تحریر

الأحقاف

آیات ۲۱ تا ۲۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

21-23

تاریخ سے برے کردار کی ایک مثال . . . قوم عاد کی روش

ویڈیو

وَ اذۡکُرۡ اَخَا عَادٍ ؕ اِذۡ اَنۡذَرَ قَوۡمَہٗ بِالۡاَحۡقَافِ وَ قَدۡ خَلَتِ النُّذُرُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ مِنۡ خَلۡفِہٖۤ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰہَ ؕ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۲۱﴾ قَالُوۡۤا اَجِئۡتَنَا لِتَاۡفِکَنَا عَنۡ اٰلِہَتِنَا ۚ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۲۲﴾ قَالَ اِنَّمَا الۡعِلۡمُ عِنۡدَ اللّٰہِ ۫ۖ وَ اُبَلِّغُکُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِہٖ وَ لٰکِنِّیۡۤ اَرٰىکُمۡ قَوۡمًا تَجۡہَلُوۡنَ ﴿۲۳﴾

آیت 21

وَ اذۡکُرۡ اَخَا عَادٍ ؕ اِذۡ اَنۡذَرَ قَوۡمَہٗ بِالۡاَحۡقَافِ

’’اور ذرا تذکرہ کیجیے قومِ عاد کے بھائی (ہودؑ) کا‘ جب اُس نے خبردار کیا اپنی قوم کو احقاف میں‘‘

جزیرہ نمائے عرب کے جنوبی ساحلی علاقے کو پرانے زمانے میں ’’احقاف‘‘ کہا جاتا تھا جہاں قومِ عاد آباد تھی‘ اب یہ علاقہ لق و دق صحرا کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

وَ قَدۡ خَلَتِ النُّذُرُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ مِنۡ خَلۡفِہٖۤ

’’اور اس سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی بہت سے خبردار کرنے والے گزر چکے تھے ‘‘

یعنی ایسے خبردار کرنے والے اُس سے پہلے بھی گزر چکے تھے اور اس کے بعد بھی آتے رہے --- اللہ تعالیٰ کی اس سنت کے بارے میں قبل ازیں بھی کئی مرتبہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ کسی قوم میں پہلے بہت سے انبیاء علیہم السلام بھیجے جاتے تھے اور پھر آخر میں اتمامِ حجت کے لیے ایک رسول ؑکو مبعوث کیا جاتا تھا۔ وہ سب کے سب ایک ہی دعوت دیتے تھے۔

اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰہَ ؕ

’’کہ مت عبادت کرو کسی کی سوائے اللہ کے!‘‘

اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۲۱﴾

’’مجھے اندیشہ ہے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا۔‘‘

آیت 22

قَالُوۡۤا اَجِئۡتَنَا لِتَاۡفِکَنَا عَنۡ اٰلِہَتِنَا ۚ

’’انہوں نے کہا: کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں بہکا کر ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دو؟‘‘

فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۲۲﴾

’’ تو جس عذاب کی دھمکی تم ہمیں دے رہے ہو وہ ہم پر لے آئو اگر تم سچوں میں سے ہو!‘‘

آیت 23

قَالَ اِنَّمَا الۡعِلۡمُ عِنۡدَ اللّٰہِ ۫ۖ

’’اس نے کہا کہ اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے‘‘

یعنی عذاب کے بارے میں تو اللہ ہی جانتا ہے کہ اگر آئے گا تو کب آئے گا اور کس صورت میں آئے گا۔

مجھے اس بارے میں کچھ علم نہیں۔

وَ اُبَلِّغُکُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِہٖ

’’اور میں تو تمہیں پہنچا رہا ہوں وہ پیغام جو اُس نے مجھے دے کر بھیجا ہے‘‘

میری ذمہ داری تو صرف اللہ کا پیغام تم لوگوں تک واضح طور پر پہنچا دینے اور اس کے مطابق تمہیں خبردار کردینے کی حد تک ہے۔

وَ لٰکِنِّیۡۤ اَرٰىکُمۡ قَوۡمًا تَجۡہَلُوۡنَ ﴿۲۳﴾

’’لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ بالکل جہالت کی روش اختیار کر رہے ہو۔‘‘

یہ تمہاری جہالت کی انتہا ہے کہ میری یہ باتیں سننے اور ان پر غور کرنے کے بجائے بغیر سوچے سمجھے تم ان کی نفی کرنے پر تل گئے ہو۔

24-25

جسے رحمت سمجھ رہے تھے وہی زحمت ثابت ہوئی

ویڈیو

فَلَمَّا رَاَوۡہُ عَارِضًا مُّسۡتَقۡبِلَ اَوۡدِیَتِہِمۡ ۙ قَالُوۡا ہٰذَا عَارِضٌ مُّمۡطِرُنَا ؕ بَلۡ ہُوَ مَا اسۡتَعۡجَلۡتُمۡ بِہٖ ؕ رِیۡحٌ فِیۡہَا عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿ۙ۲۴﴾ تُدَمِّرُ کُلَّ شَیۡءٍۭ بِاَمۡرِ رَبِّہَا فَاَصۡبَحُوۡا لَا یُرٰۤی اِلَّا مَسٰکِنُہُمۡ ؕ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡقَوۡمَ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۲۵﴾

آیت 24

فَلَمَّا رَاَوۡہُ عَارِضًا مُّسۡتَقۡبِلَ اَوۡدِیَتِہِمۡ ۙ

’’پھر جب انہوں نے اس (عذاب ) کو دیکھا بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف بڑھتے ہوئے‘‘

قَالُوۡا ہٰذَا عَارِضٌ مُّمۡطِرُنَا ؕ

’’تو انہوں نے کہا: یہ تو بادل ہے جو ہم کو سیراب کرنے والا ہے۔‘‘

وہ اسے دیکھ کر خوشیاں منانے لگے کہ ابھی بارش ہو گی اور جل تھل ایک ہو جائیں گے۔

بَلۡ ہُوَ مَا اسۡتَعۡجَلۡتُمۡ بِہٖ ؕ

’’نہیں! بلکہ یہ تو وہ شے ہے جس کے بارے میں تم نے جلدی مچارکھی تھی!‘‘

تم لوگ خود ہی کہتے تھے نا کہ لے آئو ہم پر عذاب اگر لا سکتے ہو‘ تو دیکھ لو:

رِیۡحٌ فِیۡہَا عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿ۙ۲۴﴾

’’یہ وہ جھکڑ ہے جس میں بہت دردناک عذاب ہے۔‘‘

اس تیز ہوا کے جھکڑ کی کیفیت سورۃ الحاقہ میں اس طرح بیان ہوئی ہے: {سَخَّرَہَا عَلَیۡہِمۡ سَبۡعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍ ۙ حُسُوۡمًا ۙ فَتَرَی الۡقَوۡمَ فِیۡہَا صَرۡعٰی ۙ کَاَنَّہُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِیَۃٍ ۚ﴿۷﴾} ’’اللہ نے مسلط کیے رکھا اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن ‘نیست و نابود کر دینے کے لیے‘پس تم دیکھتے اس قوم کو اس میں پچھڑے ہوئے جیسے وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے ہوں۔‘‘

آیت 25

تُدَمِّرُ کُلَّ شَیۡءٍۭ بِاَمۡرِ رَبِّہَا

’’تباہ و برباد کرتا ہے ہر شے کو اپنے رب کے حکم سے‘‘

دمر کے مادہ میں کسی درخت کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ چونکہ وہ بڑے قد آور لوگ تھے اس لیے ان کے لیے یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور اسی لیے سورۃ الحاقہ کی مذکورہ بالا آیت میں انہیں زمین پر پڑے ہوئے کھجور کے تنوں سے تشبیہہ دی گئی ہے۔

فَاَصۡبَحُوۡا لَا یُرٰۤی اِلَّا مَسٰکِنُہُمۡ ؕ

’’پھر وہ ایسے ہو گئے کہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا سوائے ان کے مسکنوں کے۔‘‘

ان کے عالی شان گھر اور ان کی بڑی بڑی حویلیاں تو نظر آ رہی تھی مگر ان کے مکینوں کی کچھ خبر نہیں تھی۔

کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡقَوۡمَ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۲۵﴾

’’اسی طرح ہم بدلہ دیا کرتے ہیں مجرموں کی قوم کو۔‘‘

26

ہلاک ہونے والی قومیں زیادہ طاقت ور تھیں

ویڈیو

وَ لَقَدۡ مَکَّنّٰہُمۡ فِیۡمَاۤ اِنۡ مَّکَّنّٰکُمۡ فِیۡہِ وَ جَعَلۡنَا لَہُمۡ سَمۡعًا وَّ اَبۡصَارًا وَّ اَفۡـِٕدَۃً ۫ۖ فَمَاۤ اَغۡنٰی عَنۡہُمۡ سَمۡعُہُمۡ وَ لَاۤ اَبۡصَارُہُمۡ وَ لَاۤ اَفۡـِٕدَتُہُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِذۡ کَانُوۡا یَجۡحَدُوۡنَ ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ حَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿٪۲۶﴾

آیت 26

وَ لَقَدۡ مَکَّنّٰہُمۡ فِیۡمَاۤ اِنۡ مَّکَّنّٰکُمۡ فِیۡہِ

’’اور ہم نے جو تمکن انہیں دیا تھا ایسا تمکن ہم نے تمہیں نہیں دیا ہے‘‘

قریش مکہ کو مخاطب کر کے بتایا جا رہا ہے کہ جو طاقت اور شان و شوکت قومِ عاد کو عطا ہوئی تھی اور جو وسائل انہیں میسرتھے تم لوگوں کے پاس تو اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ قبل ازیں سورۃ الاعراف کی آیت ۶۹ کے ضمن میں بھی ذکر ہو چکا ہے کہ تہذیب و تمدن کے اعتبار سے قومِ عاد اپنے زمانے کی بہت ترقی یافتہ قوم تھی۔ شداد اسی قوم کا بادشاہ تھاجس نے خصوصی طور پر ایک شہر بسا کر اسے جنتِ ارضی کا نام دیاتھا۔ قوم عاد کا علاقہ اب لق ودق صحرا کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس صحرا میں شداد کے مذکورہ شہر کی باقیات زیر زمین سیٹلائیٹ کے ذریعے سے دریافت ہوچکی ہیں۔ حتیٰ کہ شہر کی فصیل پر بنے ہوئے ۳۰ کے قریب ستون بھی گن لیے گئے ہیں۔ اسی طرح وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ تمام نشانیاں ایک ایک کر کے دنیا کے سامنے آتی چلی جائیں گی جن کا ذکر قرآن میں آیاہے۔

وَ جَعَلۡنَا لَہُمۡ سَمۡعًا وَّ اَبۡصَارًا وَّ اَفۡـِٕدَۃً ۫ۖ

’’اور ہم نے انہیں کان‘ آنکھیں اور دل (یاعقلیں) عطا کیے تھے۔‘‘

فَمَاۤ اَغۡنٰی عَنۡہُمۡ سَمۡعُہُمۡ وَ لَاۤ اَبۡصَارُہُمۡ وَ لَاۤ اَفۡـِٕدَتُہُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ

’’تو ان کے کچھ بھی کام نہ آئے ان کے کان‘ نہ ان کی آنکھیں اور نہ ہی ان کے دل( عقلیں)‘‘

اِذۡ کَانُوۡا یَجۡحَدُوۡنَ ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ حَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿٪۲۶﴾

’’جبکہ وہ انکار ہی کرتے رہے اللہ کی آیات کا اور ان کو گھیر لیا اسی چیز نے جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔‘‘

27-28

خود ساختہ معبودوں نے تباہی سے کیوں نہ بچایا؟

ویڈیو

وَ لَقَدۡ اَہۡلَکۡنَا مَا حَوۡلَکُمۡ مِّنَ الۡقُرٰی وَ صَرَّفۡنَا الۡاٰیٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۲۷﴾ فَلَوۡ لَا نَصَرَہُمُ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ قُرۡبَانًا اٰلِـہَۃً ؕ بَلۡ ضَلُّوۡا عَنۡہُمۡ ۚ وَ ذٰلِکَ اِفۡکُہُمۡ وَ مَا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۲۸﴾

آیت 27

وَ لَقَدۡ اَہۡلَکۡنَا مَا حَوۡلَکُمۡ مِّنَ الۡقُرٰی

’’اور ہم نے ہلاک کیا ہے بہت سی ایسی بستیوں کو جو تمہارے اردگرد آباد تھیں‘‘

وہ تمام اقوام جن کے انجام کا ذکر قرآن میں تکرار کے ساتھ آیا ہے جزیرہ نمائے عرب کے اردگرد کے علاقوں میں آباد تھیں۔ احقاف یعنی قومِ عاد کا علاقہ مکہ سے جنوب مشرق میں واقع تھا۔ قومِ ثمود کا علاقہ (مدائن صالح) مکہ سے شمال میں تھا اور شمال ہی کے رخ میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کا علاقہ مدین تھا۔ جبکہ بحیرۂ مردار (Dead Sea) کے ساحل پر حضرت لوط علیہ السلام کی قوم آباد تھی۔ اس قوم کے شہر وں کے کھنڈرات بھی بحیرۂ مردار کے اندر سے دریافت ہو چکے ہیں۔

وَ صَرَّفۡنَا الۡاٰیٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۲۷﴾

’’اور ہم نے پھیر پھیر کر ان کو اپنی آیات سنائیں تا کہ وہ رجوع کریں۔‘‘

آیت 28

فَلَوۡ لَا نَصَرَہُمُ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ قُرۡبَانًا اٰلِـہَۃً ؕ

’’تو کیوں نہ مدد کی ان کی اُن ہستیوں نے جن کو انہوں نے اللہ کے سوا معبود بنا رکھا تھا تقرب (الی اللہ) کا ذریعہ سمجھتے ہوئے!‘‘

ان کا خیال تھا کہ ان کے معبود انہیں اللہ کے قریب کرنے کا ذریعہ بنیں گے اور ہر مشکل میں ان کی مدد کریں گے۔

بَلۡ ضَلُّوۡا عَنۡہُمۡ ۚ

’’بلکہ وہ سب تو ان سے گم ہو گئے‘‘

جب ان پر عذاب آیا تو ان کے معبودوں میں سے کوئی بھی ان کے کام نہ آیا اور انہیں یوں لگا جیسے کہ حقیقت میں ان کے معبودوں کا کوئی وجود تھا ہی نہیں‘ بس بقول میر دردؔ: ؏

’’خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا‘ جو سنا افسانہ تھا!‘‘

وَ ذٰلِکَ اِفۡکُہُمۡ وَ مَا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۲۸﴾

’’اور یہ تھا ان کا جھوٹ اور جو کچھ وہ افترا کر رہے تھے۔‘‘

آئندہ آیات میں انِ جنا ت کا ذکر ہو ا ہے جو رسول اللہﷺ سے قرآن سن کر ایمان لے آئے اور پھر اپنی قوم کی طرف مبلغ بن کر لوٹے۔ یہ واقعہ حضورﷺ کے طائف سے واپسی کے سفر کے دوران پیش آیا۔ وہ ایام حضورﷺ کے لیے یقینا بہت سخت تھے۔ ایک طرف آپؐ اہل طائف کے رویے کی وجہ سے دل گرفتہ تھے تو دوسری طرف مکہ واپس جانے کے لیے بھی حالات سازگار نہیں تھے۔ اس صورت حال میں آپؐ نے چند دن وادیٔ نخلہ میں قیام فرمایا۔ وہاں ایک دن آپؐ فجر کی نماز ادا فرما رہے تھے کہِ جنوں کی ایک جماعت کا ادھر سے گزر ہوا۔ اس نماز میں حضورﷺ امام تھے اور آپؐ کے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مقتدی تھے۔ وادی کی کھلی فضا ‘ فجر کا وقت اور اللہ کے رسولﷺ کی زبانِ اطہر سے ’’قرآن الفجر ‘‘ (بنی اسرائیل: ۷۸) کی طویل قراء ت! قریب سے گزرتے ہوئے جنات ٹھٹک کر رہ گئے۔ آپؐ قرآن پڑھتے رہے اور وہ سنتے رہے۔ قراء ت ختم ہوئی تو ان کی دنیا بدل چکی تھی ‘وہ سب کے سب ایمان لے آئے‘ بلکہ واپس جا کر انہوں نے اپنی قوم میں فوراً تبلیغ بھی شروع کر دی۔ جنات کا یہ واقعہ ہمارے لیے اس لحاظ سے لائق عبرت ہے کہ جنات نے ایک ہی مرتبہ قرآن سنا اور وہ نہ صرف ایمان لے آئے بلکہ قرآن کے داعی اور مبلغ بھی بن گئے‘ لیکن ہم بار بار قرآن سنتے ہیں اور ہر بار گویا ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتے ہیں۔ نہ تو قرآن ہمارے دلوں میں اترتا ہے اور نہ ہی ہماری زندگیوں میں اس سے کوئی تبدیلی آتی ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے