تحریر

الأحقاف

آیات ۱۳ تا ۱۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

13-14

ایک مثالی کردار

ویڈیو

اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚ۱۳﴾ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴﴾

آیت 13

اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا

’’بے شک جن لوگوں نے اقرار کیا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جم گئے‘‘

نوٹ کیجیے یہ وہی الفاظ ہیں جو اس سے پہلے ہم سورۂ حٰمٓ السجدۃکی آیت ۳۰ میں پڑھ آئے ہیں۔وہاں بھی میں نے عرض کیا تھاا ور اب پھر دہرا رہا ہوں کہ اس ’’استقامت‘‘ کو صرف ایک لفظ مت سمجھئے ‘ غور کریں گے تو آپ کو محسوس ہو گا کہ اس ’’استقامت‘‘ میں ایک ’’قیامت ‘‘مضمر ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مان کر ہر حال میں اس کی رضا پر راضی رہنا‘ اس کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لینا‘ اسی پر توکل کرنا‘ اس کے احکامات کی پابندی کرنا اور اس کی طرف سے عائد کردہ جملہ ذمہ داریوں کو نبھانے میں اپنا تن من دھن دائو پر لگا دینا وغیرہ سب اس استقامت میں شامل ہے۔ سورۂ حٰمٓ السجدۃ(آیت ۳۰) کے مطالعہ کے دوران ہم حضرت سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث پڑھ چکے ہیں کہ انہوں نے حضورﷺ سے درخواست کی تھی کہ مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایک بات ایسی بتادیجیے جسے میں پلے باندھ لوں اور میرے لیے وہ کافی ہو جائے۔ اس کے جواب میں حضورﷺ نے فرمایا: حدیث((قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ)) ’’کہو کہ میں ایمان لایا اللہ پر ‘پھر اس پر جم جاؤ!‘‘ بہر حال اللہ پر ایمان لانے کے بعد استقامت یہی ہے کہ انسان کا دل اس سوچ پر جم جائے کہ اللہ ہی میرا پروردگار ہے اور وہی حاجت روا ‘ وہی مشکل کشا ہے اور وہی میری دعاؤں کا سننے والاہے‘ اور پھر انسان خود کو اللہ کے لیے وقف کر دے۔ ایک بندۂ مؤمن کی اسی کیفیت کا نقشہ سورۃ الانعام کی اس آیت میں دکھایا گیا ہے: {قُلۡ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَ نُسُکِیۡ وَ مَحۡیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۱۶۲﴾} ’’ آپؐ کہیے :میری نماز‘ میری قربانی‘ میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔‘‘

فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚ۱۳﴾

’’تو ان پر نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ حزن سے دوچار ہوں گے۔‘‘

ملاحظہ کیجیے سورۂ یونس کی آیت ۶۲ میں ’’اولیاء اللہ‘‘ کے مخصوص مقام و مرتبہ کے حوالے سے بھی بالکل یہی الفاظ آئے ہیں: {اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚۖ۶۲﴾} ’’آگاہ ہو جاؤ! اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے‘‘۔ گویا جو لوگ ایمان لائے اور پھر ایمان پر مستقیم ہو گئے وہ اولیاء اللہ ہیں اور آخرت میں انہیں کسی قسم کے خوف اور حزن و ملال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

آیت 14

اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴﴾

’’یہی لوگجنت والے ہیں ‘اس میں ہمیشہ رہنے والے۔ یہ جزا ہو گی ان اعمال کی جو وہ کرتے رہے۔‘‘

جیسا کہ پہلے بھی کئی مرتبہ ذکر ہو چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی قدر افزائی کے لیے جنت میں داخلے اور اس کی نعمتوں کو ان کے اعمال کا صلہ قرار دیتا ہے ‘جبکہ اللہ کے یہ نیک بندے جنت میں پہنچ کر اللہ کا شکر کرتے ہوئے اعتراف کریں گے کہ یہ سب کچھ اللہ کے فضل کے سبب ہی ممکن ہوا‘ اور یہ کہ وہ اپنے اعمال کے بل بوتے پر یہ کامیابی حاصل نہیں کر سکتے تھے: {وَ قَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ ہَدٰىنَا لِہٰذَا ۟ وَ مَا کُنَّا لِنَہۡتَدِیَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ ہَدٰىنَا اللّٰہُ ۚ } (الاعراف :۴۳) ’’اور وہ کہیں گے کل شکر اور کل تعریف اُس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں یہاں تک پہنچایا‘اور ہم خود سے یہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے اگر اللہ ہی نے ہمیں نہ پہنچا دیا ہوتا۔‘‘

بہر حال یہ اللہ کا اپنے بندوں پر بے پایاں فضل ہے کہ وہ قرآن میں بار بار ان کے نیک اعمال کی قدر دانی فرماتا ہے کہ اگر تم لوگوں نے : {اِمَّا شَاکِرًا وَّ اِمَّا کَفُوۡرًا ﴿۳﴾} (الدھر) کے اختیار کے باوجودمیرے شکر گزار بندے بن کر زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا اور اس پر مشقتیں اور تکلیفیں برداشت کیں ‘چنانچہ میں نے بھی تمہاری مدد کرتے ہوئے اس راستے پر تمہارے لیے آسانیاں پیدا کر دیں‘ تمہیں آگے بڑھنے کی توفیق عطا کی اور آج میں تمہارے ان اعمال کا بدلہ تمہیں جنت کی ابدی اور دائمی نعمتوں کی صورت میں عطا کررہا ہوں۔

15-16

اللہ کا بندوں کے لیے عظیم تحفہ . . . ایک ایمان افروز دعا

ویڈیو

وَ وَصَّیۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ اِحۡسٰنًا ؕ حَمَلَتۡہُ اُمُّہٗ کُرۡہًا وَّ وَضَعَتۡہُ کُرۡہًا ؕ وَ حَمۡلُہٗ وَ فِصٰلُہٗ ثَلٰثُوۡنَ شَہۡرًا ؕ حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَ بَلَغَ اَرۡبَعِیۡنَ سَنَۃً ۙ قَالَ رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ وَ اَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰہُ وَ اَصۡلِحۡ لِیۡ فِیۡ ذُرِّیَّتِیۡ ۚؕ اِنِّیۡ تُبۡتُ اِلَیۡکَ وَ اِنِّیۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۵﴾ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ نَتَقَبَّلُ عَنۡہُمۡ اَحۡسَنَ مَا عَمِلُوۡا وَ نَتَجَاوَزُ عَنۡ سَیِّاٰتِہِمۡ فِیۡۤ اَصۡحٰبِ الۡجَنَّۃِ ؕ وَعۡدَ الصِّدۡقِ الَّذِیۡ کَانُوۡا یُوۡعَدُوۡنَ ﴿۱۶﴾

آیت 15

وَ وَصَّیۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ اِحۡسٰنًا ؕ

’’اور ہم نے تاکید کی انسان کو اُس کے والدین کے بارے میں حسن سلوک کی۔‘‘

والدین کے ساتھ حسن سلوک کے احکام قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آئے ہیں۔ سورۂ بنی اسرائیل کے اس حکم میں اس حوالے سے خصوصی تاکید پائی جاتی ہے:

دوسرے مقام کی آیت

وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ اِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوۡ کِلٰہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنۡہَرۡہُمَا وَ قُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا ﴿۲۳﴾

’’اور فیصلہ کر دیا ہے آپؐ کے رب نے کہ تم نہیں عبادت کرو گے کسی کی سوائے اُس کے اور والدین کے ساتھ احسان(کروگے)۔ اگر پہنچ جائیں تمہارے پاس بڑھاپے کو ان میں سے کوئی ایک یا دونوں‘تو مت کہو ان کو اُف بھی اور مت جھڑکو ان کو‘ اور بات کرو ان سے نرمی کے ساتھ۔‘‘

اولاد کے لیے اگرچہ والد اور والدہ دونوں قابل احترام ہیں اور دونوں ہی ان کے حسن سلوک کے مستحق ہیں لیکن بچے کی پیدائش اور پرورش میں ماں کی مشقت اور ذمہ داری چونکہ زیادہ ہے اس لیے اولاد کی طرف سے خدمت اور حسن سلوک کے حوالے سے اس کا حق بھی فائق ہے۔ چنانچہ سورۂ لقمان میں ماں کے خصوصی حق کا ذکر یوں فرمایا گیا: {وَ وَصَّیۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ ۚ حَمَلَتۡہُ اُمُّہٗ وَہۡنًا عَلٰی وَہۡنٍ وَّ فِصٰلُہٗ فِیۡ عَامَیۡنِ } ’’اور ہم نے وصیت کی انسان کو اس کے والدین کے بارے میں‘اس کو اٹھائے رکھا اس کی ماں نے (اپنے پیٹ میں) کمزوری پر کمزوری جھیل کر‘پھر اس کا دودھ چھڑانا ہوا دو سال میں۔‘‘

والدہ کے خصوصی حق کی وضاحت ایک حدیث میں بھی ملتی ہے۔ ایک صحابیؓ نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال کیا :یا رسول اللہ! میرے حسن سلوک کا سب سے بڑھ کر مستحق کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’تمہاری والدہ!‘‘ انہوںؓ نے پھر پوچھا کہ اس کے بعد کون؟ آپؐ نے فرمایا :’’پھر تمہاری والدہ!‘‘ یہ سوال انہوں نے چار مرتبہ دہرایا ۔ جواب میں آپؐ نے تین مرتبہ فرمایا: تمہاری والدہ۔ جبکہ چوتھی مرتبہ آپؐ نے فرمایا:’’پھرتمہارا والد!‘‘ ۱ البتہ اس حوالے سے یہ نکتہ مدنظر رہنا چاہیے کہ والدہ کے حق کی یہ فوقیت اخلاقی اعتبار سے ہے جبکہ قانونی طور پر والد کا حق ہی فائق ہے۔ مثلاً اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ جنت ماں کے قدموں میں ہے: حدیث((اَلْجَنَّۃ تَحْتَ اَقْدَامِ الْاُمَّھَاتِ))۲ لیکن اگر میاں بیوی میں علیحدگی ہو جائے تو اسلامی قانون اولاد پر والد ہی کا حق تسلیم کرتا ہے۔

حَمَلَتۡہُ اُمُّہٗ کُرۡہًا وَّ وَضَعَتۡہُ کُرۡہًا ؕ

’’اس کی ماں نے اسے اٹھائے رکھا (پیٹ میں) تکلیف جھیل کر اور اسے جنا تکلیف کے ساتھ۔‘‘

وَ حَمۡلُہٗ وَ فِصٰلُہٗ ثَلٰثُوۡنَ شَہۡرًا ؕ

’’اور اس کا یہ حمل اور دودھ چھڑانا ہے (لگ بھگ) تیس مہینے میں۔‘‘

ان دو جملوں میں ان تمام اضافی تکالیف اور مشقتوں کی طرف اشارہ کر دیا گیاہے جو والد کے مقابلے میں صرف والدہ کو برداشت کرنا پڑتی ہیں۔بچے کی پیدائش اور پرورش میں والد بالواسطہ طور پر حصہ لیتا ہے جبکہ والدہ اس پورے عمل میں براہِ راست کردار ادا کرتی ہے۔ دورانِ حمل کی گونا گوں پریشانیوں‘ وضع حمل کی جان لیوا تکلیفوں اور رضاعت و پرورش کی صبر آزما مشقتوں کو وہ تن تنہا جھیلتی ہے۔

حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَ بَلَغَ اَرۡبَعِیۡنَ سَنَۃً ۙ

’’یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری قوت کو پہنچتا ہے اور چالیس برس کا ہو جاتا ہے‘‘

بچے کی جسمانی بلوغت تو سولہ سترہ سال کی عمر میں ہو جاتی ہے‘ لیکن یہاں ذہنی اور نفسیاتی بلوغت اور پختگی کا ذکر ہوا ہے اور اس کی کم از کم حد چالیس سال بتائی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کو چالیس برس کی عمر میں منصبِ نبوت پر فائز کیا جاتا رہا ہے ‘ جیسا کہ خود حضورﷺ کو بھی نبوت چالیس بر س کی عمر میں ملی۔ البتہ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق کچھ استثناء کی مثالیں بھی ہیں۔ مثلاً حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بچپن میں ہی حکمت عطا کر دی گئی تھی‘ جیسا کہ سورۂ مریم کی اس آیت سے واضح ہے: {وَ اٰتَیۡنٰہُ الۡحُکۡمَ صَبِیًّا ﴿ۙ۱۲﴾} ’’اور ہم نے اسے عطا کردی حکمت و دانائی بچپن میں ہی‘‘۔ اور ایسا ہی معاملہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کا بھی تھا۔ لیکن عام قاعدہ کے تحت ذہنی و نفسیاتی بلوغت (maturity) کی حد چالیس سال ہی ہے۔ اور اس حوالے سے آیت زیر مطالعہ میں ایک بچے کی مثال دی گئی ہے کہ جب وہ اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل طے کر کے چالیس برس کی عمر میں ذہنی پختگی کو پہنچ جاتا ہے تو:

قَالَ رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ

’’وہ کہتا ہے: اے میرے پروردگار !مجھے توفیق دے کہ میں شکر کرسکوں تیرے انعامات کا جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائے۔‘‘

وَ اَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰہُ وَ اَصۡلِحۡ لِیۡ فِیۡ ذُرِّیَّتِیۡ ۚؕ

’’اور یہ کہ میں ایسے ا عمال کروں جنہیں تو پسند کرے اور میرے لیے میری اولاد میں بھی اصلاح فرما دے۔‘‘

اس دعا کا اسلوب خصوصی طور پر لائق توجہ ہے۔ دعا صرف یہ نہیں کہ میری اولاد کی اصلاح فرما دے اور انہیں نیک بنا دے‘ بلکہ الفاظ کے مفہوم کی اصل روح یہ ہے کہ میری نسل میں میرے لیے اصلاح فرما دے‘ ان میں میرے لیے بہتری پیدا فرما دے۔ اس لیے کہ بچے اگر صالح اور نیک ہوں گے تو اپنے والدین کے لیے مغفرت کی دعا کریں گے۔ اگر والدین نے اولاد کی اچھی تربیت کی ہوگی تو ان کے نیک اعمال میں سے والدین کو بھی صدقہ جاریہ کے طور پر حصہ ملتا رہے گا۔ یوں اولاد کی بہتری اور اصلاح گویا والدین کے لیے بھی فائدہ مند ہو گی۔ بالکل یہی مفہوم اس دعا کا بھی ہے: {وَ ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الَّیۡلَ لِبَاسًا وَّ النَّوۡمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّہَارَ نُشُوۡرًا ﴿۴۷﴾} ( الفرقان) ’’اور وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے رات کو لباس ارو نیند کو سکونِ موت اور دن کو جی اٹھنے کا وقت بنایا ‘‘

اِنِّیۡ تُبۡتُ اِلَیۡکَ وَ اِنِّیۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۵﴾

’’میں تیری جناب میں توبہ کرتا ہوں اور یقینا میں (تیرے) فرمانبرداروں میں سے ہوں۔‘‘

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الادب‘ باب من احق الناس بحسن الصحبۃ۔وصحیح مسلم‘ کتاب البر والصلۃ والآداب‘ باب بر الوالدین …

(۲) الجامع الصغیر للسیوطی‘ ح:۳۶۴۲۔ راوی : انس بن مالک رضی اللہ عنہ۔

آیت 16

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ نَتَقَبَّلُ عَنۡہُمۡ اَحۡسَنَ مَا عَمِلُوۡا وَ نَتَجَاوَزُ عَنۡ سَیِّاٰتِہِمۡ فِیۡۤ اَصۡحٰبِ الۡجَنَّۃِ ؕ

’’یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم ان کے بہترین اعمال قبول فرمائیں گے‘اور ہم ان کی خطاؤں سے بھی درگزر فرمائیں گے‘(اور وہ ہوں گے) جنت والوں میں سے۔‘‘

وَعۡدَ الصِّدۡقِ الَّذِیۡ کَانُوۡا یُوۡعَدُوۡنَ ﴿۱۶﴾

’’یہ وہ سچا وعدہ ہے جو ان سے کیا جاتا تھا۔‘‘

ان آیات میں ایک ایسے شخص کے کردار کی تصویر دکھائی گئی ہے جو اپنے والدین کا نیک اور صالح بیٹا ہے۔شعور کی پختگی کو پہنچتے پہنچتے اس کے دل و دماغ میں خیالات و نظریات کا جو ہیولا تیار ہوا ہے اس کا خوبصورت عکس اوپر آیت ۱۵ کے دعائیہ الفاظ سے جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے بعد آئندہ آیات میں جس کردار کی تصویر دکھائی جا رہی ہے وہ اس کے برعکس ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے