تحریر

الأحقاف

آیات ۲۹ تا ۳۲

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

29-30

قرآن کی عظمت . . جنات کی زبانی

ویڈیو

وَ اِذۡ صَرَفۡنَاۤ اِلَیۡکَ نَفَرًا مِّنَ الۡجِنِّ یَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ ۚ فَلَمَّا حَضَرُوۡہُ قَالُوۡۤا اَنۡصِتُوۡا ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَلَّوۡا اِلٰی قَوۡمِہِمۡ مُّنۡذِرِیۡنَ ﴿۲۹﴾ قَالُوۡا یٰقَوۡمَنَاۤ اِنَّا سَمِعۡنَا کِتٰبًا اُنۡزِلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مُوۡسٰی مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ یَہۡدِیۡۤ اِلَی الۡحَقِّ وَ اِلٰی طَرِیۡقٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۳۰﴾

آیت 29

وَ اِذۡ صَرَفۡنَاۤ اِلَیۡکَ نَفَرًا مِّنَ الۡجِنِّ یَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ ۚ

’’اور (اے نبیﷺ!) جب ہم نے آپ کی طرف متوجہ کر دیا جنات کی ایک جماعت کو کہ وہ قرآن سننے لگے۔‘‘

فَلَمَّا حَضَرُوۡہُ قَالُوۡۤا اَنۡصِتُوۡا ۚ

’’تو جب وہ وہاں پہنچے تو انہوں نے کہا: چپ ہو جاؤ!‘‘

تلاوتِ قرآن کی سماعت کے بارے میں خود قرآن کا بھی یہی حکم ہے: {وَ اِذَا قُرِیَٔ الۡقُرۡاٰنُ فَاسۡتَمِعُوۡا لَہٗ وَ اَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۲۰۴﴾} (الاعراف) ’’اور جب قرآن پڑھا جار ہا ہو تو اسے پوری توجہ کے ساتھ سنا کرو اور خاموش رہا کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے‘‘۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ طبعاً نیک اور شریف قسم کےِ جنات تھے۔ اگلی آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے اہل کتاب جن تھے۔ چنانچہ وہ فوراً ہی اللہ کے کلام کو پہچان گئے اور اس کو پورے ادب و احترم سے سننے لگے۔

فَلَمَّا قُضِیَ وَلَّوۡا اِلٰی قَوۡمِہِمۡ مُّنۡذِرِیۡنَ ﴿۲۹﴾

’’پھر جب (قراء ت) ختم ہوئی تو وہ پلٹے اپنی قوم کی طرف خبردار کرنے والے بن کر۔‘‘

آیت 30

قَالُوۡا یٰقَوۡمَنَاۤ اِنَّا سَمِعۡنَا کِتٰبًا اُنۡزِلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مُوۡسٰی

’’انہوں نے کہا: اے ہماری قوم کے لوگو! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰؑ کے بعد نازل ہوئی ہے‘‘

گویا وہِ جنات حضرت موسیٰ علیہ السلام کے امتی تھے۔ یہاں پر جنات کے اس قول کے حوالے سے یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ تورات کے بعد جو ’’کتاب ‘‘ نازل ہوئی وہ قرآن ہے۔ اگرچہ ہم عرفِ عام میں انجیل کو بھی کتاب کہہ دیتے ہیں لیکن وہ اصطلاحی مفہوم میں باقاعدہ ’’کتاب‘‘ نہیں تھی۔ اس لیے کہ اس میں شریعت نہیں تھی ۔ دراصل لفظ ’’کتاب‘‘ میں لغوی اعتبار سے شریعت (قوانین‘ احکام‘ فرائض وغیرہ) کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں احکام کی فرضیت کا ذکر اکثر ’’کتب‘‘ کے مشتقات کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ سورۃ النساء کی آیت ۱۰۳ میں نماز کے اوقات کے حوالے سے ’’کِتٰـبًا مَّوْقُوْتًا‘‘ کے الفاظ آئے ہیں‘ پھر سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۳۵ میں ’’کتاب‘‘ کا لفظ ’’عدت ‘‘کے مترادف کے طور پر آیا ہے : {حَتّٰی یَبۡلُغَ الۡکِتٰبُ اَجَلَہٗ ؕ } ۔ اور ’’کُتِبَ عَلَیْکُمْ‘‘ کے الفاظ تو قرآن میں بہت تکرار سے آئے ہیں۔

ظاہر ہے مذکورہ جنات اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اُمتی تھے تو وہ لازماً انجیل کو بھی جانتے ہوں گے۔ لیکن انہوں نے اس کا ذکر کرنے کے بجائے صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حوالہ دیا کہ آپؑ کے بعد اب ایک کتاب نازل ہوئی ہے جس کی تلاوت ہم سن کرآئے ہیں۔اس سے یہ نکتہ واضح ہو جاتا ہے کہ اپنے اصل مفہوم کے اعتبار سے لفظ ’’کتاب‘‘ کا اطلاق تورات پر ہوتا ہے یا پھر قرآن پر ‘اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ شریعتِ موسویؑ کے بعد جو شریعت آئی ہے وہ شریعتِ محمدیؐ ہے۔

مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ یَہۡدِیۡۤ اِلَی الۡحَقِّ وَ اِلٰی طَرِیۡقٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۳۰﴾

’’ تصدیق کرتی ہوئی اُس کی جواس کے سامنے موجود ہے (یعنی تورات)‘ راہنمائی کرتی ہے حق کی طرف اور ایک سیدھے راستے کی طرف۔‘‘

’’طریق مستقیم‘‘ کا بھی وہی مفہوم ہے جو ’’صراطِ مستقیم‘‘ کا ہے۔ طریق اور صراط دونوں کے لغوی معنی راستے کے ہیں۔ اسی طرح لفظ سبیل بھی راستے کے معنی دیتا ہے اور ’’سواء السبیل ‘‘کے معنی بھی سیدھے راستے کے ہیں۔

31-32

حق کی دعوت . . . جنات کی زبانی

ویڈیو

یٰقَوۡمَنَاۤ اَجِیۡبُوۡا دَاعِیَ اللّٰہِ وَ اٰمِنُوۡا بِہٖ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِکُمۡ وَ یُجِرۡکُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۳۱﴾ وَ مَنۡ لَّا یُجِبۡ دَاعِیَ اللّٰہِ فَلَیۡسَ بِمُعۡجِزٍ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَیۡسَ لَہٗ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءُ ؕ اُولٰٓئِکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۳۲﴾

آیت 31

یٰقَوۡمَنَاۤ اَجِیۡبُوۡا دَاعِیَ اللّٰہِ

’’اے ہماری قوم کے لوگو !اللہ کی طرف پکارنے والے کی پکار پر لبیک کہو‘‘

وَ اٰمِنُوۡا بِہٖ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِکُمۡ وَ یُجِرۡکُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۳۱﴾

’’اور اس پر ایمان لے آؤ تا کہ وہ (اللہ) تمہارے گناہوں کو بخش دے اور تمہیں ایک درد ناک عذاب سے بچا لے۔‘‘

آیت 32

وَ مَنۡ لَّا یُجِبۡ دَاعِیَ اللّٰہِ فَلَیۡسَ بِمُعۡجِزٍ فِی الۡاَرۡضِ

’’اور جو کوئی لبیک نہیں کہتا اللہ کی طرف پکارنے والے کی پکار پر تو وہ اللہ کو عاجز کرنے والا نہیں ہے زمین میں‘‘

وَ لَیۡسَ لَہٗ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءُ ؕ اُولٰٓئِکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۳۲﴾

’’اور نہیں ہوں گے اُس کے لیے اللہ کے مقابلے میں دوسرے مددگار۔ یہی لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔‘‘

یہاں پر ’’دَاعِیَ اللّٰہِ‘‘ کے حوالے سے یہ نکتہ ذہن میں مستحضر رکھنے کی ضرورت ہے کہ جب تک دنیا میں نبوت کا سلسلہ جاری تھا انبیاء ورسل علیہم السلام ہی ’’اللہ کے داعی ‘‘ تھے ۔ لیکن اب حضورﷺ کے بعد آپؐ کے اُمتیوں کو ’’دَاعِیَ اللّٰہِ‘‘ کی حیثیت سے لوگوں کو قرآن کی طرف بلانا ہے‘ انہیں اقامت دین کا بھولا ہوا سبق یاد دلانا ہے اور اس جدوجہد میں اپنا تن من دھن کھپانے کے لیے انہیں اس طرح آمادہ کرنا ہے کہ ہر بندۂ مؤمن کی زندگی سورۃ الانعام کی اس آیت کی تصویر بن جائے: {اِنَّ صَلَاتِیۡ وَ نُسُکِیۡ وَ مَحۡیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۱۶۲﴾} ’’آپؐ کہیے :میری نماز‘ میری قربانی‘ میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔‘‘

اس کام کے لیے اب چونکہ کوئی نبی نہیں آ ئے گا‘ اس لیے ’’دعوت الی اللہ ‘‘کا یہ مقدس فریضہ اس امت کو سونپ دیا گیا ہے: {وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنٰکُمۡ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمۡ شَہِیۡدًا ؕ } ( البقرۃ:۱۴۳) ’’اور (اے مسلمانو!) اسی طرح ہم نے تمہیں ایک اُمتِ وسط بنایا ہے تا کہ تم لوگوں پر گواہ ہوجاؤ اور رسول ؐ تم پر گواہ ہو‘‘۔ سورۂ آلِ عمران میں اس ذمہ داری کی مزید وضاحت اس طرح فرمائی گئی: {کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ؕ } (آیت ۱۱۰) ’’ تم وہ بہترین اُمت ہو جسے لوگوں کے لیے برپا کیا گیا ہے ‘تم نیکی کا حکم کرتے ہو اور بدی سے روکتے ہو اور تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے