وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحُکۡمَ وَ النُّبُوَّۃَ
’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کی کتاب‘ حکومت اور نبوت‘‘
وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ۱۶﴾
’’اور ہم نے انہیں عطا کیں بہت سی پاکیزہ چیزیں‘ اور انہیں ہم نے تمام جہان کی قوموں پر فضیلت دی۔‘‘
ان لوگوں کا نسبی تعلق اگرچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہے ‘لیکن جس قوم کا نام بنی اسرائیل ہے وہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد ہے۔ حضرت یعقوبؑ کا لقب ’’اسرائیل‘‘ (اللہ کا بندہ) تھا اور آپؑ کے بارہ بیٹوں کی اولاد سے بارہ قبیلے وجود میں آئے جو بنی اسرائیل کہلائے۔ قرآن حکیم میں بنی اسرائیل کو فضیلت سے نوازے جانے کا ذکر تکرار سے آیا ہے۔ اس فضیلت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان کے ہاں نبوت کا وہ سلسلہ جو دو پیغمبروں (حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام) سے شروع ہوا‘ چودہ سو برس تک بغیر کسی وقفے اور انقطاع کے جاری رہا۔ اس دوران ان کے ہاں پے در پے نبی آئے اور نبوت کی کڑی کے ساتھ کڑی یوں ملتی گئی کہ ایک مسلسل زنجیر بن گئی۔ پھر جس طرح اس زنجیر کا آغاز دو پیغمبروں سے ہوا تھا اسی طرح اس کا اختتام بھی دو پیغمبروں یعنی حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام پر ہوا۔ بہر حال جتنے انبیاء بنی اسرائیل کی طرف آئے‘ دنیا میں کسی اور قوم کی طرف اتنے انبیاء نہیں آئے۔ اقوامِ عالم پر بنی اسرائیل کی یہ فضیلت آج بھی قائم ہے۔
بنی اسرائیل کے حوالے سے ہمارے لیے اصل سمجھنے کی بات یہ ہے کہ وہ لوگ جب دین کی طرف پیٹھ پھر کر‘ دنیا میں منہمک ہو گئے‘ عیاشیوں میں پڑ گئے اور آخرت کو بھول گئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضیلت کی حامل اس قوم پر ذلت اور مسکنت تھوپ دی گئی: {وَ ضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ وَ الۡمَسۡکَنَۃُ ٭ } اور اس فیصلے کا اعلان قرآن میں دو مرتبہ( البقرۃ : ۶۱ اور آلِ عمران :۱۱۲) کیا گیا۔چنانچہ بنی اسرائیل تاریخ میں آج ہمارے لیے عبرت کا سامان ہے۔ ہم پر بھی اللہ تعالیٰ نے اپنا خصوصی فضل اور احسان فرمایا کہ ہمیں اس نے اپنے آخری رسولﷺ کی اُمت بنایا اور اپنی آخری کتاب سے نوازا۔ مگر ہم نے بھی جب دین کی طرف سے پیٹھ پھیر لی اور آخرت کو بھول کر دنیا ہی کو اپنا اوڑھنا‘ بچھونا بنا لیا تو ہمارے حصے میں بھی ویسی ہی ذلت و مسکنت آئی۔ چنانچہ آج دنیا میں ڈیڑھ سو کروڑ مسلمان ہیں مگر اقوامِ عالم کے درمیان ان کی حیثیت یہ ہے کہ ؏
’’کس نمی پر سد کہ بھیا کیستی؟‘‘
آج بین الاقوامی معاملات کے بارے میں کسی بھی فورم پر مسلمان ممالک کی رائے پوچھنے کی زحمت تک نہیں کی جاتی۔ بلکہ اب تو مسلمانوں کے اپنے معاملات کی باگ ڈوربھی غیروں کے ہاتھوں میں ہے۔ اس موضوع پر مزید معلومات کے لیے میری انگریزی تقریر Turmoil in Muslim Ummah سے استفادہ کیا جا سکتا ہے‘جبکہ اُردو میں تو اس موضوع پر میری بہت سی تقاریر دستیاب ہیں۔