تحریر

الجاثِية

آیات ۲۳ تا ۲۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

23

نفس کی غلامی بھی شرک ہے

ویڈیو

اَفَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ وَ اَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلۡمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰی سَمۡعِہٖ وَ قَلۡبِہٖ وَ جَعَلَ عَلٰی بَصَرِہٖ غِشٰوَۃً ؕ فَمَنۡ یَّہۡدِیۡہِ مِنۡۢ بَعۡدِ اللّٰہِ ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۲۳﴾

آیت 23

اَفَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ

’’کیا آپ نے دیکھا اُس شخص کو جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبودبنارکھا ہے؟‘‘

اس سے قبل یہ مضمون سورۃالفرقان کی آیت ۴۳ میں بھی آ چکا ہے۔ یہاں اس کا اعادہ دراصل زیر مطالعہ آٹھ سورتوں (سورۃ الزمر تا سورۃ الاحقاف) کے مرکزی مضمون کے سیاق و سباق میں ہوا ہے۔ چنانچہ آیت کا مفہوم سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس مضمون کے ذیلی عنوانات کی ترتیب کو ایک دفعہ پھر سے ذہن میں تازہ کر لیا جائے۔ ان آٹھ سورتوں میں سے پہلی چار سورتوں (الزمر تا الشوریٰ) میں’’توحیدِ عملی ‘‘کا مضمون ایک خاص ترتیب اور تدریج کے ساتھ بیان ہوا ہے۔سورۃ الزمر میں تکرار کے ساتھ تاکید کی گئی ہے کہ اللہ کی بندگی کرواس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے: {قُلۡ اِنِّیۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰہَ مُخۡلِصًا لَّہُ الدِّیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾} ’’(اے نبیﷺ!) آپ کہہ دیجیے :مجھے حکم ہوا ہے کہ میں بندگی کروں اللہ کی اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے‘‘۔اللہ کی اطاعت سے منہ موڑ کر کسی اور کی اطاعت کرنا شرک ہے اور مخلوق میں سے کسی کی ایسی اطاعت کرنا بھی شرک ہے جس سے خالق کی معصیت کا ارتکاب ہوتا ہو۔ اس کے بعد سورۃ المؤمن میں توحید عملی کے داخلی پہلو (دعا) کو اُجاگر کیا گیا ہے اور بار بار حکم دیا گیا ہے: {فَادْعُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ} کہ اللہ سے دعا کرو اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ اس طرح ان دونوں سورتوں میں توحید عملی کا مضمون اپنے خارجی اور داخلی دونوں پہلوؤں سے ایک فرد کی حد تک مکمل ہو گیاہے۔

اس کے بعد اگلی دو سورتوں (سورۂ حٰمٓ السجدۃاور سورۃ الشوریٰ )میں توحید عملی کو فرد سے اجتماعیت کی طرف بڑھایا گیا ہے ۔ چنانچہ سورۂ حٰمٓ السجدۃ میں توحید کی دعوت کو لوگوں تک پہنچانے کا حکم دیا گیا ہے اور اس دعوت کی فضیلت کو اس طرح بیان فرمایا گیاہے: {وَ مَنۡ اَحۡسَنُ قَوۡلًا مِّمَّنۡ دَعَاۤ اِلَی اللّٰہِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۳۳﴾} ’’اور اس شخص سے بہتر بات اور کس کی ہوگی جو بلائے اللہ کی طرف اور وہ نیک عمل کرے اور کہے کہ میں بھی مسلمانوں میں سے ہوں!‘‘اس دعوت کا ذریعہ (medium) چونکہ قرآن ہے اس لیے اسی نسبت سے سورۂ حٰمٓ السجدۃ میں قرآن کی عظمت کا ذکر تکرار کے ساتھ (چھ مرتبہ) آیا ہے۔ اس کے بعد سورۃ الشوریٰ کا مرکزی مضمون اقامت دین ہے۔ تدریج کے حوالے سے اس کی وضاحت یوں ہو گی کہ جو لوگ توحید کی دعوت پر لبیک کہیں انہیں منظم کر کے ایک قوت میں تبدیل کیا جائے۔ پھر یہ سب لوگ مل کر باطل کے تسلط کو ختم کر نے اور معاشرے میں اللہ کے دین کو غالب کر نے کے لیے جدوجہد کریں۔ اس طرح ان چار سورتوں میں ’’توحید عملی‘‘ کے مضمون کو فرد سے لے کر ایک ترتیب اور تدریج کے ساتھ اجتماعی نظام کی سطح تک مکمل کر دیا گیاہے۔

اس کے بعد سورۃ الزخرف اور سورۃ الجاثیہ میں اس مضمون (توحید فی الاطاعت)کے تقابل کے طور پر شرک فی الاطاعت کو موضوع بنایا گیا ہے۔ سورۃ الزخرف میں اجتماعیت کی بلند ترین سطح یعنی حاکمیت کی سطح کے شرک کا حوالہ ہے جبکہ سورۃ الجاثیہ میں (خصوصی طور پر آیت زیر مطالعہ میں ) انفرادی سطح کے شرک کا ذکرہے۔ جہاں تک اجتماعیت کی سطح پر شرک کا تعلق ہے اس کو یوں سمجھئے کہ ’’انسانی حاکمیت‘‘ کا تصور شرک کی بد ترین شکل ہے‘ کیونکہ حاکم مطلق تو صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ سورۂ یوسف میں ہم پڑھ چکے ہیں: {اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ } (آیت۴۰) کہ اختیار مطلق تو صرف اللہ ہی کاہے۔اس حوالے سے سورۂ بنی اسرائیل کی آخری آیت کا یہ اعلان : {وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ} ’’اور نہیں ہے اس کا کوئی شریک بادشاہی میں‘‘اور سورۃ الکہف کی آیت ۲۶ کے یہ الفاظ {وَّ لَا یُشۡرِکُ فِیۡ حُکۡمِہٖۤ اَحَدًا ﴿۲۶﴾} ’’ اور وہ شریک نہیں کرتا اپنے حکم میں کسی کوبھی‘‘اپنے معانی و مفہوم میں بہت واضح ہیں۔ اب ایسے واضح احکام کے بعد اگر کوئی انسان ’’حاکمیت مطلق‘‘ کا دعویٰ کرے تو یہ گویا خدائی کا دعویٰ ہے اور یوں یہ شرک کی بد ترین شکل ہے۔ اسی شرک کا علمبردار نمرود تھا اور اسی جرم کا مرتکب فرعون بھی ہوا تھا۔سورۃ الزخرف میں فرعون کے نعرۂ شرک کا ذکر یوں آیا ہے: {وَ نَادٰی فِرۡعَوۡنُ فِیۡ قَوۡمِہٖ قَالَ یٰقَوۡمِ اَلَیۡسَ لِیۡ مُلۡکُ مِصۡرَ وَ ہٰذِہِ الۡاَنۡہٰرُ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِیۡ ۚ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿ؕ۵۱﴾} ’’اور فرعون نے اپنی قوم میں ڈھنڈورا پٹوا دیا‘اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو! کیا مصر کی حکومت میری نہیں ہے اور یہ تمام نہریں میرے حکم کے تحت نہیں بہتی ہیں؟تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟‘‘

شرک فی الاطاعت کا دوسرا پہلو انفرادی ہے‘ جس کا ذکر آیت زیر مطالعہ میں آیا ہے۔ اس آیت میں ایک ایسے شخص کی مثال بیان ہوئی ہے جس نے اپنی زندگی میں اللہ کے حکم کے مقابلے میں اپنے نفس کی خواہش پر چلنے کا طرزِ عمل اپنا رکھا ہے اور وہ اپنے نفس کے تقاضوں اور اس کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے حلال و حرام کی تمیز روا نہیں رکھتا ۔ایسے شخص نے اپنے عمل سے گویا ثابت کر دیا ہے کہ اس کا معبود اللہ نہیں ‘بلکہ اس کا نفس ہے۔ اور وہ حقیقت میں اللہ کا نہیں اپنے نفس کا ’’بندہ‘‘ ہے۔ حضورﷺ نے ایسے ہی شخص کو درہم و دینار کا بندہ قرار دیا ہے۔ آپؐ کا فرمان ہے: حدیث((تَعِسَ عَبْدُ الدِّیْنَارِ وَعَبْدُ الدِّرْھَمِ ))۱’’ہلاک ہو جائے درہم و دینار کا بندہ‘‘۔ یہ دراصل وہ شخص ہے جو دولت کی محبت میں اللہ تعالیٰ کے احکام اور حلال و حرام کی تمیز کو بالکل پس پشت ڈال چکا ہے۔ اب اس کے والدین نے اس کا نام ’’عبدالرحمن ‘‘ہی کیوں نہ رکھا ہو ‘لیکن اس کے عمل سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ اصل میں وہ ’’عبدالدینار ‘‘ہے۔

بہر حال سورۃ الزخرف میں شرک فی الاطاعت کا ذکر معاشرے کی بلند ترین سطح یعنی ریاست اور حاکمیت کی سطح پر ہوا ہے‘ جبکہ زیر مطالعہ سورت کی اس آیت میں اس کی دوسری انتہا یعنی انفرادی سطح کے شرک کا بیان ہے۔ شرک کی باقی تمام صورتیں ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ہیں۔ آیت میں استفسار کے اسلوب سے زورِ کلام خاص طور پر زیادہ ہو گیا ہے کہ کیا آپ نے کبھی ایسے شخص کی عبرتناک حالت پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے؟

وَ اَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلۡمٍ

’’اوراللہ نے اسے گمراہ کر رکھا ہے اس کے علم کے باوجود‘‘

ہو سکتا ہے وہ کوئی بہت بڑا عالم ہویا اعلیٰ پائے کا محقق ہو یا کوئی نامور سائنسدان ہو‘ مگر جس انسان نے اپنے نفس کا بندہ بن کر رہنا قبول کر لیا ہو اس کی علمی اہلیت ‘ تحقیقی استعداد اور سائنٹیفک اپروچ اسے نہ تو اللہ کی اطاعت کی راہ دکھا سکتی ہے ‘ اورنہ ہی اس کے دل کو ایمان اور اللہ کی معرفت کے نور سے منور کر سکتی ہے۔ایسے بدقسمت لوگوں پر ہدایت کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر دیے جاتے ہیں: {خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ عَلٰی سَمۡعِہِمۡ ؕ وَ عَلٰۤی اَبۡصَارِہِمۡ غِشَاوَۃٌ ۫ } (البقرۃ :۷) ۔ سورۃ البقرۃ کی اس آیت کے الفاظ سے ملتے جلتے الفاظ دیکھئے یہاں بھی آ گئے ہیں:

وَّ خَتَمَ عَلٰی سَمۡعِہٖ وَ قَلۡبِہٖ وَ جَعَلَ عَلٰی بَصَرِہٖ غِشٰوَۃً ؕ

’’اور اللہ نے اُس کی سماعت اور اُس کے دل پر مہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے۔‘‘

اس مہر اور اس پردے کی کیفیت کا عملی مشاہدہ کرنا ہو تو آج کے سائنسدانوں کو دیکھ لیجیے۔ انہوں نے سات سمندروں کے پانیوں کو کھنگال مارا ہے‘ روئے ارضی کے ذرّے ذرّے کی چھان پھٹک وہ کر چکے ہیں۔ خلا کی وسعتوں کے اندر دور دور تک وہ جھانک آئے ہیں۔ غرض سائنسی کرشموں کے سبب انہوں نے کائنات کے بڑے بڑے رازوں کو طشت ازبام کر دیا ہے‘ لیکن اس پوری کائنات میں اگر انہیں نظرنہیں آیا تو ایک اللہ نظر نہیں آیا! مذکورہ ’’پردہ‘‘ ان کی آنکھوں پر اس قدر دبیز ہو چکا ہے کہ اس پوری کائنات میں کائنات کے خالق کا انہیں کہیں سراغ نہیں ملا۔

فَمَنۡ یَّہۡدِیۡہِ مِنۡۢ بَعۡدِ اللّٰہِ ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۲۳﴾

’’تو اللہ کے (اس فیصلے کے )بعداب کون اسے ہدایت دے سکتا ہے‘ تو کیا تم لوگ نصیحت حاصل نہیں کرتے؟‘‘

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الجھاد والسیر‘ باب الحراسۃ فی الغزو‘ ح : ۲۸۸۷۔

24-26

دہریت کی گمراہی . . . اللہ اور آخرت دونوں کا انکار

ویڈیو

وَ قَالُوۡا مَا ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنۡیَا نَمُوۡتُ وَ نَحۡیَا وَ مَا یُہۡلِکُنَاۤ اِلَّا الدَّہۡرُ ۚ وَ مَا لَہُمۡ بِذٰلِکَ مِنۡ عِلۡمٍ ۚ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَظُنُّوۡنَ ﴿۲۴﴾ وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا کَانَ حُجَّتَہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا ائۡتُوۡا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۵﴾ قُلِ اللّٰہُ یُحۡیِیۡکُمۡ ثُمَّ یُمِیۡتُکُمۡ ثُمَّ یَجۡمَعُکُمۡ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۲۶﴾

آیت 24

وَ قَالُوۡا مَا ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنۡیَا نَمُوۡتُ وَ نَحۡیَا

’’وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے (کوئی اور زندگی )سوائے ہماری دنیا کی زندگی کے‘ ہم خود ہی مرتے ہیں اور خود ہی جیتے ہیں‘‘

اس ایک جملے میں یوں سمجھئے کہ دہریت اور مادّیت (Materialism) کی پوری حقیقت سمو دی گئی ہے۔ اس فلسفے کے مطابق اس کائنات کی اصل اور سب سے بڑی حقیقت مادّہ (matter) ہے‘ مادّے کے علاوہ کسی اور شے کا کوئی وجود نہیں‘ مادّے کی اپنی صفات ہیں‘ کائنات میں جہاں کہیں بھی کوئی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی تبدیلی آتی ہے وہ مادّے کی ہیئت میں تبدیلیوں (physical and chemical changes) کے باعث ہی ممکن ہے۔یہ کائنات مادّے سے خود ہی وجود میں آئی تھی اور مادّے کے اٹل قوانین کے باعث خود ہی چل رہی ہے۔ انسانی زندگی بھی انہی اٹل قوانین کے تابع ہے۔ انہی لگے بندھے قوانین کے تحت انسان پیدا ہوتے ہیں‘ اپنی طبعی عمر کے مطابق زندہ رہتے ہیں اور مر جاتے ہیں۔ نہ تو مرنے کے بعد انسان دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس زندگی کے بعد کسی اور زندگی کا کوئی امکان ہے۔یہ فلسفۂ دہریت کے بنیادی نکات ہیں‘ جبکہ تجربیت پسندی بحیثیت نظریہ علم (Empiricism) اور منطقی اثباتیت (Logical Positivism) بھی اسی فلسفے کی ذیلی شاخیں ہیں اور مذکورہ نکات ان سب کے ہاں مشترک ہیں۔

وَ مَا یُہۡلِکُنَاۤ اِلَّا الدَّہۡرُ ۚ

’’اور ہمیں نہیں ہلاک کرتا مگر زمانہ‘‘

کہ ہم تو محض زمانے کی گردش سے ہلاک ہوتے ہیں۔ نہ تو کوئی اللہ ہے جو انسانوں کی موت کے پروانے جاری کرتا ہو اور نہ ہی کسی فرشتے وغیرہ کا کوئی وجود ہے جو آ کر کسی کی جان قبض کرتا ہو۔

وَ مَا لَہُمۡ بِذٰلِکَ مِنۡ عِلۡمٍ ۚ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَظُنُّوۡنَ ﴿۲۴﴾

’’حالانکہ ان کے پاس (اس بارے میں) کوئی علم نہیں ہے‘وہ تو صرف ظن سے کام لے رہے ہیں۔‘‘

محض اٹکل کے تیر تکے چلا رہے ہیں۔

آیت 25

وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا کَانَ حُجَّتَہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا ائۡتُوۡا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۵﴾

’’اور جب انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری روشن آیات تو نہیں ہوتی ان کی کوئی دلیل سوائے اس کے کہ وہ کہتے ہیں کہ (زندہ کر کے) لے آئو ہمارے آباء و اَجداد کو اگر تم سچے ہو!‘‘

اس ضمن میں ان کے پاس واحد حجت اور دلیل یہی ہوتی ہے کہ چلواگر تم ہمارے فوت شدہ آباء و اَجداد کو زندہ کر کے ہمارے پاس لے آؤ تو ہم بعث بعد الموت کے تمہارے دعوے کو مان لیں گے۔

آیت 26

قُلِ اللّٰہُ یُحۡیِیۡکُمۡ ثُمَّ یُمِیۡتُکُمۡ

’’(اے نبیﷺ!) آپ کہیے کہ اللہ ہی تمہیں زندہ کرتا ہے ‘ پھر وہی تمہیں موت دے گا‘‘

کہ میں نے تو کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں کسی کو زندہ کروں گا۔ ہر کسی کی زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے۔ اب وہ حضرات جو اس کائنات اورانسانی زندگی کو مادّیت اور دہریت کی عینک سے دیکھتے ہیں‘ انہیں یہ بات بھلا کیونکر سمجھ میں آ سکتی ہے کہ ہم اس سے پہلے ایک زندگی اور ایک موت کے مراحل طے کر کے اس دنیا میں آئے ہیں! (وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو: سورۃ المؤمن ‘تشریح آیت ۱۱)

ثُمَّ یَجۡمَعُکُمۡ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۲۶﴾

’’پھر تمہیں جمع کرے گا قیامت کے دن جس میں کوئی شک نہیں‘لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے