وَ الَّذِیۡ قَالَ لِوَالِدَیۡہِ اُفٍّ لَّکُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیۡۤ اَنۡ اُخۡرَجَ
’’اور ایک وہ شخص ہے جو اپنے والدین سے کہتا ہے کہ میں بیزار ہوں آپ دونوں سے‘کیا آپ مجھے اس سے ڈراتے ہیں کہ میں نکال کھڑا کیا جائوں گا (زندہ کر کے قبر سے)؟‘‘
والدین مسلمان ہیں‘ نیک سیرت ہیں ‘لیکن بیٹا آوارہ اور ذہنی طور پر گمراہ ہو چکا ہے۔ وہ نہ اللہ کو مانتا ہے‘ نہ آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ وہ اپنے والدین سے توتکار کرتاہے کہ یہ آپ مجھے کیا ہر وقت حساب کتا ب کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں! تف ہے آپ لوگوں پر! میں آپ کے ان ڈھکوسلوں کی خود ساختہ تفصیلات سن سن کر تنگ آ گیا ہوں! بس آپ لوگ مجھے مزید سمجھانا چھوڑ دیں!میں کسی آخرت واخرت کو نہیں مانتا!
وَ قَدۡ خَلَتِ الۡقُرُوۡنُ مِنۡ قَبۡلِیۡ ۚ
’’حالانکہ مجھ سے پہلے کتنی ہی نسلیں گزر چکی ہیں!‘‘
اب تک نسل در نسل کروڑوں‘ اربوں لوگ اس دنیا میں آئے اور چلے گئے۔ اُن میں سے تو آج تک کوئی اُٹھ کر نہ آیا۔ ایک وقت میں ان سب کا زندہ ہونا اور پھر ایک ایک کا حساب کتاب ہونا بالکل بعید از قیاس ہے۔ میں ایسی دقیانوسی باتوں کو ماننے والا نہیں ہوں۔
وَ ہُمَا یَسۡتَغِیۡثٰنِ اللّٰہَ وَیۡلَکَ اٰمِنۡ ٭ۖ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ ۚۖ
’’اور وہ دونوں اللہ کی دہائی دے کر کہتے ہیں: بربادی ہو تیری‘ ایمان لے آ!یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘
فَیَقُوۡلُ مَا ہٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۱۷﴾
’’لیکن وہ کہتا ہے: یہ کچھ نہیں مگر پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔‘‘
یہ دوبارہ زندہ ہونے اور آخرت کی باتیں بس فرضی کہانیاں ہیں جو پچھلے زمانے سے سینہ بہ سینہ نقل ہوتی چلی آ رہی ہیں۔