ آپؐ نے ارشاد فرمایا: حدیث((اِنْ کَانَ فِیْہِ مَا تَقُوْلُ فَقَدِ اغْتَبْتَہٗ ‘ وَاِنْ لَمْ یَکُنْ فِیْہِ فَقَدْ بَھَتَّہُ))۱ ’’اگر وہ برائی اس میں موجود ہے جس کا تم ذکر کر رہے ہو تو تم نے اُس کی غیبت کی ہے‘ اور اگر وہ برائی اس میں موجود ہی نہیں تب تو تم نے اس پر بہتان لگا دیا۔‘‘

اَیُحِبُّ اَحَدُکُمۡ اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحۡمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا فَکَرِہۡتُمُوۡہُ ؕ

’’کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟یہ تو تمہیں بہت ناگوار لگا!‘‘

یعنی مردہ بھائی کے گوشت کھانے والی بات یا مثال سے تو تمہیں بہت گھن محسوس ہوتی ہے۔ لیکن یاد رکھو! اگر تم اپنے کسی مسلمان بھائی کی غیبت کرتے ہو تو اخلاقی سطح پر یہ حرکت اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے ہی مترادف ہے۔کیونکہ ایسی حرکت کا ارتکاب کر کے آپ اپنے بھائی کی عزت پر ایسی حالت میں حملہ کرتے ہیںجب وہ اس کادفاع بھی نہیں کر سکتا۔ اگر تم اس کے سامنے اس کی برائی بیان کرتے تو وہ تمہارے الزامات کا ضرور جواب دیتا اور سو طرح سے اپنا دفاع کرتا۔ بہر حال کسی کی عدم موجودگی میں اسے برا بھلا کہنا ایسے ہے جیسے اس کی لاش آپ کے سامنے ہو اور آپ اس کی بوٹیاں نوچ رہے ہوں۔

وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲﴾

’’اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو‘اللہ تو بہ کا بہت قبول فرمانے والا اور بہت رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

اس کے بعد اس سورت کا تیسرا حصہ شروع ہو رہا ہے جو بہت اہم اور عظیم مضامین پر مشتمل ہے۔ یہاں پر ضمنی طور پر یہ نکتہ بھی نوٹ کر لیں کہ گزشتہ بارہ آیات میں اہل ایمان کو پانچ مرتبہ یٰٓــاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا کے الفاظ میں مخاطب کیا گیا ہے۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ پورے مکی قرآن میں یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا کا صیغہ گویا ہے ہی نہیں۔ بہر حال اب اس مدنی سورت میں بھی خطاب کا رخ نوعِ انسانی کی طرف پھیرا جا رہا ہے:

(۱) صحیح مسلم‘ کتاب البر والصلۃ ‘ باب تحریم الغیبۃ‘ح ۲۵۸۹ ۔

13

عالمگیر مساوات انسانی کی بنیاد . . . وحدت و خالق اور والدین

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّ اُنۡثٰی وَ جَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ ﴿۱۳﴾

آیت 13

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّ اُنۡثٰی

’’اے لوگو! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے‘‘

تم میں سے چاہے کوئی مومن ہے یا کوئی کافر و مشرک لیکن تم سب آدمؑ اور حوا کی ہی اولاد ہو۔

وَ جَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ

’’اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا ہے تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔‘‘

ایک ماں باپ کی اولاد ہونے کی بنا پر اگر تمام انسان ایک رنگ اور ایک جیسی شکل و صورت کے حامل ہوتے تو ان کی پہچان مشکل ہو جاتی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو دوسرے سے مختلف بنایا ہے اور پھر انہیں رنگ ‘نسل زبان وغیرہ کی بنیاد پر مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا ہے تا کہ کروڑوں‘اربوں انسانوں کی پہچان اور تعارف میں کسی سطح پر کوئی مشکل پیش نہ آئے۔

یہاں دراصل اس اہم نکتے کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ انسانوں کے درمیان رنگ و نسل کا فرق اور اقوام و قبائل میں ان کی تقسیم‘اعلیٰ و ادنیٰ کی تمیز و تفریق کے لیے نہیں بلکہ ان کی باہمی جان پہچان اور تعارف کے لیے ہے۔ رسول اللہﷺ نے خطبہ حجۃ الوادع میں اس مضمون کی وضاحت ان الفاظ میں فرمائی :

حدیث((یَا اَیُّھَا النَّاسُ! اَلَا اِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ وَاِنَّ اَ بَاکُمْ وَاحِدٌ ‘ اَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی اَعْجَمِیِّ وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ وَلَا لِاَحْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ وَلَا اَسْوَدَ عَلٰی اَحْمَرَ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی)) ۱

’’لوگو! آگاہ ہو جاؤ‘ یقینا تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے۔ خبردار! نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت حاصل ہے اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر۔ اور نہ کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت حاصل ہے اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر۔ فضیلت کی بنیاد صرف تقویٰ ہے۔‘‘

ایچ جی ویلز (۱۸۶۶ء۔۱۹۴۶ء) اپنی کتاب ’’ A Concise History of the World‘‘ میں حضورﷺ کے خطبہ مبارک کے یہ الفاظ نقل کرنے کے بعد گھٹنے ٹیک کر آپؐ کو خراجِ تحسین پیش کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ چنانچہ عیسائی ہونے کے باوجود اُس نے لکھا ہے :

’’اگرچہ انسانی اخوت ‘ مساوات اور حریت کے وعظ تو دنیا میں پہلے بھی بہت کہے گئے تھے اور ایسے وعظ ہمیں مسیح ناصری کے ہاں بھی بہت ملتے ہیں‘ لیکن یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ یہ محمد (ﷺ) ہی تھے جنہوں نے تاریخ انسانی میں پہلی بار ان اصولوں پر ایک معاشرہ قائم کیا۔‘‘

H.G.Wells کے اس تبصرے سے یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ حضورﷺ کا بہت بڑا مداح تھا‘ بلکہ اس نے اپنی اسی کتاب میں حضورﷺ کی شخصیت پر بہت رکیک حملے بھی کیے ہیں۔ اس حوالے سے اس کا انداز سلمان رشدی ملعون سے ملتا جلتا ہے‘ لیکن اپنے تمام تر تعصب کے باوجود اسے حضورﷺ کے حوالے سے تاریخ کی یہ عظیم حقیقت تسلیم کرنا پڑی۔ مقامِ افسوس ہے کہ بعد کے ایڈیٹرز نے مصنف کے اس اعترافی بیان کو مذکورہ کتاب سے خارج کر دیا ہے۔ اس لیے مذکورہ اقتباس کی تصدیق کے خواہش مند حضرات کو کسی لائبریری سے اس کتاب کا کوئی پرانا ایڈیشن تلاش کرنا پڑے گا۔

اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ ؕ

’’یقینا تم میں سب سے زیادہ با عزت اللہ کے ہاں وہ ہے جو تم میں سب سے بڑھ کر متقی ہے۔‘‘

اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ ﴿۱۳﴾

’’یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا‘ہر چیز سے باخبر ہے۔‘‘

(۱) مسند احمد‘ کتاب باقی مسند الانصار‘باب حدیث رجل من اصحاب النبی‘ ح ۲۲۹۷۸۔ عن ابی نضرۃ رضی اللہ عنہ-

14

اسلام اور ایمان کا فرق

ویڈیو

قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا ؕ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَ لٰکِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَ لَمَّا یَدۡخُلِ الۡاِیۡمَانُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ وَ اِنۡ تُطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَا یَلِتۡکُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِکُمۡ شَیۡئًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۴﴾

آیت 14

قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا ؕ

’’یہ بدو کہہ رہے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں۔‘‘

قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَ لٰکِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا

’’(اے نبیﷺ ان سے ) کہہ دیجیے : تم ہر گز ایمان نہیں لائے ہو ‘بلکہ تم یوں کہو کہ ہم مسلمان (اطاعت گزار) ہو گئے ہیں‘‘

’’لَمْ تُـؤْمِنُوْا‘‘ میں نفی جحد بِلَمْ کانہایت مؤکد اسلوب ہے‘ یعنی یہاں مضارع سے پہلے لَمْ تاکیدی نفی کے لیے آیا ہے۔ چنانچہ ’’لَمْ تُؤْمِنُوْا‘‘ میں جو خاص تاکید پائی جاتی ہے وہ ’’مَـا آمَنْتُمْ‘‘ جیسے الفاظ میں نہیں ۔

وَ لَمَّا یَدۡخُلِ الۡاِیۡمَانُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ

’’اور ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔‘‘

اس آیت میں جو نکتہ بیان ہوا ہے وہ اسلامی معاشرے کی رکنیت اور اسلامی ریاست کی شہریت کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ایمان دراصل ایک نظریے کا نام ہے جو دل کے اندر چھپا ہوتا ہے۔ دنیا میں کسی بھی طریقے یا ذریعے سے کسی شخص کے ایمان کی تصدیق یا تردید نہیں ہو سکتی۔ اس لیے اسلامی معاشرے کے افراد یا اسلامی ریاست کے شہریوں کی قانونی حیثیت کا تعین ’’اسلام ‘‘کی بنیاد د پر ہوگا نہ کہ ’’ایمان‘‘کی بنیاد پر۔ البتہ آخرت میں اللہ کے ہاں ہر شخص کے معاملات کا فیصلہ ایمان کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ چنانچہ ہمارے ہاں مردم شماری کے فارم کے اندر مذہب کے خانے میں کسی کے لیے ’’مسلم‘‘ کا لفظ لکھ دینے سے متعلقہ شخص کو قانونی طور پر تو مسلمان تسلیم کر لیا جائے گا لیکن دنیا میں قانونی طور پر مسلمان بن جانے سے اللہ کے ہاں چھوٹ نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ تو ہرشخص کے دل میں ایمان کی کیفیت کو دیکھے اور پرکھے گا۔ جیسا کہ حضورﷺ کا فرمان ہے: حدیث((اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَنْظُرُ اِلٰی صُوَرِکُمْ وَاَمْوَالِکُمْ وَلٰکِنْ یَـنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِکُمْ وَاَعْمَالِکُمْ))۱ ’’اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کو نہیں دیکھتا ‘بلکہ وہ تو تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے‘‘۔ چنانچہ دُنیوی قانون کے تقاضوں اور نجاتِ اُخروی کے حوالے سے ایمان اور اسلام کے فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

وَ اِنۡ تُطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَا یَلِتۡکُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِکُمۡ شَیۡئًا ؕ

’’لیکن اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو گے تو وہ تمہارے اعمال میں سے کوئی کمی نہیں کرے گا۔‘‘

اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۴﴾

’’یقینا اللہ بہت بخشنے والا ‘بہت مہربان ہے۔‘‘

اگرچہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق اعمال کا دارومدار ایمان پر ہے ‘یعنی جب تک کسی کے دل میں ایمان نہیں اللہ کے ہاں اس کا کوئی عمل قابل قبول نہیں ‘لیکن اللہ تعالیٰ غفورٌ رحیم ہے‘ اس نے اپنی شانِ غفاری و رحیمی کے طفیل تم لوگوں کو خصوصی رعایت عطا کی ہے‘ چنانچہ اگرچہ تم نے ایمان کا ابھی صرف زبانی اقرار ہی کیا ہے اور یہ ایمان ابھی تمہارے دلوں میں راسخ نہیں ہوا ‘پھر بھی اس اقرار کے بعد اگر تم لوگ اللہ ااور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو شرفِ قبولیت بخشتا رہے گا۔ اس حوالے سے یہ اہم قانونی اور اصولی نکتہ ضرور مدنظر رہنا چاہیے کہ یہاں جس اطاعت کا ذکر ہے اس سے مراد کلی اطاعت ہے۔ کیونکہ {ادۡخُلُوۡا فِی السِّلۡمِ کَآفَّۃً ۪ } ( البقرۃ: ۲۰۸) کے واضح حکم کے بعداسلام میں جزوی داخلہ اور اللہ تعالیٰ کی جزوی اطاعت قابل قبول ہی نہیں ۔

آیت زیر مطالعہ اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ ا س میں ایمان کو اسلام سے علیحدہ کر دیا گیا ہے اور یہ قرآن مجید کا واحد مقام ہے جہاں مسلمانوں کے ایک گروہ کو واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ تا حال ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ اس سے بعض لوگوں کو یہ مغالطہ بھی ہوا کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں ہے‘ حالانکہ اس بارے میں سب کا اتفاق ہے کہ منافقین کا تو کوئی عمل بھی اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ‘جبکہ یہاں متعلقہ لوگوں کو یقین دہانی کرائی جا رہی ہے کہ اگر تم لوگ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرتے رہو گے تو تمہارے اعمال میں کوئی کمی نہیں کی جا ئے گی۔چنانچہ اس حکم کا درست مفہوم سمجھنے کے لیے ان حالات کے بارے میں جاننا ضروری ہے جن حالات میں یہ آیت نازل ہوئی ۔

جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو جزیرۃ العرب میں غلبہ عطا فرما دیا تو کفار و مشرکین کے تمام قبائل پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اب ان میں مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رہی۔ دوسری طرف سورۃ التوبہ کی ابتدائی آیات میں ان کے لیے یہ الٹی میٹم بھی نازل ہو چکا تھا: {فَاِذَا انۡسَلَخَ الۡاَشۡہُرُ الۡحُرُمُ فَاقۡتُلُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ حَیۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡہُمۡ وَ خُذُوۡہُمۡ وَ احۡصُرُوۡہُمۡ وَ اقۡعُدُوۡا لَہُمۡ کُلَّ مَرۡصَدٍ ۚ } (آیت۵) ’’اور جب یہ محترم مہینے گزر جائیں تو قتل کرو ان مشرکین کو جہاں پاؤ‘اور پکڑو ان کو‘اور گھیراؤ کرو ان کا‘اور ان کے لیے ہر جگہ گھات لگا کر بیٹھو ‘‘۔ ۹ ہجری کے حج کے موقع پر یہ الٹی میٹم ہر خاص و عام تک پہنچا بھی دیا گیا تھا۔ اس کے بعد متعلقہ لوگوں کے پاس صرف چار ماہ کا وقت تھا۔ ان حالات میں ان قبائل کے پاس اطاعت قبول کرنے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ بچا ہی نہیں تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہی راستہ اپنایا اور حضورﷺ کی اطاعت قبول کرنے کے لیے آپؐ کی خدمت میں اپنے اپنے وفد بھیجنے شروع کر دیے ۔ اس طرح اس سال مدینہ میں وفود کا تانتا بندھ گیا۔ گویا ہر قبیلہ اسلامی حکومت کی اطاعت قبول کرنے اور اسلام میں داخل ہونے کے لیے دوسروں پر سبقت لے جانا چاہتا تھا۔ اس صورت حال کا نقشہ سورۃ النصر میں یوں دکھایا گیا ہے: {اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰہِ وَ الۡفَتۡحُ ۙ﴿۱﴾وَ رَاَیۡتَ النَّاسَ یَدۡخُلُوۡنَ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اَفۡوَاجًا ۙ﴿۲﴾}

اطاعت قبول کرنے والے ان لوگوں میں تین طرح کے افراد تھے۔ کچھ تو ظاہر ہے خلوصِ نیت سے ایمان لانے والے تھے اور کچھ منافق اور دھوکہ باز جو ہوا کا رخ دیکھ کراپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرنے پر مجبور تھے۔ لیکن ان دواقسام کے درمیان تیسری قسم کے کچھ لوگ بھی تھے‘ جن کے دلوں میں نہ تو دھوکے کی نیت تھی ا ور نہ ہی ایمان لانے کا سچا جذبہ تھا۔ یعنی وہ مثبت اور منفی دو انتہاؤں کے درمیان ’’زیرو پوائنٹ‘‘ پر کھڑے تھے۔ آیت زیر مطالعہ میں دراصل ان ہی لوگوں کا ذکر ہے۔ ان لوگوں کو نہ صرف اطمینان دلایا گیا کہ اگر تم لوگ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرتے رہو گے تو تمہارے اعمال میں کچھ کمی نہیں کی جائے گی‘ بلکہ آگے آیت ۱۷میں انہیں خوشخبری بھی سنا دی گئی کہ اگر تم خلوصِ دل سے اطاعت کے اس راستے پر چلتے رہو گے تو تمہارے دلوں میں سچا اور حقیقی ایمان بھی پیدا ہو جائے گا۔

دراصل ایمانِ حقیقی اور عمل صالح باہم لازم و ملزوم ہیں۔ ایک طرف دل میں ایمانِ حقیقی کی موجودگی اگر اعمالِ صالحہ کے صدور کا باعث بنتی ہے تو دوسری طرف اعمالِ صالحہ کی مداومت بھی ایمان کی تقویت کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے۔لیکن واضح رہے کہ اس حوالے سے ٹھوس نتائج کے لیے دل میں مضبوط ارادے اور نیت کا موجود ہونا نا گزیر ہے۔ یعنی دل میں پختہ نیت ہو کہ مجھے ایک سچا اور پکا مؤمن بنناہے‘مؤمن بن کر جینا ہے اور مؤمن کی حیثیت سے اس دنیا سے کوچ کرنا ہے۔ لیکن اس ضمن میں اس تلخ حقیقت کو بھی تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ آج کل کے ماحول میں اول تو ایسی نیت یا آرزو کا دل میں پیدا ہونا ہی مشکل ہے ‘ اور اگر کسی دل میں یہ آرزو پیدا ہو ہی جائے تو اس کا زندہ رہنا محال ہے۔ کیونکہ آج کا معاشرہ اور خارج کا موجودہ ماحول ایسی مثبت سوچ کو غذا فراہم نہیں کرتا اور ظاہر ہے جس ماحول میں آکسیجن نہیں ہو گی وہاں کوئی متنفس کیسے زندہ رہ سکے گا۔ اقبالؔ نے اس صورت حال کو اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے: ؎

آرزو اول تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں

ہو کہیں پیدا تو مرجاتی ہے یا رہتی ہے خام!

بلکہ ہمارا موجودہ معاشرہ تو اس حوالے سے منفی کردار کے لیے غیر معمولی طور پر حساس اور فعال ہے۔ ایسی کوئی آرزو کسی دل میں ابھی پوری طرح آنکھیں بھی نہیں کھولنے پاتی کہ ماحول کی تمام منفی قوتین اپنے اپنے ہتھیار سجا کر اس جانِ ناتواں کے محاصرے کے لیے پہنچ جاتی ہیں۔ اس میں سب سے مؤثر کردار ’’اپنوں‘‘ کی ایسی نصیحتوں کا ہوتا ہے کہ دیکھو اپنے گھر بار کی بھی کچھ فکر کرو! کیوں تم اپنا بنا بنایا کیرئیر تباہ کرنے پر تل گئے ہو؟کیا تمہیں اپنے مستقبل اوراپنے بیوی بچوں کا بھی خیال نہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس دباؤ کا فطری اور منطقی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ وہ ’’نوزائیدہ آرزو ‘‘لمحہ بہ لمحہ کمزور ہونے لگتی ہے ا ور بالآخر سسک سسک کر دم توڑ جاتی ہے‘ اِلا یہ کہ کسی کے ارادے میں غیر معمولی خلوص و استقامت ہو اور اللہ کی خصوصی توفیق و نصرت بھی اس کے شامل حال ہو۔

بہر حال آیت زیر مطالعہ کے حوالے سے یہ بحث تو اسلام اور ایمان کے فرق سے متعلق تھی۔لیکن اگر کوئی یہ جاننا چاہے کہ حقیقی مومن کسے کہتے ہیں تو وہ’’ مؤمن‘‘ کی اس تعریف (definition) کو اپنے پیش نظر رکھے جو اگلی آیت میں بیان کی گئی ہے ۔(اس مضمون کی وضاحت قبل ازیں سورۃ الانفال کی آیات ۲‘۳ اور ۷۴ کے ضمن میں بھی کی جا چکی ہے۔)

(۱) صحیح مسلم‘کتاب البر والصلۃ والآداب‘ باب تحریم الظلم وخذلہ واحتقارہ…

15

حقیقت میں مومن کون ہیں؟

ویڈیو

اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ثُمَّ لَمۡ یَرۡتَابُوۡا وَ جٰہَدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوۡنَ ﴿۱۵﴾

آیت 15

اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ثُمَّ لَمۡ یَرۡتَابُوۡا

’’مؤمن تو بس وہی ہیں جو ایمان لائے اللہ اور اُس کے رسولؐ پر ‘پھر شک میں ہر گز نہیں پڑے‘‘

یعنی ایسے لوگوں کا ایمان ان کے دلوں میں راسخ ہو کر یقین کی ایسی صورت اختیار کر گیا ہے کہ ان کے دلوں کے اندر شک کی کوئی گنجائش رہی ہی نہیں۔ جیسے قبل ازیں آیت ۷ میں صحابہؓ کے بارے میں فرمایا گیا: {وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیۡکُمُ الۡاِیۡمَانَ وَ زَیَّنَہٗ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ } ’’ لیکن (اے نبیﷺ کے ساتھیو!) اللہ نے تمہارے نزدیک ایمان کو بہت محبوب بنا دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں کے اندر رچا بسا دیا ہے۔‘‘

جب تک ایمان دل میں راسخ نہیں ہوا اور ابھی صرف زبان پر ہے (آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ…) تو یہ اسلام ہے ۔ اسی لیے اسلام کی بنیاد جن پانچ چیزوں پر بتائی گئی ہے : ( بُنِیَ الاِْسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ…الحدیث) ان میں یقین قلبی شامل نہیں ہے ‘بلکہ نظریاتی طور پر صرف توحید و رسالت کی گواہی دے کر اور اس کے بعد نماز‘روزہ‘زکوٰۃ اور حج کا التزام کر کے اسلام کا تقاضا پورا ہو جاتا ہے۔ لیکن ایمان اس سے اوپر کی منزل ہے۔ گویا مذکورہ پانچ شرائط (پہلی شرط کا تعلق نظریے سے جبکہ باقی چار کا تعلق عمل سے ہے) پوری کر کے جو شخص ’’مسلمان ‘‘ہو گیا اسے ’’مؤمن‘‘ بننے کے لیے کچھ اضافی شرائط بھی پوری کرناہوں گی اور آیت زیر مطالعہ کی رو سے یہ اضافی دو شرائط ہیں‘ یعنی ’’شہادت‘‘کے ساتھ یقین قلبی (لَمْ یَرْتَابُوْا) کی کیفیت کا اضافہ ہو گا اور اعمال کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ کا :

وَ جٰہَدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ

’’اور انہوں نے جہاد کیا اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں۔‘‘

اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوۡنَ ﴿۱۵﴾

’’یہی لوگ ہیں جو (اپنے دعوائے ایمان میں) سچے ہیں۔‘‘

گویا کسی شخص کو ’’حقیقی مؤمن‘‘ بننے کے لیے مذکورہ ساتوں شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ پہلی پانچ شرائط ’’اسلام‘‘ میں داخل ہونے کے لیے جبکہ آخری دو شرائط ’’ایمان‘‘ کی منزل حاصل کرنے کے لیے۔ اسلام اور ایمان کے اس فرق کو اس طرح بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ ایک مومن لامحالہ ’’مسلم‘‘ تو ہوگا ہی لیکن ہر ’’مسلم‘‘ مؤمن نہیں ہو سکتا۔

اسلام اور ایمان کی اس بحث میں لائق توجہ نکتہ یہ ہے کہ زبان سے: ’’آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ…‘‘ کا دعویٰ کرنا تو آسان ہے مگر دل میں حقیقی ایمان پیدا کرنا اور پھر اس ایمان کے تقاضے پورے کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنی ’’ایمانی کیفیت‘‘ کا جائزہ لیتا رہے۔ خصوصی طور پر اس حوالے سے یہ حقیقت تو ہمیں کسی لمحے بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ہم باطل نظام کے تحت زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس حالت میں اگر ہم اس نظام کو ذہنی طور پر قبول کر کے اس کی چاکری کرنا شروع کر دیں گے‘یعنی اس نظام کے تحت اپنی معیشت کی ترقی اور اپنے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کی فکر میں لگ جائیں گے تو ایسی صورت میں ہمیں اپنے ایمان کی خبر لینے کی ضرورت ہو گی۔

دراصل کسی ملک یا معاشرے میں غلبہ باطل کی صورت میں ایک بندۂ مومن کے لیے لازم ہے کہ وہ اس نظام کے تحت حالت احتجاج میں رہتے ہوئے زندگی بسر کرے۔ اور حدیث((اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ))۱ کے مصداق باطل نظام کے تحت وہ ایسے رہے جیسے ایک قیدی جیل کے اندر رہتا ہے۔ یعنی اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات پوری کرنے میں وہ اپنی کم سے کم توانائی صرف کرے اور ان ضروریات کو بھی کم سے کم معیار (subsistance level) پر رکھے ‘جبکہ اپنا باقی وقت اور اپنی بہترین صلاحیتیں نظام باطل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور اللہ کے دین کو غالب کرنے کی جدوجہد میں کھپا دے۔ ؏ ’’گر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں!‘‘ اگر باطل نظام کے تحت رہتے ہوئے ایک مرد مسلمان کی زندگی کے شب و روز کا نقشہ ایسا نہیں تو بے شک قانونی طور پر وہ اپنے ملک کا ایک مسلمان شہری ہے‘اپنے مسلمان باپ کی وراثت کا حقدار ہے‘ مسلمان عورت سے شادی کر سکتا ہے اور اس طرح کے دوسرے تمام قانونی حقوق سے بھی مستفید ہو سکتا ہے ‘لیکن ایسا ’’مسلمان‘‘ اللہ کے ہاں ’’مؤمن‘‘ شمار نہیں ہو سکتا۔

اس آیت کے بارے میں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ اس کا آغاز ’’اِنّما‘‘ سے ہو رہا ہے اور آخر پر ’’اُولٰٓئِکَ ھُمُ الصّٰدِقُوْنَ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں ۔ یعنی آیت کا آغاز بھی اسلوبِ حصر سے ہو رہا ہے اور اختتام پر بھی اسلوبِ حصر آیا ہے۔ اس اعتبار سے آیت کا مفہوم یوں ہو گا کہ مؤمن تو ہیں ہی صرف وہ لوگ جن کے دلوں میں ایمان نے ’’یقین‘‘ کی شکل اختیار کر لی اور پھر انہوں نے اپنے جان و مال کو اللہ کی راہ میں کھپا دیا۔ اور صرف یہی لوگ ہیں جو اپنے ایمان کے دعوے میں سچے ہیں۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ‘اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ۔ آمین‘ثم آمین!

آیت کے آخر میں ان مؤمنین کو جو سر ٹیفکیٹ (اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ) عطا ہوا ہے اس کی اہمیت کو سورۃ التوبہ کی آیت ۱۱۹ کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سورۃ التوبہ کی مذکورہ آیت میں اہل ایمان کو صادقین کے ساتھ شامل ہونے (کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ) کا حکم دیا گیا ہے‘جبکہ آیت زیر مطالعہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ ’’صادقین‘‘ کون ہیں۔ اس نکتے کو اس طرح سمجھیں کہ آیت زیر مطالعہ میں مؤمنین صادقین کی دو نشانیاں (ایمان حقیقی اور جہاد فی سبیل اللہ) ہماری راہنمائی کے لیے بتائی گئی ہیں کہ مسلمانو!اٹھو‘ اس ’’چراغ ‘‘کی روشنی میں ’’مؤمنینِ صادقین‘‘ کو تلاش کرو اور پھر ان کے مشن کی جدوجہد میں ان کے دست و بازو بن جاؤ!حضورﷺ کا فرمان ہے کہ میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: حدیث((لاَ یَزَالُ مِنْ اُمَّتِیْ اُمَّۃٌ قَائِمَۃٌ بِاَمْرِ اللّٰہِ ، لَا یَضُرُّھُمْ مَنْ خَذَلَھُمْ وَلَا مَنْ خَالَفَھُمْ، حَتّٰی یَاْتِیَ اَمْرُ اللّٰہِ وَھُمْ عَلٰی ذٰلِکَ))۱ ’’میری اُمت میں سے ایک گروہ اللہ کے حکم کو قائم کرنے والا ہمیشہ موجود رہے گا۔ ان کا ساتھ چھوڑ دینے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے‘ یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے گا‘ اور وہ اسی پر قائم ہوں گے‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ’’مؤمنین صادقین‘‘ آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم انہیں تلاش کریں اور {کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ} کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے ان کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں تا کہ {مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ } (الفتح :۲۹) کی طرز پر ایک مضبوط ’’حزب اللہ‘‘ تشکیل پا سکے۔ ظاہر ہے افراد کے اتحاد کے بغیر نہ توکوئی جمعیت وجود میں آ سکتی ہے‘ نہ اقامت دین کی جدوجہد آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ ہی ’’اظہارِ دین حق‘‘ کی شانِ تکمیلی کا ظہور ممکن ہو سکتا ہے۔

(۱) صحیح مسلم‘کتاب الزھد‘ عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ‘ ح : ۲۹۵۶۔

(۱) صحیح البخاری‘کتاب المناقب‘ باب سؤال المشرکین ان یریھم النببی آیۃ فاراھم انشقاق‘ح۳۶۴۱۔

16-18

اللہ پر احسان نہ جتلاؤ بلکہ اس کا احسان مانو

ویڈیو

قُلۡ اَتُعَلِّمُوۡنَ اللّٰہَ بِدِیۡنِکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۱۶﴾ یَمُنُّوۡنَ عَلَیۡکَ اَنۡ اَسۡلَمُوۡا ؕ قُلۡ لَّا تَمُنُّوۡا عَلَیَّ اِسۡلَامَکُمۡ ۚ بَلِ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیۡکُمۡ اَنۡ ہَدٰىکُمۡ لِلۡاِیۡمَانِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۷﴾ اِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ غَیۡبَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۱۸﴾

آیت 16

قُلۡ اَتُعَلِّمُوۡنَ اللّٰہَ بِدِیۡنِکُمۡ ؕ

’’(اے نبیﷺ!) ان سے کہیے :کیا تم اللہ کو جتلانا چاہتے ہو اپنادین؟‘‘

مثل مشہور ہے ’’تھوتھا چنا باجے گھنا‘‘۔ یعنی جو برتن خالی ہو گا وہ کھنکھنانے پر بھرے ہوئے برتن کی نسبت زیادہ آواز دے گا۔ ان لوگوں کے دل چونکہ حقیقی ایمان سے خالی تھے اس لیے وہ اپنے ایمان کا بڑھ چڑھ کر پرچار کرتے تھے اور حضورﷺ پر احسان دھرتے تھے کہ دیکھیں !ہم تو لڑے بھڑے بغیر اسلام لے آئے ہیں‘اس لیے اب ہمارے حقوق بھی زیادہ ہونے چاہئیں۔

وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ

’’اور اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔‘‘

وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۱۶﴾

’’اللہ تو ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔‘‘

اگر حقیقی ایمان ان کے دلوں میں راسخ ہوتا تو انہیں یہ بھی یقین ہو تا کہ اللہ عالم الغیب ہے‘ دنیا و مافیہا کی ہر چیز ا س کے علم میں ہے ‘اس لیے اس کے سامنے کسی کو اپنے ایمان کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔

آیت 17

یَمُنُّوۡنَ عَلَیۡکَ اَنۡ اَسۡلَمُوۡا ؕ

’’(اے نبیﷺ!) یہ لوگ آپ پر احسان دھر رہے ہیں کہ وہ اسلام لے آئے ہیں!‘‘

قُلۡ لَّا تَمُنُّوۡا عَلَیَّ اِسۡلَامَکُمۡ ۚ

’’ان سے کہیے کہ مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ دھرو۔‘‘

بَلِ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیۡکُمۡ اَنۡ ہَدٰىکُمۡ لِلۡاِیۡمَانِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۷﴾

’’بلکہ اللہ تم پر احسان دھرتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کے راستے پر ڈال دیا ہے ‘اگر تم سچے ہو۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے تمہیں توفیق دی کہ تم اسلام لے آئے۔ ابھی تم لوگ ایمان کے راستے پر آئے ہو۔ اگر تم اپنے اسلام کے دعوے میں سچے ہو گے‘نماز کی پابندی کرو گے‘رمضان کے روزے رکھو گے‘زکوٰۃ ادا کرو گے اور اعمالِ صالحہ کا اہتمام کرو گے تو ان اعمال کی نورانیت سے تمہارے دلوں کے اندر ایمان بھی پیدا ہو جائے گا۔اس آیت میں اسلام اور ایمان کا فرق بہت واضح ہو گیا ہے۔ متعلقہ لوگوں کے دعوے کے حوالے سے یہاں دو دفعہ اسلام کا لفظ آیا ہے ۔ لیکن بعد میں جب اللہ کی توفیق کے حوالے سے بات ہوئی ہے تو ایمان کا ذکر کیا گیا ہے: {بَلِ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیۡکُمۡ اَنۡ ہَدٰىکُمۡ لِلۡاِیۡمَانِ } یعنی یہ تو اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں اسلام لانے کی توفیق دی اور یوں اس نے تمہیں ایمان کی شاہراہ پر ڈال دیا۔اگر تم صدق دل سے اسلام لائے ہو تو یہ شاہراہ ضرور تمہیں ایمان کی منزل تک لے جائے گی۔ لیکن اگر تم منافق ہو یا صرف جان بچانے کے لیے اسلام کی پناہ میں آئے ہو تو قانونی طور پر بے شک تمہارا شمار مسلمانوں میں ہو جائے گا لیکن اللہ کے ہاں نہ تمہارا اسلام قبول ہوگا اور نہ ایمان۔

جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوا ہے ‘اس ضمن میں قانون یہی ہے کہ جو کوئی بھی زبان سے توحید و رسالت کی گواہی دے کر مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے گا اسے مسلمان تسلیم کر لیا جائے گا۔ اسی قانون کے تحت غزوۂ تبوک تک تمام منافقین کو بھی مسلمان تسلیم کیا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ حضورﷺ نے رئیس المنافقین عبدا للہ بن اُبی کی نماز جنازہ بھی پڑھائی۔ البتہ غزوئہ تبوک کے بعد ان کی منافقت کا پردہ چاک کیا گیا اور ان کی بنائی ہوئی مسجد (مسجد ضرار) بھی گرا دی گئی۔

آیت 18

اِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ غَیۡبَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۱۸﴾

’’یقینا اللہ جانتا ہے آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزیں ۔اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے بھی دیکھ رہا ہے۔‘‘

بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم، ونفعنی وایّاکم بالآیات والذّکر الحکیم

یوٹیوب پر دیکھیے