تحریر

الجاثِية

آیات ۲۷ تا ۳۷

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

27-29

گمراہ کن تصورات دینے والے بربادہوں گے

ویڈیو

وَ لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ یَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ یَوۡمَئِذٍ یَّخۡسَرُ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴿۲۷﴾ وَ تَرٰی کُلَّ اُمَّۃٍ جَاثِیَۃً ۟ کُلُّ اُمَّۃٍ تُدۡعٰۤی اِلٰی کِتٰبِہَا ؕ اَلۡیَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۸﴾ ہٰذَا کِتٰبُنَا یَنۡطِقُ عَلَیۡکُمۡ بِالۡحَقِّ ؕ اِنَّا کُنَّا نَسۡتَنۡسِخُ مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۹﴾

آیت 27

وَ لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ

’’اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی۔‘‘

وَ یَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ یَوۡمَئِذٍ یَّخۡسَرُ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴿۲۷﴾

’’اور جس دن قیامت قائم ہو گی اُس دن جھٹلانے والے بڑے خسارے میں ہوں گے۔‘‘

جو لوگ حق کو باطل قرار دے رہے ہیں ‘روزِ محشر انہیں عظیم خسارے کا سامنا کرنا ہو گا۔

آیت 28

وَ تَرٰی کُلَّ اُمَّۃٍ جَاثِیَۃً ۟

’’اور تم دیکھو گے کہ ہر اُمت گھٹنوں کے بل پڑی ہو گی۔‘‘

کُلُّ اُمَّۃٍ تُدۡعٰۤی اِلٰی کِتٰبِہَا ؕ

’’ہر اُمت کو بلایا جائے گا اس کے اعمال نامے کی طرف۔‘‘

وہاں سرِ محشر باری باری ندا ہو گی کہ فلاں قوم کو لے آیا جائے اور ان کا اعمال نامہ پیش کیا جائے۔

اَلۡیَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۸﴾

’’آج تمہیں بدلہ دیا جائے گا ان اعمال کا جو تم کرتے رہے ہو۔‘‘

آیت 29

ہٰذَا کِتٰبُنَا یَنۡطِقُ عَلَیۡکُمۡ بِالۡحَقِّ ؕ

’’یہ ہمارا(تیار کردہ) اعمال نامہ ہے جو تمہارے اوپر حق کے ساتھ گواہی دے گا۔‘‘

یہ وہ ریکارڈ ہے جس میں ہم نے تمہارے ایک ایک عمل کو محفوظ کر رکھا ہے۔ یہ ابھی تمہاری ایک ایک حرکت کی ٹھیک ٹھیک تفصیل بتادے گااور تمہارے خلاف بالکل ٹھیک ٹھیک گواہی دے گا۔

اِنَّا کُنَّا نَسۡتَنۡسِخُ مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۹﴾

’’جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم اُسے لکھواتے جا رہے تھے۔‘‘

اس ’’لکھنے‘‘ کے مفہوم میں بہت وسعت اور جامعیت ہے۔ عام طور پر ہمارا ذہن لکھنے کے انسانی طور طریقوں کی طرف جاتا ہے۔ لیکن ان طریقوں میں بھی دیکھتے ہی دیکھتے ایسی تبدیلیاں آ چکی ہیں جن کے بارے میں زمانہ ماضی میں کبھی ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ہم قلم اوردوات سے لکھا کرتے تھے مگر آج اس سے کہیں بہتر لکھائی کمپیوٹر کے ذریعے سے ہو جاتی ہے۔ پھر آڈیو/ویڈیو ریکارڈنگ بھی تحریر ہی کی ترقی یافتہ صورت ہے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ کے ہاں کی لکھائی کا تصور ہمارے ذہن سے بہت بالا ہے۔ بس یوں سمجھئے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہر انسان کی زندگی کے ایک ایک عمل اور ایک ایک لمحے کی تفصیلی روداد تیار ہو رہی ہے۔ وقت آنے پر بس ایک اشارہ ہو گا اور متعلقہ انسان کی زندگی کی مکمل تصویر سامنے آ جائے گی۔

30-33

روزِ قیامت اچھا اور برا انجام

ویڈیو

فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدۡخِلُہُمۡ رَبُّہُمۡ فِیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۳۰﴾ وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۟ اَفَلَمۡ تَکُنۡ اٰیٰتِیۡ تُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ فَاسۡتَکۡبَرۡتُمۡ وَ کُنۡتُمۡ قَوۡمًا مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿۳۱﴾ وَ اِذَا قِیۡلَ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ السَّاعَۃُ لَا رَیۡبَ فِیۡہَا قُلۡتُمۡ مَّا نَدۡرِیۡ مَا السَّاعَۃُ ۙ اِنۡ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحۡنُ بِمُسۡتَیۡقِنِیۡنَ ﴿۳۲﴾ وَ بَدَا لَہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا وَ حَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۳۳﴾

آیت 30

فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ

’’پس جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ہوں گے‘‘

فَیُدۡخِلُہُمۡ رَبُّہُمۡ فِیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۳۰﴾

’’تو ان کو داخل کر دے گا ان کا پروردگار اپنی رحمت میں۔یہ بہت واضح کامیابی ہو گی۔‘‘

آیت 31

وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۟

’’اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا‘‘

اَفَلَمۡ تَکُنۡ اٰیٰتِیۡ تُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ

’’(ان سے اللہ پوچھے گا کہ) کیا تمہیں میری آیات پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں؟‘‘

اس آیت میں اگرچہ کفار کا ذکر ہے‘ لیکن اس مفہوم کی آیات کے حوالے سے یہ اہم نکتہ مدنظر رہے کہ ہم بھی جب قرآن سنتے ہیں تو اپنے اور پڑھ کر سنانے والے کے بارے میں اس جملے کا مفہوم ضرور یاد رکھنا چاہیے۔ اسی طرح ان سطور کو پڑھنے والے ہر قاری کے ذہن میں بھی یہ تصور ضرور ہونا چاہیے کہ قرآن کا پیغام اس تک پہنچ گیا ہے اور وہ اس کے بارے میں ضرور مسئول ہو گا۔

فَاسۡتَکۡبَرۡتُمۡ وَ کُنۡتُمۡ قَوۡمًا مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿۳۱﴾

’’تو تم نے استکبار کیا اور تم مجرم لوگ تھے۔‘‘

ہماری آیات کے آگے سر جھکانے اور ہمارے احکام کو تسلیم کرنے کے بجائے تم نے استکبار کا رویہ اپنا یا‘ اس لحاظ سے واقعی تم بہت بڑے مجرم تھے۔

آیت 32

وَ اِذَا قِیۡلَ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ السَّاعَۃُ لَا رَیۡبَ فِیۡہَا

’’اور جب کہا جاتا کہ اللہ کا وعدہ سچ ہے اور قیامت آنے میں کوئی شک نہیں‘‘

قُلۡتُمۡ مَّا نَدۡرِیۡ مَا السَّاعَۃُ ۙ

’’تو تم کہتے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہوتی ہے‘‘

السّاعۃ (قیامت کی موعودہ گھڑی )کا ذکر سن کر تم کہا کرتے تھے کہ ہم کسی ساعت واعت کو نہیں جانتے۔ تمہارے یہ گستاخانہ جملے ہمارے پاس ریکارڈ میں موجود ہیں۔

اِنۡ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا

’’ہاں ہمیں ایک گمان سا تو ہوتا ہے‘‘

لیکن کبھی کبھی تم قیامت کا ذکر سن کر یوں بھی کہا کرتے تھے کہ ہاں قیامت کے قائم ہونے اور آخرت کی زندگی کے بارے میں ہمیں گمان سا تو ہوتا ہے‘ ایک خیال سا تو آتا ہے۔ اصل بات یہ تھی کہ نیکی و بدی کے فرق اور سزا و جزا کی منطق کو تم لوگ خوب سمجھتے تھے۔ تم جانتے تھے کہ پیشہ ور مجرم اور نیک لوگ برابر نہیں ہو سکتے۔ کبھی کسی مظلوم کی بے بسی کو دیکھ کر تمہارے ذہن میں یہ سوال بھی چپک جاتا تھا کہ اس بے چارے کی کہیں تو داد رسی ہونی چاہیے اور کبھی کبھی تمہارا ضمیر تمہیں یہ بھی یاد دلایا کرتا تھا کہ ظالموں کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے کوئی مؤثر اور قطعی نظام تو ضرور ہونا چاہیے۔ لیکن پھر دُنیوی مفادات کی یلغار کو اپنے سامنے پا کر ایسی ہر سوچ کو مفروضہ قرار دے کر تم جھٹک دیا کرتے تھے۔

وَّ مَا نَحۡنُ بِمُسۡتَیۡقِنِیۡنَ ﴿۳۲﴾

’’اور ہم اس کا یقین کرنے والے نہیں ہیں۔‘‘

یہاں پر ’’یقین‘‘ کا لفظ بہت اہم اور معنی خیز ہے۔ دراصل ’’آخرت‘‘ کو ایک رسمی نظریے کے طور پر تسلیم کرلینا کافی نہیں۔ اس ’’ایمان‘‘ کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے اس کے بارے میں دل میں گہرا یقین ہونا بہت ضروری ہے۔ جب تک دل میں بعث بعد الموت اور آخرت کا پختہ یقین نہیں ہو گا انسان کا کردار درست نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ سورۃ البقرۃ کی ابتدائی آیات میں متقین کی صفات کے حوالے سے جہاں غیب اور الہامی کتب پر ’’ایمان لانے ‘‘کی شرط کا ذکر ہے وہاں آخرت کے بارے میں ’’یقین رکھنے ‘‘کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے: {وَ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ ؕ﴿۴﴾} ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کے بارے میں دل کے اندر گہرایقین رکھے بغیر مقامِ تقویٰ تک پہنچنا ممکن ہی نہیں۔ چنانچہ آج اگر ہم اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو وَّمَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ کے الفاظ میں ہمیں اپنی باطنی کیفیت کی جھلک بھی نظر آئے گی۔ ہم موروثی مسلمان ہونے کی حیثیت سے ایک عقیدے کے درجے میں تو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں‘ لیکن کیا دوبارہ جی اٹھنے اور اللہ کی عدالت میں پیش ہونے کا پختہ یقین ہمارے دلوں میں موجود ہے؟ اس سوال کا جواب ہم میں سے ہر شخص کو اپنے قلب کی گہرائیوں میں جھانک کر تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ یقین کی مطلوبہ کیفیت تک کیسے پہنچا جائے تو اس کا جواب ہمیں سورۃ الحدید کے مطالعہ کے دوران ملے گا۔

آیت 33

وَ بَدَا لَہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا

’’اور ان کے سامنے آ جائیں گے ان کے وہ تمام برے اعمال جو انہوں نے کیے تھے‘‘

وَ حَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۳۳﴾

’’اور انہیں گھیرے میں لے لے گی وہی چیز جس کا وہ استہزا کیا کرتے تھے۔‘‘

دنیا میں وہ لوگ جہنم کا مذاق اڑایا کرتے تھے‘ چنانچہ وہی جہنم انہیں اپنی آغوش میں لینے کے لیے وہاں موجود ہو گی۔

34-37

مجرمین کے لیے حسرت ناک بیان

ویڈیو

وَ قِیۡلَ الۡیَوۡمَ نَنۡسٰکُمۡ کَمَا نَسِیۡتُمۡ لِقَآءَ یَوۡمِکُمۡ ہٰذَا وَ مَاۡوٰىکُمُ النَّارُ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۳۴﴾ ذٰلِکُمۡ بِاَنَّکُمُ اتَّخَذۡتُمۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ ہُزُوًا وَّ غَرَّتۡکُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ۚ فَالۡیَوۡمَ لَا یُخۡرَجُوۡنَ مِنۡہَا وَ لَا ہُمۡ یُسۡتَعۡتَبُوۡنَ ﴿۳۵﴾ فَلِلّٰہِ الۡحَمۡدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۳۶﴾ وَ لَہُ الۡکِبۡرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۪ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿٪۳۷﴾

آیت 34

وَ قِیۡلَ الۡیَوۡمَ نَنۡسٰکُمۡ کَمَا نَسِیۡتُمۡ لِقَآءَ یَوۡمِکُمۡ ہٰذَا

’’اور ان سے کہہ دیا جائے گا کہ آج ہم تمہیں اسی طرح نظر انداز کر دیں گے جیسے تم نے اس دن کی ملاقات کو نظر انداز کررکھا تھا‘‘

وَ مَاۡوٰىکُمُ النَّارُ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۳۴﴾

’’اور تمہارا ٹھکانہ اب آگ ہے اور تمہارے لیے کوئی مدد گار نہیں ہے۔‘‘

چنانچہ اب تمہارے رونے دھونے اور چیخنے چلانے سے کچھ نہیں ہو گا۔ اب تمہیں اس عذاب سے چھڑانے کے لیے کوئی نہیں آئے گا۔

آیت 35

ذٰلِکُمۡ بِاَنَّکُمُ اتَّخَذۡتُمۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ ہُزُوًا وَّ غَرَّتۡکُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ۚ

’’یہ اس لیے کہ تم نے اللہ کی آیات کو مذاق بنا لیا تھااور دنیا کی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈالے رکھا۔‘‘

فَالۡیَوۡمَ لَا یُخۡرَجُوۡنَ مِنۡہَا وَ لَا ہُمۡ یُسۡتَعۡتَبُوۡنَ ﴿۳۵﴾

’’تو آج انہیں نکالا نہیں جائے گااس سے اور نہ ہی انہیں موقع دیا جائے گا کہ وہ توبہ کر لیں۔‘‘

اب ان کے لیے موقع نہیں ہو گا کہ معافی مانگ کر اپنے ربّ کو راضی کر لیں۔ توبہ کا موقع تو دنیا میں تھا اور وہ موقع وہ لوگ کھو چکے ہوں گے۔

آیت 36

فَلِلّٰہِ الۡحَمۡدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۳۶﴾

’’پس کل تعریف اور کل شکر اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمانوںکا اور زمین کا رب ہے اور تمام جہانوں کا رب ہے۔‘‘

آیت 37

وَ لَہُ الۡکِبۡرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۪ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿٪۳۷﴾

’’اور اسی کے لیے ہے بڑائی آسمانوں اور زمین میں ۔اور وہی ہے زبردست ‘حکمت والا۔‘‘

اللہ اکبر! یقینا اللہ سب سے بڑا ہے! وہ آسمانوں میں بھی سب سے بڑا ہے اور وہ زمین میں بھی سب سے بڑا ہے۔ مگر زمین میں عملی طور پر اسے بڑا نہیں مانا جا رہا۔ زمین میں اللہ کے بندے اللہ سے بغاوت کر چکے ہیں۔ وہ اللہ کے قوانین کو پس پشت ڈال کر اپنی مرضی کی قانون سازی کر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کسی ملک کے عوام ہی اس کے اقتدارِ اعلیٰ (sovereignty) کے اصل مالک ہیں۔ لیکن یاد رکھیے! ’’حاکمیت‘ ‘ کا یہی دعویٰ سب سے بڑا کفر اور سب سے بڑا شرک ہے ‘ چاہے یہ دعویٰ فردِ واحد کرے یا پوری قوم مل کر کرے۔ اس حوالے سے بائبل میں موجود Lords Prayer کے یہ الفاظ بہت اہم ہیں۔ اس دعا میں اسی دعوے کو ختم کرنے‘ اسی کفر و شرک کو مٹانے اور آسمانوں کی طرح زمین پر بھی اللہ کی مرضی نافذ کرنے کا ذکر ہے:

Thy Kingdom come

Thy will be done on Earth

As it is in Heavens

کہ اے اللہ! تیری بادشاہت آئے۔ تیری مرضی جیسے آسمانوں میں پوری ہو رہی ہے ویسے ہی زمین پر بھی پوری ہو۔ آسمانوں کی مخلوق تو تیرے احکام کو من و عن تسلیم کرتی ہے۔ سورج تیری مرضی کے مطابق رواں دواں ہے۔ چاند تیرے حکم کا تابع ہے اور تمام کہکشائیں تیری مشیت کے سامنے سرنگوں ہیں ‘لیکن ایک زمین ہے کہ جس کے بحر و بر کو انسان نے اپنے کرتوتوں کے سبب فساد سے بھر دیا ہے: {ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ بِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِی النَّاسِ } (الروم:۴۱) … اس لیے ضروری ہے کہ اللہ کی مرضی جیسے آسمانوں پر نافذ ہے ویسے ہی زمین پر بھی نافذ ہو۔ زمین پر بھی اللہ کے حکم کو سپریم لا ء کا درجہ حاصل ہو۔اسی قانون کے مطابق فیصلے ہوں۔اسی کیفیت کا نام ’’اقامت دین ‘‘ہے ‘جس کے لیے ’’تنظیم اسلامی‘‘ جدوجہد میں مصروف ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے