حٰمٓ ۚ﴿۱﴾
’’ح‘م۔‘‘
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تحریر
آیات ۱ تا ۶
بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
حٰمٓ ۚ﴿۱﴾ تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۲﴾ مَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا عَمَّاۤ اُنۡذِرُوۡا مُعۡرِضُوۡنَ ﴿۳﴾ قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ مَّا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَرُوۡنِیۡ مَاذَا خَلَقُوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ اَمۡ لَہُمۡ شِرۡکٌ فِی السَّمٰوٰتِ ؕ اِیۡتُوۡنِیۡ بِکِتٰبٍ مِّنۡ قَبۡلِ ہٰذَاۤ اَوۡ اَثٰرَۃٍ مِّنۡ عِلۡمٍ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۴﴾
حٰمٓ ۚ﴿۱﴾
’’ح‘م۔‘‘
تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۲﴾
’’اِس کتاب کا اتارا جاناہے اُس اللہ کی طرف سے جو زبردست ‘کمال حکمت والاہے۔‘‘
قبل ازیں سورۃ الجاثیہ کی آیت ۲ کے ضمن میں بھی ذکر ہو چکا ہے کہ سورۃالجاثیہ اور سورۃ الاحقاف کے آغاز کی آیات مشترک ہیں۔
مَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ
’’اور ہم نے نہیں پید اکیا آسمانوں اور زمین کواور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے مگر حق کے ساتھ‘‘
یہ ایک مستحکم نظام اور ایک با مقصد تخلیق ہے۔ ہم نے یہ سب کچھ بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ سورۃ الدخان میں اس بارے میں یوں فرمایا گیا ہے: {وَ مَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا لٰعِبِیۡنَ ﴿۳۸﴾} ’’اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے محض کھیل کے طور پر تو تخلیق نہیں فرمایا۔‘‘
وَ اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ
’’اور ایک اجل معین کے لیے ‘‘
وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا عَمَّاۤ اُنۡذِرُوۡا مُعۡرِضُوۡنَ ﴿۳﴾
’’اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ اعراض کر رہے ہیں اس سے جس سے انہیں خبردار کیا جا رہا ہے۔‘‘
اس جملے میں الفاظ کی ترتیب دراصل یوں ہے: وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا مُعْرِضُوْنَ عَمَّآ اُنْذِرُوْا ۔ لیکن ایک مخصوص صوتی آہنگ (rhythm) برقرار رکھنے کے لیے یہاں الفاظ میں تقدیم و تاخیر کی گئی ہے۔ میں ’’تعارفِ قرآن ‘‘پر اپنے لیکچر زمیں قرآن کے صوتی آہنگ پر گفتگو کرتے ہوئے یہ وضاحت کر چکا ہوں کہ ہم معروف معنوں میں جسے شاعری کہتے ہیں قرآن ویسی شاعری تو نہیں ہے لیکن ایک خاص آہنگ اور روانی کی وجہ سے قرآن کی آیات میں blank verse کا سا انداز پایا جاتا ہے اور جملوں میں الفاظ کی تقدیم و تاخیر ہو جاتی ہے۔ اور غالباً یہ قرآنی اسلوب ہی دنیا میں blank verse کے رواج کا باعث بنا ہے۔
قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ مَّا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَرُوۡنِیۡ مَاذَا خَلَقُوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ
’’(اے نبیﷺ!) ان سے کہیے کہ کبھی تم نے غور بھی کیا کہ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو‘ مجھے دکھاؤ تو سہی کہ انہوں نے کیا پیدا کیا ہے زمین میں؟‘‘
اَمۡ لَہُمۡ شِرۡکٌ فِی السَّمٰوٰتِ ؕ
’’یا اُن کی کوئی شراکت ہے آسمانوں میں؟‘‘
اِیۡتُوۡنِیۡ بِکِتٰبٍ مِّنۡ قَبۡلِ ہٰذَاۤ اَوۡ اَثٰرَۃٍ مِّنۡ عِلۡمٍ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۴﴾
’’ لاؤ میرے پاس کوئی کتاب اس سے پہلے کی یا کوئی ایسی روایت جس کی بنیاد علم پر ہو اگر تم سچے ہو!‘‘
اپنے ان معبودوں کے بارے میں مجھ سے کسی الہامی ثبوت یا علمی اور منطقی دلیل سے بات کرو۔
وَ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ یَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَنۡ لَّا یَسۡتَجِیۡبُ لَہٗۤ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ وَ ہُمۡ عَنۡ دُعَآئِہِمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴿۵﴾ وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ کَانُوۡا لَہُمۡ اَعۡدَآءً وَّ کَانُوۡا بِعِبَادَتِہِمۡ کٰفِرِیۡنَ ﴿۶﴾
وَ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ یَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَنۡ لَّا یَسۡتَجِیۡبُ لَہٗۤ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ
’’اور اُس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جو اللہ کے سوا اُسے پکارتا ہے جو اُس کو جواب ہی نہیں دے سکتاقیامت کے دن تک‘‘ وہ نہ تو ان کی دعاؤں کو سن سکتے ہیں اور نہ قبول کر سکتے ہیں۔
وَ ہُمۡ عَنۡ دُعَآئِہِمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴿۵﴾
’’اور وہ ان کی دعا سے غافل ہیں۔‘‘
وہ ان کے پکارنے سے بے خبر ہیں۔ انہیں تو پتا ہی نہیں کہ کوئی ان سے دعا مانگ رہا ہے۔ مشرکین اللہ تعالیٰ کے سوا جن معبودوں کو پکارتے ہیں ان میں کچھ تو بے جان اور بے عقل مخلوقات ہیں۔ ان کا تو اپنے پکارنے والوں کی دعاؤں سے بے خبر ہونا ظاہر ہی ہے۔ ان کے علاوہ کچھ بزرگ انسانوں کو بھی پکارا جاتا ہے۔ وہ اللہ کے ہاں اس عالم میں ہیں کہ جہاں انسانی آوازیں ان تک نہیں پہنچتیں۔فرض کیجیے ایک شخص کسی بڑے ولی اللہ کو اپنی مدد کے لیے پکار رہا ہے تو عِلیِّیْن میں موجود اس کی روح کو کیا معلوم کہ دنیا میں اس کا کوئی معتقد اسے پکار رہا ہے۔
وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ کَانُوۡا لَہُمۡ اَعۡدَآءً وَّ کَانُوۡا بِعِبَادَتِہِمۡ کٰفِرِیۡنَ ﴿۶﴾
’’اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو وہ ان کے دشمن بن جائیں گے اور وہ ان کی عبادت کے منکر ہوں گے۔‘‘
قیامت کے دن وہ پیغمبر‘ وہ فرشتے اور وہ اولیا ء اللہ جن کو لوگ مدد کے لیے پکارتے ہیں اور ان سے دعا کرتے ہیں ‘ وہ ا پنے ان ’’عقیدت مندوں ‘‘سے ناراضگی اور دشمنی کا اظہار کریں گے کہ انہوں نے اللہ کے سامنے انہیں شرمسار کیاکہ انہیں اللہ کا مدمقابل ٹھہرایا۔ اس معاملے کی ’’حساسیت‘‘ کا اندازہ اس سے لگائیں کہ ایک مرتبہ ایک صحابیؓ نے رسول اللہﷺ کے سامنے ایسے الفاظ ادا کیے : مَا شَائَ اللّٰہُ وَمَا شِئْتَ یعنی جو اللہ چاہے اور جو آپؐ چاہیں! اس پر آپؐ نے فوراًانہیں ٹوک دیااورفرمایا: حدیث((اَجَعَلْتَنِیْ لِلّٰہِ نِدًّا؟))۱’’ کیا تم نے مجھے اللہ کا مدمقابل بنا دیا ہے؟‘‘کیونکہ مشیت تو صرف اور صرف اللہ کے لیے ہے۔
(۱) ان الفاظ میں یہ حدیث علامہ محمد بن عبدالوہاب نے ’’کتاب التوحید‘‘ میں نسائی کے حوالے سے درج کی ہے۔ جبکہ مسند احمد میں یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں: ((أَجَعَلْتَنِیْ وَاللّٰہَ عَدْلًا؟)) ’’کیا تو نے مجھے اور اللہ کو برابرکر دیا؟‘‘ (مرتب)