تحریر

الأحقاف

آیات ۷ تا ۱۲

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

7-8

قرآن ِحکیم پر مشرکین کے اعتراضات

ویڈیو

وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہُمۡ ۙ ہٰذَا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ؕ﴿۷﴾ اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىہُ ؕ قُلۡ اِنِ افۡتَرَیۡتُہٗ فَلَا تَمۡلِکُوۡنَ لِیۡ مِنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَا تُفِیۡضُوۡنَ فِیۡہِ ؕ کَفٰی بِہٖ شَہِیۡدًۢا بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ؕ وَ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۸﴾

آیت 7

وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہُمۡ ۙ ہٰذَا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ؕ﴿۷﴾

’’اور جب انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری آیتِ بینات‘ تو یہ کافر کہتے ہیں حق کے بارے میں ‘جبکہ وہ ان کے پاس آ گیا‘کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔‘‘

آیت 8

اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىہُ ؕ

’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو گھڑ لیا ہے؟‘‘

کیا ان کا خیال ہے کہ محمد ﷺ نے قرآن کو خود تصنیف کیا ہے؟

قُلۡ اِنِ افۡتَرَیۡتُہٗ فَلَا تَمۡلِکُوۡنَ لِیۡ مِنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ

’’(اے نبیﷺ!) ا ن سے کہیے کہ اگر میں نے اس کو گھڑ لیا ہے تو تم مجھے اللہ (کی پکڑ) سے ذرا بھی نہیں بچا سکتے۔‘‘

سورۃالحاقۃ میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے: {وَ لَوۡ تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ ﴿ۙ۴۴﴾لَاَخَذۡنَا مِنۡہُ بِالۡیَمِیۡنِ ﴿ۙ۴۵﴾ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡہُ الۡوَتِیۡنَ ﴿۫ۖ۴۶﴾} کہ اگر بالفرض محمد (ﷺ) کوئی چیز گھڑ کر ہماری طرف منسوب کر دیں تو ہم ان کا دایاں ہاتھ پکڑیں گے اور پھر ان کی رگِ جاں کو کاٹ دیں گے۔ ظاہر ہے اس اسلوب میں جو غصہ ہے وہ ان لوگوں پر ہے جو حضورﷺ پر ایسا الزام لگانے کی جسارت کرتے تھے ۔

ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَا تُفِیۡضُوۡنَ فِیۡہِ ؕ

’’وہ خوب جانتا ہے جن باتوں میں تم لگے ہوئے ہو۔‘‘

اللہ تعالیٰ تمہاری یہ گفتگو بھی سن رہا ہے اور وہ تمہارے دلوں میں چھپے ہوئے خیالات سے بھی آگاہ ہے۔

کَفٰی بِہٖ شَہِیۡدًۢا بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ؕ وَ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۸﴾

’’وہ کافی ہے بطور گواہ میرے اور تمہارے مابین ‘اور وہ خوب بخشنے والا ‘ بہت رحم فرمانے والاہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے میرے پاس وحی بھیجی ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ میں اس کا رسول ہوں ۔

9-10

حضرت محمد ﷺ سچے نبی ہیں

ویڈیو

قُلۡ مَا کُنۡتُ بِدۡعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدۡرِیۡ مَا یُفۡعَلُ بِیۡ وَ لَا بِکُمۡ ؕ اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۹﴾ قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ کَانَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ وَ کَفَرۡتُمۡ بِہٖ وَ شَہِدَ شَاہِدٌ مِّنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ عَلٰی مِثۡلِہٖ فَاٰمَنَ وَ اسۡتَکۡبَرۡتُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿٪۱۰﴾

آیت 9

قُلۡ مَا کُنۡتُ بِدۡعًا مِّنَ الرُّسُلِ

’’(اے نبیﷺ! ان سے یہ بھی) کہیے کہ میں کوئی نیا رسول تو نہیں ہوں‘‘

بِدْعًا کے معنی نیا نویلا یا نرالاہونے کے ہیں۔ لفظ ’’بدعت‘‘ بھی اسی مادہ سے مشتق ہے۔ بدعت سے اصطلاحاً وہ چیز مراد ہے جو اصل میں دین کا حصہ نہ ہوبلکہ کسی وجہ سے دین میں رائج کر دی گئی ہو۔ بہر حال یہاں حضورﷺ سے کہلوایا جا رہا ہے کہ میرا رسولؐ بن کر آنا کوئی نئی بات نہیں ہے‘ بلکہ میں تو آخری رسولؐ ہوں۔ بہت سے رسول ؑمجھ سے پہلے بھی دنیا میں آ چکے ہیں۔ سورۂ آلِ عمران میں حضورﷺ کا تعارف اس طرح کرایا گیا ہے: {وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ } (آیت۱۴۴) ’’ اور محمد (ﷺ) اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں‘ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں‘‘۔سورۃ المائدۃ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بھی بالکل یہی الفاظ آئے ہیں: {مَا الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ } (آیت ۷۵) ’’ مسیحؑ ابن مریم اور کچھ نہیں سوائے اس کے کہ وہ ایک رسول ؑتھے‘ انؑ سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے۔‘‘

وَ مَاۤ اَدۡرِیۡ مَا یُفۡعَلُ بِیۡ وَ لَا بِکُمۡ ؕ

’’اور مجھے یہ معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔‘‘

اس سے آخرت کا معاملہ مراد نہیں ہے ‘کیونکہ آخرت کے بارے میں تو آنحضورﷺ کوبہت واضح انداز میں بتا دیا گیا تھا: {وَ لَلۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لَّکَ مِنَ الۡاُوۡلٰی ؕ﴿۴﴾} (الضحیٰ) یعنی آپؐ کے لیے آخرت یقینا دنیا سے بہت بہتر ہو گی۔بلکہ آیت زیر مطالعہ کا اشارہ اس کش مکش کی طرف ہے جو حضورﷺ اور مشرکین مکہ کے درمیان مسلسل جاری تھی۔ جیسے حضورﷺایک اُمیدلے کر طائف تشریف لے گئے تھے لیکن وہاں جو کچھ ہوا وہ آپؐ کی توقعات کے بالکل برعکس تھا۔ نبوت کے دسویں سال جب جناب ابو طالب کا انتقال ہو گیا تو آپؐ کے اپنے قبیلے بنو ہاشم نے بھی آپؐ سے اظہارِ برا ء ت کر دیا۔ اس کے بعد مکہ میں دُنیوی اعتبار سے آپؐ کا کوئی حلیف یا حمایتی نہ رہا۔ ان حالات میں آپؐ طائف تشریف لے گئے۔ آپؐ کا خیال تھا کہ اہل طائف میں سے اگر کوئی بڑا سردار ایمان لے آیا تو میں اپنی دعوت کا مرکز وہاں منتقل کر لوں گا۔ لیکن اہل طائف کا رویہ اہلِ مکہ سے بھی بدتر نکلا۔ لہٰذا مکہ کے ماحول میں جاری کشیدگی کے حوالے سے یہاں آپؐ سے کہلوایا جا رہا ہے کہ اس چپقلش کے اندر آئندہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے کیا پیش آنے والا ہے اور تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے مجھے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔

اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۹﴾

’’میں تو بس اُسی کی پیروی کر رہا ہوں جو میری طرف وحی کی جا رہی ہے ‘اور میں نہیں ہوں مگر ایک کھلا خبردار کر دینے والا۔‘‘

آیت 10

قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ کَانَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ وَ کَفَرۡتُمۡ بِہٖ

’’(اے نبیﷺ!) ان سے کہیے کہ کیا تم نے سوچا بھی ہے کہ اگر یہ (قرآن) واقعتا اللہ کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کر دیا (تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا)؟‘‘

تم لوگ مجھے الزام دیتے ہو کہ میں نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے ‘لیکن جب تمہیں چیلنج دیاگیا کہ اس جیسی کتاب تم بھی بنا کر دکھائو بلکہ ایک سورت ہی بنا لاؤ تو تم اس چیلنج کا جواب نہیں دے سکے‘ اس لیے دل سے تم بھی مانتے ہو کہ یہ کتاب انسانی تصنیف نہیں ہے ۔بہر حال اگر تم اسے اللہ کا کلام نہیں مانتے تو یہ بات اچھی طرح سے سوچ لو کہ اگر واقعتا یہ اللہ ہی کا کلام ہوا تو تمہارے اس انکار کا کیا نتیجہ نکلے گا؟

وَ شَہِدَ شَاہِدٌ مِّنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ عَلٰی مِثۡلِہٖ

’’اور گواہی دے چکا ہے ایک گواہ بنی اسرائیل میں سے ایک ایسی ہی کتاب کی۔‘‘

اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے مابین اختلا ف ہے۔ اس بارے میں ایک رائے تو یہ ہے کہ اس سے عام اہلِ کتاب مؤ منین مراد ہیں‘ جبکہ کچھ مفسرین کا خیال ہے کہ اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف اشارہ ہے۔ بظاہر یہ دوسری رائے زیادہ معتبر معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے کہ عہد نامہ قدیم ‘کتاب استثناء کے اٹھارہویں باب کی آیات ۱۸ ‘ ۱۹میں جو پیشین گوئی درج ہے اس میں یہ الفاظ ہیں:ـ ’’اے موسیٰؑ میں ان کے بھائیوں میں سے تیرے مثل ایک پیغمبر اٹھاؤں گا اوراس کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا‘‘۔ ان الفاظ کے مطابق تو مثلہٖ کایہی مفہوم واضح ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مثل حضرت محمد ﷺ ہیں اور حضرت محمد ﷺ کی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی صاحبِ شریعت رسول ہیں اور حضورﷺ کو بھی قرآن کی شکل میں آخری اور کامل شریعت عطا کی گئی ہے۔ جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صاحب کتاب رسول توہیں لیکن صاحب شریعت نہیں ہیں۔ سورۃ الزخرف کی آیت ۶۳ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ قول ہم پڑھ چکے ہیں: {قَالَ قَدْ جِئْتُکُمْ بِالْحِکْمَۃِ} کہ میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں۔ سورۃ الزخرف کی اس آیت کے ضمن میں یہ وضاحت بھی گزر چکی ہے کہ انجیل میں احکام اور شریعت نہیں صرف حکمت ہے‘ جبکہ تورات اور قرآن قانون اور شریعت کی حامل کتابیں ہیں۔

فَاٰمَنَ وَ اسۡتَکۡبَرۡتُمۡ ؕ

’’پس وہ تو ایمان لے آیا اور تم استکبار کر رہے ہو!‘‘

یہود میں ایسے علماء بھی تھے (اگرچہ ان کی تعداد زیادہ نہیں تھی) جو نبی آخر الزماںﷺ پر ایمان لے آئے تھے۔ جیسے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ جو یہود کے بہت بڑے عالم تھے۔

اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿٪۱۰﴾

’’بے شک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘

11-12

قرآنِ حکیم کی عظمت

ویڈیو

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَوۡ کَانَ خَیۡرًا مَّا سَبَقُوۡنَاۤ اِلَیۡہِ ؕ وَ اِذۡ لَمۡ یَہۡتَدُوۡا بِہٖ فَسَیَقُوۡلُوۡنَ ہٰذَاۤ اِفۡکٌ قَدِیۡمٌ ﴿۱۱﴾ وَ مِنۡ قَبۡلِہٖ کِتٰبُ مُوۡسٰۤی اِمَامًا وَّ رَحۡمَۃً ؕ وَ ہٰذَا کِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنۡذِرَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ٭ۖ وَ بُشۡرٰی لِلۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿ۚ۱۲﴾

آیت 11

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَوۡ کَانَ خَیۡرًا مَّا سَبَقُوۡنَاۤ اِلَیۡہِ ؕ

’’اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کی روش اختیار کی ‘ان لوگوں کے بارے میں جو ایمان لائے کہ اگر یہ (قرآن) کوئی خیر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے ۔‘‘

یہ سردارانِ قریش کے موقف کا حوالہ ہے کہ ہم بڑے ہیں‘ دانشور ہیں اور ہر اعتبار سے معاشرے کے سرکردہ لوگ ہیں۔ جب ہم اس دین کی طرف مائل نہیں ہوئے اور ہمیں اس قرآن میں کوئی کشش محسوس نہیں ہوئی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں بھلائی کی کوئی بات ہے ہی نہیں‘ ورنہ یہ غریب غرباء اور گھٹیا لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ مکہ میں رسول اللہﷺ پر ایمان لانے والوں میں اگرچہ حضرت عثمان بن عفان‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف‘ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے لوگ بھی تھے‘ جن کا تعلق اونچے گھرانوں سے تھا ‘مگر ابتدا میں زیادہ تر نادار اور مزدور لوگ ہی حضورﷺ پر ایمان لائے تھے ‘ جن میں کوئی غلام بھی تھے‘ اور شروع شروع میں یہی لوگ زیادہ تر آپؐ کے اردگرد موجود ہوتے تھے۔

چنانچہ جس طرح حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے سرداروں کو اعتراض تھا کہ آپؑ کے پیروکار نچلے طبقے کے لوگ ہیں (ہود: ۲۲) اسی طرح مکہ کے سرداروں کو بھی نادار اور غلام اہل ایمان کی موجود گی میں حضورﷺ کی محفل میں بیٹھنا گوارا نہیں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ان مزدوروں ‘ غلاموں اور کمتر حیثیت کے لوگوں کے درمیان آکر بیٹھنا ہمارے شایانِ شان نہیں۔ ہاں ان لوگوں کو اگر آپؐ اپنی محفل سے اٹھا دیں تو پھر ہم آپؐ کے پاس آ کر آپؐ کی بات سننے پر غور کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ نے ان مؤمنینِ صادقین کے بارے میں حضورﷺ سے فرمایا: {وَ لَا تَطۡرُدِ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَ الۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ ؕ مَا عَلَیۡکَ مِنۡ حِسَابِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ وَّ مَا مِنۡ حِسَابِکَ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَتَطۡرُدَہُمۡ فَتَکُوۡنَ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۲﴾} ’’اور مت دھتکارئیے آپ ؐان لوگوں کو جو پکارتے ہیں اپنے ربّ کو صبح وشام اور اُس کی رضا کے طالب ہیں۔آپؐ کے ذمے ان کے حساب میں سے کچھ نہیں ہے او ر نہ آپ ؐکے حساب میں سے ان کے ذمے کچھ ہے‘ تو اگر (بالفرض) آپؐ انہیں دور کریں گے تو آپ ظالموں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘

وَ اِذۡ لَمۡ یَہۡتَدُوۡا بِہٖ فَسَیَقُوۡلُوۡنَ ہٰذَاۤ اِفۡکٌ قَدِیۡمٌ ﴿۱۱﴾

’’اور چونکہ انہوں نے اس (قرآن) کے ذریعے سے ہدایت نہیں پائی تو اب کہیں گے کہ یہ تو گھڑی ہوئی پرانی چیز ہے۔‘‘

آیت 12

وَ مِنۡ قَبۡلِہٖ کِتٰبُ مُوۡسٰۤی اِمَامًا وَّ رَحۡمَۃً ؕ

’’حالانکہ اس سے پہلے موسیٰؑ کی کتاب موجود ہے‘ راہنمائی کرنے والی اور رحمت !‘‘

وَ ہٰذَا کِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا

’’اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی ہے‘ عربی زبان میں‘‘

یعنی قرآن مصدق ہے تورات اور انجیل کا ‘اورقرآن کی یہ تصدیق دو پہلو سے ہے۔ ایک طرف تو قرآن ان کتابوں کی اس لحاظ سے تصدیق کرتا ہے کہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہیں۔ یہ تصدیق ہمیں قرآن میں جابجا ملتی ہے۔ مثلاً سورۃ المائدۃ (آیت ۴۴) میں فرمایا: {اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا التَّوۡرٰىۃَ فِیۡہَا ہُدًی وَّ نُوۡرٌ ۚ } کہ ہم نے تورات نازل کی تھی اس میں ہدایت بھی تھی اور نور بھی تھا۔ اور پھر سورۃ المائدۃ میں ہی آگے آیت ۴۶ میں انجیل کی تصدیق ہے: {وَ اٰتَیۡنٰہُ الۡاِنۡجِیۡلَ فِیۡہِ ہُدًی وَّ نُوۡرٌ ۙ } کہ ہم نے عیسیٰؑ ابن مریم کو انجیل عطا کی‘ یہ بھی ہدایت اور نور کا منبع ہے ۔ چنانچہ قرآن ایک تو ان دونوں کتابوں کے منزل من اللہ ہونے کی تصدیق کرتا ہے ( اگرچہ ان دونوں میں تحریف کر دی گئی) جبکہ اس تصدیق کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ تورات اور انجیل میں جو پیشین گوئیاں تھیں قرآن ان کا مصداق بن کر آیا ہے۔

لِّیُنۡذِرَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ٭ۖ

’’تا کہ خبردار کر دے ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کی روش اختیار کی‘‘

خبردار اور متنبہ کر دینے کی ذمہ داری ہی کی وجہ سے قرآن کو سادہ اورسلیس زبان میں نازل کیا گیا اور سمجھنے کے لیے آسان بنا دیا گیا تا کہ ہر شخص تک اس کا پیغام پہنچ جائے۔

وَ بُشۡرٰی لِلۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿ۚ۱۲﴾

’’اور بشارت بن جائے احسان کی روش اختیار کرنے والوں کے لیے ۔‘‘

’’محسنین ‘‘وہ لوگ ہیں جو اسلام کے درجے سے بتدریج آگے بڑھتے ہوئے ایمان اور پھر احسان کے درجے تک پہنچ جائیں ۔

یوٹیوب پر دیکھیے