تحریر

الفتح

آیات ۱۱ تا ۱۷

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

11-12

اللہ کی راہ میں نکلنے سے گریز کا کوئی جواز نہیں

ویڈیو

سَیَقُوۡلُ لَکَ الۡمُخَلَّفُوۡنَ مِنَ الۡاَعۡرَابِ شَغَلَتۡنَاۤ اَمۡوَالُنَا وَ اَہۡلُوۡنَا فَاسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ۚ یَقُوۡلُوۡنَ بِاَلۡسِنَتِہِمۡ مَّا لَیۡسَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ قُلۡ فَمَنۡ یَّمۡلِکُ لَکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ شَیۡئًا اِنۡ اَرَادَ بِکُمۡ ضَرًّا اَوۡ اَرَادَ بِکُمۡ نَفۡعًا ؕ بَلۡ کَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرًا ﴿۱۱﴾ بَلۡ ظَنَنۡتُمۡ اَنۡ لَّنۡ یَّنۡقَلِبَ الرَّسُوۡلُ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِلٰۤی اَہۡلِیۡہِمۡ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِکَ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ وَ ظَنَنۡتُمۡ ظَنَّ السَّوۡءِ ۚۖ وَ کُنۡتُمۡ قَوۡمًۢا بُوۡرًا ﴿۱۲﴾

تمہید

دوسرے رکوع کی یہ آیات صلح حدیبیہ کے بعد حضورﷺ کے واپسی کے سفر کے دوران نازل ہوئیں‘ بالکل اسی طرح جس طرح غزوۂ تبوک سے واپسی پر سورۃ التوبہ کی کچھ آیات نازل ہوئی تھیں۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت کے تحت بعد میں نازل ہونے والی ان آیات کو پہلے سے جاری سلسلہ کلام کو منقطع کر کے یہاں پر رکھا گیا ہے۔ آیات کے تسلسل میں تقدیم و تاخیر کا بالکل یہی انداز اس سے پہلے ہم سورۃ التوبہ کے آغاز میں بھی دیکھ چکے ہیں۔ چنانچہ ان آیات کے مطالعہ سے پہلے یہ بات نوٹ کر لیجیے کہ پہلے رکوع کا مضمون یہاں پر منقطع ہو رہا ہے اور اس مضمون کا تسلسل اب تیسرے رکوع کے مضمون کے ساتھ جا کر ملے گا۔

آیت 11

سَیَقُوۡلُ لَکَ الۡمُخَلَّفُوۡنَ مِنَ الۡاَعۡرَابِ

’’عنقریب آپؐ سے کہیں گے وہ لوگ جو پیچھے رہ جانے والے تھے دیہاتیوں میں سے‘‘

گویا رسول اللہﷺ کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ آپؐ کے مدینہ پہنچتے ہی اردگرد کے قبائل سے بادیہ نشین آپؐ کے پاس آ آ کر عذر پیش کریں گے کہ :

شَغَلَتۡنَاۤ اَمۡوَالُنَا وَ اَہۡلُوۡنَا فَاسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ۚ

’’ہمیں مشغول رکھا ہمارے اموال اور اہل و عیال (کی دیکھ بھال )نے ‘چنانچہ آپ ہمارے لیے استغفار کیجیے۔‘‘

حضورﷺنے تمام مسلمانوں پر عمرے کے لیے نکلنا لازم قرار نہیں دیا تھا۔ لیکن آپؐ نے اعلانِ عام کروایا تھا کہ جو کوئی عمرے کے لیے جا سکتا ہے ضرور چلے۔ بہر حال جو لوگ استطاعت کے باوجود آپؐ کے ساتھ نہیں گئے تھے یہ ان کی منافقت کا ذکر ہے کہ وہ آپؐ کے سامنے اپنی نام نہاد مصروفیات کے بہانے بنائیں گے۔

یَقُوۡلُوۡنَ بِاَلۡسِنَتِہِمۡ مَّا لَیۡسَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ

’’یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ کچھ کہہ رہے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔‘‘

قُلۡ فَمَنۡ یَّمۡلِکُ لَکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ شَیۡئًا اِنۡ اَرَادَ بِکُمۡ ضَرًّا اَوۡ اَرَادَ بِکُمۡ نَفۡعًا ؕ

’’آپؐ (ان سے)کہیے کہ کون ہے جو کچھ اختیار رکھتا ہو تمہارے بارے میں اللہ کی طرف سے کچھ بھی اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانے کا ارادہ کرے یا تمہیں نفع پہنچانے کا ارادہ کرے؟‘‘

اللہ تعالیٰ کا تمہارے بارے میں نفع یا نقصان کا جو بھی ارادہ ہو وہ تمہاری کسی تدبیر سے تبدیل نہیں ہو سکتا۔ اپنے گھروں میں رہ کر تم لوگ اللہ کی تقدیر کو نہیں بدل سکتے تھے۔ تمہارے گھروں میں اگر کوئی خیر آنا تھی تو وہ تمہاری عدم موجودگی میں بھی آسکتی تھی اور اگر کوئی شر تمہارے مقدر میں لکھا تھا تو وہ تمہاری موجودگی میں بھی آ سکتا تھا۔ لہٰذا ہمارے ساتھ نہ جانے کے جواز میں تمہارے سب دلائل بے معنی اور فضول ہیں۔

بَلۡ کَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرًا ﴿۱۱﴾

’’بلکہ جو کچھ تم کرتے رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔‘‘

اب وہ بات بتائی جا رہی ہے جو اصل میں ان کے دلوں میں تھی۔

آیت 12

بَلۡ ظَنَنۡتُمۡ اَنۡ لَّنۡ یَّنۡقَلِبَ الرَّسُوۡلُ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِلٰۤی اَہۡلِیۡہِمۡ اَبَدًا

’’بلکہ تم لوگوں نے یہ گمان کیا کہ اب رسول اور اہلِ ایمان اپنے گھر والوں کی طرف کبھی بھی لوٹ کر نہیں آئیں گے‘‘

تمہارا خیال تھا کہ ان لوگوں کا دماغ چل گیا ہے جو خود چل کر موت کے منہ میں جارہے ہیں اور یہ کہ قریشِ مکہ انہیں جیتے جی کبھی واپس نہیں آنے دیں گے۔

وَّ زُیِّنَ ذٰلِکَ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ وَ ظَنَنۡتُمۡ ظَنَّ السَّوۡءِ ۚۖ

’’اور یہ بات تمہارے دلوں میں خوشنما بنا دی گئی اور تم نے بہت برا گمان کیا ۔‘‘

وَ کُنۡتُمۡ قَوۡمًۢا بُوۡرًا ﴿۱۲﴾

’’اور تم ہو ہی تباہ ہونے والے لوگ۔‘‘

اس سے پہلے سورۂ محمد میں منافقین کے جس طرزِ عمل کا ذکر ہوا تھا وہ ۲ ہجری کا دور تھا جبکہ ابھی قتال کا سلسلہ شروع ہونے والا تھا۔ اُس دور میں وہ لوگ ’’اقدام ‘‘ سے متعلق حضورﷺ کی حکمت عملی کے مقابلے میں صلح جوئی اور امن پسندی کی باتیں کرتے تھے۔ اب ان آیات میں ان کی ۶ ہجری کے زمانے کی سوچ کی عکاسی کی گئی ہے۔

13-14

رسول ﷺ کا ساتھ نہ دینے والا مومن نہیں ہے

ویڈیو

وَ مَنۡ لَّمۡ یُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ فَاِنَّاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ سَعِیۡرًا ﴿۱۳﴾ وَ لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یَغۡفِرُ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۴﴾

آیت 13

وَ مَنۡ لَّمۡ یُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ فَاِنَّاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ سَعِیۡرًا ﴿۱۳﴾

’’اور جو کوئی اللہ اور اُس کے رسولؐ پر ایمان نہ رکھے تو ہم نے ان کافروں کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے۔‘‘

آیت 14

وَ لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ

’’اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے۔ ‘‘

یَغۡفِرُ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ

’’ وہ بخشے گا جس کو چاہے گااور عذاب دے گا جس کو چاہے گا۔‘‘

وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۴﴾

’’ اور اللہ بہت بخشنے والا‘ نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘

15

فتح خیبر کی بشارت اور منافقین کی محرومی

ویڈیو

سَیَقُوۡلُ الۡمُخَلَّفُوۡنَ اِذَا انۡطَلَقۡتُمۡ اِلٰی مَغَانِمَ لِتَاۡخُذُوۡہَا ذَرُوۡنَا نَتَّبِعۡکُمۡ ۚ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّبَدِّلُوۡا کَلٰمَ اللّٰہِ ؕ قُلۡ لَّنۡ تَتَّبِعُوۡنَا کَذٰلِکُمۡ قَالَ اللّٰہُ مِنۡ قَبۡلُ ۚ فَسَیَقُوۡلُوۡنَ بَلۡ تَحۡسُدُوۡنَنَا ؕ بَلۡ کَانُوۡا لَا یَفۡقَہُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۱۵﴾

آیت 15

سَیَقُوۡلُ الۡمُخَلَّفُوۡنَ اِذَا انۡطَلَقۡتُمۡ اِلٰی مَغَانِمَ لِتَاۡخُذُوۡہَا ذَرُوۡنَا نَتَّبِعۡکُمۡ ۚ

’’(اے مسلمانو!) عنقریب یہی پیچھے رہنے والے کہیں گے‘ جب تم لوگ غنیمتیں حاصل کرنے کے لیے جاؤ گے‘ کہ ہمیں بھی اجازت دیجیے کہ ہم آپ کے ساتھ چلیں۔‘‘

اس آیت میں فتح خیبر کی طرف اشارہ ہے۔ خیبر یہودیوں کا بہت بڑا گڑھ تھا۔ مسلمانوں سے بد عہدی کی بنا پر جن دو یہودی قبائل (بنو قینقاع اور بنو نضیر) کو مدینہ سے نکالا گیا تھا وہ بھی خیبر میں آ کر آباد ہو گئے تھے۔ اس علاقے میں انہوں نے بڑے بڑے قلعے بنا کر عسکری اعتبار سے خود کو بہت مضبوط کر لیا تھا۔ یہ لوگ ہر وقت مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی سازشوں کی منصوبہ بندیاں کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ صلح حدیبیہ کے بعد جب قریش کی طرف سے جنگ وغیرہ کا کوئی خطرہ نہ رہا تو اگلے ہی سال یعنی ۷ ہجری میں رسول اللہﷺ نے ان کی سرکوبی کے لیے پوری طاقت کے ساتھ خیبر پر چڑھائی کا فیصلہ کیا۔ یہاں ان آیات کے ذریعے مسلمانوں کو پیشگی (۶ ہجری میں) مطلع کیا جا رہا ہے کہ جب اگلے سال تم لوگ خیبر کی طرف پیش قدمی کرو گے تو ا س کی فتح کو یقینی سمجھتے ہوئے اور وہاں سے بہت بڑے اموالِ غنیمت کی توقع کرتے ہوئے یہ منافقین بھی اس مہم پر تمہارے ساتھ جانے کے لیے تم سے اجازت مانگیں گے۔

یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّبَدِّلُوۡا کَلٰمَ اللّٰہِ ؕ

’’یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو تبدیل کر دیں!‘‘

گویا یہ لوگ اللہ کے اس حکم کو خلافِ واقعہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ خیبر کی مہم پر حضورﷺ کے ساتھ صرف انہی لوگوں کو جانے کی اجازت دی جائے گی جو حدیبیہ کی مہم پر آپؐ کے ساتھ گئے تھے اور بیعتِ رضوان میں شریک ہوئے تھے‘ جیسا کہ آگے آیات ۱۸‘۱۹ میں بصراحت ارشاد ہوا ہے۔

قُلۡ لَّنۡ تَتَّبِعُوۡنَا کَذٰلِکُمۡ قَالَ اللّٰہُ مِنۡ قَبۡلُ ۚ

’’آپؐ کہیے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں جاؤ گے‘ یہ بات اللہ پہلے ہی فرما چکا ہے۔‘‘

ان الفاظ کا اشارہ اسی سورت کی آیات ۱۸‘۱۹ کی طرف ہے‘ جو اس سے پہلے نازل ہو چکی تھیں۔

فَسَیَقُوۡلُوۡنَ بَلۡ تَحۡسُدُوۡنَنَا ؕ

’’اس پر وہ کہیں گے:بلکہ آپ لوگ ہم سے حسد کر رہے ہیں۔‘‘

اس پر وہ آپ لوگوں پر الزام دھریں گے کہ آپ لوگ حسد کی بنا پر ہمیں اپنے ساتھ نہیں لے جانا چاہتے کہ ہم بھی کہیں تمہیں حاصل ہونے والے اموالِ غنیمت میں حصہ دار نہ بن جائیں۔

بَلۡ کَانُوۡا لَا یَفۡقَہُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۱۵﴾

’’بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ فہم ہی نہیں رکھتے مگر بہت کم۔‘‘

16-17

منافقین کے لیے ایک اور آزمائش آنے والی ہے

ویڈیو

قُلۡ لِّلۡمُخَلَّفِیۡنَ مِنَ الۡاَعۡرَابِ سَتُدۡعَوۡنَ اِلٰی قَوۡمٍ اُولِیۡ بَاۡسٍ شَدِیۡدٍ تُقَاتِلُوۡنَہُمۡ اَوۡ یُسۡلِمُوۡنَ ۚ فَاِنۡ تُطِیۡعُوۡا یُؤۡتِکُمُ اللّٰہُ اَجۡرًا حَسَنًا ۚ وَ اِنۡ تَتَوَلَّوۡا کَمَا تَوَلَّیۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ یُعَذِّبۡکُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿۱۶﴾ لَیۡسَ عَلَی الۡاَعۡمٰی حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الۡاَعۡرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الۡمَرِیۡضِ حَرَجٌ ؕ وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ یُدۡخِلۡہُ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۚ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبۡہُ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿٪۱۷﴾

آیت 16

قُلۡ لِّلۡمُخَلَّفِیۡنَ مِنَ الۡاَعۡرَابِ سَتُدۡعَوۡنَ اِلٰی قَوۡمٍ اُولِیۡ بَاۡسٍ شَدِیۡدٍ تُقَاتِلُوۡنَہُمۡ اَوۡ یُسۡلِمُوۡنَ ۚ

’’ان بدوؤں میں سے جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے آپ ان سے کہہ دیجیے کہ عنقریب تمہیں بلایا جائے گا ایک ایسی قوم کے ساتھ مقابلے کے لیے جو بہت طاقتور ہو گی ‘یا تو تم ان سے قتال کرو گے یا وہ اطاعت قبول کر لیں گے۔‘‘

ان الفاظ میں جنگوں کے اس طویل سلسلے کی طرف اشارہ ہے جو چند سال بعد سلطنتِ روما اور سلطنت ایران کے خلاف شروع ہونے والا تھا۔ گویا یہ انقلابِ محمدیؐ کی بین الاقوامی سطح پر پیش قدمی کے بارے میں پیشین گوئی ہے کہ جزیرہ نمائے عرب کا پورا علاقہ تمہارے زیر تسلط آ جانے کے بعد عنقریب تمہارا ٹکراؤ سلطنت روما اور سلطنتِ ایران کی ایسی افواج سے ہو گا جن کی تعداد لاکھوں میں ہے اور وہ اپنے زمانے کے جدید ترین سامانِ حرب سے لیس ہیں۔ چنانچہ اے نبیﷺ !آپ ان اعراب سے کہیں کہ توسیع و تصدیر انقلاب کے اس مرحلے میں تم لوگوں کوبھی اپنی سابقہ کوتاہیوں کی تلافی کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

فَاِنۡ تُطِیۡعُوۡا یُؤۡتِکُمُ اللّٰہُ اَجۡرًا حَسَنًا ۚ

’’تو اس وقت اگر تم اطاعت کرو گے تو اللہ تمہیں بہت اچھا اجر دے گا۔‘‘

اگر تم لوگ ان معرکوں میں اللہ اور اُس کے رسولﷺ کی اطاعت کا دم بھرتے ہوئے اس کے رسولؐ کے مشن کے علمبردار بنو گے تو اللہ تعالیٰ سے اس کا بہت اچھا صلہ پا لو گے۔

وَ اِنۡ تَتَوَلَّوۡا کَمَا تَوَلَّیۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ یُعَذِّبۡکُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿۱۶﴾

’’لیکن اگر تم نے (اس موقع پر بھی) پیٹھ دکھا دی جیسے کہ تم نے پہلے پیٹھ دکھائی تھی تو وہ تمہیں بہت درد ناک عذاب دے گا۔‘‘

یہاں پر یہ اہم نکتہ نوٹ کر لیجئے کہ {تُقَاتِلُوۡنَہُمۡ اَوۡ یُسۡلِمُوۡنَ ۚ } کے الفاظ میں کسی قوم کے ساتھ مقابلے میں تین ممکنہ صورتوں کا ذکر ہے۔ ’’تُقَاتِلُوْنَہُمْ‘‘ میں مخالف فریق کے ساتھ مقابلے اور جنگ کی طرف اشارہ ہے جبکہ ’’یُسْلِمُوْنَ ‘‘ میں ان کے اسلام لانے یا اطاعت قبول کرنے کی دونوں صورتیں شامل ہیں ۔ چنانچہ عرب سے باہر مسلمانوں کا جہاں کہیں بھی کوئی معرکہ ہوتا تھا اس میں ان کی طرف سے مخالف فریق کے سامنے یہی تین نکات پیش کیے جاتے تھے۔

آیت 17

لَیۡسَ عَلَی الۡاَعۡمٰی حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الۡاَعۡرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الۡمَرِیۡضِ حَرَجٌ ؕ

’’ہاں کسی اندھے پر کوئی تنگی نہیں اور نہ ہی کسی لنگڑے پر اور نہ ہی کسی مریض پر کوئی تنگی ہے۔‘‘

اگر جسمانی لحاظ سے کوئی معذور شخص جہاد میں حصہ نہیں لیتا تو اس کی معذوری کے پیش نظر اس پر اس حوالے سے کوئی سختی نہیں کی جائے گی۔

وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ یُدۡخِلۡہُ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۚ

’’اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرے گا تو وہ داخل کرے گا اس کو ان باغات مین جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی۔‘‘

وَ مَنۡ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبۡہُ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿٪۱۷﴾

’’اور جو کوئی پیٹھ پھیر لے تو اسے وہ ایک دردناک عذاب سے دوچار کر ے گا۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے