تحریر

الأحقاف

آیات ۱۷ تا ۲۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

17-19

برا کردار اور اس کا برا انجام

ویڈیو

وَ الَّذِیۡ قَالَ لِوَالِدَیۡہِ اُفٍّ لَّکُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیۡۤ اَنۡ اُخۡرَجَ وَ قَدۡ خَلَتِ الۡقُرُوۡنُ مِنۡ قَبۡلِیۡ ۚ وَ ہُمَا یَسۡتَغِیۡثٰنِ اللّٰہَ وَیۡلَکَ اٰمِنۡ ٭ۖ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ ۚۖ فَیَقُوۡلُ مَا ہٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۱۷﴾ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ حَقَّ عَلَیۡہِمُ الۡقَوۡلُ فِیۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا خٰسِرِیۡنَ ﴿۱۸﴾ وَ لِکُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوۡا ۚ وَ لِیُوَفِّیَہُمۡ اَعۡمَالَہُمۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۱۹﴾

آیت 17

وَ الَّذِیۡ قَالَ لِوَالِدَیۡہِ اُفٍّ لَّکُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیۡۤ اَنۡ اُخۡرَجَ

’’اور ایک وہ شخص ہے جو اپنے والدین سے کہتا ہے کہ میں بیزار ہوں آپ دونوں سے‘کیا آپ مجھے اس سے ڈراتے ہیں کہ میں نکال کھڑا کیا جائوں گا (زندہ کر کے قبر سے)؟‘‘

والدین مسلمان ہیں‘ نیک سیرت ہیں ‘لیکن بیٹا آوارہ اور ذہنی طور پر گمراہ ہو چکا ہے۔ وہ نہ اللہ کو مانتا ہے‘ نہ آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ وہ اپنے والدین سے توتکار کرتاہے کہ یہ آپ مجھے کیا ہر وقت حساب کتا ب کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں! تف ہے آپ لوگوں پر! میں آپ کے ان ڈھکوسلوں کی خود ساختہ تفصیلات سن سن کر تنگ آ گیا ہوں! بس آپ لوگ مجھے مزید سمجھانا چھوڑ دیں!میں کسی آخرت واخرت کو نہیں مانتا!

وَ قَدۡ خَلَتِ الۡقُرُوۡنُ مِنۡ قَبۡلِیۡ ۚ

’’حالانکہ مجھ سے پہلے کتنی ہی نسلیں گزر چکی ہیں!‘‘

اب تک نسل در نسل کروڑوں‘ اربوں لوگ اس دنیا میں آئے اور چلے گئے۔ اُن میں سے تو آج تک کوئی اُٹھ کر نہ آیا۔ ایک وقت میں ان سب کا زندہ ہونا اور پھر ایک ایک کا حساب کتاب ہونا بالکل بعید از قیاس ہے۔ میں ایسی دقیانوسی باتوں کو ماننے والا نہیں ہوں۔

وَ ہُمَا یَسۡتَغِیۡثٰنِ اللّٰہَ وَیۡلَکَ اٰمِنۡ ٭ۖ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ ۚۖ

’’اور وہ دونوں اللہ کی دہائی دے کر کہتے ہیں: بربادی ہو تیری‘ ایمان لے آ!یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘

فَیَقُوۡلُ مَا ہٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۱۷﴾

’’لیکن وہ کہتا ہے: یہ کچھ نہیں مگر پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔‘‘

یہ دوبارہ زندہ ہونے اور آخرت کی باتیں بس فرضی کہانیاں ہیں جو پچھلے زمانے سے سینہ بہ سینہ نقل ہوتی چلی آ رہی ہیں۔

آیت 18

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ حَقَّ عَلَیۡہِمُ الۡقَوۡلُ

’’یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی بات صادق آئی‘‘

یعنی ایسے لوگ اللہ کے کلمۂ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں۔

فِیۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ ؕ

’’(یہ بھی شامل کر دیے جائیں گے ) ان قوموں میں جو ان سے پہلے گزر چکی ہیںِ جنوں اور انسانوں میں سے۔‘‘

اِنَّہُمۡ کَانُوۡا خٰسِرِیۡنَ ﴿۱۸﴾

’’یقینا یہی لوگ ہیں خسارے والے۔‘‘

آیت 19

وَ لِکُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوۡا ۚ

’’اور ہر ایک کے لیے درجے (اور مقامات) ہوں گے ان کے اعمال کے اعتبار سے۔‘‘

وَ لِیُوَفِّیَہُمۡ اَعۡمَالَہُمۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۱۹﴾

’’اور تاکہ وہ پورا پورا دے انہیں ان کے اعمال کا بدلہ اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہو گا۔‘‘

20

کافروں کو نیکی کا بدلے دنیا میں ہی مل جاتا ہے

ویڈیو

وَ یَوۡمَ یُعۡرَضُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا عَلَی النَّارِ ؕ اَذۡہَبۡتُمۡ طَیِّبٰتِکُمۡ فِیۡ حَیَاتِکُمُ الدُّنۡیَا وَ اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِہَا ۚ فَالۡیَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡہُوۡنِ بِمَا کُنۡتُمۡ تَسۡتَکۡبِرُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَفۡسُقُوۡنَ ﴿٪۲۰﴾

آیت 20

وَ یَوۡمَ یُعۡرَضُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا عَلَی النَّارِ ؕ

’’اور جس دن یہ کافر پیش کیے جائیں گے آگ پر۔‘‘

اَذۡہَبۡتُمۡ طَیِّبٰتِکُمۡ فِیۡ حَیَاتِکُمُ الدُّنۡیَا وَ اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِہَا ۚ

’’(اُس وقت ان سے کہا جائے گا:) تم اپنے حصے کی اچھی چیزیں اپنی دنیا کی زندگی میں لے چکے اور ان سے تم نے خوب فائدہ اٹھا لیا۔‘‘

تم دنیا میں خوب عیش کر چکے ہو‘ حلال و حرام کی تمیز سے بالاتر ہو کر تم نے وہاں بہت مزے اڑائے ہیں۔

فَالۡیَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡہُوۡنِ بِمَا کُنۡتُمۡ تَسۡتَکۡبِرُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَفۡسُقُوۡنَ ﴿٪۲۰﴾

’’تو آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا بسبب اس تکبر کے جو تم زمین میں ناحق کرتے رہے ہو اور بسبب ان نافرمانیوں کے جو تم کرتے رہے ہو۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے