حٰمٓ ۚ﴿۱﴾
’’ح‘ م۔‘‘
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تحریر
آیات ۱ تا ۱۵
بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
سورۃ الجاثیہ اور اس کے بعد والی سورت یعنی سورۃ الاحقاف کا آپس میں جوڑے کا تعلق ہے۔ ان دونوں سورتوں کے درمیان ایک نسبت یہ بھی ہے کہ ان کے آغاز کی دو آیات مشترک ہیں۔
حٰمٓ ۚ﴿۱﴾ تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۲﴾ اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ لَاٰیٰتٍ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ؕ﴿۳﴾ وَ فِیۡ خَلۡقِکُمۡ وَ مَا یَبُثُّ مِنۡ دَآبَّۃٍ اٰیٰتٌ لِّقَوۡمٍ یُّوۡقِنُوۡنَ ۙ﴿۴﴾ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ رِّزۡقٍ فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا وَ تَصۡرِیۡفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۵﴾ تِلۡکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتۡلُوۡہَا عَلَیۡکَ بِالۡحَقِّ ۚ فَبِاَیِّ حَدِیۡثٍۭ بَعۡدَ اللّٰہِ وَ اٰیٰتِہٖ یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۶﴾
حٰمٓ ۚ﴿۱﴾
’’ح‘ م۔‘‘
تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۲﴾
’’اس کتاب کا اُتارا جانا ہے اُس اللہ کی طرف سے جو زبردست ‘کمال حکمت والا ہے۔‘‘
اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ لَاٰیٰتٍ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ؕ﴿۳﴾
’’یقینا آسمانوں اور زمین میں (بہت سی ) نشانیاں ہیں ماننے والوں کے لیے۔‘‘
وَ فِیۡ خَلۡقِکُمۡ وَ مَا یَبُثُّ مِنۡ دَآبَّۃٍ اٰیٰتٌ لِّقَوۡمٍ یُّوۡقِنُوۡنَ ۙ﴿۴﴾
’’اور تمہاری تخلیق میں ‘ اور جو اُس نے پھیلادیے ہیں (زمین میں)جاندار اُن میں بھی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین کریں۔‘‘
وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ رِّزۡقٍ
’’اور رات اور دن کے اختلاف میں‘ اور اس میں جو اللہ آسمان سے رزق اُتارتا ہے‘‘
رزق سے مراد یہاں بارش کا پانی ہے جو زمین سے روزی کے نکلنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ بارش کے پانی کا نزول گویا انسانوں اور دوسرے جانداروں کے لیے رزق کا نزول ہے۔
فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا
’’پھر زندہ کر دیتا ہے اس سے زمین کو اس کی موت کے بعد‘‘
وہ زمین جو بنجر اور بے آب و گیاہ پڑی تھی بارش کے برستے ہی ہریالی اور طرح طرح کے نباتات کے لباس میں ملبوس نظر آنے لگی۔
وَ تَصۡرِیۡفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۵﴾
’’اور ہوائوں کے چلنے میں‘ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں۔‘‘
یہاں پر سورۃ البقرۃ کی وہ آیت ایک دفعہ پھر سے ذہن میں تازہ کر لیں جسے میں نے ’’آیت الآیات‘‘ کا عنوان دیا تھا:
دوسرے مقام کی آیتاِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ الۡفُلۡکِ الَّتِیۡ تَجۡرِیۡ فِی الۡبَحۡرِ بِمَا یَنۡفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ مَّآءٍ فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا وَ بَثَّ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ دَآبَّۃٍ ۪ وَّ تَصۡرِیۡفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الۡمُسَخَّرِ بَیۡنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۶۴﴾
’’یقینا آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں ‘اور رات اور دن کے اُلٹ پھیر میں‘اور اُن کشتیوں (اورجہازوں) میں جوسمندر میں (یا دریاؤں میں) لوگوں کے لیے نفع بخش سامان لے کر چلتی ہیں‘ اور اُس پانی میں کہ جو اللہ نے آسمان سے اتارا ہے‘پھر اس سے زندگی بخشی زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد‘ اور ہر قسم کے حیوانات (اور چرند پرند) اس کے اندر پھیلادیے ‘اور ہواؤں کی گردش میں‘ اور ان بادلوں میں جو معلق کر دیے گئے ہیں آسمان اور زمین کے درمیان‘ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں۔‘‘
گویا سورۃ البقرۃ کی اس آیت میں جو نشانیاں بیان ہوئی ہیں ان میں سے اکثر کا ذکر زیر مطالعہ تین آیات میں آ گیا ہے۔
تِلۡکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتۡلُوۡہَا عَلَیۡکَ بِالۡحَقِّ ۚ
’’یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم پڑھ کر سنا رہے ہیں آپ کو حق کے ساتھ۔‘‘
فَبِاَیِّ حَدِیۡثٍۭ بَعۡدَ اللّٰہِ وَ اٰیٰتِہٖ یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۶﴾
’’تو اب اللہ اور اُس کی آیات کے بعد اور کون سی بات ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے؟‘‘
اگر یہ لوگ کائنات میں موجود آیاتِ آفاقی کا بچشمِ سر مشاہدہ کرنے اور قرآن کی آیات کو سننے کے بعد بھی ایمان نہیں لائے تو اور کس معجزے کو دیکھ کر ایمان لائیں گے؟ایمان کی دولت تو صرف اسے ہی نصیب ہوتی ہے جو خود طالبِ ہدایت ہو ۔بلاشبہ قرآن ہر طالب ہدایت کے لیے ایک بہت بڑا معجزہ‘سراج منیر اور منبع رشد و ہدایت ہے۔ لیکن اگر کسی کے دل میں ہدایت کی طلب ہی نہ ہو تو وہ بڑے سے بڑا معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائے گا۔
وَیۡلٌ لِّکُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیۡمٍ ۙ﴿۷﴾ یَّسۡمَعُ اٰیٰتِ اللّٰہِ تُتۡلٰی عَلَیۡہِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسۡتَکۡبِرًا کَاَنۡ لَّمۡ یَسۡمَعۡہَا ۚ فَبَشِّرۡہُ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۸﴾ وَ اِذَا عَلِمَ مِنۡ اٰیٰتِنَا شَیۡئَۨا اتَّخَذَہَا ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ؕ﴿۹﴾ مِنۡ وَّرَآئِہِمۡ جَہَنَّمُ ۚ وَ لَا یُغۡنِیۡ عَنۡہُمۡ مَّا کَسَبُوۡا شَیۡئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَوۡلِیَآءَ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿ؕ۱۰﴾ ہٰذَا ہُدًی ۚ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ لَہُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِیۡمٌ ﴿٪۱۱﴾
وَیۡلٌ لِّکُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیۡمٍ ۙ﴿۷﴾
’’بربادی ہے ہر جھوٹ گھڑنے والے گنہگار کے لیے۔‘‘
یَّسۡمَعُ اٰیٰتِ اللّٰہِ تُتۡلٰی عَلَیۡہِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسۡتَکۡبِرًا کَاَنۡ لَّمۡ یَسۡمَعۡہَا ۚ
’’وہ سنتا ہے اللہ کی وہ آیات جو اسے پڑھ کر سنائی جاتی ہیں‘ پھر وہ اَڑ جاتا ہے ضد پر تکبر کرتے ہوئے جیسے کہ اُس نے انہیں سنا ہی نہ ہو۔‘‘
فَبَشِّرۡہُ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۸﴾
’’ تو آپؐ اسے ایک دردناک عذاب کی بشارت دے دیجئے۔‘‘
یہ دراصل سردارانِ قریش کے رویے کا ذکر ہے۔ ان میں سے اکثر کا یہی حال تھا ۔
وَ اِذَا عَلِمَ مِنۡ اٰیٰتِنَا شَیۡئَۨا اتَّخَذَہَا ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ؕ﴿۹﴾
’’اور جب ہماری آیات میں سے کوئی بات اس کے علم میں آتی ہے تو وہ اس کا مذاق اڑاتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے اہانت آمیز عذاب ہو گا۔‘‘
مِنۡ وَّرَآئِہِمۡ جَہَنَّمُ ۚ
’’ان کے پیچھے جہنم ہے۔‘‘
یعنی جہنم ان کی منتظر ہے-------- وَرَاء کا لفظ ہر اُس چیز کے لیے بولا جاتا ہے جو آدمی کی نظر سے اوجھل ہو خواہ آگے ہو یا پیچھے ہو۔ لہٰذا ان الفاظ کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ’’ان کے آگے جہنم ہے‘‘ جس میں وہ گرنے والے ہیں۔
وَ لَا یُغۡنِیۡ عَنۡہُمۡ مَّا کَسَبُوۡا شَیۡئًا
’’اور جو کچھ انہوں نے کمایا ہے وہ ان کے ذرا بھی کام نہیں آسکے گا‘‘
دُنیا میں انہوں نے جو کچھ کمایا ہے اور مال و دولت جمع کیا ہے‘ یہ سب کچھ انہیں جہنم سے نہ بچا سکے گا۔
وَّ لَا مَا اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَوۡلِیَآءَ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿ؕ۱۰﴾
’’اور نہ وہ جن کو انہوں نے اللہ کے سوا مدد گار بنا رکھا ہے‘ اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہو گا۔‘‘
اللہ کے سوا انہوں نے جو جھوٹے معبود بنا رکھے ہیں اور ان کی سفارش اور شفاعت کا انہیں زعم بھی ہے‘ وہ بھی اس دن انہیں جہنم کے عذاب سے نہیں بچا سکیں گے۔
ہٰذَا ہُدًی ۚ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ لَہُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِیۡمٌ ﴿٪۱۱﴾
’’یہ (قرآن) ہے ہدایت ۔ اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیات کا کفر کیا ان کے لیے بہت ہی دردناک عذاب ہوگا۔‘‘
اَللّٰہُ الَّذِیۡ سَخَّرَ لَکُمُ الۡبَحۡرَ لِتَجۡرِیَ الۡفُلۡکُ فِیۡہِ بِاَمۡرِہٖ وَ لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِہٖ وَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿ۚ۱۲﴾ وَ سَخَّرَ لَکُمۡ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا مِّنۡہُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۱۳﴾
اَللّٰہُ الَّذِیۡ سَخَّرَ لَکُمُ الۡبَحۡرَ لِتَجۡرِیَ الۡفُلۡکُ فِیۡہِ بِاَمۡرِہٖ
’’اللہ ہی ہے جس نے مسخر کر دیا تمہارے لیے سمندر کو تا کہ اس میں کشتیاں چلیں اُس کے حکم سے‘‘
وَ لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِہٖ وَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿ۚ۱۲﴾
’’تا کہ تم تلاش کرو اُس کا فضل اور تا کہ تم شکر ادا کرو۔‘‘
اللہ کا فضل تلاش کرنے سے یہاں تجارت کے ذریعے روزی تلاش کرنا مراد ہے‘جبکہ کشتیاں اور جہاز سمندروں اور دریاؤں میں سامانِ تجارت کی نقل و حمل کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔
وَ سَخَّرَ لَکُمۡ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا مِّنۡہُ ؕ
’’اور اُس نے مسخر کر دیا تمہارے لیے اپنی طرف سے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کچھ۔‘‘
اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۱۳﴾
’’یقینا اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر سے کام لیں۔‘‘
اس مفہوم کی تمام آیاتِ قرآنی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ان میں بنی نوعِ انسان کے لیے دعوتِ تسخیر ہے کہ اللہ نے تو زمین و آسمان کی ہر ہر چیز کو تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے ‘اب یہ تمہاری ہمت پر منحصر ہے کہ تم اپنے علم اور ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر کس کس مقام اور کون کون سی چیز تک رسائی حاصل کرتے ہو۔ نیز ایسی آیات کے الفاظ میں نسل انسانی کے مستقبل کی ترقی کی جھلک بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ مستقبل میں نہ معلوم اللہ تعالیٰ انسان کو ترقی کی کون کون سی منازل طے کرائے گا۔
قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یَغۡفِرُوۡا لِلَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ اَیَّامَ اللّٰہِ لِیَجۡزِیَ قَوۡمًۢا بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۱۴﴾ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ اَسَآءَ فَعَلَیۡہَا ۫ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۱۵﴾
قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یَغۡفِرُوۡا لِلَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ اَیَّامَ اللّٰہِ
’’(اے نبیﷺ!)آپ اہلِ ایمان سے کہہ دیجیے کہ وہ ذرا درگزر کریں ان لوگوں سے جو اللہ کے دنوں کی توقع نہیں رکھتے‘‘
اس آیت کے مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سورت مکی دَور کے تقریباًوسط میں نازل ہوئی ہے۔ گویا اُس وقت حضورﷺ کی دعوت کو شروع ہوئے پانچ چھ سال ہی ہوئے تھے ‘یعنی ابھی اہلِ مکہ پر اتمامِ حجت نہیں ہوا تھا اورابھی ان کے لیے مزید مہلت درکار تھی۔ چنانچہ اہل ایمان کو تلقین کی جارہی ہے کہ وہ مشرکین کے مخالفانہ رویہّ سے دلبرداشتہ نہ ہوں۔ یہ جہالت میں ڈوبے ہوئے گمراہ لوگ ہیں‘ انہیں ’’ایام اللہ ‘‘کے بارے میں کوئی کھٹکا اوراندیشہ ہے ہی نہیں۔ انہیں ادراک ہی نہیں کہ جس عذاب نے ماضی کی بڑی بڑی اقوام کو نیست و نابود کردیا تھا وہ ان پر بھی آ سکتا ہے۔ لہٰذاا بھی آپ لوگ ان سے درگزر کریں اور ان کے معاملے میں جلدی کرتے ہوئے یہ نہ سوچیں کہ نہ معلوم اللہ نے انہیں اس قدر ڈھیل کیوں دے رکھی ہے اور یہ کہ ان پر عذابِ موعود آ کیوں نہیں جاتا؟اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ابھی مزید مہلت دینا چاہتا ہے۔
لِیَجۡزِیَ قَوۡمًۢا بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۱۴﴾
’’تا کہ اللہ بدلہ دے ایک قوم کو ان کی اپنی کمائی کے مطابق۔‘‘
مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ اَسَآءَ فَعَلَیۡہَا ۫ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۱۵﴾
’’ جس کسی نے اچھا کام کیا تو اُس نے اپنے ہی (بھلے کے) لیے کیا‘اور جس کسی نے برا کام کیا تو اس کا وبال بھی اُسی پر ہو گا‘پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹا دیے جاؤ گے۔‘‘