وَ وَصَّیۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ اِحۡسٰنًا ؕ
’’اور ہم نے تاکید کی انسان کو اُس کے والدین کے بارے میں حسن سلوک کی۔‘‘
والدین کے ساتھ حسن سلوک کے احکام قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آئے ہیں۔ سورۂ بنی اسرائیل کے اس حکم میں اس حوالے سے خصوصی تاکید پائی جاتی ہے:
دوسرے مقام کی آیتوَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ اِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوۡ کِلٰہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنۡہَرۡہُمَا وَ قُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا ﴿۲۳﴾
’’اور فیصلہ کر دیا ہے آپؐ کے رب نے کہ تم نہیں عبادت کرو گے کسی کی سوائے اُس کے اور والدین کے ساتھ احسان(کروگے)۔ اگر پہنچ جائیں تمہارے پاس بڑھاپے کو ان میں سے کوئی ایک یا دونوں‘تو مت کہو ان کو اُف بھی اور مت جھڑکو ان کو‘ اور بات کرو ان سے نرمی کے ساتھ۔‘‘
اولاد کے لیے اگرچہ والد اور والدہ دونوں قابل احترام ہیں اور دونوں ہی ان کے حسن سلوک کے مستحق ہیں لیکن بچے کی پیدائش اور پرورش میں ماں کی مشقت اور ذمہ داری چونکہ زیادہ ہے اس لیے اولاد کی طرف سے خدمت اور حسن سلوک کے حوالے سے اس کا حق بھی فائق ہے۔ چنانچہ سورۂ لقمان میں ماں کے خصوصی حق کا ذکر یوں فرمایا گیا: {وَ وَصَّیۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ ۚ حَمَلَتۡہُ اُمُّہٗ وَہۡنًا عَلٰی وَہۡنٍ وَّ فِصٰلُہٗ فِیۡ عَامَیۡنِ } ’’اور ہم نے وصیت کی انسان کو اس کے والدین کے بارے میں‘اس کو اٹھائے رکھا اس کی ماں نے (اپنے پیٹ میں) کمزوری پر کمزوری جھیل کر‘پھر اس کا دودھ چھڑانا ہوا دو سال میں۔‘‘
والدہ کے خصوصی حق کی وضاحت ایک حدیث میں بھی ملتی ہے۔ ایک صحابیؓ نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال کیا :یا رسول اللہ! میرے حسن سلوک کا سب سے بڑھ کر مستحق کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’تمہاری والدہ!‘‘ انہوںؓ نے پھر پوچھا کہ اس کے بعد کون؟ آپؐ نے فرمایا :’’پھر تمہاری والدہ!‘‘ یہ سوال انہوں نے چار مرتبہ دہرایا ۔ جواب میں آپؐ نے تین مرتبہ فرمایا: تمہاری والدہ۔ جبکہ چوتھی مرتبہ آپؐ نے فرمایا:’’پھرتمہارا والد!‘‘ ۱ البتہ اس حوالے سے یہ نکتہ مدنظر رہنا چاہیے کہ والدہ کے حق کی یہ فوقیت اخلاقی اعتبار سے ہے جبکہ قانونی طور پر والد کا حق ہی فائق ہے۔ مثلاً اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ جنت ماں کے قدموں میں ہے: حدیث((اَلْجَنَّۃ تَحْتَ اَقْدَامِ الْاُمَّھَاتِ))۲ لیکن اگر میاں بیوی میں علیحدگی ہو جائے تو اسلامی قانون اولاد پر والد ہی کا حق تسلیم کرتا ہے۔
حَمَلَتۡہُ اُمُّہٗ کُرۡہًا وَّ وَضَعَتۡہُ کُرۡہًا ؕ
’’اس کی ماں نے اسے اٹھائے رکھا (پیٹ میں) تکلیف جھیل کر اور اسے جنا تکلیف کے ساتھ۔‘‘
وَ حَمۡلُہٗ وَ فِصٰلُہٗ ثَلٰثُوۡنَ شَہۡرًا ؕ
’’اور اس کا یہ حمل اور دودھ چھڑانا ہے (لگ بھگ) تیس مہینے میں۔‘‘
ان دو جملوں میں ان تمام اضافی تکالیف اور مشقتوں کی طرف اشارہ کر دیا گیاہے جو والد کے مقابلے میں صرف والدہ کو برداشت کرنا پڑتی ہیں۔بچے کی پیدائش اور پرورش میں والد بالواسطہ طور پر حصہ لیتا ہے جبکہ والدہ اس پورے عمل میں براہِ راست کردار ادا کرتی ہے۔ دورانِ حمل کی گونا گوں پریشانیوں‘ وضع حمل کی جان لیوا تکلیفوں اور رضاعت و پرورش کی صبر آزما مشقتوں کو وہ تن تنہا جھیلتی ہے۔
حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَ بَلَغَ اَرۡبَعِیۡنَ سَنَۃً ۙ
’’یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری قوت کو پہنچتا ہے اور چالیس برس کا ہو جاتا ہے‘‘
بچے کی جسمانی بلوغت تو سولہ سترہ سال کی عمر میں ہو جاتی ہے‘ لیکن یہاں ذہنی اور نفسیاتی بلوغت اور پختگی کا ذکر ہوا ہے اور اس کی کم از کم حد چالیس سال بتائی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کو چالیس برس کی عمر میں منصبِ نبوت پر فائز کیا جاتا رہا ہے ‘ جیسا کہ خود حضورﷺ کو بھی نبوت چالیس بر س کی عمر میں ملی۔ البتہ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق کچھ استثناء کی مثالیں بھی ہیں۔ مثلاً حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بچپن میں ہی حکمت عطا کر دی گئی تھی‘ جیسا کہ سورۂ مریم کی اس آیت سے واضح ہے: {وَ اٰتَیۡنٰہُ الۡحُکۡمَ صَبِیًّا ﴿ۙ۱۲﴾} ’’اور ہم نے اسے عطا کردی حکمت و دانائی بچپن میں ہی‘‘۔ اور ایسا ہی معاملہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کا بھی تھا۔ لیکن عام قاعدہ کے تحت ذہنی و نفسیاتی بلوغت (maturity) کی حد چالیس سال ہی ہے۔ اور اس حوالے سے آیت زیر مطالعہ میں ایک بچے کی مثال دی گئی ہے کہ جب وہ اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل طے کر کے چالیس برس کی عمر میں ذہنی پختگی کو پہنچ جاتا ہے تو:
قَالَ رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ
’’وہ کہتا ہے: اے میرے پروردگار !مجھے توفیق دے کہ میں شکر کرسکوں تیرے انعامات کا جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائے۔‘‘
وَ اَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰہُ وَ اَصۡلِحۡ لِیۡ فِیۡ ذُرِّیَّتِیۡ ۚؕ
’’اور یہ کہ میں ایسے ا عمال کروں جنہیں تو پسند کرے اور میرے لیے میری اولاد میں بھی اصلاح فرما دے۔‘‘
اس دعا کا اسلوب خصوصی طور پر لائق توجہ ہے۔ دعا صرف یہ نہیں کہ میری اولاد کی اصلاح فرما دے اور انہیں نیک بنا دے‘ بلکہ الفاظ کے مفہوم کی اصل روح یہ ہے کہ میری نسل میں میرے لیے اصلاح فرما دے‘ ان میں میرے لیے بہتری پیدا فرما دے۔ اس لیے کہ بچے اگر صالح اور نیک ہوں گے تو اپنے والدین کے لیے مغفرت کی دعا کریں گے۔ اگر والدین نے اولاد کی اچھی تربیت کی ہوگی تو ان کے نیک اعمال میں سے والدین کو بھی صدقہ جاریہ کے طور پر حصہ ملتا رہے گا۔ یوں اولاد کی بہتری اور اصلاح گویا والدین کے لیے بھی فائدہ مند ہو گی۔ بالکل یہی مفہوم اس دعا کا بھی ہے: {وَ ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الَّیۡلَ لِبَاسًا وَّ النَّوۡمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّہَارَ نُشُوۡرًا ﴿۴۷﴾} ( الفرقان) ’’اور وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے رات کو لباس ارو نیند کو سکونِ موت اور دن کو جی اٹھنے کا وقت بنایا ‘‘
اِنِّیۡ تُبۡتُ اِلَیۡکَ وَ اِنِّیۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۵﴾
’’میں تیری جناب میں توبہ کرتا ہوں اور یقینا میں (تیرے) فرمانبرداروں میں سے ہوں۔‘‘
(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الادب‘ باب من احق الناس بحسن الصحبۃ۔وصحیح مسلم‘ کتاب البر والصلۃ والآداب‘ باب بر الوالدین …
(۲) الجامع الصغیر للسیوطی‘ ح:۳۶۴۲۔ راوی : انس بن مالک رضی اللہ عنہ۔
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ نَتَقَبَّلُ عَنۡہُمۡ اَحۡسَنَ مَا عَمِلُوۡا وَ نَتَجَاوَزُ عَنۡ سَیِّاٰتِہِمۡ فِیۡۤ اَصۡحٰبِ الۡجَنَّۃِ ؕ
’’یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم ان کے بہترین اعمال قبول فرمائیں گے‘اور ہم ان کی خطاؤں سے بھی درگزر فرمائیں گے‘(اور وہ ہوں گے) جنت والوں میں سے۔‘‘
وَعۡدَ الصِّدۡقِ الَّذِیۡ کَانُوۡا یُوۡعَدُوۡنَ ﴿۱۶﴾
’’یہ وہ سچا وعدہ ہے جو ان سے کیا جاتا تھا۔‘‘
ان آیات میں ایک ایسے شخص کے کردار کی تصویر دکھائی گئی ہے جو اپنے والدین کا نیک اور صالح بیٹا ہے۔شعور کی پختگی کو پہنچتے پہنچتے اس کے دل و دماغ میں خیالات و نظریات کا جو ہیولا تیار ہوا ہے اس کا خوبصورت عکس اوپر آیت ۱۵ کے دعائیہ الفاظ سے جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے بعد آئندہ آیات میں جس کردار کی تصویر دکھائی جا رہی ہے وہ اس کے برعکس ہے۔