تحریر

الجاثِية

آیات ۱۶ تا ۲۲

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

16-17

بنی اسرائیل کی بدنصیبی

ویڈیو

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحُکۡمَ وَ النُّبُوَّۃَ وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ۱۶﴾ وَ اٰتَیۡنٰہُمۡ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ ۚ فَمَا اخۡتَلَفُوۡۤا اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ ۙ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ؕ اِنَّ رَبَّکَ یَقۡضِیۡ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۷﴾

آیت 16

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحُکۡمَ وَ النُّبُوَّۃَ

’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کی کتاب‘ حکومت اور نبوت‘‘

وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ۱۶﴾

’’اور ہم نے انہیں عطا کیں بہت سی پاکیزہ چیزیں‘ اور انہیں ہم نے تمام جہان کی قوموں پر فضیلت دی۔‘‘

ان لوگوں کا نسبی تعلق اگرچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہے ‘لیکن جس قوم کا نام بنی اسرائیل ہے وہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد ہے۔ حضرت یعقوبؑ کا لقب ’’اسرائیل‘‘ (اللہ کا بندہ) تھا اور آپؑ کے بارہ بیٹوں کی اولاد سے بارہ قبیلے وجود میں آئے جو بنی اسرائیل کہلائے۔ قرآن حکیم میں بنی اسرائیل کو فضیلت سے نوازے جانے کا ذکر تکرار سے آیا ہے۔ اس فضیلت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان کے ہاں نبوت کا وہ سلسلہ جو دو پیغمبروں (حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام) سے شروع ہوا‘ چودہ سو برس تک بغیر کسی وقفے اور انقطاع کے جاری رہا۔ اس دوران ان کے ہاں پے در پے نبی آئے اور نبوت کی کڑی کے ساتھ کڑی یوں ملتی گئی کہ ایک مسلسل زنجیر بن گئی۔ پھر جس طرح اس زنجیر کا آغاز دو پیغمبروں سے ہوا تھا اسی طرح اس کا اختتام بھی دو پیغمبروں یعنی حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام پر ہوا۔ بہر حال جتنے انبیاء بنی اسرائیل کی طرف آئے‘ دنیا میں کسی اور قوم کی طرف اتنے انبیاء نہیں آئے۔ اقوامِ عالم پر بنی اسرائیل کی یہ فضیلت آج بھی قائم ہے۔

بنی اسرائیل کے حوالے سے ہمارے لیے اصل سمجھنے کی بات یہ ہے کہ وہ لوگ جب دین کی طرف پیٹھ پھر کر‘ دنیا میں منہمک ہو گئے‘ عیاشیوں میں پڑ گئے اور آخرت کو بھول گئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضیلت کی حامل اس قوم پر ذلت اور مسکنت تھوپ دی گئی: {وَ ضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ وَ الۡمَسۡکَنَۃُ ٭ } اور اس فیصلے کا اعلان قرآن میں دو مرتبہ( البقرۃ : ۶۱ اور آلِ عمران :۱۱۲) کیا گیا۔چنانچہ بنی اسرائیل تاریخ میں آج ہمارے لیے عبرت کا سامان ہے۔ ہم پر بھی اللہ تعالیٰ نے اپنا خصوصی فضل اور احسان فرمایا کہ ہمیں اس نے اپنے آخری رسولﷺ کی اُمت بنایا اور اپنی آخری کتاب سے نوازا۔ مگر ہم نے بھی جب دین کی طرف سے پیٹھ پھیر لی اور آخرت کو بھول کر دنیا ہی کو اپنا اوڑھنا‘ بچھونا بنا لیا تو ہمارے حصے میں بھی ویسی ہی ذلت و مسکنت آئی۔ چنانچہ آج دنیا میں ڈیڑھ سو کروڑ مسلمان ہیں مگر اقوامِ عالم کے درمیان ان کی حیثیت یہ ہے کہ ؏

’’کس نمی پر سد کہ بھیا کیستی؟‘‘

آج بین الاقوامی معاملات کے بارے میں کسی بھی فورم پر مسلمان ممالک کی رائے پوچھنے کی زحمت تک نہیں کی جاتی۔ بلکہ اب تو مسلمانوں کے اپنے معاملات کی باگ ڈوربھی غیروں کے ہاتھوں میں ہے۔ اس موضوع پر مزید معلومات کے لیے میری انگریزی تقریر Turmoil in Muslim Ummah سے استفادہ کیا جا سکتا ہے‘جبکہ اُردو میں تو اس موضوع پر میری بہت سی تقاریر دستیاب ہیں۔

آیت 17

وَ اٰتَیۡنٰہُمۡ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ ۚ

’’اور ہم نے انہیں عطا کیں دین کے معاملہ میں واضح ہدایات۔‘‘

یہاں ’’امر‘‘ سے مراد دین و شریعت ہے۔ یعنی ان کے انبیاء کو وحی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام ضروری ہدایات مسلسل ملتی رہیں۔ اس کے علاوہ انہیں تورات‘ زبور اور انجیل جیسی کتابیں بھی عطا کی گئیں۔

فَمَا اخۡتَلَفُوۡۤا اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ ۙ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ؕ

’’اور انہوں نے نہیں اختلاف کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آ چکا تھا‘محض باہمیِ ضدم ضدا کے سبب سے۔‘‘

کتاب اللہ کی واضح تعلیمات ان لوگوں تک پہنچ چکی تھیں۔ اس کے باوجود ضد بازی کی بنیاد پر ان کے اندر شدید اختلافات پیدا ہو گئے اور انہی اختلافات کی وجہ سے یہ قوم مختلف گروہوں میں بٹ گئی۔ پہلے یہودی اورنصاریٰ الگ الگ ہوئے اورپھر ان دونوں گروہوں کے اندر باہمی ضدم ضدا کے باعث مزید کئی کئی فرقے بن گئے۔ دراصل کسی بھی قوم کی صفوں میں اختلاف کی بنیادی وجہ غلبہ حاصل کرنے کی وہ خواہش (urge to dominate) ہوتی ہے جو اس کے ہر دھڑے میں پائی جاتی ہے۔ ان اختلافات سے تفرقہ بازی جنم لیتی ہے جس کے باعث بالآخر اس قوم کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔

اِنَّ رَبَّکَ یَقۡضِیۡ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۷﴾

’’یقینا آپؐ کا رب فیصلہ کر دے گا ان کے مابین قیامت کے دن ان تمام باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔‘‘

18-20

اب مسلمانوں کی آزمائش ہے

ویڈیو

ثُمَّ جَعَلۡنٰکَ عَلٰی شَرِیۡعَۃٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ فَاتَّبِعۡہَا وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۸﴾ اِنَّہُمۡ لَنۡ یُّغۡنُوۡا عَنۡکَ مِنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ۚ وَ اللّٰہُ وَلِیُّ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۹﴾ ہٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّقَوۡمٍ یُّوۡقِنُوۡنَ ﴿۲۰﴾

آیت 18

ثُمَّ جَعَلۡنٰکَ عَلٰی شَرِیۡعَۃٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ فَاتَّبِعۡہَا

’’پھر (اے نبیﷺ!) ہم نے آپ کوقائم کر دیا دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر‘ تو آپ اسی کی پیروی کریں‘‘ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر نبی آخر الزماںﷺ تک تمام انبیاء رسل علیہم السلام اسی دین کی دعوت کے لیے مبعوث ہوئے۔ سورۃ الشوریٰ میں اس نکتے کی وضاحت ہم پڑھ چکے ہیں: {شَرَعَ لَکُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوۡحًا وَّ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ وَ مَا وَصَّیۡنَا بِہٖۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ مُوۡسٰی وَ عِیۡسٰۤی …} (آیت۱۳) ’’(اے مسلمانو!) اُس نے تمہارے لیے دین میں وہی کچھ مقرر کیا ہے جس کی وصیت اُس نے نوحؑ کو کی تھی اور جس کی وحی ہم نے (اے محمدﷺ) آپ کی طرف کی ہے اور جس کی وصیت ہم نے کی تھی ابراہیم ؑکو ‘موسیٰؑ کو ‘اور عیسیٰؑ کو…‘‘بہر حال ’’امر اللہ‘‘ یعنی اللہ کا دین تو شروع سے ایک ہی ہے۔ البتہ ہر زمانے کے تقاضوں کے لحاظ سے شریعتیں مختلف رہی ہیں ‘ مثلاًشریعتِ موسویؑ کے بعض احکام شریعتِ محمدی ؐ کے بعض احکام سے مختلف ہو سکتے ہیں۔آیت زیر مطالعہ کا مفہوم لفظ ’’شَرِیْعَۃٍ‘‘ کے حوالے سے یہ ہے کہ اے محمد (ﷺ) بنی اسرائیل کے بعد ہم نے آپؐ کو اپنے دین کا آخری اور تکمیلی ایڈیشن شریعتِ محمدیؐ کے نام سے اس سند کے ساتھ عطا کیا ہے کہ: {اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕ } (المائدۃ:۳) ’’آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کی تکمیل فرما دی ہے اور تم پر اتمام فرمادیا ہے اپنی نعمت کااور تمہارے لیے میں نے پسند کر لیا ہے اسلام کو بحیثیت دین کے ‘‘ ۔ چنانچہ اب آپ اور آپ کے پیروکار اسی شریعت کا اتباع کریں۔

وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۸﴾

’’اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے جن کے پاس کوئی علم ہی نہیں ہے۔‘‘

آیت 19

اِنَّہُمۡ لَنۡ یُّغۡنُوۡا عَنۡکَ مِنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ

’’یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں آپ کے کچھ بھی کام نہیں آ سکیں گے۔‘‘

یہ مضمون قرآن میں متعددبار آ چکاہے ۔ سورۂ بنی اسرائیل میں یوں فرمایا گیا: {وَ اِنۡ کَادُوۡا لَیَفۡتِنُوۡنَکَ عَنِ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ لِتَفۡتَرِیَ عَلَیۡنَا غَیۡرَہٗ ٭ۖ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوۡکَ خَلِیۡلًا ﴿۷۳﴾وَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ ثَبَّتۡنٰکَ لَقَدۡ کِدۡتَّ تَرۡکَنُ اِلَیۡہِمۡ شَیۡئًا قَلِیۡلًا ﴿٭ۙ۷۴﴾اِذًا لَّاَذَقۡنٰکَ ضِعۡفَ الۡحَیٰوۃِ وَ ضِعۡفَ الۡمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ عَلَیۡنَا نَصِیۡرًا ﴿۷۵﴾} ’’اور یہ لوگ اس بات پر تلے ہوئے ہیں کہ آپؐ کو پھسلا دیں اس وحی سے جو ہم نے آپؐ کی طرف کی ہے تا کہ اس کے علاوہ آپؐ کوئی اور چیز گھڑ کر ہم سے منسوب کر دیں‘اور اگر آپؐ ایسا کرتے تب تو یہ لوگ آپؐ کو اپنادوست بنا لیتے۔اور اگرہم آپؐ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو عین ممکن تھا کہ آپ ؐان کی طرف کچھ نہ کچھ جھک ہی جاتے۔(اگر ایساہو جاتا تو) تب ہم آپؐ کو د گنی سزا دیتے زندگی میں اور دگنی سزا دیتے موت پر‘ پھر نہ پاتے آپؐ اپنے لیے ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار۔‘‘

وَ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ۚ وَ اللّٰہُ وَلِیُّ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۹﴾

’’اور یقینا یہ ظالم (مشرک) لوگ ایک دوسرے کے مدد گار ہیں‘جبکہ اللہ مددگار ہے متقین کا۔‘‘

آیت 20

ہٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّقَوۡمٍ یُّوۡقِنُوۡنَ ﴿۲۰﴾

’’یہ ہیں آنکھیں کھولنے والی باتیں لوگوں کے لیے اور ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لیے جو ان پر یقین کریں۔‘‘

21-22

کیا شریعت پر عمل کرنا اور نہ کرنا برابر ہے؟

ویڈیو

اَمۡ حَسِبَ الَّذِیۡنَ اجۡتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنۡ نَّجۡعَلَہُمۡ کَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَآءً مَّحۡیَاہُمۡ وَ مَمَاتُہُمۡ ؕ سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ ﴿٪۲۱﴾ وَ خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ وَ لِتُجۡزٰی کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۲۲﴾

آیت 21

اَمۡ حَسِبَ الَّذِیۡنَ اجۡتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنۡ نَّجۡعَلَہُمۡ کَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ

’’جو لوگ بری باتوں کاارتکاب کر رہے ہیں کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم انہیں ان لوگوں کی طرح کردیں گے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے؟‘‘

سَوَآءً مَّحۡیَاہُمۡ وَ مَمَاتُہُمۡ ؕ سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ ﴿٪۲۱﴾

’’کہ ان کی زندگی اور موت ایک جیسی ہو جائے؟بہت برا فیصلہ ہے جو یہ لوگ کر رہے ہیں!‘‘

قیامت کے حساب اور آخرت کی زندگی کے بارے میں عقلی اور منطقی سطح پر یہ ایک مضبوط دلیل ہے۔ اگر دنیا کے نیکو کاروں کو کوئی اجر و انعام نہ ملے‘ مجرموں کو اپنے جرائم کی سزا نہ بھگتنی پڑے اور نیک و بد سب برابر ہوجائیں تو اس سے بڑا ظلم بھلا اور کیاہو گا؟ دنیا میں کچھ لوگ تو وہ ہیں جو حرام و حلال کی تمیز ختم کر کے اور جائز و ناجائز کی پابندیوں سے بے نیاز ہو کر عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ دوسری طرف اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جو زندگی کے ہر معاملے میں ہمیشہ پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں۔ وہ اپنے فائدے کے لیے کسی کا حق نہیں مارتے ۔ وہ فاقوں سے رہنا برداشت کر لیتے ہیں مگر حرام نہیں کھاتے۔ اب فرض کریں کہ اگر دنیا کی زندگی ہی آخری زندگی ہو ‘نہ آخرت ہو اور نہ ہی مرنے کے بعد بے لاگ حساب و کتاب کا کوئی مرحلہ درپیش ہو‘ نہ نیک اور دیانت دار لوگوں کے لیے کوئی جزا ہو اور نہ برے لوگوں کے لیے کوئی سزا‘ تو ایسی صورت میں قاتلوں‘ لٹیروں اور ظالموں کے تو گویا وارے نیارے ہو گئے‘ جبکہ نیک ‘ شریف اور دیانتدار قسم کے لوگ سرا سر گھاٹے میں رہ گئے۔ اس لیے اگر قیامت قائم نہیں ہوتی‘ نیکوکاروں کو ان کے نیک اعمال کی جزا نہیں ملتی اور بدکاروں کو ان کے کرتوتوں کا خمیازہ نہیں بھگتنا پڑتا تو یہ بنی نوعِ انسان کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہو گا۔ چنانچہ جو آخرت کو نہیں مانتا وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی صفتِ عدل کا ہی منکر ہے۔

آیت 22

وَ خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ وَ لِتُجۡزٰی کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۲۲﴾

’’اور اللہ نے تو آسمان اور زمین کو حق (عدل) کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ پورا پورا بدلہ دیا جائے ہر جان کو جو کچھ اُس نے کمایا ہو‘ اور ان پر کوئی ظلم نہ ہو۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے