قُلۡ مَا کُنۡتُ بِدۡعًا مِّنَ الرُّسُلِ
’’(اے نبیﷺ! ان سے یہ بھی) کہیے کہ میں کوئی نیا رسول تو نہیں ہوں‘‘
بِدْعًا کے معنی نیا نویلا یا نرالاہونے کے ہیں۔ لفظ ’’بدعت‘‘ بھی اسی مادہ سے مشتق ہے۔ بدعت سے اصطلاحاً وہ چیز مراد ہے جو اصل میں دین کا حصہ نہ ہوبلکہ کسی وجہ سے دین میں رائج کر دی گئی ہو۔ بہر حال یہاں حضورﷺ سے کہلوایا جا رہا ہے کہ میرا رسولؐ بن کر آنا کوئی نئی بات نہیں ہے‘ بلکہ میں تو آخری رسولؐ ہوں۔ بہت سے رسول ؑمجھ سے پہلے بھی دنیا میں آ چکے ہیں۔ سورۂ آلِ عمران میں حضورﷺ کا تعارف اس طرح کرایا گیا ہے: {وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ } (آیت۱۴۴) ’’ اور محمد (ﷺ) اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں‘ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں‘‘۔سورۃ المائدۃ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بھی بالکل یہی الفاظ آئے ہیں: {مَا الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ } (آیت ۷۵) ’’ مسیحؑ ابن مریم اور کچھ نہیں سوائے اس کے کہ وہ ایک رسول ؑتھے‘ انؑ سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے۔‘‘
وَ مَاۤ اَدۡرِیۡ مَا یُفۡعَلُ بِیۡ وَ لَا بِکُمۡ ؕ
’’اور مجھے یہ معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔‘‘
اس سے آخرت کا معاملہ مراد نہیں ہے ‘کیونکہ آخرت کے بارے میں تو آنحضورﷺ کوبہت واضح انداز میں بتا دیا گیا تھا: {وَ لَلۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لَّکَ مِنَ الۡاُوۡلٰی ؕ﴿۴﴾} (الضحیٰ) یعنی آپؐ کے لیے آخرت یقینا دنیا سے بہت بہتر ہو گی۔بلکہ آیت زیر مطالعہ کا اشارہ اس کش مکش کی طرف ہے جو حضورﷺ اور مشرکین مکہ کے درمیان مسلسل جاری تھی۔ جیسے حضورﷺایک اُمیدلے کر طائف تشریف لے گئے تھے لیکن وہاں جو کچھ ہوا وہ آپؐ کی توقعات کے بالکل برعکس تھا۔ نبوت کے دسویں سال جب جناب ابو طالب کا انتقال ہو گیا تو آپؐ کے اپنے قبیلے بنو ہاشم نے بھی آپؐ سے اظہارِ برا ء ت کر دیا۔ اس کے بعد مکہ میں دُنیوی اعتبار سے آپؐ کا کوئی حلیف یا حمایتی نہ رہا۔ ان حالات میں آپؐ طائف تشریف لے گئے۔ آپؐ کا خیال تھا کہ اہل طائف میں سے اگر کوئی بڑا سردار ایمان لے آیا تو میں اپنی دعوت کا مرکز وہاں منتقل کر لوں گا۔ لیکن اہل طائف کا رویہ اہلِ مکہ سے بھی بدتر نکلا۔ لہٰذا مکہ کے ماحول میں جاری کشیدگی کے حوالے سے یہاں آپؐ سے کہلوایا جا رہا ہے کہ اس چپقلش کے اندر آئندہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے کیا پیش آنے والا ہے اور تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے مجھے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔
اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۹﴾
’’میں تو بس اُسی کی پیروی کر رہا ہوں جو میری طرف وحی کی جا رہی ہے ‘اور میں نہیں ہوں مگر ایک کھلا خبردار کر دینے والا۔‘‘
قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ کَانَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ وَ کَفَرۡتُمۡ بِہٖ
’’(اے نبیﷺ!) ان سے کہیے کہ کیا تم نے سوچا بھی ہے کہ اگر یہ (قرآن) واقعتا اللہ کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کر دیا (تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا)؟‘‘
تم لوگ مجھے الزام دیتے ہو کہ میں نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے ‘لیکن جب تمہیں چیلنج دیاگیا کہ اس جیسی کتاب تم بھی بنا کر دکھائو بلکہ ایک سورت ہی بنا لاؤ تو تم اس چیلنج کا جواب نہیں دے سکے‘ اس لیے دل سے تم بھی مانتے ہو کہ یہ کتاب انسانی تصنیف نہیں ہے ۔بہر حال اگر تم اسے اللہ کا کلام نہیں مانتے تو یہ بات اچھی طرح سے سوچ لو کہ اگر واقعتا یہ اللہ ہی کا کلام ہوا تو تمہارے اس انکار کا کیا نتیجہ نکلے گا؟
وَ شَہِدَ شَاہِدٌ مِّنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ عَلٰی مِثۡلِہٖ
’’اور گواہی دے چکا ہے ایک گواہ بنی اسرائیل میں سے ایک ایسی ہی کتاب کی۔‘‘
اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے مابین اختلا ف ہے۔ اس بارے میں ایک رائے تو یہ ہے کہ اس سے عام اہلِ کتاب مؤ منین مراد ہیں‘ جبکہ کچھ مفسرین کا خیال ہے کہ اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف اشارہ ہے۔ بظاہر یہ دوسری رائے زیادہ معتبر معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے کہ عہد نامہ قدیم ‘کتاب استثناء کے اٹھارہویں باب کی آیات ۱۸ ‘ ۱۹میں جو پیشین گوئی درج ہے اس میں یہ الفاظ ہیں:ـ ’’اے موسیٰؑ میں ان کے بھائیوں میں سے تیرے مثل ایک پیغمبر اٹھاؤں گا اوراس کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا‘‘۔ ان الفاظ کے مطابق تو مثلہٖ کایہی مفہوم واضح ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مثل حضرت محمد ﷺ ہیں اور حضرت محمد ﷺ کی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی صاحبِ شریعت رسول ہیں اور حضورﷺ کو بھی قرآن کی شکل میں آخری اور کامل شریعت عطا کی گئی ہے۔ جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صاحب کتاب رسول توہیں لیکن صاحب شریعت نہیں ہیں۔ سورۃ الزخرف کی آیت ۶۳ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ قول ہم پڑھ چکے ہیں: {قَالَ قَدْ جِئْتُکُمْ بِالْحِکْمَۃِ} کہ میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں۔ سورۃ الزخرف کی اس آیت کے ضمن میں یہ وضاحت بھی گزر چکی ہے کہ انجیل میں احکام اور شریعت نہیں صرف حکمت ہے‘ جبکہ تورات اور قرآن قانون اور شریعت کی حامل کتابیں ہیں۔
فَاٰمَنَ وَ اسۡتَکۡبَرۡتُمۡ ؕ
’’پس وہ تو ایمان لے آیا اور تم استکبار کر رہے ہو!‘‘
یہود میں ایسے علماء بھی تھے (اگرچہ ان کی تعداد زیادہ نہیں تھی) جو نبی آخر الزماںﷺ پر ایمان لے آئے تھے۔ جیسے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ جو یہود کے بہت بڑے عالم تھے۔
اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿٪۱۰﴾
’’بے شک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘